Wednesday, 25 May 2016

التوا کی گندی پریکٹس اختتام کی جانب گامزن تحریر صفی اعوان

ہم ایک حقیقت سے کسی بھی صورت انکار نہیں کرسکتے کہ سندھ ہایئکورٹ نے وسیع پیمانے پر ججز کا اندرونی احتساب کیا ہے جس کے تحت کسی بھی جج کے خلاف شواہد پیش کیئے گئے ہیں اس کو جبری طور پر برطرف یا جبری ریٹائرڈ کیا گیا ہے
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وکلاء میں موجود بعض عناصر جان بوجھ کر کیسز چلانے کیلئے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں جان بوجھ کر کیس نہیں چلاتے جس کی وجہ سے کام کا حرج ہوتا ہے
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نااہلی ایک مرض کی طرح وکلاء میں بھی سرایت کرچکی ہے گزشتہ دنوں ججز نے ان مافیا کے لوگوں کے خلاف کاروائی کی کوشش کی جو جان بوجھ کر کیس نہیں چلاتے جو جان بوجھ کر التواء کی درخواستیں دائر کرتے ہیں اور عدالتی نظام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ان پر جرمانے عائد کرنے کی کوشش کی جس پر مسائل پیدا ہوئے
لیکن ناسور قسم کے سینئرز اور صرف التواء کی گندی پریکٹس کرنے والا مافیا اب آخری سانس لے رہا ہے وہ بار کا مزید شیلٹر نہیں لے سکتے

آنے والے دنوں میں سندھ ہایئکورٹ کی کوشش ہے کہ بہتر وکالت کیلئے ایک بہتر ماحول وکلاء کو فراہم کیا جائے
یہ ایک حقیقت ہے کہ نئے آنے والے ججز بدعنوان نہیں ہیں رشوت خور نہیں ہیں وہ کام کررہے ہیں ہمیں ہر صورت میں نوجوان ججز کی حمایت کرنی ہوگی اور عدلیہ میں موجود بوڑھے جو نااہل بھی ہیں رشوت خور بھی ہیں کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا
موجودہ نوجوان ججز بڈھے ججز سے ہزار درجے بہتر ہیں عوام کو تنگ تو نہیں کرتے جان بوجھ کر کام تو نہیں روکتے صرف ناتجربہ کاری ہے جو کہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہوسکتی ہے

آنے والے دنوں میں مزید ججز کے خلاف کاروائی کا امکان ہے وہ جج جو نااہل ہیں جو بدعنوان ہیں اگر وکلاء نے اپنے ادارے کی بقاء کیلئے کرپشن اور نااہلی کے ٹھوس ثبوت فراہم کردیئے تو سندھ ہایئکورٹ بدعنوان ججز کی ایک بہت بڑی تعداد کو فارغ کرنے کیلئے ہر وقت کمر بستہ ہے اور پراسرار قسم کی ہڑتالیں اس کاروائی کو روک نہیں سکتی ہیں
اگر بار چاہے توپراسرار نوعیت کی ہڑتال کرنے کی بجائے عدلیہ سے صرف ایک دن میں کرپشن ختم کی جاسکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بدعنوان ججز اور نااہل ججز کے خلاف وکلاء رہنما وکلاء کی جنرل باڈی میں باتیں باتیں اور صرف باتیں کرنے کی بجائے ان کے خلاف بار سندھ ہایئکورٹ کو تحریری ثبوت پیش کرے
لیکن کیونکہ یہ ناممکن ہے اس لیئے نااہل ججز کے خلاف کاروائی کرنے میں بہت مشکلات ہیں
اگر وکلاء یہ چاہتے ہیں کہ انگلینڈ یا کسی بھی مغربی ملک کی طرح بہتر پریکٹس کو فروغ دیا جائے تو نااہلی پر مبنی فیصلہ جات سندھ ہایئکورٹ کو ضرور فراہم کریں اور یہ کام ایک عام وکیل نے کرنا ہے نوجوان وکیل نے کرنا ہے کیونکہ یہ کام بار نہیں کرے گی
اگر ہم عملی طور پر ثبوت پیش نہیں کرسکتے تو خاموش رہنا بہتر ہے وہ ثبوت اور باتیں جو وکلاء کی جنرل باڈی میں کی جاتی ہیں کیا یہ بہتر نہ ہوکہ روٹین کی صورت میں سندھ ہایئکورٹ کو ہرماہ پیش کردیئے جائیں

سندھ ہایئکورٹ اور ان سے منسلک ججز اس وقت مکمل مطمئین ہیں کیونکہ ان کا ادارہ ایک مضبوط پوزیشن لے چکا ہے
اے دنیا پیتل دی

Friday, 20 May 2016

اچھی اچھی باتیں ۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




اچھی اچھی باتیں       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر  صفی الدین اعوان

آج کل اچھی اچھی باتیں اچھی ہی نہیں لگتی ہیں ۔
ہمارے قابل احترام چیف جسٹس پاکستان صاحب  مختلف سیمیناروں میں جاکر اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں  جن کو سن کر دل کو بہت اطمینان ہوتا ہے  ۔ جسٹس ثاقب نثار صاحب سپریم کورٹ کے انتہائی قابل احترام جسٹس ہیں  اکثر ان کی باتیں اخبارات میں پڑھنے کا موقع ملتا رہتا ہے دل کو بہت خوشی ملتی ہے کہ کوئی تو ہے جو اس دور میں  اچھی اچھی باتیں کرتا ہے عوام کو انصاف فراہم کرنے کی اچھی بات کرتا ہے

