Friday, 24 June 2016

یہ میرے سر کا درد نہیں ہے تحریر صفی الدین


یہ ماضی قریب ہی کی تو بات ہے   راولپنڈی کے ایک سرکاری افسر نے اپنی بیوی کو گھر سے نکال باہر کیا اور دودھ پیتے بچے دینے سے بھی انکار کردیا   بیوی کا تعلق کراچی  سے تھا  وہ بچوں کے بغیر ہی کراچی پہنچ گئی اور اگلے دن ہی اس نے کراچی میں ہم سے رابطہ کیا  اس وقت سید وقار شاہ  شہید  نے مشورہ دیا کہ چیف جسٹس پاکستان کےانسانی حقوق سیل میں درخواست دے دیں  کیونکہ اب معاملہ راولپنڈی کا ہے  کراچی سے وہاں آنے جانے کے اخراجات  اتنے زیادہ ہیں کہ کسی بھی وکیل کیلئے وہاں جانا ممکن نہیں اور یہ عورت غریب بھی ہے ہم نے ایک سادہ  کاغذ پر درخواست لکھی اور چیف جسٹس پاکستان کے انسانی حقوق سیل کو ارسا ل کردی
درخواست موصول ہونے کے بعد ہی چیف صاحب نے اس کو پٹیشن میں تبدیل کرکے  سیشن جج راولپنڈی کو ارسال کی اور صرف  دودن کے بعد ہی اس  عورت کو سیشن جج راولپنڈی نے فون کرکے بتایا کہ آپ کے شوہر کو پولیس نے پابند کیا ہے کہ وہ  دودن کے بعد بچے کے ساتھ  کورٹ میں پیش ہوجائے جس کے بعد اسی دن وہ عورت  بزریعہ بس راولپنڈی روانہ ہوئی  جہاں عدالت میں اس کے کیس کی سماعت ہوئی اور دودھ پیتا بچہ اس مظلوم ماں کے حوالے کردیا گیا 
یہ اس وقت  کی بات ہے جب افتخار محمد چوہدری صاحب  چیف جسٹس پاکستان تھے اور پاکستان کی تاریخ میں غیر روایتی طور پر لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی
اب ہم آتے  ہیں موجودہ حالات کی طرف  ایک ماں سے  لاہور میں بچہ چھین لیا گیا بچے کا باپ   چند دن کے بچے کو کراچی لیکر آتا ہے ۔ ماں غریب تھی کراچی آنے کی سکت نہیں تھی جس کے بعد ایک فلاحی ادارے نے اس کی کراچی آمدورفت کے اخراجات برداشت کیئے وہ عورت  چھ  جون  کو کراچی پہنچتی ہے   فلاحی ادارے کے توسط سے ہم سے رابطہ کرتی ہے   اگلے دن اس کی درخواست کراچی کے ضلع سینٹرل کی عدالت میں نادرا کے کمپیوٹرائزڈ حلف نامے کے ساتھ پیش کی جاتی ہے جس کو سیشن جج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت  میں سیشن جج ٹرانسفر کردیتی ہیں  جس عدالت میں پٹیشن ٹرانسفر کی جاتی ہے  وہ  تعطیلات کی وجہ سے سیٹ پر موجود نہیں ہوتا اور تاخیر کی وجہ سے ہم پٹیشنر کو گھر روانہ کردیتے ہیں  کیونکہ نادرا کے کمپیوٹرائزڈ حلف نامے کی وجہ سے  آج کل کم ہی نوبت پیش آتی ہے کہ  پٹیشنر کو  ذاتی طور پر بھی پیش کیا جائے  یہ درخواست لنک جج کی عدالت میں پیش کی جاتی لنک جج صاحب فرماتے ہیں کہ ایڈوکیٹ  اور پٹیشنر  دونوں کو پیش کیا جائے
اگلے دن  پٹیشنر کو پیش کیا جاتا ہے  جج صاحب کے سامنے دلائل پیش کیئے جاتے ہیں   ۔ لیکن دلائل تو وہاں پیش کرنے کا فائدہ ہوتا ہے جہاں جج کی سیٹ پر بیٹھا ہوا شخص قانون کی تھوڑی بہت شدھ بدھ رکھتا ہو   بدقسمتی سے جس جج کے سامنے یہ کیس پیش ہوا اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ  حبس بے کیا ہوتی ہے؟  اس پر کتنا  ایمرجنسی نوعیت کا آرڈر پاس کیا جاتا ہے  اور اس کے کیا قانونی تقاضے ہیں  کچھ بھی تو پتہ نہیں تھا
جج صاحب نے  آٹھ دن بعد سماعت کی تاخیر مقرر کی  ہم نے کہا کہ ساب یہ عورت لاہور سے آئی ہے اس کی رہایئش کے مسائل ہیں روزانہ کے اخراجات  ہیں   دوسرا یہ کہ  حبس بے جا کے  متعلق جو قواعد و ضوابط ہیں  اس کے مطابق آپ پولیس کو  چوبیس گھنٹے کا فوری نوٹس کریں  صاحب نے  انگلش کا ایک  جملہ کہا میں لنک جج ہوں
Its Not My Headache
خیر وہ لاہور سے آئی ہوئی عورت آٹھ دن کراچی مزید ذلیل و خوار ہوتی رہی جس کے بعد عدالت میں پیش ہوئے تو ایک مزید نیا انکشاف ہوا کہ  جج صاحب نے تو پولیس کو نوٹس ہی نہیں کیا  ۔۔۔۔۔۔۔۔نوٹس  کیوں نہیں  کیا یہ بھی ایک سوالیہ نشان  ہے اور وہ بھی چھٹیاں گزارنے اندرون سندھ چلے گئے ہیں جس کے بعد  جج ذیشان اختر صاحب نے دودن کا نوٹس پولیس کو کیا اور دوسماعت کے بعد اس کیس کا فیصلہ ہوگیا لیکن ایک نااہل انسان کی نااہلی کی وجہ سے  لاہور سے آئی ہوئی ایک غریب اور مظلوم عورت بیس دن تک کراچی کی ٹوٹی  پھوٹی  سڑکوں  پر ذلیل وخوار گھومتی رہی  اگر اس سیٹ پر راولپنڈی کے اس سیشن جج کی طرح کوئی اہل انسان بیٹھا ہوتا تو وہ عورت نوجون  دوہزار سولہ کو اپنے دودھ پیتے بچے کے ساتھ لاہور میں اپنے گھر میں  موجود ہوتی

