Sunday, 21 September 2014

کراچی کی مضافاتی بستیوں میں کالعدم تنظیموں کا عدالتی نظام ایک نیا چیلنج



گزشتہ سال ایک فیملی کیس میں  لڑکے کی طرف سے پیش ہوا تھا تو میری خواہش تھی کہ یہ کیس  ثالثی  اور بات چیت کے زریعے حل ہوجائے کیونکہ جہیز کی دو طرفہ لسٹ میں کوئی تنازعہ نہیں تھا لڑکا اپنی تنخواہ کے حساب سے  اپنے بچے کے اخراجات کی مد میں  ماہانہ رقم ادا کرنا چاہتا تھا اور اگر لڑکی کا وکیل کوشش کرتا تو صلح بھی ہوسکتا تھی  بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا سماعت شروع ہونے سے پہلے میں نے لڑکی کے بھائی سے جو کورٹ میں موجود تھا کہا کہ آپ لوگ اس کیس کو  ثالثی کے زریعے عدالت سے باہر بات چیت سے حل کرلیں میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کے قانونی حقوق متاثر نہیں ہونگے جہیز  کا سامان جس کی مالیت 350000 ساڑھے تین لاکھ روپے نقد ہے وہ تو آپ کو کل ہی مل جائے گا اور باقی معاملات بھی حل ہوسکتے ہیں
بدقسمتی سے لڑکی کے وکیل نے ان کو شاید ایسے خواب دکھا رکھے تھے کہ  انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ  ایک پنجابی محاورہ کہا کہ ہم کورٹ کے خرچوں اور پیشیوں سے نہیں ڈرتے جو لوگ اونٹ پالتے ہیں اپنے دروازے اونچے رکھتے ہیں
مختصر یہ کہ خلع کا کیس لڑکی کے حق میں ہوگیا۔لڑکے کی ماہانہ تنخواہ کی روشنی میں  عدالت نے بچے کا ماہانہ خرچ 2000 روپے مقرر کیا  جب بچے کا ماہانہ خرچ دوہزار روپے مقرر ہوا تو لڑکی کو سکتہ ہوگیا کیونکہ اس کے وکیل نے یہ خواب دکھا رکھا تھا کہ ماہانہ خرچ  کم ازکم دس ہزار روپے مقرر ہوگا اگرچہ  دوہزار بہت کم رقم ہے لیکن لڑکے کی ماہانہ تنخواہ ہی دس ہزار روپے ہے تو عدالت نے یہی فیصلہ کرنا تھا
بعد ازاں اسی معاملے پر ان کی وکیل سے بدمزگی بھی ہوگئی بعد ازاں لڑکی کے وکیل نے اپنے کلائینٹ کو یہ کہا کہ تم لوگ کیس جیت گئےہو
اور خلع کی ڈگری بھی کورٹ سے جاری کروا دی بعد ازاں جج کا ٹرانسفر ہوگیا
لڑکی کا بھائی کافی عرصے تک وہ کورٹ کی جاری کردہ ڈگری لیکر گھومتا رہا اس کو انصاف نہ ملا عدالت میں جج بھی نہ تھا اس لیئے کیس تیل لینے چلا گیا
کافی عرصے دھکےکھانے کے بعد  لڑکی کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کے آفس جا پہنچا  وہاں بتایا کہ میں کیس جیت گیا ہوں فلاں ابن فلاں میری بہن کے جہیز کا سامان  عدالت  کے حکم کے باوجود واپس نہیں کررہا اور نہ ہی بچے کا ماہانہ خرچ ادا کرتا ہے مختصر یہ کہ امیر صیب نے   میرے  کلائینٹ کو بلوایا اور اس کو حکم دیا کہ وہ کورٹ کے حکم کے مطابق جہیز کا سامان مدعی مقدمہ کو واپس کردے
میرے کلائینٹ  نے امیر صیب کو بتا یا کہ ابھی مقدمہ زیرسماعت ہے اور یہ ڈگری صرف خلع کی ہے اس لیئے جہیز کا سامان واپس نہیں مل سکتا  کیونکہ یہ  خود غیر شرعی کورٹ گیا ہے میں نہیں گیا مزید یہ کہ  اب سامان کورٹ کے حکم کے مطابق ہی واپس ملے گا
کالعدم تنظیم کے امیر نے حکم دیا کہ اب اس مقدمے کا فیصلہ شریعت کے عین مطابق فلاں تاریخ کو ہوگا
خیر مقررہ تاریخ کو یہ فیصلہ ہوا کہ لڑکی کا بھائی ہر ہفتے کالعدم تنظیم کے آفس میں بچے کی ملاقات اس کے باپ سے کروائے گا اگر تم لوگ بچے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو بچہ باپ کے حوالے کردو وہ خود ہی پال لے گا
جہیز کا سامان بچے کے  باپ کے پاس بطور امانت رہے گا کیونکہ تم لوگ (لڑکی والے)کرائے دار ہو اس لیئے کوئی بھروسہ نہیں کہ بچہ ہی لیکر بھاگ جاؤ اس لیئے جب بھروسہ آجائے گا تو جہیز کا سامان واپس کردیا جائے گا مزید یہ کہ آئیندہ فریقین عدالت نہیں جائیں گے عدالت میں جاری مقدمات خود ہی مٹی میں مل جائیں گے جب کہ وہ لڑکا جہیز کا آدھا سامان اب بیچ بھی چکا ہے
مجھے نہیں پتہ یہ جہالت پر مبنی فیصلہ کس اسلامی شریعت کے مطابق ہے لیکن اس قسم کے بے شمار فیصلے کالعدم تنظیموں  اور  مافیاز کے لوگ طاقت کے بل بوتے پر کرہی دیتے ہیں
لیکن سوال یہ ہے کہ فریقین تو عدالت  میں انصاف کیلئے آئے تھے وہاں ان کو انصاف کیوں نہیں ملا
جب ایک لڑکی انصاف کی تلاش میں دھکے کھاتی ہوئی عدالت میں پہنچ گئی تھی تو اس کو انصاف کیوں نہیں ملا
بدقسمتی یہ بھی ہے کہ جب پاکستان میں تنازعات کے متباد ل حل کی کوششیں ہوئیں تو سندھ ہایئکورٹ نے بحیثیت ادارہ ان کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایک  پرایئویٹ ادارے کراچی سینٹر فار ڈسپیوٹ ریزولوشن کی بنیاد رکھی جس میں اپنے بیروزگار اور ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کو روزگار دیا اللہ اللہ خیر صلا
جب نیت میں ہی فتور ہو تو منصوبے کامیاب نہیں ہوتے
 Safi