لیکن قیام پاکستان سے پہلے  ہماری عدالتوں میں انگریز جسٹس ہوا کرتے تھے ۔ بڑے ہی عجیب تھے ۔ وہ اچھی باتیں  نہیں کرتے تھے۔  عوام کو انصاف دینے کی بات نہیں کرتے تھے۔ نہ ہی وہ  عوامی سیمینار میں جاتے تھے نہ ہی لوگ ان کو اچھی اچھی باتیں کرنے کیلئے ہوٹلوں  میں بلایا کرتے تھے نہ ہی وہ کسی این جی او کے پروگرام میں  مہمان خصوصی ہوا کرتے تھے۔ مجھے یہ سوچ سوچ کر بہت الجھن ہوتی تھی

گزشتہ  دنوں سپریم کورٹ کا ایک تفصیلی فیصلہ پڑھنے کا موقع ملا   اس  عدالتی فیصلے کی پیشانی پر جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کا نام دیکھ کر میں  ایک لمحے کیلئے رک گیا دل چاہا کہ جس جسٹس ثاقب نثار صاحب کی اچھی اچھی باتیں  میں اخبارات میں پڑھتا رہتا ہوں آج  ان کے فیصلے کا تفصیلی مطالعہ کرلیا جائے  تفصیل پڑھی تو وہ سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ کا فیصلہ تھا جس میں  جسٹس منظور احمد ملک صاحب بھی شامل تھے اور  تفصیلی فیصلے کے مصنف بھی جسٹس منظور احمد ملک صاحب تھے یہ فیصلہ  (ایس سی ایم آر 2016 کے صفحہ نمبر 267 میں تحریر ہے)
تفصیلی ججمنٹ کی سمری میں کافی اچھی اچھی باتیں تھیں ۔ زنا بالجبر کا مقدمہ ایک مہینے کی تاخیر سے درج کیا گیا جس کی وجہ سے معاملہ مشکوک تھا اسی طرح ایک اور اچھی بات لکھی ہوئی تھی کہ میڈیکل رپورٹ کی غیر موجودگی نے اس معاملے کو  بالکل ہی مشکوک بنادیا
جی ہاں میڈیکل رپورٹ کی غیر موجودگی میں  یہ  کیسے فیصلہ کیا جائے گا کہ کسی عورت  کے ساتھ زنا بالجبر ہوا تھا کہ نہیں ۔ یہ سادہ سی بات تو پاکستان کا ایک عام شہری بھی جانتا ہے کہ میڈیکل رپورٹ ہی کی بنیاد پر زنابالجبر کے مقدمے کا فیصلہ کیا جاتا ہے بلکہ موجودہ دور میں ڈی این اے  ٹیسٹ  کے بعد اب  یہ بھی بغیر کسی شک وشبے کے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ  زنا کس نے کیا  اور ڈی این اے ٹیسٹ کی وجہ سے  اس گھناؤنے جرم کے ملزم کسی صورت بچ نہیں سکتے
پولیس جب اپنی تفتیش کی رپورٹ  پراسیکیوٹر کی اجازت سے جمع  کرواتی ہے تو مجسٹریٹ اپنا اطمینان کرتا ہے کہ مقدمے کے شواہد اس قابل ہیں کہ ملزم کے خلاف عدالتی  کاروائی شروع کی جاسکتی ہے تو وہ  چالان یا تفتیشی افسر کی رپورٹ پر انتظامی حکم کرنے کے بعد سیشن ٹرائل یا اپنی عدالت میں مقدمے کی سماعت کا آغاز شروع کردیتا ہے ۔ اگر زنا کے مقدمے میں  جو پولیس چالان عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور اس مقدمے  کے ریکارڈ میں  ڈاکٹر کی گواہی شامل نہ ہو اور ڈاکٹر نے  یہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ جاری نہ کیا ہو   کہ زنا ہوا ہے تو  زنابالجبر کا مقدمہ تو رجسٹر ہی نہیں ہونا چاہیئے اور اگر  کوئی جج میڈیکل رپورٹ کے بغیر کسی بھی شخص کے خلاف زنا کا مقدمہ  پولیس رپورٹ پر رجسٹر  کرتا ہے تو یہ ایک جج کی نااہلی کی بدترین مثال ہے
بدقسمتی سے  سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق   منڈی بہاؤالدین کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے تین افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر  عدالت  کے سامنے گھسیٹ کر پیش کیا گیا اور میڈیکل رپورٹ  نہ ہونے کے باوجود ان کے خلاف  مقدمہ ایک مجسٹریٹ نے  عدالت میں ٹرائل کیلئے قابل سماعت قرار دیا
آٹھ سال تک تین ملزمان کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹ کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا ۔ یہی شواہد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کے سامنے بھی پیش کیئے گئے  ،  عدالت میں کوئی میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی جاسکی گواہ  جانبدار اور رشتے دار تھے ان کی گواہی میں تضاد تھا جبکہ مدعی مقدمہ جو ایک پولیس والے کی بیوی تھی  اس حوالے سے عدالت کو مطمئین نہیں کرسکی کہ اس نے ایف آئی آر کی رجسٹریشن کیلئے پورے تیس دن کا انتظار کیوں کیا
بدقسمتی سے ان  تمام شواہد نے مقدمے کو کمزور کیا اور جو مقدمہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو عدالت ٹرائل کیلئے قابل سماعت قرار دیا جاتا اور اصولی طور پر جو مقدمہ رجسٹر ہی  نہیں ہونا چاہیئے تھا وہ رجسٹر بھی ہوا اور سیشن کورٹ سے ملزمان کو عمر قید کی سزا بھی ہوئی جس کو لاہور ہایئکورٹ نے برقرار رکھا اور آٹھ سال ان ملزمان  کو ہتھکڑیوں سے اس وقت نجات ملی جب جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس منظور ملک  پر مشتمل ڈبل بینچ نے  ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا
لیکن کیا ملزمان کو صرف رہا کرنا ہی کافی تھا ؟ جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب اگر آپ یاد کریں  آپ جو اچھی اچھی باتیں  مختلف سیمینار میں کرتے ہیں  کیا ان اچھی اچھی باتوں کے مطابق صرف  ملزمان کو رہا کردینا کافی تھا؟ کیا مقدمے کے حقائق اس بات کو ثابت نہیں  کررہے کہ مقدمہ مجسٹریٹ کی نااہلی کی وجہ سے رجسٹر ہوا تھا ؟ کیا مقدمے کے حقائق یہ  بات ثابت نہیں کررہے کہ  وہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سینڈ سیشن جج بھی نااہل تھا جس نے  میڈیکل رپورٹ نہ ہونے کے باوجود سزا سنا دی؟
کیا مقدمے کے حقائق یہ بات بھی ثابت نہیں کررہے کہ لاہور ہایئکورٹ کے جسٹس نے بھی  نااہلی کا مظاہرہ کیا اور سزا کو برقرار رکھا؟
میرا چیف جسٹس  پاکستان اور جسٹس میاں ثاقب نثار سے ایک سوال ہے کہ  کیا صرف اچھی اچھی باتیں کرنے سے عوام کو انصاف مل سکتا ہے انصاف تو یہ تھا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے خلاف  محکمہ جاتی کاروائی کا حکم دیاجاتا ، جوڈیشل مجسٹریٹ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور لاہور ہایئکورٹ کے  جسٹس کو  اس  نااہلی کا مظاہرہ کرنے پر مزید نااہلی کرنے اور مزید بے گناہوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑنے سے روک دیا جاتا ا ن کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی کہ ان کی نااہلی کی وجہ سے تین بے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے آٹھ سال تک رہے
سپریم کورٹ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا  تو کیا اچھی اچھی باتیں صرف سیمینار میں کی جاتی ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان  کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نے  چند روز قبل ہی تو گورننس کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا تو اس معاملے میں گورننس کیا کہتی ہے ؟
سپریم کورٹ کے  اس  رپورٹڈ کیس  نے ہمارے سارے عدالتی نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے
کیونکہ واضح  طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ارادی یا غیر ارادی طور پر  تفتیشی افسر، پراسیکیوٹر ، جوڈیشل مجسٹریٹ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج منڈی بہاؤالدین اور لاہور ہایئکورٹ کے جسٹس کی نااہلی کو تحفظ فراہم کیا ہے جن  کی ناہلی کی وجہ سے تین افراد آٹھ سال تک   ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں  گھسیٹے گئے