میرے صرف چند سوالات ہیں  کسی بھی پوسٹ پر صحیح شخص کو بٹھا دیا جائے تو آدھے سے زیادہ مسائل خود ہی حل ہوجاتے ہیں  مسائل اس وقت جنم لیتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کسی ایسی سیٹ پر بٹھادیا جاتا ہے جو اس سیٹ کے اہل نہیں ہوتا
صوبہ سندھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے پہلے پورے پاکستان میں یہاں کمپیوٹرائزڈ عدالتی نظام کا آغاز ہوا کیا یہ بات ہمارے لیئے اعزاز کی بات نہیں کہ  یہاں کورٹ کی ڈائری تک آن لائن ہے  اس سے زیادہ کیا شفافیت ہوگی لیکن کیا کمپیوٹرائزڈ کردینے سے مسائل حل ہوجائیں گے  کیا عدالتوں میں نیا فرنیچر دے دینے سے مسائل حل ہوجائیں گے کیا   عدالتوں میں لال رنگ کا کپڑا باندھ دینے سے عوام کو انصاف مل جائے گا
جب عدالت میں بیٹھا ہوا جج  ایک نااہل انسان ہوگا  تو انصاف کی فراہمی ناممکن ہوگی  ایک ناہل انسان مجسٹریٹ بن کر کتنے سال تک غلط فیصلے کرتا رہا ہوگا عوام کو کتنا  پریشان کیا ہوگا بعد ازاں سینیر سول جج کی حیثیت سے اس نے عوام پر کیا ظلم ڈھائے ہونگے  اور اب ظلم کی حد یہ کہ ایسے نااہل کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  لگادیا گیا   جس  کی عدالت کا پٹے والا اس سے زیادہ  قانون  جانتا ہے
  اس سارے معاملے میں قصور وار کون ہے  وہ نااہل قصور وار ہے  جس کو عدالتی کام اور قانون کا بالکل بھی نہیں پتہ یا وہ اتھارٹی جس نے ایسے نااہل کومنتخب کیا اور دوبار پروموشن دی
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ  وہ اتھارٹی  زیادہ ذمہ دار ہے جو نااہلی کو جرم نہیں سمجھتی اور نااہلوں اور سفارشیوں کو پروموشن دیتی ہے  
ہماری کمپیوٹرائزڈ عدلیہ کیلئے مزید ظلم کی بات یہ بھی ہے کہ  جس کیس کی میں نشاندہی کررہا ہوں اس  میں غیر قانونی طور پر کورٹ کی دو ڈائریاں ہاتھ سے لکھی ہوئی ہیں  جس سے کمپیوٹرائزڈ عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے سوال یہ ہے کہ  ان  دوکورٹ  ڈایئریوں کو آن لائن کیوں  نہیں کیا گیا  اور مزید یہ کہ جب ہم نے کورٹ سے سرٹیفائڈ ڈائریاں طلب کی ہیں تو سارا آن لائن ریکارڈ پراسرار طور پر غائب ہوگیا ہے   جس سے کمپیوٹرائزڈ عدلیہ کی ساکھ مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے
 اس کا ذمہ دار واضح طور پر کورٹ اسٹاف ہے

میں سندھ ہایئکورٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس پورے معاملے کا نوٹس لیا جائے
جج صاحب نے صحیح کہا تھا کہ یہ اس کے سرکادرد نہیں ہے یہ کس کے سرکا درد ہے اس کا فیصلہ اب خود  
سندھ ہایئکورٹ کرے کہ یہ سر کادرد کیا ہوتا ہے  کیوں ہوتا ہے  اور اس کا علاج کیا کیا ہے
میرا سندھ ہایئکورٹ سے مطالبہ ہے کہ یہ دھڑا دھڑ  نااہل ججز کی پروموشن کا سلسلہ جو گزشتہ کچھ عرصے سے جاری ہے وہ فوری طور پر بند کیا جائے اور ججز کی پروموشن کیلئے کسی قاعدہ قانون کا اجراء کیا جائے 
جس قسم کے نالائق  اورنااہل  مجسٹریٹ اور سینئر سول ججز صرف اور صرف سینیارٹی کی بنیاد پر  دھڑا دھڑ دھڑا دھڑ  پروموٹ کیئے جارہے ہیں اس سے تو یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ آئیندہ آنے والے سالوں میں ہایئکورٹ کے اندر جو جسٹس ڈسٹرکٹ کورٹس سے پروموٹ ہوکر آئیں گے وہ   آنے والے سالوں کے اندر عدلیہ کا جو حشر نشر کریں گے اس کے تصور ہی سے روح کانپ جاتی ہے   
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سیٹ کتنی اہم ہوتی اور میرٹ کا معیار کتنا سخت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ  سندھ ہایئکورٹ گزشتہ کئی سال سے سیٹیں اناؤنس کرتی ہے لیکن مطلوبہ معیار کے  امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے صرف چند لوگ ہی تاحل منتخب ہوسکے ہیں  جن میں سے بھی زیادہ تر ججز ہی تھے وکلاء کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ اہلیت کے معیار پر پورا ہی نہیں اترتے 
 دوسری طرف پراسرار قسم کے پروموشنز کا سلسلہ بھی جاری ہے اور کئی ایسے لوگ  اس دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی پوسٹ پر فائز ہوئے ہیں  جن کا اگر وہی این ٹی ایس  لیا جائے جو ماضی قریب میں وکلاء سے لیا گیا تھا تو شاید کئی سفارشی 20 نمبر بھی نہ حاصل کرسکیں 
یہ وہی لوگ ہیں جن کو ایڈیشنل جج بناتے وقت میرٹ کا معیار کیا مقرر کیا گیا تھا یہ بات صاف ظاہر ہوچکی
ہے کہ  جان بوجھ کر وکلاء کو منتخب نہیں کیا گیا اور ایسے لوگوں کو پروموشن دے دی گئی ہے  جن کی قابلیت کا تماشا پوری دنیا دیکھ رہی ہے  

