Thursday, 30 January 2014

سندھ آرمز ایکٹ 2013 اور عدلیہ کا کردار کے حوالے سے کراچی بار ایسوسی ایشن میں خصوصی سیمینار




پاکستان کے کسی بھی علاقے یا شہر میں جب بھی کوئی فوجی،نیم فوجی یا پولیس آپریشن 
شروع ہوتا ہے وہاں عملی طور پر انسانی حقوق معطل ہوجاتے ہیں پولیس اور عسکری ادارے اپنی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہیں اس دوران صرف عدالتی فورم ہی انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے
عدلیہ اور انتظامیہ کی سوچ کبھی ایک نہیں ہوسکتی انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے غلط کاموں کی توثیق عدالت سے کروالے عموماً ایسا نہیں ہوتا لیکن اگر ایسا ہوجائے تو  شہری اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے دربدر پھرتے ہیں
سندھ اسمبلی نے آرمز ایکٹ 2013 پاس کیا تو اسی وقت ہی خدشات شروع ہوگئے تھے لیکن چند روز سے یہ اطلاعات موجود تھیں کہ وزیراعلٰی سندھ اور ملٹری ادارے عدلیہ پر دباؤ بڑھارہے ہیں  
حالانکہ پولیس کی جانب سے شہادتیں ضائع کرنے سندھ حکومت کے شعبہ فرانسسک کی نااہلی سہولیات کے فقدان اور رینجرز کی جانب سے بطور گواہ پیش نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کے خلاف کیسز کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ملزم رہا ہوجاتے ہیں
اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہیئے۔اس پر کوئی دو رائے نہیں پائی جاتی ہیں لیکن جس طرح کراچی میں   آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی
لاء سوسائٹی پاکستان نے کراچی میں شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بعد کراچی بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر کراچی بار کے شہدائے پنجاب ہال میں 4 فروری 2014  دوپہر 2 بجے  اس حوالے ایک سیمینار منعقد کیا ہے جس کا مقصد آرمز ایکٹ 2013 اور ڈسٹرکٹ عدلیہ کے کردار کے حوالے سے گفتگو کرنا ہے
سیمینار سے سینئر وکلاء   اورسید وقار شاہ ایڈوکیٹ خصوصی  طور پر  آرمز ایکٹ 2013 کے حوالے سے نہ صرف اپنی تحقیق بلکہ کراچی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خصوصی گفتگو کریں گے
کراچی بار کے جنرل سیکرٹری محترم خالد ممتاز کا بھی خصوصی خطاب ہوگا  اور وہ یقیناً بار کی پالیسی واضح کریں گے

آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ 4 فروری 2014 دوپہر 2 بجے کراچی بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے اس پروگرام میں ضرور شرکت کریں 

Wednesday, 29 January 2014

کراچی بار ایسوسی ایشن کا سالانہ جلسہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم



کراچی بار ایسوسی ایشن کا سالانہ جلسہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حوالے سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح 26 جنوری 1948 کو اس پروگرام میں شرکت کیلئے کراچی بار تشریف لائے تھے اور خصوصی خطاب کیا اس سال ہونے والے پروگرام کی تصویری خبر






Thursday, 23 January 2014

اسلام ، طالبان اور ایک مسلمان کے جان ومال کی حرمت کے بارے میں واضح احکام


اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے۔
ہم جس اسلام نامی مذہب کو بچپن سے جانتے ہیں اس میں انسانوں سے محبت کا درس دیا جاتا ہے ۔میں جس اسلام نامی مذہب کا پیروکار ہوں اس کے متعلق میں یہ جانتا ہوں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کے تقدس سے بھی زیادہ ہے  ایک مرتبہ دوران طواف خانہ کعبہ کو مخاطب کرکے سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کتنا پاکیزہ ہے تیری فضا کتنی خوش گوار ہے۔ کتنا عظیم ہے تو، تیرا مقام کتنا محترم ہے مگر اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ایک مسلمان کے جان ومال اور خون کا احترام اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے (ابن ماجہ)
میں بچپن سے ہی ایک واقعہ سنتا چلا آیا تھا کہ ایک شیخ الحدیث نے قیام پاکستان سے پہلے جب ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان  ایک قبرستان کی زمین  کی ملکیت کا تنازعہ ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ زمین ہندوؤں کی ملکیت ہے اس طرح زمین تو مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی لیکن    
 انہوں نے اسلامی روایات  کا تحفظ کیا موجودہ دور میں اگر شیخ الحدیث صاحب ایسا فیصلہ کرتے تو ان کا حشر کیا ہوتا
دنیا ادھر سے ادھر ہوسکتی ہے لیکن اسلام کے واضح احکامات بدل نہیں سکتے اس حوالے سے جتنے بھی دلائل پیش کردیئے جائیں وہ قابل قبول نہیں ہوسکتے۔
کم ازکم جس اسلام سے میں واقف ہوں جو میرا مذہب ہے وہ  کسی ایسے عمل کی اجازت نہیں دیتا جو اسلامی احکامات کے خلاف ہو
طالبان کی اکثریت کا تعلق پاکستان ہی سے ہے اور وہ پاکستانی ہیں طالبان کو خودہی ان خود کش حملوں کی  مخالفت کرنی چاہیئے تھی کیونکہ خود کش حملوں کا اکثر نشانہ معصوم اور بے گناہ شہری بنتے ہیں   اسی طرح  وہ علماء اکرام جن کے وہ پیروکار ہیں سختی سے ان تمام اعمال کی مذمت کرتے جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا
ڈرون حملے امریکہ کرتا ہے اس میں جو جانی نقصان ہوتا ہے جس طرح عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے یہ ایک گھناؤنا عمل ہے اس کے ردعمل کے طور پر کسی بھی طرح یہ جائز نہیں ہوجاتا کہ اپنے ہی کسی مسلمان بھائی،بہن یا بچے کو نشانہ بنایا جائے  کم ازکم اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا
آج تک جو خود کش بمبار پکڑے گئے ہیں ان کی اکثریت کم عمر نوجوانوں کی تھی  جن کابرین واش کرکے اس غیر انسانی عمل پر اکسایا گیا۔اور وہ تو سادہ بچے تھے
کیا علماء اکرام کا یہ فرض نہیں کہ اپنے پیروکاروں کو یہ تعلیم سختی سے فرمائیں کہ کسی بھی صورت میں اسلامی تعلیمات سے دستبردار نہ ہوں طالبان سے زیادہ وہ علماء اکرام قصور وار ہیں جنہوں نے اپنے پیروکار طالبان کو یہ تاکید نہ کی کہ وہ کسی بے قصور اور بے گناہ کی جان  کسی بھی صورت میں نہ لیں
اگر بدلہ ہی لینا ہے تو قصور وار سے لیں ظالم سے لیں امریکہ سے لیں  پولیو کے قطرے پلانے والی اٹھارہ سال کی معصوم لڑکیوں کو قتل کرنا بہادری نہیں ڈاکٹر آفریدی جیسے غدار کی کی غداری کی سزا بے گناہ کو دینا یہ کہاں کا اسلام ہے ہمیں اس بات کو بحیثیت مسلمان سمجھنا چاہیئے

جس بات کی اجازت قرآن اور حدیث نہیں دیتے وہ کس طرح قابل قبول ہوسکتی ہے ہم بار بار کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوران طواف خانہ کعبہ کو مخاطب کرکے سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کتنا پاکیزہ ہے تیری فضا کتنی خوش گوار ہے۔ کتنا عظیم ہے تو، تیرا مقام کتنا محترم ہے مگر اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ایک مسلمان کے 
جان ومال اور خون کا احترام اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے (ابن ماجہ)
اگر ہم ان اسلامی احکامات کی بجائے من مانی کرنا چاہتے ہیں تو پھر جس کا جو جی چاہے کرے

Tuesday, 21 January 2014

ملاں اب بس کر


طالبان کے خلاف اب فوجی آپریشن ہونا چاہیئے ۔یہ وحشی درندے کسی رعایت کے قابل نہیں ہیں اتنی وحشت تو درندوں میں بھی نہیں ہوتی۔اتنی سفاکیت تو کسی جانور میں بھی نہیں ہوتی جتنی درندگی یہ دکھا چکے ہیں
حد ہوتی ہے ایک چیز کی ۔طالبان چاہے اصلی ہوں ،امریکی یا یہودی یا کسی بھی غیرملکی لابی کیلئے کام کررہے ہوں فوج کو چاہیئے کہ اب مزید کوئی بزدلی نہ دکھائے
اور  پاکستان کی تباہی کے ذمے دار ملاں اب یہ ذلیل دلیل دینا بند کردیں کہ لال مسجد کے واقعے کے بعد بہت سے لوگوں کا سب کچھ ختم ہوگیا تھا تو وہ انتقام لینے چل نکلے  یہ سب آپ کے ذلیل دلائل ہیں جو نوجوانوں کو ایسے انتقام پر اکساتے ہیں اسلام بزدل مذہب نہیں ہے ملاؤں کو چاہیئے تھا کہ ان کو سمجھاتے کہ درندگی مت پھیلاؤ اور انتقام اور جنگ کے دوران جو اسلامی اصول اپنائے جاتے ہیں کم ازکم وہ ہی سمجھادیتے لیکن ظالم ملاں نے صرف پیسے کیلئے طالبان کی مزید حوصلہ افزائی کی
ملاں پیسہ سب کچھ نہیں خدا کے واسطے لوگوں کو انتقام پر مت اکساؤ اور اپنے پیروکاروں کو درندگی سے روکو

Sunday, 19 January 2014

سپہ سالار اور قاضی القضاء کی بیوی کی دوستی کا المناک انجام تحریر: صفی الدین




اسلام آباد میں دوسہیلیوں کی دوستی بہت مشہور تھی دونوں ہی کا تعلق  صف اول کے  گھرانوں سے تھا بلکہ دونوں خواتین

