Powered By Blogger

Monday, 14 July 2014

ایک مجسٹریٹ نے چار بے گناہ افراد کو عدلیہ کے اندھے کنویں میں گرنے سے بچالیا

گزشتہ ہفتے ذکر کیا تھا کہ ایک اقدام قتل کے مقدمے میں پولیس نے مستعدی دکھاتے ہوئے ملزمان کو اندرون سندھ سے گرفتار کیا اور کورٹ میں پیش کردیا تھا مجسٹریٹ صاحب نے اس پر سخت حیرت کا اظہار کیا کہ مدعی مقدمہ ،ملزمان اور  تفتیشی پولیس افسر سب سندھ ے کے کھوسو قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں  جبکہ ملزمان نے پستول سے براہ راست وڈیرے پر فائر کیئے لیکن وڈیرے کو ایک گولی بھی نہیں لگی اسی دوران وڈیرہ قبرستان کی دیوار کے پیچھے چھپ گیا اور اپنی جان بچالی ملزمان اس کے 
پیچھے آئے لیکن وہ نہیں ملا اس دوران ملزمان مغلضات بکتے ہوئے چلے گئے
مختصریہ کہ مجسٹریٹ نے  ایس ایس پی ضلع  سینٹرل کو ہدایت کی کہ وہ نیا تفتیشی افسر مقرر کریں جوتمام سوالیہ نقاط  کے جوابات تفتیش کے دوران پیش کریں  اس حکم نامے پر عدلیہ میں بھی کافی لے دے ہوئی   کیونکہ ہماری عدلیہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ تفتیشی افسر کے ماتحت ہیں جب کہ ایس  ایس پی تو "بہت " بڑا افسر ہوتا ہے ایک مجسٹریٹ تو قانونی حوالہ لیکر آگیا کہ مجسٹریٹ تفتیش کے عمل کے دوران کوئی مداخلت  نہیں کرسکتا  یہاں تک کے ہایئکورٹ تک مداخلت نہیں کرسکتی  اگرچہ یہ بات درست ہے لیکن جہاں پولیس کسی آزاد شہری کو کسی جھوٹے کیس میں فٹ کررہی ہو وہاں کوئی قاعدہ کوئی قانون کوئی سپریم کورٹ  کا فیصلہ   کسی جج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اس کے علاوہ   وڈیرے کے پاس چار  پرایئویٹ چشم دید گواہ موجود تھے جو ایک اشارے پر کلمہ پڑھ کر گواہی دینے کیلئے تیار تھے
حیرت انگیز طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر ہوتے ہی  ٹنڈو آدم کے وڈیرے نے ایک حلف نامہ تفتیشی افسر کے سامنے پیش کردیا کہ وہ مزید کاروائی نہیں چاہتا وہ نہ ہی کوئی گواہ پیش کرے گا اور نہ ہی وہ جائے وقوعہ کی نشاندہی کرے گا اور اگر تفتیشی افسر چاہے تو ملزمان کو رہا کردے
مختصر یہ ملزمان رہاکردیئے گئے اور وہ پولیس کے شکنجے سے اس لیئے بچ گئے کہ مجسٹریٹ نے پہلے دن ہی پولیس کی چوری پکڑلی تھی  اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ملزمان عدالتوں میں ہی ذلیل ہوجاتے جس طرح کہ ہماری عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اس قسم کے مقدمات میں ملزمان ذلیل ہونے آتے ہیں
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اس قسم کے جھوٹے جعلی مقدمات سٹی کورٹ میں جو ہماری عدلیہ پائی جاتی ہے اس کے ماتھے کا جھومر ہیں  اور صرف اقدام قتل کے مقدمات جن میں فائرنگ تو ہوتی ہے لیکن مدعی مقدمہ مجال ہے جو ذخمی ہوجائیں یا معمولی خراش بھی ان  کو پہنچ جائے
وجہ صرف اور صرف یہ ہوتی ہے کہ جب پولیس کسی ملزم کو پکڑ کر عدالت میں لاتی ہے تو مجسٹریٹ بہت ہی  کم  "کامن سینس" استعمال کرتے ہیں  زیادہ تر پولیس کی رپورٹ سے مکمل اتفاق کرتے ہیں
اسی دوران ایک مجسٹریٹ صاحب کی عدالت میں پیش ہوا تو اس نے کہا کمال ہے اس  مدعی مقدمہ کے پاس چار گواہان موجود تھے جن کے سامنے یہ وقوعہ پیش آیا اس کے باوجود ملزمان کی رہائی سخت ناانصافی ہے میں نے کہا چار گواہ کم ہیں چار سو لوگ بھی اس قسم کے واقعہ کے گواہ بن جائیں جو ناممکن ہو تو وہ واقعہ جھوٹا ہی ہوگا گولی کا ایک ہی اصول ہے وہ  پستول سے فائر کی جائے تو  آر پار ضرور ہوتی ہے  مجسٹریٹ نے چڑ کر کہا کہ اس اصول کے مطابق تو ہمارے سارے مقدمات جھوٹے ہیں میں نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آپ لوگوں کے سامنے جب ملزم پیش کیئے جاتے ہیں تو صرف کامن سینس کے استعمال کے زریعے  آپ لوگ اگر تفتشی عمل پر سوالیہ نشانات  کا سلسلہ شروع کردیں تو بہت سے  بے گناہ عدالتوں میں ذلیل ہونے سے بچ جائیں
مجسٹریٹ نے کہا کہ پھر تو عدالتیں ہی بند کردینی چاہیئں میں نے کہا جو عدالتیں عوام کی عزت اور ان کی آزادی کا تحفظ نہ کرسکیں تو ان کو بند ہی کردینا زیادہ مناسب ہوگا یہ میری مختصر پیشہ ورانہ زندگی کا عجیب وغریب واقعہ ہے کہ  چار غریب افراد کو  ایک مجسٹریٹ نے عدلیہ کے اندھے کنویں میں گرنے سے بچالیا ایک ایسا اندھا کنواں جہاں سے واپس باہر نکلنا بہت ہی مشکل ہے ناممکن کی حد تک مشکل


Thursday, 10 July 2014

اقدام قتل کے جھوٹے مقدمات عدلیہ کا حسن ہیں

کسی کو جان سے مارنے کی نیت   سے کوشش کرنا یا قتل کی نیت سے حملہ کرنا

پاکستان کے تمام ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک وقوعہ ناقابل یقین حد تک عام ہے یہ ایک جعلی وقوعہ ہوتا ہے جس میں باقاعدہ ڈھونگ رچاکر ایک مصنوعی حملہ کروایا جاتا ہے۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے ہی گھر پر یا اپنے آپ پر یا اپنی گاڑی پر خود فائرنگ کروادی جاتی ہے وقوعہ کے گواہ قریبی عزیز واقارب ہوتے ہیں جو پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ فلاں ابن فلاں آیا تھا اور فائرنگ کرکے چلا گیا کوئی بندہ زخمی نہیں ہوا بعض اوقات دروازے یا دیوار پر گولیوں کےنشانات دکھانے کیلئے  چند گولیاں بھی ماردی جاتی ہیں  اقدام قتل کے ایسے تمام مقدمات جن میں کوئی زخمی نہیں ہوتا ایسے تمام مقدمات ہی جعلی اور پلانٹڈ ہوتے  ہیں
عدالتوں کی آدھی سے زیادہ رونق اس قسم کے جھوٹے مقدمات  کی وجہ سے ہے ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے 22
 اے کے زریعے بھی ایف آئی آر رجسٹر کروائی جاتی ہے
گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضٰی میتلو کے سامنے ایک سندھی وڈیرے کا مقدمہ آیا جس میں اس وڈیرے نے اپنے ہی گاؤں   کےایک پولیس انسپکٹر کے ساتھ مل کر ایک مشکوک نوعیت کا مقدمہ قائم کیا جس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ چار افراد نے مل کر اس  وڈیرے کو جان سے مارنے کی نیت سے کراچی کی ایک سڑک پر فائرنگ کی لیکن وہ خوش نصیب شخص محفوظ رہا جس کے بعد پولیس نے  فوری طور پر مقدمہ قائم کرکے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو ٹندو آدم سے جاکر گرفتار کیا  اور ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا مجسٹریٹ صاحب نے مکمل روداد سنی اور سننے کے بعد متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کو عدالت کے تحفظات اور کسی اور تفتیشی افسر سے تفتیش کروانے کا کہا ایس ایس پی نے فوری طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر کردیا ہے جو بہت جلد اپنی رپورٹ پیش کردے گا اس بوگس مقدمے  کی سماعت کا مجھے انتظار ہے
آگے کیا ہوگا اس کا مجھے بالکل نہیں پتا کیونکہ کچھ عرصہ ہوا میں ڈسٹرکٹ کورٹس نہیں جاتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر انسان کے پاس رزق کا متبادل زریعہ ہوتو ڈسٹرکرکٹ کورٹس  میں پریکٹس بالکل بھی نہیں کرنی چاہیئے  یہاں سخت مجبوری کے علاوہ آنا بھی نہیں چاہیئے ۔  یہ ظلم اور بربریت کی جگہ ہے یہاں آتے ہی انسانیت دم توڑدیتی ہے کیونکہ یہاں آج بھی اقدام قتل کے ایسے ہی مقدمات پیش ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ایف آئی آر چالان کاپی سپلائی فرد جرم گواہی ہڑتال تاریخیں اچھا چار سال گزرگئے نیا صاب آگیا  یہ کس گدھے نے چالان منظور کیا تھا
 صاب وہ خیرپور والا  جج تھا اس نے  چالان منظور کیا تھا
اس کو کیا پتہ قنون کیا ہوتا ہے بلاوجہ غریب کے چار سال برباد کردیئے جاؤ بابا ان کو بری کرو ختم کرو کیس
یہ کس مقدمے کا چلان ہے صاب اقدام قتل کا اچھا گواہ سب پرایئویٹ ہیں چالان منظور دستخط ٹھوکا اور مقدمہ سماعت کیلئے تیار چار سال گزرگئے نیا جج آگیا

