Powered By Blogger

Wednesday, 13 April 2016

سمندر کے کنارے آباد بار کے چیئرمین کا خصوصی انٹرویو تحریر صفی الدین اعوان





آج ہمارے درمیان سمندر کے کنارے آباد ایک بار کی چیئرمین   زی وقار موجود ہیں   ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں اپنے قیمتی وقت سے انٹرویو کیلئے چند لمحات  ہمار ے لیئے وقف کیئے
بلاتاخیرچیئرمین  ذی وقار کا انٹرویو آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے
چیئرمین صاحب آپ یہ بتایئے  کہ چیئرمین بنتے ہی سب  سے بڑا کونسا چیلنج آپ کو درپیش تھا؟
جواب مجھے  چیلنج ہی چیلنج درپیش تھے مسلے ہی مسلے درپیش تھے اتنے مسلے تھے کہ میرے جوتے گھس گئے لیکن وکیلوں کے مسلے حل نہ ہوسکے  سب سے بڑا مسلہ  بار کے واش روموں کی ٹوٹیا ں اور نلکے ٹوٹے پھوٹے پڑے تھے میں نے ان سب ٹوٹیوں کو ٹھیک کروایا اس طرح یہ پہلا مسلہ میں نے حل کیا
لیکن  چیئرمین  صیب معزرت کے ساتھ آپ کے ممبر تو کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی مسلہ حل نہیں کیا بلکہ  ہفتہ وار  اسپیشل  مصالحے والی  بریانی والا لنگر بھی بند کروادیا ؟
جواب  یہ سراسر الزام اور میرے خلاف سازش ہے میں نے سارے مسلے حل  کردیئے  اور مجھ فقیر حقیر بے توقیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ  میں نے سارے مسلے "یونانی مسلی" طریقے  سے  حل کیئے ہیں
ہفتہ وار لنگر بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ  کچھ ممبروں کو بدہضمی ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ہمارا باورچی ہی بھاگ گیا  ورنہ ہفتہ وار دس دیگوں کا لنگر کا انتظام کرنا کوئی مسلہ نہیں ہے  اس مسلے کو بھی ہم بہت جلد یونانی مسلی حل کرلیں گے لیکن ایک صاحب  جھوٹے دعوے کرتے  نہیں تھکتے تھے کہ وہ لنگر کا انتظام اپنی جیب خاص سے کرتے تھے اگر وہ اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں  لنگر ہم نے بند نہیں کیا  بلکہ وہ لوگ جو یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ اپنی جیب سے  انتظام  کرتے ہیں ان کیلئے  لنگر کا بند ہوجانا ایک سوالیہ نشان ضرور ہے
چیئرمین صاحب یہ جمعے والے دن  وضو کیلئے پانی کیوں ختم ہوجاتا ہے یہ کیا کہانی ہے ؟
جواب یہ جمعے والے دن  بار میں پانی کا ختم ہوجانا ہماری کمیٹی  کے خلاف ایک منظم عالمی  سازش ہے یہ ایک ہارے ہوئے سابق عہدیدار کی یکی ہے وہ ایک نمبر کا یک ہے اس نے   میرے خلاف چار پانچ کن ٹوٹے چھوڑ رکھے ہیں  جو جمعے کے دن صبح سویرے واش  روم  کی ٹوٹیاں کھول کے بھاگ جاتے ہیں  جس  کی وجہ سے پانی ختم ہوجاتا ہے ہم نے مخبر چھوڑ رکھے ہیں جس  دن ان کو پکڑ لیا تو کم ازکم ان کی تو وہ لترول کرنی ہے کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے  فی الحال میں نے ٹوٹی بند کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے
پارکنگ کے حوالے سے بھی ممبران کو بہت سی شکایات ہیں اس کی اصل کہانی کیا ہے ؟
جواب پارکنگ   اتنا اہم مسلہ نہیں ہے    اس سال ہم نے فوج کے ایک ریٹائرڈ سپاہی جو کہ ہمارا منتخب ممبر بھی ہے کی زیرنگرانی  ایک جاسوسی کا نظام تشکیل دیا ہے جس  کے تحت ہم نے پارکنگ میں موجود ایک مافیا کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے
بار کی تاریخ میں پہلی بار ہم نے گاڑیاں دھونے والے مافیا کے ممبران کو رنگے ہاتھوں  وکلاء کی گاڑیاں دھوتے ہوئے           اور معزز ممبران سے پچاس پچاس روپے نقد لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے  ہم نے ان کی ویڈیو بھی بنائی کل تاکہ وہ مکر نہ سکیں  ۔ یہ مافیا ہر سال اربوں روپیہ کماتا تھا لیکن ہم نے ان کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی مثال ماضی  میں نہیں ملتی  
یہ گاڑیاں دھونے والوں کو پکڑنا کارنامہ ہے یا نہیں ؟  ہم نے کہا جی سر آپ نے تو وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی
چیرمین صاحب  آپ بار کے لیڈر ہیں بار کے بڑے ہیں آپ یہ بتاؤ کہ اگلا منصوبہ کیا ہے کس مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا منصوبہ ہے؟ اور آپ کا کوئی کارنامہ بھی ہے ؟
جواب چیئرمین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا  بات  تو راز کی ہے لیکن چلیں بتا دیتا ہوں  ہماری ٹیم "یونانی مسلی " طریقے سے  بار میں موجود موچیوں  اور  لاک  اپ کے سامنے بیٹھے خوانچہ  فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جارہے   ہیں یہ  لوگ کروڑوں روپے کماتے ہیں    اور  مافیا بن چکے ہیں   اس کیلئے بھی ہم نے پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی  مستقل   ڈیوٹی لگادی ہے  انٹرویو کے دوران ہی ہم نے دیکھا کہ  ایک ریٹائرڈ فوجی  دو شکل سے ہی کنگلے نظر آنے والے افراد کو پکڑ کر بار میں لیکر آیا ان کو دھکا مار کر سائڈ پر کھڑا کیا اور چیئرمین صاحب  کو ایک زوردار سیلوٹ ٹھوک کر مارا اور غصے سے کہا   آج ان موچیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ ہی لیا آج یہ بار کے آفس کے سامنے والے روڈ پر معزز ممبران  کے جوتے پالش کرکے ان سے پیسے بٹورنے میں مصروف تھے  میں  نے رنگے ہاتھوں ان کو چھاپ لیا لیکن دوموچی پالیش کی ڈبی لیکر  فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور میں نے پالش کرتے ہوئے ان کی ویڈیو بھی بنالی ہے  مافیا کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی

چیئرمین صاحب نے یہ دیکھ  اور سن کر فاتحانہ نظروں سے دیکھا اورداد طلب انداز میں پوچھا  اب بتاؤ کہ یہ کارنامہ ہے یا نہیں یہ  موچی نہ جانے کتنے سال سے ممبران سے لوٹ مار میں مصروف تھے آج بالآخر ہم نے کس طرح یونانی مسلی ان کو گرفتار کیا  ان کے خلاف ثبوت بھی اکٹھے کرلیئے
افسوس ہمارے کارنامے کسی کو نظر نہیں آتے
جس طریقے سے ہم نے موچیوں والا  پرانا مسلہ حل کیا  یہ کارنامہ رہتی دنیا تک ہمارا نام روشن رکھے گا  ہم نے بھی ہاں میں ہاں ملانا ضروری  سمجھا
اسی دوران چیئرمین صاحب نے   موچیوں کو مخاطب ہوکر کہا اوئے موچیو تم کیا سمجھتے تھے کہ  تم بچ جاؤگے تم تو شکل سے ہی موچی نظر آتے ہو تمہارا وہ حشر نشر ہوگا کہ یاد رکھوگے
اسی دوران ہم نے مداخلت کی اور چیرمین صاحب سے  کہا جناب یہ ٹکے ٹکے کے موچی  اور گاڑیوں کی صفائی کرنے والے اس قابل نہیں  کہ آپ ان پر ٹائم ضائع کریں  فی الحال ان کی جان چھوڑ کر آپ انٹرویو دیں
چیئرمین صاحب آپ یہ بتائیں کہ  موجودہ صورتحال میں آپ کیا کہتے ہیں  کہ سسٹم میں کیا تبدیلی لائی جائے؟
جواب ہم نے یہ سیکھا ہے کہ اگر کسی ادارے کا نظام غلط چل رہا ہو تو  اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا سراسر بے قوفی ہے کوشش کی جائے کہ اس نظام کو مزید خراب کیا جائے اس کو خراب سے خراب کردیا جائے  اس قدر خراب کردیا جائے کہ وہ  مکمل طور پر بگڑ  ہی جائے یہاں تک آپ کے جانے کے بعد جو بھی نیا آئے تو اگر وہ اس کو ٹھیک کرنے کی  کوشش بھی کرے تو اس کو کامیابی نہ ہو اور وہ  خود مکمل طورپر ناکام ہوجائے اور سسٹم کو مزید خراب سے خراب کرنا اس کی مجبوری بن جائے  سسٹم کو تباہ کردو برباد کردو مکمل ناکارہ کردو
چیئرمین صاحب مضبوط بار انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جی ہاں مضبوط بار سے مراد یہ ہے کہ بار  کی تعمیر کے دوران مضبوط قسم کا سریا استعمال کیا جائے  سیمنٹ کی صحیح مقدار ہو  سنگ مرمر کے ساتھ ساتھ  اچھی کوالٹی کا  پلستر  بھی کیا جائے  کیونکہ بار جتنی مضبوط ہوگی انصاف کی فراہمی اتنی ہی آسان ہوگی  اس حوالے سے میں کہوں گا کہ ہماری بار دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے پرانے زمانے کی پرانی بلڈنگ ہے اکثر سیمنٹ اور پلستر گر تا رہتا ہے میری خواہش  ہے کہ  میری بار کی نئے سرے سے تعمیر کرکے  مضبوط بار تعمیر کی جائے  میری بھی خواہش  ہے کہ میری بار بھی مضبوط ہو تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی نایا جاسکے
عدالتی اصلاحات کے حوالے سے آپ کیا کوشش کررہے ہیں ؟
چیئرمین صاحب نے غصے سے کہا  یہ کیا  چیز ہوتی ہے   اس گندے  اور غلط موضوع کو رہنے دیں  گولی مارو عدالتی اصلاحات کو  بار کی یہ کوئی ذمہ داری نہیں
چیئرمین صاحب  آپ کی کمیٹی اجازت نامہ پر بھی اقرباء پروری کرتی ہے؟
چیئرمین صاحب نے کہا یہ ایک الزام ہے لیکن بار سے پرمیشن لینے کا وہ طریقہ استعمال کرنا چاہیئے  جو آزمودہ ہے اب  یونانی مسلی والے فامولے سے آؤگے تو  مسلہ تو ہوگا سب کیلئے  میرے لیئے بھی  اور آپ کیلئے بھی
آزمودہ طریقہ کیا ہے ؟
چیئرمین صاحب اب سب باتیں  بتانے کی نہیں کچھ خود بھی سمجھدار ہونا چاہیئے  شام کو بات کرلینا
چیئرمین صاحب قوم کے نام کوئی پیغام ؟
چیئرمین صاحب بات یہ ہے کہ  ابھی میں مسلوں میں الجھا ہوں مجھے زرا ان مسلوں سے فارغ ہولینے دیں  پھر میں قوم کے نام پیغام ضرور دوں گا