ہی اپنے اپنے حساب سے خاتون اول بھی تھیں۔آٹھ سال کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن ہو شاید ہی کوئی ایسی تقریب ہو جس میں یہ دونوں سہیلیاں الگ نظر آئی ہوں ۔ دونوں کی صبح ایک دوسرے کو دیکھے بغیر نہیں ہوتی تھی جاننے والے  کہتے تھے تھے کہ یہ دوستی کا رشتہ بہنوں سے بڑھ کر تھا ۔دونوں  بہنیں ہی ایک دوسرے کی احسان مند بھی تھیں اور ایک دوسرے کی مشکور بھی تھیں لیکن دونوں  سہیلیوں نے ایک دوسرے پر کبھی کوئی احسان نہیں جتایا تھا۔لوگ ان کی دوستی پر رشک کرتے تھے   اور بہت سی ہم عصر خواتین  حسد بھی رکھتی تھیں  ان میں سے ایک  پنجاب کی مسز چوہدری ٹھیٹھ پنجابن اور دوسری دہلی کی  راجپوت  یہ عجیب دوستی تھی ایک ایسی دوستی جو لوگوں سے کسی صورت ہضم نہیں ہوتی تھی
ایک کا شوہر قاضی القضاء تھا تو دوسری کا شوہر ایک اسلامی فوج کا سپہ سالار تھا  سپہ سالار بھی ایسا جو شاید دوبارہ کبھی نہ پیدا ہو سپہ سالار اور قاضی القضاء کی دوستی کے حوالے سے ویسے تو راوی خاموش ہے لیکن ایک خاص موقع پر قاضی نے سپہ سالار کو غازی کا درجہ دیا تھا اور سپہ سالار نے قاضی کی اس ادا سے  ہی متاثر ہوکر اس کو حاجی کہا تھا اور بعد میں سپہ سالار نے قاضی کو قاضی القضاء کا درجہ دے دیا تھا کچھ ناسمجھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ قاضی کو قاضی القضاء بنانے میں  بیگمات کی دوستی کا بڑا ہاتھ تھا
8  مارچ 2007 کی ایک سرد شام تھی اسلام آباد کے ایک سرد لان میں دونوں خواتین آپس میں گپ شپ کررہی تھیں ان کے ساتھ چند  فوجی اور قاضیوں کی بیگمات بھی ساتھ تھیں  ایک سات سال کی پیاری سی بچی بھی وہاں کھیل رہی تھیں ایک انتہائی بااثر اور اہم شخصیت نے اس میٹنگ کا اہتمام کیا تھا کہ ایک  سات سال کی  غیر ملکی بچی  جو کہ پیدائشی جرنلسٹ ہے کی خواہش ہے کہ سپہ سالار کی اہلیہ اور قاضی القضاء کی بیوی کے ساتھ کچھ وقت گزارے ان کے ساتھ باتیں کرے اور ان کا چھوٹا سا انٹرویو بھی کرے  اگرچہ بات حیرت انگیز تھی کہ ایک سات سال کی بچی کیسے صحافی بن سکتی ہے لیکن اہم شخصیت نے قائل کرہی لیا  کہ یہ بچی پیدائشی طور پر جرنلسٹ ہے اور اس میٹنگ میں ان خواتین کو بھی کسی نہ کسی طرح شامل کرلیا گیا جو اس مثالی اور غیر معمولی دوستی سے حسد رکھتی تھیں ۔ وہ بچی بہت ہی پیاری تھی  اس کی باتیں بہت ہی دلچسپ تھیں خواتین کو میٹنگ میں بہت مزا آرہا تھا بچی نے بہت سی پیاری پیاری باتیں کیں   وہ واقعی پیدائشی صحافی تھی سرد شام میں محفل گرم تھیں لیکن صرف دو خواتین کو بات کرنے کی اجازت تھی  دونوں سہیلیوں نے اپنا پروٹوکول بنا رکھا تھا کہ ان کی موجودگی میں کسی کو بات کرنا تو دور کی بات بلند آواز میں ہنسنے کی بھی اجازت نہ تھی صرف اور صرف مسکرانے کی اجازت تھی بس  اس سے زیادہ کچھ نہیں
اس سرد شام میں کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ سرد شام پاکستان کی تاریخ ہی بدل دے گی وہ لڑکی بہت تربیت یافتہ تھی اس کے کان میں ایک چھوٹا سا ننھا منا سا مائک فٹ تھا  وہ کہیں سے  ہدایت لیکر بات کررہی تھی  جس کا کسی کو بھی علم نہ تھااچانک اس  پیاری سی بچی نےنے ایک ایسا سوال پوچھا کہ محفل میں سکتہ طاری ہوگیا  " آنٹی آپ دونوں میں طاقتور کون ہے" تھوڑی دیر بعد مسز چوہدری نے کہا بیٹا ہم دونوں بہنیں ہیں اور سہیلیاں ہیں لیکن راجپوتی خون جوش مارچکا تھا سپہ سالار کی بیوی نے کہا انسان کو اس کے کام بڑا بناتے ہیں میرا شوہر  کمانڈو بھی ہے اور طاقتور بھی صرف اشارہ کرنے کی دیر ہوتی  ہے تو وہ چیز غائب ہوجاتی ہے مسز چوہدری نے کہا کہ لیکن میرا شوہر ایک اشارہ کرتا ہے تو  کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ  ہو اس کے سامنے حاظر ہوجاتا ہے  ننھی منی من موہنی پیاری سی گلابی چہرے والی بچی نے کہا تو کیا آنٹی کا  کمانڈوشوہر بھی حاظر ہوجائیگا مسز چوہدری شاید مزاق کے موڈ میں تھی کہا کیوں نہیں  میری  بیٹی بس اشارہ کرنے کی دیر ہے اگر میرا شوہر اشارہ کردے تو کوئی بھی حاضر ہوجائے گا
راجپوتی خون تڑپ اٹھا یہ مت بھولو کہ تمہارے شوہر کو اس بلند مقام پر میرے ہی شوہر نے پہنچایا ہے مسز چوہدری نے کہا کہ کیا میرے شوہر کی  مرضی  اور اجازت کے بغیر وہ  اتنی طاقت حاصل  کرسکتا تھا ۔ مجھ پر کوئی احسان جتانے سے پہلے یہ کیوں نہ سوچا کہ میرے شوہر نے تو تمہارے شوہر کو وہ سب کچھ بھی دیا جو اس نے مانگا بھی نہ تھا اچانک مسز ڈوگر نے مداخلت کی کہ مسز چوہدری صاحبہ بس رہنے بھی دو بات نہ بڑھائیں  یہ سن کر مسز چوہدری بھڑک اٹھی "تم اپنی اوقات میں رہو خبردار جو مداخلت کی اور نکل جاؤ یہاں سے"
سپہ سالار کی بیوی نے کہا  نہیں نہیں جتانے دو احسان  اچھا ہوا آج اصلیت کھل کر سامنے آگئی مسز ڈوگر میری مہمان ہے یہ کہیں نہیں جارہی اب یہ میرے ساتھ ہی جائے گی
یہ سب باتیں سن کر معصوم بچی خوفزدہ ہوگئی کیونکہ اس سوال کے بعد مائک بند ہوچکا تھا  آنٹی آپ رہنے دیں  آپس میں لڑائی نہ کریں آپ دونوں ہی اچھی ہیں لیکن سپہ سالار کی بیوی نے کہا نہیں بیٹی اب اس سوال کا جواب کل تک مل ہی جائے گا کہ کون کتنا طاقتور ہے  اس احسان فراموش  مسز چوہدری کو تو میں ایسا سبق سکھاؤں گی کہ پوری زندگی یاد رکھے گی اگر کل ہی اس کے شوہر کو اختیارات اور طاقت سے محروم نہ کیا تو میرا نام بدل دینا  چلو مسز ڈوگر یہ  مسز چوہدری کون ہوتی ہے تمہیں ذلیل کرنے والی میں ہوں نا۔
مسز چوہدری نے کہا تم ذرا سی بات پر برسوں کی دوستی کو خاک میں ملا رہی ہو ۔سپہ سالار کی بیوی نے کہا یہ تمہاے لیئے معمولی بات ہوگی میں تمہیں بتاؤں گی کہ  ہم کیا ہیں  تم نے میری دوستی دیکھے ہے دشمنی نہیں
کمانڈو نہ جانے کس سوچ میں گم سم بیٹھا تھا کہ اس کی اہلیہ  نے  ایوان صدر جاکر خوب  نمک  مرچ لگا کر سارا واقعہ سنایا سارا واقعہ سن کر کمانڈو نے  زندگی میں پہلی بار اپنی ہتھیلی پر مکا مارا اور پھر اس مکے نے پاکستان کی تاریخ ہی بدل دی
نو۔ مارچ  2007کو کمانڈو نے اپنے آفس میں قاضی القضاء کو طلب کیا۔ قاضی القضاء نے بہت کہا کہ عورتوں کا  معمولی جھگڑا ہے میں نے مسز چوہدری کو بہت ڈانٹا ہے  معاملہ رفع دفع کریں بات کو بڑھانا ٹھیک  بلکہ ہم تو صلح کیلئے گھر 
آرہے تھے
 نہیں  کمانڈو نے  مختصر کہا "نہیں  "میں نے اب اس معاملے کو سنجیدگی سے لے لیا ہے  اب پرانی دوستی کو ایک طرف رکھ دو تمہاری بیوی نے بہت زیادتی کی ہے  کس کی جرات ہے جو میری طاقت کو للکارے میں تمہیں غائب کررہا ہوں تمہیں دی ہوئی طاقت واپس لے رہا ہوں  اب تم مجھے حاضر کرکے دکھاؤ
سنا ہے کہ اس دن  انکار  کمانڈو نے کیا تھااور اس ایک "انکار" نے پاکستان کی تاریخ کو بدل دیا