یہ کس گدھے نے چالان منظور کیا تھا۔۔۔بیچارے غریب چار سال سے دھکے کھارہے ہیں ۔۔مقدمہ بری

ملزم نے جان سے ماتٓرنے کی نیت سے فائرنگ کی میں نے بھاگ کر جان بچائی

2003 میں میرے کزن پر ایک کیس بنا جس کا سادہ سا عنوان یہ تھا کہ مدعی مقدمہ گھر کے باہر بیٹھا تھا میرا کزن چار افراد کے ہمراہ آیا پستول ہاتھ میں تھے لہرا کر کہا آج تم نہیں فائرنگ کی مدعی نے بھاگ کر جان بچالی
میرے کزن نے ایم بی اے کیا ہوا تھا اور ایک نجی کمپنی میں آفیسر تھا اس کے تو فرشتوں  کو بھی اس واقعے کا علم نہ تھا یہ ایک جھوٹا مقدمہ تھا اس وقت میں ایل ایل بی کا سوچ رہا تھا  پھر ایس ایم لاء کالج میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کرہی رہا تھا کہ 2005 میں میرا کزن کراچی آیا ضمانت قبل از گرفتاری کروائی  میرا کسی وکیل سے پہلا تجربہ تھا جو اچھا نہ رہا وکیل صاحب کا کزن سے ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ پیسہ لیکر آؤ پیسہ اس طرح دوسال گزرگئے بمشکل دوسال میں چارج فریم ہوا تھا ڈسٹرکٹ ویسٹ کی جج تھی طاہرہ محسن اس کا شوہر بھی جج تھا بدقسمتی سے ایماندار تھی یعنی کام تو کرتی ہی نہ تھی کراچی میں ایماندار جج وہ ہے جو کسی کاکام نہ کرے  کیونکہ اس کو کا م آتا ہی نہیں ہوتا مختصر یہ کہ کزن نے چار سال مقدمہ بازی برداشت کی اس کے بعد میں نے ایک  "لڑکے" کی خدمات حاصل کیں  جو  125  موٹرسائیکل پر صرف آنے جانے کا ٹائم لگا تا تھا۔جس نے جج پر تھرڈ ڈگری استعمال کی جج صاحبہ صبح سویرے آئیں پسینہ پسینہ سب سے پہلے میری فائل اٹھائی مختصر فیصلہ سنایا کیس بری تمام ملزمان کو باعزت بری کیا اور پسینے میں شرابور چیمبر میں واپس بھاگی گئی
چار قیمتی سال مقدمے بازی کی نظر ہوگئے جن کی کوئی قیمت ادا نہیں کرسکتا پھر بھی ہمیں ایک جھوٹے مقدمے سے جان چھڑانے کیلئے ایک جرم کرنا پڑا
یار یہ بھی کوئی مقدمہ ہے کہ  چار افراد مل کر آئیں  ایک نہتے بندے پر گولیاں چلائیں اور اس کے باوجود اس کو کچھ بھی  نہ ہو کیا اس بات کو عقل مانتی ہے لیکن میری عدالتوں میں تو اس قسم کے کیسز ہی کی وجہ سے رونق ہے
بعد ازاں اس طرح کے مقدمات میں میں نے بے شمار افراد کو کورٹ میں زلیل ہوتے ہوئے دیکھا دل چاہتا تھا کہ کوئی تو جج ہو جو اس کے خلاف ایکشن لے آخر اکیسویں صدی ہے کچھ کامن سینس بھی ہوتا ہے
گزشتہ دنوں امید برآئی جب سینٹرل کے ایک جج غلام مرتضٰی میتلو نے کامن سینس استعمال کرہی لیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملزم نے گولی چلائی اور آر پار نہیں ہوئی ان کا مقدمہ نہایت ہی دلچسپ تھا
کھوسو قبیلے کا ایک بااثر شخص  ٹنڈو آدم سےکراچی خمیسو گوٹھ آیا وہ موٹر سائیکل پر نیو کراچی جارہا تھا کہ اس کے قبیلے کے چار دشمن بھی اس کے پیچھے موٹر سائیکل پر پہنچ گئے ان چاروں کے پاس پستول تھے فائرنگ کی مدعی نے موٹر سائیکل کا رخ قبرستان کی طرف موڑا اور قبرستان کی دیوار کے پیچھے چھپ کر جان بچائی بڑے ہی کوئی اناڑی قسم کے ٹارگٹ کلر تھے  چار مسلح افراد ایک بندے کو مل کر نہ مارسکے فوری طور پر نیوکراچی تھانے میں ایف آئی آر درج ہوئی اور اتفاق دیکھئے کہ تفتیشی افسر بھی اسی قبیلے  اور اسی گاؤں کا تھا جس سے ملزم اور مدعی کا تعلق تھا پولیس نے اعلٰی کارکردگی دکھائی اور ملزمان کو ٹنڈو جام سے پکڑ کر کراچی لے آئے
مجسٹریٹ صاحب اس پورے مقدمے پر ہی تحفظات کا اظہار کردیا کہ   اور اس پر بھی تحفظ کا اظہار کردیا کہ کراچی شہر میں ایک مقدمہ درج ہوا اور مدعی ملزمان اور تفتیشی افسران تمام کھوسو قبیلے  اور ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں
مجسٹریٹ صاحب نے ایس ایس پی کو بزریعہ کورٹ آرڈر اپنے تحفظات سے آگاہ جس کے بعد ضلع ایس ایس پی نے نیا تفتیشی افسر مقرر کردیاہے امید ہے نیا تفتیشی افسر وہ ٹیکنالوجی تلاش کرکے ضرور لائے گا جس میں مدعی پر ملزم گولیاں نہایت قریب سے چلاتے ہیں اور وہ بھاگ کر جان بھی بچالیتا ہے
یہاں بہت سے ایماندار جو کام نہیں جانتے وہ پوچھیں گے اس میں تو ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے لیکن میں تو اس کو صدقہ جاریہ سمجھتا ہوں کیونکہ اگر مجسٹریٹ  روزمرہ کی پریکٹس کے مطابق کام کرتا تو پولیس معمول کے مطابق چالان کرتی جج حسب معمول انتظامی آرڈر کرتا اور ملزم کے چار قیمتی سال ان عدالتوں میں ہی ذلیل ہوجاتے جس کے بعد ملزم باعزت بری ہوجاتے
کریمینل جسٹس سسٹم ایک سوشل سائینس ہے   ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے کہ  بے گناہ کو ریلیف ملے ضابطے انسان کیلئے ہیں انسان ضابطوں کیلئے نہیں
بہرحال ایک اچھا  آغاز ہے کہ کسی نے تو پہل کی کسی نے تو کامن سینس استعمال کیا یا کرنے کی کوشش کی
امید ہے ملزمان کو تفتیش میں بے گناہ قرار دے دیا جائے گا یا پھر ملزمان  کی مدعی سے صلح کروا کر مقدمہ داخل دفتر کروادیا جائے گا

ویسے تفتیشی افسر نے گرم گرم کھایا تو پکڑا گیا فراڈ کرنے بھی نہیں آتا اس قسم کے مقدمات میں ملزمان کو چالان جمع کروانے کے بعد  اور مجسٹریٹ کے انتظامی آرڈر کے بعدگرفتار کیا جاتا ہے  اتنی جلدبازی دکھانے کی ضرورت ہی کیا تھی نالائق  اور نااہل تفتیشی افسر

