Sunday, 19 October 2014

میں تو صرف ایک ڈاکیہ ہوں ٭٭٭٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان


بوڑھے ڈاکیئے نے  کہا پوری زندگی میرے رہنما اصول رہے صبح وقت پر آنا دوسرا ڈاک ایمانداری سے  وصول کرکے پہنچانا میرا کام صرف ڈاک پہنچانا ہے آج تک  پوری زندگی کے دوران میں نے ایک خط بھی نہیں پڑھا ڈاک لی اورجس کی بھی ڈاک ہو اس تک پہنچادینا ڈاکیئے کو اس  سے کیا غرض کہ خط کے اندر کیا لکھا ہے
اسی طرح پوری زندگی گزار دی وہ ڈاک لیکر آتے رہے اور میں پہنچاتا رہا یہی میری ذمہ داری تھی اور میں نے نبھائی
ایک مجسٹریٹ صاحبہ نے کہا دیکھیں وکیل صاحب  میں تو صرف اور صرف ڈاکیہ ہوں پولیس جو بھی تفتیش کرتی ہے میرے پاس  ڈاک کی صورت میں جمع کروادیتی ہے اور میں نہایت ایمانداری سے اس ڈاک کو سیشن کورٹ بھیج دیتی ہوں  پوری زندگی دو کام ایمانداری سے کیئے نمبر ایک صبح سویرے وقت پر آنا نمبر دو پولیس کی تفتیش کو بغیر پڑھے بغیر سوچے سمجھے کہ  پولیس نے کیا لکھا کیا نہیں لکھا خاموشی سے اس ڈاک کو سیشن بھیج دینا میں پولیس کی ذہنی ماتحت نہیں ہوں کبھی کبھی اس کی چیخ چیخ کر بے عزتی  ہوں اور وہ سرجھکا کہ کھڑارہتا ہے
چاہے لوگ کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہوں  اور مجسٹریٹ کو پولیس کا ذہنی ماتحت ثابت کرنے اور پولیس کا ذہنی غلام ثابت کرنے کیلئے موجودہ نااہل عدلیہ کتنے ہی دلائل ڈھونڈ کر لے آئے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے
سوال یہ ہے کہ ذہنی ماتحتی کیا ہے؟
اپنی پہچان نہ کرنا ذہنی ماتحتی ہوتی ہے۔ اپنے اختیارات سے لاعلم ہونا اور اپنے سے کم اختیار کے حامل شخص کو بااختیارسمجھنا اس کی رائے پر چلنا ذہنی ماتحتی کی علامت ہے اپنے آپ کو  میٹرک پاس تفتیشی پولیس افسر کے سامنےایک بے جان اور سونے کا قیمتی بت سمجھ لینا ذہنی ماتحتی کی علامت ہے۔ اپنے آپ کو پولیس کا ڈاکیہ سمجھ لینا اور یہ کہنا کہ ہمارا کام صرف ڈاک وصول کرکے مقدمات پولیس سے وصول کرکے سیشن جج کے سامنے پیش کرنا ہے  زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے پاکستانی پولیس کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس سمجھ لینا یہ بھی ذہنی ماتحتی کی علامت ہے زمینی حقائق کے باوجود یہ خود ہی فرض کرلینا کہ پولیس رشوت نہیں لیتی اور پولیس کے رحم وکرم پر لوگوں کو چھوڑ دینا یہ سب ذہنی ماتحتی کی علامتیں نہیں تو اور کیا ہیں ہم آج  تک اسی سوال کا جواب تلاش نہیں کرسکے کہ پولیس ریمانڈ لیکر ایک مجسٹریٹ کے پاس ہی کیوں آجاتی ہے وہ کسی  اور کے پاس کیوں نہیں چلی جاتی آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ ایک قتل کے  مقدمے میں جو کہ سیشن ٹرائل ہے پولیس کیوں  ملزمان کو تفتیش کے بعد جب مزید حراست میں رکھنا ہو تو عدالت میں مجسٹریٹ کے پاس کیوں لیکر آجاتی ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس میں ہمارے پورے کریمینل جسٹس سسٹم کا وقار پوشیدہ ہے
مجھے حیرت ہوتی ہے افسوس ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ ایک ایسی علمی تحریک کا آغاز کیا جائے جس کا مقصد عدلیہ  کو پولیس کی ذہنی ماتحتی اور ذہنی غلامی سے آزاد کروانا ہو   یہاں یہ دلائل لائے جاتے ہیں کہ ہم صرف  ڈاکیئے ہیں  ہمارا کام صرف ڈاک تقسیم کرنا ہے پولیس سے لیکر سیشن جج کے پاس بھیج دینا ہےلیکن یہاں بہت معذرت کے ساتھ ہماری وکلاء برادری بھی اس ذہنی غلامی کا حصہ ہی ہے کیونکہ ایک جج   عدلیہ میں شمولیت سے پہلے بار کا حصہ ہوتا ہے  وہاں بھی آج تک یہ بنیادی نقطہ وکیل نہیں جانتے کہ  پولیس ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے پاس ہی ملزم کو لیکر کیوں آتی ہےسینئر وکلاء کا کہنا یہ ہے کہ اگر لوگ جیل نہیں جائیں گے تو ہمیں فیس کیسے وصول ہوگی اسی وجہ سے جب پولیس کا کوئی ذہنی ماتحت ایک تفتیشی افسر کی ذہنی غلامی کو قبول کرکے ایک بے قصور اور بے گناہ کو گھسیٹ کر جیل میں پھینکوانے کے احکامات جاری کرتا ہے تو پولیس کا دوسرا ذہنی غلام  جس نے عدلیہ کی صحیح رہنمائی کرنی ہوتی ہے شاید پیسے کی لالچ میں خاموش رہتا ہے کیونکہ اگر ریمانڈ کے موقع پر ہی ایک بے گناہ شخص کو مجسٹریٹ جیل بھیجنے سے انکار کرتا ہے اور پولیس یہ بات ریکارڈ پر لانے سے قاصر رہتی ہے کہ اس شخص کا کیا قصور کہ اس کو جیل بھجوانا ضروری ہے تو لازمی طور پر اس کو رہا  کرنا ضروری ہوگا اور اگر ملزم ریمانڈ کے موقع پر ہی رہا ہوجائے گا تو وکیل فیس کس بات کی وصول کرے گا فیس تو ہوتی ہی ضمانت کروا کردینے کی ہے   اور بعض اوقات  اس میں اسٹیک ہولڈرز کا حصہ بھی ہوتاملزم جیسے ہی جیل پہنچتا ہے تو اس کا استقبال  لاتوں اور گھونسوں سے شروع ہوجاتا ہے جس کی اطلاع فوری اس کے عزیز واقارب کو ہوجاتی ہے جس کے بعد اس کی ضمانت پر رہائی کیلئے فیس منہ مانگی ہوتی ہے اگر وکیل  ریمانڈ کے موقع پر اپنا درست کردار ادا کرنا شروع  کردیں تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں
ذہنی ماتحتی کا یہ عالم ہے کہ   لوگ یہ بات ثابت کرنے کیلئے کہ ہماری حیثیت صرف ایک بے جان بت کی ہے ہمارے پاس کوئی اختیار ہے ہی نہیں  ہم بے اختیار ہیں یہ بات ثابت کرنے کیلئے دنیا جہان کے دلائل ڈھونڈ کر لے آتے ہیں
ایک ذہنی ماتحتہ کا تو یہ عالم ہے کہ جب اس کے سامنے ایک اغوا کے مقدمے میں پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ پیش کی تو اس میں کل تین ملزمان تھے تفتیشی افسر نے  چالاکی سے پراسیکیوشن کے گواہوں کی جو لسٹ کورٹ کو فراہم کی جو اس واقعہ کے چشم دید گواہان تھے وہ تینوں گواہان  ملزم بھی تھے مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ایک ملزم استغاثہ کا گواہ  اپنے ہی خلاف کیسے ہوسکتا ہے اور یہاں تو تینوں بے قصور ملزمان  کو اپنے ہی خلاف گواہ بنایا گیا تھا جب میں نے اس کی توجہ ذہنی ماتحتہ  کو دلائی تو اس نے کہا کہ وکیل صاحب  سیشن ٹرائل میں مجسٹریٹ کی حیثیت صرف ایک ڈاکیئے کی ہے ہم صرف ڈاکیئے کا کردار ادا کرتے ہیں تفتیشی افسر جو ڈاک لیکر آتا ہے وہ وصول کرکے  سیشن جج کے پاس بھیج دیتے ہیں  مختصر یہ کہ ڈاکیئے کی طرف سے   مقدمہ  پولیس سے لیکر سیشن  بھیج دیا گیا وہاں بریت کی درخواست اسی بنیاد پر داخل کی کہ استغاثہ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے  اور تینوں گواہان  اسی کیس میں  ملزمان ہیں خیر سیشن جج نے مختصراً کہا کہ مغویہ بازیاب ہوگئی جواب ملا نہیں  اس نے کوئی حکم نامہ  جاری نہیں  کیا  اور اس حقیقت کے باوجود معاملہ لٹکا دیادو سال  بعدلڑکی گھر خود ہی واپس آگئی کورٹ میں بیان کروایا کہ ان لوگوں نے مجھے اغوا نہیں کیا تب کہیں جاکر  ملزمان کی  اس مقدمے سے جان چھوٹی اگر وہ  ذہنی ماتحتہ تربیت یافتہ ہوتی اور اس  مجسٹریٹ  صاحبہ کو اپنے اختیارات کا علم ہوتا تو تین بے گناہ انصاف کی سولی پر لٹکنے سے بچ جاتے لیکن اس نے کہا کہ میں تو صرف ڈاکیہ ہوں لیکن اس خود ساختہ ڈاکیئے کی وجہ سے   تین افراد دوسال تک اس مقدمے  بازی کا شکار رہے وہ بھی بلاوجہ