برٹش دور میں  جسٹس صاحبان اسی وجہ سے مختلف سیمیناروں میں جاجاکر اچھی اچھی باتیں نہیں کیا کرتے تھے وہ عوام کو انصاف  دینے کی بات بالکل نہیں کرتے تھے  کیونکہ  وہ سب اچھی باتیں اپنے عدالتی فیصلوں  میں لکھ کر عملی طور پر انصاف  فراہم کر دیا کرتے تھے ۔وہ اہلیت رکھتے تھے وہ اہل تھے    یہ بات تو طے شدہ ہے  اگر   یہ ظلم کسی برطانیہ کی عدالت میں ہوتا تو کوئی بھی نااہل مزید نااہلی کیلئے جج کی سیٹ پر نہ ہوتا
بس یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند روز سے  مجھے  اچھی اچھی باتیں بالکل  بھی  اچھی نہیں لگتی ہیں 


صفی الدین  اعوان 
03343093302

Tuesday, 17 May 2016

ایک تاریخی مگر ادھورا عدالتی فیصلہ ۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

ایک تاریخی مگر ادھورا عدالتی فیصلہ   ۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سنتے ہی  تینوں ملزمان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ  گئیں  ملزمان کو  سپریم کورٹ آف پاکستان  کے ڈبل بینچ   نے کیس کی سماعت کے بعد باعزت طور پر بری کردیا۔  ملزمان  پر الزام  تھا کہ  دوران ڈکیتی  تین ملزمان  نے ایک پولیس والے کی بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کیا تھا  جس  پر  تفتیش کے بعد میڈیکل رپورٹ  کے   بغیر   پولیس  نے مقدمہ  کورٹ  میں چلانے کیلئے  پراسیکیوٹر کی اجازت  سے کورٹ  میں چالان  پیش کیا تھا  مجسٹریٹ صاحب نے معمول  کی کاروائی  کے تحت  پولیس رپورٹ  کو کیس  کی سماعت  کیلئے منظور کیا تھا جس کے بعد   ایڈیشنل سیشن جج  نے ٹرائل کے بعد ملزمان  کو عمر قید کی سزا سنائی  تھی  ۔ جبکہ لاہور    ہایئکورٹ   نے سزا کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ۔  لیکن  جب یہ کیس سپریم کورٹ  میں  پیش کیا تو سپریم کورٹ  کے جسٹس  میاں ثاقب نثار  پہلی  سماعت  میں ہی معاملے کی تہہ  تک پہنچ  گئے ۔۔۔ جسٹس صاحب نے ملزمان  کو باعزت   بری  کیا  اب حسب معمول جسٹس ثاقب نثار  اور  سپریم کورٹ کے جسٹس  منظور احمد ملک پر مشتمل ڈبل بینچ اچھی اچھی باتیں کررہا تھا
جسٹس ثاقب نثار صاحب فرمارہے تھے کہ ملزمان کے خلاف کیس نہایت  ہی کمزور تھا ۔۔ ریپ کے کیس میں  ایک مہینے کی تاخیر تھی ۔ جس کی وجہ  بھی کوئی نہیں تھی ۔۔مدعی مقدمہ   ایک پولیس والے کی اہلیہ تھی  اس لیئے ان کے پاس ایسی کوئی وجہ موجود نہیں تھی جس کی بنیاد پر وہ ایک مہینہ تاخیر کا دفاع کرپاتے
جسٹس ثاقب نثار صاحب  حسب معمول اچھی اچھی  باتیں کرنے میں مصروف تھے اور ان کی اچھی باتوں سے دانشوری کی جھلک  نظر آتی تھی
جسٹس صاحب نے مزید فرمایا کہ کیس مکمل طور پر کمزور ہے اس حد تک کمزور ہے کہ  زناباالجبر کے کیس میں  میڈیکل شہادت موجود ہی نہیں ہے   ۔  جب  میڈیکولیگل رپورٹ موجود ہی نہیں تو ملزمان کے خلاف جرم کیسے ثابت کیا جائے گا
جسٹس ثاقب نثار کی آواز سپریم کورٹ کی سفید رنگ کی  سنگ مرمر کی بلڈنگ میں گونجتی ہوئی محسوس ہورہی تھی
تمام کے تمام گواہان جانبدار ہیں  ان کی شہادت قابل اعتبار  نہیں ہے   مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر کی رجسٹریشن کیلئے  ایک مہینے کی تاخیر کی ہے اس کے باوجود ڈکیتی  میں چوری ہونے والے سامان کا ذکر نہیں کیا  اس سے بدنیتی ظاہر ہوتی ہے  ۔مزیدیہ کہ گواہان کی گواہی میں تضاد ہے
جسٹس صاحبان کی اچھی اچھی باتیں سن کر عدالت میں موجود سامعین کے دل خوش ہوئے۔ جسٹس صاحبان نے بے گناہوں کو رہا کیا ان کا شکریہ ۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔ کہ آپ کے فیصلے سے چار بے گناہوں کو انصاف مل گیا
لیکن جسٹس ثاقب نثار صاحب کیا آپ ان  تینوں  ملزمان کے جیل میں گزارے گئے  وہ آٹھ قیمتی سال واپس لاسکتے ہیں ۔۔۔جس طرح ذلت آمیز طریقے سے   ان بے گناہ ملزمان کو  منڈی بہاؤالدین کی عدالتوں میں  ہتھکڑیاں  لگا کر  اور گھسیٹ کرپیش کیا جاتا تھا ان ذلت آمیز لمحات کا ازالہ آپ کی عدالت کسی بھی طرح کرسکتی ہے۔۔۔۔۔جسٹس صاحب جس طریقے سے عدلیہ کے زریعے ان ملزمان پر ظلم ہوا کیا اگر یہ ملزم کسی یورپی ملک کے باعزت شہری ہوتے تو  کیا یہ سب ممکن ہوتا
جسٹس  میاں ثاقب نثار صاحب آپ بہت اچھی باتیں کرتے ہیں لیکن کیا آپ  جانتے ہیں کہ  اس ریپ کے کیس میں اصل ملزمان کون تھے۔ اصل ملزمان وہ تھے جن کو آپ کبھی سزا  نہیں دے سکتے۔ اگر ایک بار ان ملزمان کے خلاف ایکشن لے لیا جائے تو اگلی بار کسی بے گناہ کو ہتھکڑی لگانے کی  جرات کسی کو نہیں ہوگی۔ اور آپ کی نااہل عدلیہ میں آدھے سے زیادہ مقدمہ ختم ہوجاتے
جسٹس میاں ثاقب صاحب کیا آپ جانتے ہیں کہ  سپریم کورٹ  میں جس عہدے پر آپ آج بیٹھے ہیں وہاں قیام پاکستان سے پہلے   برٹش دور میں گورے   جج بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔ گورے جج اچھی باتیں کبھی بھی نہیں کرتے تھے  گورے جج کی سیٹ  پر بیٹھ کر اچھی  اچھی  باتیں کرنے سے نفرت  کرتے تھے لیکن ان کی اچھی باتوں کی جھلک  ان کے عدالتی فیصلوں میں نظر آتی تھی  وہ ساری اچھی باتیں اپنے عدالتی فیصلے میں لکھ دیا کرتے تھے
