Sunday, 5 April 2015

ایسٹر کے تہوار کے موقع پر عیسائی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ تحریر صفی الدین اعوان


پاکستانی عدلیہ غیر مسلم اقلیتوں  کو تیسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے
غیر مسلم  ہمارے لیئے غیر ہی تو ہیں ۔ غیر وہ ہوتا ہے جو اپنا نہیں ہوتا جو اپنا نہ ہو وہ بیگا نہ ہوتا ہے اور  جو اپنا نہ ہو اس کے ساتھ پاکستان کی عدالتوں میں غیروں والا سلوک کیا جاتا ہے ۔اور اسی کے وہ مستحق ہیں  کیونکہ وہ  عدالتوں کیلئے بھی غیر ہی ہیں  اپنے اور بیگانے میں یہی فرق ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عدالتیں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مذہبی تفریق کرتے ہوئے ان کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کرتی ہیں
غیروں کے برخلاف غیر مسلموں کے بر خلاف !!!!!
جب ہمارے اپنوں کی باری آتی ہے تو !!!!!
پاکستانی عدالتوں میں ایک روایت موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی اہم تہوار آتا ہے تو اس تہوار کے احترام میں
  جیلوں میں بند قیدیوں کو  قانون  کے دائرے میں رہ  کر ترجیحی بنیادوں پر رہا کیا جاتا ہے اگر ان کی ضمانت کی درخواست زیر سماعت ہو تو اس کو فوری طور پر سنا جاتا ہے اور فوری فیصلے کیئے جاتے ہیں۔

کوشش  کی جاتی ہے کہ اگر قانون اجازت دے اگر ریلیف بنتا ہوتو قانون کے مطابق قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے یہ سلسلہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک جاری ہے چاند رات کو عید سے ایک دن پہلے بھی  ہایئکورٹ  کی ہدایت پر ججز جیلوں میں جاتے ہیں اور معمولی جرائم میں ملوث ملزمان کو جیلوں سے رہا کرتے ہیں  اس سارے سلسلے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔اسی طرح  ایک یہ بھی ریلیف دیا جاتا ہے کہ ملزم کی رہائی میں اگر کوئی  ضابطہ فوجداری سے متعلق مسئلہ ہوتو اس  رکاوٹ کو دور کیا جاتا ہے  مثلاً اگر  ضمانت کے طور پر جو کاغذات عدالت میں پیش کیئے جاتے ہیں  ان کی ویریفیکیشن   کی شرط کو ختم کیا جاتا ہے   اور ملزم کو تو رہا کردیا جاتا ہے لیکن ویریفیکیشن بعد میں کروائی جاتی ہے لیکن کیا یہ تمام سہولیات صرف مسلمان قیدیوں کیلئے ہی مخصوص ہیں ؟ جی ہاں غیر مسلم اس  ریلیف کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ وہ غیر ہیں اور غیر بیگانہ ہوتا ہے
   