اسی طرح  آپ ذرا سوچیں کہ ایک لڑکی کے اغواہ کا مقدمہ ہو اور وہ  مغویہ لڑکی  خودکورٹ میں موجود ہو اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو کہ ہم آپس میں محبت کرتے ہیں ہم نے پسند سے شادی کی ہے  مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا  "میاں بیوی راضی کیا کرے گا قاضی "جج صاحب خدا کے واسطے میرے شوہر کی ہتھکڑی کھول دو اور سامنے جج کی کرسی پر بیٹھا ہوا نااہل   اس بے قصور کو اس بے گناہ کو  اسی لڑکی کے اغوا کے الزام میں جیل بھیج دے  کس جرم میں کس قاعدے کے تحت یہ بات اس ذہنی ماتحت کو خود بھی نہیں پتہ تو میں سوال کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو پولیس کا ذہنی ماتحت نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے پولیس کا ذہنی غلام نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے اس وقت کراچی میں نوے فیصد  مجسٹریٹس اسی قسم کے مشین ریمانڈ دیتے ہیں شاید ہی کسی کو توفیق ہوتی ہو کہ وہ معاملے کی تہہ تک جاتا ہو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ نوے فیصد جوڈیشل مجسٹریٹس کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ تفتیشی ڈائری کیا ہوتی ہے اور کیا تفتیشی افسر تفتیش کے دوران  یا ریمانڈ کے موقع پر کیس ڈائری لیکر آتا ہے  اور جس  مجسٹریٹ کو تفتیشی ڈائری پڑھنا آجائے تو پھر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تفتیشی افسر کسی بے گناہ کو ہتھکڑی لگا کر کورٹ لے آئے کریمینل جسٹس سسٹم ایک سوشل سائینس ہے اور سائنٹیفک بنیادوں پر عدلیہ پولیس کو کنٹرول کرسکتی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے پر ہم ایک سیمینار منعقد کریں گے اور رجسٹرار سمیت اعلٰی عدلیہ کے سامنے یہ معاملہ لیکر جائیں گے کہ جس طرح کے ریمانڈ موجودہ عدلیہ دے رہی ہے  اس سے تو مجسٹریٹ کے کام میں بلاوجہ اضافہ ہی ہے  جب بے گناہوں اور بے قصوروں کو مناسب وجوہات ریکارڈ پر لائے بغیر پولیس کے ساتھ ملکر جیل ہی بھیجنا ہے تو یہ کام تو ایک چپراسی ایک پٹے والے یا کسی جونیئر سطح کے کلرک سے لیا جاسکتا ہے پورے ضلع کیلئے ایک پٹے والا کافی ہے پولیس ریمانڈ لے آئے پٹے والا ٹھپے مار کے تفتیشی افسر کے حوالے کرتا جائے پولیس کی ذہنی ماتحتی کا عہدہ نبھانے کیلئے ایک چپراسی یا پٹے والے کی ضرورت ہے اور یہی فارمولہ چالان یعنی پولیس رپورٹ پر بھی نافذ کیا جاسکتا ہے ایک پٹے والا اتنی قابلیت رکھتا ہے کہ وہ انگلش میں  منظور کا لفظ لکھ سکے اس سے کورٹ کا آدھے سے زیادہ کام اور رش بھی ختم ہوجائے گا
کریمینل جسٹس  سسٹم کے اندر جب سے عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ ہوئی ہے  ایک سیشن جج کا کردار سب سے اہم ہوکررہ گیا ہے اسی طرح رجسٹرار کا کردار سب سے اہم ہے شہریوں  کی  پولیس سے حفاظت کیلئے ہمارے مجسٹریٹس نے تھانے جانا ہے ان کا ریکارڈ دیکھنا ہے تفتیش کے متعلق سولات کرنے ہیں    لاک اپ چیک کرنا ہے دیکھنا ہے کہ بغیر روزنامچہ کے کسی کو زیر حراست تو نہیں رکھا گیا ایک تھانے کو قواعد وضوابط کے اندر لانا ہے  اس کے بعد سارے معاملات اور ساری بے قاعدگیاں  سیشن جج کے نوٹس میں لاکر ان کو ٹھیک کرنا ہےیہ سندھ ہایئکورٹ کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہماری بار ایسوسی ایشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ  کم ازکم سندھ ہایئکورٹ کے زریعے اس ضابطے پر تو عمل درآمد کروا ہی دے کہ سیشن جج کے زریعے مجسٹریٹس تھانوں کے وزٹ کرکے وہاں سے بے قاعدگیاں ختم کروائیں اس کیلئے ماضی میں بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں  کیا یہ حقیقت نہیں کہ پورے سندھ کے کسی ایک تھانے میں بھی سیشن ججز مجسٹریٹس کو تھانے کا ریکارڈ لاک اپ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے معاملات دیکھنے کیلئے  وہاں نہیں بھیجتے کیا آپ کے پاس اختیارات کی کمی ہے یا آپ لوگ تھانہ کلچر کا  خاتمہ نہیں چاہتے اگر سول سوسائٹی آواز بلند کرے تو چند دن کے اندر عدلیہ کے تعاون سے تھانہ کلچر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے   اس حوالے سے ہماری سول سوسائٹی کو مسلسل آواز بلند کرنی ہوگی  


