Powered By Blogger

Sunday, 10 August 2014

ٹماٹر کے بدلے چرچ کا مقدمہ


20 جولائی 2014 کو ایک حساس نوعیت کا کیس میرے پاس آیا معاملے کا تعلق اقلیتوں کے حقوق سے تھا اور قبضہ گروپ کراچی کے اہم ترین کاروباری علاقے میں موجود چرچ کی اربوں روپے کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اس سلسلے میں ایک انتہائی مضحکہ قسم کا کیس چرچ کے عہدیداران پر قائم کیا گیا تھا۔ایک پادری ایک کاروباری معاہدہ کا ضامن تھا جس کے تحت دو کروڑ روپے کے ٹماٹر سپلائی کرنا تھے اور اگر معاہدے کے مطابق ایسا نہ ہوتا تو "ٹرینیٹی چرچ" صدر کی اربوں روپے کی قیمتی زمین اس معاہدے کے بدلے میں دینی تھی دوسرے الفاظ میں ٹماٹر کے بدلے چرچ دینے کا معاہدہ تھا مرکزی ملزم نے ضمانت قبل گرفتاری کروالی تھی اور معاہدے کا ضامن پادری پولیس کی حراست میں تھا
جب متعلقہ  کورٹ کی معلومات لیں تو پتہ یہ چلا کہ "جج" انتہائی ایماندار ہے یہ سن کر میں نے اپنے کلائینٹ سے کہا کہ آپ کوئی اور وکیل دیکھ لیں میں ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی کے کیسز اول تو لیتا ہی نہیں ہوں اور مجبوراً لینا بھی پڑجائے تو ایماندار جج کا کیس نہیں لیتا کیونکہ بلاوجہ آپ کو بھی تکلیف ہوگی اور مجھے بھی  اس لیئے آپ کو پہلے ہی آگاہ کررہا ہوں کہ آپ کا کام نہیں ہوگا کیونکہ جج ایماندار ہے وہ کام نہیں کرے گا
یہ سن کر میرے کلائینٹ کو سخت ترین مایوسی ہوئی اور کہا کہ کہ یہ کیسا اصول ہے کہ ایماندار جج کی عدالت کا کیس نہیں لیتے ہم تو ویسے بھی بے گناہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک تو ایماندار جج کام نہیں کرتے کیونکہ ان کو کام آتا ہی نہیں ہوتا دوسرا یہ کہ کورٹ کی فائل پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور معاملے کو بلاوجہ لٹکا کہ رکھتے ہیں یہ جج آپ کا کام کبھی بھی نہیں کرے گا بہتر ہے پولیس والوں سے ہی معاملات سیٹ کرلو تو زیادہ بہتر ہے تیسری بات یہ ہے کہ آپ لوگوں کا بے گناہ ہونا ایک الگ سے جرم ہے
مختصر یہ کہ دوسرے دن ریمانڈ پیش ہوا کلائینٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹس سے ہی ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں اس کو اس کی پروفیشنل فیس ادا کی   شام کو میرے کلائینٹ میرے آفس میں موجود تھے اور پرجوش ہورہے تھے کہ جج تو و اقعی  ایماندار ہے سب یہی کہہ رہے تھے کہ رشوت بالکل بھی نہیں لیتا
میں نے کہا کہ اس کے کورٹ اسٹاف نے آدھی بات آپ کو بتائی ہے وہ نہ ہی رشوت لیتا ہے اور نہ ہی کسی کاکام کرتا ہے چاہے جائز ہو یا ناجائز کیوں؟ کیوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایماندار ہے میں نے کہا کہ اب پوزیشن کیا ہے کلائینٹ نے بتایا کہ کل ضمانت کی درخواست جمع کروادیں گے اس کے بعد سماعت ہوگی اور امید ہے کہ ضمانت ہوجائیگی
خیر ضمانت کی درخواست جمع ہوگئی اگلے دن سماعت ہوگئی جج نے ملزم کو بے گناہ قرار دیا کاروباری معاہدہ جو دوکروڑ کا تھا جج نے رجسٹر نہ ہونے اور باقاعدہ نوٹری نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکوک قرار دیا اور سماعت کے دوران ہی کہا کہ اس مشکوک معاہدے کو ایک طرف رکھ دو   اس کاغذ کی کوئی اہمیت نہیں میرے کلائینٹ پرجوش ہورہے تھے کہ ان کی تو لاٹری لگ گئی ایماندار جج کے پاس کیس چلاگیا کیس جھوٹا ہے اور جج بھی مکمل حمایت کررہا ہے اس لیئے ان کاکام تو ہوہی جایئگا
خیر جس دن آرڈر ہونا تھا جج صاحب نے "پراسرار "طور پر چھٹی مارلی کیس دودن بعد آرڈر پر چلاگیا اگلے دن جج آیا اور آرڈر والے دن پھر  "پراسرار" طور پرچھٹی مارلیتا ہے
اب کلائینٹ کو ہوش آگیا کہ یہ معاملہ ہی کچھ اور ہے  وہ شام کو روتے پیٹتے آگئے کہ ہم تو اس ایماندار جج کی وجہ سے برباد ہوگئے نہ یہ ضمانت دے رہا ہے نہ ہی مسترد کررہا ہے بلکہ جس دن آرڈر کرنا ہو اسی دن چھٹی مارلیتا ہے اور فائل بھی ساتھ ہی گھر لے جاتا ہے یہ کیا ڈرامہ ہے اسی دوران 15 دن گزرگئے
5 اگست کو مجھے کلایئنٹ ملنے آئے وکیل ساب آپ تو مہان ہیں آپ نے تو ہمیں پندرہ دن پہلے ہی بتادیا تھا کہ ایماندار جج کسی کاکام نہیں کرتے اب آپ کے پاس اس صورتحال کا کوئی نہ کوئی حل تو ہوگا میں نے کہا بالکل ہے تو بتاتے کیوں نہیں میں نے کہا آپ نے پوچھا ہی کب تھا آپ تو خود ہی ایمانداری کے جھانسے میں آگئے
خیر 5 اگست کو پھر کیس کی سماعت تھی ایماندار جج نے کہا کہ مجھے پرانے دلائل بھول گئے ہیں اس لیئے دوبارہ دلائل دیئے جائیں جس پر فریقین کے وکلاء نے دوبارہ دلائل پیش کیئے  ایماندار ناسور ایک بار پھر آرڈر کیلئے کیس رکھنا ہی چاہ رہا تھا کہ اقلیتی برادری کا ایک ہجوم کورٹ کے احاطے میں داخل ہوگیا کچھ ناقابل اشاعت قسم کے معاملات ہوئے تھوڑی دیر میں ہی معاملہ ڈسٹرکٹ جج احمد صبا کے پاس پہنچ چکا تھا
شام کو ایک بار پھر کلایئنٹس میرے سامنے موجود تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب کچھ کامیابی کے آثار نظر آنا شروع ہوچکے ہیں اگر کل بھی اس ایماندار نے  کام نہ کیا تو کل شاید ہم کورٹ کو ہی آگ لگادیں میں نے کہا کہ اب کام ہوجائے گا
خیر اگلے دن ضمانت کی درخواست منظور ہوگئی
لیکن میرے لیئے ان لوگوں کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا جو پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پر کام کررہے ہیں ایک نے پوچھا کہ وہ تصدق جیلانی کے تاریخی فیصلے کا کیا ہوا جو پشاور کے خود کش حملے بعد "سوموٹو" ایکشن کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے صادر کیا تھا اور وہ بینچ کہاں گیا جس ان معاملات پر نظر رکھنی تھی
میں نے کہا کہ تصدق جیلانی نے واقعی ایک تاریخی آرڈر کیا ہے لیکن شاید وہ اپنے ہی گھر کی کمزوری کا ذکر کرنا بھول گئے  کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ماتحت عدلیہ میں کوئی اہمیت ہے ہی نہیں اسی طرح چیف جسٹس پاکستان کی ماتحت عدلیہ میں کسی قسم کی کوئی عزت نہیں  اس لیئے اقلیتوں کیلئے جو اچھے اچھے فیصلے سامنے آرہے ہیں ان کو کسی الماری میں سجا کر رکھ لیں اور اگر کوئی دل جلا پڑھنا چاہے تو یہ فیصلہ آن لائن بھی موجود ہے اردو اور انگلش دونوں زبان میں
لنک مندرجہ ذیل ہے
http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=1857
ایک نے کہا کہ یہ جو ہمارے چرچ کے پادری کو عدالت نے بلاوجہ 15 دن غنڈہ گردی اور بدمعاشی سے جیل کی سلاخوں میں بند رکھا ہے اس کا کون ذمے دار ہے
میں نے کہا کہ یہ باتیں قبل از وقت ہیں سب سے پہلے اس بینچ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے سامنے معاملات لیکر آتے ہیں جس کے بعد کوئی رائے قائم کی جائیگی
ایک نے کہا کہ مرشد کے پاس کیوں نہیں درخواست لیکر جاتے
میں نے کہا کہ مرشد کو چرس اور اعلٰی کوالٹی کا گانجہ پینے ہی سے فرصت ملے گی تو تب کام ہوگا وہ تو روزانہ صبح سویرے چھٹانک بھر چرس کے دم لگا کر اپنے سارے غم مٹا لیتا ہے  اس لیئے اس کودرخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے
خیر پاکستان میں اقلیتوں پر جو بھی مظالم ہورہے ہیں مذہبی معاملات کے ساتھ ساتھ قیمتی جائداد بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے اور ہماری ناکام اور نااہل عدلیہ ان مظالم میں برابر کی شریک ہے 

Saturday, 2 August 2014

جوڈیشل مجسٹریٹ کانفرنس وقت کی اہم ضرورت

ہمارے وہ تمام دوست اور احباب جو جوڈیشل مجسٹریٹس کو "بے اختیار" سمجھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ہرگز ہرگز  بے اختیار نہیں جیسا کہ تصور کرلیا گیا ہے اتنا ضرور ہے ہے کہ بحیثیت ایک برٹش کالونی   کے چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی موجود تھے جن کو انتظامیہ استعمال کرتی تھی اصولی طور پر انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات اکٹھے نہیں ہوسکتے اس لیئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی کوئی پولیس نہیں ہوتی اور پولیس کی کوئی عدالت نہیں ہوتی لیکن یہ صرف مہزب ممالک کیلئے ہے 