اصل ملزم وہ  پولیس  کا تفتیشی افسر تھا جس نے اس کیس کا چالان پیش کیا ۔۔۔۔ اصل ملزم اس عدالت کا پراسیکیوٹر تھا  جس نے اس کیس کو کمزور شواہد کے باوجود عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی ۔۔ اس کیس کا مرکزی ملزم   پاکستان کی نااہل  عدلیہ سے منسلک وہ نااہل مجسٹریٹ تھا جس نے  میڈیکل رپورٹ کے بغیر کیس کو سماعت کیلئے منظور کیا ۔۔۔۔ کیونکہ  منڈی بہاؤالدین کے جس مجسٹریٹ نے یہ کیس سماعت  کیلئے منظور کیا اللہ کے فضل وکرم سے اس کی انگلش  بہت اچھی تھی ساری گرامر جانتا تھا ۔۔۔ ہاں صرف ایک چیز کے بارے میں نہیں جانتا تھا وہ تھا قانون   کے بارے میں علم  یہی  وجہ ہے کہ اس نااہل انسان نے میڈیکل رپورٹ کے بغیر  پولیس چالان کو سماعت کیلئے منظور کرکے اس پر انتظامی حکم نامہ جاری کرکے  ایک جرم کیا اور آپ کے نااہل مجسٹریٹ کے جرم کی سزا  ان  تین   بے گناہ ملزمان  کو اس طرح   ملی کہ ان کو آٹھ سال تک عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹا گیا  اس کیس کا ایک مرکزی  ملزم وہ نااہل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  بھی تھا جس کے سامنے  ریپ کے کیس میں میڈیکل رپورٹ  پیش نہیں کی جاسکی  جس کے سامنے آپ کے ذکر کردہ سارے  کے سارے  شواہد موجود تھے کہ    ایک مہینے کی تاخیر سے  زنا بالجبر کی  ایف  آئی  آر رجسٹر کروا  کر بنایا گیا مقدمہ جھوٹا ہے  میڈیکل رپورٹ موجود ہی نہیں تھی۔  اور گواہان کے بیان میں شدید تضاد تھا۔
اس کے باوجود  تین بے گناہ انسان آپ کے عدالتی نظام کی سولی پر لٹکے رہے  جس کی ذمہ داری صرف اور صرف وہ  نااہلوں کی فوج  مظفر ہے جس کا کام ہی بے گناہ افراد کو ان کے ناکردہ گناہوں کی سزا دینا ہے  
 اور جسٹس ثاقب نثار صاحب  آپ اچھی اچھی باتیں کرتے کرتے آپ کیوں یہ بھول گئے کہ اس کمزور سے کمزور ترین مقدمے کی اپیل  لاہور ہایئکورٹ کے ایک جسٹس کے سامنے  کی گئی ۔۔۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ دنیا کے عدالتی نظام میں لاہور  ہایئکورٹ کا کیا مقام تھا ۔۔۔ برصغیر پاک  وہند میں  لاہور ہایئکورٹ کا کیا مقام تھا  ۔ جسٹس ثاقب نثار صاحب   کیا لاہور ہایئکورٹ کا آج یہ مقام ہے  کہ  اس کے ایک نااہل جسٹس نے  تینوں ملزمان کی سزا کو برقرار رکھ کر نااہلی کے اس جرم میں  اپنا حصہ بھی شامل کرلیا
قابل احترام جسٹس ثاقب نثار صاحب  گستاخی معاف میں عرض کرنا یہ چاہتا ہوں کہ  آپ نے ادھورا انصاف کیا ہے  صرف ملزمان کو باعزت طور پر بری کردینا کافی نہیں تھا ۔ آپ  ملزمان کو باعزت  طور پر بری کرنے کے بعد  تفتیشی افسر اور  پراسیکیوٹر کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی  شروع کرنے کا حکم دیتے  
اپنے محکمے کے مجسٹریٹ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اور لاہور ہایئکورٹ کے اس   نااہل جسٹس کو جس نے ملزمان کے خلاف سزا کا حکم برقرار رکھا تھا کو کٹہرے میں کھڑا کرکے  اپنی اس   نااہل بریگیڈ کو حکم دیتے کہ نااہلو اور نالائقو   یہ تمہارے سامنے  تین پاکستانی شہری موجود ہیں تم ان سے معافی مانگو  کیونکہ اگر تم لوگ نااہل نہ ہوتے تو  میڈیکل رپورٹ کے بغیر کبھی  بھی ان کے خلاف  ریپ  کے کیس کی سماعت ممکن ہی نہ ہوتی ۔  کیس رجسٹر ہی نہ ہوتا  ۔۔۔ظلم کی حد یہ ہے کہ میڈیکولیگل رپورٹ کے بغیر   ریپ کا جو کیس رجسٹر ہی نہیں ہونا چاہیئے تھا  نہ صرف وہ  کیس  مجسٹریٹ کی  نااہلی کی وجہ سے رجسٹر ہوا بلکہ   آپ کی  نااہل  اور نالائق  عدلیہ  نے سزا بھی لگادی  ۔۔۔۔نااہلی کا یہ سلسلہ سیشن جج سے ہوتا ہوا  ہایئکورٹ تک جا پہنچا  جس کے بعد آٹھ سال بعد سپریم کورٹ  سے  ملزمان کو صرف اس حد تک انصاف ملا کہ  عدالت نے ان کو رہا کرکے کیس کے اصل   پانچ  مرکزی  ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی کیئے بغیر  ملزمان کو ادھورا انصاف دیا  جسٹس ثاقب نثار صاحب آپ  کے اس ادھورے فیصلے کی وجہ سے پاکستان کا سارا عدالتی نظام داؤ پر لگ گیا ہے آج   جس طرح نااہل افراد ہایئکورٹ کے جسٹس کے عہدے تک پہنچ کر اس عہدے کو مذاق بناچکے ہیں  کل یہی نااہل سپریم کورٹ میں   بھی جا دھمکیں گے  پاکستان کے شہری انصاف کیلئے کسی جسٹس ثاقب نثار کو کہاں تلاش کرتے پھریں گے  آپ کے عدالتی فیصلوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نااہلوں کی فوج  سپریم کورٹ  کے قریب پہنچ چکی ہے اور بہت جلد پاکستانی قوم کا اللہ ہی حافظ ہوگا ۔۔۔۔۔ میں یہاں سپریم کورٹ کے  جسٹس صاحبان کی خدمت میں عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ  کی جانب سے   پولیس پراسیکیوٹر اور نااہل ججز  بشمول  لاہور ہایئکورٹ  کے جسٹس کے خلاف کاروائی  نہ کرنا  ڈبل  بینچ  میں موجود دونوں قابل احترام جسٹس صاحبان کی اہلیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان   ہے
اگر آپ نے اس تاریخی فیصلے میں  مجسٹریٹ ، ایڈیشنل سیشن جج اور جسٹس صاحب کے خلاف ایکشن لیا ہوتا تو  دوبارہ کسی نااہل کو  اتنی دیدہ دلیری سے نااہلی کی نمائیش کرنے کی ہمت نہ ہوتی