خاص طور پر عید الفطر اور عید قربان پر یہ خصوصی ریلیف ملزمان کو فراہم کیا جاتا ہے
گزشتہ دنوں صوبہ سندھ میں عیسائیوں کی سب سے بڑی بستی عیسٰی نگری میں   دو سال  پہلے دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کے بعد  عیسائی  برادری  کی جانب سے کیئے گئے احتجاج  کے بعدحکومت سندھ  کی جانب سے   چرچ اور آبادی کی حفاظت کیلئے تعمیر کی گئی "سیفٹی وال" کو  شدت پسندوں کے ایک جم غفیر نے توڑنے کی کوشش کی اس کوشش کے دوران  میں یہ بات انتہائی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ  مقامی عیسائی  آبادی نے صبر اور تحمل سے کام لیا  کسی قسم کی مزاحمت  نہیں کی اور  فوری طور پر پولیس اور رینجرز کو اطلاع دی جس کے بعد فوری طور پر پولیس اور رینجرز جب وہاں پہنچی تو وہاں کچھ لوگ اس  " سیفٹی وال" کو گرا چکے تھے پولیس نے اس واقعہ کا  پولیس کی مدعیت میں ذمہ داران کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا کرسچین آبادی اور  چرچ کی حفاظت کیلئے بنیادی طور پر سات سیفٹی وال تعمیر کی گئیں تھیں جس کے زریعے سات گلیوں کو بند کیا گیا تھا حیرت انگیز طور پر اس واقعے میں پولیس نے دیوار گرانے کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ  بڑی تعداد میں کرسچین کمیونٹی کے افراد پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا
یہ واقعہ چوبیس مارچ  2015 کو پیش آیا جبکہ اگلے دن پولیس نے ایک دروازہ توڑ آپریشن کے زریعے  آٹھ عیسائی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا اور ان اپنے ہی چرچ اور اپنی ہی آبادی کی حفاظت کیلئے بنائی گئی  دیوار کو توڑنے کے جرم میں گرفتار کرلیا یعنی ظالم اور مظلوم دونوں کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا گرفتار شدگان میں سے اکثریت ایسے افراد کی تھی جن کے نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے۔
ملزمان  کو پولیس  نے دہشت گردی کی عدالت میں پیش  کیا  تو  انسداد دہشتگردی کے جج نے ریمانڈ دینے سے انکار کیا اور علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے ریمانڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی سیکشن بھی خارج کردی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پولیس نے مقدمہ قائم کرتے ہوئے بدنیتی کا مظاہرہ کیا
مقامی عدالت میں پیش ہوئے علاقہ مجسٹریٹ نے ملزمان کو جیل میں بھیج دیا اور ملزمان کی ضمانت کی درخواست جمع کروادی گئی  جو کہ سیشن جج نے ایک ایماندار جج کے پاس بھیج دی
ایماندار جج وہ ہوتا ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ کسی کا بھی کام نہیں کرتا
اسی لیئے اس کو ایماندار جج کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایماندار ہوتا ہے اسی لیئے ایماندار کسی کاکام بھی وقت پر نہیں کرتا اگر کربھی دے گا تو خوب ذلیل کرکے کرے گا
خیر ایماندار جج نے تاریخ دی ۔۔۔۔مقررہ تاریخ پر ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی اور ایک اور تاریخ مقرر کی
چھ اپریل جس پر ہم نے اعتراض کیا کہ  پانچ تاریخ کو عیسایئوں کا ایک مقدس تہوار  "ایسٹر" ہے اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اگر ایسٹر سے پہلے کی تاریخ مقرر کردی جائے تو   یہ لوگ اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ  کے ساتھ مناسکتے ہیں
ایماندار جج نے انکار کیا جس پر میں نے اپنی زبانی درخواست کو تحریری شکل میں  پیش کردیا جس پر  چار اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی دوسرے دن پتہ یہ چلا کہ چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے سلسلے میں پورے سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جس پر میں نے دوبارہ رابطہ کیا اور دوسری بار درخواست پیش کی  خیر ایماندار جج نے تین اپریل کی تاریخ مقرر کردی
تین اپریل کو ایماندار جج نے ضمانت کی درخواست منظور کی اور  ملزمان  کی  رہائی کے لیئے ریلیز آرڈر جاری کیئے بغیر کورٹ سے  جوتے چھوڑ کرفرار ہوگئے میں یہ سمجھا کہ جج صاحب جمعہ کی نماز پڑھنے جارہے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایماندار جج صاحب  اس لیئے عدالت سے  جوتے چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں کہ ان کو عیسائی قیدیوں  کے ریلیز آرڈر جاری نہ کرنا پڑیں اور وہ عیسائی قیدی اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ مناسکیں  
اگر جج صاحب کچھ دیر رک جاتے  جوتے چھوڑ کر نہ بھاگتے اور ان ملزمان کا ریلیز آرڈر جاری کردیتے تو یہ لوگ اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منالیتے
اگر رشوت  خور جج ہوتا پیسہ کھانے والا جج ہوتا تو  یہ لوگ پہلے ہی دن  رہا ہوجاتے اور آج اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منارہے ہوتے
جو ججز پیسہ کھاتے ہیں اللہ ان کو خوش رکھے  ان میں بے شمار خوبیاں ہوتی ہیں
پیسہ کھانے والے جج میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ پیسہ لیتا ہے لیکن کام گارنٹی سے کرتا ہے اور انصاف فوری فراہم کرتا ہے  جبکہ ایماندار نہ تو پیسہ لیتا ہے لیکن کام بھی نہیں کرتا اور اگر کام کرتا بھی ہے تو ایسا ذلیل کرکے کرتا ہے کہ  انسان ذلیل ہوجاتا ہے  ایک سرائیکی محاورہ ہے جس کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے کہ بھیڑ دودھ بھی دیتی ہے تو وہ مینگنوں سے بھرا ہوتا ہے (بھڈے دودھ دتا ای  او وی مینگناں دا بھرا ہویا) یہ محاورہ ہمارے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ان ایماندار ججز پر صادق آتا ہے جنہوں نے ایمانداری کو ایک گالی بنادیا ہے
یہی وجہ ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایمانداری ایک لعنت بن چکی ہے   ایمانداری ایک گالی بن چکی ہے اس کے ذمہ دار وہ تمام ایماندار جج ہیں جن کو ایمانداری سے زیادہ ایمانداری کا   حیضہ ہے اور جو ایمانداری کے نام پر عوام الناس کو تنگ کرتے ہیں  حالانکہ ایک ایماندار جج کو ان ججز کے مقابلے میں زیادہ ریلیف دینا چاہیئے جو پیسے لیکر کام کرتے ہیں تاکہ عوام کے اندر ایمانداری کا جذبہ پیدا ہو
خیر سیشن جج  ایسٹ سے رابطہ کیا تو انہوں  نے کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے سے انکار کیا سیشن جج نے کہا کہ جج اپنے ٹائم پر گھر گیا ہے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ عید کے موقع پرمسلمان قیدیوں کی رہائی کیلئے  تو یہ  جج لوگ رات بارہ بجے تک ڈیوٹی کرتے ہیں ۔  جبکہ  غیر مسلم  افراد کیلئے  ذرا بھی ریلیف  نہیں ہے سیشن جج نے کہا کہ اب آپ معاملے کو غلط رخ لیکر جارہے ہیں ۔  جج اپنے مقررہ ٹائم پر گیا ہے اگر عیسائی قیدیوں کی عید خراب ہوئی ہے تو مجھے اس پر افسوس ہے شاید تقدیر میں یہی لکھا ہوا ہوگااب اگر میں رہا کروں گا تو یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہوگی اب آپ  عیسائی برادری سے یہ کہیں کہ وہ صبر سے کام لیں  


