Friday, 27 February 2015

وہ ایک رات صدیوں کے برابر ہوتی ہے ٭٭تحریر صفی الدین اعوان



غریب لوگ رات آٹھ بجے ہی وہاں جمع ہوجاتے ہیں
وہاں ایک لمبی لائن ہرروز لگتی ہے ضرورت مندوں کی غریبوں کی سسکتی ہوئی انسانیت کی لائن
ساحلی بستی کے موٹے مچھر رات بھرساحلی بستی کے  ان غریبوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں ۔سردی ہو یا گرمی روز کا یہی معمول ہے  اس ہسپتا ل کے باہر ہرروز غریبوں کی ایک لمبی لائن لگتی ہے  اس لائن میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی
جو لوگ ضرورت کے تحت لائن میں لگتے ہیں ان کیلئے   ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ  ان غریبوں کیلئے انتظار کے وہ لمحے کتنے طویل ہوتے ہیں رات کے وقت صبح کا انتظار کتنا جان لیوا ہوتا ہےایک ایک منٹ سال کے برابر ہوتا ہے اور  اگر انسان بیمار ہو یا تکلیف میں ہوتو ایک ہی رات صدیوں کے برابر ہوتی ہے
مچھروں سےلڑتے لڑتے صبح ہوجاتی ہے اور صبح مقررہ وقت پر اسپتال کا دروازہ کھل جاتا ہے

لیکن صرف 80 مریضوں کو اندر داخلے کی اجازت دی جاتی ہے چالیس مرد اور چالیس عورتیں  ان کو نمبر کی پرچی الاٹ کی جاتی ہے باقی لوگ مایوس ہو کر لوٹ جاتے ہیں  یوں رات بھر کا انتظار بیکار چلاجاتا ہے
ڈاکٹروں کا پینل ان مریضوں کا معائینہ کرتا ہے اور اگر ڈاکٹر یہ محسوس کریں کہ ان کو اس اسپتال میں علاج کیا جاسکتا ہے تو ان کو ایک کارڈ جاری کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد ان مریضوں کی دیکھ بھال اس اسپتال کا فرض بن جاتی ہے 
مریض پر آنے والے تمام اخراجات اسپتال برداشت کرتا ہےیہی اس اسپتال کی سب سے بڑی خوبی ہے
غریبوں کیلئے قائم کیئے گئے اس اسپتال کا نام "انڈس اسپتال " ہےہم سوچ نہیں سکتے کہ یہ ادارہ کراچی میں غریب لوگوں کے علاج معالجے کیلئے کس قدر خطیر رقم خرچ کررہا ہے
کراچی کے شہری اور سرمایہ دار غریب پرور ہیں میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے اگر زراسی توجہ دی جائے تو  انڈس اسپتال جیسے کئی ادارے قائم کیئے جاسکتے ہیں 
اگر ہم تمام لوگ مل کرکوشش کریں تو انڈس اسپتال جیسے مزید ادارے کراچی میں قائم ہوسکتے ہیں اگر ایسے ادارے وجود میں آئیں گے تو حکومت پر بھی بوجھ کم ہوجائے گا اور انڈس اسپتال پر بھی  رش کم ہوگا لوگوں کی لمبی لائن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجائے گی اور ایک دن وہ وقت بھی آجائے گا کہ  ایک غریب شخص یا ایک باعزت پاکستانی شہری عزت سے اسپتال میں   آئے گا اور اپنا طبی معائینہ  کروائے  گا خیر انڈس اسپتال میں عزت تو آج بھی دی جاتی ہے لیکن جب ایک اسپتال کے وسائل ہی محدود ہوں تو اس کے پاس کوئی راستہ بھی موجود نہیں ہوتا اگر وسائل میں اضافہ ہوگا تو ان کی سروسز بھی پہلے سے زیادہ ہوجائیں گی اسٹاف میں اضافہ ہوگا

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اپنا ذہن یہ بنائیں کہ ہم اپنا پیسہ نیکی کے دیگر کاموں میں بھی لگائیں گے  نیکی کے ان کاموں میں اسپتال بنانا بھی شامل ہے مسجد بنانا نیکی کا بہت بڑا کام ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں نے صرف مسجد بنانا ہی نیکی کاکام سمجھا ہے  علماء اکرام کو چاہیئے کہ لوگوں کی رہنمائی کریں  اور  ایسے نیکی کے کام بھی کیئے جائیں جن سے خلق خدا کو براہ راست بھی فائدہ پہنچے