Thursday, 3 July 2014

جیسے تمہارے دانت سفید ہیں ویسے ہی بال بھی سفید ہونگے :تحریر عشرت سلطان

پاکستانی معاشرے میں ایک عورت کی زندگی کن  مسائل کا شکار اس کا حقیقی معنوں میں احساس مجھے دستگیر لیگل ایڈ سینٹر کی کوآرڈینیٹر کے طور پر  فرائض سنبھالنے کے بعد ہوا
کل ایک پختون فیملی اپنے  ایک فیملی کے مسئلے کو لیکر ہمارے سینٹر میں آئی وہ زرا مذہبی لوگ تھے انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی پانچ سال پہلے بیرون ملک مقیم ایک شخص سے کی تھی جو ان کو قریبی رشتہ دار بھی تھا شادی کے ایک ماہ بعد اس کا شوہر واپس بیرون ملک چلاگیا اور لڑائی جھگڑوں کے بعد لڑکی واپس اپنے ماں باپ کے گھر آگئی۔ شوہر اگلے سال پاکستان واپس شفٹ ہوگیا لیکن لڑکی سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور وہ معصوم لڑکی ایک بے نام سے رشتے کے ساتھ اپنے شوہر کا انتظار کررہی تھی جس نے پلٹ کر خبر تک نہیں لی  اسی چکر میں پانچ سال گزرچکے تھے
مجھے خوشی ہوئی کہ ان کی ایک بیٹی گریجویٹ تھی جو سوشل میڈیا استعمال کرتی تھی اور سوشل میڈیا ہی کے زریعے ان کو دستگیر لیگل ایڈ سینٹر کے بارے میں معلومات ملی تھی
مختصر یہ کہ   ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ایک اہم بات سامنے آئی کہ اس لڑکی کا حق مہر اچھا خاصا لکھا ہوا تھا اور شوہر کا ذاتی مکان بطور حق مہر لکھا ہوا تھا جس کی مالیت کم ازکم  تیس لاکھ سے زیادہ تھی متاثرہ لڑکی کی نفسیاتی کونسلنگ کے دوران اس لڑکی نے ایک انکشاف کیا کہ وہ اکثر اپنے شوہر سے اپنے طور پر گھر والوں سے چھپ کر رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اس کے شوہر نے نہ صرف اس کو اپنے ساتھ رکھنے سے منع کیا ہے بلکہ یہاں تک کہا کہ جس طرح تمہارے دانت سفید ہیں اسی طرح تمہارے بال سفید ہوجائیں گے لیکن میں تمہیں طلاق بھی نہیں دوں گا اس لڑکی کی اس بات نے مجھے لرزا کر رکھ دیا کہ یہ کونسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں اتنی دیدہ دلیری سے انسان نما درندے ایک معصوم لڑکی کے جذبات سے کھیل جاتے ہیں  ایک لڑکی سے شادی کے بعد پانچ سال تک پلٹ کر خبر تک نہیں لیتے اور لڑکی ایک  نام  کے رشتے کے ساتھ پانچ سال گزاردیتی ہے اور لڑکی  کو دیدہ دلیری سے یہ کہا جاتا ہے کہ  "جس طرح تمہارے  دانت سفید ہیں اسی طرح تمہارے بال بھی سفید ہوجائیں گے  لیکن تم کو طلاق نہیں دونگا" نہ ہی آباد کروں گا
یہ ایک مضبوط کیس تھا اگر لڑکی نان نفقے اورحق مہر کا مطالبہ کرتی تو وہ درندہ نما انسان اپنے انجام کو ضرور پہنچتا جس نے ایک معصوم لڑکی کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا اس قسم کے کیسز میں دستگیر لیگل ایڈ سینٹر تجربہ کار وکلاء کے پینل کے ذریعے متاثرہ خواتین کی بھرپور قانونی معاونت فراہم کرتا ہے اگرچہ اس قسم کے معاملات میں قانونی کاروائی زرا سا طویل ہوجاتی ہے لیکن لڑکی اگر اپنا حق مانگنے پر آمادہ ہوتو اس قسم کے لوگ کسی صورت میں قانون کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے چاہے ہمارا عدالتی نظام کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو
لیکن لڑکی کی والدہ نے کہا ہمیں خلع چاہیئے ان کیلئے یہ بھی ایک بہت بڑا ریلیف تھا کہ  ان کی بیٹی کے بال سفید ہونے سے بچ جائیں گے اور وہ خلع کے زریعے علیحدگی اختیار کرکے  اس بے نام رشتے سے نجات حاصل کرلے گی
ہمارے سینٹر میں  انتہائی قابل نفسیاتی ڈاکٹرز کا پینل بھی ہے جنہوں نے لڑکی کو آمادہ کرلیاکہ وہ نان ونفقے کا کیس داخل کرے گی اور اس شخص کو کسی صورت معاف نہیں کرے گی لیکن والدہ کسی بھی صورت میں آمادہ نہیں ہورہے تھی اور اس کابھائی ایک ہی جواب دیتا تھا کہ ہماری عورتیں عدالتوں میں نہیں جاتی ہیں  ہمیں  نان و نفقہ نہیں چاہیئے خلع چاہیئے
میں نے کہا کہ خلع کے زریعے لڑکی اپنے تمام حقوق سے  ہی دستبردار ہوجاتی ہے   یہ بھی ایک طرح کا استحصال  ہےاور اس لڑکی کا حق مہر اچھا خاصا ہے کیوں آپ لوگ اپنا حق چھوڑ رہے ہیں  اگر ایک شخص کو سزا ملے گی تو بہت سے لوگوں کو  عبرت حاصل ہوگی  اس کی ماں نے کہا کہ ہم کمزور لوگ ہیں غریب لوگ ہیں  میں نے بتایا کہ دستگیر لیگل ایڈ سینٹر اسی قسم کے لوگوں کی ہی تو قانونی معاونت کرتا ہے جو غربت کی وجہ سے انصاف حاصل نہیں کرپاتے
بدقسمتی سے ہم ناکام رہے اور وہ لوگ واپس چلے گئے کہ ہم لوگ  گھر میں مشورہ کریں گے پھر دوبارہ آئیں گے
لڑکی آمادہ تھی لیکن اہل خانہ آمادہ نہیں تھے ۔ کراچی کے ایک انتہائی دوردراز اور پسماندہ علاقے سےصرف سوشل میڈیا کے زریعے انصاف کی تلاش میں ایک لڑکی کا  اپنی فیملی کے ساتھ ہمارے پاس آنا کوئی معمولی بات نہیں  لیکن پسماندہ علاقوں میں اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جہاں صرف جہالت کی بنیاد پر ضد اور انا کی بنیاد پر شادی شدہ خواتین ایک نام کے رشتے کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتی ہیں
ضد اور انا کی بنیاد پر دانتوں کے ساتھ ساتھ بال بھی سفید ہوجاتے ہیں۔ کاش عدالتوں میں وقت پر کام ہوتا اور لوگوں کو انصاف کا یقین ہوتا تو اس قسم کے واقعات کبھی پیش نہ آتے اس واقعے نے ذہنی طور پر بہت متاثر کیا

نوٹ سوشل میڈیا میں واقعات پیش کرتے وقت  متاثرہ لوگوں کی اصل شناخت کو چھپا لیا جاتا ہے 

Wednesday, 2 July 2014

قانونی نوٹس ٭٭٭٭٭8 تحریر مس عشرت سلطان


آج دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں ایک خاتون قانونی  مشورے کیلئے آئیں   شادی کے ایک ماہ بعد ہی
 ناچاقی ہوگئی تھی  اور بدقسمتی سے اس کا شوہر اس کو طلاق تو دینا چاہ رہا تھا لیکن باہمی رضامندی سے اس سلسلے میں اس نے خاتون کو ایک طلاق نامہ ارسال کیا تھا جس کے مطابق دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے  علیحدگی اختیار کررہے تھے اس قسم کی طلاق  کوقانونی طور پر باہمی رضامندی سے ہونے والی طلاق کہا جاتا ہے جس میں فریقین بظاہر رضامندی سے مشترکہ رضامندی اور شرائط کے تحت طلاق   دیتے ہیں  یہ طلاق نامہ بذریعہ ڈاک ایک ماہ قبل وصول ہوا تھا خاتون جس کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی وہ اس افسوسناک صورتحال سے سخت دلبرداشتہ تھیں  کہ وہ کیسے نہ چاہتے ہوئے بھی باہمی رضامندی سے طلاق حاصل کرلے لیکن اس افسوسناک واقعے سے منسلک ایک اور افسوسناک تحریر بھی تھی جو اس خاتون کو بذریعہ ڈاک وصول ہوئی تھی  وہ ایک قانونی نوٹس تھا جو ایک وکیل نے اس کے شوہر کی جانب سے بھیجا گیا تھا قانونی نوٹس کیا تھا ایک دھمکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا
قانونی نوٹس کے زریعے اس خاتون کو   ان خطرناک نتائج سے آگاہ کیا گیا جن سےوہ اس طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں  دوچار ہوسکتی تھی
خاتون کو قانونی نوٹس کے زریعے یہ بھی کہا گیا کہ وکیل صاحب کا کلایئنٹ طلاق نامے پر خاتون کے دستخط نہ کرنے کی وجہ سے کس ذہنی  اذیت سے گزررہا ہے اور اس ذہنی اذیت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا جس  کی وجہ سے اس کا شوہر طلاق نامے پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں ہرجانے کا مقدمہ بھی کرسکتا ہے
خاتون کو قانونی نوٹس میں یہ بھی تاکید کی گئی تھی کہ مزید  وقت ضائع کرنے کی بجائے وہ فوری طور طلاق نامے پر دستخط کرکے بھیج دے اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کے خلاف دیوانی اور فوجداری مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے
قانونی نوٹس کا ایک تقدس ہوتا ہے  ہمیں چاہیئے کہ قانونی نوٹس میں قانونی نکات پر ہی بات کریں اور ایسی  کوئی بات نہ لکھیں جو قانون کے خلاف ہو
ایک لڑکی طلاق نامے پر دستخط نہیں کرتی تو اس کے خلاف کس قانون کے تحت فوجداری کاروائی ہوگی؟ کس تھانے میں ایف آئی آر رجسٹر ہوگی؟ اور کس اصول کے تحت اس کے خلاف سول نوعیت کی مقدمہ بازی ہوگی
ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ پاکستان میں بہت سے وکلاء صرف قانونی نوٹس بھیجنے کی مد میں لاکھوں روپیہ  فیس وصول کرتے ہیں اور ان قانونی نوٹسز میں اپنے کلایئنٹ کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے  اور چند قانونی نکات پر بات کی جاتی ہے  اور یہی وکالت کے پیشے کی شان ہے

یہی نہیں دنیا بھر میں وکیل کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کی  اہمیت دی جاتی ہے بعض اوقات اچھا خاصا مقدمہ قانونی نوٹس کی بنیاد پر ہارنے کا خدشہ ہوتا ہے جتنا سینئر وکیل ہوگا اس کا قانونی نوٹس اتنا ہی  جامع اور سادہ ہوگا