انتظامیہ کی عدلیہ سے علیحدگی ایک زمانے میں بہت بڑا نعرہ تھا  کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے تفتیش میں بے جا اور ناجائز مداخلت ہوتی تھی اسی وجہ سے اعلٰی عدالتوں کے فیصلہ جات  جن کا تعلق تفتیش میں مداخلت سے ہے وہ سول انتظامیہ کے افسران تھے عدالتی افسران کو مخاطب نہیں کیا گیا
جب بھی ہم نے تفتیش کے دوران عدالتی اختیارات کی بات کی تو ہمارے دوست احباب وہی عدالتی فیصلے لیکر آجاتے ہیں جن کے تحت انتظامیہ سے منسلک عدالتی اختیارات کے حامل مجسٹریٹ صاحبان کو اختیارات حاصل تھے  دوستو یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم عدالتی نظام کی برائیاں بیان کرنے کیلئے ہرگز نہیں بیٹھتے نہ ہی ہمارا وقت اتنا فالتو ہے کہ عدالتی نظام کی خامیاں گنواتے رہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ مشکلات جو روزمرہ پیش آتی ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں یہاں ایک اور معاملہ بھی ہے کہ مجسٹریٹ تو ایک انتظامی اختیارات کے استعمال کا عہدہ ہے کیونکہ مجسٹریٹ جو حکم جاری کرتا ہے ان کی حیثیت انتظامی نوعیت کی ہوتی ہے  اور یہ بہت بڑی اور اہم بحث ہے جس پر سالہا سال سپریم کورٹ میں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے 
میں نے کئی بار ذکر کیا کہ کراچی کے ایک سیشن جج نے جب کراچی میں آن لائن عدلیہ کا تجربہ کیا تو اس نے کسی عدالتی اصلاح کا انتظار نہیں کیا اور وہ کرگزرا اور ایک کامیاب تجربہ کے زریعے یہ ثابت کیا کہ اصلاح کا انتظار کرنے والوں کا مؤقف درست نہیں  ان کا یہ مؤقف غلط ہے کہ پارلیمنٹ نئی قانون سازی کرے بلکہ جو لوگ تبدیلی لانا چاہیں ان کیلئے ہر وقت ماحول سازگار ہوتا ہے
اگر ہم ضابطہ فوجداری کی زیردفعہ 159 کا ذکر کریں تو اس میں مجسٹریٹ کیلئے کیا اختیارات موجود ہیں 

ویسے مجسٹریٹ کو چاہیئے کہ ویسی رپورٹ موصول ہونے پر مجموعہ ہٰزا میں  مقرر کردہ طریقہ کے مطابق تفتیش کرنے کا حکم دے یا مقدمہ کی ابتدائی انکوائری کرنے یا اسے اور طرح طے کرنے کی غرض سے  خود جائے یا اپنے ماتحت کسی مجسٹریٹ کو مقرر کرے
یہ ایک حیرت انگیز سیکشن ہے جس کا ہماری عدلیہ نے آج تک استعمال نہیں کیا سنا ہے کہ جب عدالتی اختیارات انتظامیہ سے واپس لیکر عدلیہ کو منتقل کیئے جارہے تھے تو اس وقت انتظامیہ نے عدالتی افسران کو وہ گاڑیاں دینے کی پیشکش کی تھی جو اس وقت ان کے انتظامی افسر استعمال کررہے تھے جن کے تحت کسی واقعے یا حادثے کے بعد مجسٹریٹ خود بھی جائے حادثہ پر پہنچ جاتا تھا شاید انتظامیہ نے یہ سوچا ہوگا کہ عدالتی افسران کس طرح جائے وقوعہ پر پہنچیں گے لیکن اس وقت سینئر سول جج کے پاس بھی گاڑی کی سہولت نہیں تھی تو ہماری عدلیہ نے اس زمانے میں اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا  اور یہ کہا کہ اگر عدالتی افسر اس قسم کے کام کریں گے تو وہ بھی "خراب" ہوجائیں گے
ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کی سطح پر ہایئکورٹ مجسٹریٹ کانفرنس منعقد کی جائے
کیونکہ جب تک مجسٹریٹ صاحبان کے اختیارات کا تعین نہیں ہوجاتا اس وقت تک بہت سے معاملات اٹکے ہی رہیں گے
مجسٹریٹ کانفرنس اس لیئے بھی ضروری ہے کہ یہی وہ  فورم ہے جہاں سے عدلیہ انتظامیہ کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کا آغاز کرتی ہے
گزشتہ دنوں ایک اور افسوسناک واقعہ  پیش آیا جس کا ذکر کردوں کہ  کراچی کے ضلع وسطی کے ایک مجسٹریٹ نے ذاتی حیثیت میں تھانے میں پیش ہوکر ایک دو ٹکے کے پولیس افسر کے خلاف خود ایف آئی آر رجسٹر کروائی ہے
ایک پولیس والے کی اتنی اوقات کہ مجسٹریٹ اس کے خلاف ایف آئی آر میں خود مدعی بن رہا ہے شاید سیشن جج نے بھی نہیں سمجھایا ہوگا یہ اس لیئے ہوا کہ اس مجسٹریٹ کو یہ پتہ ہی نہیں کہ مجسٹریٹ کا عہدہ کتنا بڑا ہے کتنا اہم ہے کتنا باعزت اور باوقار ہے
میرا ایک عزیز کسی زمانے میں مجسٹریٹ تھا اور اس کی شان وشوکت یہ تھی کہ دنیا کے قیمتی سے قیمتی نسل کےگھوڑے اس کے گھر میں موجود ہوتے تھے اور ضلع کے ایس ایس پی اس  سے ملنا  اپنے لیئے اعزاز سمجھتےتھے
اس کی شان و شوکت بادشاہ وقت جیسی تھی وہ تھا بھی اپنے وقت کا بادشاہ اور پاکستان کی بڑی شخصیات اس سے دوستی اپنے لیئے اعزاز سمجھتی  
 تھیں پاکستان کا ایک سابق صدر ان کا ذاتی دوست تھا اگر کوئی پولیس والا اس سے بدتمیزی کرتا تو شاید اس زمین پر اس پولیس والے کی قبر کا نشان بھی کسی کو نہ ملتا   اور زیادہ دور کی بات نہیں صرف چند سال پہلے کی بات ہے کراچی ہی کے ایک مجسٹریٹ کے ساتھ  جنرل پرویز مشرف کی اس وقت ذاتی دوستی تھی جب وہ مطلق العنان صدر تھا 
اگرچہ یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ ایک عدالتی افسر کی کسی حکمران سے دوستی ہو لیکن بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس عہدے کی اتنی تو اہمیت ہے کہ اپنے وقت کا حکمران ایک مجسٹریٹ کا دوست ہو 
کہاں وہ شان و شوکت کہ پورے ضلع کا پولیس افسر باہر بیٹھ کر مجسٹریٹ سے ملاقات کا منتظر اور کہاں یہ ذلت کہ ایک 
 مجسٹریٹ ایک دوٹکے کے پولیس والے کے خلاف اپنی زاتی مدعیت میں ایف آئی آر درج کروا کرہڑتالیں کرواتا پھر رہا ہے
اور کہاں بے خبری کا یہ عالم کہ ہمارے مجسٹریٹ یہ سوال کرتے ہیں کہ تفتیش کے دوران کامن سینس استعمال کرنا ضابطہ فوجداری کی کس سیکشن کے تحت آتا ہے 

ایسے ماحول میں ضروری ہوجاتا ہے کہ سندھ ہایئکورٹ فوری طور پر سالانہ بنیادوں پر مجسٹریٹ کانفرنس کا انعقاد کرے جس میں بطور انتظامی افسر عدالتی افسر کے کردار کو زیر بحث لایا جائے 

HOW SCIENCE TRACK THE CRIMINAL

The Sherlock Holmes type detective, the man who smells a letter and tells at once that the murder was committed by a bald headed man wearing eye-glasses, may seem a far-fetched creation of the novelist. His exploits have been over-drawn for the purposes of fiction, but his methods are sound. Above all things, he is a scientist.
In the whole United States there is no Sherlock Holmes - no detective who studies crimes objectively and dispassionately, just as an entomologist studies a bug for identification. The Europeans are far in advance of us in this respect.
There are no fewer than four chairs in as many European universities occupied by men who are professors of crime detection, the new science called "criminalistics." These men have laboratories in which the minds and methods of criminals are studied. In Graz, Austria, for example, you will see collections of all the know poisons of Europe, the sword-canes and rifle-canes with which assassins lie in wait to kill, plaster models and accurately drawn plans of crimes, the skulls of men who have been killed by blows on the head. Students who take the course in criminalistics are expected to look at a skull and say: "This man was killed by a hammer blow."
One graduate caught a murderer who had left behind him nothing but a derby hat in which there was a single hair."Look for a man between forty-five and fifty, partially bald with gray-streaked hair." The police found him.
Why did the scientific detective say that? Because by chemical and microscopic means it had been determined that there was perspiration in the hat; one of the hairs was gray, and it was the kind of hair that drops out a head that is growing bald. All modern science has been drawn upon in this tracking of the criminal.




1. The hand of a criminal.
2 & 3 Plaster casts of footprints made with a booted and a naked foot.
4. Imprint of a criminal knee. The scientific detective determined that the imprint was left by striped trousers made in Manchester.
5. A certain burglar bit a section out of a piece of cheese and threw the rest away. This is a cast of the bitten section. It showed that one tooth was missing and it enabled the police to find the burglar.
Professor Gross, who founded the chair of criminalistics in the University of Graz, could look at the footprints of a man and determine whether he had been walking or running, whether he had been carrying a package or not, and even whether he was suffering from a disease. Bertillon, who did far more than give us the measurement system of classifying convicted criminals, went so far as to gather information on to methods used by Parisian shoemakers in nailing heels in place; for each shoemaker used a definite number of nails and hammered them in according to a plan of his own. Bertillon had only to look at a footprint in order to deduce the probable maker of the shoe that left the imprint.
The first step taken by a European criminalist is to make a scientific study of the scene of the crime. He uses either the scientific method of photographing devised by Bertillon - a method that makes it possible to measure with the utmost refinement on the photograph the distance of one object from another - or else he makes an accurate drawing, noting the exact position in which every object is found. Sometimes he even makes a three-dimensional plaster cast. He looks always for what is technically called "the error in the situation" - in other words, the little unforgotten thing or act that betrays.
Gross once found the dead body of an old man swinging from a chandelier. Suicide was the verdict of the police, and suicide was the first conclusion Gross drew. Then he studied his drawing. There was no chair near the man! Somebody must have hung him to the chandelier. The doctors assured Gross that the man had died a natural death! Then the real search began. Gross found that the old man had been left in charge of two servants. One night, after he had fallen asleep, they decided to go to a dance. When they returned they found their charge dead. Frightened, the valet suggested that it would be well for them to make it appear as if the old man had committed suicide. Together they hung him, but they forgot to kick over the chair.
These men deal not only with the physical facts of crime, but also with the psychology of criminals. It is important to learn everything that can be learned of the loves and hates of thieves and pickpockets, their superstitions, and their slang. The criminal mind is not a normal type. It is firmly believed by thieves, in Europe at least, that something must be left on the scene of the crime to avoid detection. One man left behind two or three matches torn from a block of the kind given away in cigar stores. Professor Reiss, of the University of Lausanne, picked them up. He ordered all the suspects searched. A block of matches was found in the pocket of one. The two incriminating matches dovetailed into the stubs.
We need laboratories in America like those described above.