بہرحال انڈس اسپتال کورنگی میں بہت بڑا کام کررہا ہے  اور ایسے ایسے واقعات  لوگ  بیان  کرتے  ہیں جن کو سن کر دل بہت  خوش ہوتا  ہے ہم انڈس اسپتال کے تمام معاونین کیلئے دعاگو ہیں جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے میں اللہ تعالٰی سے دعاگو ہوں کہ   ان تمام لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے
پاکستان میں لوگوں کو آج بھی ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے جو ان کا پیسہ ایمانداری سے خرچ کریں 
مذہب کا نیکی کے کاموں سے گہرا رشتہ ہے کسی زمانے میں میرے آبائی شہر میانوالی میں سکھ بھی آباد تھے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میانوالی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں  میرا جانا ہواتومیں نے مشاہدہ کیا کہ وہاں 1947 میں بھی ہائی اسکول قائم تھا  ایک تالاب بنوایا گیا تھا اور ایک ڈسپنسری بھی قائم تھی جوکہ  اس علاقے کے مقامی سکھوں نے اپنی مزہبی فریضے کے تحت بنائے تھےاور غربت کے باوجود قطرہ قطرہ کرکے دریا بن گیا تھا

پاکستان کے مذہبی طبقے ،میڈیا،ہمارے ادیبوں ،سیاستدانوں اور سوشل میڈیا پر موجود باشعور افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی ذہن سازی کریں سماجی بہبود کو مذہب سے منسلک کردیا جائےجب لوگ اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر اسکول بنائیں گے اسپتال بنائیں گے تو یہ بہت سے چھوٹے قطرے بارش بن کر برسیں گے اور نیکی  کا دریا رواں دواں ہوجائے گا

 ہمارے ہاں عوام نیکی کے جزبے سے سرشار ہیں وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید نیکی کے کام کا سب سے آسان کام یہی نظر آیا ہے کہ لوگ جاکر ایک مسجد  بنادیتے ہیں  اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ  بھی نیکی ہے   لیکن انسانیت کی خدمت پر بھی  توجہ کی ضرورت ہے

یہ تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہے جب   مذہب کا مطلب ہی انسانیت کی خدمت قرار پائے گا تو ہر گلی ہر محلے میں  ایک  انڈس اسپتال  موجود ہوگا  جہاں انسانیت کی خدمت مذہبی فریضے کے طور پر کی جائے گی     

Thursday, 26 February 2015

احساس کمتری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



بیٹی انسان کو بہت پیاری ہوتی ہے خاص طور پر جب اکلوتی ہو۔ لیکن اکثر اوقات اکلوتی بیٹیاں بھی انسان کو دکھ دے جاتی ہیں 
چند ماہ قبل ایک  کراچی کے بہت بڑے تاجر نے جس کے کراچی کے  پوش علاقے میں دو شاپنگ سینٹر ہیں رابطہ کیا ا ور ایک فیملی کے معاملے پر قانونی مدد چاہی  ایک نامور  مرحوم تاجر کی   دواولادیں  تھیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ،بیٹی بہت پیاری تھی اور لاڈلی تھی لیکن کہتے ہیں نہ کہ عشق نہ پچھے  ذات بعض بیٹیاں ایسی غلطیاں کر جاتی ہیں جن کی قیمت ہر لمحہ ادا کرنی پرتی ہے دس سال پہلے شرارتی ماں باپ کی لاڈلی اور ضدی بیٹی نے ایک  سنگین غلطی کی

