Saturday, 16 August 2014

نااہلی ایک سنگین جرم ہے تحریر صفی الدین اعوان


مزدور کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا تو مزدور کی نوماہ کی حاملہ بیوی پولیس کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگئی اور بے ہوش ہوکر گرگئی جس کے بعد اس کو ہسپتال لے گئے جہاں اس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا  البتہ مزدور کی بیوی کی جان کو بچالیا گیا
اسی دوران کراچی کے تھانہ سرجانی کی پولیس نے مزدور کوگرفتار کرلیا
فیکٹری کا مالک جو اصل ملزم تھا اس  نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی  
کاپی رائٹ کے تحت ایک فیکٹری مالک نے دوسرے فیکٹری مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی جس کے بعد پولیس نے بلال نامی مزدور کے گھر پر چھاپہ مارا تھا
سرجانی تھانہ پولیس نے ملزم کا ریمانڈ علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اب ایک نئے مسئلے نے جنم لیا  مجسٹریٹ ایماندار تھا
اور ہمارے بلاگ کے قارئین کو یقینناً یہ بات اب حفظ ہوچکی ہوگی کہ  ایماندار جج یا مجسٹریٹ کس کو کہا جاتا ہے  ایماندار سے مراد وہ ناسور ہے جس کو عدالتی کام نہیں آتا یا وہ کسی کا بھی کوئی کام نہ کرتا ہو تو ایسے ناسور اپنی نااہلی چھپانے کیلئے اپنی نالائقی پر پردہ ڈالنے کیلئے ایمانداری کا لبادہ اوڑھ کر عدالت میں نت نئے تماشے لگاتے ہیں 
خیرپولیس نے ریمانڈ پیش کیا مجسٹریٹ نے ملزم کے ریمانڈ پیپر پڑھے بغیر اور سوچے سمجھے بغیر ملزم کو جیل روانہ کردیا کیونکہ  اس کیلئے کامن سینس کی بھی ضرورت ہوتی ہے جوکہ تھی ہی نہیں ایماندار ناسور کے علم میں وکیل صفائی یہ بات لیکر آئے کہ کاپی رائٹ آرڈیننس 2001 کے بعد اس قسم کے مقدمات میں اب  ایک شکایت رجسٹرار کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اس لیئے مزدور کو رہا کیا جائے ویسے بھی یہ فیکٹری کا عام مزدور ہے اصل ملزم تو  فیکٹری کا مالک ہے نئے قوانین کے مطابق کیس بنتا ہی نہیں ہے لیکن وہ ناسور ایماندار ہی کیا جو بقراط نہ ہو  اور اس ناسور کی ایمانداری سے کسی انسان کو فائدہ پہنچ جائے  اور وہ ناسور ایماندار ہی کیا جو جو کسی انسان کا کام  وقت پر کردےایماندار ناسور نہیں مانا
دوسرا انسانی مسئلہ یہ پیدا ہوگیا کہ اس مزدور کی بیوی نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا  اس کا جنازہ  اور کفن دفن کیسے ہو  کیونکہ نومولود کے والدکو تو ایک  ایماندار جج نے  پولیس کے ساتھ ملی بھگت کرکے جیل بھیج دیا تھا گھر میں بچے کے کفن دفن کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں اس لیئے  بچے کی لاش ایدھی سرد خانے میں رکھوادی ایماندار کے سامنے ضمانت کی درخواست جمع کروائی گئی تو اس نے کہا کہ  وکیل صاحب اس کی باقاعدہ سماعت ہوگی دن مقرر ہوگا عدالتوں میں انسانی مسئلے کوئ اہمیت نہیں رکھتے بچہ ہی مرا ہے نہ کوئی آسمان تھوڑا ہی ٹوٹا ہے۔۔۔خیر سماعت ہوئی جج نے ضمانت کی درخواست منظور کرلی اب ہفتے کا دن بینک بند۔۔۔ایماندار کے سامنے پھر ایک مدعا رکھا کہ بینک بند ہیں   ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ پیش نہیں کیئے جاسکتے گاڑی کے اوریجنل کاغزات موجود ہیں وہ بطور ضمانت جمع کرلیں وکیل صفائی نے کہا کہ میں اسٹیٹمنٹ دے دیتا ہوں کہ یہ کاغذات اوریجنل ہیں  اس لیئے ملزم کو رہا کردیا جائے تاکہ وہ اپنے بیٹے کا کفن دفن کرسکے


