Powered By Blogger

Monday, 1 December 2014

کیا یہ ہتھوڑی کیل ٹھونکنے کے کام آئے گی

ایک بہت ہی خوبصورت باغ میں لوگ قطار کی صورت میں جارہے تھے باغ کے باہر ایک بددماغ قسم کا چوکیدار بھی کھڑا تھا ایک معزز ساشخص وہاں سے گزرا اس نے چوکیدار سے پوچھا کیا میں اندر جاسکتا ہوں کیا مجھے اندر جانے کی اجازت ہے تو بددماغ چوکیدار نے کہا نہیں چپ کرکے یہاں  کھڑا ہوجا وہ بھی کھڑا ہوگیا کافی دیر کھڑا رہا  اور لوگ اس کے سامنے سے گزرتے رہے جب کہ وہ بیوقوفوں کی طرح دیکھتا رہا اسی دوران  اس نے چوکیدار سے کہا کہ آپ ان لوگوں کو کیوں نہیں روک رہے توبددماغ چوکیدار نے جواب دیا کہ کیونکہ ان میں سے کسی نے یہ فضول سوال نہیں کیا کہ وہ باغ کے اندر جاسکتا ہے یا نہیں اپنی طاقت یا اختیارات کے بارے میں سوال کرنا دنیا کا فضول ترین سوال ہے
طاقت دماغ کے اندر موجود ہوتی ہے کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی   اب یہ فضول سا سوال لگتا ہے کہ کہ
 کہاں لکھا ہے کہ مجسٹریٹ  کس حد تک  ایک تفتیشی افسر کے سامنے بااختیار ہے اگرچہ اس فضول  سوال کا قانونی  جواب بھی موجود ہے لیکن
جج ہونا ہی ایک نفسیاتی طاقت ہے۔ جج کا مطلب ہی جج ہونا ہے ایک اپنے اختیارات کا تعین کسی کتاب کے ذریعے کیسے کرسکتا ہے کل تک چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی تھے ڈپٹی کمشنر کیا آپ سوچ سکتے ہیں کے ڈپٹی کمشنر کیسے مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتا ہوگا کمشنر یا ڈپٹی کمشنر اسقدر بے لگام تھے کہ ہماری سوچ سے بڑھ کر کیونکہ ان کے پاس لیڈرشپ بھی تھی
پورا پاکستان جانتا ہے کہ وکیل کی طاقت کیا ہے یہ سب باتیں کسی بھی کتاب میں لکھی ہوئی نہیں ہیں  بلکہ استعمال کرتے ہیں جو انہوں نے خود ہی طے کرلیا یہی وہ نفسیاتی طاقت تھی جب مشرف نے ایک خود ساختہ سپریم کورٹ کے زریعے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کی تو منیر ملک  نے ایک تاریخی بیان دیا کہ "ہم سپریم کورٹ کو آگ لگا دیں گے"  یہ وہ طاقت تھی جو منیر ملک صاحب کے دماغ کے اندر ہی موجود تھی اور پاکستان کے ذہین ترین وکلاء میں سے ایک ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی  طاقت کا اعلان کیا  تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا اسی طرح وہ وکیل جو خود کو وکیل بھی سمجھتا ہے یہاں دیہاڑی دار "دلال" مراد نہیں  ہیں اور یہاں کالا کوٹ لٹکا کر گھومنے والے بھی نہیں ہیں وہ وکیل  جو خود کو وکیل بھی سمجھتا ہے عدلیہ کے اندر کس کی ہمت ہے جو اس کو ایک لفظ  بھی سنا سکیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا وکیل اپنی شان کے ساتھ کورٹ روم میں آتا ہے اپنے ان اختیارات کے ساتھ اپنی اس طاقت کے ساتھ جس کا تعین اس نے خود ہی کرلیا ہے میرے ایک دوست نے گزشتہ سال لاہور ہایئکورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تو جسٹس صاحب کو پٹیشن ڈسمس کرنے کا بڑا شوق تھا وہ ساری پٹیشنز سرسری سن کر ڈسمس کرتے جارہے تھے ان کا حشر بھی یہی ہوا تو انہوں نے آگے سے کہا  ڈسمس۔۔۔ڈسمس میرے سے پہلے کی دس پٹیشنز بھی ڈسمس اور اگلی دس پٹیشنز بھی ڈسمس ایسا کر کورٹ کے باہر ایک بورڈ لکھ کے لگا دے کہ ڈسمس پتا نہیں تمہیں جسٹس کس نے لگایا ہے یہ سن کر پٹیشن ڈسمس کرنے کے شوقین جسٹس نے حکم دیا کہ "اریسٹ ہم" اسے گرفتار کرلو تو اس  نے اس کو کھڑے کھڑے جواب دیا "اریسٹ ہم" کا بچہ مجھے گرفتار کرنے کیلئے تمہیں عدالت سینٹرل جیل کے اندر لگانی ہوگی خیر اب اتنی ہمت کس میں ہے کہ وکیل کو کورٹ  روم سے گرفتار کرسکے لیکن اس جسٹس کو یہ سبق ضرور مل گیا کہ اپنی طاقت کے ساتھ سامنے والے کی طاقت کا احترام بھی ضروری ہے بدمعاشی کی اجازت تو کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر کسی کو نہیں دی جاسکتی چاہے وہ کوئی جسٹس ہو،سیشن جج ہو یا مجسٹریٹ کراچی میں بعض جسٹس جس طرح کاروائی چلاتے ہیں اس طرح کے رویئے کی اجازت پنجاب میں نہیں دی جاسکتی  اور کراچی میں ایسا کیوں ہوتا ہے  اس کے پیچھے بار کی کمزوری کے علاوہ بھی ایک وجہ ہے یعنی مالی معاملات ہیں اسی طرح پنجاب بھر میں بار ایسوسی ایشنزنے اپنی  "رٹ" قائم کی ہے وہ کسی کتاب میں نہیں لکھی ہوئی ہے پنجاب میں مجسٹریٹ پولیس کی رپورٹ پر تفصیلی  حکم نامہ جاری کرنے کا ہر صورت میں پابندہے وہاں ایک انگریزی کا لفظ لکھ کر بے قصوروں اور بے گناہوں کو رگڑنے کی اجازت ہر گز نہیں ہے اس  کے پیچھے بھی بار کی طاقت ہے
ولیس ایک طاقت ہے  لیکن وہ ایک مکار طاقت ہے  وہ مکاری سے عیاری سے اپنی طاقت کو استعمال کرتی ہے اور استعمال کرنا خوب جانتی  بھی ہے پولیس ایک بے رحم طاقت  ہے
پولیس نے بھی اپنی طاقت کا تعین خود ہی کرلیا ہے  اور چالاکی اور مکاری سے اپنے افسر کو اپنا ذہنی ماتحت بنالیا ہے وہ شہریوں کو بدمعاشی سے تنگ کرتے ہیں جبکہ عدالت کو مکاری سے  اپنا غلام بناتے ہیں اپنے ذہنی غلام کو دس سیلوٹ مار کر یقین دلاتے ہیں کہ ہم ماتحت آپ کے ہیں لیکن کام آپ سے اپنی مرضی کا ہی کروائیں گے مکاری سے جھک کر وہ یقین دلادیتے ہیں کہ  ہم آپ کے ماتحت ہیں لیکن  ان کے دماغ میں جو سوفٹ ویئر فٹ کردیا گیا ہے اس کے مطابق انہوں نے خودہی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ منصف کی سیٹ پر جو شخص بیٹھا ہوا ہے وہ ان کا ذہنی ماتحت ہے اور اس کے دل کو خوش کرنے کیلئے دس سیلوٹ ٹھوکنے پڑجائیں
 وہ  اس تابعداری کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں  اگر وہ شور مچاکر دل کو خوش کرلیتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ان کے دماغ کے اندر جو طاقت موجود ہے وہ اپنے ماتحت سے کام  اپنی مرضی کا ہی کرواتے ہیں  لیکن کیونکہ پولیس ایک مکار طاقت ہے اس لیئے وہ پوری مکاری اور عیاری سے  ساب کو یقین دلاکررکھتی ہے کہ ہم آپ کے خادم آپ کے نوکر چاکر ایک اشارہ تو کریں لیکن  مرضی میری  ہی ہوگی
طاقت اور اختیارات کا تعین دنیا کی کوئی طاقت نہیں کرسکتی دنیا کے سب آئین طاقت اور اختیار کے سامنے بے بس ہیں
اب وزیراعظم کو ہی دیکھ لیں یہ بیچارہ آرمی چیف کا تقرر کرتا ہے  اور بظاہر چیف  وزیراعظم کے ماتحت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں  کیونکہ آرمی چیف بھی  از خود اپنی  طاقت اور اختیارات کا تعین کرچکا ہےاسی طرح ڈی جی  "آئی ایس آئی" بظاہر تو آرمی چیف کے ماتحت ہے لیکن  حقیقت یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے از خود ہی اپنی طاقت اور اختیارات  کا تعین کرلیا ہے مشرف کا انجام سب کے سامنے ہے کیونکہ ساری خفیہ طاقتیں افتخار چوہدری کے ساتھ تھیں اور آرمی چیف بے چارگی سے صرف تماشہ ہی دیکھتا رہا
طاقت اور اختیارات کا تعین تو دماغ طے کرتا ہے
طاقت ۔۔طاقت  کے استعمال سے ہی آتی ہے مجسٹریٹ جب کسی سرکش پولیس افسر کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہیں تو پھر وہ منسوخ کیوں ہوجاتے ہیں  کان سے پکڑ کر پولیس افسران کو صرف ایک ہفتے کیلئے جیل بھیج دیں تو سارے کس بل ایک منٹ میں نکل جائیں گے ذیادہ نہیں دس سال پرانی بات ہے کراچی کے دو سیشن ججز نے جب دیکھا  تھا کہ پولیس بے لگام ہوچکی ہے اور ایس ایچ او بھی بات نہیں مانتا تو ایک واقعہ میں   پولیس  کے افسران کو جب ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیجا تو سب کے سب ٹھیک ہوگئے تھے اسی طرح صرف ایک رپورٹ وقت پر نہ آنے پر وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے تھے  ایس ایچ اوز روزانہ ہی لائن لگا کر کورٹ کے باہر کھڑے ہوتے تھے اور ان کے خلاف کیسز بھی ان کو پورا دن بیٹھا کر  اور پوری اکڑخانی نکلوا کر سنے جاتے تھے آج ہر گز ایسا نہیں کہ پولیس شریف ہوگئی یا ان کے خلاف کراچی میں شکایات ختم ہوگئی ہیں بلکہ وہ سیشن ججز باقی نہ رہے آج تو جج سوال کرتے ہیں کہ کیا میں یہ کرسکتا  
ہوں کیا یہ میرا اختیار ہے ایک جج یہ سوال کرے اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا
کل ایک جج یہ سوال بھی کرسکتا ہے کہ یہ جج کی ٹیبل پر جو ہتھوڑی پڑی ہوتی ہے کیا وہ کیل ٹھونکنے کیلئے رکھی ہے یایہ اخروٹ توڑنے کے کام آئے گی