 ایک غریب لڑکے سے پسند کی شادی  یعنی کورٹ میرج کرلی یہ ایک ایسی غلطی تھی جس کی ماں کو توقع ہی نہ تھی اور  لڑکا بھی ایسا  کنگلا جس کے پاس نہ روزگار نہ تعلیم مختصر یہ کہ ماں باپ اور بھائی  نےمجبوراً کمپرومائز کیا  کورٹ میرج کے بعدلڑکی کو گھر سے رخصت کیا کچھ عرصے بعد اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر اس کو غریب بستی سے  کلفٹن منتقل کیا ایک قیمتی فلیٹ بھائی نے تحفہ کے طور پر دیا  جس کی موجودہ  مالیت  دوکروڑ سے بھی زیادہ ہے اور بہن کو پچاس ہزار روپیہ نقد بطور خرچ ادا کرنا شروع کیا  اور گھر کے جو بھی اخراجات تھے وہ اداکرنے شروع کیئےلیکن  ان ساری کوششوں کا الٹا نتیجہ یہ نکلا کہ  اس لڑکی کا غریب شوہر احساس کمتری کا شکار ہوا  اور عجیب وغریب رویئے کا اظہار کیاکیونکہ غریب کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر اکثر غریب ہوتا ہے جو اس کو احساس کمتری کا مریض بنادیتے ہیں یہ احساس کمتری کا شکار لوگ بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں 
میرا اپنا ایک دوست  تھا  وہ تو احساس کمتری کا باقاعدہ مریض تھااس کے باپ نے دو شادیاں کیں  اور  اس  کو بچپن میں  ہی باپ نے  گلیوں میں رلنے کیلئے لاوارث چھوڑدیا وہ بچپن میں بدترین غربت کا شکار ہوا جیسے تیسے مانگ تلنگ کے تعلیم حاصل کی اور جب وہ تھوڑا صاحب اختیار ہوا تو  میں مشاہدہ کرتا تھا کہ وہ ایک عجیب سا نفسیاتی اور شکی مریض بن گیا ہر وقت احساس کمتری ہر لمحہ وہ احساس کمتری میں مبتلا رہتا تھا اور لوگوں کو بے عزت کرکے اس کو عجیب سا نفسیاتی سکون ملتا تھا اپنے ماتحت عملے کو تو اس نے کبھی جانور کا درجہ بھی نہیں دیا اسی طرح لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونا بھی اس کا ایک مشغلہ ہی تھا  احساس  کمتری کے مریض کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو بھی ذلیل کیا جائے اس مظلوم لڑکی کے ساتھ بھی یہی حال ہوا وہ بھی کسی کے نفسیاتی تشدد ، احساس کمتری کا شکار اور نشانہ بنی
لڑکی نے عشق میں مبتلا ہوکر جو غلطی کی اس کی قیمت ہر لمحہ ادا کی احساس کمتری کا شکار شوہر نے ہر لمحہ ذہنی اذیت دی  جس کو مظلوم لڑکی نے برداشت کیا کچھ عرصے بعد جسمانی تشدد کا بھی آغازہوا جو کہ بڑھتا گیا دوبچوں کے ماہانہ تعلیمی اخراجات بھی والدین ادا کرتے تھے   اس کے باوجود لڑکی پر پابندی تھی کہ وہ والدین کے گھر نہیں جاسکتی تھی ،دس سال بعد اس لڑکی نے بالآخر اپنی دس سال پہلے کی جانے والی غلطی کو سدھارنے کا فیصلہ کیا ماں کے ساتھ دو بچے بھی باپ کے احساس کمتری کا نشانہ بن رہے تھے
انہوں نے ہم سے قانونی مشورے کے بعدگھر چھوڑا  لیکن وہ پورا خاندان بے حد خوفزدہ تھا اس کے شوہر نے دس سال کے دوران اسقدر ذہنی اذیت اور خوف وہراس پیدا کیا کہ وہ لڑکی خواب میں بھی ڈر جاتی تھی  دس سال کے دوران لڑکی پر ایسا ذہنی اور نفسیاتی تشدد تھا کہ وہ لڑکی محسوس کرتی تھی کہ اس کا شوہر اس کے پورے خاندان ہی کو مٹادے گا۔خیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے اس نے گھر چھوڑا