Friday, 19 September 2014

پرانے شکاری ایک بار پھر نیا مگر مضبوط ریشمی جال لیکر آچکے ہیں



جو تبدیلی بتدریج  آتی وہی مستقل ہوتی ہے اور راتوں رات جو انقلاب آتے ہیں ایسے انقلاب اپنے ہی بچوں کو
 کھاجاتے ہیں  سب سے پہلے تو ان دوستوں کو یہ بتادوں  جو یہ کہتے ہیں کہ کرا چی بار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یہ بات درست نہیں ہے گزشتہ سات برس کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن  میں بے شمار تبدیلیاں آچکی ہیں اور قیاد ت نوجوان وکلاء کے پاس ہے
کراچی بار کی پارکنگ سیکورٹی رسک کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے  جس کو کراچی بار کسی حد تک حل کرچکی ہے   اور کیونکہ یہ تبدیلی بھی چونکہ  بتدریج آئی ہے اس لیئے محسوس نہیں ہوتی
کراچی بار کی  کتابوں سے محروم سابق لایئبریری ایک چھوٹے سے کمرے میں موجود تھی جس میں زیادہ سے زیادہ تیس وکلاء آتے تھے  اس کی جگہ ایک عظیم الشان لایئبریری لے چکی ہے جو جدید ترین کمپیوٹر لیب سمیت ہرقسم کی سہولیات سے آراستہ ہے  اور گنجائیش بھی بہت زیادہ ہے پہلے ریفرنس بکس کا مطالعہ کرنے ہایئکورٹ جانا پڑتا تھا  جبکہ آج کراچی بار کی جدید ترین لایئبریری میں ہرقسم کی ریفرنس بک موجود ہے اور کراچی بار کی لایئبریری   اس وقت ہایئکورٹ بار ایسوسی ایشن کی لایئبریری سے کہیں زیادہ اپ ڈیٹ اور جدید ترین  ہے