Sunday, 29 June 2014

ہر دلعزیز جج کون ہوتاہے؟

ہر دلعزیز کون ہوتاہے؟
ایمانداری کا ہر دلعزیزی سے کیا تعلق ہوتا ہے؟
ججز اور وکلاء کے درمیان ایک روزانہ کا تعلق ہے اور ہم روزانہ ہی کی بنیاد پر کسی بھی جج کو ہردلعزیز دیکھتے ہیں یابرے تعلقات کے ساتھ دیکھتے ہیں۔تنازعات دیکھتے اور سنتے ہیں بعض اوقات تنازعات بہت زیادہ بڑھ  بھی جاتے ہیں
جو جج قابل ہو بااخلاق ہو اور ریلیف مائینڈ ہو وہ اکثر ہردلعزیز ہوتے ہیں۔اگر ایک جج کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوتا ہے تو وکیل کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی جلد سماعت ہوجائے اور فیصلہ بروقت ہوجائے تاکہ وہ بروقت اپنے کلائینٹ سے فیس وصول کرسکے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب  جج اس کے کیس کی سماعت جلد کرے اور فیصلہ بھی موقع پر سنادے
وکلاء اور ججز کے درمیان اکثر تنازعہ اسی بات پر ہوتا ہے۔اگر ایک جج منیجمنٹ کی صلاحہت رکھتا ہے تو ان تنازعات سے جان چھڑا سکتا ہے۔
ہمارے پاس جب کسی کیس کی ایف آئی آر آتی ہے تو پہلی نظر ڈال کر ہی ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس میں ملزم کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے ضمانت بنتی بھی ہے یا نہیں وکیل ضمانت کی درخواست بناتا ہے اور کورٹ میں پیش کردیتا ہے ایک اچھے قابل جج کے سامنے یہ بات ہوتی ہے کہ ایک شہری جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے اگر قواعد وضوابط اجازت دیتے ہیں تو اس کی ضمانت کی درخواست منظور کرکے فوری طور پر رہا کرنا چاہیئے  تاکہ  جب ٹرائل شروع ہوجائے تو وہ پیش ہوجائے اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ ہوجائے
لیکن عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے؟ اس کی وجہ جج کی نااہلی ہوتی ہے وہ مقدمات کا فیصلہ بروقت نہیں کرپاتے یا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے تنازعات کا آغاز ہوتا ہے جب کہ بہت سے ججز نفسیاتی مسائل کا شکار بھی ہوتے ہیں وہ اپنے لیئے نیا کام تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں  جب وہ اپنے لیئے نیاکام تلاش کرتے ہیں تو وکلاء ان کو نیا کام تلاش کرکے دیتے ہیں  اور جب نیاکام مل  جاتا ہے تو پھرایک تنازعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے
پھر ایک جج آجاتا ہے جو "ایماندار" ہوتا ہے  بنیادی طور پر نااہل اور نالائق جج "ایمانداری" کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں  وہ ایماندار ہر گز نہیں ہوتے وہ  نالائق ہوتے ہیں ان کو کام نہیں آتا ان کے اندر لیڈر شپ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ معاملات کو کنٹرول نہیں کرپاتے پھر وہ اپنی ایماندار ی کو ڈھنڈورا بھی ہر جگہ پٹوانے کی کوشش کرتے ہیں   عدالت میں  شور شرابہ مچاتے ہیں اکثر ایسے ہی ججز کو نئے کام کی تلاش ہوتی ہے  اور بالآخر نئے کام کی تلاش میں سندھ ہایئکورٹ جون کے مہینے میں ایسے دوستوں کو جیکب آباد بھیج دیتی ہے تاکہ وہ گرمی کے موسم کامزہ لے سکیں
اگر آپ اپنے ضلع میں ایماندار جج کی تلاش کریں تو وہ باآسانی مل جائے گا صبح ٹائم پر آئے گا پھر روٹھی ہوئی بیوہ عورت کی طرح عدالت میں جاکر بیٹھ جائے گا پورا دن  ایک آرڈر نہ کرنا بس منہ بسور کر بیٹھا رہنا  اور بات بات پر بتانا کہ میں ایسا ویسا جج نہیں ہوں  ہم نے زندگی میں کبھی رشوت نہیں لی  لیکن بدقسمتی سے ان کے اندر ایک معمولی نوعیت کا آرڈر لکھنے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی
جبکہ جس جج کو بے ایمان کہا جاتا ہے وہ بنیادی طور پر ذہین ہوتا ہے وہ قابل ہوتا ہے   وہ  بروقت آرڈر کرتا ہے  اور ایسے بہترین آرڈر کرتے ہیں کہ کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کراچی شہر میں رہ کر روزانہ دوچار لاکھ روپے کمانا ان کیلئے معمولی بات ہے وہ بھی مجسٹریٹ سطح پر  
لوگوں کا شکوہ بھی اس لیئے کم ہوتا ہے کہ کم ازکم کام تو کررہا ہے  میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس ایماندار جج سے  وہ رشوت خور جج ہزار درجے بہتر ہے جو کم از کم کام تو کرتا ہے
ایماندار  کبھی بروقت آرڈر نہیں کرتا بلکہ وہ آرڈر کرتا ہی نہیں ہے بلکہ وہ کچھ بھی نہیں کرتا  کیونکہ وہ ایماندار جو ہے جس کے پاس ایمانداری کی (پی ایچ ڈی) کی ڈگری ہو وہ بنیادی طور پر ناسور ہوتا ہے اور ان کی آخری منزل جیکب آباد ہوتی ہے
No work no complain
کے فلسفے پر یقین رکھنے والے لوگ کبھی ہردلعزیز نہیں ہوسکتے


لیکن اللہ تعالٰی چند ایسے لوگ بھی پیدا فرماتا ہے جو ذہین بھی  ہوتے ہیں قابل بھی ہوتے ہیں اور ایماندار بھی وہ بروقت فیصلے کرتے ہیں   وہ فیصلہ حق میں بھی ہوسکتا ہے اور درخواست مسترد بھی ہوسکتی ہے  جس کے بعد اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔تنازعات کی سب سے بڑی وجہ بروقت فیصلہ نہ ہونا کیسز کی بروقت سماعت نہ ہونا ہے
اگر اس کے اندر انتظامی صلاحیت موجود ہے تو وہ اپنی کورٹ کا انتظام بھی اچھا چلاتا ہے
ایسے لوگوں کے پاس ایک ہی ٹارگٹ ہوتا ہے کہ عوام الناس کے مسائل بروقت حل کرنا جب آپ قابلیت رکھتے ہیں میرٹ پر بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں  اور رشوت نہیں لیتے کسی کی سفارش نہیں مانتے تو دنیا کی کوئی طاقت ایسے شخص کا  کچھ نہیں بگاڑ سکتی
عدلیہ میں ایسے ہی لوگوں کی عزت ہوتی
کیونکہ جب اعلٰی عدالتوں میں ان فیصلہ جا ت کے خلاف اپیل دائر کی جاتی ہے تو  ایسے ججز کی قابلیت کا اندازہ اعلٰی عدلیہ کو بھی ہوجاتا ہے اور یہی لوگ ہمیشہ ہردلعزیز ہوتے ہیں

وکلاء کے درمیان بھی اور اعلٰی عدلیہ میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں

Saturday, 28 June 2014

مست ہیں اپنی مستی میں ۔۔نہ

اگلے چند دنوں میں سندھ ہایئکورٹ اور وکلاء کے درمیان ایک نیا تنازعہ جنم لینے والا ہے وہ یہ ہے کہ سندھ ہایئکورٹ کی حدود میں جو ریسٹورنٹ ،بک شاپس اور بینک ہیں ان کی تعمیر ماضی میں  سندھ ہایئکورٹ  بار ایسوسی ایشن نے اپنے ذاتی وسائل سے کروائی ہے ان کا کرایہ اور ٹھیکہ سالانہ بنیادوں پر بار ایسوسی ایشن  دیتی ہے اور کرایہ بھی وصول کرتی ہے۔سندھ ہایئکورٹ نے ان تمام وسائل پر خیرات کا مال سمجھ کر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے  کیونکہ نئی تعمیرات کے بعد تو پرانی کینٹین  بک شاپس وغیرہ  مسمار کردی جائیں گی لیکن نئی کینٹین  وغیرہ کا سالانہ ٹھیکہ اب شیروانی پوش اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں  اس سلسلے میں ایک عدد اشتہار بھی جاری کردیا ہے ملاحظہ فرمایئے
لوجی سندھ ہایئکورٹ نے بالآخر اپنے لیئے نیا کام تلاش کرلیا  حالانکہ عوام کو انصاف دینے کا جو "کام" ملا ہواتھا وہ تو پورا کرنہیں پارہے تھے
اب انہیں کون سمجھائے کہ خواب تو اچھے ہوتے ہیں لیکن بعض خواب خواب ہی رہیں تو بہتر ہوتے ہیں

بار کے مالی معاملات ہمیشہ صاف ستھرے رہتے ہیں اس کی وجہ سالانہ آڈٹ اور پاکستان کے مایہ ناز وکلاء کا بار کی قیادت کرنا ہے جوکہ الیکشن کے ذریعے منتخب ہوتی ہیں
بار کے روزمرہ کے اخراجات انہی وسائل سے پورے ہوتے ہیں یعنی بار کے ملازمین کی تنخواہیں  وغیرہ
بار کبھی بھی حکومت پر بوجھ نہیں رہی بار ہمیشہ اپنے اخراجات خود پورے کرتی ہیں بار کی حکومت مخالف پالیسیوں اور فوجی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے سندھ ہایئکورٹ بار ہمیشہ حکومتی گرانٹ سے بھی محروم رہتی ہے
اس صورتحال میں سندھ ہایئکورٹ کی جانب سے براہ راست بار کے معاملات میں مداخلت بار کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ایک نئے تنازعے کو جنم دے چکی ہے امید ہے بار کے سابق صدور  اس مسئلے کو حل کرلیں گے  ورنہ وکلاء تو الست ملنگ ہیں جو اس فلسفے پر یقین رکھتے ہیں  
مست ہیں اپنی مستی میں ۔۔نہیں جاتے کسی کی بستی میں۔۔جو چھیڑے ہمارے ہستی کو۔۔آگ لگادو اس بستی کو
ہماری بلا سے سامنے کوئی فوجی وردی پوش ہو یا کوئی شیروانی والا کوئی فرق نہیں پڑتے

