Powered By Blogger

Sunday, 5 April 2015

ایسٹر کے تہوار کے موقع پر عیسائی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ تحریر صفی الدین اعوان


پاکستانی عدلیہ غیر مسلم اقلیتوں  کو تیسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے
غیر مسلم  ہمارے لیئے غیر ہی تو ہیں ۔ غیر وہ ہوتا ہے جو اپنا نہیں ہوتا جو اپنا نہ ہو وہ بیگا نہ ہوتا ہے اور  جو اپنا نہ ہو اس کے ساتھ پاکستان کی عدالتوں میں غیروں والا سلوک کیا جاتا ہے ۔اور اسی کے وہ مستحق ہیں  کیونکہ وہ  عدالتوں کیلئے بھی غیر ہی ہیں  اپنے اور بیگانے میں یہی فرق ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عدالتیں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مذہبی تفریق کرتے ہوئے ان کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کرتی ہیں
غیروں کے برخلاف غیر مسلموں کے بر خلاف !!!!!
جب ہمارے اپنوں کی باری آتی ہے تو !!!!!
پاکستانی عدالتوں میں ایک روایت موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی اہم تہوار آتا ہے تو اس تہوار کے احترام میں
  جیلوں میں بند قیدیوں کو  قانون  کے دائرے میں رہ  کر ترجیحی بنیادوں پر رہا کیا جاتا ہے اگر ان کی ضمانت کی درخواست زیر سماعت ہو تو اس کو فوری طور پر سنا جاتا ہے اور فوری فیصلے کیئے جاتے ہیں۔

کوشش  کی جاتی ہے کہ اگر قانون اجازت دے اگر ریلیف بنتا ہوتو قانون کے مطابق قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے یہ سلسلہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک جاری ہے چاند رات کو عید سے ایک دن پہلے بھی  ہایئکورٹ  کی ہدایت پر ججز جیلوں میں جاتے ہیں اور معمولی جرائم میں ملوث ملزمان کو جیلوں سے رہا کرتے ہیں  اس سارے سلسلے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔اسی طرح  ایک یہ بھی ریلیف دیا جاتا ہے کہ ملزم کی رہائی میں اگر کوئی  ضابطہ فوجداری سے متعلق مسئلہ ہوتو اس  رکاوٹ کو دور کیا جاتا ہے  مثلاً اگر  ضمانت کے طور پر جو کاغذات عدالت میں پیش کیئے جاتے ہیں  ان کی ویریفیکیشن   کی شرط کو ختم کیا جاتا ہے   اور ملزم کو تو رہا کردیا جاتا ہے لیکن ویریفیکیشن بعد میں کروائی جاتی ہے لیکن کیا یہ تمام سہولیات صرف مسلمان قیدیوں کیلئے ہی مخصوص ہیں ؟ جی ہاں غیر مسلم اس  ریلیف کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ وہ غیر ہیں اور غیر بیگانہ ہوتا ہے
   
خاص طور پر عید الفطر اور عید قربان پر یہ خصوصی ریلیف ملزمان کو فراہم کیا جاتا ہے
گزشتہ دنوں صوبہ سندھ میں عیسائیوں کی سب سے بڑی بستی عیسٰی نگری میں   دو سال  پہلے دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کے بعد  عیسائی  برادری  کی جانب سے کیئے گئے احتجاج  کے بعدحکومت سندھ  کی جانب سے   چرچ اور آبادی کی حفاظت کیلئے تعمیر کی گئی "سیفٹی وال" کو  شدت پسندوں کے ایک جم غفیر نے توڑنے کی کوشش کی اس کوشش کے دوران  میں یہ بات انتہائی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ  مقامی عیسائی  آبادی نے صبر اور تحمل سے کام لیا  کسی قسم کی مزاحمت  نہیں کی اور  فوری طور پر پولیس اور رینجرز کو اطلاع دی جس کے بعد فوری طور پر پولیس اور رینجرز جب وہاں پہنچی تو وہاں کچھ لوگ اس  " سیفٹی وال" کو گرا چکے تھے پولیس نے اس واقعہ کا  پولیس کی مدعیت میں ذمہ داران کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا کرسچین آبادی اور  چرچ کی حفاظت کیلئے بنیادی طور پر سات سیفٹی وال تعمیر کی گئیں تھیں جس کے زریعے سات گلیوں کو بند کیا گیا تھا حیرت انگیز طور پر اس واقعے میں پولیس نے دیوار گرانے کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ  بڑی تعداد میں کرسچین کمیونٹی کے افراد پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا
یہ واقعہ چوبیس مارچ  2015 کو پیش آیا جبکہ اگلے دن پولیس نے ایک دروازہ توڑ آپریشن کے زریعے  آٹھ عیسائی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا اور ان اپنے ہی چرچ اور اپنی ہی آبادی کی حفاظت کیلئے بنائی گئی  دیوار کو توڑنے کے جرم میں گرفتار کرلیا یعنی ظالم اور مظلوم دونوں کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا گرفتار شدگان میں سے اکثریت ایسے افراد کی تھی جن کے نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے۔
ملزمان  کو پولیس  نے دہشت گردی کی عدالت میں پیش  کیا  تو  انسداد دہشتگردی کے جج نے ریمانڈ دینے سے انکار کیا اور علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے ریمانڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی سیکشن بھی خارج کردی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پولیس نے مقدمہ قائم کرتے ہوئے بدنیتی کا مظاہرہ کیا
مقامی عدالت میں پیش ہوئے علاقہ مجسٹریٹ نے ملزمان کو جیل میں بھیج دیا اور ملزمان کی ضمانت کی درخواست جمع کروادی گئی  جو کہ سیشن جج نے ایک ایماندار جج کے پاس بھیج دی
ایماندار جج وہ ہوتا ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ کسی کا بھی کام نہیں کرتا
اسی لیئے اس کو ایماندار جج کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایماندار ہوتا ہے اسی لیئے ایماندار کسی کاکام بھی وقت پر نہیں کرتا اگر کربھی دے گا تو خوب ذلیل کرکے کرے گا
خیر ایماندار جج نے تاریخ دی ۔۔۔۔مقررہ تاریخ پر ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی اور ایک اور تاریخ مقرر کی
چھ اپریل جس پر ہم نے اعتراض کیا کہ  پانچ تاریخ کو عیسایئوں کا ایک مقدس تہوار  "ایسٹر" ہے اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اگر ایسٹر سے پہلے کی تاریخ مقرر کردی جائے تو   یہ لوگ اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ  کے ساتھ مناسکتے ہیں
ایماندار جج نے انکار کیا جس پر میں نے اپنی زبانی درخواست کو تحریری شکل میں  پیش کردیا جس پر  چار اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی دوسرے دن پتہ یہ چلا کہ چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے سلسلے میں پورے سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جس پر میں نے دوبارہ رابطہ کیا اور دوسری بار درخواست پیش کی  خیر ایماندار جج نے تین اپریل کی تاریخ مقرر کردی
تین اپریل کو ایماندار جج نے ضمانت کی درخواست منظور کی اور  ملزمان  کی  رہائی کے لیئے ریلیز آرڈر جاری کیئے بغیر کورٹ سے  جوتے چھوڑ کرفرار ہوگئے میں یہ سمجھا کہ جج صاحب جمعہ کی نماز پڑھنے جارہے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایماندار جج صاحب  اس لیئے عدالت سے  جوتے چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں کہ ان کو عیسائی قیدیوں  کے ریلیز آرڈر جاری نہ کرنا پڑیں اور وہ عیسائی قیدی اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ مناسکیں  
اگر جج صاحب کچھ دیر رک جاتے  جوتے چھوڑ کر نہ بھاگتے اور ان ملزمان کا ریلیز آرڈر جاری کردیتے تو یہ لوگ اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منالیتے
اگر رشوت  خور جج ہوتا پیسہ کھانے والا جج ہوتا تو  یہ لوگ پہلے ہی دن  رہا ہوجاتے اور آج اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منارہے ہوتے
جو ججز پیسہ کھاتے ہیں اللہ ان کو خوش رکھے  ان میں بے شمار خوبیاں ہوتی ہیں
پیسہ کھانے والے جج میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ پیسہ لیتا ہے لیکن کام گارنٹی سے کرتا ہے اور انصاف فوری فراہم کرتا ہے  جبکہ ایماندار نہ تو پیسہ لیتا ہے لیکن کام بھی نہیں کرتا اور اگر کام کرتا بھی ہے تو ایسا ذلیل کرکے کرتا ہے کہ  انسان ذلیل ہوجاتا ہے  ایک سرائیکی محاورہ ہے جس کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے کہ بھیڑ دودھ بھی دیتی ہے تو وہ مینگنوں سے بھرا ہوتا ہے (بھڈے دودھ دتا ای  او وی مینگناں دا بھرا ہویا) یہ محاورہ ہمارے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ان ایماندار ججز پر صادق آتا ہے جنہوں نے ایمانداری کو ایک گالی بنادیا ہے
یہی وجہ ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایمانداری ایک لعنت بن چکی ہے   ایمانداری ایک گالی بن چکی ہے اس کے ذمہ دار وہ تمام ایماندار جج ہیں جن کو ایمانداری سے زیادہ ایمانداری کا   حیضہ ہے اور جو ایمانداری کے نام پر عوام الناس کو تنگ کرتے ہیں  حالانکہ ایک ایماندار جج کو ان ججز کے مقابلے میں زیادہ ریلیف دینا چاہیئے جو پیسے لیکر کام کرتے ہیں تاکہ عوام کے اندر ایمانداری کا جذبہ پیدا ہو
خیر سیشن جج  ایسٹ سے رابطہ کیا تو انہوں  نے کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے سے انکار کیا سیشن جج نے کہا کہ جج اپنے ٹائم پر گھر گیا ہے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ عید کے موقع پرمسلمان قیدیوں کی رہائی کیلئے  تو یہ  جج لوگ رات بارہ بجے تک ڈیوٹی کرتے ہیں ۔  جبکہ  غیر مسلم  افراد کیلئے  ذرا بھی ریلیف  نہیں ہے سیشن جج نے کہا کہ اب آپ معاملے کو غلط رخ لیکر جارہے ہیں ۔  جج اپنے مقررہ ٹائم پر گیا ہے اگر عیسائی قیدیوں کی عید خراب ہوئی ہے تو مجھے اس پر افسوس ہے شاید تقدیر میں یہی لکھا ہوا ہوگااب اگر میں رہا کروں گا تو یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہوگی اب آپ  عیسائی برادری سے یہ کہیں کہ وہ صبر سے کام لیں  


اگر ہم مساوات کی بات کرتے ہیں تو ہمارے  معاشرے میں مساوات کہاں پائی جاتی ہے ہم مذہبی اقلیتوں کو کب برابری دیتے ہیں
جب  ہم مسلمانوں کی عید آتی ہے تو اس موقع پر  عدالتوں  کے سارے قاعدے قانون نرم ہوجاتے ہیں اور جب کسی غیر مسلم کے مذہبی تہوار کا موقع آتا ہے تو غیر مسلم قیدیوں  کو ان کا وہ حق بھی نہیں دیا جاتا جو ان کا جائز حق بنتا ہے کیونکہ غیر مسلم "غیر" ہی تو ہیں
جب مسلمانوں کی عید کے تہوار آتے ہیں تو جج جیل پہنچ کر موقع پر ہی ملزمان کو رہا کرتے ہیں جبکہ ایک غیر مسلم کو اس کے مذہبی تہوار کے موقع پر ان کا جائز حق بھی نہیں ملتا کراچی جیسے شہر میں ایک جج بھی نہیں ملتا جو  کسی غیر مسلم کا کورٹ  میں بیٹھ کر ریلیز آرڈر ہی جاری کردے جج عدالتوں سے  جوتے چھوڑ کر اس لیئے فرار ہوجاتے ہیں کہ ان کو  کسی غیر مسلم کی رہائی کیلئے ریلیز آرڈر جاری نہ کرنا پڑجائے جج اقلیتوں  کو اپنی نفرت کا نشانہ اس لیئے بناتے ہیں کہ وہ اپنے مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ مناسکیں کیونکہ وہ غیر ہیں  
ایمانداری کا مطلب ایمانداری ہی ہوتا ہے ایمانداری کا مقصد ہر گز ہرگز عوام کو تنگ کرنا نہیں ہوتا ایمانداری کا مقصد ہر گز لوگوں کے مسائل میں اضافہ کرنا نہیں ہوتا ایماندار ججز کو ان ججز سے سبق سیکھنا چاہیئے جو پیسہ لیکر مخلوق خدا کاجائز کام وقت پر کردیتے ہیں اسی لیئے تو اب  لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ رشوت لینے ولا جج ایماندار جج سے بہتر ہے جو پیسے لیتا ہے لیکن کام تو وقت پر کرتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے  رشوت خور جج ہی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں  

جج کو صرف جج ہونا چاہیئے یہ ایمانداری اور بے ایمانی کیا چیز ہوتی ہے
جب ایمانداری  بدمعاشی بن جائے تو بدمعاشی کسی صورت میں تسلیم نہیں کی جاسکتی ایسی ایمانداری جس کے زریعے اللہ کی مخلوق کو تنگ کیاجائے جس کے زریعے اللہ کی مخلوق پر  خدا کی زمین تنگ کردی جائے  ایسی ایمانداری پر ہم لعنت بھیجتے ہیں اور  جو ایماندار وقت پر کام نہیں کرتے اور اللہ  مخلوق کو اپنی ایمانداری کی آڑ میں تنگ کرتے ہیں  ان کے لیئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
لکھ  لعنت ایسے نیکاں تے
ہم بد تو ویسے ہی بد ہیں
اب معاملہ چلا گیا پیر کے دن  یعنی 6 اپریل 2015 کو اس معاملے کا فیصلہ ہوگا
جج ایماندار ہے اور کیونکہ ایمانداری  کو ایک لعنت بنا دیاگیا  ہے اس لیئے پیر کو بھی یہ ریلیزآرڈر جاری نہیں کرے گا یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ پیر کے دن چھٹی کرلے وہ چاہے تو پورا ہفتہ چھٹی کرسکتا ہے اس دوران رہائی کے منتظر افراد کہاں جائیں گے
یہ ایماندار جج اپنی ایمانداری کے جرم کی سزا مزید دے گا  اور پیر کے دن بھی  اقلیتی برادری کے افراد کو اپنی مذہبی نفرت کا نشانہ بنائے گا یہ ایماندار جج اپنی ایمانداری کی سزا منگل کو بھی دے گا اور ملزمان کو رہا نہیں کرے گا اور اپنی ایمانداری کو اقلیتوں پر مسلط کرنے کیلئے کوئی نیا قاعدہ قانون گھڑ لے گا کیونکہ وہ غیروں کے ساتھ انصاف کرنا ہی نہیں چاہتا
اس لیئے اب تنگ آمد بجنگ آمد
اس لیئے پاکستان کی مقامی اقلیتوں کے پاس اب ایسا کوئی قانونی راستہ نہیں بچا جس کے زریعے وہ عدالت سے اپنا حق لے سکیں اس لیئے اب مقامی اقلیتیں مجبور ہوچکی ہیں کہ وہ عدالت کے باہر  "ایسٹر کے موقع پر   مذہبی نفرت اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر  اور عدالت کی جانب سے  غیر مسلم قیدیوں کو عملی طور پر دوسرے درجے کا شہری  قرار دے کر رہا نہ کیئے جانے والے عیسائی قیدیوں  کی رہائی کیلئے اپنا  بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں

 عیسائی کمیونٹی  ایسٹر کے موقع پر عیسائی قیدیوں کو  مقامی سیشن جج کی جانب سے مذہبی  نفرت  مزہبی تعصب  اور مزہبی تفریق  کا نشانہ بناتے ہوئے   عیسائی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف  اب پیر کے دن مزید ایک دن انتظار کرنے کے بعد اگر عیسائی قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو منگل کے دن  ڈسٹرکٹ ایسٹ کی عدالتوں میں شاہد پرویز میمن کی عدالت کے باہر اب ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کرے گی اور یہ پرامن  مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سندھ ہایئکورٹ اس معاملے کا نوٹس نہیں لے لیگی اس مظاہرے میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ حصہ لیں گے ہر مذہب کے لوگ حصہ لیں  گے عیسائی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک  ہنگامہ نہیں ہوگا شاہد پرویز میمن صاحب یہ چاہ رہے ہیں کہ ہنگامہ آرائی ہو جلاؤ گھیراؤ ہو  عیسائی کمیونٹی ان کی عدالت کے باہر جمع ہوجائے اور عدالت کے تقدس کو پامال کردے
جب لوگوں کے سامنے تمام قانونی راستے بند کردیئے جائیں تو پھر یہ ایک ہی راستہ ان کے پاس بچتا ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لیکر اپنے مسائل کو حل کروائیں

Tuesday, 3 March 2015

International Women's Day 2015 Theme: MAKE IT HAPPEN



International Women's Day 2015 Theme: MAKE IT HAPPEN
All around the world, International Women's Day represents an opportunity to celebrate the achievements of women while calling for greater equality.
Make It Happen is the 2015 theme for our international women day global hub, encouraging effective action for advancing and recognising women.
Each year International Women's Day (IWD) is celebrated on March 8. The first International Women's Day was held in 1911. Thousands of events occur to mark the economic, political and social achievements of women. Organisations, governments, charities, educational institutions, women's groups, corporations and the media celebrate the day.
Various organisations identify their own International Women's Day theme, specific to their local context and interests. Many charities, NGOs and Governments also adopt a relevant theme or campaign to mark the day. For example, organisations like the UN, TLSP,Oxfam, Women for Women, Care International, Plan, World Association of Girl Guides & Girl Scouts (WAGGGS) and more - run exciting and powerful campaigns that raise awareness and encourage donations for good causes. The UN has been declaring an annual equality theme for many years.
Support International Women's Day ONLINE
Use your voice via social media:- #MakeItHappen- #womensday-
#IWD2015-
#internationalwomensday-
#PaintItPurple-
And watch out for even more #hashtag activism from loads of great groups all around the world
Interact with womensday on:- Twitter- Facebook- Youtube- LinkedIn- Pinterest
Lend your support:- Retweet and share content- Display the International Women's Day on your website or blog - Donate to your favourite womens charity- Paint It Purple - your website, blog, emails for the day- Insert the IWD logo in your email signature block for the day- Support a female-focused crowd-funding initiative- Make and upload a video- Run a webinar
Support International Women's Day OFFLINE
- Run an event celebrating women to raise awareness for gender equality- Participate in local activities and campaigns- Paint it purple - your building, canteen, playground, wear purple clothing- Do a media interview- Create images or film
Whatever you do - celebrate women, call for equality - and 'Make it happen'
Why purple?
From 1908, the Women's Social and Political Union (WSPU) in Great Britain adopted the colour scheme of purple, white and green to symbolise the plight of the Suffragettes. Purple symbolised justice and dignity - two values strongly associated with women's equality. The three colours were used for banners, flags, rosettes and badges to show solidarity.

Friday, 27 February 2015

وہ ایک رات صدیوں کے برابر ہوتی ہے ٭٭تحریر صفی الدین اعوان



غریب لوگ رات آٹھ بجے ہی وہاں جمع ہوجاتے ہیں
وہاں ایک لمبی لائن ہرروز لگتی ہے ضرورت مندوں کی غریبوں کی سسکتی ہوئی انسانیت کی لائن
ساحلی بستی کے موٹے مچھر رات بھرساحلی بستی کے  ان غریبوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں ۔سردی ہو یا گرمی روز کا یہی معمول ہے  اس ہسپتا ل کے باہر ہرروز غریبوں کی ایک لمبی لائن لگتی ہے  اس لائن میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی
جو لوگ ضرورت کے تحت لائن میں لگتے ہیں ان کیلئے   ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ  ان غریبوں کیلئے انتظار کے وہ لمحے کتنے طویل ہوتے ہیں رات کے وقت صبح کا انتظار کتنا جان لیوا ہوتا ہےایک ایک منٹ سال کے برابر ہوتا ہے اور  اگر انسان بیمار ہو یا تکلیف میں ہوتو ایک ہی رات صدیوں کے برابر ہوتی ہے
مچھروں سےلڑتے لڑتے صبح ہوجاتی ہے اور صبح مقررہ وقت پر اسپتال کا دروازہ کھل جاتا ہے

لیکن صرف 80 مریضوں کو اندر داخلے کی اجازت دی جاتی ہے چالیس مرد اور چالیس عورتیں  ان کو نمبر کی پرچی الاٹ کی جاتی ہے باقی لوگ مایوس ہو کر لوٹ جاتے ہیں  یوں رات بھر کا انتظار بیکار چلاجاتا ہے
ڈاکٹروں کا پینل ان مریضوں کا معائینہ کرتا ہے اور اگر ڈاکٹر یہ محسوس کریں کہ ان کو اس اسپتال میں علاج کیا جاسکتا ہے تو ان کو ایک کارڈ جاری کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد ان مریضوں کی دیکھ بھال اس اسپتال کا فرض بن جاتی ہے 
مریض پر آنے والے تمام اخراجات اسپتال برداشت کرتا ہےیہی اس اسپتال کی سب سے بڑی خوبی ہے
غریبوں کیلئے قائم کیئے گئے اس اسپتال کا نام "انڈس اسپتال " ہےہم سوچ نہیں سکتے کہ یہ ادارہ کراچی میں غریب لوگوں کے علاج معالجے کیلئے کس قدر خطیر رقم خرچ کررہا ہے
کراچی کے شہری اور سرمایہ دار غریب پرور ہیں میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے اگر زراسی توجہ دی جائے تو  انڈس اسپتال جیسے کئی ادارے قائم کیئے جاسکتے ہیں 
اگر ہم تمام لوگ مل کرکوشش کریں تو انڈس اسپتال جیسے مزید ادارے کراچی میں قائم ہوسکتے ہیں اگر ایسے ادارے وجود میں آئیں گے تو حکومت پر بھی بوجھ کم ہوجائے گا اور انڈس اسپتال پر بھی  رش کم ہوگا لوگوں کی لمبی لائن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجائے گی اور ایک دن وہ وقت بھی آجائے گا کہ  ایک غریب شخص یا ایک باعزت پاکستانی شہری عزت سے اسپتال میں   آئے گا اور اپنا طبی معائینہ  کروائے  گا خیر انڈس اسپتال میں عزت تو آج بھی دی جاتی ہے لیکن جب ایک اسپتال کے وسائل ہی محدود ہوں تو اس کے پاس کوئی راستہ بھی موجود نہیں ہوتا اگر وسائل میں اضافہ ہوگا تو ان کی سروسز بھی پہلے سے زیادہ ہوجائیں گی اسٹاف میں اضافہ ہوگا

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اپنا ذہن یہ بنائیں کہ ہم اپنا پیسہ نیکی کے دیگر کاموں میں بھی لگائیں گے  نیکی کے ان کاموں میں اسپتال بنانا بھی شامل ہے مسجد بنانا نیکی کا بہت بڑا کام ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں نے صرف مسجد بنانا ہی نیکی کاکام سمجھا ہے  علماء اکرام کو چاہیئے کہ لوگوں کی رہنمائی کریں  اور  ایسے نیکی کے کام بھی کیئے جائیں جن سے خلق خدا کو براہ راست بھی فائدہ پہنچے

بہرحال انڈس اسپتال کورنگی میں بہت بڑا کام کررہا ہے  اور ایسے ایسے واقعات  لوگ  بیان  کرتے  ہیں جن کو سن کر دل بہت  خوش ہوتا  ہے ہم انڈس اسپتال کے تمام معاونین کیلئے دعاگو ہیں جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے میں اللہ تعالٰی سے دعاگو ہوں کہ   ان تمام لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے
پاکستان میں لوگوں کو آج بھی ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے جو ان کا پیسہ ایمانداری سے خرچ کریں 
مذہب کا نیکی کے کاموں سے گہرا رشتہ ہے کسی زمانے میں میرے آبائی شہر میانوالی میں سکھ بھی آباد تھے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میانوالی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں  میرا جانا ہواتومیں نے مشاہدہ کیا کہ وہاں 1947 میں بھی ہائی اسکول قائم تھا  ایک تالاب بنوایا گیا تھا اور ایک ڈسپنسری بھی قائم تھی جوکہ  اس علاقے کے مقامی سکھوں نے اپنی مزہبی فریضے کے تحت بنائے تھےاور غربت کے باوجود قطرہ قطرہ کرکے دریا بن گیا تھا

پاکستان کے مذہبی طبقے ،میڈیا،ہمارے ادیبوں ،سیاستدانوں اور سوشل میڈیا پر موجود باشعور افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی ذہن سازی کریں سماجی بہبود کو مذہب سے منسلک کردیا جائےجب لوگ اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر اسکول بنائیں گے اسپتال بنائیں گے تو یہ بہت سے چھوٹے قطرے بارش بن کر برسیں گے اور نیکی  کا دریا رواں دواں ہوجائے گا

 ہمارے ہاں عوام نیکی کے جزبے سے سرشار ہیں وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید نیکی کے کام کا سب سے آسان کام یہی نظر آیا ہے کہ لوگ جاکر ایک مسجد  بنادیتے ہیں  اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ  بھی نیکی ہے   لیکن انسانیت کی خدمت پر بھی  توجہ کی ضرورت ہے

یہ تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہے جب   مذہب کا مطلب ہی انسانیت کی خدمت قرار پائے گا تو ہر گلی ہر محلے میں  ایک  انڈس اسپتال  موجود ہوگا  جہاں انسانیت کی خدمت مذہبی فریضے کے طور پر کی جائے گی     

Thursday, 26 February 2015

احساس کمتری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



بیٹی انسان کو بہت پیاری ہوتی ہے خاص طور پر جب اکلوتی ہو۔ لیکن اکثر اوقات اکلوتی بیٹیاں بھی انسان کو دکھ دے جاتی ہیں 
چند ماہ قبل ایک  کراچی کے بہت بڑے تاجر نے جس کے کراچی کے  پوش علاقے میں دو شاپنگ سینٹر ہیں رابطہ کیا ا ور ایک فیملی کے معاملے پر قانونی مدد چاہی  ایک نامور  مرحوم تاجر کی   دواولادیں  تھیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ،بیٹی بہت پیاری تھی اور لاڈلی تھی لیکن کہتے ہیں نہ کہ عشق نہ پچھے  ذات بعض بیٹیاں ایسی غلطیاں کر جاتی ہیں جن کی قیمت ہر لمحہ ادا کرنی پرتی ہے دس سال پہلے شرارتی ماں باپ کی لاڈلی اور ضدی بیٹی نے ایک  سنگین غلطی کی

 ایک غریب لڑکے سے پسند کی شادی  یعنی کورٹ میرج کرلی یہ ایک ایسی غلطی تھی جس کی ماں کو توقع ہی نہ تھی اور  لڑکا بھی ایسا  کنگلا جس کے پاس نہ روزگار نہ تعلیم مختصر یہ کہ ماں باپ اور بھائی  نےمجبوراً کمپرومائز کیا  کورٹ میرج کے بعدلڑکی کو گھر سے رخصت کیا کچھ عرصے بعد اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر اس کو غریب بستی سے  کلفٹن منتقل کیا ایک قیمتی فلیٹ بھائی نے تحفہ کے طور پر دیا  جس کی موجودہ  مالیت  دوکروڑ سے بھی زیادہ ہے اور بہن کو پچاس ہزار روپیہ نقد بطور خرچ ادا کرنا شروع کیا  اور گھر کے جو بھی اخراجات تھے وہ اداکرنے شروع کیئےلیکن  ان ساری کوششوں کا الٹا نتیجہ یہ نکلا کہ  اس لڑکی کا غریب شوہر احساس کمتری کا شکار ہوا  اور عجیب وغریب رویئے کا اظہار کیاکیونکہ غریب کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر اکثر غریب ہوتا ہے جو اس کو احساس کمتری کا مریض بنادیتے ہیں یہ احساس کمتری کا شکار لوگ بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں 
میرا اپنا ایک دوست  تھا  وہ تو احساس کمتری کا باقاعدہ مریض تھااس کے باپ نے دو شادیاں کیں  اور  اس  کو بچپن میں  ہی باپ نے  گلیوں میں رلنے کیلئے لاوارث چھوڑدیا وہ بچپن میں بدترین غربت کا شکار ہوا جیسے تیسے مانگ تلنگ کے تعلیم حاصل کی اور جب وہ تھوڑا صاحب اختیار ہوا تو  میں مشاہدہ کرتا تھا کہ وہ ایک عجیب سا نفسیاتی اور شکی مریض بن گیا ہر وقت احساس کمتری ہر لمحہ وہ احساس کمتری میں مبتلا رہتا تھا اور لوگوں کو بے عزت کرکے اس کو عجیب سا نفسیاتی سکون ملتا تھا اپنے ماتحت عملے کو تو اس نے کبھی جانور کا درجہ بھی نہیں دیا اسی طرح لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونا بھی اس کا ایک مشغلہ ہی تھا  احساس  کمتری کے مریض کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو بھی ذلیل کیا جائے اس مظلوم لڑکی کے ساتھ بھی یہی حال ہوا وہ بھی کسی کے نفسیاتی تشدد ، احساس کمتری کا شکار اور نشانہ بنی
لڑکی نے عشق میں مبتلا ہوکر جو غلطی کی اس کی قیمت ہر لمحہ ادا کی احساس کمتری کا شکار شوہر نے ہر لمحہ ذہنی اذیت دی  جس کو مظلوم لڑکی نے برداشت کیا کچھ عرصے بعد جسمانی تشدد کا بھی آغازہوا جو کہ بڑھتا گیا دوبچوں کے ماہانہ تعلیمی اخراجات بھی والدین ادا کرتے تھے   اس کے باوجود لڑکی پر پابندی تھی کہ وہ والدین کے گھر نہیں جاسکتی تھی ،دس سال بعد اس لڑکی نے بالآخر اپنی دس سال پہلے کی جانے والی غلطی کو سدھارنے کا فیصلہ کیا ماں کے ساتھ دو بچے بھی باپ کے احساس کمتری کا نشانہ بن رہے تھے
انہوں نے ہم سے قانونی مشورے کے بعدگھر چھوڑا  لیکن وہ پورا خاندان بے حد خوفزدہ تھا اس کے شوہر نے دس سال کے دوران اسقدر ذہنی اذیت اور خوف وہراس پیدا کیا کہ وہ لڑکی خواب میں بھی ڈر جاتی تھی  دس سال کے دوران لڑکی پر ایسا ذہنی اور نفسیاتی تشدد تھا کہ وہ لڑکی محسوس کرتی تھی کہ اس کا شوہر اس کے پورے خاندان ہی کو مٹادے گا۔خیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے اس نے گھر چھوڑا
جب وہ چلی گئی تو پھر احساس کمتری کے نفسیاتی مریض کو احساس ہوا کہ اس سے کیا غلطی ہوچکی تھی معافی مانگی لیکن لڑکی نے معاف نہیں کیا پہلے فلیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ملکیت اپنے نام نہ کرواسکا بالآخر اس کو فلیٹ چھوڑنا پڑا  لیکن چند روز بعد ہی نام نہاد عاشق نے دھوم دھام سے شادی کی
لڑکی نے گھر چھوڑنے کے فوراً بعد ہی
خلع  اور بچوں کے ماہانہ اخراجات کا کیس داخل کیا کورٹ نے خلع کا فیصلہ اس کے حق میں دیا  بچوں کے ماہانہ اخراجات کی بات آئی تو سابق شوہر نے بے روزگاری اور غربت کا بہانہ بنایا اور کورٹ کے سامنے ہاتھ جوڑ لیئے کہ اس کے پاس بچوں کے اخراجات ادا کرنے کیلئے  کچھ بھی نہیں ہے
لڑکی نے معاف کیا تو لڑکے کا وکیل جو وکیل کم اور گھاگ شکاری زیادہ تھا اور  لڑکی  کی کردار کشی کیلئے بہت سا مواد اکٹھا کرکے لایا تھا ،  لیکن جج نے  گھاگ وکیل کو کسی بھی قسم کی کردار کشی  کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیالیکن گھاگ وکیل کوشش کرتا رہا کہ  اس کے کلائینٹ کے خلاف  کیس چلتا رہے لیکن اس کے باوجود لڑکی نے کہا کہ کیا میرے لیئے یہ کافی نہیں کہ یہ شخص میری زندگی سے ہمیشہ کیلئے چلا جائےصرف اس شرط پر اپنا کیس واپس لینے کیلئے تیار ہوں کہ یہ شخص میری زندگی سے ہمیشہ کیلئے چلاجائے  
اس طرح ایک المناک کہانی اپنے انجام کو پہنچی
لڑکی نے اس شرط پر کہ اس کا سابق شوہر زندگی بھر اس کو تنگ نہیں کرے گا بچوں کے اخراجات کا مقدمہ واپس لے لیا 
بیٹیوں کی بہت سی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی بھاریی قیمت ان کو ادا کرنی پڑتی ہے
لڑکیوں کو ایسی غلطی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا چاہیے بہت سے جذباتی فیصلے عمر بھر پریشان کرتے ہیں آج کل جو معاشرے میں کورٹ میرج کا چلن چل نکلاہے اور چار دن کی محبت کے بعد کورٹ میرج کے اکثر ہی بھیانک نتائج نکل رہے ہیں ان تمام نتائج کا تعلق معاشی  اور نفسیاتی مسائل سے بھی ہے 
میں نے اپنے کلائینٹ سے کہا کہ سزا اس کا حق تھی معاف کرنا اچھی بات ہوتی ہے لیکن اس کو سزا ملنا چاہیئے تھی
اس مظلوم لڑکی کے آنکھوں سے دو معصوم سے آنسو گرے  اور وہ صرف اتنا کہہ پائی کہ جج صاحبہ کی آنکھوں میں میرے لیئے  جو عزت تھی اور  میرے سابق شوہر کیلئے جو نفرت تھی وہی میری جیت تھی آج چند لمحوں کے دوران پری ٹرائل کے دوران جو کچھ بھی ہوا میں نے زندگی بھر کی  زیادتیوں کا بدلہ اس سے لے لیا ہے
اور جہاں تک بات ہے پیسے کی  تو کیا پیسے سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں پورے دس سال میرے بھائی اور ماں  نے  میری خوشی کیلئے   میرے ایک غلط  فیصلے کودرست فیصلے میں تبدیل کرنے کیلئے  میرے شوہر  کی ہر ڈیمانڈ پوری کی  لیکن میرے لیئے خوشیاں نہ خرید پائے
وہ دنیا کا کونسا بازار ہے جہاں پیسے سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں 
میرے ایک غلط اور جذباتی فیصلے کی وجہ سے نہ صرف پوری زندگی برباد ہوگئی بلکہ میرے بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے

Wednesday, 18 February 2015

لفظ اقلیت گالی ہر گز نہیں ہے



اقلیت
پاکستان میں یہ لفظ اگرچہ گالی تو نہیں ہے
لیکن
گالی سے کم بھی نہیں ہے
آئین کی کتاب میں ان کےحقوق موجود ہیں لیکن وہ کتاب ہی کی حد تک ہیں
کون اقلیت ۔۔وہ اقلیت ۔۔اچھا وہ اقلیت
آنکھ نیچے ۔۔آواز زیادہ  بلند نہ ہو اور آنکھ  ملا کر بات مت کرنا
تمام شہری برابر ہیں لیکن اقلیت تو اقلیت ہی ہوتی ہے

بستی تم آباد کروگے یہ تمہارا حق ہے لیکن  بستی تمہاری ہوگی آبادی تمہاری ہوگی لوگ تمہارے ہونگے لیکن اس بستی کونام ہماری مرضی سے دوگے لیکن وہاں سب حقوق برابری کی بنیاد پر تم لوگوں کو حاصل ہونگے لیکن آنکھ ذرا نیچے کیونکہ تم لوگ اقلیت والے ہو

اس میں حرج کیا ہے   ہماری زمین پربستی بھی تمہاری   لوگ  بھی تمہارے سب کچھ تمہارا ہوگا کیونکہ آئین کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ اقلیت کے بے شمار حقوق ہیں لیکن  بستی کا نام میری مرضی کا ہوگا  زمین تو ہماری ہی ہے ناں یہ کہاں لکھا ہے کہ کسی بستی کا نام بھی اپنی مرضی سے رکھوگے

دیکھو  اگر ایمرجنسی ہوتو پولیس مدد کیلئے موجود تو ہے کیونکہ آئین کی کتاب میں لکھا ہے کہ اقلیتوں کے بے شمار حقوق ہیں  تمہاری جان کی ذمہ داری ہمارے ذمے ہے اگر ایمرجنسی ہو اور بستی کو جلانے کی کوشش کی جائے گی تو ہم حفاظت کریں گے بستی جلانے کیلئے خالی کروالی جائے گی  کیونکہ  بلوائی کچھ بھی کرسکتے ہیں  اور ہم مذہبی جذبات کے سامنے بے بس ہیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے جب ہم غصے میں آجائیں تو اپنے جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں  ہم پوری بستی جلادیتے ہیں بلکہ جو سامنے آجائے جلادیتے ہیں     پولیس اپنا فرض ادا کرتی ہے بستی کی خیر ہے جل جائے پوری آبادی کا کامیابی سے انخلاء ہوجاتا ہے  اسی لیئے تو  پولیس اپنا فرض ایمانداری سے ادا کرتی ہے کہ کہیں انسانوں کو زندہ ہی نہ جلادیا جائے
اور وہ دیکھو تھانے کا منظر ایک غیر مسلم لڑکی کے اغواء کے ایف آئی درج ہوگئی یہ کافی نہیں  کیا تم کو پتہ نہیں کہ صرف ایف آئی آر کیلئے ہی کتنے پاپڑ پیلنے پڑجاتے ہیں  وہ تو ٹھیک ہے لیکن سر چوبیس گھنٹے گزرچکے ہیں ہم پر قیامت گزررہی ہے ہم کہاں جائیں  اور ابھی تک تفتیشی افسر ہی مقرر نہیں ہوا

دیکھو آنکھ نیچے۔۔۔آواززیادہ بلند نہ ہو
تفتیشی افسر مقرر ہوچکا ہے  ہمیں اب ڈکٹیشن مت دو
یہ موبائل نمبر ہے  سر ۔۔پلیز لوکیشن تو چیک کرلیں کہ لڑکی کہاں ہے
جاؤ جاؤ   مجھے تو ابھی تفتیش ملی ہے اور   زیادہ تھانے دار مت بنو اور خود جاکراس کے  یار کو تلاش کرو  گھوم رہی ہوگی کسی یار کے ساتھ

ایسا ہرگز نہیں اس کو اغواء کیا گیا ہے ہماری آنکھوں کے سامنے آپ چیک تو کریں سم کے زریعے اس کی لوکیشن کا سراغ  مل جائے گا سر کوشش تو کریں آپ دیکھ تو لیں کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے سر آپ تلاش کرسکتے ہیں وہ یہیں ہیں  وہ کال کررہے ہیں دھمکیاں دے رہے ہیں سر ایک بار پلیز صرف ایک بار کوشش تو کرلیں  ہم بھی تو اس ملک کے شہری ہیں ہمارا بھی کچھ تو حق  بنتا ہی ہے ناں سر جی وقوعہ ہی چیک کرلیں پلیز سر

سب یہی کہتے ہیں کہ اغواء ہوگئی   ایسا کچھ نہیں ہوتا صبر کرو دودن بعد خود ہی گھر واپس آجائے گی اور آنکھ نیچے  آواز ہلکی ،زیادہ اکڑ دکھانے کی ضرورت بھی نہیں اور اب جاؤ انتظار کرو خود ہی آجائے گی
پھر ایسا ہی ہوا دودن بعد وہ واپس  بھجوا دی گئی
صرف دودن بعد
صرف 48 گھنٹے بعد لڑکی واپس کردی گئی

کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اس کو بھنبھوڑا گیا۔ اس کی عزت کو تار تار کیا گیا   اس کی ویڈیو بنائی گئی ۔کیا یہ کم نہیں کہ لڑکی واپس مل گئی زندہ لاش واپس مل گئی  لیکن عزت لٹ جانے کے بعد  اب کیا ہوگا ۔۔
آئین کی کتاب اس حوالے سے تاحال  خاموش ہے
تحریر صفی الدین اعوان

یہ تحریر کراچی میں واقع  مائیکل ٹاؤن نامی عیسائی بستی جلائے جانے بعد ایک امن معاہدے کے تحت    وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ  ایک ہونے والے  "متفقہ "معاہدے کے بعد سرکاری طور پر تبدیلی اور ایک    اقلیتی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کے پس منظر میں لکھی گئی ہے

Wednesday, 4 February 2015

ہم کتنے عظیم لوگ ہیں ناں


بعض حق بڑے ہی عجیب سے ہوتے ہیں اور بالکل ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں
ان انتہائی ذاتی حقوق میں سے ایک حق "نام" کا بھی ہے۔ ہم دنیا میں جہاں بھی چلے جائیں اپنے اس ذاتی حق سے کسی بھی صورت محروم نہیں ہوسکتے ہم اپنے بچوں کے نام اپنی محبت اور چاہت سے رکھتے ہیں
کتابیں  خریدی جاتی ہیں  قرعہ اندازی ہوتی ہے نام کا مطلب تلاش کیا جاتا ہے اور کافی دیر  بحث مباحثہ کے بعد ہم اپنے بچوں کے نام محبت سے رکھتے ہیں اس نام کے پیچھے ایک محبت کا جذبہ بھی ہوتا ہے
لوگ اپنے نام اپنے مذہب اور کلچر کے مطابق بھی رکھتے ہیں  یہ ان کا ذاتی حق ہے ہم کسی بھی شخص سے اس کا یہ حق کیسے ادھار مانگ سکتے ہیں  ہم کسی بھی شخص سے یہ حق کیسے چھین سکتے ہیں نام تو ذاتی حق ہوتا ہے ناں اس میں کوئی کیسے مداخلت کرسکتا ہے یہ تو ایک اخلاقی حق بھی ہے کوئی مسلمان اپنے بیٹے کا نام  روی داس شنکر نہیں رکھ سکتا اور کوئی ہندو اپنے بیٹے کا نام  عبداللہ خان کیوں رکھے گا
جب مسلمان کوئی بستی بسانے جاتے ہیں تو اس کانام مدینہ کالونی رکھا جاتا ہے اس کا نام محمد علی سوسائٹی رکھا جاتا ہے اس کانام پیر الٰہی بخش کالونی رکھا جاتا ہے اس بستی کانام اپنے ماحول  اور کلچر کے مطابق بھی رکھ سکتے ہیں بعض اوقات کسی قابل احترام سماجی شخصیت کے نام پر بھی رکھ دیا جاتا ہے چاہے اس کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو
یہی معاملات مختلف شاہراؤں کے ہیں  کسی بھی روڈ یا سڑک کانام کسی بھی قومی ہیرو یا سماجی شخصیت کے نام رکھ کر اس کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے
ہم پاکستانیوں کو ایک عجیب سا شوق ہے تاریخ بدلنے کا ہمیں ایک عجیب سا شوق ہے  کہ ہم اپنے شوق کا بلڈوزر تاریخ پر چڑھادیتے ہیں  ہم پاکستانیوں کو ایک عجیب سا یہ شوق ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سڑکوں قومی شاہراؤں اور بستیوں کے نام اپنے قومی ہیروز اور ہردلعزیز ہستیوں کے نام  کردیں ہم اپنے شوق کا بلڈوزر لیکر کبھی لائیلپور پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اس کانام فیصل آباد رکھ دیتے ہیں ہمارے شوق کا یہ بلڈوزر بندر روڈ پر چڑھ دوڑتا ہے اور ہمارے شوق کا یہ بلڈوزر کبھی موتی لعل نہرو روڈ پر چڑھ کر اس کانام ایک ہندوستانی مسلمان شاعر جگر مراد آبادی تبدیل کرکے رہتا ہے حالانکہ جگر مراد آبادی ایک عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک سچے ہندوستانی تھے


لیکن یہ بحث تو اب پرانی ہوچکی بری طرح گھس چکی پٹ چکی یہ ہم کس موضوع کو لیکر بیٹھ گئے بات دراصل یہ ہے کہ میرے سامنے ایک سرکاری معاہدہ موجود ہے جس پر حکومت سندھ  کالوگو   نشان موجود ہےاس معاہدے کو ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ سمیع الدین صدیقی کی منظوری حاصل ہے اور یہ معاہدہ منظوری کے بعد ڈپٹی چیف سیکرٹری  سندھ سمیت تمام اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو بھی بھیجا گیا ہے یہ  معاہدہ تین اکتوبر 2013 کو دوپہر تین بجے ہوا جس کا مقصد کورنگی میں مسلمانوں اور کرسچن کمیونٹی کے درمیان ہونے والے مزہبی تنازعے اور فسادات کے بعددونوں فریقین کی صلح کروانی تھی اگرچہ مجھے اس معاہدے کے بہت سے نکات سے اختلاف ہے
لیکن معاہدے کا ایک نقطہ میرے دل  ہی کو چھید گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس صلحنامے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ  اس کرسچن بستی جہاں سارے کرسچن آباد ہیں اور تین سو گھرانوں پر مشتمل اس آبادی میں دوہزار کے قریب مسیحی  برادری کے افراد بستے ہیں صلح نامہ کے مطابق اب اس بستی کا نام  عیسائیوں کی بجائے مسلمانوں کی ایک قابل احترام شخصیت کے نام سے پکارا جائے گا بعد ازاں سرکاری طور پر اس بستی کا نام تبدیل کیا گیا اور سرکاری سرپرستی میں وہاں کی آبادی کو مجبور کیا گیا کہ  اس آبادی کی دیواروں سے پرانا نام مٹا دیا جائے اور نیا نام لکھ دیا جائے

مجھے حیرت ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہتے ہیں کسی بھی شخص سے کسی بھی گروہ سے ہم کیسے کس بنیاد پر اس کانام کا حق چھین سکتے ہیں نام کا حق تو ذاتی ہوتا ہے  ہم کسی اقلیتی گروپ کو کس بنیاد پر  اس بات پر مجبور کرسکتے ہیں
ہم اپنی بستیوں کے نام سو بار تبدیل کرسکتے ہیں کسی دوسرے گروہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر کس اخلاق کے تحت اپنا فلسفہ مسلط کرسکتے ہیں
ایسا تو اس صورت میں ہوتا ہے جب ایک دشمن ملک دوسرے ملک کی کسی بستی پر قبضہ کرتا ہے اور فتح کی خوشی میں اس شہر کا نام  ہی تبدیل کرکے اس بستی کے شہریوں کو  ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے یہ پیغام دیتا ہے  کہ ہم فاتح ہیں تم مفتوح ہو ہم طاقتور ہیں تم کمزور ہو دیکھ لو ہم نے تم سے طاقت کی بنیاد پر تم سے تمہارا نام ہی چھین لیا
ہم نے کونسا ملک فتح کیا ہے ہم اپنے ہی ملک کی بستیوں کو فتح کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں  کیا ہم غیر مسلموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم فاتح ہیں تم  مفتوح ہو اب ہم سرکاری طور پر  ان بستیوں کے نام بھی وہاں کے شہریوں کی مرضی اور اجازت کے بغیر  زبردستی تبدیل کرکے مسلم اکابرین کے نام پر رکھ رہے ہیں جہاں غیر مسلم آباد ہیں اور وہ بستیاں جو غیر مسلموں نے چند سال قبل ہی آباد کی ہیں چند سال سے مراد بیس سے پچیس سال پہلے ہے
ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا کب سیکھیں گے کل تک ہم تاریخ کو مسخ کررہے تھے اب ہماری ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم نے اپنے حال کو بھی مسخ کرنا شروع کردیا ہے ہم کتنے عظیم لوگ ہیں
           بستی

Thursday, 22 January 2015

جیوری پاکستان کے عدالتی نظام کی فعالیت کیلئے امید کی کرن تحریر صفی الدین اعوان



ہمارے بہت سے دوست یہ کہتے ہیں کہ  پاکستان میں جیوری کی بات کرنا حقیقت پسندی نہیں ہے حالانکہ جیوری کا تصور تو زمانہ قبل مسیح میں بھی ملتا ہے

جیوری بنیادی طور پر شہریوں کی ایک جماعت ہوتی ہے جوکمرہ عدالت میں بیٹھ کرحقائق کی روشنی میں شہادت کی بنیاد پر کسی واقعے کی رونما ہونے کے بعدکسی فوجداری کیس کی سماعت کا تعین کرتا ہےشہریوں کی جماعت حقائق کا تعین کرتی ہے جبکہ قانونی پوزیشن کا تعین جج کرتا ہےکیا

یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان میں ستانوے فیصد ملزمان ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر باعزت بری ہوجاتے ہیں کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ  موجودہ نظام میں پولیس تفتیش کے دوران حقائق کا تعین نہیں کرتی  بلکہ تفتیش کے زریعے صرف شہریوں کو پریشان کیا جاتا ہے 

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایف آئی آر خوف کی علامت ضرور ہے انصاف کی علامت نہیں ہے اور یہی خوف ناانصافی کو جنم دیتا ہےبہت سے دوستوں کا یہ اعتراض درست نہیں کہ جیوری امریکہ کی عدالتوں کیلئے ہی موزوں ہےشہریوں کی جماعت کا تصور ہردور میں رہا ہے پنچایتی نظام بھی اسی سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے اسی طرح جرگہ سسٹم  کے زریعے بھی شہریوں کے کردار کا تعین کیا جاتا ہےبلدیاتی نظام میں مصالحتی انجمن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن یہ تمام کڑیاں  پاکستان میں عدالت کے کمرے سے باہر ہی موجود ہیں ہم نے پنچایتی نظام کا بھی میڈیا ٹرائل کیا اور صدیوں پرانے جرگہ کا بھی اتنا میڈیا ٹرائل کیا کہ جرگہ کے لفظ سے ہی خوف آتا ہے  دنیا بھر میں متحرک شہری اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں

 پاکستان میں نہ جانے کیوں وکلاء مسائل کے متبادل حل کی  بھی  مخالفت کرتے ہیں  حالانکہ فوجداری عدالت  جیوری کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سول نوعیت کی عدالت کیس داخل ہونے سے پہلے مسائل کے متبادل حل کی کوشش کے بغیر سائلین پر ظلم کے مترادف ہے اگر پاکستان میں اے ڈی آر یعنی مسائل کے حل کا متبادل نظام آجائے تو آدھے سے زیادہ سول نوعیت کے کیسز خود ہی خود ختم ہوجائیں جبکہ حیرت انگیز طور پر وکلاء کا روزگار بھی اس سے متاثر نہیں ہوگا بلکہ اضافہ ہوگا کیونکہ  اے ڈی آر کی فیسز بھی وکلاء کو ملتی ہے آپ تصور کرکے سوچیں کہ کیا جیوری کی موجودگی میں پولیس بوگس تفتیش کرکے چالان جمع کروا سکتی ہے کیا جیوری کی موجودگی میں  ایک جج پولیس کی ذہنی ماتحتی اور غلامی کرسکتا ہے

 یقینی طور پر نوے فیصد فوجداری مقدمات ختم ہوجائیں گےکیونکہ  جو مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں ان میں سے اکثر ہی بے بنیاد ہیں  اور  ان کو سماعت کیلئے منظور کیوں کیا جاتا ہے اس کی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش اور عدلیہ میں شہریوں کی شمولیت کا نہ ہونا ہےجیوری کی موجودگی میں کیا پولیس کسی بے گناہ کو گرفتار کرکے مجسٹریٹ کے سامنے ڈھٹائی سے پیش کرسکتی ہے  اور کیا ریمانڈ لینا ممکن ہوگا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ مجسٹریٹ شہریوں کی موجودگی میں کسی بے گناہ کے خلاف پیش ہونے والے چالان کو منظور کرنے میں کامیاب ہوجائےجیوری کے حوالے سے تمام الزامات اس لیئے کمزور ہیں کیونکہ موجودہ عدالتی نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے  ہماری عدالتوں سے ملزمان کی  باعزت طور پر رہائی کا رجحان اس لیئے زیادہ ہے  کیونکہ پولیس کی تفتیش ناقص ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ سے ہی اس نقطے کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ پولیس ریمانڈ اور چالان عدالت میں جمع کرواتی ہے
  بدقسمتی سے مشرف دور میں عدالتی اصلاحات پر کچھ کام ہوا تھا جس کا تسلسل جاری نہ رہا اور مشرف دور میں ہی عدالتی اصلاحات کا سلسہ ختم ہوگیا تھا لیکن مشرف دور میں بھی مصالحتی انجمن کو یونین کونسل کی سطح پر اختیارات دیئے گئے تھےضرورت اس عمل کی ہے کہ  متحرک شہری اپنا کردار ادا کریں ضرورت اس عمل کی ہے کہ ہم سب یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ  ایک عام شہری کو عدلیہ سے  "ٹکے" کا فائدہ بھی نہیں پہنچ رہا لوگ عدالتوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں عدالت سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالتی نظام میں شہریوں کی شمولیت نہیں ہے جوکہ کسی بھی ریاست کے شہریوں کا بنیادی حق ہے اور یہ حق شہریوں کو صدیوں سے حاصل ہے آج بھی دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں جیوری عدالتی نظام کا حصہ ہےیہ کام آسان ہرگز نہیں  ہوگا متحرک عدلیہ کسی کرپٹ نظام کیلئے ہر گز مفید نہیں ہوسکتیبدقسمتی سے ہم ایک نامکمل  عدالتی نظام  کے زریعے انصاف کی فراہمی کی کوشش کررہے ہیں  جو کہ ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی خصوصی عدالتیں اور کبھی ملٹری  عدالتوں کا تجربہ کیا جاتا ہے  

Tuesday, 30 December 2014

عدلیہ رجمنٹ وفاداری کی بے مثال تاریخ **تحریر: صفی الدین اعوان

عدلیہ رجمنٹ وفاداری کی بے مثال تاریخ **تحریر: صفی الدین اعوان
پاکستان میں جو عدالتی نظام موجود ہے اس میں شہریوں کی شمولیت بزریعہ جیوری نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ فرد
واحد کو "من مانے" فیصلے کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اصولی طور پر یہ ملٹری عدالتیں ہی ہیں جن کو سویلین  ناکامی سےچلانے کی کامیاب  کوشش کررہے ہیں موجودہ عدالتوں کو مزاج کے اعتبار سےاگر ملٹری عدالتیں تصور کرلیا جائے تو مزید نئی ملٹری عدالتوں کے قیام کی تجویز احمکانہ (کتے والے کاف کے ساتھ احمقانہ )ہے جنرل راحیل شریف یہ نیک کام موجودہ ملٹری عدالتوں سے بھی لے سکتے ہیں اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ  ماضی کی طرح انسداد دہشتگردی کی عدالتیں شہر سے دور دراز بنا دی جائیں اور ہمیشہ کی طرح نظر نہ آنے والے فوجی ڈنڈا سر پر مسلط کردیا جائے جب میاں نواز شریف خان عمران خان زرداری وغیرہ ایک اشارے پر ڈھیر ہوسکتے ہیں تو لیڈرشپ کی صلاحیت سے پیدائیشی طور پر محروم عدلیہ میں اتنی جراءت کہاں کہ انکار کرسکے جنرل صاحب موجودہ عدلیہ کو ہی ملٹری کورٹس ہی تصور کرکے جو کام لینا ہے لے لیں موجودہ ملٹری عدالتوں کی موجودگی میں نئی ملٹری عدالتوں کی سول سوسائٹی سخت مزمت کرے گی ویسے بھی اس مونچھوں والے فوجی جنرل میں ایسی کوئی خاص بات ضرور ہے کہ جب مونچھوں پر ہاتھ پھیرتا ہے تو سیاستدانوں کی ڈر کے مارے "پشی" ہی نکل جاتی ہے
راحیل شریف صاحب یہ نالائق وکیل قسم مشیر آپ کا ٹائم برباد کررہے ہیں  یہی وہی لوگ ہیں جنہوں نے مشرف کی لٹیا ڈبو ڈالی تھی آپ موجودہ عدلیہ کی  فوجی بٹالین کی حیثیت کو بحال کردیں
چیف جی یقین کریں یہ بہت ہی وفادار بٹالین ہے اور بطور فوجی بٹالین کے "عدلیہ رجمنٹ " کا ماضی شاندار ہے کیا آپ کے فوجی مارشل لاء کی جان پر کھیل کر عدلیہ رجمنٹ نے ہمیشہ حفاظت نہیں کی کیا ایوب سے لیکر مشرف تک کے عدلیہ رجمنٹ کے کردار اور قربانی کو آپ ہمیشہ کیلئے بھول گئے ہیں
لیکن باغی بریگیڈیئر افتخار چوہدری کے معاملے میں کچھ قصور اندر کے لوگوں کا بھی ہوگا اس لیئے آپ کو "منجی " کے نیچے "ڈانگ" پھیر کر بھی دیکھ لینا چاہیئے اور باغی بریگیڈیر افتخار کی پرانی خدمات کو یاد کرکے یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ اگر بلاوجہ بریگیڈئر صاحب کا کورٹ مارشل نہ کیا جاتا تو پوری بٹالین کو بغاوت کی ضرورت ہی کیا تھی اس لیئے مؤدبانہ گزارش ہے کہ  پرانی خدمات کو یاد کرکے پورے وقار کے ساتھ عدلیہ رجمنٹ کو بحال کردیا جائے اور اگر ممکن ہوتو چیف کو بریگیڈئر کے عہدے سے ڈبل پروموشن دے کر اگر برابری کی بنیاد پر جنرل بنادیا جائے تو عدلیہ رجمنٹ کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی ویسے بھی آنے والے دنوں میں  جب آپ میاں صاحب کو پکی چھٹی پر بھیجنے ہی والے ہیں تو ماڈل ٹاؤن والے کیس کے حوالے سے عدلیہ رجمنٹ کا کردار اہم ہوگا

Saturday, 27 December 2014

دس لاکھ متحرک شہری تحریر صفی الدین اعوان



معزز شہریوں کی شمولیت کے بغیر عدالتی نظام نامکمل ہے یہی وجہ ہے کہ عدلیہ اور پولیس نے مل کر 20 کروڑ پاکستانی شہریوں کو عملی طور پر یرغمال بنارکھا ہے پولیس شہریوں پر تشدد کرتی ہے لوٹ مار کرتی ہے اور اس تمام لوٹ مار میں عدلیہ کا حصہ شامل ہوتا ہے کیونکہ جیوری کے زریعے شہری عدالتی نظام کا حصہ نہیں ہیں اس لیئے عدلیہ اور پولیس نے مل کر اور ایک منظم پارٹنرشپ کے تحت لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے دوسری طرف عوام کے پیسوں سے چلنے والے اداروں کو کرپشن کیلئے اس عدلیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے جس کا حصہ پاکستانی شہری نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستانی شہری حقوق سے محروم ہیں معزز شہریوں پر مشتمل عدالتی جیوری پاکستانی شہریوں کا حق ہے 
صوبہ سندھ میں سی پی ایل سی شہری شمولیت کی بہترین مثال ہے سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی نے کراچی کے شہریوں کو پولیس کے مظالم سے بچانے کی شاندار کوشش کی ہے
شہریوں کی عدالتی نظام میں شمولیت بزریعہ جیوری اور سوشل میڈیا پر متحرک شہری رضاکار صحافیوں اور پاکستانی شہریوں کیلئے دس لاکھ متحرک شہریوں کی ممبر سازی کی مہم سانحہ پشاور کی وجہ سے ملتوی کردی گئی تھی کیونکہ یہ ایک اہم ترین پروجییکٹ ہے اس لیئے انشاءاللہ سال نو کے موقع پر یکم جنوری 2015 سے اس ملک گیر مہم کا آغاز ہوگا
اس حوالے سے جو بنیادی پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے وہ سوشل میڈیا پریس کلب کا ہے جس کی مکمل تفصیلات آج ایک تفصیلی نوٹ کے زریعے فراہم کردی گئی ہیں ہم پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اس پروجیکٹ کیلئے ہمیں ہرممکن سہولت فراہم کی ہے

MEMBERSHIP P START FROM DATED 1st January 2015

What is one “1 Million Active Citizen” and what’s the need of it?

The Law Society Pakistan has always worked for the betterment of society and rule of law. Considering the advantages of citizen journalism and growing trends of latest technologies in our society TLSP sensed a high need to build a proper channel of citizen journalism where this trend can be use for providing a platform to public. But considering the criticism over citizen journalism TLSP took an initiative towards the project of “1 million active citizen” where 1 million people will be trained for citizen journalism. These trainings will focus on skills needed for citizen journalism. Special focus will be on ethical guideline. The motto of 1 million active citizens is if you see something say something. Report any human rights violation without fear and favor. All news and information gather by citizen journalists will be review by committee before publishing on social media. Based on those clips/snaps/videos suits will file in respective courts 

Criteria:
Following people are eligible for memberships and trainings:
  • Pakistani citizens Age 18 years or aboveMinimum qualification matriculation
  •  No criminal record
  • Memberships is based on
  • Annual 
  • Lifetime 
  • Members will have a right to elect board members via vote.
  • Initially for 3 months temporary committee will run.



What is Citizen Journalism? “
Citizens playing an active role in the process of collecting, reporting, analyzing, and disseminating news and information

”Citizen Journalism is a concept in which public plays the role of journalist in gathering news and information by utilizing latest technology tools and distributing it on internet. Citizen journalists are not trained and non-professionals, who collect, disseminate and analyze news on blogs, wikis and sharing websites using tablets, laptops, cell phones, digital cameras and other mobile and wireless technologies. Anyone can be a citizen journalist and capture/report news. The idea behind citizen journalism is that people without professional journalism training can use the tools of modern technology and the global distribution of the Internet to create, augment or fact-check media on their own or in collaboration with others. For example, you might write about a city council meeting on your blog or in an online forum. Or you could fact-check a newspaper article from the mainstream media and point out factual errors or bias on your blog. Or you might snap a digital photo of a newsworthy event happening in your town and post it online. Or you might videotape a similar event and post it on a site such as YouTube.

What tools are needed by Citizen Journalists? 

Tablet or laptop
computer Digital camera that shoots stills and video Digital audio recorder
 Software apps for editing text, audio, photos and video, and for creating visual data graphics 
Blog, wiki, website or other content management system for texts, audio, photos, video and graphics
Social networks for staying connected 

What skills are needed by citizen journalists? 
  • Critical thinking, proactive curiosity, noticing critical details, piecing facts together, understanding of behavior 
  •  Writing with accuracy, clarity, relevance, brevity, readability, consistency 
  •  Editing and revising for accuracy, clarity, relevance, brevity, readability, consistency 
  •  An eye and ear for still and motion images, informative graphics, natural sounds, layout, design 
  • Visual storytelling, visualization of data, visual design and presentation 
  • Competency with new digital media and internet tools, social media, crowdsourcing and participation 

What is good about citizen journalism?
The good thing about citizen journalism is latest media technologies, social networks, media-sharing websites and the increasing presence of smart phones everywhere open news reporting to people who sometimes can discover and report breaking news faster and less expensively than mainstream news organizations.It adds a wider berth and color as it collates information that would not have been placed into the public eye otherwise. This can be through a poll, blog or comment, this gives a story a multifaceted view rather than that of the journalist who wrote it.Citizen journalist cover the news that mainstream media misses. It gives a “multiplicity of voices”. Social media as a form of citizen journalism is seen as an aid for journalism by many despite its’ downfalls due to the way it breaks news through trending topics and collating all the news in one ideal location. Due to this, it has created a greater interest in news through online discussion and the spreading need to share information with others, as it is stated“Most people are still happy to rely on mainstream news organisations to sort fact from fiction and serve up a filtered view, but they are increasingly engaged by this information, particularly when recommended by friends or another trusted source”Social media is enabling a powerful form of citizen journalism with live coverage of events that allow bursts of information as it is happening.

Criticism:
Citizen journalism has been criticized by professional journalists because citizen journalists have not been oriented toward the standards and practices of professional journalism. They say reports from citizen journalists are subjective, amateurish, inaccurate and haphazard. They see citizen journalism's quality as, well, not professional and its coverage spotty.  The issue with citizen journalism is the professionalism of it but as it depends on the person and believes it is an issue with professional journalists too. It is argued that for a good story a journalist needs the skills they could only acquire with training however that is not to say that an ordinary person is not capable of objectively telling us the story. For many, citizen journalism isn’t even an attempt at bettering the media, but simply aiding it to report to the mass media or just to get their opinion out on a public scale and as this is the case it makes the material a good read but also one that is looked at with a great skepticism as a big problem with it seems to be checking the facts. Like usually citizen journalists record an event and present it to the public, very often without checking all the facts related to the event.Many will look at citizen journalism as lacking the ethical and professional legitimacy of professional as it is stated “this legitimacy may be unknown with a blog or user-created site and,indeed, there have been cases where individuals have gamed the system, deliberately posting material they know not to be true”The thing about social media and Twitter is there is a flow of false be it the deaths of numerous celebrities, which can be so easily taken in by the mainstream media hoping to break the story first.

Friday, 5 December 2014

کرپشن کو کرپشن سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے ٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

افتخار چوہدری چلاگیا
اس نے چائے کی ایک پیالی میں  طوفان برپا کیا اور وہ طوفان چائے کی پیالی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا
افتخار چوہدری عدلیہ کی عزت بنانے میں کامیاب رہا۔ اس کی قسمت ہمیشہ سے اچھی ہے۔ وہ جب وکیل تھا تو اس وقت بھی وہ ایک قابل رشک زندگی گزارتا تھا۔ان کے ایک پرانے دوست نے بتایا کہ ایک دفعہ ان کے ساتھ کوئٹہ سے سبی جانے کا اتفاق ہوا ۔ایک ہوٹل پر کھانے کیلئے رکے تو بلاتکلف ویٹر کو کہا کہ ہوٹل میں جتنی بھی ڈشیں پکی ہیں ایک ایک پلیٹ لے آؤ کھانا کھایا اور بھاری بل اداکیا راستے میں پوچھا کہ   ایسا کیوں کیا چوہدری نے جواب دیا کہ ہوٹل والے کو پتہ ہونا چاہیئے کہ ایک وکیل اور عام آدمی کے کھانے میں کیا فرق ہوتا ہے افتخار چوہدری  نے وکالت بھی شان سے کی اور ججی بھی شان سے کی
وہ ہرلحاظ سے ایک قابل رشک وکیل تھا۔  لوگ اس کی وکالت کی آج بھی مثال دیتے ہیں وہ فرشتہ نہ تھا نہ  ہی اس نے کبھی دعوٰی کیا
اس کو چیف جسٹس بنانے سے پہلے جسٹس سعیدالزمان کی زندگی میں نو مارچ خاموشی سے آکر گزر بھی چکاتھا اور ہماری بار ایسوسی ایشنز  نے چپ کا روزہ رکھ لیا تھا جب جسٹس سعیدالزمان کو عدلیہ سے بے دخل کیا گیا تو اس وقت بھی سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن موجود تھی اس وقت بھی پاکستان بارکونسل کا وجود ہواکرتا تھا وکلاء کی تمام تنظیمیں موجود تھیں  لاہور کی عدالتوں میں بھی وکیل پریکٹس کرتے تھے اور کراچی میں بھی وکالت ہوتی تھی اس وقت بھی  پاکستان کے ہر ضلعے میں منتخب بار ایسوسی ایشنز ہواکرتی تھیں  لیکن اس وقت مشرف نامی ڈکٹیٹر کے ہاتھ سے حلف لینا کوئی اخلاقی جرم نہ تھا شاید یہ سب تاریکی کے دور کی باتیں تھیں   شاید حبیب جالب اسی وجہ  کسی گزرے زمانے  میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں۔۔۔ ہمیں انصاف کیا دیں گے
پھر وقت نے کروٹ لی شاید اس آرمی چیف سے  اس کا اپنا ادارہ ہی بیزار ہوگیا تھا جو کسی طور وردی اتارنے پر تیار ہی نہیں ہورہا تھا  
پھر نو مارچ دوہزار سات آگیا وقت کروٹ لے چکا تھا افتخار چوہدری کے اچھے دن شروع ہوئے ایک "نامعلوم طاقت "اس کے ساتھ تھی  وہ طاقت اس قدر طاقتور تھی کہ ایک حاضر آرمی چیف اس کے سامنے "بے بسی" کی تصویر بن گیا اسی دوران  وکلاء سڑکوں پر تھے اسی دوران ایک  عام پولیس افسر نے چیف جسٹس آف پاکستان کو  ڈرامائی  انداز میں بالوں سے پکڑ کر اس کا راستہ روک دیا اس واقعے  نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور وکلاء تحریک آگ کی طرح بھڑک اٹھی تحریک کا اصلی ہیرو وہی پولیس افسر تھا جس نے چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑا تھا وہ آج بھی سیٹ پر موجود ہے
وہ پاکستان بار کونسل وہ صوبائی بار کونسلز پاکستان بھر کی ڈسٹرکٹ سطح کی بار ایسوسی ایشنز  جنہوں نے جسٹس سعیدالزمان کے معاملے میں چپ کا روزہ رکھ لیا تھا  یہ تمام لوگ کالے کوٹ پہن کر سڑکوں پر نکل آئے اسی دوران بے شمار لوگ نوازے گئے وہ آج بھی ہمارے ہیرو ہیں
آخر کار وکلاء کی قربانیاں اور نامعلوم طاقت کی غیبی مدد کے زریعے عدلیہ  بحال ہوئی کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ عدلیہ آزاد ہوئی ہے حالانکہ عدلیہ بحال ہوئی تھی
بہرحال جو بھی تھا افتخار چوہدری ایک طاقتور ترین چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر سامنے آئے ان کو بہت اچھا موقع ملا  جس سے چوہدری صاحب نے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا
 اسی دوران چوہدری صاحب حکومت کے پیچھے ہی پڑگئے  بلکہ ہاتھ پاؤں دھو کر ہی پڑگئے  جبکہ دوسری طرف ماتحت عدلیہ کیلئے ایک جوڈیشل پالیسی متعارف کروادی اسی دوران مجھ سمیت پاکستان کے  ایک لاکھ وکلاء کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ عدلیہ واقعی آزاد ہوگئی ہے لیکن ایک طاقتور ہاتھ اس کے پیچھے ہمیشہ موجود رہا  چوہدری بھی یاروں کا یار تھا  اسی دوران وہ اپنے دوستوں کو نوازنے میں کامیاب رہا دوستی کا حق ادا کردیا۔ عوام کو کسی حد تک ریلیف ملا کافی معاملات میں حکومت پاکستان کا پیسہ واپس حکومتی خزانے میں آیا   اگرچہ اب تو چوہدری صاحب گھر جاچکے ہیں لیکن وکلاء اور پاکستانی عوام میں عدلیہ ایک امید کی کرن ضرور بن گئی ہے  ایک ماڈل پروجیکٹ کے طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ ایک چیف جسٹس کتنا طاقتور ہوتا ہے  اور اس کا رول انتظامیہ کے احتساب کیلئے کتنا ضروری ہوتا ہے بطور چیف جسٹس چوہدری نے اپنا وہ کردار نبھایا جو ہم فلموں اور ڈراموں میں سوچ بھی نہیں سکتے وہ غریبوں کا مسیحا بن کر ابھرا غریب اس سے محبت کرتے تھے وہ غریب کی امید تھا لیکن لیکن اسی دوران وہ عدلیہ کو بطور ادارہ متحرک کرنے میں ناکام رہا اس کی جوڈیشل پالیسی بہترین ہونے کے باوجود ناکامی سے دوچار ہوئی اس کے اپنے ہی ادارے میں کرپشن انتہائی تیزی سے پھیلی  عدلیہ کا اندرونی  احتساب کا عمل ختم ہوگیا   اس دوران ہم اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ عدلیہ آزاد ہوگئی تو اس آزادی ڈرامے کے دوران وکلاء کے مفادات  بھی متاثر ہوئے  عدلیہ کو دیگ اکیلے ہضم کرنے کی گندی عادت ہوگئی
چیف صاحب نے  پاکستان کے تمام اداروں کا احتساب کیا سوائے عدلیہ کے اسی دوران پاکستانی میڈیا کی خصوصی توجہ عدلیہ کی جانب ہوگئی تو وکلاء گردی بھی سامنے آگئی   پھر پورے پاکستان نے دیکھا کہ لاہور میں وکلاء نے ایک سیشن جج کو رگڑا دیا اور بعد میں اس کی حمایت کرنے پر جسٹس شریف  کو بھی رگڑا دیا   اصل بات یہ تھی کہ جسٹس شریف پوری دیگ اکیلے کھانے کے موڈ میں تھا لیکن وکلاء نے اپنا حصہ چھین لیا وکلاء کہہ رہے تھے کہ یا تو کوئی بھی نہیں کھائے گا یا مل جل کر کھائیں گے جبکہ جسٹس شریف کا مؤقف یہ تھا کہ وہ ساری کی ساری دیگ اکیلے ہضم کرے گا خیر جب وکلاء نے یہ دیکھا کہ چوہدری اور اس کے چند وکیل دوست آزاد عدلیہ کی بریانی اکیلے اکیلے کھانے کے موڈ میں ہیں تو انہوں نے زبردستی اپنا حصہ وصول کیا پھر پورے پاکستان نے یہ دیکھا کہ چیف جسٹس بھی وکلاء گردی کے سامنے بے بس رہا اور وکلاء نے اپنا وہ والا حق زبردستی وصول کیا  جو عدلیہ اکیلے ہضم کرنا چاہتی تھی ہم اس اصول پر یقین رکھتے ہیں کہ یا تو کوئی نہیں کھائے گا کرپشن اچھی چیز نہیں ہوتی  لیکن اگر کھائیں گے تو سب مل جل کر کھائیں گے کرپشن کو کرپشن سے  ہی ختم کیا جاسکتا ہے
ایک نوجوان وکیل کو میں اس غلط فہمی سے نکالنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آزاد عدلیہ  کچھ نہیں ہوتی یہ سب طاقت اور مفادات کی جنگ ہے  ایک مضبوط بار انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے    اگر بار مضبوط ہے تو یہ کالی شیروانی پہن کر گھومنے والے شاطر بھیڑیئے  اکیلے نہیں کھا سکیں گے اور نوجوان وکلاء کو یہ چاہیئے کہ ان کی شکل پر نہ جائیں یہ تو شکل مومناں اور کرتوت کافراں والی صورتحال ہے
آزاد عدلیہ چائے کی پیالی میں ایک طوفان  تھا جو چائے کی پیالی کے ساتھ ہی ختم ہوچکا ہے  افتخار چوہدری جاچکا ہے اب وہ واپس نہیں آئے گا مفادات کی اس جنگ میں اخلاقیات کوئی چیز نہیں ہوتی جو جتنا طاقتور ہوگا وہ  اتنا ہی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہوگا اور طاقت استعمال کرنے کیلئے ہوتی ہے
عدلیہ کی موجودہ پالیسیاں مکمل طور پر وکلاء دشمن ہیں   لیکن وکلاء کو اپنا حصہ وصول کرنا ہے جوکہ ہمیشہ ہی وکلاء نے طاقت سے وصول کیا ہے عدلیہ کی ایمانداری صرف اور صرف ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں مفادات کی جنگ میں اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی
تشدد تو بہت چھوٹی چیز ہے
یہ جو ہماری عدلیہ نے ایم آئی ٹی بنایا ہے اس کا مقصد کرپشن کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے یہ بیوقوف بنارہے ہیں  یہ صرف وکلاء  اور عوام کو ب سے بیوقوف بنارہے ہیں  چور ہمیشہ بزدل ہوتا ہے ان  چوروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ہمیشہ یاد رکھیں ہرروز یاد رکھیں کہ ہم اس قدر طاقتور ہیں کہ ہمارے صدر نے پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیت  آرمی چیف کو سرعام للکار کر کہا تھا کہ  "ہمارا ہاتھ ہوگا اور تیرا گریبان ہوگا"
یاد رکھیں

ناتوانوں کے نوالوں پر جھپٹتے ہیں عقاب


Safi  Awan
03343093302


Monday, 1 December 2014

کیا یہ ہتھوڑی کیل ٹھونکنے کے کام آئے گی

ایک بہت ہی خوبصورت باغ میں لوگ قطار کی صورت میں جارہے تھے باغ کے باہر ایک بددماغ قسم کا چوکیدار بھی کھڑا تھا ایک معزز ساشخص وہاں سے گزرا اس نے چوکیدار سے پوچھا کیا میں اندر جاسکتا ہوں کیا مجھے اندر جانے کی اجازت ہے تو بددماغ چوکیدار نے کہا نہیں چپ کرکے یہاں  کھڑا ہوجا وہ بھی کھڑا ہوگیا کافی دیر کھڑا رہا  اور لوگ اس کے سامنے سے گزرتے رہے جب کہ وہ بیوقوفوں کی طرح دیکھتا رہا اسی دوران  اس نے چوکیدار سے کہا کہ آپ ان لوگوں کو کیوں نہیں روک رہے توبددماغ چوکیدار نے جواب دیا کہ کیونکہ ان میں سے کسی نے یہ فضول سوال نہیں کیا کہ وہ باغ کے اندر جاسکتا ہے یا نہیں اپنی طاقت یا اختیارات کے بارے میں سوال کرنا دنیا کا فضول ترین سوال ہے
طاقت دماغ کے اندر موجود ہوتی ہے کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی   اب یہ فضول سا سوال لگتا ہے کہ کہ
 کہاں لکھا ہے کہ مجسٹریٹ  کس حد تک  ایک تفتیشی افسر کے سامنے بااختیار ہے اگرچہ اس فضول  سوال کا قانونی  جواب بھی موجود ہے لیکن
جج ہونا ہی ایک نفسیاتی طاقت ہے۔ جج کا مطلب ہی جج ہونا ہے ایک اپنے اختیارات کا تعین کسی کتاب کے ذریعے کیسے کرسکتا ہے کل تک چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی تھے ڈپٹی کمشنر کیا آپ سوچ سکتے ہیں کے ڈپٹی کمشنر کیسے مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتا ہوگا کمشنر یا ڈپٹی کمشنر اسقدر بے لگام تھے کہ ہماری سوچ سے بڑھ کر کیونکہ ان کے پاس لیڈرشپ بھی تھی
پورا پاکستان جانتا ہے کہ وکیل کی طاقت کیا ہے یہ سب باتیں کسی بھی کتاب میں لکھی ہوئی نہیں ہیں  بلکہ استعمال کرتے ہیں جو انہوں نے خود ہی طے کرلیا یہی وہ نفسیاتی طاقت تھی جب مشرف نے ایک خود ساختہ سپریم کورٹ کے زریعے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کی تو منیر ملک  نے ایک تاریخی بیان دیا کہ "ہم سپریم کورٹ کو آگ لگا دیں گے"  یہ وہ طاقت تھی جو منیر ملک صاحب کے دماغ کے اندر ہی موجود تھی اور پاکستان کے ذہین ترین وکلاء میں سے ایک ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی  طاقت کا اعلان کیا  تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا اسی طرح وہ وکیل جو خود کو وکیل بھی سمجھتا ہے یہاں دیہاڑی دار "دلال" مراد نہیں  ہیں اور یہاں کالا کوٹ لٹکا کر گھومنے والے بھی نہیں ہیں وہ وکیل  جو خود کو وکیل بھی سمجھتا ہے عدلیہ کے اندر کس کی ہمت ہے جو اس کو ایک لفظ  بھی سنا سکیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا وکیل اپنی شان کے ساتھ کورٹ روم میں آتا ہے اپنے ان اختیارات کے ساتھ اپنی اس طاقت کے ساتھ جس کا تعین اس نے خود ہی کرلیا ہے میرے ایک دوست نے گزشتہ سال لاہور ہایئکورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تو جسٹس صاحب کو پٹیشن ڈسمس کرنے کا بڑا شوق تھا وہ ساری پٹیشنز سرسری سن کر ڈسمس کرتے جارہے تھے ان کا حشر بھی یہی ہوا تو انہوں نے آگے سے کہا  ڈسمس۔۔۔ڈسمس میرے سے پہلے کی دس پٹیشنز بھی ڈسمس اور اگلی دس پٹیشنز بھی ڈسمس ایسا کر کورٹ کے باہر ایک بورڈ لکھ کے لگا دے کہ ڈسمس پتا نہیں تمہیں جسٹس کس نے لگایا ہے یہ سن کر پٹیشن ڈسمس کرنے کے شوقین جسٹس نے حکم دیا کہ "اریسٹ ہم" اسے گرفتار کرلو تو اس  نے اس کو کھڑے کھڑے جواب دیا "اریسٹ ہم" کا بچہ مجھے گرفتار کرنے کیلئے تمہیں عدالت سینٹرل جیل کے اندر لگانی ہوگی خیر اب اتنی ہمت کس میں ہے کہ وکیل کو کورٹ  روم سے گرفتار کرسکے لیکن اس جسٹس کو یہ سبق ضرور مل گیا کہ اپنی طاقت کے ساتھ سامنے والے کی طاقت کا احترام بھی ضروری ہے بدمعاشی کی اجازت تو کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر کسی کو نہیں دی جاسکتی چاہے وہ کوئی جسٹس ہو،سیشن جج ہو یا مجسٹریٹ کراچی میں بعض جسٹس جس طرح کاروائی چلاتے ہیں اس طرح کے رویئے کی اجازت پنجاب میں نہیں دی جاسکتی  اور کراچی میں ایسا کیوں ہوتا ہے  اس کے پیچھے بار کی کمزوری کے علاوہ بھی ایک وجہ ہے یعنی مالی معاملات ہیں اسی طرح پنجاب بھر میں بار ایسوسی ایشنزنے اپنی  "رٹ" قائم کی ہے وہ کسی کتاب میں نہیں لکھی ہوئی ہے پنجاب میں مجسٹریٹ پولیس کی رپورٹ پر تفصیلی  حکم نامہ جاری کرنے کا ہر صورت میں پابندہے وہاں ایک انگریزی کا لفظ لکھ کر بے قصوروں اور بے گناہوں کو رگڑنے کی اجازت ہر گز نہیں ہے اس  کے پیچھے بھی بار کی طاقت ہے
ولیس ایک طاقت ہے  لیکن وہ ایک مکار طاقت ہے  وہ مکاری سے عیاری سے اپنی طاقت کو استعمال کرتی ہے اور استعمال کرنا خوب جانتی  بھی ہے پولیس ایک بے رحم طاقت  ہے
پولیس نے بھی اپنی طاقت کا تعین خود ہی کرلیا ہے  اور چالاکی اور مکاری سے اپنے افسر کو اپنا ذہنی ماتحت بنالیا ہے وہ شہریوں کو بدمعاشی سے تنگ کرتے ہیں جبکہ عدالت کو مکاری سے  اپنا غلام بناتے ہیں اپنے ذہنی غلام کو دس سیلوٹ مار کر یقین دلاتے ہیں کہ ہم ماتحت آپ کے ہیں لیکن کام آپ سے اپنی مرضی کا ہی کروائیں گے مکاری سے جھک کر وہ یقین دلادیتے ہیں کہ  ہم آپ کے ماتحت ہیں لیکن  ان کے دماغ میں جو سوفٹ ویئر فٹ کردیا گیا ہے اس کے مطابق انہوں نے خودہی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ منصف کی سیٹ پر جو شخص بیٹھا ہوا ہے وہ ان کا ذہنی ماتحت ہے اور اس کے دل کو خوش کرنے کیلئے دس سیلوٹ ٹھوکنے پڑجائیں
 وہ  اس تابعداری کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں  اگر وہ شور مچاکر دل کو خوش کرلیتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ان کے دماغ کے اندر جو طاقت موجود ہے وہ اپنے ماتحت سے کام  اپنی مرضی کا ہی کرواتے ہیں  لیکن کیونکہ پولیس ایک مکار طاقت ہے اس لیئے وہ پوری مکاری اور عیاری سے  ساب کو یقین دلاکررکھتی ہے کہ ہم آپ کے خادم آپ کے نوکر چاکر ایک اشارہ تو کریں لیکن  مرضی میری  ہی ہوگی
طاقت اور اختیارات کا تعین دنیا کی کوئی طاقت نہیں کرسکتی دنیا کے سب آئین طاقت اور اختیار کے سامنے بے بس ہیں
اب وزیراعظم کو ہی دیکھ لیں یہ بیچارہ آرمی چیف کا تقرر کرتا ہے  اور بظاہر چیف  وزیراعظم کے ماتحت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں  کیونکہ آرمی چیف بھی  از خود اپنی  طاقت اور اختیارات کا تعین کرچکا ہےاسی طرح ڈی جی  "آئی ایس آئی" بظاہر تو آرمی چیف کے ماتحت ہے لیکن  حقیقت یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے از خود ہی اپنی طاقت اور اختیارات  کا تعین کرلیا ہے مشرف کا انجام سب کے سامنے ہے کیونکہ ساری خفیہ طاقتیں افتخار چوہدری کے ساتھ تھیں اور آرمی چیف بے چارگی سے صرف تماشہ ہی دیکھتا رہا
طاقت اور اختیارات کا تعین تو دماغ طے کرتا ہے
طاقت ۔۔طاقت  کے استعمال سے ہی آتی ہے مجسٹریٹ جب کسی سرکش پولیس افسر کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہیں تو پھر وہ منسوخ کیوں ہوجاتے ہیں  کان سے پکڑ کر پولیس افسران کو صرف ایک ہفتے کیلئے جیل بھیج دیں تو سارے کس بل ایک منٹ میں نکل جائیں گے ذیادہ نہیں دس سال پرانی بات ہے کراچی کے دو سیشن ججز نے جب دیکھا  تھا کہ پولیس بے لگام ہوچکی ہے اور ایس ایچ او بھی بات نہیں مانتا تو ایک واقعہ میں   پولیس  کے افسران کو جب ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیجا تو سب کے سب ٹھیک ہوگئے تھے اسی طرح صرف ایک رپورٹ وقت پر نہ آنے پر وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے تھے  ایس ایچ اوز روزانہ ہی لائن لگا کر کورٹ کے باہر کھڑے ہوتے تھے اور ان کے خلاف کیسز بھی ان کو پورا دن بیٹھا کر  اور پوری اکڑخانی نکلوا کر سنے جاتے تھے آج ہر گز ایسا نہیں کہ پولیس شریف ہوگئی یا ان کے خلاف کراچی میں شکایات ختم ہوگئی ہیں بلکہ وہ سیشن ججز باقی نہ رہے آج تو جج سوال کرتے ہیں کہ کیا میں یہ کرسکتا  
ہوں کیا یہ میرا اختیار ہے ایک جج یہ سوال کرے اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا
کل ایک جج یہ سوال بھی کرسکتا ہے کہ یہ جج کی ٹیبل پر جو ہتھوڑی پڑی ہوتی ہے کیا وہ کیل ٹھونکنے کیلئے رکھی ہے یایہ اخروٹ توڑنے کے کام آئے گی