کراچی بار نے اس سال کسی حدتک جعلسازی کا خاتمہ کروایا اور ایک اہم کردار ابھی تک جیل میں موجود ہے
کراچی بار کی نوجوان قیادت کی زیرنگرانی جدید سہولیات سے آراستہ پارکنگ زون کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے
کورٹس میں لفٹس کی تنصیب کا منصوبہ زیرغور ہے اس کے علاوہ ایک جدید ترین ویریفیکیشن سینٹر کی تعمیر کاکام بھی جاری ہے یہ وہ اقدامات ہیں جو کراچی بار نے گزشتہ چند سال کے دوران کیئے ہیں اگرچہ کارکردگی مثالی ہر گز نہیں لیکن کفن چوروں کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر ہے
 جبکہ سینئرز مافیا نے 1980 سے لیکر صرف دو برج بنائے جن کے زریعے  دومختلف اضلاع  کی عمارات کو آپس میں ملادیا گیا تھا اس  کے علاوہ ان لوگوں نے کراچی بار میں ٹیڈی پائی کا کام نہیں کیا صرف اپنے ہی مفادات حاصل کیئےبلکہ  کفن چوروں نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آن لائن عدلیہ کو ناکام بنانے کیلئے سیشن جج کا ہی ٹرانسفر کرواکر عدلیہ کو کرپشن سے پاک کرنے کا منصوبہ ناکام بنادیا
آج سے پانچ سال پہلے سندھ بار کونسل کے الیکشن میں اسی قسم کے  کھوکھلے دعوے ہوئے تھے لیکن منتخب ہونے کے بعد وہ سب وعدے بھلا دیئے گئے منتخب ہونے والے نئے ممبران بھی اسی رنگ میں رنگ گئے کئی باروائس چیئر مین کے انتخاب  میں  بولی لگا کرووٹس بیچ دیئے گئے
چند ممبران تو ایسے بے وفا نکلے کہ منتخب ہونے کے بعد پورے پانچ سال بعد انہیں کراچی بار کی یاد کبھی خواب میں بھی نہ آئی
شیریں جناح کالونی کے پلاٹ پر اسپتال بنانے کے دعوے جھوٹ اور فریب ثابت ہوئے اندرون ملک سے کراچی آنے والے وکلاء کیلئے ہاسٹل کی تعمیر کا وعدہ مکر اورجھوٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا کوئی ہاسٹل تعمیر نہیں ہوا نہ ہوگا نہ یہ کفن چور ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ ان کو کوئی ضرورت ہے
سندھ بار کونسل صرف اور صرف لائیسنس جاری کرنے کی مشین ہے اس کے علاوہ اس کا دوسرا کوئی مقصد ہمیں سمجھ نہیں آیا سندھ کے مقابلے میں پنجاب کے وکلاء کو اپنی  بہتر قیادت کی وجہ سے ہاسٹل سمیت بے شمار سہولیات حاصل ہیں  جن کا سندھ کے وکلاء تصور بھی نہیں کرسکتے
آج پانچ سال بعد پھر ایک موقع مل رہا ہے اگر فرصت مل جائے تو تھوڑا سا ریکارڈ دیکھ لیں کہ کراچی سے منتخب ہونے والے ممبران کب سے منتخب ہورہے ہیں اور ان کے پاس کیا پروگرام ہے یہ کیا خدمت سرانجام دے چکے ہیں اور ان کے پاس مستقبل کا کیا پلان ہے
حقیقت یہ ہے کہ  مستقبل کے کسی بھی پلان سے محروم سابقہ قیادت ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے اب سوال یہ ہے کہ وکلاء کیا کریں  کس کو ووٹ دیں میرے خیال میں اس کا آسان حل یہ ہے کہ سابقین کو مسترد کردیا جائے اس لیئے کہ یہ وہ آزمائے ہوئے لوگ ہیں جن کے پاس سرے سے کوئی پروگرام موجود ہی نہیں ہے یہ نام نہاد وکلاء رہنما