Friday, 8 April 2016

وگو جیپ والا قاتل والا کبھی بھی گرفتار نہیں ہوگا عدلیہ کی طاقت صرف کمزور کیلئے ہے تحریر صفی

گزشتہ دنوں ایک المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک معروف بلڈر کے کم عمر بچے کے ساتھ اسکول واپسی پر اسکول وین میں ایک اور کم عمر بچے کے ساتھ معمولی جھگڑا ہوا ۔ ڈرائیور نے گاڑی روک کر اس معمولی جھگڑے کو ختم کیا اور دونوں بچوں کو ان کے گھر چھوڑدیا
ان میں سے ایک بچہ بلڈر کا بیٹا تھا۔ اسکول وین کے ڈرائیور کو والدین کی جانب سے فون آیا اس نے واقعہ کے متعلق بتایا تو بلڈر نے کہا کہ آپ مجھے اس بچے کے گھر لے جاؤ میں نے اس کے والدین سے بات کرنی ہے
وین ڈرائیور ڈر کے مارے نہیں لے گیا۔ وین ڈرائیور عیسائی تھا اسی دوران ایسٹر کا تہوار آگیا ڈرائیور گھر پر تھا اسی دوران ستائیس اپریل بروز اتوار کو بلڈر نے ڈرائیور کو فون کیا ڈرائیور نے بتایا کہ وہ گھر پر ہے ان کا تہوار ہے وہ ایسٹر منارہا ہے لیکن بلڈر نے کہا کہ اگر وہ اس کے بنگلے پر نہ آیا تو اس کو گھر سے زبردستی اٹھا لیں گے یہ سن کر وہ بلڈر کے بنگلے پر پہنچا تو وہ لوگ اسلحہ لیکر تیار تھے ڈرایئور کو وگو جیپ میں ڈالا اور اس کو کہا کہ وہ اس بچے کے گھر لیکر جائے جس نے ان کے بچے کے ساتھ جھگڑا کیا ہے
ڈرائیور نے گھر دکھایا وہ پہنچے اور جاتے ساتھ ہی بغیر کسی وارننگ کے اہل خانہ کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کردیا اسی دوران ان کا والد باہر آیا تو بوڑھے والد کو بھی پستول کے بٹ مارے جس کی وجہ سے اس کا موقع پر ہی انتقال ہوگیا
مدعی مقدمہ نے عمران شیخانی اور آصف شیخانی نامی شخص کو قتل کے مقدمے میں نامزد کیا اور وین ڈرائیور موقع کا ایک اہم ترین چشم دید گواہ تھا
پولیس ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی ملزمان بااثر ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر مقدمے کو کمزور کرنے کیلئے پولیس نے مرکزی ملزم وین ڈرائیور کو قرار دیا
مدعی مقدمہ ملزم کو بے قصور سمجھتے ہیں بے گناہ سمجھتے ہیں لیکن پولیس نے چالاکی سے کام لیکر واحد پرائیویٹ چشم دید گواہ کو ملزم قرار دیا اور اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ وہ شخص جس کو مدعی نے نامزد نہیں کیا جس کے خلاف گواہ کوئی نہیں جو خود گواہ ہے۔
سلام ہے ہمارے عدالتی نظام کو جس نے قتل کے ایک خطرناک ملزم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا
کل کہا جائے گا گواہ نہیں ملے ۔ لوگ گواہی نہیں دیتے۔ مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا
عدلیہ غریب کیلئے شیر ہے سچ کہیں گے تو توہین عدالت ہوجائیگی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین بار ریمانڈ تو ایک ڈبل گریجویٹ جوڈیشل مجسٹریٹ نے دیئے ہیں۔ وہ کس چیز کی تنخواہ لیتا ہے ۔ اس کا کام کیا ہے۔ وہ شخص جو منصف کی سیٹ پر بیٹھا ہے سندھ ہایئکورٹ کے ماتحت ہے یا سندھ پولیس کے پے رول پر کام کررہا ہے۔ کریمینالوجی کیا ہوتی ہے۔ قتل کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اور قتل جیسا گھناؤنا جرم کیوں کیا جاتا ہے کیا ساب یہ سب فلسفے نہیں جانتے تو کیا وہ اس سیٹ پر بیٹھنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے کہ نہیں
جبکہ ساب بھی جانتا ہے کہ ایک غریب اسکول وین کا ڈرائیور کیوں قتل کرے گا
یہاں ایک دفعہ پھر جوڈیشل افسران کی قابلیت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے اگر اس طرح عدالتی سلسلے چلانے ہیں تو میری ذاتی رائے یہ ہے کہ میٹرک پاس شخص کو جوڈیشل مجسٹریٹ بھرتی کرنا زیادہ مناسب ہوگا اور بیس ہزار روپیہ تنخواہ کافی ہے اگر پولیس ہی کی ماتحتی کرنی ہے اگر بدنام زمانہ تفتیشی افسران کی چال بازیاں نہیں سمجھ سکتے تو یار! گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتے
کل بڑے ساب کے پاس جائیں گے تو بڑے ساب کہیں گے 302 کا مقدمہ ہے قتل ہوا ہے قتل اور تین سو دو کی ایف آئی آر درخت کے ساتھ بھی باندھ دو تو وہ سوکھ جاتا ہے
وگو والا کبھی گرفتار نہیں ہوگا اس کیلئے عدلیہ کمزور ہونے کے ساتھ اپاہچ بھی ہے
صفی
03343093302


نو اپریل 2008 بے بسی اداسی اور درد تحریر صفی الدین اعوان


9 اپریل کے بعد بھی کافی دن تک خوف کے سائے چھائے رہے تھے۔
9 اپریل 2008 خون اورخاک کا وہ کھیل جو ایک سیاسی جماعت نے مشرف کے کہنے  پر پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں کھیلا۔اس کھیل میں بہت سے لوگ ملوث تھے
وکلاء اپنے چیمبرز کی طرف نہیں جاتے تھے۔طاہر پلازہ میں انسانی اعضاء کے جلنے کی بو کافی عرصے تک رہی۔واقعے کے  دوسرے دن جب جنرل باڈی منعقد ہوئی تھی تو وکلاء صرف سسکیوں کے علاوہ کچھ نہ بیان کرسکے۔وہ آنسو وہ خوف وہ سسکیاں وہ وحشت ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ شاید کسی نے تقریر کی ہو کہنے اور سننے کیلئے بچا ہی کیا تھا
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے
بلوائیوں نے نہ صرف طاہر پلازہ میں وکلاء تحریک سے منسلک وکلاء کے چیمبرز کو ٹارگٹ کیا بلکہ ان کو نظر آتش بھی کیا۔بنیادی طور پر بلوایئوں کا اصل ٹارگٹ کراچی بار ایسوسی ایشن کے خزانچی  نصیر عباسی صاحب تھے ۔جب وہ نہیں ملے تو الطاف عباسی کے آفس کو ٹارگٹ کیا گیا
جب بلوائی طاہر پلازہ میں  داخل ہوئے تو وکلاء نے حفاظتی اقدام کے طور پر اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر اپنے آفسز میں ہی محصور کرلیا تھا۔بہت بڑی تعداد میں  آفسز کو نظر آتش کیا گیا تو وہ خالی تھے ۔الطاف عباسی  نے بھی اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر محصور کیا ہوا تھا اندر چند کلایئنٹ بھی موجود تھے جو کہ دم سادھے بیٹھے تھے ۔بلوائی مایوس ہوکر جارہے تھے  ان کو محسوس ہوا کہ اندر لوگ موجود ہیں جس کے بعد ایک مخصوص کیمیکل  کی شیشی جو اس روز پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فسادات کے دوران استعمال ہوئی تھی کو آفس کی کھڑکی  سے اندر پھینک دیا گیا۔منٹوں سیکنڈوں میں انسانی چیخیں بلند ہوئیں دروازے پر حفاظتی اقدام کے طور پر تالے لگے ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے آفس میں محصور افراد باہر نہیں نکل سکے۔چند لمحوں میں ہی چھ جیتے جاگتے انسان جل کر کوئلہ ہوگئے۔ انسان تو انسان آفس کے پنکھے تک پگھل 
گئے



پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں بلوائی اسلحہ اور کیمیکل لیکر گھوم رہے تھے  پولیس اور رینجرز ان سے نظریں چرا رہی تھیں
سینکڑوں لڑکوں نے طاہر پلازہ کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔اس کے بعد وہ سکون سے نیچے اترے ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر وکلاء کی گاڑیاں کھڑی تھیں  وکلاء کے مخصوص اسٹیکرز کے زریعے ان کی گاڑیوں کو شناخت کرکے ان کو بے دردی سے آگ لگادی گئی۔بلوائی وکلاء کو تلاش  کررہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے سٹی کورٹ کو گھیرے میں لیا اور وکلاء کی تلاش شروع کردی۔لیکن جب طاہر پلازہ کو آگ لگائی جارہی تھی  اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا تو اسی دوران پورا سٹی کورٹ خالی ہوچکا تھا بار رومز ویران تھے۔بلوائی کراچی بار ایسوسی ایشن میں  شہریار  شیری ایڈوکیٹ کو تلاش کرتے ہوئے اور دندناتے ہوئے  داخل ہوئے۔کلوز سرکٹ کیمرے نکالے توڑ پھوڑ  کی فائرنگ  کا سلسلہ جاری رہا اور لیڈیز بار روم کو نظر آتش کرنے کے بعد   ڈسٹرکٹ ویسٹ کے راستے سے واپس ہوئے اور وکلاء کی گاڑیوں کو نظر آتش کرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ تک چلے گئے۔ اسی دوران   وکلاء تحریک کے ایک رہنماء سیدشہریار عرف شیری  جو ایک بہت ہی  معصوم اور سادہ قسم کا انسان تھا کو تلاش کرکے شہید کیا گیا۔
اسی قسم کی ٹولیاں وکلاء کے مختلف آفسز میں گئیں اور وکلاء کے آفسز کو نظر آتش کیا۔9 اپریل کو ایک تو جانی نقصان ہوا دوسرا بہت بڑی تعداد میں وکلاء کے چیمبرز اور گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں اس کے ساتھ ہی  ملیر میں ۔ملیر بار ایسوسی ایشن کو آگ لگادی گئی تھی
طاہر پلازہ کی اس آگ کو کس نے بجھایا اور کوئلہ بنی لاشوں کو کس نے نکالا کوئی نہیں جانتا
9 اپریل کے بعد کافی عرصے تک سٹی کورٹ میں خوف اور دہشت کا عالم رہا۔اس خوف کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا ڈسٹرکٹ کورٹس میں عجیب قسم کا سناٹا ہوتا تھا۔
جن وکلاء نے ان مناظر کو براہ راست دیکھا وہ کافی عرصے تک صدمے کی وجہ سے خوف کا شکار رہے اور شاید آج تک ہیں۔
شہید وکلاء کے لواحقین آج کس حال میں ہیں؟ جن وکلاء نے ایک عظیم مقصد کیلئے جان دی آج ان کے بچوں کے پاس اسکول کی فیسیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے

صرف عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کا صدر منتخب ہونے کے بعد جب وہ کراچی آئیں تو شہدا وکلاء تحریک کے ورثاء کی خبر گیری کی اور وہ یہ بتاتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں کہ جب وہ اچانک ایک شہید وکیل کے گھر پہنچیں تو ان کا بیٹا اپنے گھر میں چند بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہا تھا اور یہی اس شہید وکیل کے ورثاء کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔اسکول کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, 23 February 2016

٭٭٭ پولیس کا ڈاکیہ جبری ریٹائرڈ ٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین


یہ بلاگ کافی عرصہ پہلے لکھا گیا تھا  جج صاحبہ کی  نااہلی کی مکمل تفصیلات کا خلاصہ بھی تحریر تھا بالآخر آج سندھ  
ہایئکورٹ نے  اس نااہل مجسٹریٹ کو جو پولیس کی  زہنی ماتحت تھی آج وہ ماضی کا حصہ بن  گئی ہے آج کی میڈیا نیوز کے مطابق  
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے کرپشن اور نا اہلی پر سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ ارم جہانگیر کو جبری ریٹائر کر دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ ارم جہانگیر پر کریشن اور نااہلی کا الزام عائد تھا اور انکوائری میں الزام ثابت ہونےپر سندھ ہائی کورٹ کے چیف 
جسٹس سجا دعلی شاہ نے ارم جہانگیر کو جبری ریٹائر کر دیا ہے۔
میری پرانی تحریر میں اس وقت کے واقعات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے 

