Wednesday, 23 December 2015

نادیہ گبول کی فاتحانہ مسکراہٹ تحریر صفی الدین اعوان





دس سال پرانی بات ہے ہمارے ایک جاننے والے  منیب   بھائی جوکہ  میمن ہیں اور اسٹاک مارکیٹ
 سے وابستہ ہیں ان کا اکلوتا بیٹا  احمد جگر کے مرض میں مبتلا ہوگیا  ۔ اللہ نے خوب  دولت سے نوازا تھا اکلوتے بیٹے کی جان بچانے کیلئے پیسہ پانی کی طرح بہایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی آخر کار رہائیشی مکان کے علاوہ سب کچھ خرچ کرڈالا کاروبار  دکانیں  کار اور  بیوی کا زیور سمیت سب کچھ بیچ دیا
پھر کسی نے بتایا کہ جگر کی پیوند کاری انڈیا میں ہوتی ہے  یہ سن کر اپنا مکان بھی بیچ ڈالا اور انڈیا گئے آپریشن کامیاب نہ ہوا اورواپس آگئے  بیٹے کا انتقال ہوگیا
اس دوران وہ مالی پریشانی کا شکار ہوچکے تھے ۔ سب  دولت خرچ ہوچکی تھی۔ اور آخری سہارا مکان تک بک چکا تھا اور مزید ظلم یہ کہ اکلوتے بیٹے کی جان بھی نہیں بچی تھی
ایک سال بعد میں ان کے ساتھ لنچ کررہا تھا میں نے پوچھا کہ جب آپ انڈیا جارہے تھے تو آپ کو اندازہ تھا کہ آپ کے اکلوتے بیٹے احمد کی جان بچ جائے گی انہوں نے کہا کہ مجھے ڈاکٹر نے بتایا کہ امید بہت کم ہے

میں نے کہا کہ کیا سب کچھ خرچ ہوگیا
احمد کے والد نے کہا کہ ہاں سب کچھ خرچ ہوگیا اب کوئی اثاثہ نہیں ہے

میں نے کہا کہ  اگر وقت واپس آجائے اور آپ کو یہ یقین ہوکہ آپ کے بیٹے کی جان نہیں بچے گی تو  آپ کیا کریں گے مطلب کہ کیا آپ کو اگر یہ موقع دیا جائے تو کیا آپ دوبارہ بھی اسی طرح اپنا سب کچھ خرچ کردیں گے
منیب بھائی مسکرائے  اگر وقت دوبارہ واپس آجائے مجھے یہ یقین ہو کہ میرے اکلوتے بیٹے کی جان نہیں بچائی جاسکتی  اس کے باوجود مجھے دوبارہ بھی موقع مل جائے  تو میں اپنی ساری دولت دوبارہ بھی اپنے بیٹے پر خرچ کردوں گا یہاں تک کہ اپنا رہائیشی مکان بھی دوبارہ بیچ دوں گا  مجھے ایک فیصد بھی یقین نہ ہو کہ میرے بیٹے کی جان نہیں بچ سکتی پھر بھی میں پوری کوشش دوبارہ بھی کروں گا  اور اس کے بعد اگر دوبارہ بھی میں غریب ہوجاؤں گا تو مجھے دوسری  بلکہ تیسری بار بھی افسوس نہیں ہوگا  یہ بات کہتے ہوئے منیب بھائی کی انکھ میں  نہ آنسو تھا نہ سب کچھ کھونے کا پچھتاوا
انسان اپنی اولاد سے بہت محبت کرتا ہے

بسمہ کے والد نے جو کچھ کیا اپنی سوچ کے مطابق کیا خدا کسی باپ پر وہ وقت نہ لائے  صوبے کے وزیراعلٰی نے بسمہ کے والد کے ساتھ چند منٹ  وزیراعلٰی سندھ سے تنہائی میں ملاقات کی جس کے بعد جب  بدنصیب بسمہ کا بدنصیب باپ  گھر سے باہر آیا تو اس کا بیان تھا کہ  کوئی ذمہ دار نہیں اس کی بیٹی کا وقت ہی پورا ہوچکا تھا
 بدنصیب  والد کے پیچھے کھڑی انسانی حقوق کی وزیر نادیہ گبول پراسرار انداز میں فاتحانہ طور مسکرا رہی تھی


Wednesday, 9 December 2015

مجسٹریٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان





یہ اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے ۔ ایک قتل کا ملزم بھی عدالت میں اتنا ہی خوار ہوتا ہے  جتنا کہ ڈبل
 سواری کا خطرناک ملزم   اسی طرح  ایک ڈاکو بھی کورٹ میں اتنا ہی خوار ہوتا ہے جتنا کہ گواہی دینے کیلئے آنے والا گواہ
یہ اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے کہ سب کیلئے خواری کا ایک ہی معیار مقرر ہے
یہ اندھیر نگری اور نااہل عدالتی افسران کی خدمات ہیں جن کی وجہ سے پولیس اور رینجرز دن دیہاڑے مجبور ہوکر ملزمان کا ان کاؤنٹر کرتے ہیں  اصلی  ملزمان  کو جعلی پولیس مقابلے میں ماردیتے ہیں اور ہم سب ایسی خبر پر اطمینان کا سانس  لے لیتے ہیں ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ اب پولیس کا تفتیشی افسر  کسی مجسٹریٹ کے ساتھ مل کر اس کے کیس کو کمزور نہیں کرسکے گا
ہمیں سکون ہوجاتا ہے کہ ملزم اب کبھی بھی ضمانت پر باہر نہیں آئے گا کیونکہ ملزم کو ایسی جگہ بھیج دیا گیا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا

اگر ہماری عدالتوں میں تربیت یافتہ مجسٹریٹ تعینات کردیئے جائیں جو تفتیشی افسران  کے منشی کے طور پر کام نہ کریں اور بحیثیت جج کام کریں تو  کراچی کی عدالتوں سے  اسی فیصد سے زائد مقدمات ختم ہوجائیں  کیونکہ  80 فیصد سے زیادہ مقدمات نااہل مجسٹریٹس کی نااہلی  کا نتیجہ ہوتے ہیں  سندھ میں مجسٹریٹ جیسے  حساس عہدے کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ صرف ایک دن کا تجربہ رکھنے والا  سندھ بار کونسل سے لائیسنس حاصل کرنے ولا ناتجربہ کار لڑکا یا لڑکی مجسٹریٹ جیسا اہم عہدہ حاصل کرسکتا ہے پھر اس  ظلم کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ پولیس بے گناہوں کو مقدمات میں نامزد کرتی رہتی ہے اور ربڑ اسٹمپ مجسٹریٹ     اپنا کام کرتا رہتا ہے۔
ہمارے وہ تمام دوست اور احباب جو جوڈیشل مجسٹریٹس کو "بے اختیار" سمجھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ہرگز ہرگز  بے اختیار نہیں جیسا کہ تصور کرلیا گیا ہے اتنا ضرور ہے ہے کہ بحیثیت ایک برٹش کالونی   کے چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی موجود تھے جن کو انتظامیہ استعمال کرتی تھی اصولی طور پر انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات اکٹھے نہیں ہوسکتے اس لیئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی کوئی پولیس نہیں ہوتی اور پولیس کی کوئی عدالت نہیں ہوتی لیکن یہ صرف مہذب ممالک کیلئے ہے


انتظامیہ کی عدلیہ سے علیحدگی ایک زمانے میں بہت بڑا نعرہ تھا  کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے تفتیش میں بے جا اور ناجائز مداخلت ہوتی تھی اسی وجہ سے اعلٰی عدالتوں کے فیصلہ جات  جن کا تعلق تفتیش میں مداخلت سے ہے وہ سول انتظامیہ کے افسران تھے عدالتی افسران کو مخاطب نہیں کیا گیا
جب بھی ہم نے تفتیش کے دوران عدالتی اختیارات کی بات کی تو ہمارے دوست احباب وہی عدالتی فیصلے لیکر آجاتے ہیں جن کے تحت انتظامیہ سے منسلک عدالتی اختیارات کے حامل مجسٹریٹ صاحبان کو اختیارات حاصل تھے  دوستو یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم عدالتی نظام کی برائیاں بیان کرنے کیلئے ہرگز نہیں بیٹھتے نہ ہی ہمارا وقت اتنا فالتو ہے کہ عدالتی نظام کی خامیاں گنواتے رہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ مشکلات جو روزمرہ پیش آتی ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں یہاں ایک اور معاملہ بھی ہے کہ مجسٹریٹ تو ایک انتظامی اختیارات کے استعمال کا عہدہ ہے کیونکہ مجسٹریٹ جو حکم جاری کرتا ہے ان کی حیثیت انتظامی نوعیت کی ہوتی ہے  اور یہ بہت بڑی اور اہم بحث ہے جس پر سالہا سال سپریم کورٹ میں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے
میں نے کئی بار ذکر کیا کہ کراچی کے ایک سیشن جج  جو اب  سندھ  ہایئکورٹ  کے رجسٹرار ہیں  نے جب کراچی میں آن لائن عدلیہ کا تجربہ کیا تو اس نے کسی عدالتی اصلاح کا انتظار نہیں کیا اور وہ کرگزرا اور ایک کامیاب تجربہ کے زریعے یہ ثابت کیا کہ اصلاح کا انتظار کرنے والوں کا مؤقف درست نہیں  ان کا یہ مؤقف غلط ہے کہ پارلیمنٹ نئی قانون سازی کرے بلکہ جو لوگ تبدیلی لانا چاہیں  اور ان کی نیت  بھی صاف  ہوان کیلئے ہر وقت ماحول سازگار ہوتا ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کی سطح پر ہایئکورٹ مجسٹریٹ کانفرنس منعقد کی جائے
کیونکہ جب تک مجسٹریٹ صاحبان کے اختیارات کا تعین نہیں ہوجاتا اس وقت تک بہت سے معاملات اٹکے ہی رہیں گے اور مجسٹریٹ پولیس کے منشی کے طور پر کام کرتا رہے گا  پولیس کے سیاہ کرتوتوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتا رہے گا
مجسٹریٹ کانفرنس اس لیئے بھی ضروری ہے کہ یہی وہ  فورم ہے جہاں سے عدلیہ انتظامیہ کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کا آغاز کرتی ہے اور یہی وہ فورم ہے جو تھانہ کلچر کا خاتمہ کرسکتا ہے

کہاں وہ شان و شوکت کہ پورے ضلع کا پولیس افسر باہر بیٹھ کر مجسٹریٹ سے ملاقات کا منتظر
اور کہاں بے خبری کا یہ عالم کہ ہمارے مجسٹریٹ یہ سوال کرتے ہیں کہ تفتیش کے دوران کامن سینس استعمال کرنا ضابطہ فوجداری کی کس سیکشن کے تحت آتا ہے اسی سوچ کا نام ہی پولیس کی منشی گیری ہےاور اسی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے  اور اسی سوچ کو بدلنے کیلئے ہرسال جوڈیشل مجسٹریٹ کانفرنس کی ضرورت ہے
آپ  کراچی کے کسی بھی مجسٹریٹ کی عدالت میں جاکر چیک کرلیں  وہاں کا ایف آئی آر رجسٹر مکمل نہیں ہوگا نہ ہی چوبیس گھنٹوں کے  اندر  تھانے میں رجسٹر ہونے والی ایف آئی آر کی کاپی  تھانے سے کورٹ کو سپلائی کی جاتی ہے وجہ صاف ظاہر ہے پولیس اپنے منشی کو اتنی لفٹ کیوں کرائے گی   یہی وجہ ہے کہ کراچی کے کسی بھی تھانے سے کورٹ میں ایف آئی آر وقت پر نہیں آتی خاص طورپر ڈسٹرکٹ ملیر کی حالت سب سے بری ہے 