Tuesday, 14 January 2014

ہم ذبح کرتے ہیں وہ جھٹکا دیتے ہیں کمرشل اسلام



کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں چند سال قبل ایک مذہبی تنازعے کا مقدمہ پیش تھا ۔تنازعہ یہ تھا کہ ایک 
علاقے   میں تین مساجد تھوڑے فاصلے پر ے تھیں   ان مساجد کے پلاٹ حکومت  نے علاقے کی آبادکاری کے وقت  الاٹ کیئے تھےلیکن ایک جامع مسجد سے چند قدم ہی کے فاصلے پر  ایک مولانا صاحب نے پلاٹ خریدا اور مسجد کی تعمیر شروع کردی مجھے یاد ہے کہ 2007 میں وہ پلاٹ پچیس لاکھ نقد سکہ رائج الوقت  ادا کرکے خریدا گیا  جب مسجد کے سامنے ہی ایک اور مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مقامی افراد کے شدید اعتراض کے بعد بیرونی عناصر کی آمد کے بعد جھگڑا بڑھ گیا  اور بڑھتے بڑھتے  فائرنگ شروع ہوگئی   پلاٹ سیل کردیا گیا مقدمہ عدالت میں پہنچا ۔خیر مولانا تجربہ کار تھے عدالت کا بجٹ بھی مخصوص کیا ہوا تھا ۔مقامی رہایئشیوں نے بہت شور شرابہ ڈالا کہ  اس علاقے میں پہلے ہی تین مساجد موجود ہیں  اور تینوں مساجد کے پلاٹ حکومت نے کالونی کی آباد کاری کے وقت سرکاری طور پر الاٹ کیئے تھے اس لیئے  مسجد وہاں بنانی چاہیئے جہاں مسجد کی ضرورت ہو یہاں اسپتال کی ضرورت ہے اسکول کی ضرورت ہے اگر مولانا کو نیکی کاکام ہی کرنا ہے تو کوئی اور نیک کام کریں لیکن مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ میں یہاں نیکی کاکام کرنا چاہتا ہوں اور یہ شرپسند مجھے روکنا چاہتے ہیں خیر چند دن بعد ایک خصوصی آرڈر کے تحت  "پلاٹ" کی سیل توڑ دی گئی اور مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دی گئی گزشتہ دنوں میرا وہاں جانا ہوا تو مسجد کے رقبے میں کافی توسیع ہوگئی تھی ۔اسی طرح ہمارے کچھ عزیز پنجاب کالونی میں رہتے ہیں ان کی عقبی گلی ڈیفنس میں کھلتی ہے  ان کے پاس  ایک مولانا صاحب گزشتہ برس تشریف لائے  ان کو پلاٹ کی منہ مانگی قیمت ادا کی اور قیمت ادا کرنے کے بعد ان کا پلاٹ   خرید لیا   اور تین دن کے اندر اندر ہیوی  سائز لاؤڈ اسپیکر مکان پر نصب کرکے  مکان کومسجد میں بدل دیا گیا حالانکہ وہاں بھی مساجد کی کوئی کمی نہیں تھی

پاکستان میں سب سے برا سلوک اسلام کے ساتھ ہوا ہے اسلام کو مکمل طور پر ایک کمرشل مذہب میں تبدیل کردیا گیا ہے  قیمتی علاقوں میں کروڑوں روپے خرچ کرکے پلاٹ خرید کر مساجد کی تعمیر جاتی ہے اور  گراؤنڈ فلور پر دکانیں بنا کر صرف دکانیں ہی فروخت کرکے  ساری "انویسٹمنٹ" بمع منافع وصول کرلی جاتی ہے   ایسی مساجد میں کوئی کمیٹی وغیرہ نہیں ہوتی کرتا دھرتا مولانا صاحب ہی ہوتے ہیں  اور وہ کسی کو بھی حساب کتاب دینے کے پابند نہیں ہوتے
اسی طرح کراچی میں کچی آبادی کے تحفظ کیلئے مذہب  کا استعمال کیا جاتا ہے
جس طرح سیکورٹیز ایجنسیز ہوتی ہیں اسی طرح ایک صاحب نے  کراچی میں  ادارہ بنا رکھا ہے جو مساجد  میں مولوی بھیجتے ہیں جن کو معمولی تنخواہ  اور رہایئش دی جاتی ہے اور تین ماہ بعد ان کا تبادلہ  دوسری مسجد میں  کیا جاتا ہے تاکہ وہ مسجد میں اپنا اثرورسوخ  بنا کر "قبضہ" ہی نہ کرلیں  اس کے علاوہ ان کے پینل پر مختلف فیکٹریوں کی مساجد بھی ہیں  اسی طرح جمعہ کی نماز پڑھانے والے الگ ہوتے ہیں اور ان کو بھی کسی جگہ مستقل طور پر نہیں بھیجا جاتا
ہمارے ہاں حاجیوں کو کمرشل حج کروائے جاتے ہیں  اور اکثر اوقات اسلام میں کمرشل ازم لانے والے لوگ 
حاجیوں کے پیسے ہی لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں

پاکستان میں  کمرشل اسلام کے علمبردار اسلام کے نام پر سرمایہ کاری کرواتے ہیں اور آخر میں 8000 غریب لوگوں کے اربوں روپے لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں  اور مفتیان کے فرار کے بعد مدارس ایک چھوٹی سی وضاحت کردیتے ہیں کہ یہ ان کا ذاتی فعل تھا  جبکہ گرفتار مفتیان گرفتاری کے بعد وکٹری کا روایتی نشان بناتے ہیں
پاکستان میں سودی بینکاری کا نام بدل کر اسلامی بینکاری رکھ دیا جاتا ہے اور چند علماء قسم کے   لوگ کمرشل سودی بینکوں سے خالص ترین سود سے لاکھوں روپے تنخوا بٹور کر فایئو اسٹار ہوٹلوں میں اپنے  لیپ ٹاپ پر "پریزینٹیشن" پیش کرتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کیا ہے اور جب عوام کے سوالات کا جواب دینے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو کہتے ہیں " ہم ذبح کرتے ہیں وہ جھٹکا دیتے ہیں" بس اتنا ہی فرق ہے اسلامی اور سودی بینکاری میں
پاکستان میں اسلام کو جس طریقے سے کمرشل کردیا گیا ہے اب بھی درجنوں شعبہ جات ایسے ہیں جن کا ذکر کیا جائے تو شاید لوگ یقین نہ کریں خاص طور پر رمضان المبارک کے دوران جس طریقے سے ٹی وی چینلز نے مل کر رمضان اور اسلام کے ساتھ جو کمرشل سلوک میڈیا نے کیا اس کو پاکستانی عوام کبھی نہیں بھول سکتے

صفی

Monday, 13 January 2014

طالبان کراچی کے شہریوں کیلئے ایک نیا چیلنج

فرقہ پرستی تو ہر دور میں رہتی ہے۔
پاکستان میں فرقہ پرستی کے بہت سے موسم ہیں
پہلا موسم اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک مسجد کو دوسری مسجد سے ٹکرا دیا جاتا ہے۔ایک مدرسہ دوسرے مدرسے کے مقابل آجاتا ہے شخصیات سے شخصیات کو لڑادیا جاتا ہے۔اچانک ہی کسی فرقے کے پاس اتنا پیسہ آجاتا ہے کہ وہ دھڑا دھڑ مختلف قسم کی کانفرنسیں کروانا شروع کردیتا ہے۔جس کے بعد دوسرا فرقہ بھی میدان میں آجاتا ہے کانفرنس کا جواب کانفرنس سے دیا جاتا ہے۔ایک زمانے میں کراچی کے پھیلاؤ میں فرقہ پرستی اور فرقہ پرست تنظیموں کے مفادات کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔کچی آبادی   سے پہلے ایک وسیع  قلعہ نمااراضی مسجد اور مدرسے  اور اس کے علاوہ ایک چھوٹا سے دوہزار گز کا  چھوٹا سا قلعہ نمامولانا صاحب کا حجرہ آباد ہوتا تھا جس کے بعد وسیع پیمانے پر اللہ کی زمین  کچی آبادی کے نام پر  انتہائی  سستے دام آباد کردی جاتی تھی غریبوں کو سستے داموں مفت زمین اور ایجنسیوں کو سستے داموں  سستا "ایندھن" بھی اسی زرخیز زمین سے مل جاتا تھا وہ سستا ایندھن فرقہ پرستی کی آگ روشن کرنے کے کام آتا تھا کبھی کبھی کراچی میں ایجنسیاں ایسا ماحول بنادیتی ہیں کہ ایک فرقہ دوسرے فرقے سے بات کرنا پسند نہیں کرتا کبھی کبھی یہ بالکل ایک ساتھ مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو حالات اسقدر بے قابو ہوجاتے ہیں کہ دل ہی ڈر جاتا ہے کہ نہ جانے کیا ہوجائے کراچی میں فرقہ پرستی کے سارے موسم پرائے ہیں ورنہ یہ شہر تو اعتدال پسند ہے  اور فرقہ پرستی کے دوران قتل وغارت گری کراچی کا مزاج نہیں
دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر  خود رو پودوں کی طرح پھیل گیا۔کراچی کی کچی آبادیوں میں ایسی ایسی عظیم الشان مساجد  اور ایسے ایسے عظیم الشان مدارس ہیں جن کا قلعہ نما رقبہ اور فن تعمیر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ کراچی  کے ان حصوں کو کافی عرصے تک قبول ہی نہیں کیا گیا اور یہی تاثر دیا گیا کہ ان  غیرقانونی آبادیوں کو مسمار کردیا جائے گا 
ان مضافاتی علاقوں کے بارے میں دو ا شعار کسی زمانے میں دیواروں پر لکھے نظر آتے تھے
دن شہر رات مضافات ميں رہنا
بہتر يہی ہے کہ گردش حالات ميں رہنا
يہ شہر کراچی ہے سمندر کے کنارے آباد
اس شہر ميں رہنا ہے تو اپنی اوقات ميں رہنا