جب وہ چلی گئی تو پھر احساس کمتری کے نفسیاتی مریض کو احساس ہوا کہ اس سے کیا غلطی ہوچکی تھی معافی مانگی لیکن لڑکی نے معاف نہیں کیا پہلے فلیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ملکیت اپنے نام نہ کرواسکا بالآخر اس کو فلیٹ چھوڑنا پڑا  لیکن چند روز بعد ہی نام نہاد عاشق نے دھوم دھام سے شادی کی
لڑکی نے گھر چھوڑنے کے فوراً بعد ہی
خلع  اور بچوں کے ماہانہ اخراجات کا کیس داخل کیا کورٹ نے خلع کا فیصلہ اس کے حق میں دیا  بچوں کے ماہانہ اخراجات کی بات آئی تو سابق شوہر نے بے روزگاری اور غربت کا بہانہ بنایا اور کورٹ کے سامنے ہاتھ جوڑ لیئے کہ اس کے پاس بچوں کے اخراجات ادا کرنے کیلئے  کچھ بھی نہیں ہے
لڑکی نے معاف کیا تو لڑکے کا وکیل جو وکیل کم اور گھاگ شکاری زیادہ تھا اور  لڑکی  کی کردار کشی کیلئے بہت سا مواد اکٹھا کرکے لایا تھا ،  لیکن جج نے  گھاگ وکیل کو کسی بھی قسم کی کردار کشی  کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیالیکن گھاگ وکیل کوشش کرتا رہا کہ  اس کے کلائینٹ کے خلاف  کیس چلتا رہے لیکن اس کے باوجود لڑکی نے کہا کہ کیا میرے لیئے یہ کافی نہیں کہ یہ شخص میری زندگی سے ہمیشہ کیلئے چلا جائےصرف اس شرط پر اپنا کیس واپس لینے کیلئے تیار ہوں کہ یہ شخص میری زندگی سے ہمیشہ کیلئے چلاجائے  
اس طرح ایک المناک کہانی اپنے انجام کو پہنچی
لڑکی نے اس شرط پر کہ اس کا سابق شوہر زندگی بھر اس کو تنگ نہیں کرے گا بچوں کے اخراجات کا مقدمہ واپس لے لیا 
بیٹیوں کی بہت سی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی بھاریی قیمت ان کو ادا کرنی پڑتی ہے
لڑکیوں کو ایسی غلطی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا چاہیے بہت سے جذباتی فیصلے عمر بھر پریشان کرتے ہیں آج کل جو معاشرے میں کورٹ میرج کا چلن چل نکلاہے اور چار دن کی محبت کے بعد کورٹ میرج کے اکثر ہی بھیانک نتائج نکل رہے ہیں ان تمام نتائج کا تعلق معاشی  اور نفسیاتی مسائل سے بھی ہے 
میں نے اپنے کلائینٹ سے کہا کہ سزا اس کا حق تھی معاف کرنا اچھی بات ہوتی ہے لیکن اس کو سزا ملنا چاہیئے تھی
اس مظلوم لڑکی کے آنکھوں سے دو معصوم سے آنسو گرے  اور وہ صرف اتنا کہہ پائی کہ جج صاحبہ کی آنکھوں میں میرے لیئے  جو عزت تھی اور  میرے سابق شوہر کیلئے جو نفرت تھی وہی میری جیت تھی آج چند لمحوں کے دوران پری ٹرائل کے دوران جو کچھ بھی ہوا میں نے زندگی بھر کی  زیادتیوں کا بدلہ اس سے لے لیا ہے
اور جہاں تک بات ہے پیسے کی  تو کیا پیسے سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں پورے دس سال میرے بھائی اور ماں  نے  میری خوشی کیلئے   میرے ایک غلط  فیصلے کودرست فیصلے میں تبدیل کرنے کیلئے  میرے شوہر  کی ہر ڈیمانڈ پوری کی  لیکن میرے لیئے خوشیاں نہ خرید پائے
وہ دنیا کا کونسا بازار ہے جہاں پیسے سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں 
میرے ایک غلط اور جذباتی فیصلے کی وجہ سے نہ صرف پوری زندگی برباد ہوگئی بلکہ میرے بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے

Wednesday, 18 February 2015

لفظ اقلیت گالی ہر گز نہیں ہے



اقلیت
پاکستان میں یہ لفظ اگرچہ گالی تو نہیں ہے
لیکن
گالی سے کم بھی نہیں ہے
آئین کی کتاب میں ان کےحقوق موجود ہیں لیکن وہ کتاب ہی کی حد تک ہیں
کون اقلیت ۔۔وہ اقلیت ۔۔اچھا وہ اقلیت
آنکھ نیچے ۔۔آواز زیادہ  بلند نہ ہو اور آنکھ  ملا کر بات مت کرنا
تمام شہری برابر ہیں لیکن اقلیت تو اقلیت ہی ہوتی ہے

بستی تم آباد کروگے یہ تمہارا حق ہے لیکن  بستی تمہاری ہوگی آبادی تمہاری ہوگی لوگ تمہارے ہونگے لیکن اس بستی کونام ہماری مرضی سے دوگے لیکن وہاں سب حقوق برابری کی بنیاد پر تم لوگوں کو حاصل ہونگے لیکن آنکھ ذرا نیچے کیونکہ تم لوگ اقلیت والے ہو

اس میں حرج کیا ہے   ہماری زمین پربستی بھی تمہاری   لوگ  بھی تمہارے سب کچھ تمہارا ہوگا کیونکہ آئین کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ اقلیت کے بے شمار حقوق ہیں لیکن  بستی کا نام میری مرضی کا ہوگا  زمین تو ہماری ہی ہے ناں یہ کہاں لکھا ہے کہ کسی بستی کا نام بھی اپنی مرضی سے رکھوگے

دیکھو  اگر ایمرجنسی ہوتو پولیس مدد کیلئے موجود تو ہے کیونکہ آئین کی کتاب میں لکھا ہے کہ اقلیتوں کے بے شمار حقوق ہیں  تمہاری جان کی ذمہ داری ہمارے ذمے ہے اگر ایمرجنسی ہو اور بستی کو جلانے کی کوشش کی جائے گی تو ہم حفاظت کریں گے بستی جلانے کیلئے خالی کروالی جائے گی  کیونکہ  بلوائی کچھ بھی کرسکتے ہیں  اور ہم مذہبی جذبات کے سامنے بے بس ہیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے جب ہم غصے میں آجائیں تو اپنے جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں  ہم پوری بستی جلادیتے ہیں بلکہ جو سامنے آجائے جلادیتے ہیں     پولیس اپنا فرض ادا کرتی ہے بستی کی خیر ہے جل جائے پوری آبادی کا کامیابی سے انخلاء ہوجاتا ہے  اسی لیئے تو  پولیس اپنا فرض ایمانداری سے ادا کرتی ہے کہ کہیں انسانوں کو زندہ ہی نہ جلادیا جائے
اور وہ دیکھو تھانے کا منظر ایک غیر مسلم لڑکی کے اغواء کے ایف آئی درج ہوگئی یہ کافی نہیں  کیا تم کو پتہ نہیں کہ صرف ایف آئی آر کیلئے ہی کتنے پاپڑ پیلنے پڑجاتے ہیں  وہ تو ٹھیک ہے لیکن سر چوبیس گھنٹے گزرچکے ہیں ہم پر قیامت گزررہی ہے ہم کہاں جائیں  اور ابھی تک تفتیشی افسر ہی مقرر نہیں ہوا

دیکھو آنکھ نیچے۔۔۔آواززیادہ بلند نہ ہو
تفتیشی افسر مقرر ہوچکا ہے  ہمیں اب ڈکٹیشن مت دو
یہ موبائل نمبر ہے  سر ۔۔پلیز لوکیشن تو چیک کرلیں کہ لڑکی کہاں ہے
جاؤ جاؤ   مجھے تو ابھی تفتیش ملی ہے اور   زیادہ تھانے دار مت بنو اور خود جاکراس کے  یار کو تلاش کرو  گھوم رہی ہوگی کسی یار کے ساتھ

ایسا ہرگز نہیں اس کو اغواء کیا گیا ہے ہماری آنکھوں کے سامنے آپ چیک تو کریں سم کے زریعے اس کی لوکیشن کا سراغ  مل جائے گا سر کوشش تو کریں آپ دیکھ تو لیں کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے سر آپ تلاش کرسکتے ہیں وہ یہیں ہیں  وہ کال کررہے ہیں دھمکیاں دے رہے ہیں سر ایک بار پلیز صرف ایک بار کوشش تو کرلیں  ہم بھی تو اس ملک کے شہری ہیں ہمارا بھی کچھ تو حق  بنتا ہی ہے ناں سر جی وقوعہ ہی چیک کرلیں پلیز سر