ایسے ماحول میں ضروری ہوجاتا ہے کہ سندھ ہایئکورٹ فوری طور پر سالانہ بنیادوں پر مجسٹریٹ کانفرنس کا انعقاد کرے جس میں بطور انتظامی افسر عدالتی افسر کے کردار کو زیر بحث لایا جائے  
جوڈیشل مجسٹریٹ کانفرنس کا سب سے بڑا اور اہم ترین مقصد یہ ہونا چاہیئے کہ کس طرح  مجسٹریٹس کو تفتیشی افسران کی منشی گیری والے کام سے نجات دلائی جائے  یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے
ایک تجربہ کار جوڈیشل مجسٹریٹ جو اپنے  علاقے کے تفتیشی افسران کا منشی نہیں ہوگا صرف ایک شخص اپنے  علاقے سے غیر قانونی  حراست کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کرسکتا ہے اور وہ ایک تربیت یافتہ مجسٹریٹ  ہی ہوسکتا ہے  

حالیہ دنوں میں سندھ ہایئکورٹ نے عدلیہ سے بہت سے "ڈاکو" صاف کردیئے ہیں  کئی  رشوت  خور  اپنے عہدوں  سے فارغ  ہوچکے ہیں  یا  ان کو جبری  طور پر فارغ  کردیا گیا ہے  لیکن ابھی  بھی بہت  سے باقی  ہیں یہ ایک اچھا قدم ہے لیکن اگلاقدم نااہل جوڈیشل افسران کے خلاف ہونا چاہیئے  کیونکہ نااہل عدالتی افسران  بھی اپنی نااہلی کے زریعے عوام کا استحصال کرتے ہیں 

Monday, 26 October 2015

"ریاست اپنے اختیارات واقتدار کو عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کے زریعے استعمال کرے گی" تحریر صفی الدین اعوان

مجھے تیزاب سے متاثرہ چہرے دیکھ کر آئین پاکستان یاد آجاتا ہے جس طرح تیزاب سے بگڑے ہوئے چہرے کبھی بحال نہیں ہوتے اسی طرح  جب ڈکٹیٹروں نے آئین پاکستان  پر تیزاب گردی کی تو اس کا  اصل چہرہ ہی مسخ ہوگیا ہے 
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ تیزاب گردی کا شکار ایک لڑکی جس کا نام سدرہ ہے اس نے ایک سیمینار میں  بتایا کہ اس کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ یہ آواز تو میری امی کی ہے لیکن چہرہ امی کا نہیں میری امی کب واپس آئیگی پروگرام کے دوران سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر محترمہ شہلا رضا نے لڑکی سے پوچھا کہ  اس کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو سدرہ کی  معصوم خواہش نے کئی لمحات کیلئے سب کو افسردہ  اور اشکبار کردیا جب سدرہ نے یہ کہا کہ مجھے میرا چہرہ واپس چاہیئے 
میں  فوجی  ڈکٹیٹروں  کی جانب سے   تیزاب گردی کا شکار آئین پاکستان کو دیکھتا ہوں تو کئی لمحات کیلئے افسردہ ہوجاتا ہوں  سدرہ  کے چہرے پر صرف ایک بار تیزاب پھینک کر جلایا گیا جبکہ اس کا ملزم بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے جبکہ   موجودہ آئین پاکستان پر تو دوبارڈکٹیٹر نے  تیزاب سے حملہ کرکے اس کا چہرہ مسخ کیا گیا  جبکہ  ملزم  آزاد گھوم رہا ہے ارضا ربانی صاحب کی سربراہی میں بننے والی    ستائیس  رکنی آئینی کمیٹی برائے اصلاحات  جس  میں  اقلیتی  برادری   کا کوئی  نمائیندہ  نہیں تھا بھی اس کی  مکمل سرجری کرنے میں ناکام رہی  ڈکٹیٹروں کی  آئین پاکستان پر کی جانے والی تیزاب  گردی نے سب سے  زیادہ اقلیتی برادری کو متاثر کیا  لیکن تمام کوششوں کے باوجود  آئین پاکستان کا اصلی چہرہ بحال نہیں ہوسکا
آیئے دیکھتے ہیں کہ اقلیتی نشستوں پر ووٹ کا حق ختم ہوجانے کے بعد  اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے  پنو ٹھاکر کو  اپنے نمائیندوں کی جانب سے کس رویئے کا سامنا کرنا پڑتا ہے
 پاکستان کی اقلیتی  برادری سے تعلق رکھنے والا مظلوم پنو  ٹھاکر   بہت سی  توقعات  لیکر جب  اپنی برادری کے ایم پی اے کے پاس آیا تو اس کی توقع کے خلاف ایم پی اے ساب نے  نہ صرف ملاقات کیلئے ٹائم  دینے سے انکار  کردیا ۔ لیکن پھر بھی  وہ صبح سویرے سے ہی  ایم پی  اے  ساب سے  ملاقات  کیلئے انتظار کررہا تھا
اقلیتی  برادری سے تعلق  رکھنے والا ایم پی اے جو صوبائی وزیر بھی تھا اور کوئی عام وزیر نہیں ایک انتہائی بااثر قسم کا وزیر تھا۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا پنو ٹھاکر اپنی بیوی اور بچی کے اغوا کی فریاد لیکر اقلیتی برادری کے ایک ایم پی اے کے پاس گیا تھا ۔ کیونکہ اس کی بیوی اور بیٹی کے اغواء کے بعد انتظامیہ اس سے تعاون نہیں کررہی تھی  ۔ پنو ٹھاکر یہ سمجھ رہا تھا کہ  اس کی برادری کا صوبائی وزیر اس کی فریاد سن کر تڑپ اٹھے گا اور اس کی بیوی  اور بیٹی کی بازیابی کیلئے پولیس کے اعلٰی افسران سے بات کرے گا  لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نکل آیا۔اس کی اپنی ہی  برادری کے  اقلیتی نمائیندے نے تو ملنا بھی گوارہ نہیں اسی دوران صوبائی وزیر صاحب  گھر سے  محافظوں  کے لشکر کے ساتھ اسمبلی جانے کیلئے نکلے تو پنو ٹھاکر نے راستہ روک لیا اور کہا  ساب میں صبح سے یہاں بیٹھ کر آپ کا انتظار کررہا ہوں  ۔آپ اسمبلی میں ہماری نمائیندگی کیلئے منتخب ہوئے ہیں آپ نے تو ملنا بھی گوارا نہیں کیا  ساب میری بیوی اغواء ہوگئی بیٹی کو  بھی ساتھ میں اغواء کرلیا  ۔ آپ ہمارا ساتھ دیں آخر آپ کس بات کے ہمارے نمائیندے ہیں  آپ اقلیتوں کے نمائیندے ہیں  کچھ تو حق  ادا کریں  آپ تو ملنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔  اس سے پہلے کہ   ایم پی  اے کے محافظ اس حقیر بے توقیر پنو ٹھاکر کو دھکیل کر راستے سے ہٹاتے  ایم پی اے صاحب  نے  اپنے گن مین  کو ایک منٹ کیلئے روکا اور پنو ٹھاکر کی بات سن  کر اقلیتی برادری کے نمائیندے نے قہقہہ لگایا اور کہا پنو ٹھاکر  کس نے کہا کہ میں تم لوگوں کا نمائیندہ ہوں ۔ یہ کس  گدھے نے کہا کہ میں اقلیت کا نمائیندہ  ہوں ۔کیا میں نے تم سے کبھی ووٹ مانگا۔ کیا تم نے کبھی مجھے ووٹ دیا۔ تم نے مجھے ووٹ  دیا ہی  نہیں میں نے تم سے ووٹ  مانگا ہی نہیں مانگا پھر میں تمہارا کس بات کا نمائیندہ ہوں۔  میں نے تو یہ سیٹ تجارت  کے ذریعے لی ہے  ۔ یہ سیٹ  نیلامی میں  فروخت  ہورہی تھی میں  نے سب سے زیادہ  قیمت ادا کرکے  یہ سیٹ  خرید  لی ۔میں نے یہ سیٹ الیکشن سے نہیں   جیتی  بلکہ  اپنی ایک پوری فیکٹری  حکمران پارٹی کو تحفہ دے کر خریدی ہے  ۔ یادرکھو کان کھول کر سن لو  تم مجھے  کبھی بھی ووٹ مت دینا ۔ میں تم سے ووٹ  کبھی بھی نہیں مانگوں گا اور میں  تم جیسے ٹکے ٹکے  کے لوگوں  سے ووٹ مانگنا تو دور کی بات  میں ہاتھ ملانا بھی گوارہ  نہیں کرتا  میں تمہارے ووٹ پر لعنت بھیجتا ہوں ۔  نہ  پہلے کبھی ووٹ  مانگا ہے نہ آئیندہ  کبھی مانگوں گا۔تعجب ہے تم اتنے  بے خبر  کیوں ہو کہ  اقلیتوں کی نشستوں پر الیکشن  نہیں ہوتے  اقلیتوں کی نشستیں برائے  فروخت  ہیں   ہم ووٹ  لیکر نہیں پیسہ  خرچ کرکے  آئے ہیں یہ کہہ کر صوبائی وزیر نے جیب سے سو روپیہ نکال کر پنو کو دیا اور کہاکہ یہ واپسی کا کرایہ ہے اپنا  خیال رکھنا  اور مظلوم اقلیتی برادری کا ایم پی اے  محافظوں کی فوج کے ساتھ اسمبلی کے  سیشن کیلئے روانہ ہوگیا ۔
جی ہاں  آج پاکستان کی اقلیتی برادری حیران اور پریشان ہے کبھی وہ آئین پاکستان میں کیئے گئے وعدوں کی طرف دیکھتی ہے کبھی قرارداد مقاصد کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی آئین کی بنیادی تمہید کی طرف  اور کبھی عدلیہ کی طرف کہ جسے   عدالتی نظرثانی کا حق دیا گیا ہے۔ کبھی اقلیتیں تصدق حسین جیلانی کے تاریخی فیصلے کو پڑھتی ہیں تو کبھی جسٹس جواد ایس خواجہ  کے تاریخی اختلافی نوٹ  کو پڑھتی ہیں جو  اکیسویں ترمیم کے حوالے سے ججمنٹ میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے تحریر کیا ہے ۔ اور کبھی اقلیتیں قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات کو پڑھتی ہیں جن میں اقلیتوں کے جداگانہ انتخاب کی بات کی گئی ہے ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس وقت اقلیت سے مراد مسلم اقلیت تھی۔
ایک ڈکٹیٹر آئین پاکستان کا حلیہ اس قدر بگاڑ چکا تھا کہ اس کی بحالی کیلئے اٹھارویں ترمیم کی صورت میں آئین پاکستان کی پلاسٹک سرجری کرنا پڑی لیکن تیزاب زدہ چہرے پلاسٹک سرجری کے بعد بھی مکمل طور پر بحال کبھی نہیں ہوتے شاید یہی حال آئین پاکستان کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔کیونکہ  آئین پر جو چرکے جناب ضیاءالحق صاحب لگا گئے تھے ابھی تو ان کے نشان بھی باقی تھے کہ   دوسرے ڈکٹیٹر نے رہی سہی کسر بھی نکال دی
پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات نے اٹھارویں ترمیم کے سلسلے میں کل ستتر 77 اجلاس کیئے  اور کل  تین سو پچاسی گھنٹے  پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات کے اجلاس منعقد ہوئے  ۔ ہر ترمیم کے حوالے سے کاروائی کا ریکارڈ ملتا ہے۔مختلف اراکین کے اختلافی اور حمایتی نوٹس بھی موجود ہیں  لیکن  حیرت انگیز طور پر  کمیٹی اقلیتوں کے معاملے کو نظر انداز کرگئی  مشرف کے دور میں  اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر الیکشن کا حق  ختم کرکے آئین پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔ کیونکہ  پاکستان کی عوام نے منتخب نمائیندوں کو آٹھ ہدایات جاری کی ہیں جن میں ترمیم ممکن نہیں ہے  پہلی ہدایت یہ ہے کہ