 ان دو اشعار میں وہ سب کچھ چھپا ہے جو دلوں میں بغض کی طرح پلتا رہا مضافاتی علاقوں سے نظریں چرائی گئیں لیکن وہ علاقے ایک حقیقت تھے سرکاری طور پر ان کو ایک طویل عرصے تک قبول نہیں کیا گیا
اس کی ایک اہم وجہ  منتخب بلدیاتی اداروں کا نہ ہونا بھی تھا  ایک طویل عرصے کے بعد جب مشرف نے بلدیاتی نظام نافذ کیا تو انکشاف ہوا کہ  موجودہ آدھے سے زیادہ شہر تو کچی آبادیوں پر مشتمل ہے  پہلے سٹی ناظم نے بھی کراچی کی ان کچی آبادیوں کو کراچی کے ماتھے کا جھومر قرار دیا ۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا لفظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ سڑک تو بننے کے بعد ہی ٹوٹتی ہے زمانہ قدیم کے کچے راستے،سیوریج سسٹم سے محروم ، پینے کے پانی کا کوئی نظام نہیں نہ کوئی اسپتال نہ کوئی اسکول نہ کوئی کالج  ایسی ہوتی ہیں کچی آبادیاں
غربت نے عوام کو کراچی کے پہاڑوں پر چڑھنے پر مجبور کردیا جہاں پلاٹ مفت تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑ بھی آباد ہوگئے شروع شروع میں یہ پہاڑیاں اس وقت خوبصورت نظارہ پیش کرتی تھیں جب رات کو پہاڑیوں پر آباد گھروں میں بلب جلتے تھے تو پورا پہاڑ روشن ہوجاتا تھا۔ یہ پہاڑی راستے دشوار گزار بھی ہیں اور مشکل بھی نہ جانے کیسے یہاں بجلی پہنچی نہ جانے کیسے پینے کا پانی پہنچایا جاتا ہے اور زندگی کی دیگر سہولیات یہاں پہنچتی ہیں ۔یہی علاقے طالبان کی آخری پناہ گا ہیں ٹہرے لیکن  اس وقت ان کو بحر الکاہل قرار دیا گیا کہ  جہاں سمندر کی تہہ تو پرسکون ہوتی ہے لیکن اندر بڑی بڑی شارکس اور وہیل مچھلیاں گھوم رہی ہوتی ہیں یہی تاثر دیا گیا کہ حالات ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے  لیکن افسوس ایسا نہ ہوا طالبان اچانک کھل کر ظاہر ہوگئے
کراچی کی کئی کچی آبادیوں میں محسود اور دیگر قبائل کالونیوں کی شکل میں آباد ہیں اور یہی علاقے اس وقت طالبان کے اہم مراکز ہیں اور ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے  ان کے پاس ہرقسم کا اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے اور سڑکیں وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے  پولیس یہاں نہیں پہنچ سکتی   منگھو پیر  اور گلشن غازی کے جن علاقوں اور طالبان کو ہلاک کرنے کے دعوے کیئے جاتے ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ان علاقوں کو نو گو ایریا کہنا مناسب نہیں کیونکہ یہ صرف پولیس کیلئے نو گو ایریاز ہیں   ماضی میں جن طاقتوں کو فرقہ پرستی کیلئے استعمال کیا گیا اور جس سستے ایندھن کو استعمال کیا گیا وہ شاید اب اپنے بانیان کے قابو میں بھی نہیں ہیں۔ سمجھ نہیں آرہی کہ کراچی کے حالات کیا سے کیا ہوجائیں گے کیونکہ فرقہ پرست طاقتوں نے مختلف طاقتوں اور مافیاز سے بھی تعلقات قائم کررکھے ہیں

فرقہ پرستی کا ان علاقوں سے گہرا تعلق  ہے  کیونکہ  ایجنسیوں کو موسم کی تبدیلی کیلئے ایندھن اور خام مال یہیں سے ملتا ہے کل عید میلادالنبی  ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ یہ دن خیریت سے گزرجائے  کیونکہ دہشت گردی کا شکار کراچی  شاید کسی نئے فرقہ وارانہ موسم  کا متحمل نہیں ہوسکتا

Sunday, 12 January 2014

انکم ٹیکس کے شعبے میں بحیثیت قانونی ماہر بہتر مستقبل کے شاندار مواقع :: تحریر مس عشرت سلطان


وکالت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں کوئی بھی انسان اپنے رجحان کے مطابق  آگے بڑھ سکتا ہے   دنیا بھ
ر میں وکیل اپنے  مخصوص شعبوں میں اپنا نام  پیدا کرتے ہیں جیسا کہ حادثات ،انشورنس،انکم ٹیکس،کارپوریٹ اور مختلف شعبہ جات میں  وکلاء خصوصی مہارت حاصل کرکے اپنا مستقبل تابناک بناتے ہیں  گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں انکم ٹیکس کے شعبے میں نوجوان وکلاء کیلئے ترقی کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں  اور انکم ٹیکس کے معاملات کے ماہر وکلاء بڑی  کمپنیوں اور کاروباری افراد کی ضرورت بن گئے ہیں  کراچی بار ایسوسی ایشن  سے منسلک وکلاء  اور خصوصاً نوجوان وکلاء اس حوالے سے معلومات  کی کمی کا شکار ہیں لیکن اس شعبے میں ترقی کے بے شمار مواقع موجود 
ہیں


لاء سوسائٹی پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ نوجوان وکلاء کی اس طرح رہنمائی کی جائے کہ وہ اپنا مستقبل  محفوظ بنا سکیں اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے نامساعد حالات سے دلبرداشتہ ہوکر وکالت کے پیشے سے ہی دلبرداشتہ نہ ہوجایئں۔ہماری ان ہی کوششوں کا مثبت جواب گزشتہ دنوں "سیلزٹیکس بار ایسوسی ایشن" کے جنرل سیکرٹری محترم قاضی ایاز صاحب نے دیا ہے اور یہ پیشکش کی ہے کہ  لاء سوسائٹی پاکستان اور سیلز ٹیکس بار ایسوسی ایشن نوجوان وکلاء کو انکم ٹیکس کے شعبے میں بحیثیت  قانونی ماہر کے طور پر اپنا مستقبل  بنانے کیلئے ان کا ادارہ ٹریننگ  کے مواقع  فراہم کرے گا  اگرچہ یہ ٹریننگ کمرشل بنیادوں پر ہوگی اور اس کی فیس وصول کی جائے گی لیکن "لاء سوسائٹی پاکستان"  اور ویمن پروٹیکشن نیٹ ورک کی ممبران  کے ٹریننگ کے اخراجات ہمارے معاونین ادا کریں گے
لاء سوسائٹی پاکستان کے  وہ ممبران جو کراچی میں رہایئش پزیر ہیں اور کراچی میں پریکٹس کرتے ہیں" سیلز ٹیکس بار ایسوسی ایشن" کی ممبر شپ حاصل کرسکتے ہیں اور ممبر شپ کے تمام اخراجات اور ممبرشپ فیس بھی لاء سوسائٹی پاکستان کے معاونین ادا کریں گے تمام ممبران سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ  اس سلسلے میں دوپاسپورٹ سائز تصویروں کے ساتھ محترم  کبیر احمد صدیقی اور محترم  امرت شردھا میشوری ایڈوکیٹ سے  کراچی بار ایسوسی ایشن میں مل کر معلومات حاصل کرسکتے ہیں رابطہ نمبر
کبیر احمد صدیقی ٭٭03332235712
امرت شردھا میشور ی ایڈوکیٹ٭٭03332691981
لاء سوسائٹی پاکستان سے منسلک وہ طلبہ اور طالبات جو لاء کالجز میں زیرتعلیم ہیں اور انہوں نے بی کام کیا ہے وہ بھی ممبر شپ حاصل کرسکتے ہیں
خواتین وکلا ء اس سلسلے میں مزید معلومات   ممبر منیجنگ کمیٹی کراچی بار ایسوسی ایشن سعدیہ شمس سے معلومات حاصل کرسکتی ہیں

عشرت سلطان  لاء سوسائٹی پاکستان کی ممبر بورڈ آف ڈائیریکٹراور ویمن پرٹیکشن نیٹ ورک کی چیئر پرسن ہیں

Ishrat.sultan786@gmail.com

کبھی وہ پھول لیکر استقبال کرتے تھے

کبھی وہ پھول لیکر کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔کبھی وہ پتھر لیکر کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔اور کبھی وہ بندوق لیکر کھڑے ہمارا انتظار کررہے ہوتے ہیں
ہم وہ طبقہ ہیں جو اپنے آقا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا میلاد اس نظرئیے کے ساتھ ہرروز مناتے ہیں کہ وہ عظیم ساعت ہر روز آتی ہے جس  ساعت میرے  آپ کے اور ہم سب کے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔ہر ہفتے کو پیر کے دن خوشی کا اظہار کے یہ وہ دن ہے جب پیارے مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   اس دنیا میں تشریف لائے ہر مہینے کی بارہ تاریخ ہمارے لیئے  خوشی کا باعث کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   تشریف لائے عاشقان رسول باالخصوص  ربیع الاول کا سارا سال انتظار کرتے ہیں کہ  وہ خاص مہینہ   اور وہ خاص  دن  اور خاص مبارک ساعت جس میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   اس دنیا میں تشریف لائے عید میلاد کا تقابلہ کرسمس  سےکرنا  ظلم ہے کیونکہ عیسائی تو سال میں صرف ایک دن عید مناتے ہیں جبکہ عید میلاد تو سارا سال منائی جاتی ہے   میرے خیال میں دنیا کا سب سے بڑا جشن 
کراچی میں منایا جاتا ہے

کراچی کی روایت یہ ہے کہ کراچی کو دولہن کی طرح سجایا جاتا ہے کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں میلاد کمیٹیاں ہیں جو کراچی کو سجاتی ہیں لیکن جو سجاوٹ کراچی کے علاقے کھارادر میں ہوتی ہے اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا
بارہ ربیع الاول کو کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں  مرکزی جلوس میمن مسجد کھارادر سے نشتر پارک  جاتا ہے
گزشتہ  چند سالوں سے ہر سال کراچی میں ایک نیا ماحول ہوتا ہے  ۔کراچی کے شہری جلوس میلاد کا استقبال کرتے ہیں کراچی کے وہ شہری جو عید میلاد نہیں مناتے   وہ بھی ماضی میں اتحاد بین المسلمین کے نظریئے کہ تحت جلوسوں کا پھول لیکر استقبال کرتے تھے جب فرقہ پرستی کی لہر آئی  پاکستان  کی سڑکوں پر آل سعود اور ایران کی
جنگ لڑی گئی تو اس کی لپیٹ میں "میلاد کےجلوس "بھی آگئے   اور علماء کے لیئے بھی ایجنسیوں کے عمل دخل میں اضافے کے بعد اتحاد بین المسلمین کے مظاہرے کرنا ممکن نہ رہا   کیونکہ غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے افراد  ان علماء پر جو اتحاد بین  المسلمین  کے  لیئے کوشش کرتے تھے پرطعنہ زنی کرتے تھے کہ یہ استقبال کرنا منافقت  ہے جو لوگ کل تک پھول لیکر کھڑے ہوتے تھے ایجنسیوں نے ان  کی جگہ نئے غیرمقامی لوگ کھڑے کرکے ان کے ہاتھ میں پتھر تھمادیئے  لیکن ان کی تعداد قلیل  تھی جب پتھر وں سے دل نہ بھرا تو ہاتھ میں بندوقیں تھمادی گئیں جب بندوقیں بھی ناکام ہوگئیں  تو نشتر پارک میں  ایک سازش کے تحت بم دھماکے کے ذریعے نفرت پھیلانے کی سازش کی گئی لیکن یہ سازش  ناکام ہوگئی۔ہر مکاتب فکر کے علماء نے اس واقعہ کی مذمت کی لیکن اس واقعے کے بعد اگرچہ اتحاد بین المسلمین کے وہ مظاہرے تو نہ ہوئے کہ ماضی کی طرح علماء  نے جلوسوں کا استقبال تو نہ کیا لیکن اس معاملے پر خاموشی اختیار  کرلی اور اکثر علماء نے اس کے بعد محتاط رویہ اختیار کیا ہے جو کہ خوش آئیند ہے  
میں دوستوں سے اپیل کروں گا کہ میلاد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر  جوکہ ایک مصنوعی اور غیر حقیقی دنیا ہے پربحث نہ  کریں  اور نہ ہی اعتراضات کے جوابات دینے کی تبلیغ کریں کیونکہ یہ چھوٹی بحث نفرت کے ماحول کو جنم دیتی ہے ویسے بھی سوشل میڈیا پر بحث کرنا  بلاوجہ کی درد سری ہے ہر سطح پر   اتحاد بین المسلمین کے مظاہرے کی سخت ضرورت ہے وہ علماء  دانشور  اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادجو اختلاف رکھتے ہیں ان سے بھی گزارش ہے کہ   وہ اب کھل کر اپنا کردار اداکریں ہر مسلک میں آج بھی  معتدل  ذہن رکھنے والے افراد ہی کی اکثریت ہے چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں آل سعود اور ایرانی حکومت کے ناپاک ایجنڈے پر پاکستان کی سڑکوں پر کام کرنے والے اور اپنے ہی مسلمان بھایئوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے  افراد کی تعداد اب بھی قلیل ہے  اور فرقہ پرست پاکستانی قوم کو شکست نہیں دے سکتے