بوڑھے ڈاکیئے نے  کہا پوری زندگی میرے رہنما اصول رہے صبح وقت پر آنا دوسرا ڈاک ایمانداری سے  وصول کرکے پہنچانا میرا کام صرف ڈاک پہنچانا ہے آج تک  پوری زندگی کے دوران میں نے ایک خط بھی نہیں پڑھا ڈاک لی اورجس کی بھی ڈاک ہو اس تک پہنچادینا ڈاکیئے کو اس  سے کیا غرض کہ خط کے اندر کیا لکھا ہے
اسی طرح پوری زندگی گزار دی وہ ڈاک لیکر آتے رہے اور میں پہنچاتا رہا یہی میری ذمہ داری تھی اور میں نے نبھائی
ایک مجسٹریٹ صاحبہ نے کہا دیکھیں وکیل صاحب  میں تو صرف اور صرف ڈاکیہ ہوں پولیس جو بھی تفتیش کرتی ہے میرے پاس  ڈاک کی صورت میں جمع کروادیتی ہے اور میں نہایت ایمانداری سے اس ڈاک کو سیشن کورٹ بھیج دیتی ہوں  پوری زندگی دو کام ایمانداری سے کیئے نمبر ایک صبح سویرے وقت پر آنا نمبر دو پولیس کی تفتیش کو بغیر پڑھے بغیر سوچے سمجھے کہ  پولیس نے کیا لکھا کیا نہیں لکھا خاموشی سے اس ڈاک کو سیشن بھیج دینا میں پولیس کی ذہنی ماتحت نہیں ہوں کبھی کبھی اس کی چیخ چیخ کر بے عزتی  ہوں اور وہ سرجھکا کہ کھڑارہتا ہے
چاہے لوگ کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہوں  اور مجسٹریٹ کو پولیس کا ذہنی ماتحت ثابت کرنے اور پولیس کا ذہنی غلام ثابت کرنے کیلئے موجودہ نااہل عدلیہ کتنے ہی دلائل ڈھونڈ کر لے آئے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے
سوال یہ ہے کہ ذہنی ماتحتی کیا ہے؟
اپنی پہچان نہ کرنا ذہنی ماتحتی ہوتی ہے۔ اپنے اختیارات سے لاعلم ہونا اور اپنے سے کم اختیار کے حامل شخص کو بااختیارسمجھنا اس کی رائے پر چلنا ذہنی ماتحتی کی علامت ہے اپنے آپ کو  میٹرک پاس تفتیشی پولیس افسر کے سامنےایک بے جان اور سونے کا قیمتی بت سمجھ لینا ذہنی ماتحتی کی علامت ہے۔ اپنے آپ کو پولیس کا ڈاکیہ سمجھ لینا اور یہ کہنا کہ ہمارا کام صرف ڈاک وصول کرکے مقدمات پولیس سے وصول کرکے سیشن جج کے سامنے پیش کرنا ہے  زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے پاکستانی پولیس کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس سمجھ لینا یہ بھی ذہنی ماتحتی کی علامت ہے زمینی حقائق کے باوجود یہ خود ہی فرض کرلینا کہ پولیس رشوت نہیں لیتی اور پولیس کے رحم وکرم پر لوگوں کو چھوڑ دینا یہ سب ذہنی ماتحتی کی علامتیں نہیں تو اور کیا ہیں ہم آج  تک اسی سوال کا جواب تلاش نہیں کرسکے کہ پولیس ریمانڈ لیکر ایک مجسٹریٹ کے پاس ہی کیوں آجاتی ہے وہ کسی  اور کے پاس کیوں نہیں چلی جاتی آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ ایک قتل کے  مقدمے میں جو کہ سیشن ٹرائل ہے پولیس کیوں  ملزمان کو تفتیش کے بعد جب مزید حراست میں رکھنا ہو تو عدالت میں مجسٹریٹ کے پاس کیوں لیکر آجاتی ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس میں ہمارے پورے کریمینل جسٹس سسٹم کا وقار پوشیدہ ہے
مجھے حیرت ہوتی ہے افسوس ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ ایک ایسی علمی تحریک کا آغاز کیا جائے جس کا مقصد عدلیہ  کو پولیس کی ذہنی ماتحتی اور ذہنی غلامی سے آزاد کروانا ہو   یہاں یہ دلائل لائے جاتے ہیں کہ ہم صرف  ڈاکیئے ہیں  ہمارا کام صرف ڈاک تقسیم کرنا ہے پولیس سے لیکر سیشن جج کے پاس بھیج دینا ہےلیکن یہاں بہت معذرت کے ساتھ ہماری وکلاء برادری بھی اس ذہنی غلامی کا حصہ ہی ہے کیونکہ ایک جج   عدلیہ میں شمولیت سے پہلے بار کا حصہ ہوتا ہے  وہاں بھی آج تک یہ بنیادی نقطہ وکیل نہیں جانتے کہ  پولیس ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے پاس ہی ملزم کو لیکر کیوں آتی ہےسینئر وکلاء کا کہنا یہ ہے کہ اگر لوگ جیل نہیں جائیں گے تو ہمیں فیس کیسے وصول ہوگی اسی وجہ سے جب پولیس کا کوئی ذہنی ماتحت ایک تفتیشی افسر کی ذہنی غلامی کو قبول کرکے ایک بے قصور اور بے گناہ کو گھسیٹ کر جیل میں پھینکوانے کے احکامات جاری کرتا ہے تو پولیس کا دوسرا ذہنی غلام  جس نے عدلیہ کی صحیح رہنمائی کرنی ہوتی ہے شاید پیسے کی لالچ میں خاموش رہتا ہے کیونکہ اگر ریمانڈ کے موقع پر ہی ایک بے گناہ شخص کو مجسٹریٹ جیل بھیجنے سے انکار کرتا ہے اور پولیس یہ بات ریکارڈ پر لانے سے قاصر رہتی ہے کہ اس شخص کا کیا قصور کہ اس کو جیل بھجوانا ضروری ہے تو لازمی طور پر اس کو رہا  کرنا ضروری ہوگا اور اگر ملزم ریمانڈ کے موقع پر ہی رہا ہوجائے گا تو وکیل فیس کس بات کی وصول کرے گا فیس تو ہوتی ہی ضمانت کروا کردینے کی ہے   اور بعض اوقات  اس میں اسٹیک ہولڈرز کا حصہ بھی ہوتاملزم جیسے ہی جیل پہنچتا ہے تو اس کا استقبال  لاتوں اور گھونسوں سے شروع ہوجاتا ہے جس کی اطلاع فوری اس کے عزیز واقارب کو ہوجاتی ہے جس کے بعد اس کی ضمانت پر رہائی کیلئے فیس منہ مانگی ہوتی ہے اگر وکیل  ریمانڈ کے موقع پر اپنا درست کردار ادا کرنا شروع  کردیں تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں
ذہنی ماتحتی کا یہ عالم ہے کہ   لوگ یہ بات ثابت کرنے کیلئے کہ ہماری حیثیت صرف ایک بے جان بت کی ہے ہمارے پاس کوئی اختیار ہے ہی نہیں  ہم بے اختیار ہیں یہ بات ثابت کرنے کیلئے دنیا جہان کے دلائل ڈھونڈ کر لے آتے ہیں
ایک ذہنی ماتحتہ کا تو یہ عالم ہے کہ جب اس کے سامنے ایک اغوا کے مقدمے میں پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ پیش کی تو اس میں کل تین ملزمان تھے تفتیشی افسر نے  چالاکی سے پراسیکیوشن کے گواہوں کی جو لسٹ کورٹ کو فراہم کی جو اس واقعہ کے چشم دید گواہان تھے وہ تینوں گواہان  ملزم بھی تھے مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ایک ملزم استغاثہ کا گواہ  اپنے ہی خلاف کیسے ہوسکتا ہے اور یہاں تو تینوں بے قصور ملزمان  کو اپنے ہی خلاف گواہ بنایا گیا تھا جب میں نے اس کی توجہ ذہنی ماتحتہ  کو دلائی تو اس نے کہا کہ وکیل صاحب  سیشن ٹرائل میں مجسٹریٹ کی حیثیت صرف ایک ڈاکیئے کی ہے ہم صرف ڈاکیئے کا کردار ادا کرتے ہیں تفتیشی افسر جو ڈاک لیکر آتا ہے وہ وصول کرکے  سیشن جج کے پاس بھیج دیتے ہیں  مختصر یہ کہ ڈاکیئے کی طرف سے   مقدمہ  پولیس سے لیکر سیشن  بھیج دیا گیا وہاں بریت کی درخواست اسی بنیاد پر داخل کی کہ استغاثہ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے  اور تینوں گواہان  اسی کیس میں  ملزمان ہیں خیر سیشن جج نے مختصراً کہا کہ مغویہ بازیاب ہوگئی جواب ملا نہیں  اس نے کوئی حکم نامہ  جاری نہیں  کیا  اور اس حقیقت کے باوجود معاملہ لٹکا دیادو سال  بعدلڑکی گھر خود ہی واپس آگئی کورٹ میں بیان کروایا کہ ان لوگوں نے مجھے اغوا نہیں کیا تب کہیں جاکر  ملزمان کی  اس مقدمے سے جان چھوٹی اگر وہ  ذہنی ماتحتہ تربیت یافتہ ہوتی اور اس  مجسٹریٹ  صاحبہ کو اپنے اختیارات کا علم ہوتا تو تین بے گناہ انصاف کی سولی پر لٹکنے سے بچ جاتے لیکن اس نے کہا کہ میں تو صرف ڈاکیہ ہوں لیکن اس خود ساختہ ڈاکیئے کی وجہ سے   تین افراد دوسال تک اس مقدمے  بازی کا شکار رہے وہ بھی بلاوجہ
اسی طرح  آپ ذرا سوچیں کہ ایک لڑکی کے اغواہ کا مقدمہ ہو اور وہ  مغویہ لڑکی  خودکورٹ میں موجود ہو اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو کہ ہم آپس میں محبت کرتے ہیں ہم نے پسند سے شادی کی ہے  مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا  "میاں بیوی راضی کیا کرے گا قاضی "جج صاحب خدا کے واسطے میرے شوہر کی ہتھکڑی کھول دو اور سامنے جج کی کرسی پر بیٹھا ہوا نااہل   اس بے قصور کو اس بے گناہ کو  اسی لڑکی کے اغوا کے الزام میں جیل بھیج دے  کس جرم میں کس قاعدے کے تحت یہ بات اس ذہنی ماتحت کو خود بھی نہیں پتہ تو میں سوال کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو پولیس کا ذہنی ماتحت نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے پولیس کا ذہنی غلام نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے اس وقت کراچی میں نوے فیصد  مجسٹریٹس اسی قسم کے مشین ریمانڈ دیتے ہیں شاید ہی کسی کو توفیق ہوتی ہو کہ وہ معاملے کی تہہ تک جاتا ہو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ نوے فیصد جوڈیشل مجسٹریٹس کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ تفتیشی ڈائری کیا ہوتی ہے اور کیا تفتیشی افسر تفتیش کے دوران  یا ریمانڈ کے موقع پر کیس ڈائری لیکر آتا ہے  اور جس  مجسٹریٹ کو تفتیشی ڈائری پڑھنا آجائے تو پھر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تفتیشی افسر کسی بے گناہ کو ہتھکڑی لگا کر کورٹ لے آئے کریمینل جسٹس سسٹم ایک سوشل سائینس ہے اور سائنٹیفک بنیادوں پر عدلیہ پولیس کو کنٹرول کرسکتی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے پر ہم ایک سیمینار منعقد کریں گے اور رجسٹرار سمیت اعلٰی عدلیہ کے سامنے یہ معاملہ لیکر جائیں گے کہ جس طرح کے ریمانڈ موجودہ عدلیہ دے رہی ہے  اس سے تو مجسٹریٹ کے کام میں بلاوجہ اضافہ ہی ہے  جب بے گناہوں اور بے قصوروں کو مناسب وجوہات ریکارڈ پر لائے بغیر پولیس کے ساتھ ملکر جیل ہی بھیجنا ہے تو یہ کام تو ایک چپراسی ایک پٹے والے یا کسی جونیئر سطح کے کلرک سے لیا جاسکتا ہے پورے ضلع کیلئے ایک پٹے والا کافی ہے پولیس ریمانڈ لے آئے پٹے والا ٹھپے مار کے تفتیشی افسر کے حوالے کرتا جائے پولیس کی ذہنی ماتحتی کا عہدہ نبھانے کیلئے ایک چپراسی یا پٹے والے کی ضرورت ہے اور یہی فارمولہ چالان یعنی پولیس رپورٹ پر بھی نافذ کیا جاسکتا ہے ایک پٹے والا اتنی قابلیت رکھتا ہے کہ وہ انگلش میں  منظور کا لفظ لکھ سکے اس سے کورٹ کا آدھے سے زیادہ کام اور رش بھی ختم ہوجائے گا
کریمینل جسٹس  سسٹم کے اندر جب سے عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ ہوئی ہے  ایک سیشن جج کا کردار سب سے اہم ہوکررہ گیا ہے اسی طرح رجسٹرار کا کردار سب سے اہم ہے شہریوں  کی  پولیس سے حفاظت کیلئے ہمارے مجسٹریٹس نے تھانے جانا ہے ان کا ریکارڈ دیکھنا ہے تفتیش کے متعلق سولات کرنے ہیں    لاک اپ چیک کرنا ہے دیکھنا ہے کہ بغیر روزنامچہ کے کسی کو زیر حراست تو نہیں رکھا گیا ایک تھانے کو قواعد وضوابط کے اندر لانا ہے  اس کے بعد سارے معاملات اور ساری بے قاعدگیاں  سیشن جج کے نوٹس میں لاکر ان کو ٹھیک کرنا ہےیہ سندھ ہایئکورٹ کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہماری بار ایسوسی ایشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ  کم ازکم سندھ ہایئکورٹ کے زریعے اس ضابطے پر تو عمل درآمد کروا ہی دے کہ سیشن جج کے زریعے مجسٹریٹس تھانوں کے وزٹ کرکے وہاں سے بے قاعدگیاں ختم کروائیں اس کیلئے ماضی میں بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں  کیا یہ حقیقت نہیں کہ پورے سندھ کے کسی ایک تھانے میں بھی سیشن ججز مجسٹریٹس کو تھانے کا ریکارڈ لاک اپ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے معاملات دیکھنے کیلئے  وہاں نہیں بھیجتے کیا آپ کے پاس اختیارات کی کمی ہے یا آپ لوگ تھانہ کلچر کا  خاتمہ نہیں چاہتے اگر سول سوسائٹی آواز بلند کرے تو چند دن کے اندر عدلیہ کے تعاون سے تھانہ کلچر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے   اس حوالے سے ہماری سول سوسائٹی کو مسلسل آواز بلند کرنی ہوگی  