safi awan
03343093302

Friday, 1 August 2014

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو درپیش چیلنجز


اٹھارویں ترمیم کے بعد جہاں صوبوں کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے وہیں صوبوں کی ذمہ داریوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے   ایک طرف چالاک بیوروکریسی  نہیں چاہتی کہ صوبے اس صورتحال کو سمجھ سکیں ۔دوسری طرف  جذبہ حب الوطنی سے محروم بے بس سیاستدان  ایک تماشائی کی حیثیت سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ شروع کہاں سے کیا جائے اور ختم کہاں کیا جائے
ایسی صورتحال میں بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ سول سوسائٹی اپنا بھرپور کردار ادا کرے
ایک سوال ہے بہت اہم اگر کسی کے پاس اس کا جواب ہو کہ صوبائی ادارے  اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات میں اضافے کے بعدکس طرح سے خواتین کی مالی حالت کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اسی حوالے سے سندھ حکومت نے صرف خواتین کو زمین بھی الاٹ کی ہے یہ ایک اچھی کوشش تھی اس کے علاوہ وہ کونسے اقدامات ہیں جن کے زریعے ہماری خواتین کی مالی حالت بہتر ہوسکتی ہے  اور وہ اپنے خاندان کی کفالت میں ایک مؤثر کردار بھی ادا کرسکتی ہیں
اگر اس حساس معاملے پر کسی کے پاس کوئی تجویز ہوتو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا
لیبر ڈیپارٹمنٹ سوشل ویلفئر ڈیپارٹمنٹ اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ  کس طرح سے اپنا مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں؟
بعض اوقات   ایک عام آدمی کے پاس بھی ایسی تجویز موجود ہوتی ہے جو بہت بڑی تبدیلی کا سبب بن جاتی ہے
آپ رابطہ کرسکتے ہیں
صفی اعوان
03343093302
فرید چیمبر 8 فلور آفس نمبر 99 عبداللہ ہارون روڈ صدر کراچی

Wednesday, 30 July 2014

اندھا اعتماد کامیابی کی پہلی اور آخری شرط


دوسال پہلے کوئی میرے بیس دوست جمع ہوئے عاقل بالغ دانش اور علم کے بہتے ہوئے سمندر انہوں نے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اس کا نام رکھا "رول آف لاء" بنیاد رکھنے کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ تحریک کا منشور دستور جھنڈا ترانہ اور لوگو اتفاق رائے سے بنائے جائیں گے اس کے بعد صدر وغیرہ کا سوچیں گے اس دوران تحریک کام کرتی رہے گی  لیکن ایک بورڈ  اور عارضی صدراس کا انتظام سنبھالے گا مجھے شمولیت کی دعوت تھی میں نے مصروفیت کی وجہ سے شمولیت اختیار نہیں کی
چند روز بعد مہم نے ایک  چھوٹی سی تحریک کی بنیاد رکھی  گنتی کے تین یار دوست تھے جنہوں نے  زبردستی مجھے صدر بنادیا حالانکہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا دوسرے ہی دن میں نے منشور دستور مقاصد پروگرام لوگو اور بے ضرر قسم کا ممبرز بورڈ آف دائریکٹر تشکیل دیا  یعنی  "ساہ نکلے پر آہ نہ نکلے" ممبر کی سانس نکل جائے لیکن آواز نہ نکلے یعنی میرے اچھے دوست  بورڈ کے ممبر تھےاور تیسرے ہی دن ہماری ٹیم میدان  میں اترچکی تھی
میں نے اختیارات کا استعمال شروع کیا ایک پالیسی لائی اس پر عمل کیا پہلی ٹیم میدان میں اتاری وہ  تو فوراً ہی تتر بتر ہوگئی فوری طور پر دوسری ٹیم میدان میں اتر چکی تھی فیصلہ سازی میرے پاس تھی میں فیصلے کرتا گیا آگے بڑھتا چلا گیا ہماری  نوزائدہ تحریک کو بہت سے چیلنجز بھی تھے  اور ٹیم ان چیلنجز کا مقابلہ کررہی تھی  ہر سطح اور ہرمیدان میں چیلنجز تھے پلان اے کی ناکامی کے بعد پلان بی اور پلان بی کی ناکامی کے بعد پلان سی تیار ہوتا تھا چیلنج آئے  لیکن مقابلہ کیا اسی دوران منشور میں بھی تبدیلی ہوئی اور بعض مقاصد میں بھی تبدیلی ہوئی بورڈ کے  بے ضررممبران بھی  تبدیل ہوتے رہے بعض مستعفی ہوئے بعض کی مصروفیات کی وجہ سے چلے گئے اور کچھ کو اختلاف برائے اختلاف تھا تو چند ایک کو نیت پر ہی شک تھا اور چند نے تو دلوں کا حال جان لیا تھا حالانکہ دل کا حال صرف اللہ جانتا ہے  دو دوستوں نے  عین عصر کے وقت روزہ توڑ دیا کہ یار تحریک ناکام ادارہ ناکام ہوگیا ہم جارہے ہیں  اور مخالف گروپ زیادہ اچھی آفر کررہا ہے  اور آپ لوگوں کے پاس تو ویسے بھی کسی کو دینے کیلئے کچھ بھی نہیں حالانکہ میں ان کے پاس یہ خوشخبری لیکر گیا تھا کہ ہم ایک بہت بڑا معاہدہ دستخط کررہے ہیں
ایک سال کے اندر اندر پوری ٹیم تبدیلی کے عمل سے گزرچکی  ہے جس نے جانا تھا وہ چلا گیا جس نے رہنا تھا رک گیا اسی دوران تحریک کئی سنگ میل عبور کرچکی تھی ہم کسی کو جواب دہ نہ تھے  سب سے زیادہ گڑبڑ ممبرز بورڈ آف ڈائریکٹر کرتے ہیں  اس کا تو حال یہ تھا کہ "ساہ نکلے پر آہ نہ نکلے"  اکثر بورڈ آف ڈائریکٹرز کا یہ حال ہوتا ہے کہ کھیڈاں گے ناں کھیڈن دیاں گے مفت کی سیاست  ہمیں بتایا  نہیں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا  یہ نہیں ہوا تو وہ کیوں ہوا  فلاں سے اکیلے کیوں ملاقات کی  ہمیں کوئی خبر نہیں ہم اس مرض سے آزاد تھے   وسائل ہمارے اپنے تھے پالیسی ہماری اپنی تھی   اللہ ہمارے لیئے راستے بنارہا تھا معاون پیدا ہورہے تھے اسی دوران ایک تنقیدی  دوست نے کہا آپ کی فلاں پالیسی غلط ہے تو میں نے کہا ٹھیک کہا اب اسی غلط پالیسی کی بنیاد پر ہم کامیابی حاصل کریں گے اور وہی غلط پالیسی ہی کامیابی کی ضمانت بن گئی  کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جب فیصلہ سازی کا اختیار کسی کو دے دیا جائے اور وہ جانتا بھی ہو کہ اس نے پوری ٹیم کو کہاں لیکر جاناہے تو تحریک کو چلانا آسان ہوتا ہے تحریکی زندگی کے دوران بہت سے یو ٹرن آتے ہیں اور بہت سے یوٹرن لینے پڑتے ہیں وہ بھی مجبوری ہوتی ہے لیکن ٹیم کا اعتماد ہو تو یوٹرن بھی لیئے جاسکتے ہیں  بہت سے بحران آتے ہیں ہرروز ایک نئی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جہاں   ہر نیا دن جہاں ایک نئی کامیابی لیکر آتا ہے وہاں ہرروز نئے بحران بھی منتظر ہوتے ہیں اور  ان سارے مسائل کا ایک ہی حل ہوتاہے ممبرز بورڈ آف ڈائریکٹرز کا مکمل تعاون  اور یہ بات کہ وہ آپ کے ساتھ اور ادارے کے ساتھ کتنے مخلص ہیں جوں ہی بورڈ کے ممبرز انگلی کرنا شروع   کریں جب بلاوجہ کی تجاویز سامنے آنا شروع  تو سمجھ لیں کہ بھینس  کود گئی تالاب میں اب وہ پورے تالاب  میں بلاوجہ کی ہلچل مچائے گی
بعض فیصلے غلط بھی ثابت ہوئے لیکن ان کو سنبھالنا بھی ایک فن ہے اور میں نے ان کو بروقت سنبھالا میدان میں کھڑے ہو کر تنقید کا سامنا کرنا مشکل ترین کام ہوتا ہے لیکن سب سے بڑی شرط کامیابی کی یہ بھی ہے کہ ادارے کا سربراہ دلیر ہو بہادر ہو بزدل نہ ہو  تحریک وہ کامیاب ہوتی ہے جس کا لیڈر اپنی تحریک کیلئے جان دے سکتا ہو اور کسی کی جان لے بھی سکتا ہو جو لیڈر اپنی تحریک کیلئے سینہ تان کر جان نہ دے سکتا ہو  وہ کامیاب نہیں ہوسکتی
 دوسری طرف "رول آف لاء " پر کیا گزری وہ دوسال میں صرف منشور بنانے  میں کامیاب ہوچکے ہیں  ابھی دستور بنانا باقی ہے اس کے علاوہ تنظیم کے "لوگو" بنانے پر جھگڑا چل رہا ہے  تین گروپ بن چکے ہیں  ٹرسٹی ایک دوسرے کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے   دوسال میں فیصلہ سازی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا  کہ فیصلے کون کرے گا  " ہر ساہ نال آہ نکلے" صدر کہتا ہے کہ میں طاقتور ہوں ممبرز بورڈ آف ڈائرکٹرز کہتے ہیں کہ بورڈ کے سامنے صدر کیا بیچتا ہے چیئرمین کا عہدہ تخلیق کیا جارہا ہے تاکہ صدر کو لگام ڈالی جاسکے   آج تک کوئی پروگرام نہیں کرسکے بورڈ کا اجلاس بک بک سے شروع ہوتا ہے اور جھک جھک پر ختم ہوجاتا ہے کسی  دوسرے ادارے کے ساتھ نیٹ ورک کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا رول آف لاء کا کوئی دشمن نہیں ممبرز خود ایک دوسرے کے پیچھے دومنہ والا دادو کا کلہاڑا لیکر گھوم رہے ہیں  میرا دوست جس نے بنیاد رکھی کل کہہ رہا تھا کہ یار پھنس گیا ہوں  نہ آگے کے ہیں نہ پیچھے کے فرمائشیں الگ ہیں اجلاس کے بعد  مٹن کڑاہی سے کم میں راضی نہیں ہوتے وہ بھی سارا خرچہ  میرے گلے  آپس کے جھگڑے ہی ختم نہیں ہورہے  میں نے کہا اب  کچھ نہیں ہوسکتا بھینس تالاب میں کود چکی ہے اب وہ واپس آنے سے رہی   
جب بھی کوئی تحریک شروع کی جائے مقاصد واضح ہوں دوست پرخلوص ہوں اور ایک دوسرے پر اندھا اعتماد کرتے ہوں  تو اللہ کی مدد بھی شامل ہوجاتی ہے اور کامیابی ضرور ملتی ہے    
اسی دوران میرے دوست کو اندر جانا پڑا کیونکہ ممبرز بورڈ آف ڈائرکٹرز کے اجلاس کے دوران  اوئے اوئے کی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھیں  اسی دوران ان کے  ایک ساتھی نے ہانپتے ہوئے باہر آکر بتایا کہ  بورڈ آف ڈائریکٹرز  اجلاس کے دوراننے ایک دوسرے کے سر پھاڑ دیئے ہیں  کیونکہ" رول آف لاء "کے لوگو  بنانے پر اختلاف پیدا ہوگیا تھا ایک گروپ کا مؤقف تھا کہ رنگ پیلا
ہو دوسرے کا مؤقف تھا کہ  رنگ  کالا ہو