 ایماندار نے کہا کیونکہ عدالتوں میں جعلی کاغزات جمع ہوتے ہیں اس لیئے اس کی ویریفیکیشن لازمی ہوگی  مجسٹریٹ کو بہت کہا کہ ملزم پر کوئی سنگین کیس نہیں ہے کیس کی نوعیت ایسی ہے نہیں کہ یہ ملزم فرار ہوجائے و یریفیکیشن کی ضرورت سنگین نوعیت کے کیسز میں اس لیئے محسوس ہوتی ہے  کہیں ملزم بھاگ ہی نہ جائے

لیکن وہ ایماندار ہی کیا جو کسی کاکام کردے مختصر یہ کہ دودن انتظار کے بعد کاغزات تصدیق ہوکر آگئے تو ایماندار نے چھٹی مارلی اور دودن کے بعد عدالت میں آکر بدھ کے دن ملزم کی رہائی کے احکامات جاری کیئے اس طرح  وہ ملزم دس دن جیل میں رہا اور اس کے نومولود بچے کی لاش ایدھی کے سرد خانے میں نودن تک اپنے  باپ کی رہائی کا انتظار کرتی رہی  شام کو باپ رہا ہوکر آیا تو سب سے پہلے اپنے بچے کی آخری رسوم ادا کیں
بدقسمتی دیکھیں کہ اصل ملزم جیل گیا ہی نہیں اور پولیس نے ایک غریب مزدور کو کاپی رائٹ کے ایسے کیس میں دھر لیا جس میں نئے قوانین کے مطابق اب ایف آئی آر بنتی ہی نہیں ہے بلکہ متعلقہ رجسٹرار کے پاس  کمپنی یا فیکٹری کے خلاف شکایت درج ہوتی ہے اس کیس میں سزا تین سال ہے اور اس کی نوعیت دیوانی نوعیت کی ہے جس کیلئے ٹریڈمارک اور کاپی رائٹ کے رجسٹرار موجود ہوتے ہیں
اگر کوئی پڑھا لکھا تربیت یافتہ  مجسٹریٹ اس سیٹ پر موجود ہوتا  اور اس کو نئے قوانین سے آگاہی ہوتی تو کبھی بھی اس مزدور کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ دھکیلتا اور اگر جیل بھیجنا ضروری بھی ہوتا تو اس کے نومولود بچے کی موت کے بعداگر وہ مجسٹریٹ کوئی انسان ہوتا تو فوری طورپر اس کو کسی کی ذاتی ضمانت پر بھی چھوڑ دیتا۔لیکن وہ انسان نہیں تھا ایک انسان کیسے اتنا ظالم ہوسکتا ہے کہ ایک معمولی نوعیت کے جرم میں زیرحراست شخص کو صرف اپنی جہالت کی وجہ سے رہا نہ کرے اس حالت میں کہ اس کے بچے کی لاش ایدھی کے سرد خانے میں اپنے باپ کی رہائی کی منتظر ہو
ان تمام ایماندار ججز سے معذرت جو اپنی ڈیوٹی ایک مشن سمجھ کرکرتے ہیں اور ہروقت انسانیت کی فلاح کیلئے کوشاں رہتے ہیں
عید یہ بات ہمیشہ کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا کہ جوایماندار وقت پر کام نہیں کرتا اس سے وہ 
رشوت لینے والا جج ہزار درجے بہتر ہے جو پیسے تو لیتا ہے لیکن کام تو فوری طور پر کردیتا ہے

نااہلی ایک ایسا جرم ہے جس کی سنگینی کا ہم کبھی بھی اندازہ نہیں لگا سکیں گے 

Monday, 11 August 2014

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قائم سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کے نام درخواست