Monday, 24 November 2014

انگریزی زبان کا ایک لفظ اور اونٹ سے بڑے ساب

میں حیرت سے  آنکھ جھپکے بغیرعدالت میں موجود  اس اونٹ سے بڑے  شخص کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس ادارے کی عظمت کو اکیس توپوں کی سلامی یہ اتنے بڑے  لوگ تلاش کیسے کرلیتا ہے جبکہ وہ اونٹ سے بڑا  ساب کورٹ کی فائل کے صفحات یوں الٹ پلٹ رہا تھا جیسے پہلے دن کوئی جونئیر وکیل کسی مقدمے کی فائل اٹھاتا ہے تو اس کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ اس کو کیسے سمجھے کیسے اس کیس کا مطالعہ کرے
واقعہ یہ تھا کہ اس  کی غفلت سے تین بے قصور اور بے گناہ لوگ  جن میں ایک بوڑھی اور بیمار عورت  بھی شامل تھی ایک  کیس میں بری طرح فٹ کردیئے گئے تھے اور وہ جس کا  فکری  اور ذہنی قد کاٹھ اونٹ سے بھی کافی بڑا تھا یوں بے نیاز بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
میرا دعوٰی ایک دلیل کے ساتھ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ صوبہ سندھ کی عدالتوں کے مجسٹریٹ سطح کی عدلیہ کی اکثریت پولیس کی ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت ہے عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کا تاحال سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پہلے پولیس والے اپنے ایک افسر کے سامنے پیش ہوتے تھے اور اب وہ اپنے ایک ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف نااہلوں کی وہ فوج ہے جو جمع کرلی گئی ہے یہ بے چارے نہیں جانتے کہ تفتیش کیا ہوتی ہے اور تفتیش کے دوران مجسٹریٹ کی ذمہ داری کیا ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد جب پولیس چالان لیکر آتی ہے تو اس چالان پر اپنی رائے کس طرح قائم کرنی ہے نہ تو ان کو ادارے نے کوئی تربیت دی ہے نہ وہ تربیت دینے کی کوکوئی ضرورت محسوس کرتے ہیں   میں پورے کراچی میں صرف دو مجسٹریٹ صاحبان کو جانتا ہوں جو کہ انتظامی حکم جاری کرنے سے پہلے پولیس فائل سکون سے پڑھتے ہیں مطالعہ کرتے ہیں اور ایک تفصیلی حکم نامہ  جاری کرتے ہیں اور اکثر اوقات وہ پولیس کی رائے سے اتفاق  نہیں کرتے جس کے نتیجے میں پولیس  کے فراڈ اور دھوکے سامنے آتے رہتے ہیں  کیونکہ وہ  نہ تو پولیس کے ذہنی غلام ہیں اور نہ ماتحت  اسی پریکٹس کے تحت انہوں نے سینکڑوں بے گناہوں کو پولیس کی حراست سے نکلوایا اسی پریکٹس ہی کے تحت کتنے ہی ملزمان کی ہتھکڑی کورٹ میں ہی کھلوادی گئی کہ کیس بنتا ہی نہیں  اصولی طور پر تمام عدالتی افسران کو یہ کام کرنا ہے ہوسکتا ہے کچھ اور لوگ بھی یہ نیک کام کرتے ہوں میرا واسطہ ان سے نہیں پڑا
تفتیش کے بعد مجسٹریٹ  انتظامی حکم کے زریعےکیس کی گرفت کرتا ہے اس پر آرڈر پاس کرتا ہے اس انتظامی آرڈر کی اہمیت کا  اندازہ آج تک ان نااہلوں کو ہو ہی نہیں سکا کہ یہ ہوتا کیا ہے  سپریم کورٹ  اور ہایئکورٹ نے  لاکھوں  صفحات ضائع کردیئے اس راز کو تلاش کرنے کیلئے کہ پولیس کی تفتیش مکمل ہوجانے کے بعد پولیس کا ادنٰی سا خادم اور ذہنی غلام اس پر جو حکم نامہ جاری کرتا ہے وہ ایک انتظامی نوعیت کا آرڈر ہے یا جوڈیشل آرڈر
قانون دانوں اور ججز کے ایک بہت بڑے گروہ کا یہ کہنا ہے کہ پولیس کی تفتیش پر مجسٹریٹ جو حکم جاری کرتا ہے اس کی نوعیت جوڈیشل ہے جبکہ  قانون دانوں اور وکلاء کی اکثریت اس پر اب متفق ہوچکی ہے یہ انتظامی نوعیت کا حکم ہے اور اس حکم کے خلاف اپیل بھی ہایئکورٹ میں ہوگی وہ بھی ایک آئینی پٹیشن کے زریعے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کیا ان کو وہ اہم ترین انتظامی آرڈر لکھنے آتا ہے اگر سپریم کورٹ اتنی بات سوچ لیتی تو وہ اس فضول بحث میں الجھنے کی بجائے اپنے عدالتی افسران کی تربیت کا انتظام ہی کرلیتی
اب ملاحظہ فرمائیں وہ واقعہ جس کے تحت عدالت میں تعینات  پوسٹ گریجویٹ اونٹ سے بڑے ساب  کو  میٹرک پاس پولیس والا کیسے ایک جج  کو  ماموں بناکر چلا گیا
واقعہ کچھ یہ تھا کہ ایک گھر کے اندر ہونے والے واقعہ کی ایف آئی آر درج کروائی گئی  ایک شخص نے ایف آئی آر درج کروائی کہ اس کی  بیوی اور بیٹوں نے اس کو پاگل خانے میں پاگل قرار دے کر داخل کروادیا تھا جس کے بعد اس کے رشتے داروں نے اس کو وہاں سے نکلوایا جس کے بعد جب وہ اپنے گھر آیا تو اس کے بیوی بچوں نے  اس پر تشدد کیا اور پستول دکھا کر جان سے مارنے کی کوشش کی جس کے بعد اس نے اپنی اسی گھر کی گراؤنڈ فلور پر رہایئش پذیر اپنی بیٹی  "ج" کے گھر پناہ لی تفتیش کے بعد اصل واقعہ یہ سامنے آیا کہ وہ شخص واقعی  پاگل ہے  اس کو نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا علاج معالجے کیلئے اسی دوران اس کے رشتے دار اس کو وہاں سے زبردستی نکلوا کرلے گئے ڈاکٹر نے گواہی دی کہ یہ شخص خطرناک نفسیاتی مریض ہے اس کے علاوہ وہ اپنی جس بیٹی کے ساتھ گراؤنڈ فلور پر رہتا ہے اور اس نے اپنے بیان کے مطابق اس کے گھر پناہ لی تھی  اس نے بھی واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا  جس کے بعد اس کیس کو  شواہد کے مطابق"اے کلاس" میں ختم کردیا گیا
دوبارہ تفتیش ہوئی پولیس نے رشوت مانگی ملزمان نے نہیں دی جس کے بعد پولیس افسر نے چالان پیش کردیا اور دوشناختی کارڈز کو گواہ بنایا ایک شناختی کارڈ نیو کراچی کا دوسرا شناختی کارڈ سیفل گوٹھ  کا ہے جن کا دعوٰی تھا  کہ وہ اس واقعے کے گواہ ہیں   سوال یہ ہے کہ وہ پہلے کیوں نہیں پیش ہوئے جب کہ ایک گلشن اقبال میں ہونے والے گھریلو جھگڑے کی گواہی نیوکراچی یا صفورا گھوٹھ کا رہایئشی کیسے دے سکتا ہے واقعہ کے گواہ اڑوس پڑوس کے لوگ ہوسکتے ہیں جبکہ حیرت ہے کہ وہ گواہ بننے کیلئے   گھر کے اندر داخل ہوکر فرسٹ فلور پر بھی چڑھ گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ  دو گواہ گھر کے فرسٹ فلور پر کیا کررہے تھے
حقیقت یہ ہے کہ تفتیشی افسر نے دوشناختی کارڈز کی فوٹو کاپیاں  پیدا کرکے دو چشم دید جعلی گواہ بنائے لیکن یہ وضاحت نہ کی کہ وہ ایف آئی آر درج ہونے کے آٹھ مہینے تک کہاں رہے شاید اس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ شناختی کارڈ  کی فوٹو کاپی کو گواہ کیسے بنایا جاتا ہے
لیکن سب سے بڑا دھوکہ یہ دیا گیا کہ جس ڈاکٹر کی گواہی کی بنیاد پر کیس ختم کیا گیا تھا اس کو اس کیس کا مرکزی گواہ بنا لیا گیا حالانکہ اس نے اپنی  گواہی تبدیل نہیں  کیس کی فائل میں اس کا بیان موجود ہے کہ مدعی مقدمہ پاگل ہے  لیکن یہ فائل پڑھنے کی زحمت کون کرے گالیکن ایک  مجسٹریٹ کو کیا پتہ کہ پراسکیوشن کا گواہ کیا ہوتا ہے  ایک  مجسٹریٹ کو کیا پتہ کہ ایف آئی آر کیا ہوتی ہے ایک مجسٹریٹ  کو کیا پتہ کہ پولیس نے اہم ترین گواہ کو گواہ کیوں نہیں بنایا
پولیس نے چالان اپنے ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت کے سامنے پیش کیا جس پر سندھ ہایئکورٹ کے مقرر کردہ مجسٹریٹ نے صرف ایک انگریزی زبان کا لفظ لکھا "رجسٹرڈ" اور پولیس کی تفتیش سے  مکمل اتفاق کرلیا سوال یہ تھا جو کہ اب ہمارا مطالبہ بھی بن چکا ہے کہ اگر انگریزی زبان کا ایک لفظ لکھنا ہی انتظامی حکم ہے تو اس کیلئے کسی پوسٹ گریجویٹ کی خدمات لینے کی ضرورت کیا ہے کورٹ کا ایک چپراسی مقرر کردیا جائے کافی ہے کیونکہ یہاں چپراسی بھی میٹرک پاس  ہے وہ بھی انگریزی زبان کا ایک لفظ لکھ سکتا ہے
میں نے جب اس ساب کی توجہ اس جانب دلائی تو اونٹ سے بڑے اس  ساب نے کورٹ کی فائل کے صفحات کے صفحے یوں الٹنے پلٹنے شروع کردیئے جیسے کہ  اداکارہ میرا کا نکاح نامہ غلطی سے فائل میں آگیا ہو  "ادھر ادھر "کی باتوں کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ نے پڑھے بغیر ہی سوچے سمجھے بغیر ہی   اتنا اہم ترین انتظامی حکم نامہ دستخط کردیا ہے اور پولیس والا اونٹ سے بڑے  ساب کو "ماموں "بناکر چلا گیا
اب ہوگا کیا کیس چلے گا گواہ نہیں ملیں گے ڈاکٹر آئے گا گواہی دے گا جس کے بعد کیس ختم
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ہماری سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان "ناناپاٹیکر" کی طرح ڈایئلاگ مارنے کے شوقین ہیں وہ اپنا تاریخی ڈائیلاگ مارتے ہیں کہ پولیس کی غلط تفتیش کے نتیجے میں ملزمان بری ہوجاتے ہیں  اور ہمارے اخبارات اس کی شہہ سرخیاں لگاتے ہیں جیسے کسی چرسی بابے نے کوئی راز کی بات بتادی ہو یا کوئی سٹے کا نمبر بتادیا ہو حقیقت یہ ہے ہماری سپریم کورٹ اور ہایئکورٹ کے جسٹس  صاحبان حقیقت سے نظریں چرا کرجھوٹ  بولتے ہیں  اور عوام کو دھوکہ دیتے ہیں وہ اپنے ادارے میں موجود اونٹ سے بڑے  دانشوروں کی نااہلی کا اعتراف کرنا نہیں چاہتے جن کی نااہلی کی وجہ سے پولیس چالان منظور کروالیتی ہے جس کی وجہ سے پولیس بے گناہوں کو  جھوٹے کیس میں پھنسالیتی ہے پولیس ایک عام شہری پر جو بھی تشدد کرتی ہے اس کی ذمہ دار وہ عدلیہ جس کے متعلق دعوٰی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ایک آزاد عدلیہ موجود ہے جی ہاں عدلیہ مکمل آزاد ہے لیکن  یہ آزادی عدلیہ نے پولیس کو دے رکھی ہے کہ جس کو چاہے جس کیس میں چاہے اٹھا کر فٹ کردے
سپریم کورٹ اور ہایئکورٹ کی اوقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ گزشتہ  ستاسٹھ سال سے حکم نامے جاری کررہی ہے کہ انتظامی حکم اسپیکنگ ہونا چاہیئے اور جانچ پڑتال کے بعد جاری کرنا چاہیئے جبکہ آج تک وہ اپنی ماتحت عدلیہ سے یہ بات نہیں منوا سکے کہ وہ انتظامی حکم اسپیکنگ نوعیت کا لکھیں کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر وہ پولیس کی تفتیش سے اتفاق کرکے کیس کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہیں  آج بھی اکیسویں صدی کے اس دور میں  ہم اونٹ سے بڑے  سابوں  سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں  جو کہ انگریزی زبان کے ایک لفظ کے زریعے  کسی کے بھی مستقبل سے کھیل سکتے ہیں ہم ہایئکورٹ سے اب کبھی بھی یہ نہیں کہیں گے کہ وہ اس سلسلے کو روکیں کیوں روکا جائے اس ملک کے  غریب آدمی کو اوقات میں رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس پر پولیس مسلط کی جائے اس کو پولیس کے زریعے ذلیل کیا جائے شاید عدلیہ کی خواہش ہے کہ پولیس  غریب لوگوں کو جھوٹے کیسز میں پھنسائے یہی وجہ ہے کہ صرف انگلش زبان کا ایک لفظ لکھ کر ہمارے عدالتی افسران پولیس کے فراڈ کو پولیس کے دھوکے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں  ہم ہایئکورٹ سے  مطالبہ کرتے ہیں کہ  وہ اپنا مشن جاری و ساری رکھے لیکن خدا کے واسطے انتظامی حکم کا عدالتی اختیار  اونٹ سے بڑے ان سابوں سے لیکرکورٹ کے چپراسیوں کو دے دیا جائے کورٹ کے پٹے والوں کو دے دیا جائے وہ بھی میٹرک پاس ہیں انگلش کا ایک لفظ لکھ ہی لیں گے
اسی طرح ہم چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سندھ جوڈیشل اکیڈمی کو فوری طور ختم کرنے کا اعلان کرکے وہاں کوئی  ڈھنگ کا شاپنگ سینٹر بنادیں   یا وہاں کوئی  بریانی  کی دکان کھول دی جائے یہ ججز کی تربیت کا ڈھکوسلہ ختم کیا جائےلعنت ہے اس  جوڈیشل اکیڈیمی پر جو  ججز کو ایک انتظامی حکم نامہ لکھنا نہ سکھا سکے