Friday, 27 June 2014

اچھا اخلاق جو زمانے بھر کو آپ کا مرید بنادیتا ہے

گزشتہ دنوں سندھ ہایئکورٹ بارکے ڈنر کے دوران کراچی کا ایک انتہائی بداخلاق اور بدتمیز سیشن جج پروگرام میں شرکت کیلئے آیا تو اس کے پاس دعوت نامہ نہیں تھا گاڑی میں ہی بھول آیا تھا شاید وہ اپنی ججی کی دھونس میں تھا سیکورٹی اہلکاروں نے اس کو روک لیا اس نے بتایا کہ وہ سیشن جج ہے لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے ایک نہ مانی دعوت نامہ گاڑی میں رہ گیا تھا وہ وکلاء کے سامنے ہی بحث کررہا تھا کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ اس کو جانے دو یہ سیشن جج ہے بہرحال ایک عہدیدار نے مداخلت کی اور پنڈال میں جانے کی اجازت دلوائی
اسی دوران ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ احمد صباء صاحب تشریف لائے ان کو سیکورٹی گیٹ تک پہنچنے کا فاصلہ جو چند گز ہی تھا طے کرنے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا کیونکہ وکلاء میں وہ ہردلعزیز ہیں اور احمد صباء صاحب ہر ایک سے بہت پیار سے ملتے ہیں اور نوجوان وکلاء پر شفقت فرماتے ہیں جس کی وجہ سے سیکورٹی گیٹ کے باہر ہی ان کو ملنے والوں کا مجمع لگ گیا جب وہ وکلاء کے ساتھ پنڈال میں داخل ہوئے تو سیکورٹی اہلکار سمجھ گئے کہ یہ کوئی اہم شخصیت ہے اس لیئے ان کا کارڈ چیک نہیں کیا
سیشن جج تو وہ بدتمیز بھی تھا اور ایک سیشن جج وہ بھی تھا جو ہر ایک سے اخلاق سے پیش آتا تھا دونوں کا اسٹیٹس برابر تھا لیکن ایک نے محبت سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جبکہ دوسرا وکلاء کے سامنے کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ذلیل ہوا
اخلاق ایسا "پیر" ہے جو زمانے کو آپ کا مرید بنادیتا ہے
ججز کو چاہیئے کہ ایسا اخلاق رکھیں کہ جب کرسی پر نہ بیٹھے ہوں اس وقت بھی لوگ ان کی عزت کریں

میں ایک ایم این اے ہوں کوئی عام شہری نہیں

فیصل صدیقی صاحب کا شمار پاکستان کے نامور ترین وکلاء میں ہوتا ہے کل  کراچی میں  خواتین  معذور افراد اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق  اور قانونی امداد کے حوالے سے ہونے والے ایک سیمینار کے دوران وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جاری کیئے جانے والے تاریخی فیصلے  پر تقریر کررہے تھے ۔سیمینار کے شرکاء توجہ سے ان کی گفتگو سن رہے تھے ہال میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی اسی دوران محسوس ہوا کہ کوئی شخص فون پر گفتگو کررہا ہے ۔فیصل صدیقی صاحب نے گفتگو روک کر اس شخص کو مخاطب کیا اور فون بند کرنے کو کہا
وہ شخص بجائے شرمندہ ہونے کے ڈھٹائی اور حیرت سے   ان کو گھورنے لگا جس کے بعد فیصل صاحب نے سختی سے ان کو فون بند کرنے کا کہا
اس کے بعد وہ کچھ ہوا جس کی ہم توقع نہیں کررہے تھے اس شخص نے  ہاتھ میں پکڑا قلم زمین پر دے مارا اور میزبان کو غصے سے یہ کہہ کر بائیکاٹ کرکے چلاگیا کہ میں ایک ایم این اے ہوں کوئی عام شہری نہیں
میں اس واقعہ  پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا لیکن ایک ایم این اے کو اخلاق کے اصولوں کی پابندی کرنی چاہیئے

سیمینار کے دوران ایک 100 افراد کی موجودگی میں خاموشی کو توڑتے ہوئے اس طرح ڈھٹائی سے فون پر بات چیت کرکے ماحول خراب کرنا اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہے

Sunday, 8 June 2014

نہ جانے کب ہم بھی سسٹم کا حصہ بن گئے

رخصت ہونے لگا تو میں نے اپنے دوست سے کہا جو کہ نیا نیا جج بنا تھا یار کام ایمانداری سے کرنا
دوست نے کہا انشاء اللہ جس طرح پریکٹس ایمانداری سے کی ہے ججی بھی ایمانداری سے کروں گا۔۔ میں جاتے جاتے رک گیا

واپس آیا  اور کہا یاد ہے وہ کالج کا آخری دن اور عدالت کا پہلا دن کیا سوچ کر آئے ہم 30 منٹ مزید بیٹھ گئے

کیا انقلابی تقاریر کرتے تھے کہ سسٹم کو بدلیں گے نئی روایات کو جنم دیں گے اکیسوٰیں صدی کے تقاضے ہونگے کوئی غلط کام نہیں کریں گے رشوت نہیں لیں گے
غلط کیس نہیں لیں گے ظلم کے خلاف لڑیں گے

کسی ظالم کا کیس نہیں لیں گے ڈاکو یہ معاشرے کے ناسور ان کا کیس نہیں لیں گے
فیصلے میرٹ پر کروائیں گے
کیا ہم نے صاف ستھری پریکٹس کی

ہاں کی تو ہے اور کیسے کی جاتی ہے ہر کوئی اسی طرح ہی پریکٹس کرتا ہے
اور وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ والی بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوڑو یار اب ایسا بھی کیا
ہم اپنی کامیابیوں کو بھی تو دیکھیں
کہ کس طرح زیرو سے سفر کرتے ہوئے کہاں تک پہنچ گئے ہیں پورا گروپ ہی ماشاءاللہ سے کامیاب ہوگیا کتنے جج لگ گئے کتنے دوست اعلٰی عہدوں پر فائز ہوچکے ان کامیابیوں کو تو دیکھو  فلاں کو دیکھو  ایڈوائزر لگ گیا ہمارے شاندار آفسز دیکھو یہ سب کامیابیاں ہیں یہ آفس یہ گاڑی کونسا ساتھ لیکر آئے تھے یہاں سے ہی سب کچھ بنایا ہے

لیکن میرا ضمیر مطمیئن ہے کہ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا اس لیئے رات کو سکون کی نیند کرتا ہوں یار تم یہ بھی تو کہتے تھے کو جو انسان ایمانداری کے زیادہ دعوے کرے وہی بے ایمان ہوتا ہے ہاں کہتا تو تھا
اور تم کونسے نیک ہو مجھے بھی سب پتہ ہے
لیکن ضمیر تو میرا بھی مطمیئن ہے
شاید ہم نے ترجیحات بدل دی ہیں اس لیئے ہم بالکل مطمیئن ہیں

شاید
لیکن جج بن کر ایسا نہیں کروں گا میں ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دوں گا
سسٹم کو بدل دونگا
میں نے جاتے جاتے مڑ کر کہا کہ جب ہم پانچ سال کے بعد ملیں گے تو ہمیں مزید کامیابیاں مل چکی ہونگی ہم اپنی ترجیحات کو بدل کر اپنی اپنی کامیابیوں کے نئی داستانیں سنا رہے ہوں گے اور کالج سے نئے نئے فارغ ہونے والے طلبہ سسٹم کی تبدیلی کا عزم لیکر آئیں گے  آج بھی کتنے ہی فائینل ائیر کے اسٹوڈنٹ  تبدیلی  کا خواب دیکھ رہے ہونگے عہد کررہے ہونگے  اور تبدیلی کی جدوجہد کرتے کرتے   نہ جانے کب سسٹم کا حصہ بن جائیں گے
دوست مسکرایا  کہا ہم نے اپنے حصے کاکام  "پوری " ایمانداری سے کرلیا باقی نئے آنے والے وکلاء کیلئے چھوڑدو

اور میں رخصت ہوگیا

Sunday, 13 April 2014

"بشیرے"



گزشتہ دنوں ایک سٹی کورٹ کے ایک "بشیرے"کا واقعہ بیان کیا تھا جس کے سامنے ایک ملزم کو ہتھکڑی سمیت پیش کیا گیا تھا ۔چیک باؤنس کا کیس تھا ۔زیردفعہ 489-ایف کے  تحت مقدمہ رجسٹر تھا۔ملزم کے بھائی نے پیسے اداکردیئے تھے۔جب ملزم عدالت میں "بشیرے" کے سامنے پیش ہوا تو مدعی نے کورٹ میں بیٹھے "بشیرے" کو بتا یا کہ ہمارا کمپرومائز ہوگیا اب میں کیس نہیں چلاناچاہتا۔میں نے کورٹ سے کہا کہ لین دین کا مسئلہ تو حل ہوگیا اب شعبہ تفتیش والے نہیں مان رہے اس لیئے جب کورٹ کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ معاملہ حل ہوچکا ہے مدعی مقدمہ خود پیش ہوچکا ہے تو اس لیئے ملزم کو رہا کیا جائے ۔ملزم کی فوری ہتھکڑی کھول کر انصاف کیا جائے  "بشیرے"نے انکار کیا تو میں نے کہا کہ ضمانت ہی دے دیں تو بشیرے نے ضمانت کی درخواست پر نوٹس کرتے ہوئے کہا کہ وکیل ساب کونسی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں آپ جانتے نہیں کہ  پہلے پراسیکیوشن کو نوٹس ہوتا ہے اس کے بعد ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوگی اس کے بعد آرڈر ہوگا کورٹ میرٹ دیکھے گی کہ ضمانت بنتی بھی ہے یا نہیں اس دوران ملزم جیل  میں رہے گا۔بہت سمجھایا کہ کامن سینس استعمال کریں کریمینل جسٹس سسٹم ایک سوشل سائینس ہے۔لیکن بشیرے کے سامنے قانون جھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ یہی کہتا تھا کہ سندھ ہایئکورٹ  کا ایک کیس لاء ہے کہ  "بشیرے" انویسٹی گیشن میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ "بشیرے" نے ملزم کوجیل کسٹڈی کیا۔میں نے کہا کہ ایک دن کا ریمانڈ ہی دے دیں تاکہ تھانے سے رہا کروالیں  "بشیرے" نے کہا ڈائریکشن مت دیں میں ایک دن نہیں دودن کا ریمانڈ دوں گا
دودن کا ریمانڈ ہوا تھا ملزم  نے اسی وقت   تفتیشی افسر سے مک مکا کیا آٹھ جماعت تفتیشی افسر نے پیسے لیے ملزم کو اسی وقت رہا کیا اور ملزم کی ہتھکڑی کھول دی میں نے ملزم کا بازو پکڑا تھا اور سیدھا "بشیرے" کے پاس لے گیا تھا کہ یہ دیکھ یہ کام اگر آپ  کرلیتے تو انصاف کا بول بالا ہوتا۔
بدقسمتی دیکھیں کہ اس واقعے کو جب بلاگ پر لکھا تھا تو بہت سے  "بشیروں " نے تبصرے کیئے تھے کہ "بشیرے" نے قانون کے مطابق ٹھیک ہی کیا تھا قواعد وضوابط یہی کہتے ہیں
گزشتہ دنوں لاہور کی  ایک عدالت میں بیٹھے ہوئے بشیرے جنہیں اب آل پاکستان بشیرا ۔ایسوسی ایشن کا چیئرپرسن منتخب کرلیا گیا  جس نے نو مہینے کے بچے کو ضمانت قبل از گرفتاری دی تھی اور خدشہ تھا کہ ملزم فرار نہ ہوجائے اس لیئے 50000 پچاس ہزار روپے کی ضمانت بھی عدالت میں جمع کروائی گئی تھی نو مہینے کا دودھ پیتا بچہ ایک ماہ تک مختلف تاریخوں میں پیش بھی ہوتا رہا تھا کیونکہ پولیس فائل نہ ہونے کی وجہ  سےقواعد و ضوابط یہ کہتے ہیں کہ  ضمانت کی درخواست کی سماعت نہیں ہوسکتی اس لیئے قواعد وضوابط پورے کرکے ہمارے معزز "بشیرے" نے بالآخر ضمانت کی درخواست منظور کرلی اس سارے ڈرامے پر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ۔بی بی سی۔ نے اس حوالے سے ایک  رپورٹ  شائع کی ہے جس کا لنک مندرجہ ذیل ہے رپورٹ بھی من وعن شائع کررہا ہوں۔لیکن بشیروں سے سخت معذرت جو آج بھی یہی کہیں گے کہ  بشیرے نے قواعد وضوابط کے مطابق ٹھیک ہی کیا ہے
لیکن اس پہلے معروف قانون دان نے بشیرے کے بارے میں جو تبصرہ کیا وہ ملاحظہ فرمائیں
"پاکستان کے معروف قانون دان طارق محمود نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ داری تو اس کے لیے انتہائی چھوٹا لفظ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جج صاحب میں ’کامن سینس‘ ہی نہیں تھی۔ ’جب جج کے پاس اتنی کامن سینس نہیں ہے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ فیصلے کس قسم کے ہوتے ہیں۔
طارق محمود نے کہا کہ اگر جج صاحب کو قانون کا کچھ پتا نہیں تھا تو وہ عقل سے کام لے سکتے تھے"