یہی تو  واضح فرق ہے پاکستانی عدلیہ اور قیام پاکستان  سے پہلے کی عدلیہ میں  کیا آپ  تصور کرسکتے ہیں کہ اگر برٹش دور ہوتا تو سپریم کورٹ کا ڈبل بینچ  اس کیس میں کیا فیصلہ سناتا۔۔۔ وہ ملزمان کو باعزت  بری کرنے سے پہلے  نااہل ججز ، عدالت کے پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی  افسر کے خلاف  ایکشن لیتا اس کےبعد ملزمان کو باعزت  بری  کرتا۔۔ یہ فرق ہے کل کی برٹش دور کی اہل عدلیہ اور آج کی نااہل عدلیہ ۔۔۔ ایک اور بڑا فرق یہ بھی ہے کہ گورے جج اچھی اچھی باتیں  نہیں کرتے تھے لیکن ساری اچھی اچھی باتیں  عدالتی فیصلوں میں تحریر کردیا کرتے تھے    جبکہ ہمارے جسٹس صاحبان کو اچھی اچھی باتوں سے فرصت ہی نہیں ملتی  ۔۔۔ جو نااہلی پاکستانی عدلیہ کی شان بن چکی ہے وہ برٹش دور میں ایک ناقابل معافی جرم تھی 
سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے  اپنے فیصلے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے  وہ عام فہم ہیں بالکل ہی سادہ ہیں   جوکہ آپ کی عدالت کے باہر بیٹھے  ان پڑھ  چوکیدار کی سمجھ   میں بھی آسکتے  ہیں  یہ کوئی پیچیدہ قانونی  نکات  نہیں ہیں یہ  سادہ  نکات مجسٹریٹ کی نظر سے کیوں نہیں گزرے ہیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج کی نظر سے کیوں نہیں گزرے اور سب سے  بڑھ کر ہایئکورٹ کے جسٹس کی نظر سے کیوں اوجھل رہے   ان سب باتوں نے پورے پاکستان کے عدالتی نظام کو مشکوک بنادیا ہے  سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ کیس رپورٹ بھی ہوگیا 
یہی وجہ ہے کہ  پاکستان کی عدالتوں  میں وکالت کا شعبہ ختم ہوتا جارہا ہے وکالت کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ کم از کم وکالت نہیں کچھ اور ہے  ۔۔۔۔عدالت اب عدالت نہ رہی  وکیل ۔۔۔وکیل نہ رہے اور آپ کے جج اب جج نہ رہے