بڑے فخر اور حقارت سے کہہ دیتے ہیں کہ وکیلوں کو دو بڑے کھانے کھلادیں گے ایک بھینس کے پائے کی پارٹی کھلادیں گے جس کے بعد دعوت میں آئے افراد جب پائے کی پلیٹ منہ سے لگاکر  غٹا غٹ گھونٹ بھرنے کے بعد مونچھوں پر ایک تاؤ دیں گے تو پھر ان سے ووٹ لینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اسی طرح بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وکلاء کو سال میں ایک بار کورٹ کی ڈائری لائن  میں لگاکر اور ان کے لائیسنس کی کاپی وصول کرنے کے بعد جب مفت   ڈائری دی  جائے گی تو ووٹ پکا بدقسمتی دیکھیں کہ  سوروپے والی مفت ڈائری لینے والوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے جو ہاتھ میں اپنے لائیسنس کی فوٹو کاپی لہر ا کرسوروپے کی ڈائری وصول کرتے ہیں سوچیں کہ سوروپے کی اوقات ہی کیا ہے  کیا ان لوگوں سےڈائری دینے والوں اور لینے والوں سےہم تبدیلی کی کوئی امید رکھ سکتے ہیں اللہ کا شکر کہ ان قطاروں میں نوجوان وکلاء نہیں ہوتے اور نہ ہی نوجوان وکلاء پائے کی پلیٹوں کو منہ سے لگا کر غٹاغٹ گھونٹ بھرکرکسی کے ووٹ پکے کرتے ہیں  
سوال یہ ہے اس وقت ان لوگوں کے پا س کوئی پروگرام موجود نہیں جو کئی بار پہلے بھی منتخب ہوچکے ہیں  وہ صرف ممبر بننا چاہتے ہیں اور ممبر بن کر سندھ بارکونسل کے وسائل کو ہڑپ کرنے کا گھناؤنا کاروبار دوبارہ سے  جاری رکھنا چاہتے ہیں
اس لیئے اس سال سندھ بار کونسل کا پہلا اصول یہ یاد رکھیں کہ دوسری بار الیکشن لڑنے والوں کو واپسی کا محفوظ راستہ دکھانا ہے اور سابق قیادت جو ناسور بن چکی ہے   اس گھاؤ سے جان چھڑانی ہے
نوجوان وکلاء کو موقع ملنا چاہیئے جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں  جو تعلیم یافتہ ہیں  جن  کے پاس کچھ کرنے کی خواہش ہے جن کے پاس کوئی پروگرام ہے
پانچ سال بعد احتساب کا وقت قریب آچکا ہے اور ظلمت شب کے اندھیروں میں افراتفری ہے اگر پھر کسی نہاری بیچنے والے باورچی کسی قصائ  کسی کے ضعیف گھر داماد کو منتخب کرنے کی حماقت کی گئی تو بار کونسل کے حالات ایسے ہی رہیں گے
آئیے   قائداعظم جیسے کسی  وکیل کو اپنا آئیڈیل بنا کر یہ عہد کریں کے  کسی پڑھے لکھے سلجھے  ہوے وکیل کو سندھ بار کونسل کا ممبر منتخب کریں گے
نوجوان وکلاء کو سوروپے کی مفت ملنے والی ڈائری پر لعنت بھیجنی ہوگی اور ہر قسم کے ڈنر ز کا مکمل بایئکاٹ کرنا ہوگا ایک وکیل کا ووٹ اتنا سستا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک بریانی کی پلیٹ پر بک جائے