Thursday, 10 April 2014

سید وقار شاہ ایڈوکیٹ**سب ہے مر ے پاس ایک تم نہیں ہو


2007
کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں فرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحبہ کی عدالت تھی۔میں اپنے کیس کی سماعت کا منتظر تھا۔ایک قتل کے مقدمے میں گواہ پیش ہوا گواہ بہت ہی ٹیڑھا تھا اور اس نے سخت قسم کا بیان کورٹ کوریکارڈ کروایا میری دلچسپی اس وقت بڑھ گئی جب ایک وکیل صاحب جرح کیلئے کھڑے ہوئے ابتدائی سوالات کے بعد ایک سوال کیا تو عدالت نے ان کے سوال پر اعتراض کیا کہ یہ سوال آپ نہیں کرسکتے
وکیل صاحب نے خاموشی سے ایک کیس لاء پیش کیا اور  کہا کہ اس کیس لاء کے مطابق سپریم کورٹ مجھے یہ سوال پوچھنے کی اجازت دیتی ہے جج صاحبہ نے سوال پوچھنے کی اجازت دے دی۔اگلے سوال پر پھر ایک اعتراض اور اعتراض کا جواب دلائل سے دیا۔کہ فلاں کیس لاء کے مطابق مجھے یہ سوال پوچھنے کی اجازت ہے کیونکہ اعلٰی عدلیہ نے اعتراض نہیں کیا مختصر یہ کہ انہوں نے جرح کے دوران سارا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔اگرچہ گواہ بہت بڑا فن کار اور جھوٹا تھا لیکن وکیل صاحب نے اپنے علم کے زریعے اور جرح کے ہتھیار کے مؤثر استعمال سے اس کی گواہی کو جھوٹا ثابت کیا
اس وکیل کا نام مجھے وقار شاہ معلوم ہوا
ان دنوں ہم دوستوں نے پلان کیا تھا کہ کراچی بار میں کچھ لیکچرز اور ورکشاپس کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔کچھ پروگرامات ہوچکے تھے لیکن کامیابی نہیں مل رہی تھی لیکچر دینا ہر کسی کاکام نہیں ہوتا اور لیکچر بھی وکلاء کو دینا مزید مشکل کام ہے
میرے ذہن میں  یہ بات آگئی تھی کہ وقار شاہ صاحب کے پاس بہت علم ہے اور وہ ایک اچھا لیکچر دے سکتے ہیں  ۔شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی جوکہ نہایت مختصر تھی آپ لایئبریری میں مطالعے میں مصروف تھے بعد ازاں انہوں نے لیکچر دینے کی حامی بھرلی
مختصر یہ کہ  بہت تیاری کے باوجود کراچی بار ایسوسی ایشن کے شہداء پنجاب ہال میں صرف 10 سے پندرہ وکلاء موجود تھے اور پورا ہال خالی تھا شاہ صاحب نے سلیس ترین اردو میں "جرح کے فن کے موضوع" پر لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کیا۔تھوڑی ہی دیر میں شہدا پنجاب ہال وکلاء سے مکمل طور پر بھر چکا تھا پہلا لیکچر سوالات کے سیشن کو ملا کر تین گھنٹے تک جاری رہا تھا اور شہدا پنجاب اس دوران مکمل طور پر بھرا رہا۔وکلاء نے شاہ صاحب کے انداز کو بہت زیادہ پسند کیا
بعد ازاں لیکچرز کا سلسلہ جاری رہا اور شاہ صاحب نے کریمینل جسٹس سسٹم کے موضوع پر لیکچرز دینے کا سلسلہ جاری رکھالوگ بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے اسی دوران شاہ صاحب کو پاکستان کے مختلف پولیس ٹریننگ اسکولز میں بلایا گیا جہاں آپ نے لیکچرز دیئے۔
کریمینل جسٹس سسٹم پر شاہ صاحب کی بہترین ریسرچ تھی۔شاہ صاحب کا کہنا یہ تھا کہ کریمینل جسٹس سسٹم پر عبور رکھنے والا وکیل ہی شہری آزادی کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ چند سال سے ضابطہ فوجداری کی زیر دفعہ 103 کے خلاف بات کی جاتی تھی شاہ صاحب کہتے تھے کہ اگر جرائم کے خاتمے کیلئے ایک عام شہری کا کردار ختم کیا جائے گا تو ملک پولیس اسٹیٹ بن جائے گا اسی دوران شاہ صاحب کے ساتھ مل کر ہم نے عدالتی اصلاحات کے موضوع پرجدوجہد کا سلسلہ شروع کیا اس موضوع پر بحث ومباحثے منعقد کیئے اور ویڈیوکانفرنس کے حوالے سے ایک پٹیشن سندھ ہایئکورٹ میں داخل کی۔جس کا مقصد یہ تھا کہ گواہ کے تحفظ کیلئے ضرورت پڑنے پر اس کا بیان ویڈیو لنک کے زریعے ریکارڈ کیا جائے اور خطرناک ملزمان کو  عدالت میں ویڈیولنک کے زریعے پیش کیاجائے۔اگرچہ اس پٹیشن پر ذاتی مخالفت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن اس پٹیشن کے حوالے سے جوریسرچ تھی اسی کی بنیاد پر ویڈیو کانفرنس کے زریعے میمو اسکینڈل کے ایک اہم گواہ کا بیان ویڈیو لنک کے زریعے پاکستانی سفارت خانہ برطانیہ سے پیش کیا گیا
2008 میں شاہ صاحب کریمنل مقدمات میں کامیابی کی علامت بن چکے تھے اور پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین کیسز ان کے پاس موجود تھے۔اور پاکستان کے مختلف شہروں سے ان کو صرف جرح کیلئے بلایا جاتا تھا
2010 میں شاہ صاحب نفسیاتی طور پر پریشان رہنے لگے تھے جس کا وہ کھل کر اظہار نہیں کرتے تھے ۔اصل بات یہ ہے کہ کراچی میں کریمینل سائڈ کی پریکٹس کرنا ممکن ہی نہیں رہا ذاتی طور پر مجھے خود کئی کیسز کی فائلیں واپس کرنی پڑی ہیں۔اور کئی کیسز لینے سے انکار کرنا پڑا ہے۔جان سے مارنے کی دھمکیاں تو معمول کا حصہ ہیں
2011 میں ہم نے ایک پروگرام کی بنیاد رکھی جس کا موضوع تھا "بہتر طرز حکمرانی کیلئے عدالتی اصلاحات" شاہ صاحب اس پروگرام کے بانی ممبر تھے
شاہ صاحب ایف آئی آر کو دہشت کی علامت قرار دیتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ جو دستاویز خوف کی علامت ہو وہ انصاف کیسے فراہم کرسکتی ہے  اور اس حوالے سے اصلاحات کے حامی تھے
وقار شاہ صاحب نے ہمارے ساتھ کراچی سے لیکر سکھر تک کے سفر کیئے اور مختلف بار ایسوسی ایشنز میں ٹریننگ اور لیکچرز دیئے سکھر کے اے بی ڈی لاء کالج  میں ان کے لیکچر کو وکلاء اور طلبہ نے بہت پسند کیا تھا
چند ماہ قبل سندھ پولیس اور رینجرز کی تربیت کی تھی اور پراسیکیوشن کی ان خامیوں کی نشاندہی بھی کی تھی جن کی بنیاد پر ملزم بری ہوجاتے ہیں اور متعلقہ شعبوں کو تربیت فراہم کی تھی کہ کیس کس طرح تیار کرنا چاہیئے میرے خیال میں شاید یہ بھی ان کی ایک سنگین غلطی تھی
شاہ صاحب موجودہ عدالتی نظام کو بوگس سمجھتے تھے اور جدید عدالتی اصلاحات کے قائل تھے عدالتی اصلاحات کا پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ صاحب نے کہا تھا کہ
Mr. Waqar Shah said that transfer of judges or court staff was not the durable and long-lasting solution to the problem. He said when judges of trial courts pass judgments, their verdicts must be scrutinized. He added that judges during the conduct of judicial proceedings were only immune from accountability if the mistake made by them was the mistake of fact and not mistake of law. He further said that if judge of a sub-ordinate court happens to be on leave, his cause list/board must not only be transferred to a link judge, moreover,  the transferee judge should also look into the transferred cases if the nature of such cases required him to do so. He said that prior to Law Reforms Act 1972, there used to be a system of ‘ de novo trial’ which was scrapped after promulgation of the aforesaid law. He said that ‘de novo trial’ helped courts get the criminal cases decided by the same judge who presided it over from the day one. He said instead of bringing UTPs from Jails to the Courtrooms, modern technology of video-conferencing should be availed of. 