اگر ہم مساوات کی بات کرتے ہیں تو ہمارے  معاشرے میں مساوات کہاں پائی جاتی ہے ہم مذہبی اقلیتوں کو کب برابری دیتے ہیں
جب  ہم مسلمانوں کی عید آتی ہے تو اس موقع پر  عدالتوں  کے سارے قاعدے قانون نرم ہوجاتے ہیں اور جب کسی غیر مسلم کے مذہبی تہوار کا موقع آتا ہے تو غیر مسلم قیدیوں  کو ان کا وہ حق بھی نہیں دیا جاتا جو ان کا جائز حق بنتا ہے کیونکہ غیر مسلم "غیر" ہی تو ہیں
جب مسلمانوں کی عید کے تہوار آتے ہیں تو جج جیل پہنچ کر موقع پر ہی ملزمان کو رہا کرتے ہیں جبکہ ایک غیر مسلم کو اس کے مذہبی تہوار کے موقع پر ان کا جائز حق بھی نہیں ملتا کراچی جیسے شہر میں ایک جج بھی نہیں ملتا جو  کسی غیر مسلم کا کورٹ  میں بیٹھ کر ریلیز آرڈر ہی جاری کردے جج عدالتوں سے  جوتے چھوڑ کر اس لیئے فرار ہوجاتے ہیں کہ ان کو  کسی غیر مسلم کی رہائی کیلئے ریلیز آرڈر جاری نہ کرنا پڑجائے جج اقلیتوں  کو اپنی نفرت کا نشانہ اس لیئے بناتے ہیں کہ وہ اپنے مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ مناسکیں کیونکہ وہ غیر ہیں  
ایمانداری کا مطلب ایمانداری ہی ہوتا ہے ایمانداری کا مقصد ہر گز ہرگز عوام کو تنگ کرنا نہیں ہوتا ایمانداری کا مقصد ہر گز لوگوں کے مسائل میں اضافہ کرنا نہیں ہوتا ایماندار ججز کو ان ججز سے سبق سیکھنا چاہیئے جو پیسہ لیکر مخلوق خدا کاجائز کام وقت پر کردیتے ہیں اسی لیئے تو اب  لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ رشوت لینے ولا جج ایماندار جج سے بہتر ہے جو پیسے لیتا ہے لیکن کام تو وقت پر کرتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے  رشوت خور جج ہی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں  