آج بروز 12 اگست کو چیف جسٹس پاکستان کے قائم کردہ بنچ میں ٹرینیٹی چرچ  صدر کے معاملے پر ایک درخواست دے رہے ہیں کہ  بنچ اس معاملے کی مکمل انکوائری کروائے اس بات کی بھی انکوائری کروائی جائے کہ ایک بے گناہ شخص کو کس بنیاد پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے 15 دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رکھا اس بات کی بھی انکوائری کروائی جائے کہ وہ کونسی خفیہ طاقت تھی جو مجسٹریٹ کو ضمانت کے احکامات جاری کرنے سے روک رہی تھی؟
کیا جوڈیشل مجسٹریٹ کو عدالت میں پیش ہونے سے روکا جارہا تھا ۔آخر کیا وجہ تھی کی وہ  بشپ اعجاز کے کیس کی سماعت والے دن ہی کورٹ سے غیر حاضرہوجاتا تھا؟
آخر کیا وجہ تھی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ  جب غیر حاضر ہوتا تھا تو بشپ اعجاز کی فائل بھی گھر لے جاتا تھا؟
اس بات کی بھی انکوائری کروائی جائے کہ جب قبضہ مافیا کی جانب سے یہ معاہدہ سامنے آیا کہ اس معاہدے کے بدلے پلازہ بنانے کیلئے چرچ کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی زمین ان کے حوالے کی جائے تو مجسٹریٹ نے اس معاہدے کو جعلی اور فراڈ تو قرار دیا لیکن اسی وقت بشپ اعجاز کی رہائی کے احکامات کیوں نہیں جاری کیئے اور ایک بے گناہ شخص کو کس کی خفیہ ہدایت پر جیل میں بند رکھا اور کیوں معاملات اس قدر خراب ہوگئے کہ اقلیتی برادری  کو عدالت میں ہی احتجاج پر مجبور ہونا پڑا ۔اور سیشن جج کی مداخلت پر معاملہ ٹھنڈا ہوا اور حالات اسقدر کیوں خراب ہوئے کہ  خدانخوستہ اگر لوگ مشتعل ہوکر کورٹ ہی کو آگ لگا دیتے تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟
اس کیس کی پولیس رپورٹ   میں زیردفعہ 173 کی خلاف وزی کیوں ہوئی اور تاحال تفتیشی افسر کے خلاف نوٹس کیوں نہیں لیاگیا اور 25 جولائی کو جب تفتیشی افسر پولیس رپورٹ جمع کرانے میں ناکام رہا تو اسی دن بشپ اعجاز کو رہا کیوں نہیں کیا گیا اور اس کو مزید 10 دن کیوں جیل میں بند رکھا گیا
2005 سے لیکر آج تک  اس چرچ سے منسلک افراد پر جو بھی مقدمے بازی ہوئی اس کی مکمل تفصیلات کورٹ طلب کرے اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج ساؤتھ  عبدالقدوس میمن کی کورٹ میں جو کیسز زیرسماعت ہیں ان کا ریکارڈ طلب کیا جائے
بحیثیت مسلمان اور پاکستانی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری مشترکہ زمہ داری ہے ان کی جان مال اور زمین کا تحفظ ہماری مذہبی قانونی اور آئینی ذمہ دار ہے
سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق  جیلانی نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جو تاریخی حکم نامہ جاری کیا اور اس کے مطابق ایک تین رکنی بینچ تشکیل دیا  وہ ایک سوالیہ نشان ہے کیا وہ ججمنٹ ہم لائیبریری میں سجاکر رکھ لیں یا اس پر عمل درآمد بھی ہوگا؟
اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قائم سپریم کورٹ کا بنچ اس بات کی بھی تحقیقات کرے کی کراچی کے ٹرینیٹی چرچ صدر کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی زمین پر قبضے کو روکنے کیلئے مستقل  بنیادوں پر کیا اقدامات کیئے گئے ہیں