Tuesday, 12 January 2016

٭٭٭٭نائی ، زمین دار اور گورنر کا بیٹا ٭٭ تحریر ٭٭٭٭ صفی ادین اعوان ٭٭٭٭

 کا بیٹا     نائی ، زمین  دار  اور گورنر
ایک  دفعہ  کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت  کے سامنے  چوری کے تین  ملزمان  پیش کیئے گئے

بادشاہ نےچوری کے تینوں ملزمان سےپوچھاکہ کہ  تم  تینوں کے والدین   کیارتے ہیں

پہلے چورنےکہاکہ میرا باپ نائی ہے   اورمیں خودبھی نائی ہوں
دوسرے نے کہاکہ میں فلاں زمیندار کا بیٹا ہوں  اورفارغ ہوں کوئی کام  نہیں  کرتا ہوں
تیسرے نے  خاموشی اختیارکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ نےکہاکہ جواب دووالدکیاکام  کرتے ہیں
تیسرے  چورنےکہاکہ  میرے والدصاحب صوبے کے گورنر تھے  یہ کہہ کر چور نے خاموشی اختیار کی

بادشاہ  نےحکم  دیا کہ  نائی  کا ناک کاٹ دو
زمیندارکے بیٹے کو دوکوڑے مارو
اورگورنر کے بیٹے کو انتہائی غضب ناک نظروں سے دیکھادومنٹ کے بعدانتہائی غصے سےکہاکہ شرم نہیں آتی بے شرم گورنرکے بیٹے ہوکر چوری چکاری کرتے ہو   دفع ہوجاؤ  میری نظروں کے سامنے سے باپ کی بھی عزت کا خیال نہیں

حکمکی تعمیل ہوئی
درباریوں نے بادشاہ سےکہاکہ  ایک ہی جرم کی تین الگ الگ سزابادشاہ نے کہاکہ  اس کا نتیجہ کل سامنے آجائے گا

دوسرے دن نائی کا بیٹا جس کی ناک کاٹ دی گئی تھی چوک پر  کھڑا ناچ  رہا تھا
زمیندار کا بیٹا   شہر چھوڑ کرچلا گیا تھا  اورگورنر کے بیٹے سے  بے عزتی برداشت  نہ ہوسکی  اس نے  خودکشی کرلی
بہت سےدوستوں کادرست شکوہ ہے کہ عدلیہ  کیلئے  ہمارے بلاگ میں جو زبان استعما ل کی جاتی ہے وہ  اکثر مناسب نہیں ہوتی   الفاظ کاچناؤغلط ہوتا ہے بعض اوقات معاملہ توہین عدالت کی طرف چلاجاتا ہے   دوستو یہ تمام باتیں درست ہیں  عدلیہ کااحترام ہم سب پر واجب ہے یہاں تک کہ صدر اوروزیراعظم  پاکستان بھی عدالتی فیصلوں  پر تنقید  کی اجازت نہیں   ہم سے زیادہ  یہ بات کون جانتا ہے کہ جس معاشرے میں عدلیہ کاوقار ختم ہوجائے وہ معاشرہ زوال کا شکار ہوجاتا ہے
لیکن
عدالتی معاملات میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہورہا  ہے  اقرباء پروری عروج پر ہے ۔   اوراقرباء پروری کے زریعے  نااہلوں کی پوری فوج عدلیہ میں جمع کرلی گئی ہے  اس  بات پر بھی خاموشی اختیار کی جاسکتی ہے لیکن  نااہلوں کی وجہ سے ایک عام شہری متاثر ہورہا ہے ۔ ایک عام شہری  کے حقوق متاثر ہورہے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ وکیل بھی نالائق ہونگے لیکن وہ لوگ حکومتی خزانے پر بوجھ نہیں ہیں  وہ اگر نالائق بھی ہیں  تو اپنے خرچے پر نالائق ہیں  قومی خزانے سے کوئی پائی پیسہ نہیں لیتے    ان کی نااہلی کا نقصان صرف  ان ہی کو ہوتا ہے لیکن  عدلیہ نے جو نالائقوں کی فوج جمع کرلی ہے جو بھانجے بھتیجے بیٹے بہو  داماد اور قریبی عزیزوں کو  عہدے دیکر  جج کے عہدے کی تزلیل کرکے  قومی خزانے  کے زریعے تنخواہ  دے کر اپنے  نااہل بچوں  کو پال  رہے وہ قومی  خزانے پر بوجھ ہے  اس نالائقوں کی فوج  مظفر کو قومی خزانے سے اربوں روپے ماہانہ ادا کیئے جاتے ہیں  اب ایسا بھی نہیں کہ سب نااہل ہیں  میرا کہنا یہ ہے کہ  نالائقوں کی تعداد زیادہ ہے آج بھی  قابل قدر ججز موجود ہیں
عدلیہ میں آج بھی  قابل فخر انسان موجود ہیں ۔ جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں ۔ ایسے جج موجود ہیں جو چوبیس گھنٹے  کام میں مصروف رہتے ہیں  سارا دن فارغ نہیں بیٹھتے  اور جب گھرجاتے ہیں  فائلوں کا بنڈل ساتھ ہوتا ہے ۔ جج کی سیٹ آسان نہیں  یہ بہت سخت  عہدہ ہے ۔ اگر عہدے سے انصاف کیاجائے تو زندگی محدود ہوجاتی ہے 
لیکن اس کے ساتھ ساتھ سفارشی بھی ہیں   نالائق بھی ہیں نااہل  بھی ہیں جو  عدلیہ پر ایک سیاہ دھبہ ہیں  انسانیت کیلئے شرم   کا  مقام  رکھتے ہیں
میں نے سوچ لیا تھاکہ عدلیہ کے حوالے سے کوئی بلاگ نہیں لکھا  جائے گا۔ لیکن گزشتہ  ہفتے  کراچی میں جب عدلیہ کی بے حسی کو قریب سے دیکھا  نااہلی کو قریب سے  دیکھا تو روح تک  کانپ گئی
میں نے دیکھا کہ ایک غریب ماں سے اس کا بچہ  چھین لیا گیا  ۔ وہ تڑپ رہی تھی وہ چیخ رہی تھی وہ رو رہی تھی  اللہ  کسی انسان کو وہ وقت نہ دکھائے جو ممتا سے محروم ایک ماں پر گزرتا ہے
آپ خود انصاف کریں اگر آپ کا بچہ ایک گھنٹے کیلئے لاپتہ ہوجائے  گم جائے توزندگی  میں کیاطوفان برپاہوتا ہے  اس تکلیف کو محسوس  نہیں کیا جاسکتا
اس درد کو الفاظ   میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے ، میرا سارا دن  بے قرار رہا روح گھائل رہی  کہ آج ایک ماں  اپنے بچے کو آغوش میں لینے سے صرف اس لیئے محروم ہے کہ  جن لوگوں نے  اس ماں کو انصاف دینا تھا وہ غیر سنجیدہ لوگ تھے غیر ذمے دار لوگ تھے  نااہل تھے کام نہیں جانتے تھے  اور سب سے بڑھ کر بے حس تھے اپنے عہدے کومذاق  سمجھتے تھے   میرے ایک دوست اکثر کہتے ہیں کہ بے درد  نامرد  جس انسان میں انسانیت کا درد نہیں وہ انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں ہے  یہ ایک ظلم کی بات نہیں یہ روز کا معمول ہے
ہمیں کسی کی ذات کو ٹارگٹ کرنے کا کوئی شوق نہیں   لیکن جب لوگ انسانیت سے  ہی گرجائیں  جب حساس ترین عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے  ایک ماں اپنی ممتا ہی سے محروم ہوجائے تو  خاموشی جرم بن جاتی ہے
  اب کم ازکم  قلم  سے ان بے حس لوگوں کی ناک کاٹنا تو بنتی ہی ہے 