"ریاست اپنے اختیارات  واقتدار کو  عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کے زریعے استعمال کرے گی"
اس کا مطلب یہ ہوا کہ  آئین پاکستان کے تحت  سیلیکشن کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے آگے چل کر  بنیادی متن مزید یہ کہتا ہے کہ
"جمہوریت، آزادی ،مساوات،رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں  پر جیسا کہ اسلام نے اس کی تشریح کی ہے  پوری طرح اس پر عمل کیا جائے گا"
اگر ہم ان دوبنیادی اصولوں کو ذہن میں رکھیں تو  یہ بات سامنے آتی ہے کہ  غیر منتخب نمائیندہ چاہے وہ کسی بھی مخصوص نشست پر منتخب ہوا ہو آئین پاکستان کے تحت پارلیمان میں اجنبی ہے ۔ کیونکہ  ریاست اپنے اختیارات و اقتدار کو  غیر منتخب نمائیندوں کے زریعے استعمال کرہی نہیں سکتی ۔ 
 آئینی کمیٹی برائے اصلاحات میں  کل ستائیس افراد شامل تھے ان میں اقلیت کا ایک بھی نمائیندہ موجود نہیں تھا۔ اس طرح پاکستان کی آئینی تاریخ کے اس اہم ترین مرحلے میں اقلیتی آبادی کی کوئی نمائیندگی موجود  نہیں تھی حالانکہ   اقلیتی نمائیندوں نے قیام پاکستان کے بعد آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور قرارداد مقاصد پر  جو اعتراض اس زمانے میں کیئے گئے تھے  انیس سو تہتر میں ان کی رائے کو تسلیم کرکے اس بات کا ثبوت دیا گیا کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد  ایک بہترین سیاسی شعور رکھتے ہیں
اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے آئینی کمیٹی برائے اصلاحات کا جو ریکارڈ موجود ہے اس کے مطابق   اصلاحاتی کمیٹی نے  اقلیتوں کی مخصوص نشستیں جو  ان کا حق ہے اقلیتوں کا جائز حق بھی  خیرات کے طور پر غیر منتخب افراد کو دینے کے معاملے پر کوئی بحث ہی نہیں کی  گئی ہے اور صرف   سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے اس معاملے پر ایک تائیدی نوٹ لکھا اور مخصوص نشستوں کی مخالفت کی ہے۔اس کے علاوہ  اقلیتوں کا معاملہ  آئینی کمیٹی  برائے اصلاحات  کے سامنے زیربحث  ہی نہیں  آیا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آئینی کمیٹی برائے اصلاحات نے اقلیتوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں  اس سے یہ معاملہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے ۔
اس لیئے جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرنے کے بعد  اور آئین پاکستان میں  عوام کی جانب سے منتخب نمائیندوں کو  دی گئی پہلی ہدایت کو  ہی نظر انداز کردیا گیا کہ   "اس  ریاست کا اقتدار و اختیار منتخب نمائیندوں کے زریعے  استعمال کیا جائے گا "جس کے بعد مشرف دور میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر ووٹ کا جو حق ختم ہوا تھا اس غیر آئینی ترمیم کو بحال رکھا گیا ۔ جہاں مشرف دور کی خامیوں کو برقرار رکھا گیا وہاں مشرف دور میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ بلدیاتی اداروں میں  اقلیتوں کی  سیٹوں کا کوٹہ  مخصوص  کیا گیا اور بلدیاتی سطح پر اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر   بھی  جنرل بالغ رائے دہی کے ذریعے امیدوار منتخب کیئے گئے ۔ اس  طریقہ کار کو اقلیتوں نے پسند کیا تھا ۔ میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ  اس بات پر بھی بحث کی ضرورت ہے کہ ایسا کونسا جمہوری طریقہ متعارف کروایا جائے جس کے تحت اقلیتوں کے نمائیندے منتخب ہوکر سامنے آسکیں ۔  لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ سندھ اور پنجاب   نے مشترکہ طور پر ایک جیسی ترامیم کرکے بلدیاتی سطح پر بھی اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر ووٹ کا حق ختم کردیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی لیبر، خواتین اور یوتھ کی نشستوں پر بھی ووٹ کا حق ختم کردیا گیا ہے ایک طرف آئین پاکستان ہے جو غیر منتخب  افراد کو اقتدار اور اختیارات کے استعمال کے حوالے سے مکمل طور پر  اجنبی قرار دیتا ہے  تو دوسری طرف  پاکستانی سیاستدانوں کے غیر جمہوری رویئے ہیں  جوہر حال میں پاکستان کے اندر غیر جمہوری  اصولوں  کی فصل کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں ۔ ایسی  صورت میں  ہمارے پاس صرف دو ہی امیدیں باقی بچتی ہیں  ہماری پہلی امید  سول سوسائٹی ہے جس نے آئین پاکستان کی بحالی کی جنگ لڑنی ہے ،ہماری دوسری اور آخری امید سپریم کورٹ آف پاکستان ہے  جس  نے اب عدالتی نظرثانی کا حق بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا
میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ  اقلیتوں اور عورتوں کی مخصوص نشستوں کو بھی ہر صورت میں جمہوری دھارے میں لایا جاسکتا ہے اس حوالے  سے دنیا بھر میں  بہت سے طریقے موجود ہیں جن کو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہاں سب سے اہم ترین مسئلہ اقلیتوں کی نشستیں ہیں ۔ جن پر الیکشن کروائے ہی نہیں جارہے۔ جن پر الیکشن کا حق ختم کرکے غیرمنتخب افراد کو نمائیندگی دینے کے بعد ریاست کا اقتدار واختیار ان کے ہاتھ میں دے کر آئین پاکستان اور پاکستانی عوام  کی توہین کی گئی ہے ۔  قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں   آئین پاکستان اور پاکستانی عوام کی توہین کے بعد یہ سلسلہ اب  بلدیاتی اداروں تک  وسیع کردیا گیا ہے اور  غیر منتخب افراد کے زریعے  بلدیاتی اداروں کا نظام بھی  چلانے کی کوشش کی جائیگی ۔ ایک جمہوری دور میں جمہوریت کے خلاف اس  سے بڑی سازش کیا ہوگی کہ ایسی قانون سازی کی جارہی ہے جس کے زریعے جمہوری اداروں کی جڑوں کو ہی کھوکھلا کیا جارہا ہے دومختلف برسر اقتدار سیاسی جماعتوں  کی موجودگی میں  سندھ اور پنجاب میں  ایک جیسی ترامیم  آنا بھی  ایک سوالیہ نشان ہے کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہورہی کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے  مشترکہ طور پر غیر آئینی  اور غیر جمہوری رویئے کا اظہار کیا ہے   ریاست کا اقتدار و اختیار  غیر جمہوری طریقے سے  ایسے افراد کے حوالے کیا جارہا ہے جن کو بالغ حق رائے دہی کے ذریعے کسی نے منتخب ہی نہیں کیا جو آئین کی نظر میں اقتدار و اختیار چلانے کیلئے اجنبی ہیں ۔
مجھے ایک نواب زادے کا سچا واقعہ یاد آگیا۔ جب  ضیاء الحق کے بعد جمہوریت بحال ہوئی تو ایک  ریاست کا نواب زادہ  ایک جلسہ عام سے خطاب کررہا تھا اس نے بھرے جلسے میں عوام کو مخاطب ہوکر کہا کہ میرے مخالفین مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں  خاندانی  نواب ہوں  اسی لیئے مغرور ہوں ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نواب ابن نواب ہوں لیکن میں  ہر گز ہر گز مغرور نہیں ہوں  کیونکہ اگر میں مغرور ہوتا تو تم  جیسے ٹکے ٹکے کے لوگوں سے ووٹوں مانگنے کبھی نہیں آتا

اس  جلسہ عام کے بعد نواب صاحب کی الیکشن کے دوران ضمانت ہی ضبط ہوگئی  اور وہ اپنی خاندانی نشست سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ کیونکہ جن لوگوں کو وہ حقیر بے توقیر سمجھ رہا تھا ان لوگوں نے ووٹ کے زریعے اپنے جیسا ایک غریب نمائیندہ منتخب کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی حق آج اقلیتیں بھی مانگ رہی ہیں 