سب یہی کہتے ہیں کہ اغواء ہوگئی   ایسا کچھ نہیں ہوتا صبر کرو دودن بعد خود ہی گھر واپس آجائے گی اور آنکھ نیچے  آواز ہلکی ،زیادہ اکڑ دکھانے کی ضرورت بھی نہیں اور اب جاؤ انتظار کرو خود ہی آجائے گی
پھر ایسا ہی ہوا دودن بعد وہ واپس  بھجوا دی گئی
صرف دودن بعد
صرف 48 گھنٹے بعد لڑکی واپس کردی گئی

کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس کو بھنبھوڑا گیا۔ اس کی عزت کو تار تار کیا گیا   اس کی ویڈیو بنائی گئی ۔کیا یہ کم نہیں کہ لڑکی واپس مل گئی زندہ لاش واپس مل گئی  لیکن عزت لٹ جانے کے بعد  اب کیا ہوگا ۔۔
آئین کی کتاب اس حوالے سے تاحال  خاموش ہے
تحریر صفی الدین اعوان

یہ تحریر کراچی میں واقع  مائیکل ٹاؤن نامی عیسائی بستی جلائے جانے بعد ایک امن معاہدے کے تحت    وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ  ایک ہونے والے  "متفقہ "معاہدے کے بعد سرکاری طور پر تبدیلی اور ایک    اقلیتی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کے پس منظر میں لکھی گئی ہے

Wednesday, 4 February 2015

ہم کتنے عظیم لوگ ہیں ناں


بعض حق بڑے ہی عجیب سے ہوتے ہیں اور بالکل ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں
ان انتہائی ذاتی حقوق میں سے ایک حق "نام" کا بھی ہے۔ ہم دنیا میں جہاں بھی چلے جائیں اپنے اس ذاتی حق سے کسی بھی صورت محروم نہیں ہوسکتے ہم اپنے بچوں کے نام اپنی محبت اور چاہت سے رکھتے ہیں
کتابیں  خریدی جاتی ہیں  قرعہ اندازی ہوتی ہے نام کا مطلب تلاش کیا جاتا ہے اور کافی دیر  بحث مباحثہ کے بعد ہم اپنے بچوں کے نام محبت سے رکھتے ہیں اس نام کے پیچھے ایک محبت کا جذبہ بھی ہوتا ہے
لوگ اپنے نام اپنے مذہب اور کلچر کے مطابق بھی رکھتے ہیں  یہ ان کا ذاتی حق ہے ہم کسی بھی شخص سے اس کا یہ حق کیسے ادھار مانگ سکتے ہیں  ہم کسی بھی شخص سے یہ حق کیسے چھین سکتے ہیں نام تو ذاتی حق ہوتا ہے ناں اس میں کوئی کیسے مداخلت کرسکتا ہے یہ تو ایک اخلاقی حق بھی ہے کوئی مسلمان اپنے بیٹے کا نام  روی داس شنکر نہیں رکھ سکتا اور کوئی ہندو اپنے بیٹے کا نام  عبداللہ خان کیوں رکھے گا
جب مسلمان کوئی بستی بسانے جاتے ہیں تو اس کانام مدینہ کالونی رکھا جاتا ہے اس کا نام محمد علی سوسائٹی رکھا جاتا ہے اس کانام پیر الٰہی بخش کالونی رکھا جاتا ہے اس بستی کانام اپنے ماحول  اور کلچر کے مطابق بھی رکھ سکتے ہیں بعض اوقات کسی قابل احترام سماجی شخصیت کے نام پر بھی رکھ دیا جاتا ہے چاہے اس کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو
یہی معاملات مختلف شاہراؤں کے ہیں  کسی بھی روڈ یا سڑک کانام کسی بھی قومی ہیرو یا سماجی شخصیت کے نام رکھ کر اس کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے
ہم پاکستانیوں کو ایک عجیب سا شوق ہے تاریخ بدلنے کا ہمیں ایک عجیب سا شوق ہے  کہ ہم اپنے شوق کا بلڈوزر تاریخ پر چڑھادیتے ہیں  ہم پاکستانیوں کو ایک عجیب سا یہ شوق ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سڑکوں قومی شاہراؤں اور بستیوں کے نام اپنے قومی ہیروز اور ہردلعزیز ہستیوں کے نام  کردیں ہم اپنے شوق کا بلڈوزر لیکر کبھی لائیلپور پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اس کانام فیصل آباد رکھ دیتے ہیں ہمارے شوق کا یہ بلڈوزر بندر روڈ پر چڑھ دوڑتا ہے اور ہمارے شوق کا یہ بلڈوزر کبھی موتی لعل نہرو روڈ پر چڑھ کر اس کانام ایک ہندوستانی مسلمان شاعر جگر مراد آبادی تبدیل کرکے رہتا ہے حالانکہ جگر مراد آبادی ایک عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک سچے ہندوستانی تھے