Thursday, 23 June 2016

کیریئر کے بغیر اسٹینڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان


میرا ایک  دوست ہے نیا نیا جج لگا ہے ابھی  اس کو پوسٹنگ  نہیں  ملی  آج کل وہ ہروقت سوچتا رہتا ہے کہ وہ مخلوق خدا کو کس طرح ظلم وستم سے  نجات  دلائے گا    کس طرح سے خلق خدا کو انصاف  فراہم کرے گا 
کافی دن سے اصرار کررہا تھا کہ مرشد کے پاس ایک بار لے جاؤ ایک سوال کرنا ہے
کل مرشد کے پاس جج صاحب کو بھی لے   گیاتو مرشد بہت موڈ میں تھے اور کہا کہ آج کوئی اچھی بات پوچھو  تو نوزایئدہ  جج   نے جھجکتے  ہوئے   مرشد سے  سوال  کیا کہ  آپ کی نظر میں عدلیہ کیا ہے؟
مرشد نے مسکرا کر کہا کہ عدلیہ کی مثال ایک سائیکل کی ہے ۔
میرے دوست نے  حیرت سے کہا سائیکل؟
مرشد نے کہا جی ہاں سائیکل
 جو  جج بھی عدلیہ میں آتا ہے اس کے ہاتھ میں ایک سائیکل اور اس کو فوری طور پر  صرف  دو آپشن دیئے جاتے ہیں کہ سائیکل کے ساتھ  اسٹینڈ لگوانا ہے یا کیریئر
آپ کے زیادہ تر جج دوست کیرئیر کا انتخاب کرتے ہیں  سائیکل کے  پیچھے کیریئر لگوا کر آہستہ آہستہ پیڈل چلا کر  عدلیہ کے ساتھ  اسٹینڈ  کے بغیر ہی سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں
چند دوست   اسٹینڈ لے لیتے ہیں ان کا سفر بھی کیئریئر کے بغیر ہی شروع ہوجاتا ہے  
میرے جج دوست کو یہ بات پسند  نہیں آئی  اس نے کہا کہ ہم اسٹینڈ اور کیئریئر دونوں ایک ساتھ نہیں لے سکتے ؟

مرشد پاک نے کہا  نہیں بیٹا عدلیہ میں  آپ کے پاس صرف دو آپشن ہوتے ہیں اور پہلے دن ہی دونوں آپشن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ضروری ہوتا   دونوں آپشن ایک ساتھ نہیں لے سکتے

میرے جج دوست نے کہا بابا جی میں   نے اسٹینڈ لینے کا فیصلہ کیا ہے میں اپنے مستقبل میں جھانکنا چاہتا ہوں
مرشد نے کہا ایک منٹ کیلئے  آپ دونوں آنکھیں بند کرلو
ہم نے آنکھیں  بند کرکے دیکھا تو میرا دوست پسینے میں شرابور پانچ سو کلومیٹر کی رفتار سے سائیکل چلا کر بلٹ ٹرین بنا ہوا ہے   اسقدر  تیزی کیلئے اس کو سیٹ پر بیٹھنے کا موقع ہی نہیں مل رہا کیونکہ وہ   ناقابل یقین اسپیڈ مار رہا ہے لیکن اسی دوران اس نے دیکھا کہ  بہت سے جج اس کو  اوورٹیک کررہے ہیں  اور چند ایسے جج بھی تھے جن کو  سائکل چلانا تک  نہیں آتی  وہ  سائیکل پیدل لے کر آرہے ہیں  ایسے  نالائق بھی اس کو کراس کرکے آگے جارہے ہیں
میرے جج دوست نے کہا بابا  جی  یہ  میرے ساتھ ہو کیا  رہا ہے میری اسپیڈ سب سے  زیادہ تیز ہے اس کے باوجود سب لوگ آگے کیوں نکل رہے ہیں مرشد نے کہا بیٹا غور سے دیکھو  سائیکل ڈبل  اسٹینڈ پر کھڑی ہے آپ ہمیشہ یہیں کھڑے  رہوگے  کیونکہ اسٹینڈ کے نیچے سیمنٹ  بھی بھردیا گیا ہے آپ ہمیشہ اسی طرح ایک ہی جگہ رہوگے اور جنہوں نے  سائیکل کے ساتھ کیئریئر لیاتھا ان کو سائیکل چلانے تک نہیں آتے اس کے باوجود وہ پیدل آگے ہی آگے جارہے ہیں  یہی تمہارا مستقبل ہے

میرے دوست نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور سیدھا مرشد پاک کے قدموں میں گرگیا اور کہا  مرشد میرا مستقبل تو بہت ہی مخدوش ہے  خدا کے واسطے کچھ کریں