پرانے شکاری ایک بار پھر نیا مگر مضبوط  ریشمی جال لیکر آچکے ہیں

Thursday, 18 September 2014

عدلیہ کے مائینڈ سیٹ کی تبدیلی بھی ضروری ہے



ایک عام ااور غریب آدمی کی زندگی میں یہ تبدیلی آرہی ہے کہ وہ جب اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں تو اب حق مہربتیس روپے بارہ آنے حق مہر شرعی مقرر نہیں کیا جاتا اور اس کے ساتھ ساتھ لڑکی کے قانونی حقوق کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اب ایسے نکاح نامے شازونادر ہی نظر آتے ہیں  جن میں حق مہر بتیس روپے لکھا ہو   لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ شادی جیسے مقدس بندھن کو بھی ہمارے معاشرے میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یہ سوچ موجود ہے کہ ہم جب چاہیں گے جس وقت چاہیں گے کچے دھاگے سے بھی اس کمزور بندھن کو توڑ کر پھینک دیں گے ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا  ہر سطح  کے علاوہ دور دراز علاقوں اور کچی آبادیوں میں یہ سوچ  اس لیئے موجود ہے   کہ رشتوں کو مذاق بنانے والے بھی جانتے ہیں کہ قانونی کاروائی ایک مہنگا سودا ہے  اس لیئے قانونی حقوق محفوظ ہونے کے باوجود عورت کے پاس جب کھانے کے پیسے بھی نہیں ہونگے  اور عدالت آنے جانے کے اخراجات  بھی نہیں ہونگے تو وہ قانونی کاروائی  خاک کرے گی اور ایک پروفیشنل ایڈوکیٹ ایک خاص حد تک ہی کسی غریب کی قانونی امداد کرسکتا ہے ایسی صورتحال میں دستگیر لیگل ایڈ سینٹر ظلم وتشدد کا شکار خواتین کو مفت قانونی امداد فراہم کرکے ان کے قانونی حقوق کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر ان خواتین کو جن کے پاس وسائل بالکل بھی نہیں ہوتے
دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں کراچی کے انتہائی دور دراز علاقے سے آنے والی خواتین کے ساتھ شادی کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں ان کو سن  کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے  معاشرے میں شادی  جیسے مقدس بندھن کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا کوئی بھی شخص کسی بھی وقت کسی لڑکی  سے شادی کرنے کے بعد جب اس سے دل بھر جائے تو اس کو ماں باپ کے دروازے  کے سامنے کھڑا کرکے چلاجاتا ہےیا دھکے دیکر نکال دیتا ہے  
سوال یہ ہے کہ شادی جیسے مقدس بندھن کو سنجیدہ نہ لینے کی کیا وجوہات ہیں
بے شمار وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ  قانون کا خوف نہ ہونا اور لوگوں کا عدالت کے اخراجات برداشت نہ کرپانا ہے اور ایک زوال پزیر معاشرے کی عدلیہ کا وہ متحرک کردار ادا نہ کرپانا جس کی سوسائٹی عدلیہ سے توقع رکھتی ہے
 گزشتہ دنوں ایک کم سن لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں آئی اس کی عمر صرف  سترہ سال تھی اور وہ ایک بچے کی ماں تھی اس کے ساتھ اس کی والدہ بھی تھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے اپنی بیٹی کی شادی صرف پندرہ سال کی عمر میں کردی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ لڑکی کا باپ بیمار تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں اپنی زندگی میں ہی بیٹی کی شادی کردوں  یہی وجہ تھی کہ  ایک علاقے میں رشتے کرانے والی عورت کے زریعے انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کردی تھی  بعد ازاں یہ رشتہ کامیاب نہ ہوا لڑکے نے ایک سال تک بیوی کو ساتھ رکھا اور جب  اس کی کم سن اہلیہ امید سے ہوگئی تو ایک دن بغیر کچھ بتائے وہ غائب ہوگیا بچے کی پیدائش گھر میں ہی ہوئی اور ہم نہ جانے کس طرح یہ سوچتے ہوئے برداشت کریں گے کہ ایک  سولہ سال کی کمسن بچی نے لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں  بچے کو جنم دیا ہوگا مجھے تو یہ سوچ کرہی صدمہ ہوا کہ ایک کمسن بچی پر کیسی قیامت گزرگئی ہوگی اور نہ جانے وہ کیسے موت کے منہ سے بچ کر نکلی ہوگی