ذاتی طور پر میرے پاس اس وقت بے شمار کیسز کے  ریفرنسز موجود ہیں جس میں  کافی بےگناہ لوگ صرف اس وجہ سے  کراچی  کی ڈسٹرکٹ کورٹس  کی  عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ مجسٹریٹس کی نااہلی کی وجہ سے ان کے خلاف کیس رجسٹر ہوگئے  اور عدلیہ کی جانب سے  پولیس کی ذہنی ماتحتی اور پولیس کی ذہنی غلامی کا  یہ سلسلہ پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے


اے دنیا پیتل دی ۔۔۔۔۔
                                         اس تحریر میں جس  ریپ کیس کا حوالہ دیا گیا ہے  وہ کیس لاء  ( ایس سی ایم آر 2016 فروری کے شمارے میں صفحہ نمبر 267  پر رپورٹ کیا گیا ہے یہ فیصلہ  سپریم  کورٹ  آف پاکستان  کے ڈبل بینچ نے دیا جس میں جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس منظور احمد  ملک شامل تھے  اس کیس کی ججمنٹ کو جسٹس  منظور احمد ملک نے تحریر کیا ہے
2016 SCMR  PAGE 267
لاء سوسائٹی پاکستان عدالتی اصلاحات پر یقین رکھتی ہے اور لاء سوسائٹی پاکستان کا اردو بلاگ    قانون کے شعبے سے منسلک اردو پڑھنے والے حلقوں میں مقبول ترین بلاگ ہے   اور پاکستان میں جاری عدالتی اصلاحات کے عمل میں  پاکستانی عدلیہ کے ساتھ  ہم سفر ہیں
صفی الدین اعوان کراچی