وہ وقت دور نہیں جب لوگ عدلیہ کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے 

Tuesday, 4 November 2014

ایک ممبر سندھ بار کونسل کا انٹرویو


سندھ بارکونسل کی کارکردگی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ ممبران نے نااہلی کے تمام ہی ریکارڈ توڑڈالے ہیں اس کارکردگی کے بعد شرم وحیا کا تقاضا یہ تھا کہ سابق ممبران دوبارہ بار کا رخ ہی نہیں کرتے لیکن کیا کیا جائے کہ سندھ بارکونسل کے وسائل لوٹنے کھسوٹنے کے بعد جب کسی احتساب کا خوف بھی نہ ہو  اور پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعدیہ سندھ بار کونسل  کی  حکمرانی بھی ایک ایسا نشہ بن چکی ہے کہ بقول شاعر ” چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی“یہی وجہ کہ وہ تمام نااہل افراد ایک بار پھر سندھ بار کونسل میں نہ صرف ڈھٹائی سے حصہ لے رہے ہیں بلکہ اپنی نااہلی کا بھی سرعام دفاع کررہے ہیں اسی حوالے سے حقائق جاننے کیلئے ہم نے ایک  ممبر سندھ بارکونسل سے ملاقات کا وقت لیا  اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی

 سندھ بار کی کارکردگی کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟


سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ایک انتہائی مصروف ترین وکیل ہوں اور سند ھ بار کونسل  کےالیکشن میں حصہ لیکر میں اپنا قیمتی وقت وکلاء برادری کیلئے وقف کرتا ہوں لیکن افسوس کہ ان وکیلوں کو میری قدر ہی نہیں ہرجگہ ہماری کارکردگی کا ڈھنڈورا ہی پیٹتے رہتے ہیں ذرا سا دانت پیس کر یہ جو نوجوان وکیل باتیں کرتے پھر رہے ہیں ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے  حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا ایک سندھ بار کونسل اور وکلاء پر احسان ہے کہ میں اپنا قیمتی وقت ان کو دیتا ہوں وکلاء کا مجھ پر کوئی بھی احسان نہیں  جناب شاید آپ میرا سوال سمجھ نہیں سکے میں نے سندھ بار کونسل کاکردگی کے حوالے سے سوال کیا تھا؟ جب تک آپ وکیل لوگ میرا یہ احسان تسلیم نہیں کرتے  کہ میں اپنی پروفیشنل مصروفیات میں سے اپنا قیمتی وقت نکال کر سندھ بار کونسل کو اپنا انتہائی قیمتی وقت دیتا ہوں  اس وقت تک میں کیا جواب دے سکتا ہوں 

 آپ نے گزشتہ الیکشن میں بھی وعدہ کیا تھا کہ وکلاء کیلئے عالمی معیار کا رہایئشی ہاسٹل اور اسپتال بنایا جائے گا اس وعدے کا کیا ہوگا؟

میری مصروفیات میری وکالت میرا کام اتنی  بڑی لاء فرم چلانا کوئ بچوں کا کھیل نہیں آپ ابھی بھی انتظار گاہ میں جاکر دیکھیں میرے کلایئنٹس کا رش لگا ہوا ہے یہ میری کل کی ڈائری دیکھیں کل بھی بے شمار کیسز لگے ہوئے ہیں اس کے باوجود میں نے سندھ بارکونسل کو ٹائم دیا اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس بار منتخب ہوکر یہ کام بھی کرہی دوں گا ویسے شہر میں اچھے ہوٹل اور اچھے اسپتالوں کی کوئی کمی نہیں اگر کسی کو ایڈریس پتا نہ ہوتو میں بتادوں گا

 سندھ بار کونسل  حکومت کی مالی امداد کیوں نہیں قبول کرتی؟

یہ الزام درست نہیں اگر ہم چاہیں تو ایک سال میں ہاسٹل بھی بن جائیں گے اسپتال بھی بن جائیں گےوکلاء کیلئے اعلٰی معیار کے کلب بھی بن جائیں گےمیڈیکل فنڈ میں بھی اضافہ ہوجائے گااور وکلاء کے بینوویلنٹ فنڈ میں بھی اضافہ ہوجائے گا لیکن ہم حکومت کا احسان نہیں لینا چاہتےاسی وجہ سے ہم حکومت کی امداد قبول نہیں کرتےایک صدر پاکستان نے پانچ کروڑ کے ابتدائی پیکیج کا اعلان کیا تھا اور شرط صرف اتنی رکھی تھی کہ ہم ایوان صدر سے آکر یہ چیک لیجائیں لیکن ہم نے کہا کہ آپ بزریعہ ڈاک پانچ کروڑ کا چیک بھجوادیں جس پر صدر صاحب برا مان گئےویسے بھی مجھے نہ تو اسپتال کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ہاسٹل کی اللہ کا شکر ہے کہ میرا اور میرے بچوں کا علاج  عالمی معیارکے اسپتالوں میں ہوتا ہے جبکہ میں ہمیشہ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ٹہرتا ہوں اگر وکلاء کیلئے ہاسٹل بن بھی جائے گا تو کونسا انقلاب آجائے گا

سوال: آپ کے آئیندہ کیا منصوبہ جات ہیں آپ کس بنیاد پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں؟

ممبر سندھ بار مسکرا کر جب تک بریانی کی ایک پلیٹ کے بدلے ووٹ کا سودا کرنے والے وکلاء موجود ہیں  اور لائن میں لگ کر  ذلت آمیز طریقے سےاپنے بار کے کارڈ کی فوٹو کاپی جمع کروا کرسو سوروپے کی ڈائری لیکر ووٹ ڈالنے والے لوگ موجود ہیں مجھے کسی کواپنا پروگرام دینے کی کوئی ضرورت نہیں میں سالانہ پانچ سو وکلاء کیلئے ڈنر کا اہتمام کرتا ہوں کیا یہ سب  وکیل میرے چاچے لگتے ہیں  یا میرے مامے لگتے ہیں  یہ سب جانتے ہیں کہ میں ان  کو کیوں ڈنر کھلاتا ہوں  کیا میرا دماغ خراب ہے یا میرے سر پر دوعدد سینگ آپ کو نظر آرہے ہیں وکیلوں سے صاف صاف کہتا ہوں میرا نہ پچیس سال پہلے کوئی پروگرام تھا نہ آج ہے جس نے جو مہم چلانی ہے شوق سے جاکر چلالےمیں گزشتہ پچیس سال سے ممبر سندھ بار کونسل بن رہاہوں اور اگلے پچیس سال بھی بنتا رہوں گا  میں دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ وکلاء جو گزشتہ پچیس سال سے ایک کورٹ کی ڈائری اور بریانی کی ایک پلیٹ کے بدلے مجھے ووٹ دے رہے ہیں  وہ اس بار بھی مجھے مایوس نہیں کریں گے ویسے بھی مایوسی کفر ہے

تبدیلی کے نعرے کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں ؟

اس نعرے کی بھاری قیمت لیڈرشپ کو ادا کرنی ہوگی نئی لائیبریری بنالینا بار کی تزئین و آرائش کروالیناسیکورٹی بہتر بنالینا نادرا کا ویریفیکیشن سینٹر بنالینا کونسی تبدیلی ہے  ،کار پارکنگ بنالینا کونسی تبدیلی ہے یہ سب تو میرے ایک منٹ کے کام تھے لیکن میں نے کیئے نہیں

 آخر کیوں نہیں کیئے کوئی وجہ تو ہوگی؟

میں نے اس لیئے کوئی کام نہیں کیا کیونکہ یہ وکیل لوگ اس قابل ہی نہیں اب آپ ہی بتائیں  ڈسٹرکٹ کورٹ کے وکلاء کا کتابوں کے مطالعے سے کیا لینا دینا پہلے مطالبہ تھا لائیبریری بنادو وہ بن گئی تو مطالبات آگئے کہ نئی کتابیں  بھی چاہیئں اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کورٹس میں لفٹ لگا دو پارکنگ کے بعد اب کچھ تبدیلی کے علمبردار یہ کہہ رہے ہیں میڈیکل کے فنڈ میں اضافہ کردو پھر کچھ لوگ آجائیں گے جو یہ کہیں گے بینوویلنٹ فنڈ میں اضافہ کردو ان وکیلوں کا سر پر نہ چڑھاؤ اگر یہ سرپر چڑھ گئے تو پھر یہ اتریں گے نہیں پرانا فارمولہ ہے سال میں ایک بار بریانی  کی ایک پلیٹ ہاتھ میں پکڑادو اور ایک مفت کی ڈائری بس کام ہوگیا پھر کل ایک نئی قوم آجائے گی جو کہے گی کہ وکلاء کیلئے پروفیشنل رہنمائی کا اہتمام کیا جائےیہ جولوگ نوجوانوں کو اکسا کر سر چڑھا رہے ہیں کل وہ خود پچھتائیں گے  آج جو میرے بھائی اور سیاسی نابالغ نوجوانوں کو پرانی لیڈرشپ کے خلاف ورغلاء رہے ہیں ان کو ایک نہ ایک دن خود پچھتانا ہوگااگر یہ نوجوان ووٹر بیدار ہوگئے تو یہ معاملہ دور تک نکل جائے گااور اگر ایک بار ان کے چند مطالبات مان لیئے گئے تو نئے مطالبات کی لسٹ تیار ہوجائے گی پھر ایک پینڈورا بکس تیار ہوجائے گا جس کو بند کرناناممکن ہوگاکل یہی وکیل آپ دیکھیں گے کہ کسی نظریئے کی بنیاد پر سندھ بار کا الیکشن لڑرہے ہونگےوکیل مطالبات لیکر آجائیں گے کہ یہ کام کردو وہ کردو ماحول خراب ہوجائے گا


بار کی ہڑتال کےخاتمے کیلئے آپ نے کوئی کوشش کی دیکھیں اس سے عوام کو کتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟


ممبر سندھ بار مسکرا کر دیکھا بلی آگئی نہ تھیلے سے باہر بار کی ہڑتال ہی تو ہماری اصل طاقت ہےاگر ہم عدالتیں بند نہ کروائیں تو چیف جسٹس اور اعلٰی عدلیہ ہمیں لفٹ کیوں کروائے گی اور ہمارے مطالبات کیوں تسلیم کرے گی یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی  مسئلہ ہو ہم عدالتیں فوری بند کروادیتے ہیں  عوام جائیں بھاڑ میں اور عام وکیل جائے تیل لینے ہمیں کوئ فرق نہیں پڑتاہم بار کی ہڑتالیں جاری رکھیں گے اور جو ان ہڑتالوں کے خلاف آواز اٹھائے گا اس کا ٹینٹوا دبا دیں گے  اگر مہینے میں پانچ دن ہڑتال کے چکر میں عدالتیں بند پڑی رہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور اب تو یہ ہڑتال والی بیماری ہم سندھ ہایئکورٹ میں بھی لے آئے ہیں   

کیا ان بے وجہ کی ہڑتالوں سے وکلاء کے کوئی مسائل بھی حل ہوئے ہیں؟

ہمارا مسائل کے حل سے کیا لینا دینا اور اگر وکلاء کے مسائل حل ہوگئے تو ایک بریانی کی پلیٹ اور لائن میں سوروپے کی ڈائری کیلئے لائن میں لگ کر ہمیں ووٹ کون دے گا؟ اس سوال کا مجھے آپ جواب دے دیں

آپ کے ممبران سندھ بار کونسل پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ آپ نے عدلیہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا عدالتی اصلاحات کیلئے کوئی کوشش نہیں کی ؟

یہ الزام درست نہیں لیکن عدالتی اصلاحات ایک ڈھکوسلہ ہیں اور ہم بلاوجہ کے ڈھکوسلوں   پر یقین نہیں رکھتے