Safiudin Awan

Sunday, 10 August 2014

ٹماٹر کے بدلے چرچ کا مقدمہ


20 جولائی 2014 کو ایک حساس نوعیت کا کیس میرے پاس آیا معاملے کا تعلق اقلیتوں کے حقوق سے تھا اور قبضہ گروپ کراچی کے اہم ترین کاروباری علاقے میں موجود چرچ کی اربوں روپے کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اس سلسلے میں ایک انتہائی مضحکہ قسم کا کیس چرچ کے عہدیداران پر قائم کیا گیا تھا۔ایک پادری ایک کاروباری معاہدہ کا ضامن تھا جس کے تحت دو کروڑ روپے کے ٹماٹر سپلائی کرنا تھے اور اگر معاہدے کے مطابق ایسا نہ ہوتا تو "ٹرینیٹی چرچ" صدر کی اربوں روپے کی قیمتی زمین اس معاہدے کے بدلے میں دینی تھی دوسرے الفاظ میں ٹماٹر کے بدلے چرچ دینے کا معاہدہ تھا مرکزی ملزم نے ضمانت قبل گرفتاری کروالی تھی اور معاہدے کا ضامن پادری پولیس کی حراست میں تھا
جب متعلقہ  کورٹ کی معلومات لیں تو پتہ یہ چلا کہ "جج" انتہائی ایماندار ہے یہ سن کر میں نے اپنے کلائینٹ سے کہا کہ آپ کوئی اور وکیل دیکھ لیں میں ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی کے کیسز اول تو لیتا ہی نہیں ہوں اور مجبوراً لینا بھی پڑجائے تو ایماندار جج کا کیس نہیں لیتا کیونکہ بلاوجہ آپ کو بھی تکلیف ہوگی اور مجھے بھی  اس لیئے آپ کو پہلے ہی آگاہ کررہا ہوں کہ آپ کا کام نہیں ہوگا کیونکہ جج ایماندار ہے وہ کام نہیں کرے گا
یہ سن کر میرے کلائینٹ کو سخت ترین مایوسی ہوئی اور کہا کہ کہ یہ کیسا اصول ہے کہ ایماندار جج کی عدالت کا کیس نہیں لیتے ہم تو ویسے بھی بے گناہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک تو ایماندار جج کام نہیں کرتے کیونکہ ان کو کام آتا ہی نہیں ہوتا دوسرا یہ کہ کورٹ کی فائل پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور معاملے کو بلاوجہ لٹکا کہ رکھتے ہیں یہ جج آپ کا کام کبھی بھی نہیں کرے گا بہتر ہے پولیس والوں سے ہی معاملات سیٹ کرلو تو زیادہ بہتر ہے تیسری بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کا بے گناہ ہونا ایک الگ سے جرم ہے
مختصر یہ کہ دوسرے دن ریمانڈ پیش ہوا کلائینٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹس سے ہی ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں اس کو اس کی پروفیشنل فیس ادا کی   شام کو میرے کلائینٹ میرے آفس میں موجود تھے اور پرجوش ہورہے تھے کہ جج تو و اقعی  ایماندار ہے سب یہی کہہ رہے تھے کہ رشوت بالکل بھی نہیں لیتا
میں نے کہا کہ اس کے کورٹ اسٹاف نے آدھی بات آپ کو بتائی ہے وہ نہ ہی رشوت لیتا ہے اور نہ ہی کسی کاکام کرتا ہے چاہے جائز ہو یا ناجائز کیوں؟ کیوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایماندار ہے میں نے کہا کہ اب پوزیشن کیا ہے کلائینٹ نے بتایا کہ کل ضمانت کی درخواست جمع کروادیں گے اس کے بعد سماعت ہوگی اور امید ہے کہ ضمانت ہوجائیگی
خیر ضمانت کی درخواست جمع ہوگئی اگلے دن سماعت ہوگئی جج نے ملزم کو بے گناہ قرار دیا کاروباری معاہدہ جو دوکروڑ کا تھا جج نے رجسٹر نہ ہونے اور باقاعدہ نوٹری نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکوک قرار دیا اور سماعت کے دوران ہی کہا کہ اس مشکوک معاہدے کو ایک طرف رکھ دو   اس کاغذ کی کوئی اہمیت نہیں میرے کلائینٹ پرجوش ہورہے تھے کہ ان کی تو لاٹری لگ گئی ایماندار جج کے پاس کیس چلاگیا کیس جھوٹا ہے اور جج بھی مکمل حمایت کررہا ہے اس لیئے ان کاکام تو ہوہی جایئگا
خیر جس دن آرڈر ہونا تھا جج صاحب نے "پراسرار "طور پر چھٹی مارلی کیس دودن بعد آرڈر پر چلاگیا اگلے دن جج آیا اور آرڈر والے دن پھر  "پراسرار" طور پرچھٹی مارلیتا ہے