جج کو صرف جج ہونا چاہیئے یہ ایمانداری اور بے ایمانی کیا چیز ہوتی ہے
جب ایمانداری  بدمعاشی بن جائے تو بدمعاشی کسی صورت میں تسلیم نہیں کی جاسکتی ایسی ایمانداری جس کے زریعے اللہ کی مخلوق کو تنگ کیاجائے جس کے زریعے اللہ کی مخلوق پر  خدا کی زمین تنگ کردی جائے  ایسی ایمانداری پر ہم لعنت بھیجتے ہیں اور  جو ایماندار وقت پر کام نہیں کرتے اور اللہ  مخلوق کو اپنی ایمانداری کی آڑ میں تنگ کرتے ہیں  ان کے لیئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
لکھ  لعنت ایسے نیکاں تے
ہم بد تو ویسے ہی بد ہیں
اب معاملہ چلا گیا پیر کے دن  یعنی 6 اپریل 2015 کو اس معاملے کا فیصلہ ہوگا
جج ایماندار ہے اور کیونکہ ایمانداری  کو ایک لعنت بنا دیاگیا  ہے اس لیئے پیر کو بھی یہ ریلیزآرڈر جاری نہیں کرے گا یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ پیر کے دن چھٹی کرلے وہ چاہے تو پورا ہفتہ چھٹی کرسکتا ہے اس دوران رہائی کے منتظر افراد کہاں جائیں گے
یہ ایماندار جج اپنی ایمانداری کے جرم کی سزا مزید دے گا  اور پیر کے دن بھی  اقلیتی برادری کے افراد کو اپنی مذہبی نفرت کا نشانہ بنائے گا یہ ایماندار جج اپنی ایمانداری کی سزا منگل کو بھی دے گا اور ملزمان کو رہا نہیں کرے گا اور اپنی ایمانداری کو اقلیتوں پر مسلط کرنے کیلئے کوئی نیا قاعدہ قانون گھڑ لے گا کیونکہ وہ غیروں کے ساتھ انصاف کرنا ہی نہیں چاہتا
اس لیئے اب تنگ آمد بجنگ آمد
اس لیئے پاکستان کی مقامی اقلیتوں کے پاس اب ایسا کوئی قانونی راستہ نہیں بچا جس کے زریعے وہ عدالت سے اپنا حق لے سکیں اس لیئے اب مقامی اقلیتیں مجبور ہوچکی ہیں کہ وہ عدالت کے باہر  "ایسٹر کے موقع پر   مذہبی نفرت اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر  اور عدالت کی جانب سے  غیر مسلم قیدیوں کو عملی طور پر دوسرے درجے کا شہری  قرار دے کر رہا نہ کیئے جانے والے عیسائی قیدیوں  کی رہائی کیلئے اپنا  بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں

 عیسائی کمیونٹی  ایسٹر کے موقع پر عیسائی قیدیوں کو  مقامی سیشن جج کی جانب سے مذہبی  نفرت  مزہبی تعصب  اور مزہبی تفریق  کا نشانہ بناتے ہوئے   عیسائی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف  اب پیر کے دن مزید ایک دن انتظار کرنے کے بعد اگر عیسائی قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو منگل کے دن  ڈسٹرکٹ ایسٹ کی عدالتوں میں شاہد پرویز میمن کی عدالت کے باہر اب ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کرے گی اور یہ پرامن  مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سندھ ہایئکورٹ اس معاملے کا نوٹس نہیں لے لیگی اس مظاہرے میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ حصہ لیں گے ہر مذہب کے لوگ حصہ لیں  گے عیسائی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک  ہنگامہ نہیں ہوگا شاہد پرویز میمن صاحب یہ چاہ رہے ہیں کہ ہنگامہ آرائی ہو جلاؤ گھیراؤ ہو  عیسائی کمیونٹی ان کی عدالت کے باہر جمع ہوجائے اور عدالت کے تقدس کو پامال کردے
جب لوگوں کے سامنے تمام قانونی راستے بند کردیئے جائیں تو پھر یہ ایک ہی راستہ ان کے پاس بچتا ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لیکر اپنے مسائل کو حل کروائیں