Wednesday, 23 September 2015

کیا عروج کیا زوال ٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

کیا عروج کیا زوال
ہمارے علاقے کے مقامی  گورنمنٹ اسکول میں بیالوجی کا ٹیچر نہیں تھا  چند معزز شہری ضلع کونسل کے ممبر کے پاس گئے اور  اس کے سامنے مطالبہ رکھا کہ  اسکول میں بائیولوجی کے ٹیچر کی سیٹ منظور کروائی جائے  معزز ممبر نے بات تحمل سے سنی اور نہایت سنجیدگی سے کہا کہ یہ  "بائیولوجی " کیا چیز ہوتی ہے پہلے تو مجھے یہ سمجھاؤ  اس کے بعد بات ہوگی  کافی سمجھایا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا آخر اس نے زچ ہوکر کہا کہ اتنے معززین آئے ہیں تو  یہ  " بائیولوجی "کوئی کام ہی  کی چیز ہوگی معزز ممبر شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید  سڑک  کی کسی نئی  قسم کو بیالوجی کہتے ہیں یا یہ کوئی کنواں یا ٹیوب ویل شکل کی کوئی  چیز ہوگی یا واٹر سپلائی  کی کوئی نئی قسم ہوگی  خیر جس دن ضلع کونسل کا اجلاس تھا معززین  نے ممبر صاحب کو بائیولوجی  بائیولوجی ،بائیولوجی  کا خوب رٹے  لگوا کر ضلع  کونسل  کے دروازے تک لیکر آئے یا اجلاس شروع ہوا تو ہمارے ممبر نے  سب سے پہلے کھڑے ہوکر یہ  رٹا ہوا مطالبہ کیا کہ  میرے گاؤں کے اسکول کیلئے بایئولوجی کے ٹیچر کی سیٹ منظور کی جائے چیئرمین نے منظوری دے دی اسی دوران ہماری ایک حریف یونین کونسل کا ممبر بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ جو چیز ملک صاحب کیلئے منظور کی ہے وہ میرے گاؤں کیلئے بھی منظور کی جائے  خیر چیئرمین نے دوسرے گاؤں کیلئے بھی منظوری دی  چائے کہ وقفے میں ضلع کونسل کے معزز ممبران آپس میں ڈسکس کرتے رہے کہ  یہ بائیولوجی کس بلا کانام ہے  اور بایئولوجی کی سیٹ پر خوب مزاق ہوا اس طرح  بایئولوجی کے ٹیچر کا مسئلہ حل ہوا
جب ہم جوڈیشل ریفارم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے  جو شخص  کم ازکم کروڑ روپیہ خرچ کرکے صدر یا جنرل سیکریٹری کی سیٹ  پر منتخب ہوتا ہے وہ اتنا بے وقوف ہرگز نہیں ہوتا کہ   عدالتی اصلاحات  کے چکر میں  پڑ کر اپنا قیمتی ٹائم ضائع کرے کیونکہ منتخب لوگوں کو عدالتی اصلاحات کے عمل کیلئے آمادہ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ   ضلع کونسل  کے کسی  ان پڑھ معزز ممبر کو  یہ سمجھانا کہ بیالوجی کیا چیز ہوتی ہے وہ کیوں  نہ کوئی بڑا کام پکڑ کر الیکشن پر کیا گیا خرچہ برابر کرے
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بار کے  بعض ممبران کی  عدلیہ  کے سامنےچلتی بھی ہے اور ہر  منتخب ممبر کی بھی نہیں چلتی صرف پرانے کھگے  اور پرانے کھپڑ ہی اس دہی میں سے مکھن نکال سکتے ہیں نوجوان نسل تو جج کے ساتھ سیلفی بنوا کر ہی خوش ہوجاتی ہے  
چند سال قبل ایک ذاتی قسم کا مسئلہ تھا  اور تھا بھی معمولی نوعیت کا  لیکن  چند  کیسز ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سارا کئیرئیر داؤ پر لگ جاتا ہے ۔بدقسمتی سے جج کو قانون کے علاوہ بہت کچھ آتا تھا بلکہ سب کچھ ہی آتا تھا بڑے قانون جھاڑے  بڑی ریسرچ زیر زبر کی  اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات پیش کیئے  لیکن صاٖ ف محسوس ہوتا تھا کہ جب کوئی قانون کا نقطہ بیان کیا جاتا تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جج صاحب کو زبردستی بیالوجی کا لیکچر دیا جارہا ہے یا اس کو نیوٹن کے چھلے  اردو میں سمجھانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے بہت  کوشش کی لیکن وہی ڈھاک کے تین پات
آخرکار  بار کا ایک دوست ملا اس سے پوچھا کہ یار کیا کروں نہ نگلا جارہا ہے نہ اگلا  میرا دوست بھی تھا تو منتخب نمائیندہ لیکن تھا پرانا  کھگا 
دوست نے جج کا نام پوچھا مجھے ساتھ لیا بے تکلفی سے ساب کے چیمبر میں چلے گئے ساب نے سوڈا واٹر پلایا فائل منگوائی تھوڑی دیر بات چیت کی  اور  چند منٹ  میں کافی عرصے سے لٹکا ہوا  میرا مسئلہ حل کیا ۔ مسئلہ تو حل ہوا لیکن اس کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ لائیبریری میں موجود کتابوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ صرف  ایک بوجھ ہی ہیں ساب اس بات پر  بار کے عہدیدار سے نراض شراض بھی ہوئے کہ خود آنے کی کیا ضرورت تھی فون کردیا ہوتا
بار کی  بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ سب سے اہم ترین ذمہ داری  عدالتی اصلاحات بھی ہے  عدالتی اصلاحات کا عمل  واش روم کا نل اور بیسن کی ٹونٹی ٹھیک کروانے سے زیادہ اہم ترین ہے
یہ بات مانتے ہیں کہ  پارکنگ کا مسئلہ حل ہوا۔ یہ نہایت ہی  اہم مسئلہ تھا۔   نیا رنگ وروغن کیا گیا   نئے فرنیچر کا انتظام کیا گیا ۔ پاکستان کی جدید ترین لایئبریریوں میں  سے ایک لایئبریری  کی بنیاد رکھی گئی۔  لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وکالت کمزور ہوئی ہے   اخلاقیات  بہت پیچھے چلی گئی وقت کے ساتھ عدالتی اصلاحات کا عمل نہیں ہوا  اور اگر ہوا بھی تو بار کا  اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا بار کیلئے تو بیالوجی اور عدالتی اصلاحات میں کوئی فرق نہیں ہے
میرے ایک دوست بار کے اہم عہدے سے فارغ ہوئے تو   ایک ماہ بعد میری ایک تفصیلی ملاقات ہوئی  انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ سال بھر وکلاء گروپس اور وکلاء کے آپس میں کیا انفرادی  مسائل تھے اور ان کے کلایئنٹس کی کیا شکایات تھیں   مجھے افسوس ہوا کہ وہ تمام شکایات انتہائی  گھٹیا نوعیت  کی تھیں جن کو حل بھی کرنا ضروری ہوتا تھا

لیکن میرا یہ مشاہدہ ہے  بار اس قسم کے کاموں سے  ہی بہت خوش ہوتی ہے میرے سامنے چند سال قبل ایک سرکش  سول جج کا تبادلہ  چند منٹ کے نوٹس پر ہوا اسی طرح ایک سرکش سیشن جج کا ٹرانسفر کروانے کے بعد اس کو حیدرآباد پہنچا کر دم لیا اس قسم کے کام ہوں تو عہدیدار کافی خوش رہتے ہیں
بار کا پورے ملک میں ایک سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ بار کی وجہ سے کم ازکم ڈسٹرکٹ کورٹس میں عدلیہ برابری کی بنیاد پر بات تو کرتی ہے  جہاں بار کمزور ہے وہاں ایک مجسٹریٹ بھی   خودساختہ دانشور بنا دکھائی دیتا ہے اور وکیل کو  ذرا بھی اہمیت نہیں دیتا   یہ بار ہی ہے جس کی وجہ سے عدلیہ برابری کی بنیاد پر بات چیت پر مجبور ہوتی ہے  اور ایک عام وکیل  بھی  جج  کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے جن عدالتوں میں بار نہیں پھر وہاں آپ ججز کا رویہ بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں
لیکن   ان تمام باتوں کے باوجود  آج وقت بدل چکا ہے۔ بینچ نے تیکنکی بنیاد پر بار کی نسبت اپنی طاقت کو بہت زیادہ مستحکم کیا ہے۔ بینچ نے عدالتی اصلاحات کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ کروڑ روپے لگاکر منتخب ہونے والے امیدوار ہرصورت میں منافع کے ساتھ رقم کی واپسی چاہتے ہیں  ان کی عدالتی  اصلاحات نامی مذاق  سے کوئی لین دین ہی نہیں
چند سال پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہایئکورٹس  کی   جانب سے عالمی بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے  عدالتی اصلاحات کے حوالے سے فوکس گروپ ڈسکشن اور مختلف سیمینار ہوئے تھے اسی دوران ہی عدلیہ کی جانب سے منصوبہ بندی کا عمل جاری رہا ۔  ہماری عدلیہ بحیثیت ادارہ آج سے دس سال پہلے اگلے بیس سال کی پلاننگ کر چکی تھی یہی وجہ ہے کہ آج بحیثیت ادارہ عدالتی اصلاحات کاکام تیزی سے جاری ہے اور  اس پلاننگ میں بار کاکردار مائینس کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ  موجودہ صورتحال میں بات اگر عدالتی اصلاحات کی ہے تو  اس حوالے سے بحیثیت ادارہ بار کی پلاننگ کیا ہے ۔ بار کے پاس ایک بھی ڈھنگ کی رپورٹ نہیں  جس کی بنیاد پر وہ عدالتی اصلاحات کی بات کرسکیں
بار کے پاس عدالتی اصلاحات کا سرے سے کوئی پروگرام ہے نہیں  ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر قسم کا ایسا کوئی پروگرام موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ اعلٰی عدلیہ سے بات کرسکیں کہ وکلاء کا یہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہے جس کے زریعے وکلاء ان مطالبات پر عمل درآمد چاہتے ہیں  
 ہماری قیادت کا  ایک ہی چارٹر آف ڈیمانڈ ہے کہ سیشن جج میرا یار ہونا چاہیئے جس کے زریعے ہم قتل کے کسی مقدمے میں بھاری فیس لیکر اس  ملزم کی ضمانت  کرواسکیں  اگر سیشن جج یار  ہے تو سارا عدالتی عمل درست اگر سیشن جج یار نہیں ہے تو سارا عدالتی عمل مشکوک ہے
ہماری ساری عدالتی اصلاحات اس بات  کے اردگرد گھومتی ہیں کہ کم ازکم سیشن جج  اپنا یار ہو اور دیدہ ور ہو
حالیہ دنوں  میں بہت تیزی سے بار کو زوال ہوا بار کی طاقت کمزور ہوئی ہے ۔ بار آج تک ایسا کوئی میکنزم نہیں بنا سکی جس کے تحت اگر کسی جج کے خلاف کوئی شکایت کسی وکیل کو ہو تو اس کے خلاف کاروائی کی جاسکے اس کا طریقہ کیا ہونا چاہیئے جج کی شکایت کے حوالے سے ایم آئی ٹی کو کس طرح  اپنے ساتھ شامل کرنا ہے  مقامی سطح پر جب معاملہ حل کیا جاتا ہے تو اس سے مزید کرپشن پھیلتی ہے  ۔ کیونکہ کوشش کی جاتی ہے کہ ایم آئی ٹی کو شامل کیئے بغیر  وکیل اور جج یا کسی کلائینٹ کے معاملے کو حل کیا جائے جس سے مزید معاملہ خراب ہوتا ہے
بار کو چاہیئے کہ ایم آئی ٹی کے ساتھ مل کر ان مسائل کو سائینٹیفک  بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کرے اور ایم آئی ٹی  کو بھی پابند کیا جائے کہ کسی شکایت کی صورت میں وہ اپنے یخ بستہ کمروں سے نکل کر ڈسٹرکٹ کورٹس میں پہنچ کر  اگر جج کے خلاف جائز شکایت ہوتو بار کے ساتھ مل کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کرے ہایئکورٹ اس بات کو ہر صورت میں یقینی بنائے کہ  بار تنازعات کو  ڈائریکٹ حل کرنے کی بجائے ایم آئی ٹی کے ساتھ مل کر حل کرے اگر وکیل کا قصور ثابت ہو تو معاملہ سندھ بار کو بھیجا جائے اور جج کی غلطی ہوتو ایم آئی ٹی کے پاس شکایت بھیج دی جائے دونوں صورتوں میں قصور وار پارٹی کے خلاف ہرصورت میں ایکشن کو یقینی  بنایا جائے
لیکن ہوکیا رہا ہے جج اور وکیل کے درمیان تنازع کے حل کا طریقہ کار ہی غلط ہے  دیسی  طریقہ کار یہ ہے کہ  میرا کوئی  مسئلہ ہوگا کوئی تنازع ہوگا  تو میں بار کے آفس آؤں گا وہاں  بار کا کوئی  کوئی عہدیدار موجود ہوگا  اس کو میں جذباتی انداز میں کہوں گا کہ فلانے جج نے یہ کام کیا ہے کیا تم لوگوں کو ووٹ اسی دن کیلئے دیئے تھے کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک ہو یہ سن کر بار کا عہدیداراٹھ کر  کھڑا ہوگا  اور کورٹ کی طرف اپنے مریدوں سمیت روانہ ہوجائے گا  وہاں جج صاحب سے ہلکی پھلکی بات چیت ہوگی  اور مسئلہ حل  وکیل  کو دم دلاسہ دے کر فارغ کردیا جائے گا کہ آپ کا مسئلہ  حل ہوگیا لیکن پھر شام کو جج کے ساتھ اسی بار کے عہدیدار کی ایک الگ سے میٹنگ بھی ہوتی ہے جس میں اس کو یقین دلایا جاتا ہے کہ معاملہ اوپر نہیں جائے گا اور چراندی وکیلوں  سے محتاط رہا کر
لیکن کیا یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ بار ایک طریقہ کار تشکیل دے  جس کے تحت کسی بھی مسئلے کو ایک خاص طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے  ایک طریقہ کار مقرر کیا جائے  جس میں سیشن جج  اور ایم آئی ٹی بھی اہم  فریق ہو ں
لیکن پھر وہی بات کہ کیا ہم کوئی ادارہ ہیں  اداروں کے پاس تو بیس سال کی پلاننگ ہوتی ہے ہمارے پاس تو ایک دن کی پلاننگ نہیں ہے  ہمارے پاس تو کوئی ایسا چارٹر آف ڈیمانڈ ہی نہیں ہے
کیا بار کے عہدیداران کو یاد ہے کہ   عدالتوں سے این جی اوز کے خاتمے کے وقت بینچ کو تحریری طور پر کیا یقین دہانیاں کروائی گئی تھیں اور کیا ان پر عمل درآمد ہوا؟  کیا بار نے  اپنا قانونی امداد کا  پروگرام شروع کرنے کا وعدہ پورا کیا ؟