Monday, 13 October 2014

ایک دلچسپ جنگ ٭٭٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

وکالت کی شان یہ ہے کہ ایک وکیل بھرپور محنت کے بعد عدالت میں پیش ہوجائے اپنے دلائل ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش کرے ایسے وکیل کے ججز منتظر رہتے ہیں کیونکہ ایسے وکلاء ہی ججز  کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں اور نئے قانونی نقاط کے زریعے  ججز کے علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک وکیل جب اپنے کیس پر محنت کررہا ہوتا ہے تو  وہ محنت جج کے بھی کام آتی ہے
اسی طرح عدلیہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ وکیل کے دلائل کے مقابلے میں وہ ایسا قانونی نقطہ لاکر جو وکیل کی نظر سے کسی بھی وجہ سے اوجھل ہوتا ہے کو ریکارڈ پر لانے کے بعد اس درخواست کو مسترد کرے یہ جنگ  بہت دلچسپ ہوتی ہے عموماً جج کا ذاتی موڈ پیچیدہ معاملات میں درخواست کو مسترد کرنے کا ہی ہوتا ہے
اگر وکیل کے دلائل کا جواب دینے کے بعد جج صاحب کوئی ایسا آرڈر پاس کرتا ہے جس کے زریعے وکیل  کے قانونی نقاط کا جواب دیا جائے تو اس سے وکیل کے علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور کسی بھی قسم کا کوئی تنازعہ نہیں پیدا ہوتا ہے

تنازعہ اس وقت جنم لیتا ہے جب  درخواست خارج کردی جائے لیکن قانونی نقاط زیر بحث بھی نہ لائے جائیں اور وکیل کی محنت ضائع چلی جائے  