یہ الگ  بات ہے کہ ان لوگوں کو فرق کوئی نہیں پڑتا  لیکن رائے عامہ تو ہموار ہورہی ہے   لاء سوسائٹی پاکستان کے بلاگ کے قاریئن کی تعداد میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے     یہ عدالتی توہین ہرگزنہیں ہے بلکہ خاموشی جرم بن چکی ہے   اب ان مسائل پر خاموشی اختیار کرنا جرم   بن چکا ہے 
 اور ان لوگوں پرکوئی  فرق بھی نہیں پڑتا  ان کے پاؤں مضبوط ہیں     لیکن اللہ کا احسان ہے کہ ان مضبوط لوگوں کے پاؤں بھی  صرف لاء سوسائٹی کے بلاگ کی وجہ سے ڈگمگا رہے ہیں  مجھے خوشی ہوگی کہ کوئی عدالت اس توہین عدالت کا نوٹس لے  ہم سامنا کریں گے اورسامنا کرنے کی طاقت اللہ نے دی ہے
چیف جسٹس صاحب  آتے ہیں بڑی بڑی باتیں کرکے چلے جاتے ہیں       رشوت خوروں کیخلاف کاروائی کی بات کرکے جاتے ہیں   کاروائی ہوئی بھی ہے لیکن نااہل  تو رشوت خور سے زیادہ خطرناک ہیں 
 جہاں تک بات ہے سخت الفاظ کی تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے  کہ ان کیلئے کیا کہا جارہا ہے   جو نوکر پیشہ ہیں وہ اپنی  نوکری پوری کررہے ہیں  مہینے کے بعد تنخواہ تو   مل ہی  جاتی ہے  اللہ اللہ خیر صلا
میں بڑے دعوے سے کہتا ہوں کہ صرف مجسٹریٹ کی سیٹ پر اہل افراد کو بٹھا دیا جائے  تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ پولیس  کسی بے قصور انسان کیخلاف مقدمہ بناسکے
یہ جو روزانہ   سو کیس ایک  جج کے پاس لگے ہوئے ہوتے ہیں   ان کا اختتام ملزمان کی باعزت بریت پر کیوں ہوتا ہے میں نے اپنی پوری پریکٹس میں ایک آدھ  شخص کو  سزا لگتے ہوئے دیکھا ہے  وجہ   کیا ہے   پولیس تفتیش ہی غلط کرتی ہے شواہد ریکارڈ پر نہیں آتے یا کمزور ہوتے ہیں  گواہ منحرف ہوجاتے ہیں
لیکن  کیا یہ بھی حقیقت نہیں  ہم اس حقیقت سے کیوں نظریں چرا لیتے ہیں کہ  ہمار ا مجسٹریٹ  پولیس کی تفتیش سے مطمئن  ہوکر اس پر اپنی رائے قائم کرتا ہے  پولیس کی جانب سے پیش کیئے  گئے مقدمے  پر یہ رائے دیتا ہے کہ   وہ پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ  سے مطمئن ہے   اس کے بعد وہ مقدمہ شروع ہوتا ہے  جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقدمے  کے اختتام پر ملزمان بری ہوتے ہیں  یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ پولیس کی تفتیش غلط تھی اور  نااہل مجسٹریٹ کی یہ رائے بھی غلط تھی کہ شواہد مقدمہ چلانے کیلئے کافی ہیں
کیا ہم یہ بات کہنے کا بھی حق نہیں رکھتے کہ  یہ ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے
جن لوگوں کو جن دوستوں کو  عدلیہ کے خلاف استعمال کی جانے والی سخت زبان پر اعتراض ہے  جن دوستوں کا  درست شکوہ ہے کہ الفاظ کا چناؤ غلط ہے  وہ ایک کام کریں  عدالت  کی کھڑکی کھولیں   تو سامنےچوک کا منظر صاف نظر آئے گا

سامنے چوک پر دیکھیں تو آپ کو نائی کا بیٹا  ناچتا ہوا نظر آئے گا جس کی ناک کل کاٹ دی گئی تھی
مجھے گورنر کے اس بیٹے کی ہمیشہ تلاش رہے گی جس نے شرم سے خودکشی کرلی تھی

عدالتی عہدے مذاق نہیں ہیں سفارشیوں  نالائقوں  نااہلوں  اور  اقرباء پروری  کے زریعے  ان قابل  احترام  عہدوں کو مذاق  بنا دیا گیا ہے

Sunday, 10 January 2016

رشوت لینے کیلئے رشوت دینا سیکھو تحریر صفی الدین اعوان




میں نے انیس سو اسی میں پولیس جوائن کی  پینتیس سال کا تجربہ ہے لیکن پوری زندگی میں صرف ایک مجسٹریٹ سے واسطہ پڑا جو واقعی جج تھا
میں ایک بے گناہ کو پکڑ کر ایک کیس میں فٹ کرنے کیلئے ریمانڈ کیلئے  مجسٹریٹ کےپاس  لایا تو مجسٹریٹ نے ایک  ایسا سوال  کیا جس کو سن کر میرا دماغ چکرا گیا
مجسٹریٹ نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟
میں نے کہا یہ ملزم ہے
اس کا کیا کرنا ہے  مجسٹریٹ کا اگلا سوال تھا
اس کا ریمانڈ دے دیں
مجسٹریٹ نے پوچھا کہ کیوں دے دیں ریمانڈ وجہ بتاؤ ؟
اس لیئے کہ اس پر یہ ایف آئی آر ہے
مجسٹریٹ نے پوچھا کہ ایف آئی آر سے کیا ہوتا ہے اس ملزم کے خلاف ثبوت کہاں ہیں  گواہ کون ہے ان کی گواہی کیا ہے  کیا تفتیش کی ہے برآمدگی کیا ہے  اور یہ کب سے حراست میں ہے
تفتیشی افسر نے کہا کہ چوبیس گھنٹے سے حراست میں ہے  ابھی تک  گواہ نہیں ملا  اور برآمدگی بھی نہیں ہوسکی


میں نے ایف آئی آر پیش کی تو ساب نے کہا  کیا صرف ایف آئی آر جو صرف الزام ہے کی بنیاد پر جیل بھیج دوں
میں مجسٹریٹ کو مطمئن نہیں کرسکا تو ساب نے  ریمانڈ نہیں دیا مجبوراً میں نے اس بے گناہ کی ہتھکڑی کھول دی
ساب صرف ایک مجسٹریٹ آج تک دیکھا ہے جو  سارے کام جانتا تھا کیونکہ وہ پہلے کورٹ کلرک تھا بعد میں  پراسیکیوٹر بنا اور اس کے بعد مجسٹریٹ بن گیا
ساب بہت تنگ کیا تھا اس مجسٹریٹ نے مجھے تنگ آکر ٹرانسفر ہی کروالی  میں نے

گزشتہ دنوں ایک اچھا تفتیشی افسر جس کا نام  بشیر خان  عرف بشیرا ہے  ایک کیس کے دوران  دوست بن گیا کافی گپ شپ رہتی  ہے اس کے ساتھ اس نے عدالتی نظام سے متعلق کافی انکشافات کیئے   خیر پہلے لائن پر نہیں آرہا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے   چور سپاہی اور عدالت کے متعلق کافی لرزہ خیز باتیں  مجھے بتائی ہیں
میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کبھی کسی مجسٹریٹ سے بھی واسطہ پڑا  اس نے کہا ساب میں میٹرک پاس نالائق اور آپ لوگ بڑے بڑے ڈبل گریجویٹ میرا اور ساب لوگوں کا کیا مقابلہ لیکن کافی اصرار پر اس نے بتایا کہ یہ آپ لوگوں کا نظام بس ایسے ہی ہے  لیکن ہمارے استادوں نے  ہمیں بتایا تھا کہ اس دن  کا انتظار کرنا جب ایک مجسٹریٹ کے پاس ریمانڈ کی درخواست لیکر جاؤگے  اور وہ تم سے سوال کرے کہ
  کیا ، کہاں ،کیوں اور کیسے ؟
میں نے پوچھا کہ اس کا مطلب
تفتیشی افسر  بشیرے نے کہا کہ  مجھے استادوں نے پولیس اکیڈیمی میں یہ بات سکھائی تھی کہ جس دن مجسٹریٹس نے یہ سوال جواب شروع کردیئے کہ  یہ سب کیا ہے یہ پاکستانی شہری کون ہے جس کو ہتھکڑی لگا کر لے آئے ہو  اس کے خلاف ثبوت کہاں ہیں  اس شہری کے خلاف گواہ کون ہے کس کی گواہی پر اس کو جیل بھجوادوں
پھر وہ یہ سوال کرے گا کہ اس کو کیسے جیل بھیج دوں وہ وجوہات تو بتاؤ
جب ہم یہ سب تقاضے پورے نہیں کرسکیں گے تو اس کو رہا کرنا ہوگا
استاد وں نے ایک نصیحت  بھی کی تھی میں نے کہا کیا  استادوں نے کہا تھا کہ جس دن  ایسے جج آجائیں تو بیٹا استعفٰی دے دینا اور کہیں  ٹھیلا لگا لینا
میں نے پوچھا کہ  کیا پوری زندگی میں ایسا جج ملا  تو اس نے کہا ہاں زندگی میں صرف ایک جج آیا ہے  آج تک میری زندگی میں  جو   بے غیرتی والے سارے کام جانتا تھا
ویسے ساب پوری زندگی گزر گئی اسی سوال کے چکر میں آج تک  کسی نے پوچھا ہی نہیں ہزاروں لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گناہگار بھی تھے بے گناہ بھی تھے کسی نے بھی آج تک نہیں پوچھا  کہ  کیا کیوں  کہاں اور کیسے؟
میں نے  بشیرے سے پوچھا کہ  کیا مسئلہ ہے عدالتوں میں کام کیوں نہیں ہوتا
بشیرے نے کہا کہ دیکھ لو ساب عدالت میں رش کی  وجہ سے کیس نہیں چلتے
میں نے کہا کہ جب ایک مجسٹریٹ کی  عدالت میں  سوکیس روزانہ لگے ہوئے ہونگے  تو کام کیا ہوگا
بشیرے نے کہا ساب یہ روزانہ پچاس کیسز کی حقیقت کیا ہے وہ صرف ہم جانتے ہیں
ساب ایک بات بتائیں  یہ پچاس کیسز میں کیا ہوگا میں نے کہا کہ یہ سب لوگ باعزت طور پر بری ہوجائیں گے
میں نے کہا کہ ہاں یہ سب لوگ باعزت بری ہوجائیں گے  جب شواہد ناکافی ہونگے تو یہی ہوگا
 میں نے کہا کہ  بشیرے تم لوگ غلط تفتیش کرتے ہو  تو ملزم باعزت بری ہی ہونگے عدالت تو شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہو
یہ سن کر بشیرا کافی دیر تک قہقہے لگاتا رہا  اتنی دیر کے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے  اور پیٹ میں درد ہوگیا
ساب پچاس کیس روزانہ  ۔۔۔۔۔۔بشیرے نے کہا ۔۔ صرف میں جانتا ہوں کہ ان کے اندر شواہد نہیں ہیں   ملزمان کے خلاف قانونی طور پر کیس بنتا ہی نہیں تھا   یہ تو مجسٹریٹس کی نااہلی ہے جنہوں نے اپنی عدالت میں یہ فائلیں جمع کررکھی ہیں
یہی وجہ ہے کہ تم لوگ غلط تفتیش کرکے لاتے ہو اور ملزم باعزت طور پر بری ہوجاتے ہیں