آج سے 25 سال پہلے اندرون سندھ سے آنے والے ایک انتہائی غریب نوجوان  سید وقار شاہ  نے اپنی محنت اور لگن سے وہ مقام حاصل کیا جو شاید ہی کسی وکیل کو حاصل ہو عمران خان  اور میاں نواز شریف سمیت بڑے سیاستدانوں کے وکیل رہے شاہ صاحب نے اس بات کو کبھی نہیں چھپایا تھا کہ کس طرح  شدید غربت کے باوجود انہوں نے کراچی جیسے شہر میں اپنا نام بنایا اور ایسا نام بنایاکہ ہر طرف آپ ہی کا نام گونجتا تھا
2012 میں اٹلی شفٹ ہونے کا پروگرام بنایا لیکن پھر منسوخ کردیا کیونکہ  ان کو مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں
لیکن اس کے بعد سوشل لائف محدود کردی تھی ان کا ہمارے ساتھ آخری پروگرام سندھ آرمز ایکٹ 2013 کے موضوع پر تھا  جس پر شاہ صاحب نے اپنی زندگی کے آخری سیمینار سے خطاب کیا حسب معمول کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکلاء ان کے منتظر تھے اور شہدائے پنجاب ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا شاہ صاحب نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا کہ  جرائم کے خاتمے کیلئے ایک عام شہری کے کردار کو ختم کرنے کا مطلب ریاست کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنا ہے
زندگی بھر عدالتی اصلاحات کی بات کرنے والے ہمارے عظیم دوست کی زندگی کا سفر 10 اپریل 2014 کو اس وقت ختم ہوا جب گھر سے نکلتے ہی گھات لگائے ٹارگٹ کلرز نے ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے
سب ہے میرے پاس ایک تم ہی نہیں ہو
ہم آج جتنا اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتے ہیں زندگی میں کبھی محسوس نہیں کیا۔کریمینل جسٹس سسٹم اور انسانی حقوق پر رہنمائی فراہم کرنے والے ایک عظیم انسان کی موت نے ہم سب کو شدید دھچکا دیا ہے
صفی الدین اعوان

Tuesday, 8 April 2014

9 -اپریل 2008 طاہر پلازہ کے خوفناک واقعات


9 اپریل کے بعد بھی کافی دن تک خوف کے سائے چھائے رہے تھے۔
9 اپریل 2008 خون اورخاک کا وہ کھیل جو ایک سیاسی جماعت نے مشرف کے کہنے  پر پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں کھیلا۔اس کھیل میں بہت سے لوگ ملوث تھے
وکلاء اپنے چیمبرز کی طرف نہیں جاتے تھے۔طاہر پلازہ میں انسانی اعضاء کے جلنے کی بو کافی عرصے تک رہی۔واقعے کے  دوسرے دن جب جنرل باڈی منعقد ہوئی تھی تو وکلاء صرف سسکیوں کے علاوہ کچھ نہ بیان کرسکے۔وہ آنسو وہ خوف وہ سسکیاں وہ وحشت ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ شاید کسی نے تقریر کی ہو کہنے اور سننے کیلئے بچا ہی کیا تھا
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے
بلوائیوں نے نہ صرف طاہر پلازہ میں وکلاء تحریک سے منسلک وکلاء کے چیمبرز کو ٹارگٹ کیا بلکہ ان کو نظر آتش بھی کیا۔بنیادی طور پر بلوایئوں کا اصل ٹارگٹ کراچی بار ایسوسی ایشن کے خزانچی  نصیر عباسی صاحب تھے ۔جب وہ نہیں ملے تو الطاف عباسی کے آفس کو ٹارگٹ کیا گیا
جب بلوائی طاہر پلازہ میں  داخل ہوئے تو وکلاء نے حفاظتی اقدام کے طور پر اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر اپنے آفسز میں ہی محصور کرلیا تھا۔بہت بڑی تعداد میں  آفسز کو نظر آتش کیا گیا تو وہ خالی تھے ۔الطاف عباسی  نے بھی اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر محصور کیا ہوا تھا اندر چند کلایئنٹ بھی موجود تھے جو کہ دم سادھے بیٹھے تھے ۔بلوائی مایوس ہوکر جارہے تھے  ان کو محسوس ہوا کہ اندر لوگ موجود ہیں جس کے بعد ایک مخصوص کیمیکل  کی شیشی جو اس روز پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فسادات کے دوران استعمال ہوئی تھی کو آفس کی کھڑکی  سے اندر پھینک دیا گیا۔منٹوں سیکنڈوں میں انسانی چیخیں بلند ہوئیں دروازے پر حفاظتی اقدام کے طور پر تالے لگے ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے آفس میں محصور افراد باہر نہیں نکل سکے۔چند لمحوں میں ہی چھ جیتے جاگتے انسان جل کر کوئلہ ہوگئے۔ انسان تو انسان آفس کے پنکھے تک پگھل گئے
پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں بلوائی اسلحہ اور کیمیکل لیکر گھوم رہے تھے  پولیس اور رینجرز ان سے نظریں چرا رہی تھیں
سینکڑوں لڑکوں نے طاہر پلازہ کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔اس کے بعد وہ سکون سے نیچے اترے ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر وکلاء کی گاڑیاں کھڑی تھیں  وکلاء کے مخصوص اسٹیکرز کے زریعے ان کی گاڑیوں کو شناخت کرکے ان کو بے دردی سے آگ لگادی گئی۔بلوائی وکلاء کو تلاش  کررہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے سٹی کورٹ کو گھیرے میں لیا اور وکلاء کی تلاش شروع کردی۔لیکن جب طاہر پلازہ کو آگ لگائی جارہی تھی  اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا تو اسی دوران پورا سٹی کورٹ خالی ہوچکا تھا بار رومز ویران تھے۔بلوائی کراچی بار ایسوسی ایشن میں  شہریار  شیری ایڈوکیٹ کو تلاش کرتے ہوئے اور دندناتے ہوئے  داخل ہوئے۔کلوز سرکٹ کیمرے نکالے توڑ پھوڑ  کی فائرنگ  کا سلسلہ جاری رہا اور لیڈیز بار روم کو نظر آتش کرنے کے بعد   ڈسٹرکٹ ویسٹ کے راستے سے واپس ہوئے اور وکلاء کی گاڑیوں کو نظر آتش کرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ تک چلے گئے۔ اسی دوران   وکلاء تحریک کے ایک رہنماء سیدشہریار عرف شیری  جو ایک بہت ہی  معصوم اور سادہ قسم کا انسان تھا کو تلاش کرکے شہید کیا گیا۔
اسی قسم کی ٹولیاں وکلاء کے مختلف آفسز میں گئیں اور وکلاء کے آفسز کو نظر آتش کیا۔9 اپریل کو ایک تو جانی نقصان ہوا دوسرا بہت بڑی تعداد میں وکلاء کے چیمبرز اور گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں اس کے ساتھ ہی  ملیر میں ۔ملیر بار ایسوسی ایشن کو آگ لگادی گئی تھی
طاہر پلازہ کی اس آگ کو کس نے بجھایا اور کوئلہ بنی لاشوں کو کس نے نکالا کوئی نہیں جانتا
9 اپریل کے بعد کافی عرصے تک سٹی کورٹ میں خوف اور دہشت کا عالم رہا۔اس خوف کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا ڈسٹرکٹ کورٹس میں عجیب قسم کا سناٹا ہوتا تھا۔
جن وکلاء نے ان مناظر کو براہ راست دیکھا وہ کافی عرصے تک صدمے کی وجہ سے خوف کا شکار رہے اور شاید آج تک ہیں۔
شہید وکلاء کے لواحقین آج کس حال میں ہیں؟ جن وکلاء نے ایک عظیم مقصد کیلئے جان دی آج ان کے بچوں کے پاس اسکول کی فیسیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے

صرف عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کا صدر منتخب ہونے کے بعد جب وہ کراچی آئیں تو شہدا وکلاء تحریک کے ورثاء کی خبر گیری کی اور وہ یہ بتاتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں کہ جب وہ اچانک ایک شہید وکیل کے گھر پہنچیں تو ان کا بیٹا اپنے گھر میں چند بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہا تھا اور یہی اس شہید وکیل کے ورثاء کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔اسکول کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, 4 April 2014