اچھا تو کیریئر لینا مانگتا ؟  جی مرشد پاک کیریئر چاہیئے  اسٹینڈ پر میں لعنت بھیجتا ہوں
مرشد نے کہا پوری زندگی پولیس کی ذہنی غلامی کرنی ہوگی  میرے دوست نے کہا مرشد قبول ہے  پوری زندگی پولیس کی ذہنی ماتحتی کرنا ہوگی تھانے کے ایس ایچ کو کبھی تنگ نہیں کروگے کبھی اسٹاف کے رشوت کے دروازے بند نہیں کروگے  میرے دوست نے کہا کبھی نہیں  کبھی نہیں  اور اگر تم نے ایسا کیا تو  میرے دوست نے  روروکر وعدہ کیا کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا
کبھی کسی ملزم کو سزا نہیں لگاؤگے  ۔۔۔۔میرے دوست نے کہا خدا کی قسم   بالکل بھی نہیں
ہمیشہ مبہم فیصلے دوگے ۔۔۔۔سیشن جج کی ہربات مانوگے
NO WORK NO COMPLAIN
کے فلسفے کی حفاظت کروگے  مرشد پاک اس  فلسفے کی حفاظت کیلئے تو ہم جان دے دیگا
مرشد پاک نے کہا  ایک بار پھر آنکھیں بند کر   میں نے اور میرے دوست نے آنکھیں  بند کی  ہم نے دیکھا  کہ رجسٹرار ساب خود اپنے ہاتھ سے اسٹینڈ اور ٹوٹی پھوٹی سیٹ  کھول کر اس کی سائیکل کے ساتھ ایک شاندار قسم کا کیئرئیر اور سیٹ  لگا رہے ہیں  
کیرئیر لگا کر کہا جابیٹا جی لے اپنی زندگی  اب پوری زندگی اسٹینڈ مت  لینا اور  شاندار کیئریئر  کے ساتھ ساتھ  شاندار سیٹ کو بھی  انجوائے کرنا  اور اگر  اسٹینڈ لیا تو  یہیں دوبارہ کھڑا کردوں گا
یہ سن کر میرا دوست  شاندار کیئریئر اور شاندار سیٹ کے ساتھ  سفر پر سب کو اوورٹیک کرتا ہوا روانہ ہوگیا
اسی دوران ہم نے دیکھا کہ بہت سے جج اسٹینڈ والی سائیکل کے ساتھ  پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے  ساتھ بلٹ ٹرین  بنے ہوئے تھے  سائیکل اسٹینڈ  پر کھڑی تھی سامنے رجسٹرار صاحب کھڑے مسکرا رہے تھے


جب ہم نے آنکھیں کھولیں تو مرشد پاک حجرے میں  جاچکے تھے 

Tuesday, 21 June 2016

چیف جسٹس کے بیٹے کا اغواء


شاید میرا دل اتنا بڑا نہیں   کہ بروقت اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا
چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ محترم سجاد علی شاہ صاحب کبھی بھی ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی کے وکلاء میں زیادہ ہردلعزیز نہیں رہے  سینئر وکلاء ان کے خلاف زیادہ متحرک رہتے ہیں    ایک سال پہلے کراچی بار میں آمد کے موقع پر چیف صاحب  اس وقت سینئر جج تھے انہوں نے دعوٰی کیا کہ وہ کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کریں گے اور عدالتوں  سے بدعنوان ججز کا خاتمہ کرکے دم لیں گے  حسب معمول میں یہ سمجھا کہ  یہ صرف دعوٰی ہے  بعد ازاں کئی معاملات میں وکلاء اور عدلیہ کے تعلقات سرد گرم رہے  اور جسٹس سجاد علی شاہ کا نام  کئی بار وکلاء کی جنرل باڈی میں  لیا گیا
اسی دوران بدعنوان ججز کے خلاف پہلا کریک ڈاؤن ہوا اور  بدعنوان اور انتہائی بااثر ججز کو فارغ کردیا گیا
کچھ عرصے بعد احسا س ہوا کہ یہ اتنا بڑا قدم لینا کتنا مشکل ترین کام ہوگا  ابھی تک بدعنوان ججز کو ڈھونڈ کر  عدلیہ سے نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اسی طرح جن وکلاء کیخلاف سجاد علی شاہ نے ایکشن لیا ان کو بھی اپنی گردن  بچانے کیلئے کافی محنت کرنا پڑی
میں ان کو زیادہ نہیں جانتا  نہ ہی میرا ان سے کبھی براہ راست  واسطہ پڑا لیکن چند روز پہلے بھی میں سوچ رہا تھا کہ  ماضی میں  بہت سے ہردلعزیز چیف جسٹس صاحبان  ایسے سخت ترین اقدامات نہ کرسکے جو کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کرچکے ہیں  دوستوں سے ذکر کیا تو  ان لوگوں نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ لیکن صوبہ سندھ کا عدالتی نظام بہت بدل چکا ہے اور بدل رہا ہے اور بدعنوان ججز کے بعد بدعنوان کورٹ اسٹاف کی باری بھی آچکی ہے
گورننس میرا پسندیدہ شعبہ رہا ہے میں محسوس کرتا ہوں کہ گورننس کی سطح پر کام ہوتا ہوا نظر  آتورہا ہے
لیکن اس کے باوجود میرا دل اتنا بڑا نہیں تھا کہ میں اپنی رائے پر نظر ثانی کرلیتا
لیکن آج  میں یہ اعتراف کررہا ہوں کہ  ایک سخت  گیر جسٹس کے طور سجاد علی شاہ صاحب نے سندھ ہایئکورٹ کے اندر  جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ کوئی بھی نہیں کرسکتا تھا  وہ ناممکن کی حدتک مشکل ترین کام  تھے
اللہ اولاد کی پریشانی کسی کو بھی نہ دے۔ خاص طور پر جوان اولاد کی پریشانی ۔ چیف صاحب کے بیٹے کا اغواء ایک بدترین واقعہ ہے  آج ذاتی طور پر بہت زیادہ دکھ محسوس ہوا کہ چیف صاحب کے نوجوان بیٹے کو جس طرح سے دن دیہاڑے اغوا کیا گیا  یہ بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے آج اس دکھ اور افسوس کو پورے صوبہ سندھ میں محسوس کیا گیا