کراچی میں خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے  لیکن علماء کو چاہیئے کہ وہ ماضی کی روایات کو زندہ کریں  تمام مسالک کے معتدل ذہن رکھنے والے افراد سے گزارش ہے کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرکے  اختلاف کے باوجود  طعنہ زنی کے باوجود میلاد کے جلوسوں کا استقبال کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کرکے آل سعود اور ایران سمیت  ہر قسم کی غیر ملکی   ناپاک سازشوں کو ناکام بنادیں    

Saturday, 11 January 2014

بارہ اکتوبر کے واقعات اور مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ

کہتے ہیں تاریخ کی اخلاقیات نہیں ہوتی ۔اگر تاریخ میں زبردستی اخلاقیات داخل کرنے کی کوشش کی جائے تو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ہم آئین پاکستان بناتے  بناتے ملک ہی گنوا بیٹھے اور مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔جس کے بعد جب متفقہ آئین بنا تو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین توڑنے کی سزا ،سزائے موت اور اس عمل کو سنگین غداری  قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود ضیاء الحق نے آئین کو توڑا اور مارشل لاء نافذکردیا وہ گیارہ سال تک آئین کی توہین کرتے رہے بدقسمتی سے ضیاءالحق اس دنیا میں ہی نہ رہے تو نہ ہی ان کے ٹرائل کا کوئی مطالبہ ہوا اور نہ ہی ہمارے سیاستدانوں نے  "ضیاءالحق کے مارشل لاء  اورآئین توڑنے والے ان کے ساتھیوں کے خلاف کوئی خصوصی عدالت تشکیل دی حالانکہ اگر  ان کے خلاف ایک عدالتی فیصلہ موجود ہوتا تو آج پاکستان کی سیاست آمریت کے سائے سے محفوظ ہوتی
12 اکتوبر 1999 کے واقعات نہایت ہی پراسرار ہیں۔
مشرف کو منتخب وزیراعظم نے برطرف کردیا اور ایک نیا آرمی چیف مقرر کردیا۔ آرمی نے اس فیصلے کو تسلیم نہ کیا اور منتخب وزیراعظم کو تختہ ہی الٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا دوسری طرف امید کی آخری کرن بھی اس وقت ڈوب گئی جب عدلیہ نے  پی سی او کے تحت  حلف اٹھانے کے بعد  منتخب وزیراعظم کا ساتھ نہ دیا بعد ازاں مشرف کی زیر نگرانی بننے والی اسمبلی نے  ان تمام اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کردیا
بالآخر 9 مارچ 2007 کے اقدامات کے بعد قوم اٹھ کھڑی ہوئی  اسی دوران مشرف نے 3 نومبر 2007 کو مشرف نے ایمرجنسی لگا دی عدالت نے ان اقدامات کی توثیق نہ کی ایک عدالتی فیصلہ دیا اور عدلیہ کی بحالی کے بعد پاکستان کی تاریخ کا سب سے سخت ترین فیصلہ پی سی او ججز کے خلاف آیا جس  کے بعد  بہت بڑی تعداد میں ججز گھروں کو چلے گئے
وکلاء تحریک کے دوران "آرٹیکل سکس-مشرف فکس "کا نعرہ زور و شور سے بلند ہوا

  میاں صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ آرٹیکل سکس  کے تحت کاروائی کرکے مارشل لاؤں کا راستہ بند کردیں گےجس کے بعد بالآخر 2013 میں  پاکستانی حکومت  نےمشرف کے خلاف ایک خصوصی عدالت تشکیل دے کر 3 نومبر 2007 کے اقدامات کے خلاف مقدمے کا آغاز کردیا  مشرف تاحال عدالت میں پیش نہیں ہوئے ان کی جلاوطنی یا بیرون ملک فرار سمیت کئی افواہیں گردش کررہی ہیں۔اسی دوران  ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آگیا کہ عدالتی کاروائی 12 اکتوبر 1999 سے شروع کی جائے  کچھ اسی قسم کا مطالبہ شجاعت صاحب نے کیا ہےلیکن پبلک  اور میڈیا کی ڈیمانڈ ہے کہ جلد از جلد مشرف  کو "فکس" کردیا جائے
12 اکتوبر کی ذد میں آرمی آرہی ہے یہ تاثر ہی غلط ہے  بلکہ فوج سمیت تمام ذمے داران زد میں آرہے ہیں
12 اکتوبر کی  بغاوت  کی زد میں آرمی کی وہ چین آف کمانڈ زد آرہی ہے جس نے اس وقت کے منتخب وزیراعظم کو حراست میں لیا
12 اکتوبر کو آئین پاکستان سے ہونے والی بغاوت کی  زد میں ایک فریق  منتخب وزیراعظم ہے جس کے اقدامات کے نتیجے میں دو اداروں میں تصادم اسقدر بڑھا کہ کہ دو ادارے آپس میں ہی ٹکرا گئے اور کیا منتخب وزیراعظم کی جانب سے آرمی چیف کو عجلت میں برطرف کرکے  جنرل ضیاءالدین کو نیا آرمی چیف بنانا  کیا یہ آئینی قدم تھا
12 اکتوبر کو ہونے والی  بغاوت  کی روشنی میں پاکستان کی تاریخ کا ایک مظلوم ترین "افتخار چوہدری "بھی سامنے آرہا ہے جس کا نام جسٹس سعیدالزمان  صدیقی ہے جس نے  مشرف  کےمارشل لاء کو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا تھا  قوم کو ایک اصلی ہیرو بھی مل جائے گا  اور قوم سعید الزمان کا کردار جاننے سے اس لیئے محروم رہی کیونکہ اس وقت میڈیا  کے ساتھ ساتھ ساتھی ججز نے ان کا ساتھ نہ دیا
12 اکتوبر 1999 کی بغاوت کی زد میں وہ ججز بھی آرہے ہیں جنہوں نے  پی سی او کے تحت حلف لیاتھا  اور جنہوں نے مشرف کے اقدامات کی نہ صرف توثیق کی بلکہ اس کو من مانے اقدامات کیلئے  تین سال کا وقت بھی دیا
12 اکتوبر کی بغاوت کی زد میں  مشرف کی اسمبلی کے وہ ممبران بھی آرہے ہیں  جنہوں نے سترہویں آئینی ترمیم پاس کی اور اس وقت کی جعلی اپوزیشن  اور جعلی  قائد حزب اختلاف بھی زد میں آرہا ہے جنہوں نے آئینی ترمیم کیلئے مشرف کا ساتھ دیا
12 اکتوبر کی بغاوت کے بعد 2007 میں حالات دوبارہ خراب ہوگئے اور مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کردی
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئین توڑنے پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جارہا ہے محسوس ہوتا ہے کہ  میاں صاحب نے    صرف "شرعی حیلہ" پورا کیا ہے بہت سے لوگ یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ 12 اکتوبر 1999 کے اقدامات کی زد میں  براہ راست آرمی کی چین آف کمانڈ آرہی ہے اور آرمی اس مقدمے کو قبول نہیں کرے گی۔ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اس وقت کی پوری چین آف کمانڈ ریٹائر ہوچکی ہے  اور اکثریت اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہے  دوسری طرف اکثر ججز بھی ریٹائر ہوچکے ہیں تیسرا اہم ترین مسئلہ وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے مشرف کے ساتھ مل کر قوم کو بے وقوف بنائے رکھا ان کو تو لازمی بغاوت کے مقدمے کی زد میں آنا چاہیئے۔ جرنیلوں سے پہلے پھانسی کے حقدار وہ  سیاستدان ہیں جنہوں نے ایک آمر کے اقدامات کو آئینی تحفظ فراہم کیا بدقسمتی دیکھیں کہ  میڈیا مسلسل  بغاوت کے مقدمے کو 12 اکتوبر 1999 سے شروع کرنے کی مخالفت کررہا ہے
کیا یہ بہتر نہ ہوکہ اس مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جائے میں جانتا ہوں کہ 12 اکتوبر سے مقدمہ شروع کرنے میں کسی قسم کی کوئی آئینی پیچیدگی نہیں  ہے اور یہ مقدمہ کسی حد تک پیچیدہ ہوجائے گا لیکن عدالتوں کا تو کام ہی پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ہے    یہ قوم جاننے کا حق رکھتی ہے کہ وہ کونسے حالات تھے جن کے تحت ایک منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑی لگا دی گئی تھی جس کے بعد پاکستان میں اتنے بحران پیدا ہوگئے کہ ہم آج تک ان سے نہیں نکل سکے اور آج بھی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں
یہ تاثر دینا درست نہیں کہ آرمی ناراض ہوجائے گی کیونکہ عدلیہ 3 نومبر کے غیر آئینی اقدامات کا ساتھ دینے والے ججز کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے ۔ اگر کاروائی 12 اکتوبر 1999 سے شروع کی جائے تو قومی اسمبلی کی حزب اقتدار پارٹی کے ساتھ ساتھ  اس وقت کی متحدہ مجلس عمل کے نام سے جعلی اپوزیشن  بھی زد میں آئے گی میرے خیال میں مولانا فضل الرحمٰن  سمیت 300 کے قریب سیاستدانوں کے خلاف عدالتی فیصلہ آجائے  تو  آسمان نہیں ٹوٹے گا  یقین کریں مفاد پرست مولویوں  اور مفاد پرست سیاستدانوں کے خلاف کاروائی سے تو پورے پاکستان میں مٹھائی  تقسیم ہوگی دوسری طرف قوم کو ان سیاستدانوں سے بھی نجات مل جائے گی جنہوں نے پاکستان میں مفاد پرستی کی سیاست کو فروغ دیا  ان سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ اگر آرمی کی چین آف کمانڈ  اور  پی سی او ججز کو بھی سزا سنا دی جائے تو تمام لوگ عبرت کا نشانہ بن جائیں گے آرمی  کے  افسران ریٹائر ہوچکے ہیں اور سنہء 2000 میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کی اکثریت بھی ریٹائر ہوچکی ہے اگر ان تمام لوگوں کو  مقدمہ چلانے کے بعد شواہد کی روشنی میں فرد جرم عائد کرنے کے بعد  صرف غدار ہی ڈیکلیئر کردیا جائے تو  صرف یہ طعنہ ان کی آنے والی نسلوں کیلئے ہی کافی ہوگا سزائے موت دینا ضروری نہیں ہے  
ہوٹل پر کھانا کھانے جایئں تو کھانے کے دوران اکثر لوکل ہوٹل "گریبی " یا سپلیمنٹ دیتے ہیں  لیکن گریبی کی قیمت نہیں وصول کی جاتی بلکہ صرف کھانے کی قیمت وصول کی جاتی ہے اسی طرح 3 نومبر 2007 تو صرف ان اقدامات کی "گریبی" یا سپلیمنٹ ہے جو 12 اکتوبر کو شروع کیئے گئے تھے
کوشش کی جارہی کہ  مشرف چلاجائے اس صورتحال میں بلاول کو بچہ سیاستدان سمجھنے والوں کو سمجھ جانا چاہیئے کہ وہ بچہ نہیں ہے کیوں کہ اس کے سیاسی بیانات جو بظاہر بچگانہ نوعیت کے ہیں مشرف کے فرار میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ کیونکہ اب فوج بھی نہیں چاہتی کہ مشرف کے جانے کے بعد کوئی بچہ یہ طعنے بازی کرے کہ وردی والا بھاگ گیا   اگر مشرف پر فرد جرم عائد ہوگئی جس کا بظاہر کوئی امکان نہیں تو پاکستان میں ایک نئی عدالتی تاریخ رقم ہوسکتی ہے
شرعی حیلہ کے طور شروع کیا گیا مقدمہ ایک تاریخی مقدمہ بھی بن سکتا ہے اور مشرف کے بیان کے بعد عدالت کے لیئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ 12 اکتوبر 1999 کو نظر انداز کرے
اگر مقدمہ چلا تو آگے چل کر فرد جرم  ضرورتبدیل ہوگی جس کی ضابطہ فوجداری میں پوری گنجائیش موجود ہے  اور فوجیوں سمیت  تمام ذمے داران کٹہرے میں موجود ہونگے
نہ صرف فوجی چین آف کمانڈ بلکہ وہ سارے سیاسی مداری اور مشرف کے  پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز زد میں ہونگے جبکہ 3 نومبر کے سپلیمنٹری مارشل لاء اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کے خلاف پہلے ہی فیصلہ سامنے آچکا ہے
یہ مقدمہ طویل عرصے چلے گا ۔ کم ازکم بھی دس سال تک  یہ مقدمہ چل سکتا ہے میری خصوصی عدالت سے درخواست ہے کہ  وہ اپنی معانت کے لیئے کم ازکم تین ایسے وکلاء یا ریٹائرڈ ججز کی خدمات حاصل کریں جو  فوجداری نظام پر گرفت رکھنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں

کیونکہ کریمنل جسٹس   پر عبور رکھنا ایک خداداد صلاحیت ہے ۔اور یہ خداداد صلاحیت کم لوگوں میں ہوتی ہے یہ ایک ایسی حیرت انگیز صلاحیت ہے جو سچائی کو پاتال سے بھی ڈھونڈ کر لے آتی ہے۔ میڈیا پر جو  قانونی ماہرین رائے دیتے نظر آتے ہیں ان کی اکثریت کو پتہ ہی نہیں کہ کریمنل جسٹس سسٹم کیا ہوتا ہے  12 اکتوبر کے اقدامات کو زیربحث لانا اس لیئے بھی ضروری ہے کیونکہ اگر خدانخواستہ کل پھر کوئی فوجی آئین پاکستان کو توڑنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کرکے  ججز سے پی سی او کے تحت حلف لینے کے بعد اگر ایک بار پھر  "بے توقیر"  عدالتی فیصلہ لے لے اور اس فیصلے کو ایک لنگڑی لولی اسمبلی سے آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دے دے تو پھر کیا ہوگا  مستقبل کے آمر کے  پاس تو صرف یہی دلیل ہوگی کہ عدالتیں اس طریقہ کار کے تحت مارشل لاء کی حمایت کرچکی ہیں اور وہ تاریخ سے شہادت پیش کرے گا کہ 12 اکتوبر کی فوجی بغاوت کے خلاف ایک منتخب حکومت نے نہ ہی آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کی اور  بند الفاظ میں حمایت کی 