عام آدمی تک اقتدار کی منتقلی عمران خان اپنا وعدہ کب پورا کریں گے


کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شاید عمران خان نے بھی قوم کے جذبات کو سمجھا ہی نہیں
عطاء اللہ خان عیسٰی خیلوی نے اپنی عمر بھر کی ریاضت اپنی پوری زندگی کا  اثاثہ صرف ایک گانے میں سمیٹ دیا تھا
"بنے گا نیا پاکستان" یہ عطاء اللہ عیسٰی خیلوی کا وہ گانا ہے جس نے خان کی انتخابی مہم میں جان ڈال دی تھی اس کے ساتھ ہی ایک بہت بڑی آفر کو ٹھکرا کر کہا کہ عمر بھر کی ریاضت عمران خان کے نام کردی ہے
بہت سے لوگوں کے جذبے تھے اور لوگ جان نثار کرنے کو ہرلمحہ تیار تھے
عمران خان کے حلقے کی ایک بوڑھی اماں نے مجھے کہا تھا
"ساراں نوں آزمایا اس وار عمران خان کو ووٹ دساں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔او نواں پاکستان بنڑیسی" سب کو آزما چکے ہیں اس بار عمران خان کو ووٹ دیں گے وہ نیا پاکستان بنائے گا
میں نے عمران خان کو ووٹ نہیں دیا حالانکہ وہ میرے آبائی گاؤں میں ایک  ایسا تعلیمی ادارہ بنا چکا تھا جس نے   علاقے میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ایک ایسا عظیم تعلیمی ادارہ جو آنے والے دس سالوں میں  میرے   آبائی علاقے کی تقدیر کو بدلنا ہے۔اور بتدریج تبدیلی کا عمل جاری ہے
لیکن اس کے باوجود میں نے خان کو ووٹ نہیں دیا ۔حالانکہ میں جانتا تھا کہ وہ تبدیلی لاسکتا ہے۔شاید ایک وجہ یہ بھی کہ وہ مغرور ہے لیکن میں اس کو برا نہیں سمجھتا
کیونکہ تبدیلی بتدریج آتی ہے اور نچلی سطح سے آتی ہے۔میں  گورننس کا ایک ادنٰی سا طالب ہوں اور جانتا ہوں کہ بلدیاتی اداروں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے
نفع نقصان اور نتائج کی پروا کیئے بغیر عمران خان کو بلدیاتی انتخابات کروادینے چاہیئے تھے۔اور اقتدار یونین کونسل کی سطح تک منتقل کردینا چاہیئے تھا۔یونین کونسل کی سطح تک اقتدار کی منتقلی عمران خان کے انتخابی ایجنڈے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا
عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ ایک غریب درزی کو ایک غریب دھوبی کو ایک غریب خوانچہ فروش کو ایک ترکھان کو اقتدار منتقل کرے گا۔جب انٹرا پارٹی الیکشن ہورہے تھے تو یقین دلایا جارہا تھا کہ ایک عام آدمی کو پارٹی کے مرکزی عہدے دیئے جارہے ہیں کل اسی عام آدمی کو اقتدار بھی منتقل کیا جائے گا
اگر خیبر پختونخواہ کو ایک مثالی صوبہ بنانا تھا تو اس کیلئے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کروا  کر اقتدار ایک غریب  اور عام آدمی تک منتقل کردیا گیا ہوتا تو آج تحریک انصاف کیلئے حالات مزید سازگار ہوتے
کیونکہ ہزاروں منتخب کونسلرز تبدیلی کے سفر کے سپاہی ہوتے
لیکن مجھے افسوس ہوا یہ جان کر کہ جس طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون بلدیاتی انتخابات سے بدکتے ہیں اسی طرح  تحریک  انصاف نے بھی اقتدار ایک عام آدمی کو منتقل نہیں کیا ۔ اس خوف اور ڈر سے دوسری پارٹی جیت کر مسائل نہ پیدا کردے۔لیکن اگر گلی محلے کے لوگوں کو اقتدار منتقل کرکے ملکیت کا احساس پیدا کیا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے
سب سے اچھا شہباز شریف رہا جس کے ذہن میں آمریت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کرگزرتا ہے جو سمجھ میں آتا ہے کردیتا ہے اور یہی اس کی کامیابی ہے
 اپنے اس بدترین  سیاسی مخالف کو جس نے عیادت کیلئے آنے پر حقارت سے ملنے سے ہی انکار کردیا تھا کو دس ہزار کنال زمین  یونیورسٹی  اور تعلیمی شہر کیلئے الاٹ کرکے اخلاق کے میدان کو فتح کرکے اپنے سیاسی مخالف کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل میں شرمندہ کردیا
عمران خان   صاحب قوم کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔نوجوانوں کے جذبات بھڑک رہے ہیں ان کو طالبان نامی  ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگاؤ بلکہ ایک صوبے کی حکمرانی کو ماڈل حکمرانی میں بدلنے کیلئے اقتدار ایک عام آدمی کو منتقل کردیں میں یہ اپیل پیپلزپارٹی اور نون لیگ سے اس لیئے نہیں کرتا کہ ان دونوں کی ترجیحات میں عام آدمی تک اقتدار کی منتقلی نہیں رہا
موجودہ حالات میں ماڈل حکمرانی تو دور کی بات ہے عمران خان کا وزیراعلٰی کچھوے کی رفتار سے دوڑ رہا ہے جبکہ اس کا  مخالف شہباز شریف لسی پی کر تیزرفتاری سے دوڑے چلا جارہا ہے اور اپنے کام اور کارکردگی سے ہرروز مخالفین کے منہ بند کردیتا ہے دوسری طرف جماعت اسلامی نے اپنی آستین کے سانپ سے نجات حاصل کرلی ہے اور نیا امیرانقلابی ہے وہ تحریک انصاف کو ٹف ٹائم کے پی کے میں دے گا

میرا اور آپ کا "جاننے کا حق"


جاننے کا حق ۔۔۔ ایک شہری کو حاصل آزادیوں کے حوالے سے جب حقوق کی بات جاتی ہے تو سب سے اہم ترین آزادیوں میں سے ایک جاننے کا حق بھی ہے
میں جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ میرے ادا کیئے گئے ٹیکس کے پیسے کا کیا استعمال ہوا ہے
میں جاننے کا پورا پورا حق رکھتا ہوں کہ میرے ادا کیئے گئے ٹیکس کے پیسے سے میرے پڑوس میں جو  سرکاری اسکول چل رہا ہے اس  میں پڑھائی کا معیار کیوں ناقص ہے ۔میں جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ میرے بچوں کی تعلیم پر حکومت میرے ادا شدہ ٹیکس سے  جو پیسے خرچ کرتی ہے وہ ضائع کیوں ہوجاتے ہیں۔میں جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ سرکاری اسکولوں کی موجودگی میں تعلیم کیوں کاروبار بن گئ ہے
مجھے آئین پاکستان پورا پورا حق دیتا ہے کہ میں کسی بھی سرکاری اسکول، ڈسپنسری،اسپتال،شہری حکومت ،یونیورسٹی اور کسی بھی سرکاری محکمے میں سے معلومات حاصل کروں کیوں کہ مجھے "جاننے کا حق ہے"
میں ایک عام شہری جو ہرروز پاکستان کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرتا ہوں ۔میں ایک عام شہری جو ٹوٹے پھوٹے چپل پہنتا ہوں اور میری "شیو" بھی اکثر بڑھی ہوتی ہے میں وہ عام شہری جو بہت حقیر بھی ہوں اور بے توقیر بھی اس لیئے کہ شاید میں جانتا ہی نہیں کہ مجھے جاننے کا حق ہے کہ میرے ادا شدہ ٹیکس سے میرے ادارے جن کا میں مالک ہوں  وہاں کیا ہورہا ہے۔میرے پیسے کا غلط استعمال کیوں ہورہا ہے میں یہ بات نہیں جانتا کہ میں ایک عام شہری تو ہوں لیکن کمزور ہر گز نہیں ہوں حقیر ہرگز نہیں بے توقیر ہر گز نہیں ہوں میری کم علمی میری لاعلمی اور میری خاموشی مجھے کمزور بناتی ہے میری خاموشی ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت ہرماہ میرے ایک بچے پر تین  ہزار روپیہ خرچ کرتی ہے ۔لیکن وہ کسی بدعنوان  سرکاری افسر کی جیب میں چلے جاتے ہیں  اور مجھے مجبور ہوکر تعلیم کو کاروبار بنانے والوں  کو ہزاروں روپے بطور فیس ادا کرنےپڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ  میں جب بیمار ہوتا ہوں تو مجھے علاج کیلئے پرایئویٹ ڈاکٹروں کی لوٹ مار کا نشانہ بننا پڑتا ہے
کل تک میرے پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہی حال تھا وہاں جاننے کا حق موجود تھا لیکن کسی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی پھر وہاں ایک  ویڈیو گانا مشہور ہوا جس کے بول تھے " مجھے جاننے کا حق ہے" چند دن کے اندر جاننے کا حق ہر ایک کی زبان پر تھا اور اگلے چند دن میں لوگوں نے غور کیا تو وہ گانا ایک تعلیم دے رہا تھا  ایک پیغام تھا ایک عام آدمی کے نام ایک ٹیکس ادا کرنے والے کے نام ایک حقیر اور بے توقیر شہری کے نام جو احتساب کا روز مطالبہ کرتا تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ ہم سب محتسب ہیں مجھے اور آپ کو احتساب کا پورا پورا حق حاصل ہے
پھر کیا تھا ہر ایک شہری جج بن گیا ہر ایک شہری محتسب بن گیا اور ہر شہری نے ایک عدالت لگالی کہ تم ایسا کیوں کررہے ہو
سادہ سے کاغذ پر  بے توقیر شہریوں نے جب درخواستیں  جمع کروائیں تو ان کی تعداد کروڑوں میں  تھی کہ کیوں تم میرا ٹیکس کا پیسہ لوٹ رہے ہو ۔کیوں تم مجھے وہ سہولت نہیں دیتے جو میرا حق ہے
جب کروڑوں حقیر اور بے توقیر شہری جمع ہوگئے تو پھر وہ حقیر نہ رہے پھر وہ بے توقیر نہ رہے اداروں کو جواب دہ ہونا پڑا
جب تک ہمارے ادیب،فن کار،گلوکار ،موسیقاراور ہماری سول سوسائٹی کے کرتا دھرتا ۔اس عوامی حق کے استعمال کی تعلیم عوام کو نہیں دیتے اس وقت  تک  ہمارا استحصال جاری رہے گا
ہم سب کو کوشش کرنی ہوگی اپنے لیئے اپنی آنے والی نسل کیلئے