03343093302

Friday, 13 May 2016

نااہلی ناقابل معافی جرم ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




نااہلی ناقابل معافی جرم ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان 

سپریم کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی وکیل صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے  قانونی دستاویزات کی تیاری کے دوران معمولی  غلطی کی 
وجہ سے کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور اٹھارہ سال مقدمے میں الگ ضائع ہوئے وکیل صاحب نے آزاد کشمیر کوٹلی میں  کچھ زرعی رقبہ خریدا جس کی مالیت  پانچ لاکھ روپے فی کنال  انیس سو ستانوے میں مقرر ہوئی تھی وکیل صاحب  نے دولاکھ روپے بیعانہ ادا کیا   اور  زمین کے مالک کے ساتھ تحریر ی معاہدہ کیا جس کے تحت وہ دو مہینے کے اندر زمین کی باقی  قیمت اداکرکے زمین کا قبضہ لینے اور مالک دوماہ کے اندر قیمت وصول کرکے  رجسٹری خریدار کے نام کرنے کا پابند تھا
اگر خریدار رقم ادا کرنے میں ناکام رہتا تو بیعانہ ضبط ہوجاتا۔۔۔ اور اگر زمین کا مالک رجسٹری خریدار کے نام نہ کرتا تو اس کو بیعانہ کی رقم دوگنی ادا کرنی پڑتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں زمین کی خریدوفروخت میں معاہدے کا یہی ڈرافٹ پورے پاکستان میں رائج ہے
مقررہ مدت میں  وکیل صاحب نے رقم کا انتظام کیا  لیکن مالک نے زمین  خریدار کے نام ٹرانسفر کرنے اور قبضہ دینے سے انکار کیا وکیل صاحب نے عدالت میں کیس داخل کیا کہ مالک کو پابند کیا جائے کہ زمین کی ملکیت خریدار کے  نام اور قبضہ خریدار کے حوالے کیا جائے  اور اس کو معاہدے پر عمل کرنے کا پابند کیا جائے
وکیل صاحب نے  ڈسٹرکٹ کورٹ سے اپنے حق میں ڈگری لی  ۔۔ مدعاعلیہ زمین کے مالک نے آزاد کشمیر ہایئکورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا  ہایئکورٹ سے سفر کرتا ہوا سولہ سال کے بعد یہ مقدمہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں جاپہنچا
جہاں سپریم کورٹ کی ڈبل بینچ  جو جسٹس محمد اعظم اور راجہ سعید اکرم خان پر مشتمل تھی نے شاید پہلی بار زمین کی فروخت کے اس معاہدے کو پہلی بار پڑھنے کی  زحمت گوارہ کی اور وکیل صاحب کی توجہ دلائی کہ آپ کا یہ معاہدہ کہاں مالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ  زمین آپ کے نام  ہرصورت میں منتقل کرے کورٹ کے سامنے جو دستاویز موجود ہے وہ تو زمین کے مالک کو صرف  اتنا پابند کررہی ہے کہ وہ اگر معاہدے کو توڑ دیتا ہے معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کو  بیعانے کی رقم دوگنا اداکرنی ہوگی۔۔۔اس لیئے آپ نے اٹھارہ سال پہلے جو کیس داخل کیا تھا اس کا تو قانونی جواز ہی نہیں  بنتا تھا ۔۔ زمین کا مالک دوگنی رقم اداکرنے کیلئے تیار ہے اس لیئے معاہدہ توڑنے کی صورت میں  مزید قانونی کاروائی کا جواز ہی ختم ہوگیا۔۔۔۔اس عدالتی فیصلے سے زمین کا خریدار  جو وکیل بھی تھا   کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا  کیونکہ اس دوران زمین کی قیمت میں بہت اضافہ ہوچکا تھا جبکہ مقدمے بازی میں جو وقت ضائع ہوا اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے
وکیل صاحب کو چاہیئے تھا کہ وہ معاہدے میں یہ شق شامل کرتے کہ اگر  زمین کے مالک نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو خریدار عدالت کے زریعے  کیس داخل کرکے یہ زمین  اپنے نام منتقل کروائے گا ۔ لیکن بدقسمتی سے اس نے اپنی  نااہلی سے  اپنا نقصان کیا
لیکن ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اٹھارہ سال تک  مقدمہ عدالتوں میں زیرسماعت رہا  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹلی نے خریدار کے حق میں فیصلہ دیا۔۔۔ جبکہ 21 جنوری  دوہزار تیرہ کو آزاد کشمیر ہایئکورٹ کے چیف جسٹس نے بھی خریدار کے ہی حق میں  عدالتی ڈگری کو برقرار رکھا۔۔۔ ان دونوں عدالتی فیصلہ جات اور کورٹ کی ڈگری کو جموں و آزادکشمیر کی سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے  منسوخ کردیا اور مقدمے کا فیصلہ  زمین کے مالک کے حق میں کردیا سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے  جن تحفظات اور قانونی نکات کا اظہار کیا ہے وہ  تو کوئی بھی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا انسان   بھی کرسکتا ہے ۔۔۔۔ کیا ہم یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوٹلی  آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر ہایئکورٹ کے چیف جسٹس صاحب  نااہل تھے جس کی وجہ سے فریقین کے اٹھارہ قیمتی سال مقدمے بازی کی نظر ہوگئے۔ اور سب  سے بڑھ کر وہ وکیل بھی نااہل تھا جس نے معاہدے میں قانونی مداخلت کی سیکشن ہی شامل نہیں اگر خریدار کے پاس معاہدہ توڑنے کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کا حق ہوتا تو اس  کو کروڑوں روپے کا نقصان ہی کیوں ہوتا۔۔ ہمیں 

چاہیئے کہ زمین کی خریدوفروخت کے معاہدے ہمیشہ سوچ سمجھ کرکریں اور  معاہدوں کو قانونی تحفظ  ضرور دیں
سپریم کورٹ کے ڈبل  بینچ کو چاہیئے تھا کہ  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی اہلیت کو چیلنج کرتے اور آزاد کشمیر ہایئکورٹ کے چیف جسٹس کی اہلیت پر سوال ضرور اٹھاتے   برٹش دور میں عدالتی افسران کے احتساب کا یہی معیار تھا وہ اپیل کے دوران ہی جج کی اہلیت کو پرکھ لیتے تھے۔۔اگر یہ اپیل کسی انگریز جج کے پاس برٹش دور میں آتی تو وہ سب سے پہلے دونوں نااہل عدالتی افسران کو نظام سے فارغ کرتا کیونکہ انگریز کے نزدیک عدالتی نااہلی ایک ناقابل معافی اور سنگین ترین جرم ہے ۔۔ اور نااہل  ججز  عدالتی  نظام کا حصہ نہیں رہ سکتے تھے۔ جیسا کہ موجودہ عدالتی  نظام میں  نااہلوں کی ایک ایسی فوج مظفر جمع ہوچکی ہے  جس کی وجہ سے عدالتی نظام سے انصاف کا حصول ناممکن ہوچکا ہے۔ توہین عدالت کا قانون یوں محسوس ہوتا ہے کہ نااہل عدالتی افسران کو قانونی تحفظ فراہم کررہا ہے  
پاکستان میں وکالت اور عدلیہ کا نظام تیزی سے زوال پذیر  ہے ۔ کرپشن کے ساتھ ساتھ نااہلی نے اس شعبے کو مکمل طور پر کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے ۔ بنیادی طور پر وکالت اور عدلیہ دونوں ہی حساس ترین شعبے ہیں دونوں ہی شعبہ جات میں  کرپشن کے ساتھ ساتھ نااہلی بھی موجود ہے  لاء سوسائٹی پاکستان کا اردو بلاگ  ایسے ہی معاملات کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔ لاء سوسائٹی پاکستان کا اردو بلاگ دنیا میں قانون کے شعبے کے حوالے سے   اردو زبان کا مقبول ترین بلاگ ہے
Reference  2016 YLR  PAGE 612
SUPREME COURT (AJ & JK)
MARCH 2016  
تحریر صفی الدین اعوان
03343093302