Monday, 28 July 2014

کراچی کے اردو بلاگرز کا افطار ڈنر


کل بروز اتوار کراچی کے اردو بلاگرز کی جانب سے ایک افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کراچی  میں رہایئش پذیر اردو بلاگرز شریک ہوئے یہ دوستوں کی جانب سے ایک بہترین کاوش تھی آپ دوست جو کچھ اردو بلاگ کی صورت میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کے پیچھے ایک پوری ٹیم موجود ہے جنہوں نے بے لوث ہوکر اردو زبان کی ترقی کیلئے دن رات کوشش کی اور اپنے ذاتی وسائل اردو بلاگنگ کیلئے وقف کیئے ہیں
میری ان دوستوں سے یہ پہلی ملاقات تھی جو کہ کافی اچھی رہی
سب سے پہلی بات تو یہ کہ اردو بلاگنگ ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے جس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب آج سے ایک سال پہلے میں نے باقاعدہ بلاگ لکھنا شروع کیا اس وقت میں یہ سمجھتا تھا کہ  اردو بلاگ کون پڑھتا ہوگا اس دوران دوستوں نے انگلش بلاگ لکھنے کا بھی مشورہ دیا لیکن  وہ سلسلہ کامیاب نہ ہوا
اردو بلاگ لکھے اور سوشل میڈیا کی آزادی سے خوب فائدہ اٹھایا بعد ازاں جب اس سارے معاملے کا فیڈبیک آنا شروع ہوا تو مجھے اندازہ ہوا کہ اردو بلاگ  صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے اور پوری دنیا میں اس کے قارئین موجود ہیں جب کے میرے بلاگ کے  ساٹھ فیصد قارئین امریکہ میں ہیں اسی دوران  سوشل میڈیا پر موجود آزادی کا جب زیادہ  "فائدہ " اٹھایا تو دوستوں کی جانب سے دبی دبی سی تنقید سامنے آنا شروع ہوئی جس کے بعد میں نے بھی ذرا سا محتاط رویہ اختیار کیا اور قاریئن کی خاطر لکھنا شروع کیا
اردو بلاگنگ سے رابطوں میں بہت ہی زیادہ اضافہ ہوا حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ جن ممالک کے پاکستان میں مفادات ہیں وہ اردو بلاگ پر گہری نظر رکھتے ہیں  جن میں ایران،امریکہ،سعودیہ،برطانیہ وغیرہ شامل ہیں اور چند غیر ملکی سفارت کار بذریعہ ای میل اپنی رائے باقاعدگی سے دیتے ہیں بیرونی دنیا کیلئے یہ بات حیرت انگیز ہے کہ پاکستانی عدلیہ میں اکیسویں صدی میں بھی  فنگر پرنٹ اور فرانسسک  شھادت کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہوتے بلکہ اس  جھوٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں کہ جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا اگر جھوٹ بولا تو اللہ کا قہر اور عذاب مجھ پر نازل ہو
اٹلی اور ترکی پاکستان کی سول عدلیہ سے دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان کے تجارتی مفادات پاکستان سے منسلک ہیں جبکہ امریکہ اور جرمنی فوجداری نظام میں اصلاح سے دلچسپی رکھتے ہیں  اور اس کیلئے اعلٰی عدلیہ کو امداد بھی دیتے ہیں لاء سوسائٹی کے بلاگ کی وجہ سے پاکستان میں موجود ایک غیر ملکی سفارت خانے نے جس کے تجارتی مفادات پاکستا ن میں ہیں ہم سے پاکستان میں موجود ان قوانین  کے حوالے سے رائے لی جن کا اطلاق پاکستانی بندرگاہوں پر ہوتا ہے اور اپنی تجارتی پالیسی  ان قوانین کی روشنی میں مرتب کرنے کے بعد ہمارا شکریہ ادا کیا کیونکہ   غیر ملکیوں کیلئے تجارتی پالیسی میں بندرگاہ سے متعلق قوانین بہت اہمیت رکھتے ہیں
لاء سوسائٹی پاکستان ایک این جی او کا نام ہے جو میں نے اور میرے دوستوں نے عدالتی اصلاحات کیلئے بنائی تھی اور میرے بلاگ کا نام بھی لاء سوسائٹی پاکستان ہے مختصر یہ کہ یہ بلاگ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا  ۔عوام الناس کے سامنے عدلیہ کے حوالے سے بہت کچھ آیا۔کیا مشکلات ہیں وہ پہلی بار سامنے آئیں کئی بار تنقید اس قدر کھل کر ہوئی کہ  اعلٰی عدلیہ میں موجود حمایتی پریشان ہوگئے چند تحاریر پر سندھ ہایئکورٹ  نے اندرونی طور پر نوٹس لیئے گئے 
بلاگ کے زریعے ہمیں معاونین کی ایک بہت بڑی تعداد میسر آئی اور لاءسوسائٹی کا پیغام پوری دنیا میں پھیلا اسی دوران چند ایسے معاونین بھی ملے  جنہوں نے ادارے کے ساتھ معاونت کی میرے ایک امریکہ میں موجود قاری نے بے حد اصرار کے ساتھ مجھے لاء سوسائٹی کے آفس کیلئے جدید ماڈل کے کمپیوٹر ز اور لیپ ٹاپ بھیجے   یہ ہر لحاظ سے حیرت انگیز ہے  اسی دوران ایک امریکی ادارے نے اسکالر شپ کے حوالے سے ہی میرے ایک امریکہ میں موجود قاری کے توسط سے رابطہ کیااس کے علاوہ  اردو بلاگ کے قارئین  کی کثیر تعداد کتابوں کے تحائف بھیجتی ہے اس کے علاوہ اردوزبان سے محبت رکھنے والی بعض ملٹی نیشنل کمپنیاں اردو کی ترویج اور اشاعت کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں اس حوالے سے انہوں نے بھی رابطے کیئے ہیں
ایک سال کے عرصے میں پوری دنیا میں موجود قارئین کی بہت بڑی تعداد نے ہم سے بہت سی توقعات وابستہ کرلی ہیں کبھی کبھی احسا س ہوتا ہے کہ شاید ہم ان توقعات پر پورا نہ اتر سکیں
آج قارئین کی بہت بڑی تعداد جو دنیا بھر میں موجود ہیں جو لاء سوسائٹی پاکستان کے بلاگ کو پڑھتی ہے  اور اپنا ردعمل دیتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو بلاگ کو اپنا دائرہ مزید وسیع کرنا ہوگا
تجارتی دھارے میں لائے بغیر مستقل بنیادوں پر اس کو جاری رکھنا ناممکن تو نہیں مشکل ضرور  ہوگا
گزشتہ شب افطار ڈنر کے دوران مجھے احساس ہوا کہ اردو بلاگرز کے گروپ میں  اضافے کی ضرورت ہے  ہر طبقہ فکر کی نمائیندگی ہونی چاہیئے  خواتین بلاگرز کی کراچی میں فعال نمائیندگی کی ضرورت ہے سوشل سیکٹر کے لوگوں کی ضرورت ہے
جس قدر وسیع تجارتی میدان اس شعبے میں موجود ہے اس سے تجارتی بنیادوں پر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے جب مالی مفادات منسلک ہونگے تو  دوست پروفیشنل بنیادوں پر اردو بلاگنگ میں زور آزمائی کریں گے نئے باصلاحیت لوگ سامنے آئیں گے بڑے میڈیا گروپس کے ساتھ نیٹ ورک بنانا ضروری ہوگیا ہے کیونکہ ان کا اپنا دائرہ کار ہے   پرنٹ میڈیا میں ایک خلاء پیدا ہوچکا ہے بڑے بڑے لکھاری اپنے روایتی اخبارات چھوڑ کر جاچکے ہیں  اسی دوران ان کا ٹیمپو بھی ٹوٹ چکا ہے ، پہلے جیسی بات نہیں رہی اور اردو صحافت کو اس وقت شدید ضرورت ہے کہ نئے لوگ سامنے آئیں  قارئین بے چینی سے منتظر ہیں کہ کوئی نیا نام سامنے آئے جو افکار و خیالات سے دھوم مچادے جس کے قلم کی دھار عوام کے جذبات کی نمائیندہ بن جائے
وہ کمی اردو بلاگرز  اپنی شرائط کے ساتھ پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پاکستان میں اردو بلاگنگ ایک حقیقت ہے  اور کئی اردو بلاگرز بہت اچھا لکھتے ہیں  اور مکمل بے ساختگی کے ساتھ لکھتے ہیں لیکن اس کو تجارتی بنیادوں پر منوانے کی ضرورت ہے  اردو بلاگرز کو میرا مشورہ ہے کہ  کم ازکم کراچی کی سطح پر اپنی ایسوسی ایشن تشکیل دیں ایک باقاعدہ  آفس  کی بنیاد رکھیں جس میں پروفیشنل بنیادوں پر اردو بلاگرز کو سامنے لانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے
پاکستان کے  چند بڑےتجارتی ادارے اس شعبے میں اسپانسر شپ کرنا چاہتے ہیں لیکن اسپانسر شپ حاصل کرنے کیلئے بعض اہم شرائط پوری کرنا تجارتی نقطہ نظر سے ضروری ہیں جن میں سب سے اہم ترین شرط ادارے کا رجسٹرڈ ہونا اور ادارے کی مستقل پالیسیوں کا موجود ہونا ضروری ہے جس کی روشنی میں کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی اپنے تجارتی مفادات کو سامنے رکھ کر معاہدہ کرتی ہے  امید ہے دوست اس پر غور کریں گے  
افطار ڈنر کا شکریہ  رائے دیتے ہوئے کچھ ناگوار گزرا ہو تو معذرت 