بشیرے نے کہا ساب  اب آپ لوگ  جج کی نااہلی  اور نالائقی کی ذمہ داری  پولیس پر مت ڈالو جب آپ کے عدالتی افسر نااہل  ہیں تو ہم کیا کریں   دنیا بھر کے نااہل ہڈ حرام  نالائق اور سفارشی  عدالتی نظام  میں جمع ہوگئے ہیں تو ساب یہ بھی ہمار ا قصور ہے
ساب ہم نے تفتیش کرلی اور چالان جمع کروادیا تو مجسٹریٹ کی ذمہ داری نہیں تھی کہ چالان کو پڑھ کر اس پر اپنی رائے قائم کرتا  تو مجسٹریٹ لوگ یہ بات جانتے ہی نہیں  ہم غلط تفتیش کرتے رہتے ہیں اور ہماری غلط تفتیش   کو کیونکہ وہ اپنی نالائقی  اور نااہلی  کی وجہ سے  سمجھ نہیں پاتے تو ہم کیا کریں  ساری ذمہ داری پولیس کی نہیں ہوتی  مجسٹریٹ غلط تفتیش کے جرم میں برابر کا شریک ہوتا ہے وہ ریمانڈ دیتا ہے جیل بھیجتا ہے  ہماری رپورٹ  مقدمے کی سماعت کیلئے  منظور کرتا ہے  اس  پر اپنی  رائے  قائم کرتا ہے اگر کسی ملزم کے خلاف شواہد کافی نہیں تھے تو آپ کے مجسٹریٹ نے  اس کیس پر اعتراض کیوں نہیں کیا وجہ جانتے ہیں ساب
وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کام ہی نہیں آتا   دوسرا  یہ لوگ ہڈ  حرام ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ  مجسٹریٹ لوگ نئی فائلیں جمع کرنے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں  جعلی کیس اور جعلی کام ہے کہ  بڑھتا ہی بڑھتا چلا جارہا ہے  کیس چلتا ہے  کیس بے جان ہوتا ہے ملزم باعزت بری ہوجاتے ہیں  تو صرف ہمارے اوپر ملبہ ڈال دیا جاتا ہے   صرف ہمارا قصور نہیں ہے ساب کسی دن زبان کھول دی تو سب نرغے میں ہونگے   اگر یہ نالائق اور نااہل اپنی ذمہ داری ادا کرنا شروع کردیں تو  پولیس بھی ایسے شواہد تلاش کرکے لائے گی جس کے بعد کسی کا عدالت سے باعزت بری ہونا ناممکن ہوگا
میں نے کہا کہ اگر  اہل لوگ آجائیں   ایسے جج آجائیں جو قانون کو جانتے ہونگے سمجھتے ہونگے تو کیا ہوگا
بشیرے نے کہا اول تو یہ ناممکن ہے  کہ مجسٹریٹ کی عدالت میں اہل لوگ آجائیں   اور جو نالائق بیٹھے ہیں وہ صرف چیخنے شور مچانے کو قابلیت سمجھتے ہیں لیکن جس دن اہل لوگ  آگئے  
ساب استادوں نے نصیحت کی تھی کہ اس دن پولیس کی نوکری ہی چھوڑ دینا  یہ جو مجسٹریٹ کی ٹوٹی پھوٹی ٹیبل پر  ہزاروں  فائلیں پڑی ہیں یہ سب ختم ہوجائیں گی    یہ  سب  شواہد  کے بغیر جعلی  مقدمات  ہیں کسی بے قصور کے خلاف چالان جمع کروانا ناممکن ہوجائے گا  جب نوے فیصد جعلی مقدمات  ختم ہوجائیں گے تو  مشکل سے ایک عدالت میں روزانہ دس کیس بھی نہیں ہونگے  لیکن ساب اناں تلاں اچ تیل کونی  یعنی ان تلوں میں تیل نہیں  ہے
اور جو دس مقدمات ہونگے ان سب میں ملزمان کو سزا لگانے سے کسی کا باپ بھی نہیں بچا سکے گا
اچھا تو بشیرے تیرا کہنا یہ ہے کہ اگر ایک ملزم عدالت سے باعزت بری ہوتا ہے تو اس کے باعزت بری ہونے کی ذمہ داری علاقہ   مجسٹریٹ پر عائد ہوتی ہے جس نے پولیس کی غلط تفتیش اور ناکافی شواہد کے باوجود کیس کو سماعت کیلئے منظور کیا
بشیرے نے کہا جی جی بالکل  پولیس کے ساتھ ساتھ یہ نالائقوں اور نااہلوں کی فوج مظفر بھی برابر کی شریک ہے اور افسر زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے
میں نے بشیرے سے پوچھا کہ  ایک بات بتانا  کہ یہ رشوت لینا کیسے سیکھی
بشیرے نےکہا کہ یہ بات بتاتو دونگا لیکن کسی کو بتانا نہیں
رشوت لینا پولیس اکیڈیمی میں مجھے ایک استاد نے سکھائی تھی 
میں نے پوچھا تھا کہ سر رشوت کیسے لی جاتی ہے
استاد نے  کہا کہ رشوت لینے کیلئے رشوت دینا سیکھو
اس کے بعد جو بات بشیرے نے بتائی وہ میں کسی کو بتا نہیں سکتا لیکن اس کی بات سن کر ہنس ہنس کر پیٹ میں  بل پڑگئے اور  آنکھوں سے آنسو آگئے


لیکن افسوس وعدے کے مطابق یہ راز کی بات بتا نہیں سکتا 

صفی الدین 
03343093302

Saturday, 2 January 2016

ڈاکٹر ظفراحمد شیروانی صاحب تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی تحریر صفی الدین اعوان


میں سندھ ہایئکورٹ کی توجہ دواہم معاملات کی جانب دلانا چاہتا ہوں  جن کا تعلق گورننس سے ہے
سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے کسی تھانے سے بھی ایف آئی آر رجسٹر ہونے کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں چوبیس گھنٹے کے اندر فراہم نہیں کی جاتی   حالانکہ  ضابطے کے مطابق تو چوبیس گھنٹے کے  اندر اندر  علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں فراہم  کرنا ضروری ہے ۔۔۔۔ قانون کے مطابق ایف آئی آر کی غیر موجودگی میں کوئی بھی ملزم عدالت سے حفاظتی ضمانت نہیں کرواسکتا اور اگر ایف آئی آر عدالت میں فراہم نہیں کی جاتی تو اس کی وجوہات  کیا ہیں
پہلی وجہ تو سندھ ہایئکورٹ کی یہ باقاعدہ غفلت ہے کہ سندھ ہایئکورٹ نے ایسا کوئی نظام ہی تشکیل نہیں دیا جس کے تحت  ایف آئی آر  کا ریکارڈ عدالت میں رکھنے کا نظام موجود ہو
کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس کے تحت ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کورٹ میں   اس کی ایک کاپی  فراہم نہیں کی جاتی تو تھانے کے خلاف کوئی کاروائی کی جاسکے ۔ ماضی میں ایک کچا رجسٹر بنایا گیا تھا جس کے مطابق کورٹ کا اسٹاف ایف آئی آر کا کچا ریکارڈ رکھتا ہے لیکن  اس رجسٹر کے مطابق بھی اہم ایف آئی آر  غائب ہوتی ہیں اور وہ مخصوص مقامات پر دستیاب ہوتی ہیں  