نوجوان وکلاء کے نام کوئی پیغام ؟

خبردار ان کم بخت نوجوان وکلاء کا نام بھی میرے سامنے مت لیںکم بخت نگوڑے کہیں کے ان کم بخت سیاسی نابالغوں نے آخری عمر میں ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے اب بلاوجہ بار میں جاکر وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں   ہم نے پچھلے پانچ سال اگر ٹکے کا کام نہیں کیا تو کونسا کفر ہوگیا یہ تو ہمیں یوں ذلیل کرتے پھر رہے ہیں جیسے  ہم نے کوئی بہت بڑا جرم کردیا ہے حالانکہ پچھلے پچیس سال میں سندھ بار کونسل نے کوئی کام نہیں کیا سندھ  بار کی یہ روایت  ہی نہیں کہ ہم کوئی کام کریں کل چند نوجوانوں کو مفت ڈائری دی لینے سے انکار کردیا کیا زمانہ آگیا ہے  لیکن اس بار مجھے ممبر بن جانے دیں ان کا علاج ضرور کروں گا کم بختوں کا یہ وہ بچے ہیں جو اس فلسفے پر یقین رکھتے ہیں کہ نہ کھیڈاں  گے نہ کھیڈن دیاں گے   

Sunday, 19 October 2014

میں تو صرف ایک ڈاکیہ ہوں ٭٭٭٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان


بوڑھے ڈاکیئے نے  کہا پوری زندگی میرے رہنما اصول رہے صبح وقت پر آنا دوسرا ڈاک ایمانداری سے  وصول کرکے پہنچانا میرا کام صرف ڈاک پہنچانا ہے آج تک  پوری زندگی کے دوران میں نے ایک خط بھی نہیں پڑھا ڈاک لی اورجس کی بھی ڈاک ہو اس تک پہنچادینا ڈاکیئے کو اس  سے کیا غرض کہ خط کے اندر کیا لکھا ہے
اسی طرح پوری زندگی گزار دی وہ ڈاک لیکر آتے رہے اور میں پہنچاتا رہا یہی میری ذمہ داری تھی اور میں نے نبھائی
ایک مجسٹریٹ صاحبہ نے کہا دیکھیں وکیل صاحب  میں تو صرف اور صرف ڈاکیہ ہوں پولیس جو بھی تفتیش کرتی ہے میرے پاس  ڈاک کی صورت میں جمع کروادیتی ہے اور میں نہایت ایمانداری سے اس ڈاک کو سیشن کورٹ بھیج دیتی ہوں  پوری زندگی دو کام ایمانداری سے کیئے نمبر ایک صبح سویرے وقت پر آنا نمبر دو پولیس کی تفتیش کو بغیر پڑھے بغیر سوچے سمجھے کہ  پولیس نے کیا لکھا کیا نہیں لکھا خاموشی سے اس ڈاک کو سیشن بھیج دینا میں پولیس کی ذہنی ماتحت نہیں ہوں کبھی کبھی اس کی چیخ چیخ کر بے عزتی  ہوں اور وہ سرجھکا کہ کھڑارہتا ہے
چاہے لوگ کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہوں  اور مجسٹریٹ کو پولیس کا ذہنی ماتحت ثابت کرنے اور پولیس کا ذہنی غلام ثابت کرنے کیلئے موجودہ نااہل عدلیہ کتنے ہی دلائل ڈھونڈ کر لے آئے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے
سوال یہ ہے کہ ذہنی ماتحتی کیا ہے؟
اپنی پہچان نہ کرنا ذہنی ماتحتی ہوتی ہے۔ اپنے اختیارات سے لاعلم ہونا اور اپنے سے کم اختیار کے حامل شخص کو بااختیارسمجھنا اس کی رائے پر چلنا ذہنی ماتحتی کی علامت ہے اپنے آپ کو  میٹرک پاس تفتیشی پولیس افسر کے سامنےایک بے جان اور سونے کا قیمتی بت سمجھ لینا ذہنی ماتحتی کی علامت ہے۔ اپنے آپ کو پولیس کا ڈاکیہ سمجھ لینا اور یہ کہنا کہ ہمارا کام صرف ڈاک وصول کرکے مقدمات پولیس سے وصول کرکے سیشن جج کے سامنے پیش کرنا ہے  زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے پاکستانی پولیس کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس سمجھ لینا یہ بھی ذہنی ماتحتی کی علامت ہے زمینی حقائق کے باوجود یہ خود ہی فرض کرلینا کہ پولیس رشوت نہیں لیتی اور پولیس کے رحم وکرم پر لوگوں کو چھوڑ دینا یہ سب ذہنی ماتحتی کی علامتیں نہیں تو اور کیا ہیں ہم آج  تک اسی سوال کا جواب تلاش نہیں کرسکے کہ پولیس ریمانڈ لیکر ایک مجسٹریٹ کے پاس ہی کیوں آجاتی ہے وہ کسی  اور کے پاس کیوں نہیں چلی جاتی آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ ایک قتل کے  مقدمے میں جو کہ سیشن ٹرائل ہے پولیس کیوں  ملزمان کو تفتیش کے بعد جب مزید حراست میں رکھنا ہو تو عدالت میں مجسٹریٹ کے پاس کیوں لیکر آجاتی ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس میں ہمارے پورے کریمینل جسٹس سسٹم کا وقار پوشیدہ ہے
مجھے حیرت ہوتی ہے افسوس ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ ایک ایسی علمی تحریک کا آغاز کیا جائے جس کا مقصد عدلیہ  کو پولیس کی ذہنی ماتحتی اور ذہنی غلامی سے آزاد کروانا ہو   یہاں یہ دلائل لائے جاتے ہیں کہ ہم صرف  ڈاکیئے ہیں  ہمارا کام صرف ڈاک تقسیم کرنا ہے پولیس سے لیکر سیشن جج کے پاس بھیج دینا ہےلیکن یہاں بہت معذرت کے ساتھ ہماری وکلاء برادری بھی اس ذہنی غلامی کا حصہ ہی ہے کیونکہ ایک جج   عدلیہ میں شمولیت سے پہلے بار کا حصہ ہوتا ہے  وہاں بھی آج تک یہ بنیادی نقطہ وکیل نہیں جانتے کہ  پولیس ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے پاس ہی ملزم کو لیکر کیوں آتی ہےسینئر وکلاء کا کہنا یہ ہے کہ اگر لوگ جیل نہیں جائیں گے تو ہمیں فیس کیسے وصول ہوگی اسی وجہ سے جب پولیس کا کوئی ذہنی ماتحت ایک تفتیشی افسر کی ذہنی غلامی کو قبول کرکے ایک بے قصور اور بے گناہ کو گھسیٹ کر جیل میں پھینکوانے کے احکامات جاری کرتا ہے تو پولیس کا دوسرا ذہنی غلام  جس نے عدلیہ کی صحیح رہنمائی کرنی ہوتی ہے شاید پیسے کی لالچ میں خاموش رہتا ہے کیونکہ اگر ریمانڈ کے موقع پر ہی ایک بے گناہ شخص کو مجسٹریٹ جیل بھیجنے سے انکار کرتا ہے اور پولیس یہ بات ریکارڈ پر لانے سے قاصر رہتی ہے کہ اس شخص کا کیا قصور کہ اس کو جیل بھجوانا ضروری ہے تو لازمی طور پر اس کو رہا  کرنا ضروری ہوگا اور اگر ملزم ریمانڈ کے موقع پر ہی رہا ہوجائے گا تو وکیل فیس کس بات کی وصول کرے گا فیس تو ہوتی ہی ضمانت کروا کردینے کی ہے   اور بعض اوقات  اس میں اسٹیک ہولڈرز کا حصہ بھی ہوتاملزم جیسے ہی جیل پہنچتا ہے تو اس کا استقبال  لاتوں اور گھونسوں سے شروع ہوجاتا ہے جس کی اطلاع فوری اس کے عزیز واقارب کو ہوجاتی ہے جس کے بعد اس کی ضمانت پر رہائی کیلئے فیس منہ مانگی ہوتی ہے اگر وکیل  ریمانڈ کے موقع پر اپنا درست کردار ادا کرنا شروع  کردیں تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں
ذہنی ماتحتی کا یہ عالم ہے کہ   لوگ یہ بات ثابت کرنے کیلئے کہ ہماری حیثیت صرف ایک بے جان بت کی ہے ہمارے پاس کوئی اختیار ہے ہی نہیں  ہم بے اختیار ہیں یہ بات ثابت کرنے کیلئے دنیا جہان کے دلائل ڈھونڈ کر لے آتے ہیں
ایک ذہنی ماتحتہ کا تو یہ عالم ہے کہ جب اس کے سامنے ایک اغوا کے مقدمے میں پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ پیش کی تو اس میں کل تین ملزمان تھے تفتیشی افسر نے  چالاکی سے پراسیکیوشن کے گواہوں کی جو لسٹ کورٹ کو فراہم کی جو اس واقعہ کے چشم دید گواہان تھے وہ تینوں گواہان  ملزم بھی تھے مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ایک ملزم استغاثہ کا گواہ  اپنے ہی خلاف کیسے ہوسکتا ہے اور یہاں تو تینوں بے قصور ملزمان  کو اپنے ہی خلاف گواہ بنایا گیا تھا جب میں نے اس کی توجہ ذہنی ماتحتہ  کو دلائی تو اس نے کہا کہ وکیل صاحب  سیشن ٹرائل میں مجسٹریٹ کی حیثیت صرف ایک ڈاکیئے کی ہے ہم صرف ڈاکیئے کا کردار ادا کرتے ہیں تفتیشی افسر جو ڈاک لیکر آتا ہے وہ وصول کرکے  سیشن جج کے پاس بھیج دیتے ہیں  مختصر یہ کہ ڈاکیئے کی طرف سے   مقدمہ  پولیس سے لیکر سیشن  بھیج دیا گیا وہاں بریت کی درخواست اسی بنیاد پر داخل کی کہ استغاثہ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے  اور تینوں گواہان  اسی کیس میں  ملزمان ہیں خیر سیشن جج نے مختصراً کہا کہ مغویہ بازیاب ہوگئی جواب ملا نہیں  اس نے کوئی حکم نامہ  جاری نہیں  کیا  اور اس حقیقت کے باوجود معاملہ لٹکا دیادو سال  بعدلڑکی گھر خود ہی واپس آگئی کورٹ میں بیان کروایا کہ ان لوگوں نے مجھے اغوا نہیں کیا تب کہیں جاکر  ملزمان کی  اس مقدمے سے جان چھوٹی اگر وہ  ذہنی ماتحتہ تربیت یافتہ ہوتی اور اس  مجسٹریٹ  صاحبہ کو اپنے اختیارات کا علم ہوتا تو تین بے گناہ انصاف کی سولی پر لٹکنے سے بچ جاتے لیکن اس نے کہا کہ میں تو صرف ڈاکیہ ہوں لیکن اس خود ساختہ ڈاکیئے کی وجہ سے   تین افراد دوسال تک اس مقدمے  بازی کا شکار رہے وہ بھی بلاوجہ
اسی طرح  آپ ذرا سوچیں کہ ایک لڑکی کے اغواہ کا مقدمہ ہو اور وہ  مغویہ لڑکی  خودکورٹ میں موجود ہو اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو کہ ہم آپس میں محبت کرتے ہیں ہم نے پسند سے شادی کی ہے  مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا  "میاں بیوی راضی کیا کرے گا قاضی "جج صاحب خدا کے واسطے میرے شوہر کی ہتھکڑی کھول دو اور سامنے جج کی کرسی پر بیٹھا ہوا نااہل   اس بے قصور کو اس بے گناہ کو  اسی لڑکی کے اغوا کے الزام میں جیل بھیج دے  کس جرم میں کس قاعدے کے تحت یہ بات اس ذہنی ماتحت کو خود بھی نہیں پتہ تو میں سوال کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو پولیس کا ذہنی ماتحت نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے پولیس کا ذہنی غلام نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے اس وقت کراچی میں نوے فیصد  مجسٹریٹس اسی قسم کے مشین ریمانڈ دیتے ہیں شاید ہی کسی کو توفیق ہوتی ہو کہ وہ معاملے کی تہہ تک جاتا ہو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ نوے فیصد جوڈیشل مجسٹریٹس کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ تفتیشی ڈائری کیا ہوتی ہے اور کیا تفتیشی افسر تفتیش کے دوران  یا ریمانڈ کے موقع پر کیس ڈائری لیکر آتا ہے  اور جس  مجسٹریٹ کو تفتیشی ڈائری پڑھنا آجائے تو پھر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تفتیشی افسر کسی بے گناہ کو ہتھکڑی لگا کر کورٹ لے آئے کریمینل جسٹس سسٹم ایک سوشل سائینس ہے اور سائنٹیفک بنیادوں پر عدلیہ پولیس کو کنٹرول کرسکتی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے پر ہم ایک سیمینار منعقد کریں گے اور رجسٹرار سمیت اعلٰی عدلیہ کے سامنے یہ معاملہ لیکر جائیں گے کہ جس طرح کے ریمانڈ موجودہ عدلیہ دے رہی ہے  اس سے تو مجسٹریٹ کے کام میں بلاوجہ اضافہ ہی ہے  جب بے گناہوں اور بے قصوروں کو مناسب وجوہات ریکارڈ پر لائے بغیر پولیس کے ساتھ ملکر جیل ہی بھیجنا ہے تو یہ کام تو ایک چپراسی ایک پٹے والے یا کسی جونیئر سطح کے کلرک سے لیا جاسکتا ہے پورے ضلع کیلئے ایک پٹے والا کافی ہے پولیس ریمانڈ لے آئے پٹے والا ٹھپے مار کے تفتیشی افسر کے حوالے کرتا جائے پولیس کی ذہنی ماتحتی کا عہدہ نبھانے کیلئے ایک چپراسی یا پٹے والے کی ضرورت ہے اور یہی فارمولہ چالان یعنی پولیس رپورٹ پر بھی نافذ کیا جاسکتا ہے ایک پٹے والا اتنی قابلیت رکھتا ہے کہ وہ انگلش میں  منظور کا لفظ لکھ سکے اس سے کورٹ کا آدھے سے زیادہ کام اور رش بھی ختم ہوجائے گا
کریمینل جسٹس  سسٹم کے اندر جب سے عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ ہوئی ہے  ایک سیشن جج کا کردار سب سے اہم ہوکررہ گیا ہے اسی طرح رجسٹرار کا کردار سب سے اہم ہے شہریوں  کی  پولیس سے حفاظت کیلئے ہمارے مجسٹریٹس نے تھانے جانا ہے ان کا ریکارڈ دیکھنا ہے تفتیش کے متعلق سولات کرنے ہیں    لاک اپ چیک کرنا ہے دیکھنا ہے کہ بغیر روزنامچہ کے کسی کو زیر حراست تو نہیں رکھا گیا ایک تھانے کو قواعد وضوابط کے اندر لانا ہے  اس کے بعد سارے معاملات اور ساری بے قاعدگیاں  سیشن جج کے نوٹس میں لاکر ان کو ٹھیک کرنا ہےیہ سندھ ہایئکورٹ کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہماری بار ایسوسی ایشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ  کم ازکم سندھ ہایئکورٹ کے زریعے اس ضابطے پر تو عمل درآمد کروا ہی دے کہ سیشن جج کے زریعے مجسٹریٹس تھانوں کے وزٹ کرکے وہاں سے بے قاعدگیاں ختم کروائیں اس کیلئے ماضی میں بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں  کیا یہ حقیقت نہیں کہ پورے سندھ کے کسی ایک تھانے میں بھی سیشن ججز مجسٹریٹس کو تھانے کا ریکارڈ لاک اپ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے معاملات دیکھنے کیلئے  وہاں نہیں بھیجتے کیا آپ کے پاس اختیارات کی کمی ہے یا آپ لوگ تھانہ کلچر کا  خاتمہ نہیں چاہتے اگر سول سوسائٹی آواز بلند کرے تو چند دن کے اندر عدلیہ کے تعاون سے تھانہ کلچر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے   اس حوالے سے ہماری سول سوسائٹی کو مسلسل آواز بلند کرنی ہوگی  