Saturday, 26 July 2014

پانچ روپے دے کر پھر چھین لوگے


آج سے چند سال ہی پرانی بات ہے سٹی کورٹ میں ایک لڑکا آتا تھا اس کی آواز بہت ہی پیاری تھی وہ کراچی بار کی کینٹین میں وکلاء کے ساتھ آجاتا اور وہاں اس سے  وکلاء گانے سنتے تھے اور داد دیتے تھے  اس کے بدلے میں ایک کپ چائے اور کھانا کھلادیتے تھے   نوجوان وکلاء  کا ایک گروپ روزانہ وعدہ کرتا کہ پانچ روپے دیں گے لیکن گانا سننے کے بعد وہ اس سے پانچ روپے بھی واپس لے لیتے تھے  کیونکہ ان کا اپنا ہاتھ بھی تنگ تھا اس طریقے سے بھی اس کی اچھی خاصی آمدن ہوجاتی تھی  کیونکہ اور وکلاء بھی پیسے دیتے تھے
پھر ایک دن وہ لڑکا غائب ہوگیا وہ ایک نہایت ہی باصلاحیت لڑکا تھا اس کی آواز کا معیار انٹرنیشنل معیار کا تھا لوگوں نے قدر تو کی لیکن اپنی حیثیت کے مطابق کی
وہ اس گروپ کا بھی احسان مند تھا جو اس سے پانچ روپے دینے کا وعدہ کرتے تھے لیکن پورا نہیں کرتے تھے کیونکہ انہوں نے ہی اس کو اس کینٹین میں متعارف کروایا تھا
اس گروپ کا ایک ممبر میرا دوست ہے کل اس نے مجھے یہ سارے واقعات فلم کی طرح سنائے کیونکہ 1998 میں ہم بار کے ممبر نہیں تھے کہ وہ ایک لڑکا تھا بہت اچھا تھا ہمیں گانے سناتا تھا آواز بہت پیاری تھی ہرروز آتا تھا ہم صرف چائے پلاتے تھے اور میرا ایک ساتھی پانچ روپے کاوعدہ کرکے واپس لے لیتا تھا وہ بہت کہتا تھا یار ایسا نہ کرو
بعض اوقات ضرورت انسان کو کتنا مجبور کردیتی ہے اور بڑے بڑے باصلاحیت افراد کو کیسے کیسے کام کرنے پر مجبور کردیتی ہے اور ضرورت مند انسان جب انسان کے ہتھے چڑھ جائے تو پھر انسان تو ظالم ہی ہے ناں 
میرے دوست نے کہا یار کل ایک عجیب معاملہ ہوا کلفٹن سے جارہا تھا کہ ایک نئے ماڈل کی کار میرے پیچھے لگ گئی بہت جان بچائی لیکن اس نے بالآخر مجھے ایک  جگہ گھیر ہی لیا اور میرے آگے کار کھڑی کردی میں اس صورتحال سے پریشان ہوہی رہا تھا کہ اس کار کی فرنٹ سیٹ پر ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہوا مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ مجھے جانا پہچانا سا لگا تو اس نے کہا وکیل ساب پہچانا نہیں  میں نے شرمندگی کے احساس کے ساتھ اس کو پہچانا یہ تو وہی لڑکا تھا
اس نے کہا آپ کو میں نے بہت تلاش کیا آپ ملے ہی نہیں کیونکہ میرا دوست اسی دوران  1999 میں اعلٰی تعلیم کیلئے بیرون ملک چلا گیا تھا  اس نے کہا آج آپ کو سگنل پر پہچانا بہرحال مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ مجھے یہ تو میڈیا کے زریعے پتہ چل گیا تھا کہ وہ ایک نامور گلوکار بن چکا ہے لیکن ملاقات پندرہ سال بعد ہورہی تھی لیکن آنکھوں پر پھر بھی یقین نہیں آرہا تھا   وہ مجھ سے مل کر بہت ہی خوش ہورہا تھا روڈ پر ایک مختصر سی ملاقات کرکے جانے لگا تو میں نے کہا کبھی آؤنا بار میں اس نے ہنس کہ کہا کہ مجھے پتہ ہے تم لوگ مجھے پانچ روپے دے کر پھر چھین لوگے یہ کہہ کر وہ چلاگیا  
یااللہ کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے مجبور نہ کرنا  یہ انسان دنیا کا سب سے ظالم درندہ ہے
اس نوجوان کو آج پورا پاکستان رحیم شاہ کے نام سے جانتا ہے   میں یہ واقعہ شیئر نہ کرتا اگر رحیم شاہ نے خود شیئر نہ کیا ہوتا 

Thursday, 24 July 2014

کامران خان کی جنگ گروپ سے علیحدگی


پاکستان میں تحقیقاتی صحافت کی بنیاد رکھنے والے معروف صحافی کامران خان نے آج جیو چینل کو خیرآباد کہہ دیا ان کا آخری شو بھی یادگار رہا اور انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ جیو چینل سے وابستگی کو اچھے الفاظ میں یاد کیا
کامران خان کو اللہ تعالٰی نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے اور میں نے ہمیشہ انہیں ایک ذمہ دار صحافی کے طور پر دیکھا ہے اگرچہ بے شمار مواقع پر ان کی ذاتی رائے کو تحقیقاتی صحافت پر غلبہ پاتے ہوئے بھی دیکھا ہے جو کہ ہرانسان کے ساتھ منسلک ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود مجموعی طور وہ ذمہ دار صحافی ہیں اور ان کی گھن وگرج کے ساتھ مخصوص آواز ہمیشہ حکمرانوں کیلئے ایک خطرہ رہی ہے اور پاکستانی عوام ان کی رپورٹنگ اور ان کے انداز کو پسند کرتے ہیں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے جیو نے جس رویئے کا انتخاب کیا وہ غلطی پر مبنی تھا جیو گزشتہ کچھ عرصے سے صحافیانہ بددیانتی بھی کررہا تھا جو کہ جنگ گروپ جیسے ادارے کیلئے مناسب نہیں تھا اور چینل کی غلط پالیسیوں کو ان کے قارئین بھی کافی دنوں سے محسوس کررہے تھے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اردو صحافت کا قبل فخر ادارہ بے شمار اندرونی اور بیرونی مسائل کا شکار ہوچکا ہے  قانونی جنگ سے ہمیشہ جان چھڑانے والا ادارہ جنگ اس وقت قانونی جنگ کا شکار ہے اور اس کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ اس کے قانونی مشیروں کی ٹیم لے جاتی ہے اور یہ قانونی جنگ پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں جیو اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کاپی رائٹ جیسے حساس قانونی مسئلے کا شکار ہے اگرچہ پاکستان میں ان کا قانونی مشیر سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری تھا جنہوں نے چیف جسٹس پاکستان ہونے کے باوجود جنگ کے قانونی مشیر کے طور پر کام کیا اور ان کے مفادات کے تحفظ کیلئے ادارے کی بے لوث خدمت کی اور ممکنہ طور پر نیئے آنے والے چینل "بول" کا راستہ روکنے کی جنگ کی کوششوں میں ان کا بھرپور ساتھ دیا لیکن افتخار محمد چوہدری کے جاتے ہی یہ معاملہ ختم ہوگیا اور شاید نیا چیف جسٹس جنگ کا قانونی مشیر نہیں ہے لیکن   موجودہ سپریم کورٹ کے بنچ میں ان کے قانونی مشیر موجود ہیں جو جنگ گروپ کیلئے میچ فکس کرتے ہیں  لیکن  افتخار محمد چوہدری کے جانے کے بعد ایک خلاء پیدا ہوگیا ہےجس کی وجہ سے تمام میچ فکس نہ ہونے کی وجہ سے جیو اب پاکستان  میں بھی قانونی جنگ ہاررہا ہے  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح کامران خان چھوڑ کر چلا گیا ہے اسی طرح افتخار محمد چوہدری کے جان نشین  نے بھی کسی اور ادارے کے قانونی مشیر کے طور پر کام شروع کردیا ہو جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہی پوزیشن ہے سب سے اہم ترین کاپی رائٹ کے چند مقدمات امریکہ میں چل رہے ہیں جہاں ادارے کی پوزیشن کمزور ہے
یہی وجہ ہے کہ وہ صحافی جو روزنامہ جنگ کے ساتھ رہنا قابل فخر سمجھتے تھے وہ تیزی سے ادارہ چھوڑ کر جارہے ہیں اور ادارے نے مبشر لقمان جیسے گھٹیا انسان کو منہ لگا کر اپنے آپ ذلت کے اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں مبشر لقمان کھڑا ہے
بدقسمتی سے ایک پورے ادارے جنگ اور مبشر لقمان کی ساکھ برابر ہوچکی ہے جب ایک بہت بڑی  صحافتی ایمپائر کا درجہ پاکستان کے سب سے گھٹیا صحافی  کے برابر ہوجائے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ادارہ اب کہاں کھڑا ہے