اب کلائینٹ کو ہوش آگیا کہ یہ معاملہ ہی کچھ اور ہے  وہ شام کو روتے پیٹتے آگئے کہ ہم تو اس ایماندار جج کی وجہ سے برباد ہوگئے نہ یہ ضمانت دے رہا ہے نہ ہی مسترد کررہا ہے بلکہ جس دن آرڈر کرنا ہو اسی دن چھٹی مارلیتا ہے اور فائل بھی ساتھ ہی گھر لے جاتا ہے یہ کیا ڈرامہ ہے اسی دوران 15 دن گزرگئے
5 اگست کو مجھے کلایئنٹ ملنے آئے وکیل ساب آپ تو مہان ہیں آپ نے تو ہمیں پندرہ دن پہلے ہی بتادیا تھا کہ ایماندار جج کسی کاکام نہیں کرتے اب آپ کے پاس اس صورتحال کا کوئی نہ کوئی حل تو ہوگا میں نے کہا بالکل ہے تو بتاتے کیوں نہیں میں نے کہا آپ نے پوچھا ہی کب تھا آپ تو خود ہی ایمانداری کے جھانسے میں آگئے
خیر 5 اگست کو پھر کیس کی سماعت تھی ایماندار جج نے کہا کہ مجھے پرانے دلائل بھول گئے ہیں اس لیئے دوبارہ دلائل دیئے جائیں جس پر فریقین کے وکلاء نے دوبارہ دلائل پیش کیئے  ایماندار ناسور ایک بار پھر آرڈر کیلئے کیس رکھنا ہی چاہ رہا تھا کہ اقلیتی برادری کا ایک ہجوم کورٹ کے احاطے میں داخل ہوگیا کچھ ناقابل اشاعت قسم کے معاملات ہوئے تھوڑی دیر میں ہی معاملہ ڈسٹرکٹ جج احمد صبا کے پاس پہنچ چکا تھا
شام کو ایک بار پھر کلایئنٹس میرے سامنے موجود تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب کچھ کامیابی کے آثار نظر آنا شروع ہوچکے ہیں اگر کل بھی اس ایماندار نے  کام نہ کیا تو کل شاید ہم کورٹ کو ہی آگ لگادیں میں نے کہا کہ اب کام ہوجائے گا
خیر اگلے دن ضمانت کی درخواست منظور ہوگئی
لیکن میرے لیئے ان لوگوں کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا جو پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پر کام کررہے ہیں ایک نے پوچھا کہ وہ تصدق جیلانی کے تاریخی فیصلے کا کیا ہوا جو پشاور کے خود کش حملے بعد "سوموٹو" ایکشن کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے صادر کیا تھا اور وہ بینچ کہاں گیا جس ان معاملات پر نظر رکھنی تھی
میں نے کہا کہ تصدق جیلانی نے واقعی ایک تاریخی آرڈر کیا ہے لیکن شاید وہ اپنے ہی گھر کی کمزوری کا ذکر کرنا بھول گئے  کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ماتحت عدلیہ میں کوئی اہمیت ہے ہی نہیں اسی طرح چیف جسٹس پاکستان کی ماتحت عدلیہ میں کسی قسم کی کوئی عزت نہیں  اس لیئے اقلیتوں کیلئے جو اچھے اچھے فیصلے سامنے آرہے ہیں ان کو کسی الماری میں سجا کر رکھ لیں اور اگر کوئی دل جلا پڑھنا چاہے تو یہ فیصلہ آن لائن بھی موجود ہے اردو اور انگلش دونوں زبان میں
لنک مندرجہ ذیل ہے
http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=1857
ایک نے کہا کہ یہ جو ہمارے چرچ کے پادری کو عدالت نے بلاوجہ 15 دن غنڈہ گردی اور بدمعاشی سے جیل کی سلاخوں میں بند رکھا ہے اس کا کون ذمے دار ہے
میں نے کہا کہ یہ باتیں قبل از وقت ہیں سب سے پہلے اس بینچ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے سامنے معاملات لیکر آتے ہیں جس کے بعد کوئی رائے قائم کی جائیگی
ایک نے کہا کہ مرشد کے پاس کیوں نہیں درخواست لیکر جاتے
میں نے کہا کہ مرشد کو چرس اور اعلٰی کوالٹی کا گانجہ پینے ہی سے فرصت ملے گی تو تب کام ہوگا وہ تو روزانہ صبح سویرے چھٹانک بھر چرس کے دم لگا کر اپنے سارے غم مٹا لیتا ہے  اس لیئے اس کودرخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے
خیر پاکستان میں اقلیتوں پر جو بھی مظالم ہورہے ہیں مذہبی معاملات کے ساتھ ساتھ قیمتی جائداد بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اور ہماری ناکام اور نااہل عدلیہ ان مظالم میں برابر کی شریک ہے 