Monday, 13 October 2014

ایک دلچسپ جنگ ٭٭٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

وکالت کی شان یہ ہے کہ ایک وکیل بھرپور محنت کے بعد عدالت میں پیش ہوجائے اپنے دلائل ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش کرے ایسے وکیل کے ججز منتظر رہتے ہیں کیونکہ ایسے وکلاء ہی ججز  کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں اور نئے قانونی نقاط کے زریعے  ججز کے علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک وکیل جب اپنے کیس پر محنت کررہا ہوتا ہے تو  وہ محنت جج کے بھی کام آتی ہے
اسی طرح عدلیہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ وکیل کے دلائل کے مقابلے میں وہ ایسا قانونی نقطہ لاکر جو وکیل کی نظر سے کسی بھی وجہ سے اوجھل ہوتا ہے کو ریکارڈ پر لانے کے بعد اس درخواست کو مسترد کرے یہ جنگ  بہت دلچسپ ہوتی ہے عموماً جج کا ذاتی موڈ پیچیدہ معاملات میں درخواست کو مسترد کرنے کا ہی ہوتا ہے
اگر وکیل کے دلائل کا جواب دینے کے بعد جج صاحب کوئی ایسا آرڈر پاس کرتا ہے جس کے زریعے وکیل  کے قانونی نقاط کا جواب دیا جائے تو اس سے وکیل کے علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور کسی بھی قسم کا کوئی تنازعہ نہیں پیدا ہوتا ہے

تنازعہ اس وقت جنم لیتا ہے جب  درخواست خارج کردی جائے لیکن قانونی نقاط زیر بحث بھی نہ لائے جائیں اور وکیل کی محنت ضائع چلی جائے  

قتل کی ایف آئی آر درخت کے ساتھ باندھ دی جائے تو درخت سوکھ جائے: تحریر صفی الدین


ایف آئی آر کو دنیا کی سب سے خوفناک دستاویز کہا جاتا ہے اور پنجاب میں تو یہاں تک مشہور ہے کہ "قتل کی ایف آئی آر کسی ہرے بھرے درخت کے ساتھ باندھ  دی جائے تو وہ درخت چند دنوں میں سوکھ جائے"
ایف آئی آر  کے زریعے  ہمیشہ سے ہی صرف  مخالفین کو سبق سکھایا جاتا ہے   اور ایف آئی آر اپنے کسی بھی ذاتی یا سیاسی مخالف کو تباہ برباد کردینے کا  ہمیشہ سے ہی کامیاب زریعہ ہے ایف آئی آر کا مقصد ہرگز انصاف نہیں ہے بلکہ  مخالف کو نیچا دکھانا ہے بلکہ اگر اپنے مخالف سے بدلہ لینا ہو تو اس کو قتل کرنے کی بجائے چند جھوٹی ایف آئی آر رجسٹر کروادینا زیادہ سخت انتقام ہے
عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کے بعد عدلیہ کیلئے ایک امتحان  یہ ہے کہ عدلیہ کی بالادستی کو ثابت کرنا ہے
پولیس   ہمیشہ سے ہی ذہنی طور پر عدلیہ کو اپنا ماتحت سمجھتی ہے پولیس  اپنے تھانے میں بیٹھ کر عدلیہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مصروف رہتی ہے
کراچی میں چند ججز ہیں جنہوں نے عدلیہ  میں بیٹھ کر اپنے اختیارات  کے مناسب استعمال  کے زریعے  پولیس کی بالادستی کو چیلنج کیا ہے ان کو ہر سطح پر خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے
ایک مجسٹریٹ  ہی وہ اتھارٹی ہے جو عدلیہ میں بیٹھ کر پولیس کی بالادستی کو چیلنج کرسکتی ہے ان کو ظلم کرنے سے روک سکتی ہے
کیا یہ حقیقت نہیں کہ پولیس نوے فیصد بے گناہوں کو گرفتار کرتی ہے۔۔۔۔۔کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ پولیس تفتیش کے دوران سارا زور گرفتاری پر دیتی ہے  پولیس شواہد کی بجائے ملزم کو گرفتار کرکے رشوت وصول کرنے کے چکر میں رہتی ہے لیکن بدقسمتی  سے آج بھی مجسٹریٹس کی اکثریت مناسب وجوہات ریکارڈ کیئے بغیر  ان بے  قصور اور بے گناہ شہریوں کو مشینی انداز میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے
آج عدلیہ اور انتظامیہ دونوں الگ الگ ہیں  لیکن پولیس رشوت لینے کے ایک ہزار ایک  طریقے جانتی ہے پولیس کو وہ سارے ضابطے اور طریقے زبانی یاد ہیں جن کے زریعے وہ رشوت وصول کرتے ہیں
ایک  عام  سا ملزم بھی پولیس کو کم ازکم پچاس ہزار تو دے ہی جاتا ہے
پولیس ایک بھرپور ریسرچ رکھتی ہے  کہ اس نے کس طرح عدلیہ کو شکست دینی ہے  پولیس کا ایک میٹرک پاس تفتیشی افسر اس لیئے مکمل تیاری کے ساتھ آتا ہے کہ  اس نے ملزم سے اچھی خاصی رشوت لینی ہوتی ہے پولیس جانتی ہے کہ عدلیہ کا کندھا کب اور کس طرح استعمال کرنا ہے اس کی وجہ ان کا وہ زریعہ آمدن ہے جو وہ ایک مجسٹریٹ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر حاصل کرتے ہیں جبکہ پولیس کے مقابلے میں ہمارا مجسٹریٹ غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار ہے
آج عدلیہ میں بھی ایک سوچ پیدا ہورہی ہے کہ کہ کیا صرف ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر مناسب وجوہات ریکارڈ کیئے بغیرکسی کو جیل بھیجا جاسکتا ہے؟
آج عدلیہ کا سب سے اہم ترین پرزہ اور انتظامی اختیارات کا حامل عہدہ مجسٹریٹ یہ سوچ رہا ہے کہ   وہ    اگر وہ صرف پولیس کے کہنے پر اپنا عدالتی ذہن استعمال کیئے بغیر صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر  بے قصور افراد کو جیل بھیجنے کی ڈیوٹی پر مامور ہیں تو یہ کام تو پٹے والا یا کوئی جونیئر سطح کا کلرک بھی کرسکتا ہے؟
آج  ہمارے مجسٹریٹ بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر پولیس ریمانڈ کیلئے ایک مجسٹریٹ ہی کے پاس کیوں آتی ہے اگر صرف مشینی ریمانڈ دینے ہیں  اور اگر پولیس کے  کہنے پر صرف اور صرف ایف آئی آر ہی کی بنیاد پر لوگوں کو جیل ہی بھیجنا ہے تو یہ ٹھیکہ پورے ضلع میں ایک کلرک کو دیا جاسکتا ہے؟
اگرچہ یہ ایک خالص علمی بحث ہے کہ اگر کسی ملزم کے خلاف شہادت موجود نہیں ہے تو اس  کوجیل کیوں بھیجا جائے؟ اور اگر وہ بے قصور ہے تو اس کو رہا کیسے کیا جائے؟
سب سے پہلے تو یہ سوچنا ہوگا کہ مجرم کیا سوچ رکھتا ہے؟ وہ پولیس کا تفتیشی افسر جو ہرروز عدالت سے ریمانڈ لیکر جاتا ہے وہ کیا سوچتا ہے وہ کس طرح سے  بے گناہوں کو پکڑتا ہے وہ کس طرح سے بے قصوروں  سے رشوت وصول کرتا ہے
جب تک عدلیہ اس سوچ کا تعاقب  نہیں کرتی اس وقت تک وہ  اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کرسکتی
ان تمام مجسٹریٹ حضرات کو خراج تحسین جو  عدلیہ کے وقار کیلئے کوشاں ہیں   جو اپنی عدالتوں میں بے قصور افراد کی ہتھکڑیاں  کھول کر  بے گناہ افراد کو پولیس کے چنگل سے نجات دلاتے ہیں
لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اپنا موازنہ ان افراد سے کیوں کرتے ہیں جو صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر اچھے خاصے شریف آدمی کو شہادت کی غیر موجودگی میں جیل بھیج کر پولیس کے یس مین کا کرادار ادا کرتے ہیں
کیا عدلیہ کے اچھے لوگوں کا پولیس کے ذہنی ماتحت افراد کی حمایت کرنا  کھلا تضاد نہیں ؟
وہ زمانہ چلا گیا جب درخت پر قتل کی ایف آئی آر باندھنے سے درخت سوکھ جاتا تھا وہ زمانہ چلا گیا جب انتظامیہ کے پاس عدلیہ کے اختیارات بھی ہوتے تھے وہ زمانہ بھی چلا گیا جب پولیس  عدلیہ کا کندھا استعمال کرے گی تو ہم خاموش رہیں گے سوشل میڈیا سمیت ہر فورم پر بات کی جائے گی اور بھرپور بات کی جائے گی  
عدلیہ ہر صورت میں پابند ہے کہ وہ ان وجوہات کو  ریکارڈ پر لائے جن کے زریعے  ایک بے گناہ انسان کی آزادی کو ختم کرکے اس کو جیل  بھیجنا ضروری ہوجاتا ہے اگر  صرف اور صرف ایف آئی آر ہی کی بنیاد پر مناسب وجوہات ریکارڈ کیئے بغیر کسی کو جیل بھیجنا ضروری ہوتا ہے   تو یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔۔۔۔ایسے احکامات کے خلاف  ہم اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے

اگر عدلیہ اپنے مجسٹریٹس کی  اس موضوع پرمسلسل تربیت کا اہتمام کرے تو تھانہ کلچر کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہے 

Wednesday, 8 October 2014

یہ زندگی اتنی تو غنیمت نہیں جس کیلئے عہد کم ظرف کی ہر بات کو گوارا کرلیں

کراچی کے مضافاتی علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں
یہ وہ کچی بستیاں ہیں جہاں صرف سر چھپانے کیلئے لوگوں کو جگہ مل گئی ہے
یہاں کی سڑکیں اور گلیاں کچی ہیں نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں ہے اور  اکثر کچی آبادیاں پہاڑی علاقوں میں  موجود ہیں جہاں پررہنا بھی کسی المیئے سے کم نہیں
جرائم کیلئے یہ علاقے ہر لحاظ سے مناسب ہیں یہاں  وہ بچے رہتے ہیں جن کو تعلیم کی مناسب سہولت نہیں ملتی یہاں وہ بچے رہتے ہیں  جن کی تربیت وقت خود ہی کردیتا ہے بیروزگاری یا تو جرم کے راستے پر لیجاتی ہے یا کسی تنظیم سے منسلک کروادیتی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان نے ایسے ہی علاقوں میں قانونی مراکز قائم کیئے قانونی امداد کے ساتھ ہی ہم ایڈوکیسی کے حوالے سے پروگرامات بھی کرتے ہیں جن میں خواتین کی بھی شرکت ہوتی ہے
گزشتہ چند سالوں سے صورتحال بدل رہی ہے کچی آبادیوں میں بھی  ایسے نئے چہرے نظر آتے ہیں جن کا تعلق اس آبادی سے نہیں ہوتا ہے اسی دوران  ان کچی آبادیوں میں کالعدم تنظیموں نے اپنی تنظیم سازی کا عمل بھی مکمل  کرلیا جس کے بعد کراچی کی بنیادی سہولیات سے محروم کچی  بستیاں  کالعدم تنظیموں کی آماجگاہ بن گئی ہیں
اور ایسی تنظیمات جن کے عالمی سطح پررابطے ہیں ۔ بہت سے لوگ اس حقیقت سے نظر چرارہے ہیں کہ کراچی میں  فرقہ واریت کی شدید لہر موجود ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے
ہمارے مقامی آفسز کو ملنے والی دھمکیاں ایک معمول کا حصہ بن گئی  تھیں اور مقامی کمیونٹی کی مکمل حمایت کی وجہ سے شاید ہم نے ان کو سنجیدگی سے لینا چھوڑدیا تھا لیکن بدقسمتی سے یکم اکتوبر 2014 کا دن ہمارے لیئے ایک سیاہ ترین دن ثابت ہوا جب چار مسلح افراد ہمارے ایک پسماندہ علاقے میں واقعہ   ویمن اینڈ چلڈرن کرائسز سینٹر میں داخل ہوئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ  فون پر دھمکی دینے اور اچانک سامنے آکر دھمکی دینے میں فرق ہوتا ہے
مختصر یہ کہ مسلح افراد نے تین دن میں اپنی سرگرمیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلیئے بند کرنے کا حکم دیا اسی دوران انہوں نے میرا بیگ اٹھا لیا جس میں میرا لیپ ٹاپ اور ایک ڈیجیٹل کیمرہ تھا  میرا مکمل ریکارڈ اس لیپ ٹاپ میں موجود تھا اور میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اچانک اس سے محروم ہوجاؤں گا فطری طور پر مزاحمت کی غلطی کی جو کہ سنگین ثابت ہوئی اور ایک مسلح شخص نے ہاتھ میں پکڑے پستول سے میرے سر پر بٹ مارے ایک آنکھ کی چوٹ سنگین ثابت ہوئی نتیجے کے طور پر میں شدید زخمی ہوگیا مسلح افراد فرار ہوگئے اور میرے ساتھیوں نے مجھے اسپتال پہنچایا جہاں آنکھ کا آپریشن ہوا اللہ کا شکر ہے کہ اب میں بالکل ٹھیک ہوں
اس واقعہ کا کمیونٹی نے سخت نوٹس لیا اور اپنی مکمل حمایت کے ساتھ ہمارے بعض سپورٹرز نے کہا کہ ہم ان  عناصر کے خلاف خود ہی نوٹس لیتے ہیں
ہمیں اپنے دوستوں اور کمیونٹی پر فخر ہے ہم کمیونٹی کو یہ بھی یقین دلاتے ہیں کہ ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک پاکستان کو شدت پسندی سے بچانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ  یہ عناصر کوئی مقامی گروپ نہیں ہیں ان کے انٹرنیشنل رابطے اور انٹرنیشنل ایجنڈا ہے اس لیئے ہم فی الحال کراچی کی کچی بستیوں سے اپنا قانونی امداد کا پروگرام پندرہ دن کیلئے معطل کررہے ہیں اور اپنے سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنا کر ہم اپنے آفسز دوبارہ کھول دیں گے
لیکن میں پاکستان کے پرامن شہریوں  کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بنیادی سہولیات سے محروم ان بستیوں میں ایک لاوہ پک رہا ہے فرقہ واریت  کی فصل تیار ہورہی ہے  ایک نفرت کی ایسی آگ سلگ رہی ہے جو کسی بھی وقت ایک مستقل سانحے کا سبب بن سکتی ہے
کراچی میں مستقبل میں فرقہ واریت ایک مشکل ترین مسئلہ ہوگا ہماری سول سوسائٹی کو اس حوالے سے کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور کراچی میں فرقہ وارانہ تصادم بہت بڑے پیمانے پر ہوگا جس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے کراچی میں کالعدم تنظیموں نے ایک الگ سے عدالتی نظام بھی تشکیل دے رکھا ہے  جہاں انسانی حقوق  اور خواتین کے حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں  
جن دوستوں نے عیادت کی ان کا شکریہ جن دوستوں نے اپنے تعاون کا یقین دلایا ان کا شکریہ اور میرے بہت سے دوستوں نے حکمت عملی سے کام لینے کا مشورہ دیا میں صرف اتنا کہوں گا مجھے اپنی جان کی کبھی کوئی پرواہ نہیں رہی   لیکن اپنے رضاکاروں اور کمونٹی ممبرز کی جان  ومال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قربانی دیں گے مشکل حالات کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں حکمت عملی سے کام لیں گے لیکن انتہاپسند عناصر کے سامنے سرجھکانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں اس فلسفہ پر یقین رکھتا ہوں کہ
یہ زندگی اتنی تو غنیمت نہیں جس کیلئے
 عہد کم ظرف کی ہربات گوارا کرلیں


Friday, 3 October 2014

جسٹس ٹانگری تحریر صفی الدین




یہ قیام پاکستان سے پہلے کا واقعہ ہے جب اعلٰی عدلیہ میں صرف انگریز جسٹس ہوا کرتے تھے ابھی کالے پیلے لوگوں کو جسٹس بنانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا  اندرون سندھ کے دور دراز علاقے میں ایک غریب کوہلی نوجوان کو  بکری چوری کا جرم ثابت ہونے پر ایک مجسٹریٹ نے دوسال قید کی سزا سنائی
مجسٹریٹ نے ججمنٹ اناؤنس کردی اور اپنے چیمبر میں چلاگیا اس نوجوان کی ماں روتی پیٹتی چیمبر میں گئی اور فریاد پیش کی کہ یہ نوجوان میرا اکلوتا بیٹا ہے اس پر رحم کرو  یہ اگر جیل چلا گیا تو ہم بھوکے مرجائیں گے ہمارا کوئی کمانے والا نہیں ہے جج نے فائل منگوائی بوڑھی عورت باہر چلی گئی اور اس نے  اپنی ججمنٹ کے نیچے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد سزا میں ایک سال کی تخفیف کردی پیشکار نے بوڑھی عورت کو کہا کہ جج صاحب نے سزا ایک سال کردی ہے
بوڑھی عورت دوبارہ اجازت لیکر چیمبر میں گئی اور دوبارہ فریاد کی  اور کہا کہ یہ سزا بھی بہت زیادہ ہے میرا ایک ہی بیٹا ہے یہ کماتا ہے تو ہمارا گھر چلتا ہے آپ رحم کریں ہم بہت غریب ہیں
مجسٹریٹ نے دوبارہ  اس بات کو شیئر کیا اورایک حکم نامہ لکھا اور سزا کم کرکے تین ماہ کردی جس کے بعد  اس پیشکار نے دوبارہ اس بوڑھی عورت کو جاکر یہ بات بتائی جس کے بعد وہ بوڑھی عورت اس کے بچوں کو لیکر اندر گئی اور جج سے دوبارہ فریاد کی کہ یہ اس کے بچے ہیں اور ایک ہی کمانے والا ہے آپ ہمارے حال پر رحم کریں  ہم لوگ جیتے جی مرجائیں گے جس کے اس بوڑھی کے حالات کو سامنے رکھنے کے بعد اس کے چھوٹے بچوں کی حالت کو سامنے رکھنے کے بعد اس نوجوان کی سزا میں مزید کمی کرنے کے بعد اس کو صرف ایک دن کیلئے جیل بھیج دیا اور ایک بار پھر اپنے اناؤنس شدہ حکم نامے میں ترمیم کی
کورٹ اسٹاف  تو ازل سے ہی چغل خور رہا ہے ذراسی دیر میں یہ بات سیشن جج تک پہنچ گئی سیشن جج نے طلب کیا مجسٹریٹ نے کہا  میں نے جو مناسب سمجھا کیا ہے
سیشن جج نے فوری طور پر کیس کا ریکارڈ طلب کیا اور کراچی میں موجود سندھ ہایئکورٹ کے پاس بھیج دیا چند روز بعد سندھ ہایئکورٹ نے اس مجسٹریٹ کو طلب کیا
جب مجسٹریٹ  انگریز جسٹس کے چیمبر میں داخل ہوا تو اس نے اسے مخاطب کیا  اور کہا کہ جسٹس ٹانگری آپ تشریف رکھیں
یہ سن کر مجسٹریٹ پریشان ہوگیا وہ سمجھا کہ شاید جسٹس صاحب طنزیہ طور پر اس کو جسٹس ٹانگری کہہ رہے ہیں اب خیر نہیں
انگریز جسٹس نے کہا کہ  آپ نے بالکل ٹھیک کیا اچھا آرڈر کیا آپ نے ہم یہاں بیٹھے ہیں ہمیں دور دراز کے لوگوں کے حالات مسائل نہیں پتہ آپ وہاں موجود ہیں آپ نے اس علاقے کے حالات و واقعات کو سامنے رکھنے کے بعد بالکل ٹھیک حکم جاری کیا ہے
اس بات پر اس انگریز جسٹس نے مجسٹریٹ کی بہت حوصلہ افزائی کی

ہم کبھی کسی فرد کو نشانہ نہیں بناتے اور سسٹم میں بہتر تبدیلی کیلئے کوشاں ہیں  
  ایک مجسٹریٹ کا عہدہ اور اختیار چیف جسٹس سے بھی زیادہ ہے  اگر اس کو اپنے آدھے اختیارات کا بھی علم ہوجائےاگر ایک مجسٹریٹ مکمل لیڈرشپ کے ساتھ اپنے اختیارات کو استعمال کرے تو سارا معاملہ ہی ختم ہوجائے گا اور تھانہ کلچر کیوں ختم نہیں ہوگا؟
سوشل میڈیا پر اگر ہم کسی پر تنقید کرتے ہیں کسی عدالتی حکم نامے کو شرمناک قرار دیتے ہیں تو یہ ایک جرم ہے اور سائیبر کرائم ہے تو متاثرہ شخص کو چاہیئے کہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے اور ہمارے خلاف سایئبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کروائے ہم ہمیشہ اس کے احسان مند رہیں گے اس معاملے پر اگر کوئی ہمارے ساتھ رعایت کرتا ہے تو وہ بھی مجرم ہے
صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر جب مجسٹریٹ کے سامنے یہ شہادت پیش کی جاچکی ہو کہ ملزم بے گناہ ہے اور ملزم کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو اور مجسٹریٹ ملزم کی بے گناہی کا خود گواہ بن گیا ہو تو ایسی صورت میں ایک مجسٹریٹ کو چاہیئے کہ وہ "جسٹس ٹانگری" بن جائے اور وہ ایک بااختیار انسان ہونے کا مظاہرہ کرے

چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم اس معاملے کی تہہ تک ضرور جائیں گے وہ کیس لاء کس کے پاس موجود ہے جس کے تحت ایک بے گناہ انسان کو جیل بھیجنے کا قانونی جواز ہے 

Sunday, 21 September 2014

کراچی کی مضافاتی بستیوں میں کالعدم تنظیموں کا عدالتی نظام ایک نیا چیلنج



گزشتہ سال ایک فیملی کیس میں  لڑکے کی طرف سے پیش ہوا تھا تو میری خواہش تھی کہ یہ کیس  ثالثی  اور بات چیت کے زریعے حل ہوجائے کیونکہ جہیز کی دو طرفہ لسٹ میں کوئی تنازعہ نہیں تھا لڑکا اپنی تنخواہ کے حساب سے  اپنے بچے کے اخراجات کی مد میں  ماہانہ رقم ادا کرنا چاہتا تھا اور اگر لڑکی کا وکیل کوشش کرتا تو صلح بھی ہوسکتا تھی  بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا سماعت شروع ہونے سے پہلے میں نے لڑکی کے بھائی سے جو کورٹ میں موجود تھا کہا کہ آپ لوگ اس کیس کو  ثالثی کے زریعے عدالت سے باہر بات چیت سے حل کرلیں میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کے قانونی حقوق متاثر نہیں ہونگے جہیز  کا سامان جس کی مالیت 350000 ساڑھے تین لاکھ روپے نقد ہے وہ تو آپ کو کل ہی مل جائے گا اور باقی معاملات بھی حل ہوسکتے ہیں
بدقسمتی سے لڑکی کے وکیل نے ان کو شاید ایسے خواب دکھا رکھے تھے کہ  انہوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ  ایک پنجابی محاورہ کہا کہ ہم کورٹ کے خرچوں اور پیشیوں سے نہیں ڈرتے جو لوگ اونٹ پالتے ہیں اپنے دروازے اونچے رکھتے ہیں
مختصر یہ کہ خلع کا کیس لڑکی کے حق میں ہوگیا۔لڑکے کی ماہانہ تنخواہ کی روشنی میں  عدالت نے بچے کا ماہانہ خرچ 2000 روپے مقرر کیا  جب بچے کا ماہانہ خرچ دوہزار روپے مقرر ہوا تو لڑکی کو سکتہ ہوگیا کیونکہ اس کے وکیل نے یہ خواب دکھا رکھا تھا کہ ماہانہ خرچ  کم ازکم دس ہزار روپے مقرر ہوگا اگرچہ  دوہزار بہت کم رقم ہے لیکن لڑکے کی ماہانہ تنخواہ ہی دس ہزار روپے ہے تو عدالت نے یہی فیصلہ کرنا تھا
بعد ازاں اسی معاملے پر ان کی وکیل سے بدمزگی بھی ہوگئی بعد ازاں لڑکی کے وکیل نے اپنے کلائینٹ کو یہ کہا کہ تم لوگ کیس جیت گئےہو
اور خلع کی ڈگری بھی کورٹ سے جاری کروا دی بعد ازاں جج کا ٹرانسفر ہوگیا
لڑکی کا بھائی کافی عرصے تک وہ کورٹ کی جاری کردہ ڈگری لیکر گھومتا رہا اس کو انصاف نہ ملا عدالت میں جج بھی نہ تھا اس لیئے کیس تیل لینے چلا گیا
کافی عرصے دھکےکھانے کے بعد  لڑکی کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کے آفس جا پہنچا  وہاں بتایا کہ میں کیس جیت گیا ہوں فلاں ابن فلاں میری بہن کے جہیز کا سامان  عدالت  کے حکم کے باوجود واپس نہیں کررہا اور نہ ہی بچے کا ماہانہ خرچ ادا کرتا ہے مختصر یہ کہ امیر صیب نے   میرے  کلائینٹ کو بلوایا اور اس کو حکم دیا کہ وہ کورٹ کے حکم کے مطابق جہیز کا سامان مدعی مقدمہ کو واپس کردے
میرے کلائینٹ  نے امیر صیب کو بتا یا کہ ابھی مقدمہ زیرسماعت ہے اور یہ ڈگری صرف خلع کی ہے اس لیئے جہیز کا سامان واپس نہیں مل سکتا  کیونکہ یہ  خود غیر شرعی کورٹ گیا ہے میں نہیں گیا مزید یہ کہ  اب سامان کورٹ کے حکم کے مطابق ہی واپس ملے گا
کالعدم تنظیم کے امیر نے حکم دیا کہ اب اس مقدمے کا فیصلہ شریعت کے عین مطابق فلاں تاریخ کو ہوگا
خیر مقررہ تاریخ کو یہ فیصلہ ہوا کہ لڑکی کا بھائی ہر ہفتے کالعدم تنظیم کے آفس میں بچے کی ملاقات اس کے باپ سے کروائے گا اگر تم لوگ بچے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو بچہ باپ کے حوالے کردو وہ خود ہی پال لے گا
جہیز کا سامان بچے کے  باپ کے پاس بطور امانت رہے گا کیونکہ تم لوگ (لڑکی والے)کرائے دار ہو اس لیئے کوئی بھروسہ نہیں کہ بچہ ہی لیکر بھاگ جاؤ اس لیئے جب بھروسہ آجائے گا تو جہیز کا سامان واپس کردیا جائے گا مزید یہ کہ آئیندہ فریقین عدالت نہیں جائیں گے عدالت میں جاری مقدمات خود ہی مٹی میں مل جائیں گے جب کہ وہ لڑکا جہیز کا آدھا سامان اب بیچ بھی چکا ہے
مجھے نہیں پتہ یہ جہالت پر مبنی فیصلہ کس اسلامی شریعت کے مطابق ہے لیکن اس قسم کے بے شمار فیصلے کالعدم تنظیموں  اور  مافیاز کے لوگ طاقت کے بل بوتے پر کرہی دیتے ہیں
لیکن سوال یہ ہے کہ فریقین تو عدالت  میں انصاف کیلئے آئے تھے وہاں ان کو انصاف کیوں نہیں ملا
جب ایک لڑکی انصاف کی تلاش میں دھکے کھاتی ہوئی عدالت میں پہنچ گئی تھی تو اس کو انصاف کیوں نہیں ملا
بدقسمتی یہ بھی ہے کہ جب پاکستان میں تنازعات کے متباد ل حل کی کوششیں ہوئیں تو سندھ ہایئکورٹ نے بحیثیت ادارہ ان کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ایک  پرایئویٹ ادارے کراچی سینٹر فار ڈسپیوٹ ریزولوشن کی بنیاد رکھی جس میں اپنے بیروزگار اور ریٹائرڈ جسٹس صاحبان کو روزگار دیا اللہ اللہ خیر صلا
جب نیت میں ہی فتور ہو تو منصوبے کامیاب نہیں ہوتے
 Safi

Friday, 19 September 2014

پرانے شکاری ایک بار پھر نیا مگر مضبوط ریشمی جال لیکر آچکے ہیں



جو تبدیلی بتدریج  آتی وہی مستقل ہوتی ہے اور راتوں رات جو انقلاب آتے ہیں ایسے انقلاب اپنے ہی بچوں کو
 کھاجاتے ہیں  سب سے پہلے تو ان دوستوں کو یہ بتادوں  جو یہ کہتے ہیں کہ کرا چی بار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یہ بات درست نہیں ہے گزشتہ سات برس کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن  میں بے شمار تبدیلیاں آچکی ہیں اور قیاد ت نوجوان وکلاء کے پاس ہے
کراچی بار کی پارکنگ سیکورٹی رسک کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے  جس کو کراچی بار کسی حد تک حل کرچکی ہے   اور کیونکہ یہ تبدیلی بھی چونکہ  بتدریج آئی ہے اس لیئے محسوس نہیں ہوتی
کراچی بار کی  کتابوں سے محروم سابق لایئبریری ایک چھوٹے سے کمرے میں موجود تھی جس میں زیادہ سے زیادہ تیس وکلاء آتے تھے  اس کی جگہ ایک عظیم الشان لایئبریری لے چکی ہے جو جدید ترین کمپیوٹر لیب سمیت ہرقسم کی سہولیات سے آراستہ ہے  اور گنجائیش بھی بہت زیادہ ہے پہلے ریفرنس بکس کا مطالعہ کرنے ہایئکورٹ جانا پڑتا تھا  جبکہ آج کراچی بار کی جدید ترین لایئبریری میں ہرقسم کی ریفرنس بک موجود ہے اور کراچی بار کی لایئبریری   اس وقت ہایئکورٹ بار ایسوسی ایشن کی لایئبریری سے کہیں زیادہ اپ ڈیٹ اور جدید ترین  ہے

کراچی بار نے اس سال کسی حدتک جعلسازی کا خاتمہ کروایا اور ایک اہم کردار ابھی تک جیل میں موجود ہے
کراچی بار کی نوجوان قیادت کی زیرنگرانی جدید سہولیات سے آراستہ پارکنگ زون کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے
کورٹس میں لفٹس کی تنصیب کا منصوبہ زیرغور ہے اس کے علاوہ ایک جدید ترین ویریفیکیشن سینٹر کی تعمیر کاکام بھی جاری ہے یہ وہ اقدامات ہیں جو کراچی بار نے گزشتہ چند سال کے دوران کیئے ہیں اگرچہ کارکردگی مثالی ہر گز نہیں لیکن کفن چوروں کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر ہے
 جبکہ سینئرز مافیا نے 1980 سے لیکر صرف دو برج بنائے جن کے زریعے  دومختلف اضلاع  کی عمارات کو آپس میں ملادیا گیا تھا اس  کے علاوہ ان لوگوں نے کراچی بار میں ٹیڈی پائی کا کام نہیں کیا صرف اپنے ہی مفادات حاصل کیئےبلکہ  کفن چوروں نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آن لائن عدلیہ کو ناکام بنانے کیلئے سیشن جج کا ہی ٹرانسفر کرواکر عدلیہ کو کرپشن سے پاک کرنے کا منصوبہ ناکام بنادیا
آج سے پانچ سال پہلے سندھ بار کونسل کے الیکشن میں اسی قسم کے  کھوکھلے دعوے ہوئے تھے لیکن منتخب ہونے کے بعد وہ سب وعدے بھلا دیئے گئے منتخب ہونے والے نئے ممبران بھی اسی رنگ میں رنگ گئے کئی باروائس چیئر مین کے انتخاب  میں  بولی لگا کرووٹس بیچ دیئے گئے
چند ممبران تو ایسے بے وفا نکلے کہ منتخب ہونے کے بعد پورے پانچ سال بعد انہیں کراچی بار کی یاد کبھی خواب میں بھی نہ آئی
شیریں جناح کالونی کے پلاٹ پر اسپتال بنانے کے دعوے جھوٹ اور فریب ثابت ہوئے اندرون ملک سے کراچی آنے والے وکلاء کیلئے ہاسٹل کی تعمیر کا وعدہ مکر اورجھوٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا کوئی ہاسٹل تعمیر نہیں ہوا نہ ہوگا نہ یہ کفن چور ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ ان کو کوئی ضرورت ہے
سندھ بار کونسل صرف اور صرف لائیسنس جاری کرنے کی مشین ہے اس کے علاوہ اس کا دوسرا کوئی مقصد ہمیں سمجھ نہیں آیا سندھ کے مقابلے میں پنجاب کے وکلاء کو اپنی  بہتر قیادت کی وجہ سے ہاسٹل سمیت بے شمار سہولیات حاصل ہیں  جن کا سندھ کے وکلاء تصور بھی نہیں کرسکتے
آج پانچ سال بعد پھر ایک موقع مل رہا ہے اگر فرصت مل جائے تو تھوڑا سا ریکارڈ دیکھ لیں کہ کراچی سے منتخب ہونے والے ممبران کب سے منتخب ہورہے ہیں اور ان کے پاس کیا پروگرام ہے یہ کیا خدمت سرانجام دے چکے ہیں اور ان کے پاس مستقبل کا کیا پلان ہے
حقیقت یہ ہے کہ  مستقبل کے کسی بھی پلان سے محروم سابقہ قیادت ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے اب سوال یہ ہے کہ وکلاء کیا کریں  کس کو ووٹ دیں میرے خیال میں اس کا آسان حل یہ ہے کہ سابقین کو مسترد کردیا جائے اس لیئے کہ یہ وہ آزمائے ہوئے لوگ ہیں جن کے پاس سرے سے کوئی پروگرام موجود ہی نہیں ہے یہ نام نہاد وکلاء رہنما
بڑے فخر اور حقارت سے کہہ دیتے ہیں کہ وکیلوں کو دو بڑے کھانے کھلادیں گے ایک بھینس کے پائے کی پارٹی کھلادیں گے جس کے بعد دعوت میں آئے افراد جب پائے کی پلیٹ منہ سے لگاکر  غٹا غٹ گھونٹ بھرنے کے بعد مونچھوں پر ایک تاؤ دیں گے تو پھر ان سے ووٹ لینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اسی طرح بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وکلاء کو سال میں ایک بار کورٹ کی ڈائری لائن  میں لگاکر اور ان کے لائیسنس کی کاپی وصول کرنے کے بعد جب مفت   ڈائری دی  جائے گی تو ووٹ پکا بدقسمتی دیکھیں کہ  سوروپے والی مفت ڈائری لینے والوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے جو ہاتھ میں اپنے لائیسنس کی فوٹو کاپی لہر ا کرسوروپے کی ڈائری وصول کرتے ہیں سوچیں کہ سوروپے کی اوقات ہی کیا ہے  کیا ان لوگوں سےڈائری دینے والوں اور لینے والوں سےہم تبدیلی کی کوئی امید رکھ سکتے ہیں اللہ کا شکر کہ ان قطاروں میں نوجوان وکلاء نہیں ہوتے اور نہ ہی نوجوان وکلاء پائے کی پلیٹوں کو منہ سے لگا کر غٹاغٹ گھونٹ بھرکرکسی کے ووٹ پکے کرتے ہیں  
سوال یہ ہے اس وقت ان لوگوں کے پا س کوئی پروگرام موجود نہیں جو کئی بار پہلے بھی منتخب ہوچکے ہیں  وہ صرف ممبر بننا چاہتے ہیں اور ممبر بن کر سندھ بارکونسل کے وسائل کو ہڑپ کرنے کا گھناؤنا کاروبار دوبارہ سے  جاری رکھنا چاہتے ہیں
اس لیئے اس سال سندھ بار کونسل کا پہلا اصول یہ یاد رکھیں کہ دوسری بار الیکشن لڑنے والوں کو واپسی کا محفوظ راستہ دکھانا ہے اور سابق قیادت جو ناسور بن چکی ہے   اس گھاؤ سے جان چھڑانی ہے
نوجوان وکلاء کو موقع ملنا چاہیئے جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں  جو تعلیم یافتہ ہیں  جن  کے پاس کچھ کرنے کی خواہش ہے جن کے پاس کوئی پروگرام ہے
پانچ سال بعد احتساب کا وقت قریب آچکا ہے اور ظلمت شب کے اندھیروں میں افراتفری ہے اگر پھر کسی نہاری بیچنے والے باورچی کسی قصائ  کسی کے ضعیف گھر داماد کو منتخب کرنے کی حماقت کی گئی تو بار کونسل کے حالات ایسے ہی رہیں گے
آئیے   قائداعظم جیسے کسی  وکیل کو اپنا آئیڈیل بنا کر یہ عہد کریں کے  کسی پڑھے لکھے سلجھے  ہوے وکیل کو سندھ بار کونسل کا ممبر منتخب کریں گے
نوجوان وکلاء کو سوروپے کی مفت ملنے والی ڈائری پر لعنت بھیجنی ہوگی اور ہر قسم کے ڈنر ز کا مکمل بایئکاٹ کرنا ہوگا ایک وکیل کا ووٹ اتنا سستا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک بریانی کی پلیٹ پر بک جائے