بار کی طاقت تیزی سے زوال پذیر ہورہی ہے۔ ہڑتالوں کی سیاست نے وکالت کے پیشے اور بار کی طاقت کے زوال میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ آہستہ آہستہ وکیل کا کردار عدالتوں سے ختم کرنے کی کوششیں   کامیابی سے کی جارہی ہیں ۔  اعلٰی   عدالتوں  کے بار کے  منتخب عہدیداران کو کروڑوں اور اربوں روپے کے  مفادات کے شکنجے میں پھنسا کر بے بس کیا جاچکا ہے ۔ ڈسٹرکٹ بار کے عہدیداران تو کسی گنتی میں ہی شامل نہیں ہیں
نو مارچ 2007  کو وکلاء اسقدر طاقت میں تھے کہ  ملک کا چیف آف آرمی اسٹاف ان کے سامنے بے بس تھا نومارچ 2007 کو شروع ہونے والی احتجاج کی سیاست  بعد ازاں ہمارے مزاج کا حصہ بن گئی۔ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے کہ  این جی اوز کے خلاف تحریک کے دوران  سندھ ہایئکورٹ کے چیف جسٹس جناب مشیر عالم صاحب بار کے دورے پر آنا چاہتے تھے اور بار کی قیادت  نے جواب دیا تھا کہ ہمارے لیئے آپ کو ویلکم کرنا ممکن نہیں ہے  یہ اس وقت کا عروج تھا ہایئکورٹ کے چیف جسٹس کو ایسی بات کہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے  اور آج کا چیف جسٹس لفٹ ہی نہیں کراتا
آج ہم کہاں کھڑے ہیں   آج ہمیں ویلکم کرنے کیلئے پولیس کی نفری منگوا کر  ہمارا استقبال کیا گیا جس کی ذمہ دار ہم خود ہیں  
اگر بار کمزور ہوئی تو  یہ بہت بڑا المیہ ہوگا
اگر بار بینچ کی طاقت کو چیلنج کرنا چاہتی ہے تو نوجوان عہدیداران بوڑھی قیادت سے بغاوت کرتے ہوئے پورے پاکستان میں   جج کی چیمبر میٹنگ پر پابندی کا مطالبہ کریں   کہتے ہیں کہ بھینس کو تکلیف دینی ہوتو اس کے کٹے کو تکلیف دینا ضروری ہوتا ہے
بینچ کی اصل طاقت چیمبر پریکٹس میں پوشیدہ ہے  ترقی یافتہ دنیا میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ وکیل  جج کے ساتھ مل کر چیمبر میں بیٹھتے ہوں کھانا کھاتے ہوں گپ شپ کرتے ہوں کیس چلاتے ہوں   نوجوان  عہدیداران ہر سطح پر اکثریت میں ہیں اگر بینچ کو ہرروز یاددہانی کروائی جائے کہ چیمبر میں کیس چلانا اور  دوستوں کو بٹھاکر  ڈیل والے کیس چلانا مناسب نہیں  
 ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے ہایئکورٹ کی سطح پر چیمبر پریکٹس کے خاتمے کا مطالبہ کرنا نہایت ضروری ہوچکا ہے اور یہی وہ مطالبہ ہے جس سے اوپر کی سطح پر کرپشن کم ہوگی  جب کہ بار کو ادارے میں بدلنے کا وقت آچکا ہے

Saturday, 19 September 2015

سوڈے کی بوتل ٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

کراچی کے وکلاء کیلئے 2005 کا سال ایک یادگار سال تھا
کراچی میں آزمائیشی بنیاد پر آن لائن عدلیہ کا تجربہ کیا گیا تھا جو کہ نہایت ہی کامیاب رہا تھا۔کورٹ کیس کی ڈائری آن لائن  موجود ہوتی تھی جس کی وجہ سے کلائینٹ بیرون ملک بیٹھ کر خود بھی اپنے کیس کی اپ ڈیٹ حاصل کرلیا کرتے تھے
بار کے عہدیداران کا خصوصی ریلیف بند ہوگیا تھا چیمبر میں خاص وکلاء کو نہیں سنا جاتا تھا جس سے کراچی کے ایک عام وکیل کو بھی فائدہ پہنچا تھا
عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار ای میل کی بنیاد  سیشن جج نے پر بیرون ملک بیٹھ کر  حبس بے جا کی درخواست پر رات کے دوبجے آرڈر جاری کیا اور مجسٹریٹ نے رات دوبجے تھانے پر چھاپہ مارکر مغوی کو بازیاب کیا اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کی
کئی  بااثر ججز  جو کرپشن میں ملوث  تھے کے تبادلے سیشن جج کی درخواست پر ہوئے   اور ان کے خلاف کاروائی بھی ہوئی
کورٹ اسٹاف کے خلاف عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار کاروائی ہوئی کراچی بار کا ایک عام وکیل کرپشن سے پاک ایسی عدلیہ  ہی چاہتا ہے
بدقسمتی کہ پاکستان میں آن لائن عدلیہ کا ماسٹر مائینڈ  بھی تاریخ کے جبر سے محفوظ نہیں رہ سکا اور ایک متنازعہ عدالتی فیصلہ جس نے عدلیہ کی بطور ادارہ چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں اور وہ شخصیت بھی اس کی زد میں آئی
اس کے علاوہ بھی بہت سے قابل ترین لوگ عدالتی فیصلے کی زد میں آئے جن کا متبادل آج دن تک نہیں مل سکا
آج سے دس سال پہلے جب انٹرنیٹ کی سروس بہت ہی سست تھی اس وقت آن لائن عدلیہ ایک خواب تھی اور لوگ اس کو دیوانے کا خواب سمجھتے تھے  اور پھر یہ خواب سچ ہوا
بدقسمتی سے  ہم ایک ہجوم بن چکے ہیں جو جس طرف چاہے ہمیں ہانک دیتا ہے
جب دنیا بھر میں دیوانی کیسز میں تنازعات کے متبادل حل کی بات ہورہی ہے تربیت یافتہ ثالثوں کے زریعے عدالتوں میں آنے والے کیسز کو حل کرنے کی بات ہورہی ہے تو پھر یہ پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتا
سندھ ہایئکورٹ کی یہ سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی کہ تنازعات کے متبادل حل کیلئے عالمی بینک کی فنڈنگ کو  ریٹائرڈ ججز کی فلاح وبہبود کیلئے بنائی گئی ایک این جی او  پر خرچ کروایا گیا کے سی ڈی آر کو ریٹائرڈ ججز کی فلاح و بہود کا ادارہ بنا دیا گیا تھا  اور جب اس ادارے نے ثالثی کے عمل کو  کراچی بارایسوسی ایشن کو مکمل طور پر بائی پاس کرکے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو وکلاء نے پورے ادارے کو اٹھا کر ہی باہر روڈ پر پھینک دیا تھا لیکن اگر یہی کام بار کے مشورے سے کیا جاتا تو کیا کراچی بارایسوسی ایشن اس میں رکاوٹ ڈال دیتی؟  ہر گز نہیں  بلکہ کراچی بار ایسوسی ایشن  اور سندھ ہایئکورٹ مل کر تنازعات کے متباد ل حل کے طریقہ کار کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے
اگر ثالثی اور تناعات کے حل  کیلئے کی جانے والی کوششوں کو این جی او کی بجائے  سندھ ہایئکورٹ نے بحیثیت ادارہ لیا ہوتا تو آج پاکستانی عدلیہ کی تاریخ بدل چکی ہوتی  لیکن    سندھ ہایئکورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی بھلائی کیلئے جو این جی او بنوائی تھی سارا فنڈ اس پر خرچ کیا گیا  اور پاکستان میں ثالثی   کو سائنٹفک بنیاد پر لانے کی کوشش ناکام رہی جس کی مکمل ذمہ دار سندھ ہایئکورٹ ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں آن لائن عدلیہ کا ماسٹر مائینڈ پی سی او ججز کے کیس کی ذد میں آنے کی وجہ سے  کے سی ڈی آر  کو جوائن کرچکا تھا
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب نے متعدد بار ڈاکٹر ظفر شیروانی کو آن لائن عدلیہ اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے بلایا  اور  ان کی خدمات سے استفاذہ کیا ان کا آن لائن عدلیہ کا مقالہ اس وقت بھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود تھا جب  ان کو پی سی او کے تحت ہٹایا گیا اور آج بھی موجود ہے
پاکستان میں ہر سطح پر یہ تسلیم کیا گیا کہ  ڈاکٹر ظفر شیروانی کو ضا ئع کیا گیا  ان کی خدمات سے استفاذہ نہیں کیا گیا اسی دوران سندھ ہایئکورٹ نے ڈاکٹر ظفر شیروانی کی خدمات کو دوبارہ حاصل کیا  اگرچہ   ریٹائرڈ لوگوں کو واپس لانا مناسب نہیں ہوتا لیکن سندھ ہایئکورٹ  کا یہ ایک درست فیصلہ تھا کیونکہ   پی سی او   ججز فیصلے کے بعد ہر فورم پر یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ  ڈاکٹر ظفر شیروانی  کے ساتھ زیادتی  ہوئی تھی بہت سے لوگ  اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ ان کی خدمات کو حاصل کیا جائے ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب سندھ ہایئکورٹ  کے ایک کونے میں بیٹھ کر اپنی خدمات میں مصروف عمل تھے کہ  ایک وکیل اور مجسٹریٹ کے درمیان تنازعہ ہوا جس پر  صرف وکیل کے خلاف کاروائی کے طریقہ کار پر  وکلاء اور ہایئکورٹ میں اختلاف پیدا ہوا کیونکہ جس طریقے سے کاروائی ہوئی  وکلاء کا صرف اس طریقہ کار پر اختلاف تھا  ۔ لیکن اسی دوران جب اختلاف بڑھے تو اچانک ہی سابق رجسٹرار کو ہٹا کر ڈاکٹر ظفر شیروانی کو رجسٹرار بنادیا گیا
اسی دوران کسی نے سوڈے کی بوتل  کا ڈھکن   کھول  کر میں نمک ڈال دیا  جس  سےسوڈے کی بوتل میں بہت زیادہ ابال پیدا ہوا لیکن دودن کے بعد سب کے تعزیئے   جل  کر ہمیشہ  کیلئے ٹھنڈے پڑگئے
پاکستان میں بہت زیادہ عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے آن لائن عدلیہ بہت سے مسائل کا حل ہے
میں پرامید ہوں کہ پاکستان میں آن لائن عدلیہ کے زریعے  بہت سے وکلاء جو اپنے کلائینٹس کے کیسز صحیح طریقے سے نہیں چلاتے ان کے خلاف کاروائی کرنا آسان ہوگا
میں ایک چھوٹا سا المیہ بیان کردوں
ہمارا ادارہ بہت سے کیسز میں وکلاء کی خدمات بطور پینل ایڈوکیٹ   حاصل کرتا ہے  بدقسمتی سے کئی بار ہم مکمل فیس اداکردیتے ہیں لیکن وکلاء کیس نہیں چلاتے  گزشتہ دنوں ہم نے ایک انتہائی اہم کیس میں ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں  اور اس کو مکمل فیس ایڈوانس ادا کردی   جو اس نے طلب  کی   وکیل صاحب نے  بتایا کہ  سندھ ہایئکورٹ میں پٹیشن داخل ہوچکی ہے میں  نے کہا پٹیشن کا نمبر کیا ہے تو اس نے کہا دودن کے بعد ملے گا پھر پتہ چلا کہ کوئی آبجیکشن آگیا ہے  خیر پھر وہ دودن پورے ایک مہینے کے بعد آیا کافی دن کے بعد وکیل صاحب نے پٹیشن کا نمبر دیا میں نے آن لائن چیک کیا تو   بطور وکیل کسی اور کا نام آرہا تھا  میں نے حسن ظن  سے کام لیا کہ شاید کسی ایسوسی ایٹ  کا نام ہوگا خیر  وکیل صاحب نے کہا کہ یہ کیس فلاں تاریخ کو لگا ہے میں نے آن لائن چیک کیا تو نہیں لگا ہوا تھا  اسی دوران وہ  پٹیشن 9 ستمبر کو  آفتاب  احمد گورڑ کی کورٹ میں لگی ہوئی تھی میں نے وکیل صاحب کو شام کو بتایا کہ صبح سیریل نمبر ایک پر پٹیشن لگی ہے آپ پیش ہوجانا  وکیل صاحب نے کہا کہ بے فکر ہوجاؤ میں آجاؤنگا لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی تھی  کہ  وکیل نہیں آئے گا اس لیئے میرے ایسوسی ایٹ  نے خود صبح سویرے پہنچ کر  پٹیشنر کو پیش کیا    بریف ہولڈ کروایا پتہ یہ چلا کہ وکیل صاحب نے صرف پٹیشن پر نوٹس  کا آرڈر کروایا اور پھر  سروس ہی نہیں کروائی  اسی دوران وکیل صاحب کہہ رہے تھے کہ میں  ہایئکورٹ  آرہا ہوں پھر وکیل نے کال وصول کرنا ہی بند کردی اور آج تک وصول نہیں کی    اور ہمیں  بار میں دیکھ کر راستہ  ہی بدل لیتا ہے مزید ظلم یہ کہ وکالت نامہ ہی جعلی تھا وکیل نے  چالاکی سے اپنا وکالت نامہ ہی کورٹ میں پیش نہیں کیا لیکن بہرحال کسی وکیل کا یہ ایک انفرادی فعل ہے اکثریت ایسی نہیں
جب ہم کورٹ میں وکالت نامہ پیش کرتے ہیں تو آج دن تک صرف ذاتی اعتبار اور ہمارے کالے کوٹ کے احترام کی وجہ سے  کسی جج  نے مجھ سے میرا نام کبھی نہیں پوچھا کیونکہ جج کو یقین ہوتا ہے کہ یہ وکیل صاحب جو وکالت نامہ پیش کررہا ہے یہ اسی کا ہی ہوگا لیکن  ایک دیہاڑی دار کو یہ کس نے حق دیا کہ  وہ اس یقین کا خون کرے اور چند ہزار کیلئے  جعلی وکالت نامہ پیش کرے اور جب کوئی موقع آتا ہے تو سوڈے کی بوتل میں کوئی نمک ڈال دیتا ہے اور پھر ہم لوگ ہجوم کی طرح اپنے وکیل بھائی کے پیچھے چل پڑتے ہیں  
اگر سندھ ہایئکورٹ آن لائن نہ ہوتی تو مجھے یہ کیسے پتہ چلتا کہ میرا کیس کورٹ میں داخل نہیں ہوا وکیل صاحب مجھے جعلی تاریخیں دیتے رہتے اور  آخر میں ایک جعلی حکم نامہ ہاتھ میں پکڑا دیتے
لیکن اس واقعہ سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ اب ہم  نے پینل ایڈوکیٹ تحلیل کرکے وکلاء کی خدمات مستقل  بنیاد پر حاصل کی ہیں
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اگر میرا وکیل بھائی میرے ساتھ ایسا کرسکتا ہے تو وہ کسی عام آدمی کے ساتھ کیا برتاؤ کرتا ہوگا
ان وجوہات کی بنیاد پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ آن لائن عدلیہ کرپشن کے سارے راستے بند کررہی ہے   بہت سے راستے بند ہوبھی چکے ہیں  نادرا ویریفیکیشن سینٹر کی وجہ سے مزید بہتری آئی ہے اب قبر کا مردہ قبر سے نکل کر کورٹ میں کیس داخل نہیں کرسکتا نادرا ویریفیکیشن سینٹر نے کراچی سٹی کورٹ سے یہ اہم سہولت ختم کردی ہے ۔ ابھی بہت سی سہولیات مزید ختم ہونا باقی ہیں جس کے بعد امید کرتے ہیں کہ وکالت کا پیشہ ابھر کر اور نکھر کر سامنے آئے گا دیہاڑی دار گیٹ مافیا کے خاتمے کا وقت قریب آرہا ہے