اللہ تعالٰی سے دعا  ہے کہ  سجاد علی شاہ صاحب کی  زندگی سے  آزمائیش کی  گھڑی زیادہ طویل نہ ہو اور اللہ ان کو اس آزمایئش  سے جلد نکالے اور اللہ تعالٰی ان کے صاحبزادے کی  حفاظت   کرے  اور اہل خانہ کو صبر دے اللہ تعالٰی ہمارے عدالتی نظام سے منسلک  وکلاء ججز اور کورٹ اسٹاف سمیت سب کو اپنی  حفاظت میں رکھے  

Friday, 10 June 2016

عدل کریں تے تھر تھر کمبن، اچیاں شاناں والے ... تحریر صفی الدین اعوان

انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کرنے کے مترادف ہے جہاں ایک طرف عدالتی فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ داری نااہل ججز پر عائد ہوتی ہے وہیں شیطان صفت ان دادا استادوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو کہ فیس ہی صرف کیس کو لٹکانے کی لیتے ہیں یہ دادا استاد لوگ کبھی بھی کیس نہیں چلاتے بلکہ صرف ہرتاریخ پر کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتے رہتے ہیں اور اس طرح سالہا سال گزرجاتے ہیں اور لوگ انصاف سے محروم رہتے ہیں
کل ایک کورٹ کا آرڈر ملا جس میں ایک استادوں کے استاد دادا استاد نے ایک غریب عورت کو جھوٹی مقدمہ بازی کے زریعے پورے چھبیس سال تک اس کی جائیداد سے محروم رکھا
وہ ثابت قدم عورت کیس جیت گئی تو آج سے چھ سال پہلے ایک جعلی خریدار پیدا کردیا جس نے جگہ کی خریداری کا جھوٹا دعوٰی دائر کردیا کورٹ نے درخواست مسترد کی تو سیشن کورٹ میں اپیل داخل کی جوکہ بلاوجہ چھ سال تک زیرسماعت رہی آخر ایک صاحب علم جج نے دادا استاد کا راستہ روکا التواء کی درخواست مسترد کی
کیس کو سنا پڑھا اور نہ صرف اس عورت کے حق میں فیصلہ سنایا اور اس جعلی خریدار پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا
اگر جج کی سیٹ پر کوئی اہل شخص بیٹھا ہوگا تو کوئی دادا استاد کبھی کسی عورت کو جعلی مقدمہ بازی سے اس کے جائز حق سے محروم نہیں کرسکے گا
اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے وکلاء بہت بہت بہت زیادتی کرتے ہیں جان بوجھ کر کیس نہیں چلاتے جان بوجھ کر تاریخ لیتے ہیں لیکن اگر کوئی صاحب اختیار صاحب علم بھی ہوتو کسی دادا استاد ٹائپ وکیل کی ہمت ہی نہیں کہ کیس میں التواء کرسکے
اور بہت سے کیس صرف سرسری پڑھ لیئے جائیں تو فیصلہ کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے اللہ ہم سب کو اچھی وکالت کرنے کی توفیق اور ہمت دے اور سندھ ہایئکورٹ کو اہل افراد کو اہلیت کی بنیاد پر ججز منتخب کرنے کی توفیق دے
لیکن ہم سب ججز کو وکلاء کو اور عدالتی عملے کو یہ بات یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک عدالت قیامت کے دن بھی قائم ہوگی اس دن کوئی چالاکی کام نہیں آئے گی
عدل کریں تے تھر تھر کمبن، اچیاں شاناں والے
اس دن اللہ کا عدل ہوگا اور اونچی شان والے تھر تھر کانپ رہے ہونگے
اس حوالے سے ایک تفصیلی بلاگ جلد لکھونگا کہ نااہل ججز اور شیطان صفت دادا استاد کس طرح انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور چند نوآموز ججز نے ان لاعلاج مریضوں کا کیا کیا علاج کیا
صفی
03343093302

یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان


بظاہر یہ بات  بہت سادہ محسوس ہوتی ہے
لیکن میں نے اپنے پورے کیریئر میں صرف ایک آدھ جو ڈیشل مجسٹریٹ ہی کو پولیس افسران کے سامنے  بات کرتے ہوئے اور ان کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے دیکھا ہے آج بھی بہت سے لوگوں کا مؤقف ہے کہ تفتیش کے دوران مجسٹریٹ کا کوئی اختیار نہیں ہے زیرنظر کورٹ آرڈر میں نا صرف جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس آفیسر کو ریمانڈ دینے سے انکار کیا بلکہ  شاید کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹس کی ہسٹری میں پہلی  بار کسی جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ ہمت کی ہوگی کہ  نہ صرف پولیس افسر کو ریمانڈ دینے سے واضح انکار کیا بلکہ واضح کردیا کہ شہادت  گواہی اور کسی ثبوت کے بغیر کسی ملزم کے خلاف ریمانڈ دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا  مزید یہ کہ تفتیشی افسر کے خلاف جرمانہ عائد کیا کیونکہ اس نے ایک بے گناہ انسان کو  بلاوجہ حراست  میں بھی رکھا تھا

اگرچہ  یہ بات بہت سادہ محسوس ہوتی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا کہ مجسٹریٹ کے اختیارات کہیں گم ہوگئے ہیں  جتنی فرمانبردار ی سے ہمارے اکثر دوست پولیس افسران کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں  آج ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کو  پولیس کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے دیکھا تو دل کو یہ خوشی ہوئی کہ موجودہ حالات میں کوئی تو ہے  جو بغاوت کررہا ہے  جو نوکری جانے کی پرواہ نہیں کرتا
خوشی ہوتی ہے کہ کوئی تو ہے جو عبادت کے اس عظیم شعبے کو  نوکری نہیں سمجھتا

یہی چراغ  جلیں گے تو روشنی  ہوگی
بے نشانوں کا نشاں مٹتا  نہیں مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
A.SI-P Islam Lodhi has arrested accused Rehan S/o Meraj Ahmed in FIR No: 196/2011, U/s 392 PPC. The FIR is blind, and; as per I.O same had already been disposed of under “A” class. According to him, he has arrested accused on 04.05.2012, suspiciously and till today he has not collected any evidence against the accused! On the application of remand, the I.O was ordered in writing to produce evidence, if any, collected by him against the accused till moment. In compliance whereof he has given statement in writing that still he has not collected any evidence against the accused.