Saturday, 2 August 2014

جوڈیشل مجسٹریٹ کانفرنس وقت کی اہم ضرورت

ہمارے وہ تمام دوست اور احباب جو جوڈیشل مجسٹریٹس کو "بے اختیار" سمجھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ہرگز ہرگز  بے اختیار نہیں جیسا کہ تصور کرلیا گیا ہے اتنا ضرور ہے ہے کہ بحیثیت ایک برٹش کالونی   کے چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی موجود تھے جن کو انتظامیہ استعمال کرتی تھی اصولی طور پر انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات اکٹھے نہیں ہوسکتے اس لیئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی کوئی پولیس نہیں ہوتی اور پولیس کی کوئی عدالت نہیں ہوتی لیکن یہ صرف مہزب ممالک کیلئے ہے 


انتظامیہ کی عدلیہ سے علیحدگی ایک زمانے میں بہت بڑا نعرہ تھا  کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے تفتیش میں بے جا اور ناجائز مداخلت ہوتی تھی اسی وجہ سے اعلٰی عدالتوں کے فیصلہ جات  جن کا تعلق تفتیش میں مداخلت سے ہے وہ سول انتظامیہ کے افسران تھے عدالتی افسران کو مخاطب نہیں کیا گیا
جب بھی ہم نے تفتیش کے دوران عدالتی اختیارات کی بات کی تو ہمارے دوست احباب وہی عدالتی فیصلے لیکر آجاتے ہیں جن کے تحت انتظامیہ سے منسلک عدالتی اختیارات کے حامل مجسٹریٹ صاحبان کو اختیارات حاصل تھے  دوستو یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم عدالتی نظام کی برائیاں بیان کرنے کیلئے ہرگز نہیں بیٹھتے نہ ہی ہمارا وقت اتنا فالتو ہے کہ عدالتی نظام کی خامیاں گنواتے رہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ مشکلات جو روزمرہ پیش آتی ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں یہاں ایک اور معاملہ بھی ہے کہ مجسٹریٹ تو ایک انتظامی اختیارات کے استعمال کا عہدہ ہے کیونکہ مجسٹریٹ جو حکم جاری کرتا ہے ان کی حیثیت انتظامی نوعیت کی ہوتی ہے  اور یہ بہت بڑی اور اہم بحث ہے جس پر سالہا سال سپریم کورٹ میں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے 
میں نے کئی بار ذکر کیا کہ کراچی کے ایک سیشن جج نے جب کراچی میں آن لائن عدلیہ کا تجربہ کیا تو اس نے کسی عدالتی اصلاح کا انتظار نہیں کیا اور وہ کرگزرا اور ایک کامیاب تجربہ کے زریعے یہ ثابت کیا کہ اصلاح کا انتظار کرنے والوں کا مؤقف درست نہیں  ان کا یہ مؤقف غلط ہے کہ پارلیمنٹ نئی قانون سازی کرے بلکہ جو لوگ تبدیلی لانا چاہیں ان کیلئے ہر وقت ماحول سازگار ہوتا ہے
اگر ہم ضابطہ فوجداری کی زیردفعہ 159 کا ذکر کریں تو اس میں مجسٹریٹ کیلئے کیا اختیارات موجود ہیں 