ڈاکٹر ظفر شیروانی ایک حقیقت کے طور پر سامنے آچکے ہیں ۔ اور دوسال تک ان کو ہلا جلا کوئی نہیں سکتا   میں امید رکھتا ہوں کہ آن لائن  ہایئکورٹ کے بعد  آن لائن ڈسٹرکٹ کورٹس کا خواب جلد پورا ہوگا
سندھ ہایئکورٹ کو بھی چاہیئے کہ بار کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کرے    بار کے ساتھ رویہ  میں تبدیلی  کی ضرورت  ہے ہم مفتوح نہیں ہیں وکیل کو پولیس اور رینجرز کے زریعے کچل ڈالنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا
  بار ایسوسی ایشن کی قیادت نوجوان وکلاء کو منتقل ہورہی ہے   نوجوان  وکلاء عدالتی اصلاحات  کے عمل میں رکاوٹ  نہیں  لیکن  بار کے نوجوان  منتخب  عہدیداران  کو بوڑھی  قیادت  پر  بالکل بھی بھروسہ  نہیں کرنا چاہیئے  کیونکہ سیاست  کے سینے میں دل  اور آنکھ میں حیا نہیں  ہوتی  ایک عام وکیل دیہاڑی دار مافیا کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ دیہاڑی دار شعبہ وکالت کیلئے ناسور کا درجہ رکھتے ہیں
 کراچی کی عدالتوں میں جو کیسز زیرسماعت ہیں  ان میں سے نوے فیصد کیسز ایسے ہیں جو بے جان اور بے بنیاد  ہیں   اگر اچھا تربیت یافتہ جج ہو تو صرف ایک جھٹکے میں اپنی عدالت سے کیسز کا صفایا کرسکتا ہے اسی طرح اکثر کیس ایسے ہیں جو زیادہ سے زیادہ تین تاریخوں پر ختم ہوجائیں   نااہل عدلیہ بھی ایک مسئلہ ہے بلکہ نااہل عدلیہ دیہاڑی دار مافیا سے زیادہ خطرناک ہے اکثر ججز کو ابھی تک آرڈر تک لکھنا نہیں آتے  اور بنیادی قوانین سے آگاہ نہیں
لیکن یہ تربیت یافتہ ججز کہاں سے آئیں گے اس کا جواب خود سندھ ہایئکورٹ کے پاس بھی نہیں  سندھ ہایئکورٹ کا صرف یہ مؤقف درست نہیں کہ صرف  وکلاء نااہل ہیں اصل بات یہ کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے
نااہل ججز اور مس کنڈکٹ کرنے والے وکلاء کے خلاف بلا تفریق  کاروائی ہونی چاہیئے
چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ صاحب بڑے احترام سے یہ عرض ہے کہ   یہ افواہیں گرم ہیں کہ  عدالتی اوقات کے بعد جسٹس صاحبان کے چیمبر میں کیسز چلتے ہیں  اس کا واحد علاج ہے کہ جسٹس صاحبان کے چیمبر میں میٹنگ کیلئے  فالتو کرسی موجود ہی نہ ہو کیونکہ اگر کوئی زبردستی کا مہمان آبھی جائے بیٹھنے کیلئے کرسی  نہ ہونے کی وجہ سے شرمندہ ہوکر دوبارہ نہ آئے گا اسی طرح ہر سطح پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ جج  بار کے عہدیداران  سمیت اپنے مہمان سے عدالت کے کمیٹی روم میں ملاقات کرے گا اور میٹنگ  کے مقاصد  اور منٹس سرکاری ریکارڈ میں رکھے جائیں گے  بطور ایک پریکٹسنگ وکیل کے میں اچھی طرح جانتا ہو ں کہ چیمبر میں  ججز کے مہمان کیوں آتے ہیں  اور چیمبر میٹنگ کا نتیجہ ہمیشہ برا  اور کرپشن  کی صورت  میں ہی نکلتا ہے
سندھ ہایئکورٹ  کے قابل  احترام  چیف  جسٹس کو چاہیئے کہ جسٹس صاحبان کو پابند کریں کہ  عدالتی اوقات کار کے بعد کسی کو بھی چیمبر میں آنے کی اجازت نہ دی جائے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن کی ضرورت ہے جب اوپر سے معاملہ ٹھیک ہوگا تو کسی مجسٹریٹ کی کیا ہمت کہ اپنے مہمان چیمبر میں بٹھائے لیکن مشہور یہ ہے کہ جو معاملات  جسٹس صاحبان  کے چیمبرز میں ڈیل ہوتے ہیں وہ کروڑوں نہیں اربوں روپے کے معاملات ہیں  تو کیا اتنی ہمت کسی میں ہے کہ اربوں کھربوں روپے کی ڈیل کرنے والے مافیا سے ٹکر لے سکے اسی طرح  کراچی بار ایسوسی ایشن کی نوجوان قیادت کو چاہیئے کہ سندھ ہایئکورٹ پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ    ہایئکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس سمیت ہر سطح سے  چیمبر پریکٹس کے خاتمے کیلئے  پریشر ڈالیں  اگر کراچی بار کسی ایسے ایشو پر آواز اٹھائے گی جس کا تعلق کرپشن کے خاتمے سے ہوگا تو  اس کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوگا
دعا گو ہیں کہ سندھ ہایئکورٹ  آن لائن عدلیہ کیلئے جو اقدامات کررہی ہے وہ جلد پورے ہوجائیں گے اس سے گھٹیا قسم کی کرپشن کا  خاتمہ ہوگا
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب اللہ تعالٰی نے آپ کو ایک موقع دیا ہے  آن لائن  عدلیہ کے حوالے سےآپ اپنا نامکمل کام مکمل کریں  اس وقت  حالات  بھی سازگار ہیں اور  دوسال کے بعد  کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں عدلیہ کو ہمیشہ کیلئے خیر آباد کہہ دیں  کیوں کہ اگر دوسال بعد بھی آپ  اپنا متبادل  تیار نہیں کرپاتے تو یہ عمل بھی آپ کی نااہلی میں شمار ہوگا  اور کوئی بھی شخص حرف آخر نہیں ہوتا
اپنے ادارے سے عزت اور وقار کے ساتھ رخصت ہوجانا سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے

سندھ ہایئکورٹ کو چاہیئے کہ ایسا کوئی قدم نہ  اٹھائے جس سے کسی کو سوڈے کی بوتل میں نمک ڈالنے کا موقع ملے جبکہ بار کو بھی چاہیئے کہ سوڈے کی بوتل پر ٹائٹ والا ڈھکن لگا کر لاک میں بند کرکے رکھے تاکہ کسی کو ڈھکن کھول کر سوڈے کی بوتل میں نمک ڈال کر  بلاوجہ کی سیاست کا موقع  نہ ملے 

Thursday, 17 September 2015

سبز کتاب کا مصنف تحریر :: صفی الدین

میں نے ایک بار کسی جسٹس صاحب سے یہ پوچھا کہ  آپ کب اپنے آپ کو پریشانی میں محسوس کرتے ہیں کب محسوس ہوتا ہے کہ آپ مشکل میں ہیں جج کی سیٹ پر مشکل لمحہ کب آتا ہے آزمائیش کی گھڑی کب آتی ہے
جسٹس صاحب نے کہا کہ مجھے کبھی پریشانی نہیں ہوتی لیکن صرف ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جب میں پریشان ہوجاتا ہوں جب میں اپنے آپ کو بہت زیادہ پریشانی اور آزمائیش میں گھرا  میں محسوس کرتا ہوں ۔ اور وہ لمحہ اس وقت آتا ہے جب  سبز کتاب کا مصنف  میری عدالت میں داخل ہوتا ہے اور اس وقت میں شدید بے بسی اور گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں میرا دل کرتا ہے کہ اس شخصیت کے احترام کی خاطر میں کھڑا ہوجاؤں لیکن میں ایسا کرنہیں پاتا
بہت سے وکیل کسی آئینی پٹیشن میں پیش ہوکر سبز کتاب کی کسی سیکشن کی وضاحت کرتے ہیں   اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں سیکشن کی وضاحت کیا ہے   وکلاء اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ  اس کی وضاحت  یہ بھی ہوسکتی  ہے اور اس لفظ  کا مقصد کیا ہے اور یہ سیکشن کیوں شامل کی گئی ہے  لیکن پوری دنیا میں صرف ایک وکیل ایسا ہے جب وہ اس سبز کتاب کو کھول کر بتاتا ہے کہ  میں نے یہ سیکشن اس مقصد کیلئے لکھی تھی
جس سبز کتاب کے زریعے  بیس کروڑ لوگوں کی زندگی کے بہت سے  معاملات طے کیئے جاتے ہیں وزیراعظم  کے اختیارات  سے لیکر  آرمی چیف  کی تقرری اور صدر سے لیکر اسپیکر کے انتخاب تک  
عدلیہ کے بنیادی اسٹرکچر سے لیکر بار ایسوسی ایشن کے کردار تک      یہ سب باتیں دنیا میں صرف ایک شخص جانتا ہے  عدلیہ کے احترام سے لیکر عدلیہ کے وقار تک  اور قومی اسمبلی سے لیکر لوکل گورنمنٹ  تک انسانی حقوق کے تحفظ سے لیکر پٹیشن کے زریعے  حکومت پاکستان  کو فریق بنانے کے اختیار تک یہ سب  باتیں لکھنے کا اعزاز جس شخص کے حصے میں آیا  اس کا نام حفیظ الدین پیرزادہ تھا
دنیا کا وہ واحد انسان تھا جب وہ عدالت میں پیش ہوجاتا تھا تو عدلیہ کا امتحان شروع ہوجاتا تھا اور قابل احترام جسٹس صاحبان اپنے آپ کو پریشانی میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے۔ کیونکہ اس عظیم انسان  کا یہ حق بنتا تھا کہ جب وہ سامنے آجائے تو اس کو کھڑے ہوکر عقیدت اور احترام کے ساتھ عزت دی جائے لیکن ایک منصف کے عہدے اور ذمہ داریوں کے بھی کچھ تقاضے  ہیں  جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوپاتا تھا دنیا میں موجود واحد وکیل تھا جو پاکستانی عدلیہ کے کسی جج کو یہ کہنے کا حوصلہ اور حق رکھتا تھا کہ سبز کتاب میں موجود فلاں سیکشن میں نے اس مقصد کیلئے لکھی تھی
ہم پر کیا قیامت بیت گئی ہم لوگ خود بھی نہیں جانتے  ایک ایسا باوقار انسان پاکستان سے رخصت ہوگیا جو پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم ترین انسان تھا
حفیظ الدین پیرزادہ کا مقام اور مرتبہ  ہم کبھی جان نہیں سکتے ۔ آپ انمول تھے ۔عدالت کی سیڑھیاں  حفیظ الدین پیرزادہ  جیسی شخصیت کیلئے ترس جاتی ہیں ۔ ہماری عدالت کی سیڑھیوں کا یہ انتظار شاید کبھی ختم نہ ہو کیونکہ  حفیظ الدین پیرزادہ صاحب اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ہاں میری دعا ہے کہ  نوجوان وکلاء ان کو آئیڈیل بنائیں  اور وکالت کو دوبارہ سے ایک بہت ہی باقار پیشہ بنانے کی کوشش کریں
سال کا سب سے بڑا سانحہ کہ سبز کتاب کا مصنف اس دنیا سے رخصت ہوا

سبز کتاب کا مصنف  کسی چیز کا محتاج نہیں تھا لیکن اگر پاکستان کی بار ایسوسی ایشنز کیلئے ممکن ہو تو  اپنی لائیبریری کا نام حفیظ الدین پیرزادہ سے موسوم کرسکتے ہیں  اس سے بار کی عزت میں اضافہ ہوگا نوجوان نسل کیلئے حفیظ الدین جیسے وکلاء  کی زندگی ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے

Saturday, 15 August 2015

بلی پہلی رات ہی ماردینی چاہیئے ٭٭٭ تحریر صفی اعوان

دو بھائیوں کی  ایک ہی دن شادی ہوئی ۔ دونوں بھائیوں کا امتحان لینے کیلئے ان کی ساس نے سہاگ رات کو  ایک بلی خفیہ راستے سے ان کے کمرے میں   بھجوادی
پہلے بھائی کے کمرے میں جب بلی داخل ہوئی تو اس نے ہش ہش کرکے بلی کو بھگانے کی کوشش کرتا رہا  لیکن ڈھیٹ بلی تھی کہ بھاگنے کا نام لیکر ہی نہیں دیتی تھی  اس کی بیوی سمجھ گئی کہ یہ صرف ہش ہش والا ہے
جبکہ دوسرے بھائی کے کمرے میں جب بلی داخل ہوئی   بلی نے جیسے ہی میاؤں کی آواز نکالی تو دوسرے  بھائی  نے کمر کے ساتھ بندھا ہوا  گراری دار چاقو  نکالا  تاک کر بلی  کا نشانہ لیا کھینچ کر مارا اور  بلی  ماردی  یہ منظر دیکھ کر دوسرے بھائی کی بیوی وہیں سہم گئی اور سمجھ گئی کہ شوہر ہش ہش والا نہیں ہے  بلکہ  بلی  مار بھی سکتا ہے
جس بھائی نے  شادی کی پہلی رات ہی بلی  ماردی تھی اس کو پوری زندگی بلی نے دوبارہ تنگ نہیں کیا پوری زندگی بیوی  نے اس  کو بلاوجہ کبھی تنگ نہیں کیا
جبکہ ہش ہش کرکے بلی بھگانے والے بھائی کو  اس کی بیوی نے پوری زندگی تنگ کرکے رکھا پریشان کرکے رکھا
اسی لیئے کہتے ہیں کہ بلی پہلی رات ہی مار دینی چاہیئے ورنہ پوری زندگی تنگ کرتی ہے
یہی حال ہمارا ہے   ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ پاکستان کے بہت سے مسائل کی ذمہ دار عدلیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   ماضی میں ہمارے دوستوں نے ان پر کبھی ضرورت سے زیادہ اعتماد نہیں کیا۔ اور براہ راست عدلیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتے ہیں
آپ لوگ اکثر خبروں میں سنتے ہونگے میڈیا میں دیکھتے ہونگے کہ  پاکستان میں  اکثر ججز کی ٹکور کی جارہی ہوتی ہے  جو اوقات سے باہر نکلنے کی کوشش کررہا ہو وکلاء مل جل کر اس کو اس اوقات میں لارہے ہوتے ہیں  کیونکہ مفادات کی جنگ میں اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ ویسے بھی اگر ان کو آزاد اور کھلا چھوڑ دیا جائے تو یہ لوگ فوراً اپنا آپ دکھانا شروع کردیتے ہیں
ہم نے یہ بھی دیکھا کہ چند سال قبل خودساختہ آزاد عدلیہ کے خودساختہ ہیرو جسٹس شریف نے بھی جب مفادات کی اس جنگ میں اپنے  پیٹی بھائی کی حمایت کی تو وکلاء نے اس خودساختہ ہیرو کو بھی رگڑا لگا دیا اور ایسی فزیکل ٹریٹمنٹ دی کہ اس کی طبیعت ٹھیک ہوگئی
بنیادی طور پر  پاکستان بھر کے وکلاء نے اس شیطان بلی کو پہلی رات ہی ماردیا تھا یہی وجہ ہے کہ  ان کو بلی نے دوبارہ کبھی تنگ نہیں کیا
دوسری طرف ہم سندھ  میں گزشتہ کچھ عرصے سے  حالات ہی مختلف پاتے ہیں
ہم نے بلی کو ہش ہش کرکے بھگانے کی حماقت کی ہے۔ ہم نے جسٹس صاحبان کی بھولی بھالی صورتیں دیکھ کر ان پر اعتبار کرنے کی سنگین ترین غلطی کی ہے ۔ صرف یہی وجہ ہے کہ سندھ کا چیف جسٹس   اپنے  دیگر چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں پر  وکلاء کے مفادات  پر ڈاکہ ڈالنے کے بعد اپنی   ہی جج برادری کے اسی فیصد  امیدواروں   کو میرٹ  میرٹ کا ڈرامہ اور کھیل رچا کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج   لگادیتا ہے  اور اس کے بعد ہم وکلاء کو بشیرا  سمجھ  کر قانون پڑھانا شروع کردیتا ہے ۔ اب بڑے ساب ہمیں یہ بتارہے ہیں کہ میرٹ کیا ہوتا ہے۔ میرٹ میم سے شروع ہوتا ہے اور ٹ  ساکن ہوتا ہے
مشیر عالم صاحب وکلاء کو چکنی چپڑی باتوں سے  عدالتی  اصلاحات  کے نام  پر بے وقوف بناتے تھے جبکہ فیصل عرب صاحب اور ان کے مشیر خاص سجاد علی شاہ   نے  تو بدقسمتی  سے وکلاء کو  بشیرا   ہی سمجھ لیا ہے  شاہ صاحب  یہ سمجھ رہے ہیں کہ وکلاء کو یہ نہیں پتہ کہ میرٹ کیا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وکلاء  بشیرے کی  طرح سادے ہیں کہ ان کو یہ پتہ  ہی نہیں کہ کسی بھی امیدوار کو کس طرح کھڈے لائن لگایا جاتا ہے اور کس طرح خاص خاص لوگوں کو ٹاپ کروادیا جاتا ہے جو جتنا بڑا خوشامدی وہ اتنا ہی زیادہ میرٹ کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے
پاکستان میں وکلاء کے مفادات پر عدلیہ کی جانب   سےشب خون مارنے کی روایات ہمیشہ سے موجود رہی ہیں   لیکن اسی دوران  پورے پاکستان میں  میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی   اگر ان  ججز کو کسی نے اگر حقیقی  معنوں میں پہچانا ہے تو وہ  پاکستان کے وکلاء نے پہچانا ہے   یہی وجہ ہے کہ  ماضی میں   ججز  وکلاء کو  بشیرا سمجھ  کر قانون  سکھانے کی  سنگین  غلطی  نہیں کرتے  تھے اور نہ ہی ججز کی تعیناتی کے عمل میں وکلاء کو نظر انداز کرنے کی روایت موجود تھی
لباس خضر میں یاں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں ۔جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

ججز کی تعیناتی کے ڈرامے پنجاب  سمیت  پورے پاکستان میں بھی ہوئے ہیں ماضی میں پنجاب میں بھی  میرٹ میم سے شروع ہوکر ٹ  پرساکن ہوجاتا تھا اور جس طرح اس بار وکلاء کو   بشیرا بنا کر دن دیہاڑے صوبہ سندھ میں نام نہاد میرٹ کے  ذریعے  میرٹ  کو ننگا کرکے اس کی عزت  لوٹی  گئی ہے  جس طرح  وکلاء کو بشیرا  سمجھنے کے بعد دھوکہ دے کر وکلاء کے مفادات پر ڈاکہ ڈال کر  لوٹ لیا گیا ہے اسی طرح ماضی میں  پنجاب  میں بھی ڈرامے ہوتے رہے ہیں  جس کے بعد جب اس سال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی  ایک سو اسی نشستوں کا اعلان کیا گیا تو بہت بڑی تعداد میں وکلاء کے ساتھ ساتھ ججز نے بھی درخواستیں جمع کروادیں
وکلاء سمجھدار تھے جانتے تھے  آگے کیا ڈرامہ ہونے والا ہے  میرٹ  کے نام پر کیا تماشہ  ہوگا  کیونکہ   مفادات کی جنگ میں اخلاقیات کی ٹکے کی بھی اہمیت نہیں  اس لیئے پورے صوبے کے وکلاء  نے یہ فیصلہ کیا کہ  اس سال صرف وکلاء ہی اس امتحان میں شریک ہونگے ایک کمیٹی تشکیل دے کر چیف جسٹس  کے پاس  آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل  کر  برابری  کی بنیاد پر بات کرنے کیلئے بھیجا گیا کہ اگر اپنے پیٹی بھائیوں کو سیشن جج لگانا ہے تو ان کو محکمہ جاتی ترقی دے دی جائے ان کیلئے الگ سے امتحان کا انعقاد کیاجائے  اس کے علاوہ وکلاء کو ان پر بھروسہ بھی نہیں تھا ۔
وکیل جانتے تھے کہ اگر بلی کو ہش ہش کیا گیا تو بلی پوری زندگی  تنگ کرے گی  اس لیئے چاقو نکال کر پہلے دن ہی بلی ماردی
چیف جسٹس  پنجاب نے وکلاء کے اصولی مؤقف سے اتفاق کیا بلکہ اس کو اتفاق کرنا ہی پڑا کیونکہ اگر اتفاق نہ کرتا تو فزیکل ٹریٹمنٹ کے ساتھ ساتھ نفسیاتی علاج کے عمل سے بھی گزرنا پڑتا ۔ فزیکل ٹریٹمنٹ کا سوچ کر ہی ان کو جھر جھری آجاتی ہے
چیف صاحب نے پیٹی بھائیوں کو معزرت کے ساتھ امتحان میں شرکت کیلئے جمع کروائے گئے پیسے  سول  ججز کو واپس کیئے اور کہا کہ وکلاء نہیں مان رہے
جبکہ دوسری طرف سندھ کے مظلوم وکلاء جن کی قیادت ہش ہش کرکے بلی بھگانے  پر یقین رکھتی ہے ہم بیچارے ہرسال  عدلیہ پر یقین  کرنے کی غلطی کرتے ہیں جس کے جواب میں عدلیہ بھی ہمیں خوب رگڑا لگاتی ہے اور ہرسال وکلاء  کے حقوق پر دن کے اجالے میں ڈاکہ ڈال کر ان  کو لوٹ لیا جاتا ہے  اور ہمارے بار کی   نااہل  بزدل  خوشامدی قیادت صرف ایک دن کی ہڑتال کروا کر پھر سوجاتی ہے
اس سال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں پر مقابلے کے امتحان کا انعقاد کیا گیا جس میں  وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ این ٹی ایس کے بعد  تحریری امتحان کا انعقاد کیا گیا جس کے نتائیج  کا اعلان  طویل عرصے بعد کیا گیا جو کہ ہرلحاظ سے مشکوک تھے
امیدواروں کو  صرف اور صرف وکیل  ہونے کی بنیاد پر امتیاز ی  سلوک  کا نشانہ بنایا گیا
دوسری طرف میرٹ کے تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد سارے ڈرامے مکمل کرنے کے بعد  چیف صاحب نے سندھ ہایئکورٹ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر اپنے اپنے  پیٹی بھائیوں میں اسی فیصد نشستیں   ریوڑی  کی طرح تقسیم کردیں جبکہ باقی بچ جانے والی تین نشستیں خیرات کے طور پر وکلاء کو دے دیں اس طرح  بیچارے وکلاء منہ ہی دیکھتے رہ گئے  اور سرعام ان کے مفادات پر ڈاکہ ڈال دیا گیا   
چیف جسٹس صاحب وکلاء نے تو آپ پر مکمل بھروسہ کرنے کی  سنگین غلطی کی تھی   ہمیں تو یقین تھا کہ آپ ہمارے بھروسے پر پورا اتریں گے لیکن افسوسناک طور پر جس طرح آپ نے ججز کی سلیکشن کے دوران   جس طرح وکلاء کو  بشیرا سمجھ کر نظرانداز کیا اس سے  اصولی  طور پر وکلاء کی آنکھیں کھل  جانی چاہیئں   ججز کی سلیکشن کے عمل میں وکلاء مفادات کو جس طریقے لوٹا گیا جس طرح وکلاء کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر نظر انداز کیاگیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی  یہ بات پوری طرح ثابت ہوگئی ہے کہ آپ اور آپ کے دیگر چار ساتھی جسٹس سجاد علی شاہ  سمیت آپ سب  احباب   وکلاء سے  شدیدنفرت کرتے ہیں
اگرچہ ہم جانتے تھے اور جانتے ہیں کہ اس سارے عمل کے دوران کیا کیا ڈرامے بازیاں ہوتی رہی ہیں لیکن ہم خاموش تھے

رہ گئی بات میرٹ کی تو  چیف جی ہمیں سب پتہ ہے کہ میرٹ کیا ہوتا ہے ۔ آپ وکیلوں کو  بشیرا سمجھ کر یہ مت سکھائیں کہ میرٹ کیا ہوتا ہے
مجھے خوشی ہوئی کہ کراچی بار کے صدر نے اس حساس مسئلے پر یوم آزادی کی تقریب میں لب کشائی کی ہے  لیکن ہش ہش کرنے سے بلی اور شیر ہوتی ہے اس معاملے پر کراچی بار کا کردار قائدانہ ہونا چاہیئے
حقوق حاصل کرنے کیلئے فراڈ اور دھوکے کے سب راستے بند کرنے ہونگے ۔ جب تک ان  وکلاء کے دشمنوں کو پہچانا نہیں جائے گا اس وقت تک یہ لوٹ مار کرکے میرٹ کا سبق دیتے رہیں گے


چیف جسٹس کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ اپنے  ججز کو نوازنے کیلئے کوئی الگ فورم تلاش کرلیں ان کیلئے پروموشن پالیسی کا اعلان کریں ان کیلئے الگ سے امتحان کا انعقاد کریں  یہ ڈرامے بازی اب کسی صورت مزید نہیں چلنے دیں گے
چیف جسٹس کو پابند کرنا ہوگا  کہ اب صرف اور صرف وکلاء اس امتحان میں شریک ہونگے  نہ صرف  شریک ہونگے بلکہ ان کو منتخب بھی کرنا ہوگا   دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں کہ وکلاء نالائق ہیں میرٹ پر پورے 
نہیں اترتے اصل بات  وہی ہش ہش والی ہے ان کو پتہ ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔

مضبوط بار ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔مضبوط بار کی تعریف کا تعین آپ کو پاکستان جیسے ملک میں خود کرنا ہوگا
 جہاں حقوق مانگنے سے نہیں ملتے حقوق کو چھینا جاتا ہے  اگر چیف جسٹس کو یہ خوف ہوگا کہ دوبارہ وکلاء مفادات پر ڈاکہ ڈالا تو وکلاء چیمبر میں گھس کر مرغا بنا کر جوتے ماریں گے تو وہ صرف اس خوف سے وکلاء  کے مفادات پر ڈاکہ ڈالنے سے باز رہے گا اور اگر اس کے  وکلاء دشمن ساتھیوں کو یہ خوف ہوگا  وکلاء کے مفادات  پر ڈاکہ ڈالنے کی سزا یہ کہ وکلاء ہایئکورٹ کی برٹش دور کی ٹوٹی پھوٹی سیڑھیوں پر گھسیٹ بھی سکتے ہیں تو وہ صرف اور صرف اس  فزیکل  ٹریٹمنٹ  کے خوف سے  وکلاء کے حقوق  لوٹنے سے باز رہیں گے۔
ویسے عدلیہ  کا احترام کرنا چاہیئے جو معاشرے عدلیہ کا احترام نہیں کرتے وہ تباہ ہوجاتے ہیں  برابری کی بنیاد پر بات کرنے کے بعد آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے بعد  وکلاء کے مفادات کو طاقت کی بنیاد پر محفوظ بنانے کے بعد ہمیں 
چاہیئے کہ ان تمام فلسفوں پر مکمل یقین رکھیں
بدقسمتی سے ہمیں مضبوط بار نظر نہیں آتی  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری بارایسوسی ایشنز سندھ ہایئکورٹ کی بغل بچہ تنظیمیں
 بن چکی ہیں  جن کی سرپرستی میں  وکلاء کو ان کے جائز حقوق سے مسلسل محروم کیا جارہا ہے
لیکن یہ کام کرے گا کون کیا  بار میں اتنی ہمت ہے؟
ایک واقعہ سنا کر سارا معاملہ ختم کرتا ہوں

کافی عرصہ قبل ایک کلائینٹ میرے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اپنے دودشمنوں کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا ہے اس حوالے سے آپ سے ایک قانونی مشورہ لینا ہے
میں نے کہا کہ کیا مشورہ لینا ہے
کلائینٹ نے کہا کہ دوافراد کو قتل کرنا ہے اس کے حوالے سے بات کرنی ہے
 قتل کے بعد کیا ہوگا؟
میں نے بتایا کہ تم یہ  جرم  کرکے سیدھے جیل جاؤگے
کلایئنٹ نے کہا کہ سنا ہے کہ جیل میں پولیس والے مارتے بہت ہیں  بہت زیادہ مارتے ہیں  ٹکٹکی لگاکر کر مارتے ہیں جیل کی زندگی بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے  میں نے قتل تو کرنا ہے لیکن اس خوف سے قتل نہیں کرتا کیونکہ سنا ہے کہ یہ پولیس 
والے جیل میں بہت مارتے ہیں
خیر اس نے آج تک قتل نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جیل میں پولیس والے بہت زیادہ مارتے ہیں