Under the law, police officer is not authorized to arrest any person without reasonable suspicion, justifiable reason,  credible information & sufficient evidence. In this case,  A.SI-P Islam Lodhi has devil daringly arrested a person and has kept him under illegal confinement from the date of his arrest. Even after his illegal arrest, he did not bother to record statement or collect evidence of any person against the accused. Such conduct of police clearly shows that ASIP Islam Lodhi has acted in contravention of guaranteed constitutional rights, therefore, his application under section 167 Cr.P.C  is dismissed. The accused is ordered to be released immediately. The I.O ASIP Islam Lodhi is saddled with fine of Rs: 10,000.00 to be paid by him within seven days to the accused. Let the copy of this order be sent to SSP Karachi Central for placing this order in the personal file of I.O. ASIP Islam Lodhi. The accused is at liberty to initiate criminal proceedings for his illegal confinement if he desire so.
Pronounced in the open Court.

Given under my hand and seal of this Court this 05th day of May 2012.

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی تحریر صفی الدین اعوان

گزشتہ دنوں  کراچی شہر کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اتوار کے دن قتل کے مقدمے کا ایک ریمانڈ پیش کیا گیا تفتیشی افسر ایک اندھے قتل کی تفتیش کررہا تھا اور دو گرفتار ملزمان کا وہ دودفعہ ریمانڈ لے چکا تھا  اور وہ  تیسری بار ریمانڈ لینے آیا تو جوڈیشل مجسٹریٹ  نے مقدمے کی تفصیلات بتائیں تو کراچی کے بادشاہ تفتیشی افسر نے روایتی انداز میں ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ قتل کا مقدمہ ہے آپ تو ویسے بھی مجسٹریٹ ہو یہ تو ویسے بھی بھی سیشن ٹرائل ہے مجسٹریٹ کی عدالت کا تو ٹرائل ہی نہیں ہے آپ اس میں زیادہ مداخلت مت کریں  اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ قتل کی ایف آئی آر ہے جو درخت کے ساتھ بھی باندھ دی جائے تو درخت  سوکھ جاتا ہے  ویسے بھی آپ ڈیوٹی مجسٹریٹ ہو یہ آپ کی ذمہ داری بھی نہیں ہے
تفتیشی افسر کی بدقسمتی اور ملزم کی خوش قسمتی کے مجسٹریٹ صاحب صاحب علم تھے میرٹ پر ان کا تقرر ہوا تھا اور مجسٹریٹ کے اختیارات کے متعلق ان کو علم تھا
مجسٹریٹ صاحب نے ریمانڈ پیپر ایک طرف کیئے اور کہا کہ ملزمان کے خلاف آپ نے کیا شواہد جمع کیئے ہیں کتنے گواہوں کے بیان ریکارڈ کیئے ہیں اور ملزمان کے خلاف  کتنے گواہ موجود ہیں
تفتیشی افسر کی ایک ہی رٹ تھی کہ  تفتیش چل رہی ہے  قتل کی ایف آئی آر ہے  اس مسئلے پر چھیڑخانی نہ کریں جس طریقے سے ہمیشہ مجسٹریٹ صاحبان اڑی کیئے بغیر  ریمانڈ دے دیتے ہیں آپ بھی دے دیں  ٹرائل کورٹ میں سب ثابت ہوجائے گا  ویسے بھی یہ قتل کا مقدمہ ہے خیر جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام شواہد کا مطالعہ کرنے کے بعد ملزم کی رہائی کا حکم دیا
اگرچہ یہ ایک مجسٹریٹ کا ایک انفرادی فعل ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ   یہی چراغ  جلیں گے تو روشنی ہوگی   کراچی جیسے شہر میں کسی مجسٹریٹ نے تو یہ ہمت کی کہ تفتیشی افسران اور پولیس کے سامنے سرجھکاکر کام کرنے کی بجائے ان کی رائے سے اختلاف کرنے کی جرات کی
میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر جوڈیشل مجسٹریٹ کی سیٹ پر میرٹ پر لوگ بٹھا دیئے جائیں  تو  پورے سندھ سے   آدھے مقدمات خود ہی ختم ہوجائیں گے    کسی پولیس والے کو ہمت نہیں ہوگی کہ کسی بے گناہ کو کسی جھوٹے مقدمے میں نامزد  کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر کسی  کا مستقبل تباہ نہیں کرسکے گا  اور نتیجہ یہی نکلے گا کہ جس کے خلاف پولیس چالان منظور ہوگا وہ سزا سے نہیں بچ سکے گا ایسے فضول ٹرائل کا کیا فائدہ جس کے اختتام پر ملزم کو باعزت بری کردیا جائے خراج تحسین ہے اس جوڈیشل مجسٹریٹ کو جس نے پولیس  افسر کی رائے سے اختلاف کیا     اس کیس کے حالات واقعات اور دیگر شواہد بعض وجوہات کی  
بنیاد پر تبدیل کرکے آپ کے سامنے کورٹ آرڈر کی ایک جھلک مندرجہ ذیل ہے



S.I-P Muhammad Feeroz Khan of New Karachi Industrial. Area has produced custody of accused  Murtaza Ali @ Sajid in a blind FIR for grant of 3rd time police custody remand.