قتل کی ایف آئی آر درخت کے ساتھ باندھ دی جائے تو درخت سوکھ جائے: تحریر صفی الدین


ایف آئی آر کو دنیا کی سب سے خوفناک دستاویز کہا جاتا ہے اور پنجاب میں تو یہاں تک مشہور ہے کہ "قتل کی ایف آئی آر کسی ہرے بھرے درخت کے ساتھ باندھ  دی جائے تو وہ درخت چند دنوں میں سوکھ جائے"
ایف آئی آر  کے زریعے  ہمیشہ سے ہی صرف  مخالفین کو سبق سکھایا جاتا ہے   اور ایف آئی آر اپنے کسی بھی ذاتی یا سیاسی مخالف کو تباہ برباد کردینے کا  ہمیشہ سے ہی کامیاب زریعہ ہے ایف آئی آر کا مقصد ہرگز انصاف نہیں ہے بلکہ  مخالف کو نیچا دکھانا ہے بلکہ اگر اپنے مخالف سے بدلہ لینا ہو تو اس کو قتل کرنے کی بجائے چند جھوٹی ایف آئی آر رجسٹر کروادینا زیادہ سخت انتقام ہے
عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کے بعد عدلیہ کیلئے ایک امتحان  یہ ہے کہ عدلیہ کی بالادستی کو ثابت کرنا ہے
پولیس   ہمیشہ سے ہی ذہنی طور پر عدلیہ کو اپنا ماتحت سمجھتی ہے پولیس  اپنے تھانے میں بیٹھ کر عدلیہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مصروف رہتی ہے
کراچی میں چند ججز ہیں جنہوں نے عدلیہ  میں بیٹھ کر اپنے اختیارات  کے مناسب استعمال  کے زریعے  پولیس کی بالادستی کو چیلنج کیا ہے ان کو ہر سطح پر خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے
ایک مجسٹریٹ  ہی وہ اتھارٹی ہے جو عدلیہ میں بیٹھ کر پولیس کی بالادستی کو چیلنج کرسکتی ہے ان کو ظلم کرنے سے روک سکتی ہے
کیا یہ حقیقت نہیں کہ پولیس نوے فیصد بے گناہوں کو گرفتار کرتی ہے۔۔۔۔۔کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ پولیس تفتیش کے دوران سارا زور گرفتاری پر دیتی ہے  پولیس شواہد کی بجائے ملزم کو گرفتار کرکے رشوت وصول کرنے کے چکر میں رہتی ہے لیکن بدقسمتی  سے آج بھی مجسٹریٹس کی اکثریت مناسب وجوہات ریکارڈ کیئے بغیر  ان بے  قصور اور بے گناہ شہریوں کو مشینی انداز میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے
آج عدلیہ اور انتظامیہ دونوں الگ الگ ہیں  لیکن پولیس رشوت لینے کے ایک ہزار ایک  طریقے جانتی ہے پولیس کو وہ سارے ضابطے اور طریقے زبانی یاد ہیں جن کے زریعے وہ رشوت وصول کرتے ہیں
ایک  عام  سا ملزم بھی پولیس کو کم ازکم پچاس ہزار تو دے ہی جاتا ہے
پولیس ایک بھرپور ریسرچ رکھتی ہے  کہ اس نے کس طرح عدلیہ کو شکست دینی ہے  پولیس کا ایک میٹرک پاس تفتیشی افسر اس لیئے مکمل تیاری کے ساتھ آتا ہے کہ  اس نے ملزم سے اچھی خاصی رشوت لینی ہوتی ہے پولیس جانتی ہے کہ عدلیہ کا کندھا کب اور کس طرح استعمال کرنا ہے اس کی وجہ ان کا وہ زریعہ آمدن ہے جو وہ ایک مجسٹریٹ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر حاصل کرتے ہیں جبکہ پولیس کے مقابلے میں ہمارا مجسٹریٹ غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار ہے