پرانے شکاری ایک بار پھر نیا مگر مضبوط  ریشمی جال لیکر آچکے ہیں

Thursday, 18 September 2014

عدلیہ کے مائینڈ سیٹ کی تبدیلی بھی ضروری ہے



ایک عام ااور غریب آدمی کی زندگی میں یہ تبدیلی آرہی ہے کہ وہ جب اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں تو اب حق مہربتیس روپے بارہ آنے حق مہر شرعی مقرر نہیں کیا جاتا اور اس کے ساتھ ساتھ لڑکی کے قانونی حقوق کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اب ایسے نکاح نامے شازونادر ہی نظر آتے ہیں  جن میں حق مہر بتیس روپے لکھا ہو   لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ شادی جیسے مقدس بندھن کو بھی ہمارے معاشرے میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یہ سوچ موجود ہے کہ ہم جب چاہیں گے جس وقت چاہیں گے کچے دھاگے سے بھی اس کمزور بندھن کو توڑ کر پھینک دیں گے ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا  ہر سطح  کے علاوہ دور دراز علاقوں اور کچی آبادیوں میں یہ سوچ  اس لیئے موجود ہے   کہ رشتوں کو مذاق بنانے والے بھی جانتے ہیں کہ قانونی کاروائی ایک مہنگا سودا ہے  اس لیئے قانونی حقوق محفوظ ہونے کے باوجود عورت کے پاس جب کھانے کے پیسے بھی نہیں ہونگے  اور عدالت آنے جانے کے اخراجات  بھی نہیں ہونگے تو وہ قانونی کاروائی  خاک کرے گی اور ایک پروفیشنل ایڈوکیٹ ایک خاص حد تک ہی کسی غریب کی قانونی امداد کرسکتا ہے ایسی صورتحال میں دستگیر لیگل ایڈ سینٹر ظلم وتشدد کا شکار خواتین کو مفت قانونی امداد فراہم کرکے ان کے قانونی حقوق کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر ان خواتین کو جن کے پاس وسائل بالکل بھی نہیں ہوتے
دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں کراچی کے انتہائی دور دراز علاقے سے آنے والی خواتین کے ساتھ شادی کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں ان کو سن  کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے  معاشرے میں شادی  جیسے مقدس بندھن کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا کوئی بھی شخص کسی بھی وقت کسی لڑکی  سے شادی کرنے کے بعد جب اس سے دل بھر جائے تو اس کو ماں باپ کے دروازے  کے سامنے کھڑا کرکے چلاجاتا ہےیا دھکے دیکر نکال دیتا ہے  
سوال یہ ہے کہ شادی جیسے مقدس بندھن کو سنجیدہ نہ لینے کی کیا وجوہات ہیں
بے شمار وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ  قانون کا خوف نہ ہونا اور لوگوں کا عدالت کے اخراجات برداشت نہ کرپانا ہے اور ایک زوال پزیر معاشرے کی عدلیہ کا وہ متحرک کردار ادا نہ کرپانا جس کی سوسائٹی عدلیہ سے توقع رکھتی ہے
 گزشتہ دنوں ایک کم سن لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں آئی اس کی عمر صرف  سترہ سال تھی اور وہ ایک بچے کی ماں تھی اس کے ساتھ اس کی والدہ بھی تھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے اپنی بیٹی کی شادی صرف پندرہ سال کی عمر میں کردی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ لڑکی کا باپ بیمار تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں اپنی زندگی میں ہی بیٹی کی شادی کردوں  یہی وجہ تھی کہ  ایک علاقے میں رشتے کرانے والی عورت کے زریعے انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کردی تھی  بعد ازاں یہ رشتہ کامیاب نہ ہوا لڑکے نے ایک سال تک بیوی کو ساتھ رکھا اور جب  اس کی کم سن اہلیہ امید سے ہوگئی تو ایک دن بغیر کچھ بتائے وہ غائب ہوگیا بچے کی پیدائش گھر میں ہی ہوئی اور ہم نہ جانے کس طرح یہ سوچتے ہوئے برداشت کریں گے کہ ایک  سولہ سال کی کمسن بچی نے لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں  بچے کو جنم دیا ہوگا مجھے تو یہ سوچ کرہی صدمہ ہوا کہ ایک کمسن بچی پر کیسی قیامت گزرگئی ہوگی اور نہ جانے وہ کیسے موت کے منہ سے بچ کر نکلی ہوگی
اس کی ماں نے بتایا کہ ہم زچگی کے اخراجات برداشت نہیں  کرسکتے تھے اور لڑکی کی جان کو شدید خطرہ تھا اللہ نے نئی زندگی دی
لیکن اس سارے معاملے میں ایک قانونی پہلو بھی ہے  جس کی وجہ سے اس لڑکے واپس آنا پڑا اور وہ یہ تھا کہ شادی کے وقت جہاں والدین نے مجرمانہ طور پر ایک پندرہ سال کی بچی کی شادی جلد بازی میں کردی وہیں لڑکی کی والدہ نے اپنے علاقے میں موجود ایک سینئر ایڈوکیٹ سے  نکاح نامے سے متعلق مشورہ بھی لیا  جن کے مشورے کے مطابق نکاح نامے کا کوئی بھی خانہ خالی نہیں ہے اور حق مہر میں دوایکڑ زرعی زمین بھی لکھوائی گئی ہے اس کے باوجود وہ لڑکا جس کی نیت ہی  فراڈ اوردھوکہ دینے کی تھی اس نے نکاح کے وقت اپنا نام ہی غلط لکھوایا  اور کہا کہ میرا شناختی کارڈ گم گیا ہے  جس پر نکاح خوان نے نکاح نامے پر دستخط کی بجائے لڑکے سے انگوٹھا لگوالیا جس کی وجہ سے اس کے خلاف اب دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی بن سکتا ہے
بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد اس لڑکی کا شوہر دوبارہ واپس آگیا اور ایک کمرے کا مکان کرائے پر لیکر رہنے لگا چند روز بعد دوبارہ تنازعات شروع ہوگئے اسی دوران اس کے شوہر نے چند کاغزات تیار کروالیے اور وہ کاغزات اپنی بیوی کے پاس لایا کہ یہاں دستخط کردو کہ میں حق مہر کی دوایکڑ زمین اپنی رضامندی سے معاف کرہی ہوں  جس پر لڑکی نے بتایا کہ وہ اپنی ماں سے پوچھ کر  دستخط کرے گی جس کے بعد تکرار بڑھ گئی اس کے شوہر نے مارنے کیلئے ڈنڈا اٹھا لیا جس کے اس لڑکی نے اپنے چند ماہ کے بچے کو اٹھایا اور اپنی جان بچا کر پڑوسیوں کے گھر میں گھس گئی  اس کا شوہر اس کو تلاش کرتا رہا لیکن اس کو یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس کی بیوی کس کے گھر میں گھسی ہے  کئی گھنٹے گزرنے کے بعد  جب اس کا شوہر چلا گیا تو پڑوسی کی رحم دل بیوی نے اس کی ماں کو اطلاع دی جس کے بعد اس کی والدہ لڑکی کو اپنے گھر بحفاظت لے گئی
اس پورے واقعے میں ہمیں والدین کی غفلت کے بےشمار پہلو نظر آتے ہیں جنہوں نے   مجرمانہ طور پر اپنی  بیٹی کی شادی کم عمری میں ہی طے کی   جنہوں نے اپنی بیٹی کی خود ہی قدر نہیں کی لیکن ان کے پاس ایک قانونی  دستاویز موجود ہے جس کے مطابق  اس لڑکی کے بہت سے حقوق اس لڑکے نے ادا کرنے ہیں  اس کو حق مہر کے پچاس ہزار روپے اداکرنے ہیں   اس کو دو ایکڑ زرعی زمین دینی ہے   انشاءاللہ ہم عدالت میں جائیں گے اور ایک ایسے ظالم کا تعاقب ضرور کریں گے جس نے نکاح کو مذاق سمجھا  شادی کے مقدس بندھن کے زریعے ایک کم عمر لڑکی کی زندگی برباد کردی
ہم سندھ ہایئکورٹ کے شکر گزار ہیں  جنہوں نے  گزشتہ دنوں ہماری  چند درخواستوں پرسخت ترین نوٹس لیئے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے  عدالت کو چاہیئے کہ فیملی مقدمات کی سماعت کو تیزرفتاری سے نمٹانے کی کوشش کرے کورٹ کی "رٹ" نظر آئے کیونکہ اکثر فیملی مقدمات صرف اس وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں کہ فریقین تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کو انصاف نہیں ملتا عدلیہ کو اب کم ازکم فیملی مقدمات میں آہنی ہاتھ رکھنا ہوگا خصوصی طور پر وہ علاقے جہاں کچی آبادیاں موجود ہیں وہاں کیلئے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے اب قوانین کی بجائے عدلیہ کے مائینڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہوچکی ہے رشتوں کو مذاق سمجھنے والوں کو  قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعدجب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں  دھکیلا جائے گا اس وقت تک مسائل موجود رہیں گے

ہم اس ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں جس کے تحت   ہم کسی بھی صورت میں تشدد کا شکار افراد  کو اپنی یا اپنے ادارے کی تشہر  اور مفاد کیلئے استعمال نہیں  کریں  گے اس لیئے حالات و واقعات کو تبدیل کردیا جاتا ہے