2.         Heard I.O, in person and perused the record.

3.         The I.O submits that on 10.08.2012, complainant Asghar Baloch registered FIR against unknown persons which remained under investigation, but neither I.O could arrest any accused nor submitted interim challan. Further he submits that accused Murtaza Ali @ Sajid was arrested by police of Sir Syed in another case and on 26.08.2012, he without collecting any evidence against accused in any form made his arrest in this case and produced him for remand. The court has granted police custody remand till today but neither he could collect any evidence nor record statement U/s 161 Cr.P.C of any witness till today. He has given such statement in writing that still he could not collect evidence against accused but want to get legalized detention of accused from the court U/s 167 Cr.P.C.

4.         Under the law, one can not be arrested without any evidence, reasonable suspicion or justifiable ground. The I.O namely Feeroz Khan has devil daringly arrested person in a blind FIR without collecting any evidence. Not only accused has been arrested without any justifiable ground but since 26.08.2012, the I.O has not collected any evidence in any form even hearsay evidence but he want to get detention legalize U/s 167 Cr.P.C. Such act of police is prime facie illegal and is in contravention of guaranteed constitutional rights. The liberty of a citizen is precious. One cannot be deprived by the law enforcers even for one hour without justifiable reasons. The conduct of SIP Feroze Khan shows that he has changed his status from law enforcer to law breaker, therefore, he is warned to be careful in future and safeguard the fundamental rights of citizens.

5.         With above observations, the application under section 167 Cr.PC. merits no consideration which stand rejected. I.O is directed to release accused at liberty in this case on taking bond for sum of Rs: 1,00,000.00 if any tangible evidence comes against accused, such report may be made to the court for appropriate orders.
           
Announced in open court.

Given under my hand and seal o f this court, this the 3rd day of September, 2012.

            میں صرف یہی کہوں گا کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی  ہوگی  امید ہے باقی ججز بھی پولیس کی رائے سے اختلاف کرکے روایات کو بدل دیں دے گے 

صفی الدین  اعوان 
03343093302

Saturday, 4 June 2016

نااہلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چیلنج تحریر :: صفی الدین

  
گر کسی جج کے آرڈر میں کوئی نقص ہوتو اس کی دووجوہات ہوسکتی ہیں
پہلی وجہ  حسن ظن سے کام لیکر یہ ہوسکتی ہے کہ اس  جج صاحب کے اندر علم کی کمی ہے اور وہ کمی وقت کے ساتھ ساتھ پوری ہوجائےگی    یہ سندھ ہایئکورٹ سمیت دنیا بھر کی عدالتوں کا مؤقف ہے
دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ آرڈر  رشوت لیکر لکھا گیا
پہلی وجہ ایک مخصوص عرصے تک قابل معافی ہے لیکن اس کے بعد پہلی وجہ بھی ناقابل معافی بن جاتی ہے  کیونکہ ایک مقررہ اور مخصوص مدت تک جب سیکھنے کا عمل مکمل نہ ہوتو پھر یہی تصورکرلیاجاتا ہے کہ  جج صاحب اس سیٹ پر بیٹھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے  اس لیئے ان کو فارغ کردیا جاتا ہے جبکہ دوسری وجہ کی تو معافی نہیں ہے
نااہل ججز  کی فراغت کیلئے تو  برٹش دور میں پالیسی بالکل واضح تھی اور ایک معمول کا حصہ تھی   میری ناقص معلومات کے مطابق اس کیلئے دوسال کا عرصہ مقرر تھا اور جو اہلیت ثابت نہ کرپاتا وہ عہدے  کا اہل نہ رہتا    اگرچہ سندھ ہایئکورٹ نے بدعنوان اور نااہل ججز کی ایک کثیر تعداد کو فارغ کردیا ہے جو کہ خوش آئیند ہے  لیکن اس کیلئے باقاعدہ پالیسی موجود نہیں ہے   ۔۔ آج بھی صورتحال یہ ہے کہ سندھ کی سینئر ترین ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جو مجسٹریٹ سے پروموٹ ہوکر سینئر سول جج اور سینئر سول جج سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  کے عہدے تک پہنچی ہیں  آج ان کی کورٹ میں بحیثیت جج سروس کو چوبیس سال مکمل ہوچکے ہیں لیکن نااہلی کا یہ عالم ہے کہ حبس بے جا کی درخواست پر حکم جاری کرنے کا طریقہ کار نہیں معلوم   ان  کو چوبیس سال بعد بھی نہیں پتا کہ یہ حبس  بے جا کیا چیز ہوتی ہے  ان کے خیال  میں  حبس بے جا چترال میں  پیدا ہونے والی کسی  سبزی کانام  ہے اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ  عدلیہ نااہلی کے حوالے سے کس قدر مشکل حالات سے گزررہی ہے
سندھ ہایئکورٹ مجسٹریٹس کی سیلیکشن  کافی شفاف طریقے سے کرتی ہے این ٹی ایس کے زریعے ابتدائی ذہانت کی جانچ ہوتی ہے جس کے بعد تحریری امتحان  پاس کیا جاتا ہے جو کہ خاصا پیچیدہ ہوتا ہے اس  کے بعد بذریعہ انٹرویو  ذہانت جانچنے کے بعد  امیدوار کو منتخب کرلیا جاتا ہے
جب ہم وکالت کے شعبے میں آئے تو حالات بدترین تھے۔ ایک عجیب سا خوف وہراس تھا ۔  صرف ذاتی تعلق  چاپلوسی سے کام ہوتا تھا۔ اور ہر سطح کے جج وکلاء کو جان بوجھ کر تنگ کرنا فرض سمجھتے تھے ۔
پھر وکلاء تحریک کا آغاز ہوا اور  ذہن بدل گئے ۔ حالات ویسے کے ویسے ہی رہے۔
بدلے ہوئے حالات کے ساتھ نئے ججز کی تقرریاں  بظاہر شفاف طریقے سے کی گئیں   امید تھی کہ نئے لوگ جو میرٹ پر آئے تھے اچھا کام کریں گے  اس میں کوئی شک نہیں کہ کام کی رفتار تیز ہوئی ہے رویہ تبدیل ہوا ہے   کرخت رویہ ختم ہوا جبکہ توہین آمیز لہجے میں  بات کرنے کی کسی میں ہمت نہ کل تھی نہ آج ہے ۔  لیکن اگر کسی وکیل سے جج توہین آمیز لہجے میں  بات کرتا ہے اور وہ برداشت کرتا ہے تو یہ کسی بھی وکیل کی ذاتی کمزوری ہے
بدقسمتی سے سندھ ہایئکورٹ نے سیلیکشن  کے دوران ناتجربہ کار لوگوں کو ترجیح دی۔  وقت کے ساتھ ساتھ لوگ تجربہ حاصل نہ کرسکے    اسی دوران سندھ ہایئکورٹ نے ایسے ججز کو تیزی سے فارغ کیا جن کی شہرت اچھی نہیں تھی ۔اور وہ کرپشن  میں ملوث  تھے ۔کرپشن کا عنصر بہت تیزی سے کم ہوا  ہے   نئے ججز کی اکثریت رشوت نہیں لیتی ہے
لیکن  نااہلی ایک بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آچکی ہے ۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ جو لوگ شفاف طریقے سے آئے  ان میں سے کئی ایسے ہیں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ قابل ضمانت اور ناقابل ضمانت جرم کیا ہوتا ہے کیونکہ وہ 
لوگ کبھی وکیل رہے ہی نہیں 
مجسٹریٹس کی اکثریت  بے گناہوں کو جیل بھیجنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاتی   اسی طرح اکثریت کو پولیس رپورٹ کی سمجھ ہی نہیں آتی
موجودہ صورتحال میں صرف ایک ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ نااہلی  کا ہے  اور یہ دن بدن بہت بڑا مسئلہ  بنتا جارہا ہے   ایک مجسٹریٹ صاحب  جن کی سروس کو  چار سال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے  گزشتہ دنوں ایک فیملی مقدمے میں یکطرفہ ڈگری اس مدعا علیہ کے حق میں جاری کردی  جو کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوا  گزشتہ دنوں کراچی کے ضلع ویسٹ میں سارا دن تماشا بنارہا جب  ایک معمولی نوعیت کے قابل ضمانت جرم میں جج صاحب یہ فیصلہ ہی نہیں کرپارہے تھے کہ ملزم کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے بعد ازاں اکثریت کے مشورے سے ملزم کو رہا کیا گیا  اس  طرح کے بے شمار واقعات پیش آرہے ہیں   جن کا تعلق ججز کی نااہلی سے ہے  اور بے شمار قصے کہانیاں گردش کرتی پھر رہی ہیں   کراچی بار ایسوسی ایشن نے ان واقعات کے خلاف مہم بھی شروع کی کئی جس کے بعد  ہایئکورٹ سے مذاکرات کے بعد  یہ فیصلہ ہوا کہ تجاویز پیش کی جائینگی  جن پر سندھ ہایئکورٹ عمل کرے گی رولز تبدیل کیئے جائیں گے