لیکن یہ بحث تو اب پرانی ہوچکی بری طرح گھس چکی پٹ چکی یہ ہم کس موضوع کو لیکر بیٹھ گئے بات دراصل یہ ہے کہ میرے سامنے ایک سرکاری معاہدہ موجود ہے جس پر حکومت سندھ  کالوگو   نشان موجود ہےاس معاہدے کو ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ سمیع الدین صدیقی کی منظوری حاصل ہے اور یہ معاہدہ منظوری کے بعد ڈپٹی چیف سیکرٹری  سندھ سمیت تمام اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو بھی بھیجا گیا ہے یہ  معاہدہ تین اکتوبر 2013 کو دوپہر تین بجے ہوا جس کا مقصد کورنگی میں مسلمانوں اور کرسچن کمیونٹی کے درمیان ہونے والے مزہبی تنازعے اور فسادات کے بعددونوں فریقین کی صلح کروانی تھی اگرچہ مجھے اس معاہدے کے بہت سے نکات سے اختلاف ہے
لیکن معاہدے کا ایک نقطہ میرے دل  ہی کو چھید گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس صلحنامے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ  اس کرسچن بستی جہاں سارے کرسچن آباد ہیں اور تین سو گھرانوں پر مشتمل اس آبادی میں دوہزار کے قریب مسیحی  برادری کے افراد بستے ہیں صلح نامہ کے مطابق اب اس بستی کا نام  عیسائیوں کی بجائے مسلمانوں کی ایک قابل احترام شخصیت کے نام سے پکارا جائے گا بعد ازاں سرکاری طور پر اس بستی کا نام تبدیل کیا گیا اور سرکاری سرپرستی میں وہاں کی آبادی کو مجبور کیا گیا کہ  اس آبادی کی دیواروں سے پرانا نام مٹا دیا جائے اور نیا نام لکھ دیا جائے

مجھے حیرت ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہتے ہیں کسی بھی شخص سے کسی بھی گروہ سے ہم کیسے کس بنیاد پر اس کانام کا حق چھین سکتے ہیں نام کا حق تو ذاتی ہوتا ہے  ہم کسی اقلیتی گروپ کو کس بنیاد پر  اس بات پر مجبور کرسکتے ہیں
ہم اپنی بستیوں کے نام سو بار تبدیل کرسکتے ہیں کسی دوسرے گروہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر کس اخلاق کے تحت اپنا فلسفہ مسلط کرسکتے ہیں
ایسا تو اس صورت میں ہوتا ہے جب ایک دشمن ملک دوسرے ملک کی کسی بستی پر قبضہ کرتا ہے اور فتح کی خوشی میں اس شہر کا نام  ہی تبدیل کرکے اس بستی کے شہریوں کو  ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے یہ پیغام دیتا ہے  کہ ہم فاتح ہیں تم مفتوح ہو ہم طاقتور ہیں تم کمزور ہو دیکھ لو ہم نے تم سے طاقت کی بنیاد پر تم سے تمہارا نام ہی چھین لیا
ہم نے کونسا ملک فتح کیا ہے ہم اپنے ہی ملک کی بستیوں کو فتح کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں  کیا ہم غیر مسلموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم فاتح ہیں تم  مفتوح ہو اب ہم سرکاری طور پر  ان بستیوں کے نام بھی وہاں کے شہریوں کی مرضی اور اجازت کے بغیر  زبردستی تبدیل کرکے مسلم اکابرین کے نام پر رکھ رہے ہیں جہاں غیر مسلم آباد ہیں اور وہ بستیاں جو غیر مسلموں نے چند سال قبل ہی آباد کی ہیں چند سال سے مراد بیس سے پچیس سال پہلے ہے
ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا کب سیکھیں گے کل تک ہم تاریخ کو مسخ کررہے تھے اب ہماری ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم نے اپنے حال کو بھی مسخ کرنا شروع کردیا ہے ہم کتنے عظیم لوگ ہیں
           بستی