Wednesday, 23 July 2014

قانونی تنازعات کا متبادل حل تحریر مس عشرت سلطان

دستگیر لیگل ایڈ سینٹر ایک طرف تو تشدد کا شکار خواتین کو بھرپور قانونی امداد فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف ہماری یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ فریقین کے فیملی تنازعات کو بات چیت کے زریعے حل کرکے خاندان کو بکھرنے سے بچایا جاسکے
دنیا بھر میں آج کل کوشش کی جارہی ہے کہ تنازعات کو عدالت سے ہٹ کر متباد ل طریقوں سے حل کیا جائے اس سلسلے میں ہم نے ایک کامیاب کوشش گزشتہ دنوں کی جب ایک لڑکی اپنا تنازعہ لیکر ہمارے پاس دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں آئی اس کا تنازعہ یہ تھا کہ اس کی شادی اس کے کزن سے ہوئی تھی شادی کے پہلے دن ہی لڑکی پر یہ انکشاف ہوا کہ اس شادی کیلئے شوہر کی رضامندی نہیں تھی بلکہ اس نے والدین کے کہنے پر شادی کی ہے  شادی کے چند ماہ بعد ہی تنازعات اس قدر بڑھ گئے کہ لڑکی اپنے والدین کے پاس چلی گئی اور اس کے شوہر نے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ وہ  حالات کی خرابی کی ذمہ داری اپنے سر لیکر طلاق لے  لڑکی کا مؤقف یہ تھا کہ اگر اس کا شوہر اس کوطلاق دینا چاہے تو بے شک دے دے لیکن اس کیلئے یہ الزام ہی ناقابل برداشت تھا کہ طلاق کی وجہ خود لڑکی کا رویہ ہے اور دستاویزات کے زریعے وہ خود قبول کرلے کہ وہ ایک اچھی بیوی نہیں بلکہ ایک جھگڑالو عورت تھی اسی دوران اس کے شوہر کے وکیل نے اس لڑکی کو ایک لیگل نوٹس بھی بھجوادیا جو کہ  ایک دھمکی آمیز نوٹس تھا اس میں لڑکی کو واضح دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے دستاویزات پر دستخط نہ کیئے جن کی رو سے وہ لڑکی ایک جھگڑالو قسم کی خاتون ہے اور اس کی غلطیوں کی وجہ سے حالات طلاق تک پہنچ گئے تو اس کے خلاف تھانے میں ایک ایف آئی آر بھی درج کروائی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے اس لڑکی کے اہل خانہ سخت پریشان تھے دستگیر لیگل ایڈ سینٹر سے جب اس لڑکی نے رابطہ کیا تو وہ لڑکی سخت خوفزدہ تھی لیکن سینٹر میں موجود نفسیاتی ماہر نے اس لڑکی کو نفسیاتی سیشن  کے زریعے یہ یقین دلایا کہ اس کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور اس کی ہرسطح پر قانونی معاونت کی جائیگی
جس کے بعد اس مسئلے کے حل کیلئے اس لڑکی کے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کیا جس کے بعد دستگیر لیگل ایڈ سینٹر  نے  اپنے وکلاء کے زریعے ان لیگل نوٹسز کا جواب دیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ  بیوی کی کفالت شوہر کا حق ہے اور وہ اس کے نان ونفقے کا ذمہ دار ہے دوسری طرف اگر وہ طلاق دینا چاہے تو اس کو بیوی کے وہ تمام حقوق  بمعہ حق مہر بھی اداکرنے ہونگے اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ کسی قانون کے تحت بھی وہ اس وجہ سے اپنی بیوی کے خلاف ایف آئی آر نہیں درج کرواسکتا کہ اس کی بیوی طلاق کے ان دستاویزات پر دستخط نہیں کررہی جو اس کی کردار کشی پر مبنی ہیں جس کے بعد اس کا شوہر بات چیت پر آمادہ ہوئے پہلے سیشن میں کوشش کی گئی کہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے اور اگر غلط فہمیاں ہوں تو دور ہوجائیں لیکن  بدقسمتی سے یہ سیشن ناکام رہا  لڑکے نے واضح کردیا کہ وہ شادی کیلئے صرف والدین کے دباؤ کی وجہ سے راضی ہوا تھا  اور وہ اپنی مرضی سے کسی اور جگہ شادی کرنا چاہتا ہے میں نے اس کو یہ کہا کہ کاش وہ شادی  کے وقت ہی ہمت کرلیتا  اور والدیں کو منع کردیتا  تو آج ایک لڑکی کی زندگی برباد نہ ہوتی  اور اس کے لیئے بھی مسائل پیدا نہ ہوتے۔جس کے بعد علیحدگی کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور فریقین کی مشاورت سے یہ طے پایا کہ دونوں فریقین ایک دوسرے پر طلاق کی ذمہ داری ڈالنے کی بجائے ایک قانونی طلاق  نامے کے زریعے علیحدگی اختیار کریں گے  طلاق نامہ کی تحریر قانونی ہوگی جس  میں کوئی الزام نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اس کے شوہر نے موقع پر ہی حق مہر ادا کیا اور عدت پیریڈ کے دوران کے اخراجات ادا کردیئے اس کے علاوہ اس کی اہلیہ جتنا عرصہ  اپنے والدین کے گھر رہی اس کے اخراجات ادا کرنے کا اس نے وقت لیا کہ وہ تین ماہ کے دوران ادا کردے گا جبکہ لڑکی کا جہیز بھی مشاورت اورسامان کی  لسٹ پر اتفاق کے بعد واپس کردیا گیا اور بوقت تحریر جہیز کی واپسی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اس پورے عمل پر صرف ایک گھنٹہ لگا دونوں فریقین کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا اور بات چیت کی وجہ سے دونوں فریقین میں جو قانونی جنگ جاری تھی وہ بھی ختم ہوگئی
اگر فریقین عدالت میں جاتے تو ناقابل برداشت حد تک وقت ضائع ہوتا اور فریقین کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا
ایک گھر ٹوٹنے کا بہت افسوس ہے ۔
اگر فریقین بات چیت پر آمادہ ہوں تو مسائل کے حل کیلئے (اے ڈی آر) ایک بہترین طریقہ کار ہے  دستگیر لیگل ایڈ سینٹر اس حوالے سے کوشش کررہا ہے کہ جو معاملات عدالتوں میں سالہا سال الجھے رہتے ہیں  وہ اس طریقہ کار کے زریعے حل کرے اس میں فریقین کا وقت اور پیسہ دونوں بچتے ہیں
ذیل میں تنازعات کے حل کے طریقہ کار کا  ایک مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے

تنازعہ کی متبادل تدبیر کیا ہے؟
تنازعہ کی متبادل تدبیر [Alternative Dispute Resolution (ADR)] میں تنازعات کو نمٹانے اور حل کرنے کے لئے بہت سارے مختلف طریقے استعمال کرنا شامل ہوتا ہے۔
لوگ مختلف قسم کے تنازعات میں ملوث ہوتے ہیں۔ عدالت کا سہارا لینا تنازعہ کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ تاہم، اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور کافی زیادہ رقم کی لاگت آسکتی ہے۔ لوگ کمرۂ عدالت سے باہر تنازعات کو تیزی سے اور کم خرچ پر حل کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

ADR کے بہت سارے دستیاب اختیارات کے ساتھ، آپ اپنی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بہترین طریقہ منتخب کرسکتے ہیں۔ مثلاً، آپ کسی بچے کی تحویل کا تنازعہ نمٹانے کے لئے ایک طریقہ منتخب کرسکتے ہیں جبکہ اپنی بلدیہ کے ساتھ ملازمت کا مسئلہ یا کوئی تنازعہ نمٹانے کے لئے کوئی مختلف طرز عمل اپنا سکتے ہیں۔