Monday, 6 January 2014

لاء سوسائٹی پاکستان کیلئے میرا آخری بلاگ

لاء سوسائٹی کے  فیس بک  کےصفحے پر میرا یہ آخری بلاگ ہے۔
آزاد عدلیہ کسی بھی صورت میں  بدعنوان حکومت کے مفاد میں  نہیں ہوتی ۔ایک بدعنوان حکومت کو ایسی عدلیہ کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی کرپشن پر آنکھیں بند کرلے۔ اس کے بدلے میں حکومت عدلیہ کو بدعنوانی کے پھرپور مواقع فراہم کرتی ہے اور عدالتیں ان مواقع سے بھرپور فوائد حاصل کرتی ہیں۔  جیسا کہ مصر ،لیبیا اور ماضی قریب میں پاکستان  جہاں فوجی آمریت کو ہمیشہ عدلیہ نے تحفظ فراہم کیا اور ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا جب عدلیہ اور بدعنوان حکومت کا راستہ ایک ہوجائے توحکومت عدلیہ کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کرتی۔ اس کے بدلے عدالتیں بھی حکومت کیلئے کوئی مسائل پیدا نہیں کرتی ہیں ۔ لیکن جب عدلیہ مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرے تو حکومت  عدلیہ میں ہونے والی کرپشن کے حوالے سے ثبوت کے زریعے  بلیک میلنگ کرتی ہے۔جس کے بعد اکثر کچھ مزید لین دین کے بعد معاملات چل پڑتے ہیں۔کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال آزاد عدلیہ کے راستے میں ایک اہم رکاوٹ ہے ۔اگر عدلیہ کا اپنا دامن صاف ہوگا تو وہ بے خوف ہوکر فیصلے کرے گی
پاکستان میں عدلیہ کی بحالی کے بعد بظاہر ایک نئی عدلیہ نے جنم لیا۔لیکن عادتیں وہی پرانی ہی رہیں  جو کہ ختم نہیں ہوسکتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ جان جاتی ہے تو عادت جاتی ہے۔ بعض اوقات بدعنوانی کو بدعنوانی ہی نہیں سمجھا جاتا اور اکثر اوقات بدعنوانی ہمارے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔میرا مشاہدہ ہے کہ سندھ اور اسلام آباد ہایئکورٹ  میں بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال  مزاج کا حصہ بن گئی ہے (کے پی کے،بلوچستان اور پنجاب کا ہم مشاہدہ نہ کرسکے) اور عوام نے بھی اس  حق کو قبول بھی کرلیا ہے۔جب عوام کو اعتراض نہیں تو  کسی کو کوئی حق نہیں کہ ان کے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال  جو ہماری خاموشی کی وجہ سے ان کا حق بن چکی ہے کو روک سکے۔
ہم کسی حدتک کامیاب رہے۔بلاگ مسائل پر بات کرتا رہا اور مزید مسائل پیدا کرتا رہا۔ لیکن ہم  کسی سے ان کا حق چھین نہیں سکتے ۔ اس وقت سندھ ہایئکورٹ میں  ایک اہم پٹیشن زیر غور ہے جس کا تعلق  اختیارات کے ناجائز استعمال سے ہے۔ یعنی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی تعیناتی کے دوران صوبائی سلیکشن بورڈ  جو پانچ جسٹس  پر مشتمل ہے نے اختیارات کے ناجائز استعمال کے زریعے بددیانتی کی اور قوم کو دھوکہ دیا ۔عدالتیں عموماً ایسے مقدمات کا فیصلہ نہیں کرتی ہیں
جیسا کہ اصغر خان کیس  اس کی بہترین مثال ہے  
اسی طرح کا ایک اور مقدمہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان  نے اسلام آباد ہایئکورٹ میں ہونے والی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال  کے خلاف داخل کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس آئینی پٹیشن کا نمبر 01/2014 ہے یعنی   عدلیہ کے لیئے سال نو کا  آغاز ہی غلط ہوا ہے
عدالتیں اس قسم کے مقدمات کا فیصلہ نہیں کرتی ہیں ۔کیونکہ کرپشن اور  اختیارات کا ناجائز استعمال عدلیہ کا بنیادی حق ہے اور یہ ناجائز حق  پاکستان میں ہم سب نے ان کو دیا ہے۔ ویسے بھی اسلام آباد ہایئکورٹ میں ہونے والی کرپشن کا تعلق سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی ہے  اور بنچ کا ایک اہم طاقتور ممبر  بھی اس میں ملوث ہے۔  جبکہ بنچ کے ایک اور ممبر نے سندھ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز کی تعیناتی کے دوران اختیارات کے ناجائز استعمال  کے بعد ہونے والے ردعمل  کے بعد ریفرنس سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ میں جاکر اپنی جان بچائی۔کیونکہ سندھ میں بارکونسل نےہڑتال کردی تھی
مختصر یہ کہ  یہ دواہم مقدمات  ہیں جن کا فیصلہ کبھی نہیں ہوگا۔
ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ  سندھ  میں نئے صوبائی سلیکشن بورڈ جو کہ پانچ جسٹس حضرات پر مشتمل ہے کو اختیارات کے ناجائز استعمال کرکے سول جج لگانے  میں پریشانی ہورہی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صوبائی سلیکشن بورڈ کے پانچوں جسٹس اتنے بے بس اور مجبور ہیں کہ وہ ہمارے خلاف کاروائی بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے خلاف کاروائی کے بعد ان کو وہ اصول بھی بنانے پڑیں گے جو پاکستان کی چار ہایئکورٹس بنا چکی ہیں  اپنی "ویٹو" پاور کے تحفظ  کیلئے یہ کسی بھی قسم کو توہین برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں   اور یہ کسی بھی حد  تک جاسکتے ہیں کیونکہ اب صرف صوبہ سندھ ہی وہ واحد بدقسمت صوبہ ہے جہاں عدلیہ کو میرٹ کی بجائے سلیکشن بورڈ کو اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کا پورا پورا حق حاصل ہے جہاں ججز کے سلیکشن کیلئے کوئی باقاعدہ سلیبس موجود ہی نہیں  جہاں کوئی طریقہ کار موجود ہی نہیں ہے اور یہ منصوبہ بندی صرف اس لیئے کہ وہ  پانچ جسٹس صاحبان پر مشتمل سلیکشن بورڈ کرپشن کرسکے ،دھوکہ دے سکے اپنے اختیارات کا ایک بار پھر ناجائز استعمال کرکے خود ساختہ میرٹ بنا سکے   ہماری کامیابی  یہی ہے کہ سندھ ہایئکورٹ ہمارے خلاف نوٹس لے   ہمیں سزا دے لیکن اس کے بعد  صوبائی سلیکشن بورڈ کی ججز کی تعیناتی کیلئے  غیر اخلاقی  ویٹو پاور تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجایئگی
اگر میں برطانیہ میں عدلیہ کے خلاف ایسی بات کرتا۔ اگر میں امریکہ میں وہاں کی عدلیہ کے خلاف ایسی بات کرتا  اگر میں فرانس میں ایسی  بات کرتا  تو اس وقت کسی جیل میں سڑرہا ہوتا مہذب معاشروں میں عدالتوں  کےخلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جاتی۔ لیکن وہاں عدالتوں میں کرپشن بھی نہیں ہوتی ۔کیونکہ وہاں کے عوام ان کو کرپشن کی اجازت بھی نہیں دیتے ۔عدلیہ تو دور کی بات ایک مجسٹریٹ کی دیانت داری پر سوال اٹھاتا تو میرے لیئے پوری زندگی ایسی بات ایک مسئلہ  بن جاتی
پاکستانی  عدلیہ مجھے بھی جیل میں بھیج سکتی ہے توہین عدالت کی کاروائی کرسکتی ہے لیکن اس کیلئے ان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے جولکھا جھوٹ لکھا
سچ بولنے پر توہین عدالت نہیں ہوتی لیکن  ان تمام باتوں کے باوجود ہم اپنی جدوجہد کے اس حصے  کو ختم کررہے ہیں ۔ یعنی لاء سوسائٹی پاکستان کی جانب سے میرا یہ آخری بلاگ ہے
ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور انشاء اللہ ایک ایسی عدلیہ ہمارا مقدر ہوگی جیسا کہ  امریکہ، برطانیہ،فرانس اور دیگر  ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہیں  جہاں عدلیہ تو دور کی بات ایک سول جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا اور ان ممالک نے اپنی عدلیہ کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ  تعالی ٰنے  بنائے تھے ۔ جب تک عدلیہ میں کرپشن  اور اقرباء پروری ختم نہیں ہوتی جب تک عدلیہ میں اختیارات کا ناجائز استعمال ختم نہیں ہوتا  اس وقت تک عدلیہ آزاد نہیں ہوسکتی اور ایک آزاد عدلیہ کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا
میں ایک بار پھر توہین عدالت کا جرم کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ اسلام آباد ہایئکورٹ  میں ہونے والی کرپشن کے خلاف اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے جو پٹیشن داخل کی ہے  جس کا نمبر 01/2014 ہے کا فیصلہ کرنا سپریم کورٹ کیلئے ناممکن ہوگا   
اکیسویں صدی ہے ہم بھی یہیں ہے اور آپ بھی یہیں ہیں فرسودہ نظام کی جڑیں مضبوط ہیں اس کو ختم کرنا تو دور کی بات اس درخت کو ہلانا بھی بہت مشکل ہے
دوستو اس آخری بلاگ کے ساتھ خدا حافظ

Friday, 3 January 2014

دادا استاد تحریر صفی الدین اعوان

دادا استاد  
دادا استاد کی اصل وجہ شہرت ان کی وہ بے مثال اداکاری ہے جس کے جوہر وہ کورٹ روم میں اکثر دکھاتے ہیں وہ اداکاری حقیقت سے اتنی قریب تر ہوتی ہے کہ بڑے بڑے استاد ان کو اپنا استاد مانتے ہیں اور یہی وجہ شہرت ہے کہ ان کو دادا استاد کا لقب ملا دادا  نے یوں تو زندگی میں بے شمار کام کیئے لیکن تاریخ لینے میں جو ان کو مقام حاصل ہے وہ کسی اور استاد کو حاصل ہوہی نہیں سکتا
ایک بار نئی سینئر سول جج صاحبہ آئیں تو ان کو دادا کی فن کاریوں کا پتہ چلا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ایسی کی تیسی ہے دادا استاد کی دیکھتی ہوں کراچی کے اس دادا استاد کو کیسے تاریخ لیتا ہے میری عدالت سے پیش کار نے بتایا کہ  میڈم استاد واقعی استاد ہے  اور استادوں کا استاد ہےکل  ہی ایک کیس لگا ہوا ہے استاد کا اس میں وہ مسلسل تاریخ لے رہا ہے کیس نہیں چلاتا   خاتون جج نے کہا کہ کل استاد کی ساری استادیاں نہ نکالیں تو پھر کہنا
مختصر یہ کہ استاد قابو نہ آیا مصروف تھے ہایئکورٹ میں  جونیئر تاریخ لیکر کھسک گیا اسی طرح تاریخیں چلتی رہیں
استاد کی بدقسمتی کہ ایک دن وہ  قسمت  سےتشریف لے ہی آئے  پیش کار نے  اشاروں میں بتایا کہ یہی دادا استاد ہے سینئر سول جج صاحبہ جو مہینوں سے خار کھائے بیٹھی تھیں استاد کو نظروں ہی نظروں میں تولا
دادا استاد ساری صورتحال سے بے خبر حاضری لگوا کر کھسکنے کی ہی لگے تھے کہ 
سینئر سول جج صاحبہ الرٹ ہوگئی مدعی مقدمہ نے بتایا کہ یہ مقدمہ کئی سال سے لٹکا ہوا ہے آج وکیل صاحب تشریف لے آئے ہیں  ان کے فائینل دلائل سن کر  اس کا فیصلہ کرہی دیں
دادا نے بہت بہانے بنائے لیکن جج صاحبہ  مہینوں سے خار کھائے بیٹھی تھیں  کہ قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں دادا کے سارے حربے سارے بہانے ساری چالیں ناکام ہوگئیں  کورٹ روم میں اور استاد بھی موجود تھےایک لمحے کیلئے دیگر استادوں کو محسوس ہوا کہ آج تو استاد پھنس  ہی گیا
آج تو کوئی بہانہ نہیں چلے گا ہرصورت میں مقدمہ چلانا ہی چلانا ہے آپ کو
ابھی بحث چل ہی رہی تھی کہ آج وہ کس وجہ سے مقدمہ نہیں چلارہے تو  اچانک مدعی بول پڑا کہ وکیل  نے اپنی پارٹی سے پیسے لئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کیس نہیں چلارہا
یہ سن کر دادا استاد نے پیچھے مڑ کر مدعی مقدمہ کی طرف دیکھا  چشمہ اتارا ۔سامنے پڑے ٹیبل پر رکھا اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔
کورٹ روم میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ کیونکہ دادا کا بہر حال ایک مقام تو ہے
دادا استاد پانچ منٹ اسی طرح صدمے کی حالت میں سر پکڑ کر بیٹھے رہے کبھی چشمہ پہن لیتے کبھی اتار دیتے اور کبھی چشمہ اتار کر آنکھیں ملنا شروع کردیتے   یوں محسوس ہورہا تھا کہ ان کا جسم آہستہ آہستہ جھٹکے لے رہا ہے۔ یوں لگتا تھا کہ ان کا بلڈ پریشر قابو سے باہر ہوچکا ہے
اچانک کھڑے ہوئے اور کہا جج صاحبہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج میری وکالت کے پچیس سالوں پر کسی نے پانی پھیر دیا ہے اس شخص نے یہ چند الفاظ بول کر میری زندگی کے وہ پچیس سال مجھ سے چھین لیئے ہیں  جو میں نے بہت مشکل سے بنائے تھے
پچیس سالوں میں آج تک کسی نے میرے متعلق ایسے الفاظ نہیں کہے اس شخص نے یہ الفاظ بول کر مجھے صحرا میں کھڑا کردیا ہے
کورٹ روم بھرا ہواتھا   اور ایک دم سناٹا چھایا ہوا تھا
کورٹ میں ایک ہی آواز بار بار گونج رہی تھی میری زندگی کے پچیس سال۔پچیس سال میری زندگی کے آج خاک میں مل گئے آج میں خالی ہاتھ کھڑا ہوں میرے اثاثہ لٹ چکا ہے انسان کے پاس ہوتا ہی کیا ہے میرا اثاثہ ہی کیا تھا  میرا کل اثاثہ ہی وہ پچیس سال تھے جو آج عدالت کے سامنے اس شخص نے لوٹ لیا ہے
دادا استاد کبھی بیٹھ جاتا کبھی کھڑا ہوجاتا کبھی کورٹ روم میں ہی چلنا شروع کردیتا  میری زندگی کے پچیس سال کہاں چلے گئے میں آج  ایک شخص نے چند الفاظ بول کر چھین لیئے ہیں میرے پاس تھا ہی کیا میرا کل اثاثہ پچیس سال ہی تو تھے
دادا کی آواز کھڑک سنگھ کی طرح گونج رہی تھی 
عدالت اندازا نہیں لگا سکتی کہ میں کس تکلیف سے گزر رہا ہوں کس قدر ازیت ناک ہوتا ہے اس شخص کیلئے جب اس سے اس کی زندگی کے پچیس قیمتی سال چھین لیئے جایئں
یہ کہہ کر دادا استاد چشمہ سامنے رکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گیا
جج صاحبہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ایسا کریں آج تاریخ لے لیں مقدمہ پھر چلالیں گے
دادا استاد نے کہا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا جس شخص سے اس کی پیشہ ورانہ زندگی کے پچیس سال چھین لیئے جایئں اس کی اذیت کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا جو مرضی آئے تاریخ دے دیں مجھے اب اپنی زندگی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی میرا دماغ کام ہی نہیں کررہا
خاتون جج صاحبہ نے  ایک ماہ کی تاریخ دے دی
دادا استاد خاموشی سے اٹھے پیچھے مڑکر مدعی مقدمہ کو ایک طنزیہ قسم کی بھرپور آنکھ ماری  خاتون جج صاحبہ کی طرف مسکرا کر دیکھااور  کورٹ روم سے باہر نکل گئے
 سینئر سول جج صاحبہ حیرت  سے دیکھتی رہ گئیں اور سب  ڈرامہ سمجھنے کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ گئیں