آج عدلیہ میں بھی ایک سوچ پیدا ہورہی ہے کہ کہ کیا صرف ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر مناسب وجوہات ریکارڈ کیئے بغیرکسی کو جیل بھیجا جاسکتا ہے؟
آج عدلیہ کا سب سے اہم ترین پرزہ اور انتظامی اختیارات کا حامل عہدہ مجسٹریٹ یہ سوچ رہا ہے کہ   وہ    اگر وہ صرف پولیس کے کہنے پر اپنا عدالتی ذہن استعمال کیئے بغیر صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر  بے قصور افراد کو جیل بھیجنے کی ڈیوٹی پر مامور ہیں تو یہ کام تو پٹے والا یا کوئی جونیئر سطح کا کلرک بھی کرسکتا ہے؟
آج  ہمارے مجسٹریٹ بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر پولیس ریمانڈ کیلئے ایک مجسٹریٹ ہی کے پاس کیوں آتی ہے اگر صرف مشینی ریمانڈ دینے ہیں  اور اگر پولیس کے  کہنے پر صرف اور صرف ایف آئی آر ہی کی بنیاد پر لوگوں کو جیل ہی بھیجنا ہے تو یہ ٹھیکہ پورے ضلع میں ایک کلرک کو دیا جاسکتا ہے؟
اگرچہ یہ ایک خالص علمی بحث ہے کہ اگر کسی ملزم کے خلاف شہادت موجود نہیں ہے تو اس  کوجیل کیوں بھیجا جائے؟ اور اگر وہ بے قصور ہے تو اس کو رہا کیسے کیا جائے؟
سب سے پہلے تو یہ سوچنا ہوگا کہ مجرم کیا سوچ رکھتا ہے؟ وہ پولیس کا تفتیشی افسر جو ہرروز عدالت سے ریمانڈ لیکر جاتا ہے وہ کیا سوچتا ہے وہ کس طرح سے  بے گناہوں کو پکڑتا ہے وہ کس طرح سے بے قصوروں  سے رشوت وصول کرتا ہے
جب تک عدلیہ اس سوچ کا تعاقب  نہیں کرتی اس وقت تک وہ  اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کرسکتی
ان تمام مجسٹریٹ حضرات کو خراج تحسین جو  عدلیہ کے وقار کیلئے کوشاں ہیں   جو اپنی عدالتوں میں بے قصور افراد کی ہتھکڑیاں  کھول کر  بے گناہ افراد کو پولیس کے چنگل سے نجات دلاتے ہیں
لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اپنا موازنہ ان افراد سے کیوں کرتے ہیں جو صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر اچھے خاصے شریف آدمی کو شہادت کی غیر موجودگی میں جیل بھیج کر پولیس کے یس مین کا کرادار ادا کرتے ہیں
کیا عدلیہ کے اچھے لوگوں کا پولیس کے ذہنی ماتحت افراد کی حمایت کرنا  کھلا تضاد نہیں ؟
وہ زمانہ چلا گیا جب درخت پر قتل کی ایف آئی آر باندھنے سے درخت سوکھ جاتا تھا وہ زمانہ چلا گیا جب انتظامیہ کے پاس عدلیہ کے اختیارات بھی ہوتے تھے وہ زمانہ بھی چلا گیا جب پولیس  عدلیہ کا کندھا استعمال کرے گی تو ہم خاموش رہیں گے سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر بات کی جائے گی اور بھرپور بات کی جائے گی  
عدلیہ ہر صورت میں پابند ہے کہ وہ ان وجوہات کو  ریکارڈ پر لائے جن کے زریعے  ایک بے گناہ انسان کی آزادی کو ختم کرکے اس کو جیل  بھیجنا ضروری ہوجاتا ہے اگر  صرف اور صرف ایف آئی آر ہی کی بنیاد پر مناسب وجوہات ریکارڈ کیئے بغیر کسی کو جیل بھیجنا ضروری ہوتا ہے   تو یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔ایسے احکامات کے خلاف  ہم اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے

اگر عدلیہ اپنے مجسٹریٹس کی  اس موضوع پرمسلسل تربیت کا اہتمام کرے تو تھانہ کلچر کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہے 

Wednesday, 8 October 2014

یہ زندگی اتنی تو غنیمت نہیں جس کیلئے عہد کم ظرف کی ہر بات کو گوارا کرلیں

کراچی کے مضافاتی علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں
یہ وہ کچی بستیاں ہیں جہاں صرف سر چھپانے کیلئے لوگوں کو جگہ مل گئی ہے
یہاں کی سڑکیں اور گلیاں کچی ہیں نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں ہے اور  اکثر کچی آبادیاں پہاڑی علاقوں میں  موجود ہیں جہاں پررہنا بھی کسی المیئے سے کم نہیں
جرائم کیلئے یہ علاقے ہر لحاظ سے مناسب ہیں یہاں  وہ بچے رہتے ہیں جن کو تعلیم کی مناسب سہولت نہیں ملتی یہاں وہ بچے رہتے ہیں  جن کی تربیت وقت خود ہی کردیتا ہے بیروزگاری یا تو جرم کے راستے پر لیجاتی ہے یا کسی تنظیم سے منسلک کروادیتی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان نے ایسے ہی علاقوں میں قانونی مراکز قائم کیئے قانونی امداد کے ساتھ ہی ہم ایڈوکیسی کے حوالے سے پروگرامات بھی کرتے ہیں جن میں خواتین کی بھی شرکت ہوتی ہے
گزشتہ چند سالوں سے صورتحال بدل رہی ہے کچی آبادیوں میں بھی  ایسے نئے چہرے نظر آتے ہیں جن کا تعلق اس آبادی سے نہیں ہوتا ہے اسی دوران  ان کچی آبادیوں میں کالعدم تنظیموں نے اپنی تنظیم سازی کا عمل بھی مکمل  کرلیا جس کے بعد کراچی کی بنیادی سہولیات سے محروم کچی  بستیاں  کالعدم تنظیموں کی آماجگاہ بن گئی ہیں
اور ایسی تنظیمات جن کے عالمی سطح پررابطے ہیں ۔ بہت سے لوگ اس حقیقت سے نظر چرارہے ہیں کہ کراچی میں  فرقہ واریت کی شدید لہر موجود ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے
ہمارے مقامی آفسز کو ملنے والی دھمکیاں ایک معمول کا حصہ بن گئی  تھیں اور مقامی کمیونٹی کی مکمل حمایت کی وجہ سے شاید ہم نے ان کو سنجیدگی سے لینا چھوڑدیا تھا لیکن بدقسمتی سے یکم اکتوبر 2014 کا دن ہمارے لیئے ایک سیاہ ترین دن ثابت ہوا جب چار مسلح افراد ہمارے ایک پسماندہ علاقے میں واقعہ   ویمن اینڈ چلڈرن کرائسز سینٹر میں داخل ہوئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ  فون پر دھمکی دینے اور اچانک سامنے آکر دھمکی دینے میں فرق ہوتا ہے
مختصر یہ کہ مسلح افراد نے تین دن میں اپنی سرگرمیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلیئے بند کرنے کا حکم دیا اسی دوران انہوں نے میرا بیگ اٹھا لیا جس میں میرا لیپ ٹاپ اور ایک ڈیجیٹل کیمرہ تھا  میرا مکمل ریکارڈ اس لیپ ٹاپ میں موجود تھا اور میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اچانک اس سے محروم ہوجاؤں گا فطری طور پر مزاحمت کی غلطی کی جو کہ سنگین ثابت ہوئی اور ایک مسلح شخص نے ہاتھ میں پکڑے پستول سے میرے سر پر بٹ مارے ایک آنکھ کی چوٹ سنگین ثابت ہوئی نتیجے کے طور پر میں شدید زخمی ہوگیا مسلح افراد فرار ہوگئے اور میرے ساتھیوں نے مجھے اسپتال پہنچایا جہاں آنکھ کا آپریشن ہوا اللہ کا شکر ہے کہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں
اس واقعہ کا کمیونٹی نے سخت نوٹس لیا اور اپنی مکمل حمایت کے ساتھ ہمارے بعض سپورٹرز نے کہا کہ ہم ان  عناصر کے خلاف خود ہی نوٹس لیتے ہیں
ہمیں اپنے دوستوں اور کمیونٹی پر فخر ہے ہم کمیونٹی کو یہ بھی یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک پاکستان کو شدت پسندی سے بچانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ  یہ عناصر کوئی مقامی گروپ نہیں ہیں ان کے انٹرنیشنل رابطے اور انٹرنیشنل ایجنڈا ہے اس لیئے ہم فی الحال کراچی کی کچی بستیوں سے اپنا قانونی امداد کا پروگرام پندرہ دن کیلئے معطل کررہے ہیں اور اپنے سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنا کر ہم اپنے آفسز دوبارہ کھول دیں گے
لیکن میں پاکستان کے پرامن شہریوں  کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بنیادی سہولیات سے محروم ان بستیوں میں ایک لاوہ پک رہا ہے فرقہ واریت  کی فصل تیار ہورہی ہے  ایک نفرت کی ایسی آگ سلگ رہی ہے جو کسی بھی وقت ایک مستقل سانحے کا سبب بن سکتی ہے
کراچی میں مستقبل میں فرقہ واریت ایک مشکل ترین مسئلہ ہوگا ہماری سول سوسائٹی کو اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور کراچی میں فرقہ وارانہ تصادم بہت بڑے پیمانے پر ہوگا جس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے کراچی میں کالعدم تنظیموں نے ایک الگ سے عدالتی نظام بھی تشکیل دے رکھا ہے  جہاں انسانی حقوق  اور خواتین کے حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں  
جن دوستوں نے عیادت کی ان کا شکریہ جن دوستوں نے اپنے تعاون کا یقین دلایا ان کا شکریہ اور میرے بہت سے دوستوں نے حکمت عملی سے کام لینے کا مشورہ دیا میں صرف اتنا کہوں گا مجھے اپنی جان کی کبھی کوئی پرواہ نہیں رہی   لیکن اپنے رضاکاروں اور کمونٹی ممبرز کی جان  ومال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قربانی دیں گے مشکل حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں حکمت عملی سے کام لیں گے لیکن انتہاپسند عناصر کے سامنے سرجھکانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں اس فلسفہ پر یقین رکھتا ہوں کہ
یہ زندگی اتنی تو غنیمت نہیں جس کیلئے
 عہد کم ظرف کی ہربات گوارا کرلیں