ضرورت اس امر کی ہے کہ   سندھ ہایئکورٹ اس حوالے سے باقاعدہ ایک نظام تشکیل دے جس کے تحت ایک مستقل رجسٹر بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر ایف آئی آر کورٹ میں فراہم کی جائے اور وہ ریکارڈ روزانہ  مجسٹریٹ کے دستخط سے محفوظ کیا جائے
اگر ایف آئی آر کی کاپی مجسٹریٹ کی عدالت میں چوبیس گھنٹے میں نہ آئے تو ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کی جائے
اس طرح کا ریکارڈ مرتب کیا جائے کہ اگر چوبیس  گھنٹے کے بعد ایف آئی آر کی کاپی عدالت میں  فراہم کی جائے تو عدالت کیلئے  بھی ممکن نہ ہوکہ وہ  اس قسم کی ایف آئی آر کو عدالت کے ریکارڈ پر لاسکیں  جس کے نتیجے میں اس ایچ او کے خلاف کاروائی کرنا ممکن ہوجائے گا جس نے چوبیس گھنٹے کے اندر کورٹ کو ایف آئی آر کی کاپی  فراہم نہیں کی

لیکن یہ بھی حقیقت جاننا ضروری ہے کہ ایف آئی آر کی کاپی عدالت کو فراہم کیوں نہیں کی جاتی   مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایف آئی آر  ان وکلاء کو فراہم کی جاتی ہے جو پولیس کے ساتھ مل کر پارٹنرشپ کے تحت  پریکٹس کرتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ  اہم نوعیت کی ایف آئی آر مخصوص مقامات پر دستیاب ہوتی ہیں  اور اس کی قیمت کم ازکم پانچ ہزار روپے ہوتی ہے
لیکن اس  کرپشن کی اصل ذمہ داری تو سندھ ہایئکورٹ پر عائد ہوتی ہے جس نے ایف آئی آر چوبیس گھنٹے کے اندر کورٹ میں فراہم کرنے کا کوئی بھی نظام تشکیل ہی نہیں دیا ۔ ضلع ملیر کے حالات تو سب سے زیادہ خراب ہیں وہاں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ایف آئی آر کی کاپی عدالت سے مل جائے  کیونکہ ملیر میں  یہ دائرہ تھوڑا سا وسیع ہوگیا ہے

وہاں  مجسٹریٹ ، کورٹ اسٹاف،مخصوص وکلاء اور پولیس  کی مضبوط پارٹنرشپ قائم ہے  ایک بار میں نے اپنے ذاتی زرائع سے کسی طرح ایک ایف آئی آر چوبیس گھنٹے  کے اندر حاصل کرلی اورکیس کے سلسلے میں کوئی درخواست دائر  کی تو ملیر کے کورٹ اسٹاف کو یہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ  یہ ایف آئی آر کس طرح ایک عام وکیل تک پہنچ گئی  اس بات پر اسٹیک  ہولڈر آپس میں ہی لڑپڑے اور ایک دوسرے پر کاروباری بددیانتی کے الزامات کی بوچھاڑ کی سب سے بڑھ کر مجسٹریٹ تو یوں دیکھتا تھا جیسے میں  اس کی بھینس کھول کرلے گیاہوں
بار بار ایک ہی سوال کہ یہ ایف آئی آر آپ نے کیسے حاصل کی  ؟ کورٹ محرر کی اچھی خاصی کلاس کورٹ اسٹاف نے لے لی کہ یہ سب کیا ہے
بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  اس دھندے کے پیچھے ایک بہت بڑا مافیا موجود ہے جس کی سرپرستی میں ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے کہ عدالت میں کرپشن کو فروغ دیا جائے  یہی وجہ ہے کہ عدالت کی بجائے پولیس اسٹیشن میں رجسٹر ہونے والی ایف آئی آر  عدالت کے ریکارڈ پر نہیں لائی جاتی
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب آپ سندھ ہایئکورٹ کے سب سے طاقتور ترین رجسٹرار ہیں  سندھ ہایئکورٹ  کی تاریخ میں آپ جیسا طاقتور رجسٹرار پہلے کبھی نہیں آیا نہ آئے گا
مجھے آپ کی تقاریر اور تمام فلسفے آج تک یاد ہیں  مجھے امید ہے کہ آپ  کم ازکم اس کرپشن کا خاتمہ کرسکتے ہیں

دوسرا اہم مسئلہ جو  آپ کے ساتھ ماضی میں کئی بار  گفتگو کا حصہ رہا ہے وہ ہے پولیس اسٹیشن سے غیرقانونی حراست کا خاتمہ اہم نکتہ یہ ہے کہ صبح نوبجے سے پہلے اور  دوپہر تین بجے کے بعد عدالت کیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ   بیلف مقرر کرے
اسی طرح تعطیلات کے دنوں میں کورٹ بیلف مقرر نہیں کرسکتی کیونکہ عدالت ہی بند ہوتی ہے اب شہری جائیں تو کہاں جائیں  ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  اس مسئلے کا حل آپ جانتے ہیں اور جو کہ آپ نے خود ہی تجویز کیا تھا اور جس کی وجہ سے آج سے دس سال پہلے کراچی کے  ڈسٹرکٹ ایسٹ سے غیرقانونی حراست کا خاتمہ ہوگیا تھا  اور یہ اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہے کہ امریکہ بیٹھ کر رات کو دوبجے آپ نے  ای میل کے زریعے  مجسٹریٹ کو بیلف مقرر کیا تھا جس نے تیموریہ تھانے سے غیرقانونی حراست کا خاتمہ کیا تھا سلام ہے آج بھی اس مجسٹریٹ کو جس نے رات کو تین بجے عدالتی احکامات کی تعمیل کی اور  اپنی نیند قربان کی جب عدلیہ  جاگ رہی ہوتی  ہے تو اس ملک کے کروڑوں شہری سکون سے  سورہے ہوتے ہیں
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ  عدلیہ گہری نیند سوچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج غیرقانونی حراست ایک معمول کا حصہ بن چکی ہے  میرے اس سوال کا عدلیہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ تعطیلات اور عدالتی اوقات کے بعد غیرقانونی حراست کا خاتمہ کس  طرح کرتے ہیں  اور کیا یہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی نہیں

میں اس بات پر فخر کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ اگر اتوار کے دن اور سرکاری تعطیلات کے دن سندھ کی عدالتوں میں مجسٹریٹ آن ڈیوٹی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں عید کے دن بھی ایک عدالت شہر میں کھلی ہوتی ہے جو شہریوں کو پولیس کے چنگل سے نجات دلاتی ہے تو یہ سب  میری کاوش کا نتیجہ تھا کہ  اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ جناب سرمد جلال عثمانی صاحب نے ایک  تاریخی حکمنامے کے زریعے یہ ممکن بنایا تھا
اس سے پہلے سندھ میں اتوار کے دن تمام عدالتیں بند رہتی تھیں اور معمولی نوعیت کے کیسز خصوصاً ڈبل سواری کے ملزمان بھی  تین تین دن تھانے میں بند رہتے تھے  اور معمولی  قابل ضمانت نوعیت کے کیسز میں بھی  تھانے سے رہائی لاکھوں روپے کے لین دین کے بعد ممکن ہوتی تھی

مجھے امید تھی مجھے یقین تھا کہ  جب آپ رجسٹرار  مقرر ہوئے تھے تو  کم ازکم آپ ایف آئی آر کی بروقت فراہمی کے نظام  کو ضرور متعارف کروائیں گے اور غیرقانونی حراست کے خاتمے کیلئے ایسا نظام ضرور متعارف کروائیں گے کہ ہماری عدلیہ چوبیس گھنٹے اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ  غیرقانونی حراست کے خاتمے کیلئے تھانے میں جاکر ریکارڈ چیک کرنے کی پوزیشن میں ہوگی
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب بہت ہی معذرت کے ساتھ یہ عرض ہے کہ یہ امیدیں پوری نہیں ہوسکی ہیں

ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  شاید تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے  ایک ایسا رجسٹرار جو فوجداری معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتا تھا اور فوجداری نظام کو اس اصل روح کی گہرائی تک سمجھتا تھا اور فوجداری معاملات میں جس کی کہی ہوئی بات ایک اتھارٹی کا درجہ رکھتی تھی  تاریخ کا اس سے بڑا جبر  کیا ہوگا کہ اس رجسٹرار کی موجودگی میں بھی سندھ کی عدالتوں میں ایف آئی آر  کا ریکارڈ رکھنے کا کوئی نظام نہیں  اور غیرقانونی حراست کے خاتمے کا کوئی نظام عدالتی اوقات اور تعطیلات کے دوران موجود نہیں

یہاں میں ضمنناً عرض کردوں کہ شاید پورے پاکستان میں  قانون کے پورے شعبے میں وکلاء اور ججز سمیت کل سو افراد بھی نہیں ہونگے جو فوجداری نظام کو اس کی روح کے مطابق سمجھتے ہونگے
اور میں اگر صوبہ سندھ کی عدالتوں کی بات کروں تو   ہزاروں وکلاء،  سینکڑوں ججز اور جسٹس صاحبان  کی موجودگی میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ شاید پورے صوبے میں تیس افراد بھی  ایسے نہیں کہ  جو کریمنل جسٹس  سسٹم یعنی فوجداری نظام کو اس کی روح کے مطابق جانتے ہونگے  اور ان میں سے ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب ایک ہیں
میں اگر اپنی بات کے دعوے میں جاؤں تو ضابطہ فوجداری میں موجود ایک لفظ
Take cognizance
صرف اس لفظ کی تشریح اور اس کو سمجھنا بعض اوقات پوری زندگی ممکن نہیں ہوتا  اور جس ملک کی عدلیہ کو یہ لفظ سمجھ آجائے وہاں پولیس کبھی عوام کو تنگ نہیں کرسکتی 


لیکن اس کے باوجود اگر مسائل حل نہیں ہوتے تو ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے 
گی

SAFIUDIN AWAN 
03343093302