لیکن یہاں ایک سوال مزید جنم لے رہا ہے کہ ججز کی سیلیکشن  پانچ ہایئکورٹ کے جسٹس صاحبان پر مشتمل ایک سیلیکشن بورڈ نے کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ حالات میں  ان  تمام جسٹس صاحبان کی  اپنی  ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے کیونکہ اگر ان کی نظر میں یہ میرٹ تھا تو میرٹ پر آنے والوں کی اکثریت نااہل کیوں ثابت ہوئی ہے یا ان  لوگوں نے غیر ذمہ داری سے سیلیکشن کی   اس پر ایک نئی بحث چل رہی ہے کہ کیا سندھ ہایئکورٹ   کی سیلیکشن   کے نتیجے میں جس میرٹ نے جنم لیا وہ بدترین ججز ثابت ہوئے اور ان سینکڑوں   نااہل افراد کا انجام کیا ہوگا کیونکہ جس نے دوسال کے عرصے میں کام نہیں سیکھا وہ قیامت تک نہیں سیکھ سکتا  یا کہیں ایسا تو نہیں کہ سیلیکشن  شفاف نہیں تھی اور سفارشی بھرتی کیئے گئے  سندھ ہایئکورٹ آئینی طور پر صرف دوسال تک   کسی بھی جج کی حمایت کرسکتی ہے کہ وہ سیکھنے کے عمل سے گزررہا ہے   اور جو  جج دوسال  کا عرصہ گزار کر بھی    نااہلی  کا شکار ہیں  ان کو تو ٹریننگ  کیلئے  بھی وقت  نہیں دیا جاسکتا لیکن ان کو سیکھنے کیلئے قیامت تک کا وقت دینا پاکستانی عوام کے ساتھ زیادتی ہے جن کے  ٹیکس کے پیسے سے  عدلیہ کے اخراجات پورے کیئے جاتے ہیں
سندھ  بار کونسل  اور کراچی بار سمیت تمام وکلاء گروپس  کو فوری طور پر یہ چاہیئے کہ جن ججز کے خلاف نااہلی کی شکایات ہیں  ان کے خلاف کمیٹی تشکیل دے کر  کراچی سمیت پورے سندھ سے متنازعہ آرڈرز کی مصدقہ کاپیاں لیکر  سندھ ہایئکورٹ  میں داخل کرکے  ان  تمام ججز کی اہلیت کو چیلنج کیا جائے جن کی تعیناتی  کو دوسال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے  اسی طرح پروموشن پر فوری طور پر  پابندی عائد کروائی جائے کیونکہ ناہلوں کی فوج کی ایک پوری سفارشی بٹالین کو  پروموشن دینے کی سازش کی جارہی ہے جس کے بعد جو صورتحال پیدا ہونے والی  ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا

 سندھ ہایئکورٹ نااہلی کے مسئلے کا حل تلاش کررہی ہے بارایسوسی ایشن کو چاہیئے کہ اپنا کردار اداکریں