Friday, 3 October 2014

جسٹس ٹانگری تحریر صفی الدین




یہ قیام پاکستان سے پہلے کا واقعہ ہے جب اعلٰی عدلیہ میں صرف انگریز جسٹس ہوا کرتے تھے ابھی کالے پیلے لوگوں کو جسٹس بنانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا  اندرون سندھ کے دور دراز علاقے میں ایک غریب کوہلی نوجوان کو  بکری چوری کا جرم ثابت ہونے پر ایک مجسٹریٹ نے دوسال قید کی سزا سنائی
مجسٹریٹ نے ججمنٹ اناؤنس کردی اور اپنے چیمبر میں چلاگیا اس نوجوان کی ماں روتی پیٹتی چیمبر میں گئی اور فریاد پیش کی کہ یہ نوجوان میرا اکلوتا بیٹا ہے اس پر رحم کرو  یہ اگر جیل چلا گیا تو ہم بھوکے مرجائیں گے ہمارا کوئی کمانے والا نہیں ہے جج نے فائل منگوائی بوڑھی عورت باہر چلی گئی اور اس نے  اپنی ججمنٹ کے نیچے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد سزا میں ایک سال کی تخفیف کردی پیشکار نے بوڑھی عورت کو کہا کہ جج صاحب نے سزا ایک سال کردی ہے
بوڑھی عورت دوبارہ اجازت لیکر چیمبر میں گئی اور دوبارہ فریاد کی  اور کہا کہ یہ سزا بھی بہت زیادہ ہے میرا ایک ہی بیٹا ہے یہ کماتا ہے تو ہمارا گھر چلتا ہے آپ رحم کریں ہم بہت غریب ہیں
مجسٹریٹ نے دوبارہ  اس بات کو شیئر کیا اورایک حکم نامہ لکھا اور سزا کم کرکے تین ماہ کردی جس کے بعد  اس پیشکار نے دوبارہ اس بوڑھی عورت کو جاکر یہ بات بتائی جس کے بعد وہ بوڑھی عورت اس کے بچوں کو لیکر اندر گئی اور جج سے دوبارہ فریاد کی کہ یہ اس کے بچے ہیں اور ایک ہی کمانے والا ہے آپ ہمارے حال پر رحم کریں  ہم لوگ جیتے جی مرجائیں گے جس کے اس بوڑھی کے حالات کو سامنے رکھنے کے بعد اس کے چھوٹے بچوں کی حالت کو سامنے رکھنے کے بعد اس نوجوان کی سزا میں مزید کمی کرنے کے بعد اس کو صرف ایک دن کیلئے جیل بھیج دیا اور ایک بار پھر اپنے اناؤنس شدہ حکم نامے میں ترمیم کی
کورٹ اسٹاف  تو ازل سے ہی چغل خور رہا ہے ذراسی دیر میں یہ بات سیشن جج تک پہنچ گئی سیشن جج نے طلب کیا مجسٹریٹ نے کہا  میں نے جو مناسب سمجھا کیا ہے
سیشن جج نے فوری طور پر کیس کا ریکارڈ طلب کیا اور کراچی میں موجود سندھ ہایئکورٹ کے پاس بھیج دیا چند روز بعد سندھ ہایئکورٹ نے اس مجسٹریٹ کو طلب کیا
جب مجسٹریٹ  انگریز جسٹس کے چیمبر میں داخل ہوا تو اس نے اسے مخاطب کیا  اور کہا کہ جسٹس ٹانگری آپ تشریف رکھیں
یہ سن کر مجسٹریٹ پریشان ہوگیا وہ سمجھا کہ شاید جسٹس صاحب طنزیہ طور پر اس کو جسٹس ٹانگری کہہ رہے ہیں اب خیر نہیں
انگریز جسٹس نے کہا کہ  آپ نے بالکل ٹھیک کیا اچھا آرڈر کیا آپ نے ہم یہاں بیٹھے ہیں ہمیں دور دراز کے لوگوں کے حالات مسائل نہیں پتہ آپ وہاں موجود ہیں آپ نے اس علاقے کے حالات و واقعات کو سامنے رکھنے کے بعد بالکل ٹھیک حکم جاری کیا ہے
اس بات پر اس انگریز جسٹس نے مجسٹریٹ کی بہت حوصلہ افزائی کی

ہم کبھی کسی فرد کو نشانہ نہیں بناتے اور سسٹم میں بہتر تبدیلی کیلئے کوشاں ہیں  
  ایک مجسٹریٹ کا عہدہ اور اختیار چیف جسٹس سے بھی زیادہ ہے  اگر اس کو اپنے آدھے اختیارات کا بھی علم ہوجائےاگر ایک مجسٹریٹ مکمل لیڈرشپ کے ساتھ اپنے اختیارات کو استعمال کرے تو سارا معاملہ ہی ختم ہوجائے گا اور تھانہ کلچر کیوں ختم نہیں ہوگا؟
سوشل میڈیا پر اگر ہم کسی پر تنقید کرتے ہیں کسی عدالتی حکم نامے کو شرمناک قرار دیتے ہیں تو یہ ایک جرم ہے اور سائیبر کرائم ہے تو متاثرہ شخص کو چاہیئے کہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے اور ہمارے خلاف سایئبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کروائے ہم ہمیشہ اس کے احسان مند رہیں گے اس معاملے پر اگر کوئی ہمارے ساتھ رعایت کرتا ہے تو وہ بھی مجرم ہے
صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر جب مجسٹریٹ کے سامنے یہ شہادت پیش کی جاچکی ہو کہ ملزم بے گناہ ہے اور ملزم کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو اور مجسٹریٹ ملزم کی بے گناہی کا خود گواہ بن گیا ہو تو ایسی صورت میں ایک مجسٹریٹ کو چاہیئے کہ وہ "جسٹس ٹانگری" بن جائے اور وہ ایک بااختیار انسان ہونے کا مظاہرہ کرے

چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم اس معاملے کی تہہ تک ضرور جائیں گے وہ کیس لاء کس کے پاس موجود ہے جس کے تحت ایک بے گناہ انسان کو جیل بھیجنے کا قانونی جواز ہے