99 فرید چیمبر عبداللہ ہارون روڈ صدر کراچی

Thursday, 12 May 2016

عدلیہ اور آئینی حقوق تحریر صفی الدین اعوان


گزشتہ دنوں   ایم ایل ڈی  مارچ کے شمارے میں   لاہور ہایئکورٹ  نے ایک اہم ترین فیصلہ  شائع   کیا  ہے جس میں   بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سرگودھا کے سخت ترین اصولوں کو  خلاف قانون قرار دیا ہے   فریال نورین نامی لڑکی نے  میٹرک  کا امتحان  اے ون گریڈ کے ساتھ پاس کیا جب کہ انٹر میں اس کا اے گریڈ تھا جس کی وجہ سے اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں نہ ہوسکا اسی دوران  انٹر کے نمبروں میں اضافے کیلئے اس نے  چند مضامین کا دوبارہ امتحان دیا
فریال نے  منتخب مضامین  کا دوبارہ امتحان دیا اور اس کے  شاندار نمبر بھی ان پیپرز میں آئے  لیکن بدقسمتی سے بایئولوجی کے پیپر والے دن امتحان  کیلئے موٹرسائیکل پر اپنے بھائی کے ساتھ  جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا اور وہ اسپتال پہنچ گئی
بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے فریال کو غیر حاضر قرار دیکر اس کی مارک شیٹ روک لی جس کے بعد اس نے  لاہور ہایئکورٹ میں پٹیشن  داخل کی  جس پر سرگودھا بورڈ نے اپنے سخت ترین  اصولوں  کا حوالہ دیا
پٹیشن کی سماعت کے بعد اپنے تفصیلی فیصلے میں  لاہور ہایئکورٹ  کے جسٹس  شاہد جمیل خان نے بورڈ کے ان  قواعد کو جو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہے  کو نہ صرف خلاف قانون قرار دیا بلکہ ایسے اصولوں کیلئے    سخت  اور کٹر  کا لفظ استعمال کیا ہے اور  آئین کے آرٹیکل  پچیس  یعنی تعلیم کے حق  کی  آئینی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے   فریال کو  اضافی   نمبر  والی نئی مارک شیٹ جاری کا حکم  دیا ہے

یہ ایک اہم فیصلہ ہے کیونکہ  بورڈ کے غلط سخت اور خلاف قانون فیصلوں کی وجہ سے   ماضی میں ہزاروں  طلباء کا مستقبل تاریک ہوا  ۔۔۔ عدلیہ کا بنیادی کام یہی ہے کہ وہ بے لگام سرکاری اداروں کو من مانی کرنے سے روکے  
 پاکستانی شہریوں کے بنیادی قوانین آئین کے تحت محفوظ ہیں اگر  ہمارے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو  شہری بذریعہ آئینی پٹیشن  اپنے گمشدہ غصب شدہ  حقوق کو واپس  حاصل  کرسکتے ہیں  
MLD 2016  PAGE Number 438

 
صفی الدین اعوان 
03343093302

Tuesday, 10 May 2016

اے دنیا پیتل دی تحریر صفی الدین اعوان

پیر صاحب سے ملنے گئے تو کافی خفا تھے ۔
خاموش بیٹھے رہے پھر کہا کہ کیا دریا کا مقابلہ کروگے جو دریا کے مخالف سمت تیرتا ہے تو کنارے پر کھڑے تماشبین تالیاں بجاتے ہیں اور دریا کے ساتھ تیرنے والے  دل ہی دل مذاق اڑاتے ہیں
تم دریا کا مقابلہ کیسے کروگے دریا بھی تو بادشاہ ہوتا ہے وہ کیسے تم کو جیتنے دے گا ایک وقت آئے گا دریا کے مخالف تیرتے تیرتے تھک جاؤگے  اور جب تم ڈوبنے لگوگے تو کوئی بھی بچانے نہیں آئے گا
تم نے دریا کو پار کرنا تھا  جو دریا کے ساتھ ساتھ سفر کررہے ہیں وہ ٹیڑھے  سیدھے  تیر کر جیسے تیسے دریا کی طاقت کو چیلنج کیئے بغیر دریا پار کرلیں گے   ۔ دریا پار ہونا چاہیئے جیسے بھی ہو
تالیاں بجانے والے تماشبینوں کو خوش کرنا بندکرو ڈوب جاؤگے اور بے بسی کی موت مرجاؤگے

یہ کہہ کر باباجی خاموش ہوگئے ان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں
میں نے کافی سوالات پوچھے بابا جی نے کسی سوال کا جواب نہیں  دیا

پھر ایک بات کی کہ دنیا پیتل دی
اس کا مطلب یہ تھا اب تم جاسکتے ہو

تحریر صفی الدین  اعوان

03343093302