تحریر :: صفی الدین اعوان

عظیم البرکت عظیم المرتبت سابق چیف جسٹس کی شان میں گستاخی پر ایک لاکھ روپیہ نقد جرمانہ عائد

اسلام آبادہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سیکیورٹی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا کہ ایک ہفتہ کے اندر افتخار محمد چوہدری کو بلٹ پروف گاڑی اور مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے ، اگر ایسا نہیں کیاگیا تو حکم جاری کیا جائے گا کہ تمام وی آئی پیزاپنی بلٹ پروف گاڑیاں جمع کرادیں۔ اسلام آبادہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے سامنے ہی ایک دوسری درخواست آئی جس میں کہا گیا کہ اسی قسم کی سیکیورٹی تمام سابق چیف جسٹس صاحبان کو دی جائے اور وہی حکم جاری کیا جائے جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیلئے جاری کیا گیا، لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کو مستردکرتے ہوئے درخواست دینے والے کے خلاف ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنادی

اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے" کیدو" کا رول ادا کرکے کالی شیروانی والے فرشتوں کو امتحان میں ڈال دیا

آج بالآخر  پاکستانی میڈیا نے عدلیہ کی کرپشن کے حوالے سے چپ کا روزہ توڑ دیا او ر انکشاف کیا ہے کہ   اسلام آباد ہایئکورٹ نے کرپشن لوٹ مار فراڈ دھوکے بازی کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں آج  آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن نمبر 01/2014 داخل کی گئی ہے جس میں ان دھوکے بازیوں کی نشاندہی کی گئی ہے
ہائی استغفار ۔۔۔۔ہائی استغفار
لیکن مجھے زیادہ افسوس اس کا ہے کہ اسلام آباد ہایئکورٹ نے کرپشن کے حوالے سے ایک اور ہایئکورٹ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اکثر ججز خود بھی اسلام آباد ہایئکورٹ کی بہتی گنگا سے ہاتھ دھوتے رہے ہیں    اپنے بھانجے بھتیجے داماد وغیرہ وغیرہ  بھرتی کروائے گئے اور خوب دبا دبا کے دودھ پیا ہے وہ بھی تازہ ۔۔۔کیا ان کیلئے ممکن ہوگا کہ وہ انصاف کرسکیں  جسٹس وجیہہ الدین صاحب تو فرماگئے آج ایک پروگرام میں کہ پورے ملک کے تمام اداروں نے  قواعد سے ہٹ کر تقرریاں کی ہیں
جس طرح منہ بنا کر سپریم کورٹ میں کالی شیروانیاں لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں  کبھی کبھی مجھے خود بھی ان کی پارسائی پر یقین ہونے لگتا ہے  کہیں انصاف کرہی نہ دیں
اللہ خیر کرے
اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان نے عدلیہ کیلیئے کس طرح کیدو کا کردار ادا کیا ہے اس کی مکمل تفصیلات جیو ٹی وی کے پروگرام آج کامران خان کے ساتھ میں یوں پیش کی ہے
جیو کے پروگرام ’’آج کامران خان کے ساتھ‘‘ میں تجزیہ کرتے ہوئے میزبان کامران خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرریوں میں میرٹ کی خلاف ورزی اور خریداری میں سنگین بے ضابطگیوں اور اقربا پروریوں کے سنگین ترین الزامات لگائے گئے ہیں۔پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ پر ایک سرکاری ادارے کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات بہت پریشان کن ہیں۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچ گیا ہے اور اب اعلیٰ عدلیہ ان الزامات کے حوالے سے اپنا دفاع سپریم کورٹ آف پاکستان میں کرے گی جو اگر صحیح ثابت ہوتے ہیں تواس کے بہت دور رس اثرات ہوںگے۔ ملک کے کسی بھی سرکاری ادارے میں اگر میرٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے، خریداری میں بے ضابطگیاں ہوتی ہیں، نظام شفاف نہیں ہوتا تو اس کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ سے احکامات اورسخت ریمارکس سامنے آتے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ الزامات کا رخ اعلیٰ عدلیہ کی طرف ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بہت نازک صورتحال سامنے آرہی ہے، اکائونٹنٹ جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پچھلے تین سال میں کی جانے والی تقرریاں میرٹ کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جو خریداریاں کی گئی ہیں وہ سنگین بے ضابطگیاں ہیں اور اقربا پروری کھلے عام اسلام آباد ہائیکورٹ میں نظر آرہی ہے۔ کامران خان نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ پر ایک سرکاری ادارے کی جانب سے سامنے آنے والے الزامات بہت پریشان کن ہیں اور اس کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ گزشتہ کئی برسوں سے فعال نظر آتی ہے اور اس کے کئی احکامات ایسے ہیں جن پر حکام کے خلاف انہی الزامات کے تحت کارروائی کی گئی ہے جو اب خود اس پر لگائے جارہے ہیں۔ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچ گیا ہے اور اب اعلیٰ عدلیہ ان الزامات کے حوالے سے اپنا دفاع سپریم کورٹ آف پاکستان میں کرے گی جو اگر صحیح ثابت ہوتے ہیں تواس کے بہت دور رس اثرات ہوںگے۔ اکائونٹنٹ جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں عائد کئے گئے الزامات کے بارے میں کامران خان نے بتایا کہ اس رپوررٹ میں کہا گیا ہے کہ 2010ء میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی تنظیم نو کے بعد کسی ایک بھی افسر کی تقرری میرٹ پر نہیں کی گئی، کئی افسران کی تقرریوں میں قواعد وضوابط میں نرمی برتی گئی، کئی افسران کے ٹرانسفر میں قواعد کو سامنے نہیں رکھا گیا اور کئی کو بغیر کوئی وجہ ظاہر کئے ان کے اصل سرکاری گریڈ سے کئی درجے اعلیٰ گریڈ پر تعینات کردیا گیا، اسامیوں کی ذرائع ابلاغ میں تشہیر نہیں کی گئی تاکہ میرٹ پر ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد افسران کی تعیناتی ہوسکے، یہ تمام تقرریاں غیرقانونی طریقے سے کی گئیں۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کے لئے تین گھر کرائے پر حاصل کئے گئے تھے، ججو ں کو سرکاری رہائش گاہ مہیا کرنے کے باوجود ہر متعلقہ جج کو 65 ہزار روپے ماہانہ الائونس بھی جاری ہوتا رہا۔ جولائی 2010ء سے جون 2013ء تک ایک کروڑ 74 لاکھ روپے سے زائد بچے ہوئے فنڈز حکومت کو واپس نہیں کئے گئے۔ جون 2012ء میں بغیر ٹینڈر جاری کیے ڈیڑھ لاکھ کے بے جا اخراجات کئے گئے، قواعد کے تحت ایک لاکھ سے زائد کی خریداری کو مشتہر کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس شرط سے بچنے کیلئے اخراجات کی دو مختلف درجہ بندیاں کردی گئیں۔ 28مئی 2011ء کو 24 کے وی اے کے جنریٹر کی خریداری کے لئے اشتہار دیا گیا لیکن قواعد کے خلاف 27 کے وی اے کا جنریٹر خریدا گیا، 11 لاکھ 67 ہزار کی سب سے کم بولی کو نظرانداز کر کے جنریٹر 14 لاکھ سے زائد قیمت پر خریدا گیا۔ پیپرا رولزکے برخلاف ٹینڈرجاری کئے بغیر 2011ء سے 2013ء کے درمیان 6 لاکھ 30 ہزار سے زائد مالیت مصنوعات کی بے جا خریداری کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ وزارت قانون کے 15گریڈ کے اسٹینوگرافر ایس ایم طارق چنا کو 28 مارچ 2008ء کو ہائیکورٹ میں پرسنل اسسٹنٹ کی پوسٹ پر میرٹ کے برخلاف ٹرانسفر کیا گیا، یہ صاحب گریڈ 19تک ترقی پاگئے جبکہ ہائیکورٹ کے کئی افسران کو سرکاری گاڑی کی سہولت حاصل نہ ہونے کے باوجود گاڑیاں دی گئیں۔ کامران خان نے تجزیے میں مزید کہا کہ اسلام آبادہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سیکیورٹی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا کہ ایک ہفتہ کے اندر افتخار محمد چوہدری کو بلٹ پروف گاڑی اور مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے ، اگر ایسا نہیں کیاگیا تو حکم جاری کیا جائے گا کہ تمام وی آئی پیزاپنی بلٹ پروف گاڑیاں جمع کرادیں۔ اسلام آبادہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے سامنے ہی ایک دوسری درخواست آئی جس میں کہا گیا کہ اسی قسم کی سیکیورٹی تمام سابق چیف جسٹس صاحبان کو دی جائے اور وہی حکم جاری کیا جائے جو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیلئے جاری کیا گیا، لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس درخواست کو مستردکرتے ہوئے درخواست دینے والے کے خلاف ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنادی۔