اس کی ماں نے بتایا کہ ہم زچگی کے اخراجات برداشت نہیں  کرسکتے تھے اور لڑکی کی جان کو شدید خطرہ تھا اللہ نے نئی زندگی دی
لیکن اس سارے معاملے میں ایک قانونی پہلو بھی ہے  جس کی وجہ سے اس لڑکے واپس آنا پڑا اور وہ یہ تھا کہ شادی کے وقت جہاں والدین نے مجرمانہ طور پر ایک پندرہ سال کی بچی کی شادی جلد بازی میں کردی وہیں لڑکی کی والدہ نے اپنے علاقے میں موجود ایک سینئر ایڈوکیٹ سے  نکاح نامے سے متعلق مشورہ بھی لیا  جن کے مشورے کے مطابق نکاح نامے کا کوئی بھی خانہ خالی نہیں ہے اور حق مہر میں دوایکڑ زرعی زمین بھی لکھوائی گئی ہے اس کے باوجود وہ لڑکا جس کی نیت ہی  فراڈ اوردھوکہ دینے کی تھی اس نے نکاح کے وقت اپنا نام ہی غلط لکھوایا  اور کہا کہ میرا شناختی کارڈ گم گیا ہے  جس پر نکاح خوان نے نکاح نامے پر دستخط کی بجائے لڑکے سے انگوٹھا لگوالیا جس کی وجہ سے اس کے خلاف اب دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی بن سکتا ہے
بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد اس لڑکی کا شوہر دوبارہ واپس آگیا اور ایک کمرے کا مکان کرائے پر لیکر رہنے لگا چند روز بعد دوبارہ تنازعات شروع ہوگئے اسی دوران اس کے شوہر نے چند کاغزات تیار کروالیے اور وہ کاغزات اپنی بیوی کے پاس لایا کہ یہاں دستخط کردو کہ میں حق مہر کی دوایکڑ زمین اپنی رضامندی سے معاف کرہی ہوں  جس پر لڑکی نے بتایا کہ وہ اپنی ماں سے پوچھ کر  دستخط کرے گی جس کے بعد تکرار بڑھ گئی اس کے شوہر نے مارنے کیلئے ڈنڈا اٹھا لیا جس کے اس لڑکی نے اپنے چند ماہ کے بچے کو اٹھایا اور اپنی جان بچا کر پڑوسیوں کے گھر میں گھس گئی  اس کا شوہر اس کو تلاش کرتا رہا لیکن اس کو یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس کی بیوی کس کے گھر میں گھسی ہے  کئی گھنٹے گزرنے کے بعد  جب اس کا شوہر چلا گیا تو پڑوسی کی رحم دل بیوی نے اس کی ماں کو اطلاع دی جس کے بعد اس کی والدہ لڑکی کو اپنے گھر بحفاظت لے گئی
اس پورے واقعے میں ہمیں والدین کی غفلت کے بےشمار پہلو نظر آتے ہیں جنہوں نے   مجرمانہ طور پر اپنی  بیٹی کی شادی کم عمری میں ہی طے کی   جنہوں نے اپنی بیٹی کی خود ہی قدر نہیں کی لیکن ان کے پاس ایک قانونی  دستاویز موجود ہے جس کے مطابق  اس لڑکی کے بہت سے حقوق اس لڑکے نے ادا کرنے ہیں  اس کو حق مہر کے پچاس ہزار روپے اداکرنے ہیں   اس کو دو ایکڑ زرعی زمین دینی ہے   انشاءاللہ ہم عدالت میں جائیں گے اور ایک ایسے ظالم کا تعاقب ضرور کریں گے جس نے نکاح کو مذاق سمجھا  شادی کے مقدس بندھن کے زریعے ایک کم عمر لڑکی کی زندگی برباد کردی
ہم سندھ ہایئکورٹ کے شکر گزار ہیں  جنہوں نے  گزشتہ دنوں ہماری  چند درخواستوں پرسخت ترین نوٹس لیئے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے  عدالت کو چاہیئے کہ فیملی مقدمات کی سماعت کو تیزرفتاری سے نمٹانے کی کوشش کرے کورٹ کی "رٹ" نظر آئے کیونکہ اکثر فیملی مقدمات صرف اس وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں کہ فریقین تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کو انصاف نہیں ملتا عدلیہ کو اب کم ازکم فیملی مقدمات میں آہنی ہاتھ رکھنا ہوگا خصوصی طور پر وہ علاقے جہاں کچی آبادیاں موجود ہیں وہاں کیلئے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے اب قوانین کی بجائے عدلیہ کے مائینڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہوچکی ہے رشتوں کو مذاق سمجھنے والوں کو  قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعدجب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں  دھکیلا جائے گا اس وقت تک مسائل موجود رہیں گے

ہم اس ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں جس کے تحت   ہم کسی بھی صورت میں تشدد کا شکار افراد  کو اپنی یا اپنے ادارے کی تشہر  اور مفاد کیلئے استعمال نہیں  کریں  گے اس لیئے حالات و واقعات کو تبدیل کردیا جاتا ہے