ویسے مجسٹریٹ کو چاہیئے کہ ویسی رپورٹ موصول ہونے پر مجموعہ ہٰزا میں  مقرر کردہ طریقہ کے مطابق تفتیش کرنے کا حکم دے یا مقدمہ کی ابتدائی انکوائری کرنے یا اسے اور طرح طے کرنے کی غرض سے  خود جائے یا اپنے ماتحت کسی مجسٹریٹ کو مقرر کرے
یہ ایک حیرت انگیز سیکشن ہے جس کا ہماری عدلیہ نے آج تک استعمال نہیں کیا سنا ہے کہ جب عدالتی اختیارات انتظامیہ سے واپس لیکر عدلیہ کو منتقل کیئے جارہے تھے تو اس وقت انتظامیہ نے عدالتی افسران کو وہ گاڑیاں دینے کی پیشکش کی تھی جو اس وقت ان کے انتظامی افسر استعمال کررہے تھے جن کے تحت کسی واقعے یا حادثے کے بعد مجسٹریٹ خود بھی جائے حادثہ پر پہنچ جاتا تھا شاید انتظامیہ نے یہ سوچا ہوگا کہ عدالتی افسران کس طرح جائے وقوعہ پر پہنچیں گے لیکن اس وقت سینئر سول جج کے پاس بھی گاڑی کی سہولت نہیں تھی تو ہماری عدلیہ نے اس زمانے میں اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا  اور یہ کہا کہ اگر عدالتی افسر اس قسم کے کام کریں گے تو وہ بھی "خراب" ہوجائیں گے
ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کی سطح پر ہایئکورٹ مجسٹریٹ کانفرنس منعقد کی جائے
کیونکہ جب تک مجسٹریٹ صاحبان کے اختیارات کا تعین نہیں ہوجاتا اس وقت تک بہت سے معاملات اٹکے ہی رہیں گے
مجسٹریٹ کانفرنس اس لیئے بھی ضروری ہے کہ یہی وہ  فورم ہے جہاں سے عدلیہ انتظامیہ کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کا آغاز کرتی ہے
گزشتہ دنوں ایک اور افسوسناک واقعہ  پیش آیا جس کا ذکر کردوں کہ  کراچی کے ضلع وسطی کے ایک مجسٹریٹ نے ذاتی حیثیت میں تھانے میں پیش ہوکر ایک دو ٹکے کے پولیس افسر کے خلاف خود ایف آئی آر رجسٹر کروائی ہے
ایک پولیس والے کی اتنی اوقات کہ مجسٹریٹ اس کے خلاف ایف آئی آر میں خود مدعی بن رہا ہے شاید سیشن جج نے بھی نہیں سمجھایا ہوگا یہ اس لیئے ہوا کہ اس مجسٹریٹ کو یہ پتہ ہی نہیں کہ مجسٹریٹ کا عہدہ کتنا بڑا ہے کتنا اہم ہے کتنا باعزت اور باوقار ہے
میرا ایک عزیز کسی زمانے میں مجسٹریٹ تھا اور اس کی شان وشوکت یہ تھی کہ دنیا کے قیمتی سے قیمتی نسل کےگھوڑے اس کے گھر میں موجود ہوتے تھے اور ضلع کے ایس ایس پی اس  سے ملنا  اپنے لیئے اعزاز سمجھتےتھے
اس کی شان و شوکت بادشاہ وقت جیسی تھی وہ تھا بھی اپنے وقت کا بادشاہ اور پاکستان کی بڑی شخصیات اس سے دوستی اپنے لیئے اعزاز سمجھتی  
 تھیں پاکستان کا ایک سابق صدر ان کا ذاتی دوست تھا اگر کوئی پولیس والا اس سے بدتمیزی کرتا تو شاید اس زمین پر اس پولیس والے کی قبر کا نشان بھی کسی کو نہ ملتا   اور زیادہ دور کی بات نہیں صرف چند سال پہلے کی بات ہے کراچی ہی کے ایک مجسٹریٹ کے ساتھ  جنرل پرویز مشرف کی اس وقت ذاتی دوستی تھی جب وہ مطلق العنان صدر تھا 
اگرچہ یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ ایک عدالتی افسر کی کسی حکمران سے دوستی ہو لیکن بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس عہدے کی اتنی تو اہمیت ہے کہ اپنے وقت کا حکمران ایک مجسٹریٹ کا دوست ہو 
کہاں وہ شان و شوکت کہ پورے ضلع کا پولیس افسر باہر بیٹھ کر مجسٹریٹ سے ملاقات کا منتظر اور کہاں یہ ذلت کہ ایک 
 مجسٹریٹ ایک دوٹکے کے پولیس والے کے خلاف اپنی زاتی مدعیت میں ایف آئی آر درج کروا کرہڑتالیں کرواتا پھر رہا ہے
اور کہاں بے خبری کا یہ عالم کہ ہمارے مجسٹریٹ یہ سوال کرتے ہیں کہ تفتیش کے دوران کامن سینس استعمال کرنا ضابطہ فوجداری کی کس سیکشن کے تحت آتا ہے 

ایسے ماحول میں ضروری ہوجاتا ہے کہ سندھ ہایئکورٹ فوری طور پر سالانہ بنیادوں پر مجسٹریٹ کانفرنس کا انعقاد کرے جس میں بطور انتظامی افسر عدالتی افسر کے کردار کو زیر بحث لایا جائے 

HOW SCIENCE TRACK THE CRIMINAL

The Sherlock Holmes type detective, the man who smells a letter and tells at once that the murder was committed by a bald headed man wearing eye-glasses, may seem a far-fetched creation of the novelist. His exploits have been over-drawn for the purposes of fiction, but his methods are sound. Above all things, he is a scientist.
In the whole United States there is no Sherlock Holmes - no detective who studies crimes objectively and dispassionately, just as an entomologist studies a bug for identification. The Europeans are far in advance of us in this respect.
There are no fewer than four chairs in as many European universities occupied by men who are professors of crime detection, the new science called "criminalistics." These men have laboratories in which the minds and methods of criminals are studied. In Graz, Austria, for example, you will see collections of all the know poisons of Europe, the sword-canes and rifle-canes with which assassins lie in wait to kill, plaster models and accurately drawn plans of crimes, the skulls of men who have been killed by blows on the head. Students who take the course in criminalistics are expected to look at a skull and say: "This man was killed by a hammer blow."
One graduate caught a murderer who had left behind him nothing but a derby hat in which there was a single hair."Look for a man between forty-five and fifty, partially bald with gray-streaked hair." The police found him.
Why did the scientific detective say that? Because by chemical and microscopic means it had been determined that there was perspiration in the hat; one of the hairs was gray, and it was the kind of hair that drops out a head that is growing bald. All modern science has been drawn upon in this tracking of the criminal.




1. The hand of a criminal.
2 & 3 Plaster casts of footprints made with a booted and a naked foot.
4. Imprint of a criminal knee. The scientific detective determined that the imprint was left by striped trousers made in Manchester.
5. A certain burglar bit a section out of a piece of cheese and threw the rest away. This is a cast of the bitten section. It showed that one tooth was missing and it enabled the police to find the burglar.
Professor Gross, who founded the chair of criminalistics in the University of Graz, could look at the footprints of a man and determine whether he had been walking or running, whether he had been carrying a package or not, and even whether he was suffering from a disease. Bertillon, who did far more than give us the measurement system of classifying convicted criminals, went so far as to gather information on to methods used by Parisian shoemakers in nailing heels in place; for each shoemaker used a definite number of nails and hammered them in according to a plan of his own. Bertillon had only to look at a footprint in order to deduce the probable maker of the shoe that left the imprint.
The first step taken by a European criminalist is to make a scientific study of the scene of the crime. He uses either the scientific method of photographing devised by Bertillon - a method that makes it possible to measure with the utmost refinement on the photograph the distance of one object from another - or else he makes an accurate drawing, noting the exact position in which every object is found. Sometimes he even makes a three-dimensional plaster cast. He looks always for what is technically called "the error in the situation" - in other words, the little unforgotten thing or act that betrays.
Gross once found the dead body of an old man swinging from a chandelier. Suicide was the verdict of the police, and suicide was the first conclusion Gross drew. Then he studied his drawing. There was no chair near the man! Somebody must have hung him to the chandelier. The doctors assured Gross that the man had died a natural death! Then the real search began. Gross found that the old man had been left in charge of two servants. One night, after he had fallen asleep, they decided to go to a dance. When they returned they found their charge dead. Frightened, the valet suggested that it would be well for them to make it appear as if the old man had committed suicide. Together they hung him, but they forgot to kick over the chair.
These men deal not only with the physical facts of crime, but also with the psychology of criminals. It is important to learn everything that can be learned of the loves and hates of thieves and pickpockets, their superstitions, and their slang. The criminal mind is not a normal type. It is firmly believed by thieves, in Europe at least, that something must be left on the scene of the crime to avoid detection. One man left behind two or three matches torn from a block of the kind given away in cigar stores. Professor Reiss, of the University of Lausanne, picked them up. He ordered all the suspects searched. A block of matches was found in the pocket of one. The two incriminating matches dovetailed into the stubs.
We need laboratories in America like those described above.

safi awan
03343093302

Friday, 1 August 2014

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو درپیش چیلنجز


اٹھارویں ترمیم کے بعد جہاں صوبوں کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے وہیں صوبوں کی ذمہ داریوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے   ایک طرف چالاک بیوروکریسی  نہیں چاہتی کہ صوبے اس صورتحال کو سمجھ سکیں ۔دوسری طرف  جذبہ حب الوطنی سے محروم بے بس سیاستدان  ایک تماشائی کی حیثیت سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ شروع کہاں سے کیا جائے اور ختم کہاں کیا جائے
ایسی صورتحال میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ سول سوسائٹی اپنا بھرپور کردار ادا کرے
ایک سوال ہے بہت اہم اگر کسی کے پاس اس کا جواب ہو کہ صوبائی ادارے  اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات میں اضافے کے بعدکس طرح سے خواتین کی مالی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اسی حوالے سے سندھ حکومت نے صرف خواتین کو زمین بھی الاٹ کی ہے یہ ایک اچھی کوشش تھی اس کے علاوہ وہ کونسے اقدامات ہیں جن کے زریعے ہماری خواتین کی مالی حالت بہتر ہوسکتی ہے  اور وہ اپنے خاندان کی کفالت میں ایک مؤثر کردار بھی ادا کرسکتی ہیں
اگر اس حساس معاملے پر کسی کے پاس کوئی تجویز ہوتو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا
لیبر ڈیپارٹمنٹ سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ  کس طرح سے اپنا مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں؟
بعض اوقات   ایک عام آدمی کے پاس بھی ایسی تجویز موجود ہوتی ہے جو بہت بڑی تبدیلی کا سبب بن جاتی ہے
آپ رابطہ کرسکتے ہیں
صفی اعوان
03343093302
فرید چیمبر 8 فلور آفس نمبر 99 عبداللہ ہارون روڈ صدر کراچی