Sunday, 20 July 2014

کیا عدلیہ تفتیش میں مداخلت کرسکتی ہے

ہمارے سامنے ایک بہت بڑی  مثال موجود ہے جس کے ذریعے پاکستان کے جوڈیشل سسٹم میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکتی ہے  لندن میں رہائیش پذیر ایک پاکستانی شہری پر  ایک پاکستانی نژاد شہری ڈاکٹر عمران فاروق  کے قتل کا الزام ہے اسکاٹ لینڈ یارڈ اس معاملے کی تحقیق کررہا ہے لیکن انہوں نے آج تک اس پاکستانی شہری کو جو ایک سیاستدان بھی ہے کو اس کیس میں گرفتار نہیں کیا۔ بلکہ صرف تفتیش کی ہے وہ بھی مقررہ وقت کے اندر معاملہ عدالت تک نہیں گیا لیکن  لندن پولیس نے اس پاکستانی شہری کو لندن شہر  سے باہر جانے پر پابندی لگادی ہے نہ ہی وہ ملک چھوڑ کر جاسکتا ہے پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بیان کیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کرنے والے تھے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ان کی فیس بک کی آئی ڈی پر بے شمار رابطے موجود تھے وہ اپنی سابقہ سیاسی جماعت چھوڑ چکے تھے اسی تفتیش کے عمل کے دوران مذکورہ سیاسی رہنما کے گھر  قانونی تقاضے پورے کرکے چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے بہت بھاری مقدار میں کرنسی برآمد ہوئی جس کی وجہ سے وہ منی لانڈرنگ  کیس کا  الگ سے سامنا کررہے ہیں پولیس کو تفتیش کرنے سے چھاپے مارنے سے عدالت نے آج تک نہیں روکا کیونکہ پولیس قانونی تقاضے پورے کرکے تفتیش کررہی ہے اس لیئے کسی عدالت کو حق نہیں پہنچتا کہ تفتیش میں مداخلت نہ کرے اور ڈاکٹر عمران کی بیوی کا کردار بھی ایک گواہ کا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں
یہ ایک اعصاب شکن قانونی جنگ ہے اور پولیس نے پاکستانی نژاد سیاستدان کو اعصابی طور پر توڑ کے رکھ دیا ہے  تفتیش جاری ہے اور پولیس کو ایسے ثبوت کی تلاش ہے جس کے ذریعے وہ  ملزم کو سزا  دلواسکے عدالت پولیس کو حکم نہیں دے سکتی کہ اس شہری کو بیرون ملک جانے دیا جائے  یا گرفتار کیا جائے اگر برطانوی عدالت ایسا حکم جاری کرتی ہے تو  ایسا حکم تفتیش میں مداخلت تصور ہوگا اور عدالت کو تفتیش میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں  پولیس کافی محتاط ہے وہ صرف تفتیش کرتی ہے گرفتار نہیں کرتی پولیس شواہد تلاش کررہی ہے ملزم تو سامنے موجود ہے سارا زور ملزم کی گرفتاری پر نہیں ہے بلکہ شواہد کی تلاش پر ہے پولیس نے کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا نہ ہی کسی کیمرے والے کی جرات ہے کہ وہ تفتیشی افسر کے سامنے اپنا کیمرہ  اور مائک رکھ کر اس سے تفتیش شروع کرسکے کیا تصور کیا جاسکتا ہے کہ کوئی نیوز چینل والا اسکاٹ لینڈ یارڈ کے  اندر کیمرہ لیکر چلا جائے اور کیس کے تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کرسکے اور اس کی "دھلائی" کرسکے کہ ملزم کو کیوں نہیں گرفتار کیا گیا
پاکستان میں کیا ہوتا ہے ملزم پہلے گرفتار کرلیئے جاتے ہیں ثبوت بعد میں تلاش کیئے جاتے ہیں  فرض کیا ایک لڑکی گھر سے غائب ہوگئی یا اغوا ہوگئی والدین نے نامعلوم افراد کے خلاف  ایف آئی آر داخل کروادی پولیس  نے تفتیش کی  ایک شخص کو تفتیش میں شامل کیا گیاپولیس تفتیش24 گھنٹے میں مکمل نہ کرسکی تو اس کا ریمانڈ لینے کیلئے کورٹ پہنچ گئی یہاں ہرصورت میں پولیس کو عدالت کے سامنے وہ وجوہات بیان کرنی ہونگی جن کی بنیاد پر ملزم کو حراست میں لیا گیا اس سے تفتیش کی گئی تھی اور اب وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ملزم کو باقاعدہ گرفتار کیا جاچکا ہے وہ کونسے شواہد پولیس کے پاس موجود ہیں جن کی بنیاد پر گرفتاری کی گئی پولیس پابند ہے عدالت کے سامنے وہ وجوہات بیان  کرنے کی جن کی بنیاد پر ایک شخص کو اس کی شخصی آزادی سے محروم کیا جاچکا ہے مجسٹریٹ کا یہ سوال ہرگز تفتیش میں مداخلت تصور نہیں ہوگا کیونکہ یہ بنیادی سوال ہے جو لندن کی عدالت  میں بیٹھا ہوا مجسٹریٹ ،امریکہ فرانس اور ہر ترقی یافتہ ملک کا مجسٹریٹ  کسی شخص کو اس شخصی آزادی سے  محروم کرنے سے پہلے پولیس سے پوچھتا ہے کہ وہ وجوہات بتاؤ کہ جس کی  بنیاد پر اس شخص  کو گرفتار کیا گیا ہے یہ کامن سینس پر مبنی سوال ہرگز تفتیش میں مداخلت نہیں ہے۔مداخلت یہ ہے کہ فلاں شخص کے خلاف ثبوت موجود ہے اس کو گرفتار مت کرنا فلاں شخص سے اس کیس کے حوالے سے تفتیش مت کرو بلکہ فلاں کو گرفتار کرو
مداخلت کا تصور ہی غلط ہے  ہمارے وکلاء اور ججز کریمنالوجی نہیں پڑھتے جس کی وجہ سے ان کا بنیادی نقطہ نظر ہی کلیئر نہیں ہوتا  تفتیش کے بنیادی اصول نہایت گہرے ہیں نہایت ہی پیچیدہ ہیں ان کو سمجھنے کیلئے خدادا صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ثبوت کے بغیر ملزم کی گرفتاری سے مقدمہ کمزور ہوجاتا ہے تفتیش تباہ وبرباد ہوجاتی ہے لیکن اگر ان اصولوں کی سوجھ بوجھ نہ بھی ہوتو کامن سینس کا استعمال بھی اہم ہوتا ہے  
بعض اوقات تفتیش سالہا سال جاری رہتی ہے لیکن جب ملزم کو شخصی آزادی کو پولیس سلب کردیتی ہے تو پولیس کیلئے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر مجسٹریٹ کی عدالت میں پولیس رپورٹ جمع کروائے  جس کی وجہ سے بھی تفتیش کا عمل تباہ و برباد ہوجاتا ہے کیونکہ پولیس گرفتاری کے بعد ثبوت تلاش کرتی ہے دوسرا ہمارا کلچر بن چکا کہ ہمارا میڈیا کیسز پر اثرانداز ہوتا ہے پولیس بھی بدعنوان ہے   اگر عمران فاروق کا قتل پاکستا ن میں ہوتا تو میڈیا کی ساری توجہ گرفتاری پر ہوتی ملزم گرفتار ہوتا  اس کا ریمانڈ ہوتا اسی دوران اس کو جیل بھیج دیا جاتا چند روز بعد اس کی ضمانت ہوجاتی  اس دوران  پولیس کیلئے لازمی ہوجاتا کہ  وہ پولیس رپورٹ کورٹ میں جمع کروادیں جس کے بعد پورا کیس ہی ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتا  پولیس روایتی قسم کے گواہ پکڑ کر لے آتی جو دوران  ٹرائل کے دوران منحرف ہوجاتے معاملہ ہی ختم  اسی دوران عدالت پر الزام لگا دیئے جاتے کہ اس نے ملزم کو چھوڑ دیا رہا کردیا  لیکن عدالت مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک بنیادی غلطی کرکے بیٹھی ہوتی ہے کہ اگر مشینی انداز میں ریمانڈ نہ دیئے جائیں تو پولیس ثبوت  کے بغیر ملزم گرفتار ہی نہیں کرے گی پولیس کو تفتیش سے کس نے روکا ہے وہ تفتیش کرے بار بار کرے ملزم کے خلاف ثبوت تلاش کرکے لائے اور جب  ایسے ثبوت جمع ہوجائیں تو ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردے عدالت چاہے تو ملزم کو ضمانت پررہا کردے جیسا کہ  پوری دنیا میں ہوتا ہے سارا زور ٹرائل پر ہونا چاہیئے نہ کہ ملزم کو جیل میں سڑانے پر
یہاں کسی بنیادی اصلاح کی بھی ضرورت نہیں ہے تفتیش کے دوران جدید تیکنیکس اپنانے  کی بھی ضرورت ہے جب ملزم پر چارج فریم کردیا جائے تو اس کا مطلب یہی ہونا چاہیئے کہ ایسی شفاف تفتیش ہوئی ہے کہ ملزم کا سزا سے بچنا ناممکن ہے
ملزمان کی عدالتوں سے رہائی کا رجحان بہت ہی زیادہ ہے 97  فیصد کیا یہ بات ثابت نہیں کرتا کہ جو فرد جرم عائد کی گئی وہ بے جان تھی
جب تک فرد جرم جاندار نہیں ہوگی اس وقت تک ملزم کو سزا نہیں مل سکتی اور فرد جرم میں جان کیسے آئے گی جب مجسٹریٹ کے سامنے ریمانڈ پیش کیا جائے گا تو وہ  اس شخص کی شخصی آزادی ختم کرنے سے پہلے اس کو جیل ریمانڈ یا پولیس ریمانڈ پر بھیجنے سے پہلے  وہ ساری مناسب وجوہات قلمبند کرے گا جن کی وجہ سے اس شخص کو جیل بھیجنا ضروری تھا
یہاں میں یہ بات اضافی طور پر لکھ دوں کے پاکستان بھر کی بار ایسوسی ایشنز میں قدیم عدالتیں اور بار کی لایئبریریوں میں قانون کی قدیم  کتابیں اور عدالتی فیصلہ جات موجود ہیں   اگر کسی طالبعلم کو موقع ملے تو مطالعہ کرے  نہایت ہی باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا تھا کہ عدالت کے سامنے جب تک وہ مناسب وجوہات موجود نہیں ہونگی اس وقت تک کسی بھی شخص کو پولیس ریمانڈ یا جیل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
کامن سینس کا استعمال ہر گز تفتیش میں مداخلت نہیں ہے عدلیہ کی جانب سے تفتیش میں مداخلت کا لفظ ہی غلط ہے  پولیس افسر  پابند ہے کہ وہ مناسب وجوہات بیان کرے جن کی بنیاد پر ملزم کو حراست میں لیا گیا اور مجسٹریٹ بھی جیل بھیجتے وقت یا حراست پولیس کے حوالے کرتے وقت  اگر وہ مناسب وجوہات لکھ دے تو جن کی بنیاد پر کسی شخص کی شخصی آزادی سے محروم کرکے اس کو قید میں رکھنا ضروری تھا تو کافی مسائل حل ہوجائیں جب فرد جرم  مضبوط ہوگی اور شواہد ٹھوس ہونگے تو ملزم کیوں نہیں کیفر کردار تک پہنچے گے
جب برطانیہ جیسے ملک میں جہاں اسکاٹ لینڈ یارڈ جیسی  دنیا کی نمبر ون تفتیشی  ایجنسی کی موجودگی میں ایک قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا تو پاکستان میں بھی ضروری نہیں کہ کسی شخص کو گرفتار کیا جائے  وہ بھی شواہد کے بغیر
عدلیہ کی تفتیش میں مداخلت ایک قدیم بحث ہے ترقی یافتہ ممالک نے اس بحث پر قابو پا کر  اپنے عدالتی نظام کو اس بنیاد پر استوار کرلیا ہے کہ جب عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کردی جائے تو ملزم کسی صورت سزا سے بچ نہیں سکتا

جب کہ ہم اس بحث میں الجھ کر 97 فیصد کیسز میں ملزمان کی رہائی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں


Friday, 18 July 2014

ارادے کی پختگی


وکالت کے شعبے میں ارادے کی پختگی بہت اہمیت رکھتی ہے۔اگر آپ کو اپنی کامیابی کا یقین ہے تو آپ ضرور کامیاب ہونگے۔بہت سے دوست کلائینٹ کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کو پورا نہیں کرتے جس کا انہیں نقصان پیشہ ورانہ طور پر ہوتا ہے میں نے ایک دوست کو گزشتہ چند سال کے دوران ترقی کی بے شمار منازل طے کرتے ہوئے دیکھا ایک چھوٹے سے آفس سے ایک شاندار انٹرنیشنل معیار کے آفس میں جاتے ہوئے دیکھا  گزشتہ دنوں ان کے آفس میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ایک تو کام سیکھنے کی لگن تھی دوسرا اچھا سینئر بھی مل گیا جس کی ہرحال میں عزت کی اگر سخت الفاظ بھی کہے تو برداشت کرلیئے جو کام  سینیئر کی جانب سے ملا وہ وقت پر کیا اسی دوران ان سے یہ بھی سیکھا کہ انہوں نے لاء فرم کس طرح سے بنائی ہے ان کی آفس کی ریکارڈ کیپنگ کی بنیاد کیا ہے جو کیس لے لیا چاہے چھوٹا ہو یا بڑا فیس کم لی یا زیادہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا کلائینٹ کے اعتماد کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا یہی وجہ ہے کہ آج زیادہ تر کیسز وکلاء ریفر کرتے ہیں
انہوں نے بتایا کہ ایک کیس 1996 میں ملا تھا  کلایئنٹ کی جرح کے بعد اس سے رابطہ بھی نہ ہوا میں نے سولہ سال اس کیس کو چلایا اور سولہ سال بعد اس کیس کو جیتا تو میرے پاس کلایئنٹ کا نمبر تک نہیں تھا مختصر یہ کہ اس کے ایڈریس پر رابطہ کرکے اس کو اطلاع دی جس کے بعد جب وہ ملے تو بےتحاشا خوش تھے ایک تو جس جائیداد کے حصول کیلئے کیس داخل کیا تھا وہ اس کو بھول بھال چکے تھے ان کیلئے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ ایک وکیل نے کیس کی مکمل فیس لینے کے بعد سولہ سال تک کیس چلایا اس کے باوجود کے انہوں نے کبھی رابطہ نہیں کیا کیونکہ وہ تو بھول بھال چکے تھے ایک تو اس نے مزید فیس ادا کی مزید یہ کہ اس نے مزید کیسز مجھے دیئے اور اپنے ذاتی تعلقات کے زریعے مجھے کیسز دلوائے اس ایک کیس کے زریعے مجھے لاکھوں روپے کا فائدہ ہوا
اس کے علاوہ اگر ہم دیکھیں تو ایک اور چیز ہوتی ہے ایک معیار بنانا جس وکیل نے وکالت کے پیشے میں ایک معیار بنایا وہ ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے لیکن اپنے ہی قائم کردہ معیار کے مطابق ہی کامیاب ہوگا
جب کالج سے ہم فارغ ہوکر عدالت میں آئے تھے تو چند دوست ایسے بھی تھے جنہوں نے فائینل ائیر کے دوران ہی کسی نہ کسی لاء کمپنی کو جوائن کرلیا تھا اور چند ایک کے پاس وکالت کا لائیسنس بھی موجود تھا ایک دن ہم کراچی کے ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے سامنے کھڑے تھے تو ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ اس نے ضمانت کے کاغزات کورٹ سے نکلوانے ہیں اگر آپ تصدیق کردیں تو میں 200 روپے آپ کو ادا کروں گا ہم سب دوستوں نے تو اس سے صاف صاف منع کردیا کہ ہم 200 والا کام کرتے ہی نہیں ہیں  وہ واپس جانے لگا تو ہمارے ساتھ ایک لڑکی کھڑی تھی اس نے اس شخص کو آواز دے کر بلایا  اور کہا چلو میں تصدیق کردیتی ہوں  اگرچہ وہ لڑکی باصلاحیت تھی اور دوستوں کو یقین تھا کہ وہ کسی اچھی پوسٹ پر آئے گی لیکن جیسے ہی اس نے اپنے معیار پر کمپرومائز کیا مجھے یقین ہوگیا کہ شاید اب ایسا ممکن نہ ہو اور وہی ہوا اس دن کی محفل میں موجود وہ تمام دوست جنہوں نے وہ 200 والا کام نہیں لیا تھا  وہ اعلٰی عہدوں پر پہنچے اور اس لڑکی نے بعد ازاں کورٹ محرروں کے ساتھ پریکٹس کی تھانوں کے بدنام زمانہ کورٹ محرر اس کو دیہاڑی والے کیسز دیتے تھے جس  ایک تو اس کی ساکھ شدید متاثر ہوئی دوسرا اس نے کوئی ترقی نہ کی
ترقی اللہ کی ذات دیتی ہے لیکن ہم اپنا معیار خود بناتے ہیں اور ہم جو معیار بنالیتے ہیں اللہ اسی حساب سے ترقی کے دروازے ہم پر کھول دیتا ہے جو لوگ دھوکہ دہی کا راستہ اپناتے ہیں وہ پوری زندگی دھوکے ہی دیتے ہیں
جووکیل سنجیدگی سے وکالت کرتا ہے قسمت اچھے سینئر کی صورت میں مہربان ہوجائے تو ان کی زندگی ہی سنور جاتی ہے
لیکن ارادے کی پختگی ضروری ہے آپ کو خود اس بات کا پختہ یقین ہونا چاہیئے کہ آپ ایک نہ ایک دن کامیاب ضرور ہونگے آپ کی جیب میں ایک روپیہ بھی نہ ہو تو  اس وقت بھی آپ کو اپنی کامیابی کا کامل یقین ضرور ہونا چاہیئے جو لوگ مایوس ہوجائیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے

آج تو آرگومنٹ ہونگے

نئے نئے وکالت میں آئے تھے تو ایک وکیل صاحب  جن کے بال سفید تھے اور پورا دن ہمیں اپنے مخصوص ٹھکانے پر بیٹھ کر اپنے قصے اور کہانیاں سناتے تھے دیوانی مقدمات کے ماہر تھے  خود ساختہ سینئر تھے اور پروفیسری کے دعوے دار بھی تھے ہمارے ساتھ ایسے ایسے قانونی نکات شیئر کرتے تھے جو ہم نے خواب میں بھی نہیں سنے ہوتے تھے ہم اکثر ان کے ٹھکانے پر جاکر ان کو تلاش کرتے تھے پھر چوہدری صاحب ہمیں اپنے وکالت کے سارے واقعات سناتے تھے اچھے قصہ گو تھے لیکن چائے صرف لڑکیوں کو پلاتے تھے اس کے علاوہ ان کے پاس ایک عدد "گیدڑ سنگھی" بھی تھی  
ایک دن ہمارے پورے گروپ کو کہا کہ کبھی ضمانت کی درخواست پر دلائل دیئے ہیں ہم نے کہا وڈے چوہدری صاحب  ہمیں کیا پتہ کہ ضمانت کیا ہوتی ہے دلائل تو بہت دور کی بات ہیں چوہدری صاحب نے چشمے کو گھما کر چاروں طرف تنقیدی نگاہ سے دیکھا اور فرمانے لگے کیا بنے گا تم نالائقوں کا
کہنے لگے کل ایک ضمانت کی درخواست پر "دھواں دھار آرگومنٹ ہونگے" قانون ڈسکس ہوگا  کیس لاء پیش کیئے جائیں گے سپریم کورٹ کی ایک نئی آبزرویشن سامنے آئی ہے اس پر بات ہوگی کل صبح سویرے کورٹ میں آجانا ہم بھی اس زمانے میں نفلوں کے بھوکے تھے صبح سویرے ہی وڈے چوہدری صاحب کے ٹھکانے پر پہنچ گئے کہ آج "آرگومنٹ ہونگے" مجسٹریٹ  کی عدالت تھی اور 13 ڈی کی ضمانت تھی یاسین کولاچی جج ہوا کرتا تھا ویسٹ کی عدالت تھی  وڈے چوہدری صاحب ہمارے پورے گروپ کے ساتھ کورٹ میں پہنچ گئے جج صاحب نے دیکھتے ہی کہا چوہدری صاحب  ضمانت کی درخواست منظور  کی جاتی ہے آپ تیس ہزار روپیہ  کی ضمانت جمع کروادیں وڈے چوہدری نے کہا ایسے کیسے ضمانت منظور ہوگئی ابھی تو آرگومنٹ ہونگے قانون پر بات ہوگئی سپریم کورٹ کے نئے کیس لاء پیش کیئے جائیں گے اور فیصلہ میرٹ پر کیا جائے آج کورٹ میں ایسے دلائل پیش کیئے جائیں گے جو پہلے کبھی پیش نہیں کیئے گئے
جج صاحب بھی سیدھے سادھے نیک آدمی تھے فرمانے لگے میں نے آپ کی درخواست پڑھ لی تھی ضمانت منظور کی جاتی ہے لیکن وڈے چوہدری صاحب اڑگئے کہ آج تو آرگومنٹ ہونگے
جج صاحب نے کہا ٹھیک ہے شروع کریں
وڈے چوہدری صاحب  نے آرگومنٹ شروع کیئے  یہ قانون وہ قانون یہ کیس لاء وہ کیس لاء  فلاں کلاز فلاں کلاز ایک دلائل کا سمندر تھا جو جاری تھا ریکوری کا قانون ،قانون شہادت کے اوپر بات کی
تھوڑی دیر کے بعد تحسین طلب نگاہوں سے ہماری طرف دیکھتے تھے اور ہم کرتے تھے واہ واہ
خیر دلائل مکمل ہوگئے
جج صاحب نے پوچھا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا اس لیئے ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے پھر جو ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے سارے آرگومنٹ ادھر ادھر ہوگئے چوہدراہٹ ساری ادھر ادھر ہوگئی   جج صاحب سے بحث کی تو فرمانے لگے آپ  نے تو خود کہا تھا کہ میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میرٹ پر یہی فیصلہ آیا
خیر جج صاحب چیمبر میں گئے تو وڈے چوہدری صاحب بھی پیچھے  پیچھے چلے گئے مختصر یہ کہ  منت سماجت کرکے کوئی نہ کوئی حیلہ کرکے ضمانت منظور کروا ہی لی  اس کے بعد وہ خود ساختہ سینئر پتلی گلی سے نکل گئے
کافی سال گزرگئے آج بھی واقعہ کل کی طرح یاد ہے اور دوست جب بھی جمع ہوتے ہیں تو یہ واقعہ ضرور شیئر کرتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ اب تو آرگومنٹ ہونگے

لیکن وڈے چوہدری صاحب باریک لہجے میں جس طرح کہتے تھے کہ  آج تو آرگومنٹ ہونگے ایسا کوئی نہیں کہہ سکتا

Wednesday, 16 July 2014

ضمانت کروانا ایک فن ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں

جہاں تک میں سمجھا ہوں ڈسٹرکٹ کورٹس سے ضمانت کروانا ایک فن ہے قانونی دلائل سے  زیادہ وکیل کی حاضر دماغی زیادہ اہمیت رکھتی ہے  ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب ہیں میرا ان کے سامنے ماضی میں کیس چلانے کا تجربہ کبھی اچھا نہیں رہا وہ ذرا سے کنفیوز ٹائپ ہیں
گزشتہ دنوں ایک ملزم کی ضمانت کروانی تھی میرا تجربہ کہتا تھا کہ ضمانت کے بہت کم امکانات ہیں  قانونی پیچیدگی زیادہ تھی دلائل حق میں بھی تھے اور مخالفت میں بہرحال ضمانت کی درخواست اسی جج صاحب کے پاس لگ گئی  میرا کیس سیریل نمبر 15 پر تھا  لیکن میرے سے پہلے جو وکلاء تھے ایک تو وہ ٹائم بہت لے رہے تھے دوسرا میں محسوس کررہا تھا کہ جو جج کو قانون سکھانے کی کوشش کرتا جج صاحب اس کی وکٹ ہی اڑادیتے تھے مجھ سے پہلے ایک پٹھان وکیل تھا ایک تو وہ نفلوں کا بھوکا تھا دوسرا قانون سکھانے کا شوقین تھا نہ جانے کہاں کہاں سے قانون ڈھونڈ کے لے آیا تھا اور دلائل تھے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے جج کے چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ مرجائے گا اس پٹھان کو ضمانت نہیں دے گا اسی دوران میں بھی ایک فیصلہ کرچکا تھا  میرا نمبر آیا تو میں نے کوئی  بھی کیس لاء پیش نہیں کیا سادہ سے دودلائل دیئے اور تقریباً تین منٹ میں دلائل مکمل کرلیئے
جج صاحب نے کہا جی وکیل صاحب آپ کے مزید دلائل کیا ہیں  میں نے کہا سادہ سا کیس ہے  دلائل بھی سادہ سے ہیں  جج نے فائل کھولی تھوڑا بہت پڑھا ایک پیچیدہ سا قانونی مسئلہ پوچھا میں نے اس کا جواب دیا جج صاحب نے کہا دوپہر میں پتہ کرلینا میں بھی خاموشی سے آگیا میرے ساتھی نے پوچھا کہ جب اتنے بہت سے قانونی حوالے موجود تھے  اور تیاری بھی تھی تو اتنا مختصر کیوں کیا  اور کیس لاء بھی پیش نہیں کیئے یہ کیا حماقت ہے میں نے کہا کہ میں نے ایک رسک لیا ہے جج کو کنفیوز نہیں کیا  میرے ساتھی نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا اسی دوران وہ "نفلوں کا بھوکا پٹھان "وکیل بھی مل گیا اس نے کہا یہ کیا بات ہوئی جب آپ نے فیس لی تھی تو  آپ نے اپنے کلائینٹ کے ساتھ انصاف کرنا تھا تیاری کرکے آنا تھا یہ کیا دومنٹ کے دلائل مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم
کل مصروفیت کی وجہ سے  پتہ ہی نہیں کیا آج پتہ چلا کہ ضمانت  کی درخواست منظور ہوگئی ہے
اور خان صاحب کی وکٹ اڑادی گئی تھی وہ شدید صدمے کی حالت میں تھے ہوسکتا ہے وکلاء میری رائے سے اختلاف کریں لیکن جج کو اتنا ہی قانون پڑھانا چاہیئے جتنا وہ پڑھنا چاہتا ہو
تیاری مکمل کرنی چاہیئے لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ دوگھنٹے کے بلاوجہ کے دلائل کیس کو خراب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں  دوسرا یہ کہ پیچیدہ معاملات میں زیادہ بولنا نقصان کا باعث بنتا ہے

ویسے ضمانت کروانا ایک فن ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں