Powered By Blogger

Sunday, 31 May 2015

اردو سوشل میڈیا ابھرتی ہوئی طاقت ٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

اردو بلاگ حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے
آج سے دوسال قبل جب میں نے اردو بلاگ لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تو میں یہ سمجھتا تھا کہ اردو بلاگ پڑھا ہی نہیں جاتا اسی دوران  ملک عامر صاحب سے رابطہ ہوا اور انہوں نے میرے بلاگ کو بلاگستان میں شامل کرلیا۔ جس کے بعد  بلاگ پرتیزی سے لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوا کچھ حیرت انگیز واقعات بھی پیش آئے آہستہ آہستہ ایک چھوٹی سی پہچان بھی بن گئی  میں ایک خاص شعبے میں لکھتا ہوں اور وہ بہت حساس بھی ہے اور وہ شعبہ ہے عدلیہ کا یعنی پاکستان کا سب سے حساس ترین شعبہ
میں  اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ شروع شروع میں لاپرواہی سے بھی لکھ دیتا تھا 

اس دوران ایک واقعہ پیش آیا جب میں ایک سیشن جج کے پاس درخواست لیکر گیا کہ آپ کی عدالت میں ہرروز معذور افراد بھی پیش ہوتے ہیں ان کیلئے  ایک ایسی ڈھلوان سطح بنادیں جس کے ذریعے وہ وہیل چیئر سے  ان کی رسائی کورٹ تک ہوجائے خیر سیشن جج نے ہمیں عزت نہ دی تو ہم نے بھی اس کو عزت کے قابل نہ سمجھا اسی دوران میں نے سیشن جج کی کیفیت کے مطابق ایک بلاگ لکھا جس کا عنوان تھا "زندہ لاش"  اس بلاگ نے کراچی میں ہلچل مچادی کیونکہ کراچی جیسے شہر میں سیشن جج ایک بہت بڑی توپ چیز سمجھی جاتی ہے اور حاضر سیشن جج سے چھیڑخانی کیریئر کو تباہ کردیتی ہے   لیکن زندہ لاش میں موجود حقائق نے یہ بات ثابت کی کہ ہمارا مؤقف درست تھا
خیر مجھے اس وقت پہلی کامیابی ملی جب اس سیشن جج  کے جانے کے فوراً بعد ڈسٹرکٹ کورٹس شرقی کی عدالتوں میں باقاعدہ طور پر ڈھلوان سطح بنا کر اس قابل بنایا گیا کہ وہاں اب معذور افراد باآسانی گراؤنڈ فلور کی عدالتوں میں پیش ہوسکتے ہیں  یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے جبکہ باقی اضلاع میں کام جاری ہے
میں نے جو بھی بلاگ لکھے وہ ذاتی مشاہدات پر مبنی تھے میرے پاس اس سے متعلق شواہد موجود  ہیں اسی دوران  میری غلطی کہ چند دوستوں کی معلومات پر بلاگ لکھے  جو بعد میں  ان کے مکرجانے  کی وجہ  سے بلاگ   کی ساکھ خراب ہوئی  لیکن انسان غلطی سے سیکھتا ہے
ہمارے عدالتی نظام میں ایک بری روایت موجود ہے کہ سیشن ججز کو ہایئکورٹ میں جسٹس لگایا جاتا ہے اور اکثر اوقات ان کو  کنفرم نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ سیشن جج کے عہدے پر تنزلی کردی جاتی ہے  جس سے عدالتی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے    ایسے متاثرین کو ایک قسم کا موقع دیا جاتا ہے کہ چاچا جی آپ جسٹس کے لیئے اہل نہیں تھے ریٹائرمنٹ میں سال دوسال باقی ہیں  اب واپس جاکر سیشن کورٹس میں جتنی تباہی مچا سکتے ہو مچا لو دوسرے الفاظ میں رشوت لینے کی ایک  غیر اعلانیہ اجازت دی جاتی ہے
ہم نے ایسے بے شرموں کو جو جسٹس  کے عہدے پر کام کرنے کے بعد دوبارہ سیشن جج کے عہدے پر تعیناتی کی ذلت برداشت کرتے ہیں  کی غیرت بیدار کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن یہ ہماری کامیابی ہے کہ اگر کوئی جسٹس ہایئکورٹ سے سیشن کورٹ میں واپس آتا ہے تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ ایک زندہ لاش واپس آرہی ہے  لوگ ایسے جج کو عزت نہیں دیتے اور وہ صرف ماہانہ تنخواہ وصول کرتا رہتا ہے
لوگ یوں بات کرتے ہیں کہ کون فلاں جو پہلے جسٹس تھا  کنفرم نہیں ہوا۔ دوبارہ سیشن جج بن کے واپس آرہا ہے ۔زندہ لاش کی صورت میں واپس آرہا ہے

میں نے ایک ذاتی مشاہدہ کیا اور جاننے کی کوشش کی کہ عدالتی نظام میں تبدیلی کس طرح آسکتی ہے میرا مشاہدہ تھا کہ عدلیہ کی سب سے اہم ترین   بنیادی اینٹ مجسٹریٹ ہے اگر مجسٹریٹ کی عدالت ٹھیک کام کرے گی تو فوجداری عدالتوں کا سارا نظام ہی ٹھیک ہوجائے گا اور یہی  مجسٹریٹ کی عدالت سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ میں نے مشاہدہ کیا کہ مجسٹریٹس کے پاس معلومات پولیس آفیسر کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں  میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ مجسٹریٹس دل ہی دل میں  پولیس سے خوفزدہ ہوتے ہیں میں نے یہ بھی مطالعہ کیا کہ پولیس آفیسر مجسٹریٹ کو  کٹھ پتلی کی طرح نچاتے ہیں اور مجسٹریٹ وہی کرتا ہے جو پولیس چاہتی ہے پھر میں نے ایک نتیجہ اخذ کیا کہ مجسٹریٹ پولیس کا ذہنی ماتحت اور ذہنی غلام ہوتا ہے اس  بات پر کافی لے دے ہوئی لیکن میرے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد موجود ہیں  خیر پھر میں نے ایک بات کی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی ملک میں عدالتی نظام موجود ہو ضلع کی سطح پر  ایک سیشن جج بیٹھتا ہو اور تھانہ ایک مجسٹریٹ کی عدالت سے منسلک ہو اس کے باوجود وہاں پولیس ظلم کرتی ہو تشدد کرتی  یہ ناممکن ہے یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا جب عدلیہ پولیس کے ماتحت ہو یا پولیس اور عدلیہ کی ملی بھگت ہو  اس بات پر بھی کافی سوالات اٹھائے گئے اور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی


سول سوسائٹی نے ہمارے بلاگ کی بنیاد پر سوالات اٹھائے کہ آخر عدلیہ پولیس کے ساتھ مل کر ٹھوس شواہد کی عدم  موجودگی میں کیسے بے گناہوں کو جیل بھیج سکتی ہے  سول سوسائٹی کے حلقوں میں مجسٹریٹس اور پولیس کی پارٹنر شپ پر بھی ڈائیلاگ ہوئے اور یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ عدلیہ کی حمایت کے بغیر پولیس کسی بے گناہ کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا نہیں سکتی

لاء سوسائٹی پاکستان نامی بلاگ کو عوامی پذیرائی حاصل ہے  لیکن  سینئروکلاء کے حلقوں میں اس کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے  وجہ  صاف  ظاہر ہے کہ  میں  نے بہت سی  باتوں کو کھلم کھلا لکھا ہے جو ان کے کاروباری راز تھے

 مقتدر عدالتی حلقے اس پر گہری نظر رکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں    اور کسی بھی بات کا سختی سے نوٹس لیا جاتا ہے یہ ہماری کامیابی بھی ہے اور آزمائیش بھی کیونکہ اب  کوئی ایسی بات نہیں کی جاسکتی کہ جس کی بنیاد نہ ہو کیونکہ اب بلاگ اپنا ایک مقام  بناچکا ہے  ایک ساکھ بناچکا ہے
ہمیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ کراچی میں ایک سپریم کورٹ کا جسٹس خفیہ طور پر چیمبر چلا رہا تھا اور کیس بک کرتا تھا میں نے اس پر بلاگ لکھ دیا جس کے بعد ایک بھونچال آگیا جس کا ہم نے سامنا کیا اس بلاگ پر شدید تنقید کی گئی مجھے کافی دھمکیاں ملیں   لیکن اس سے فائدہ یہ ہوا کہ  جسٹس  نے اپنا کالا دھندہ بند کیا افسوسناک طور پر کسی نے یہ نہیں کہا کہ  شواہد  غلط ہیں سب نے یہ کہا کہ جسٹس کی کردار کشی کی جارہی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان کے بلاگ کو  بہت زیادہ عوامی پذیرائی حاصل ہے شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ عدالتیں کیوں عوام کو انصاف نہیں فراہم کرپارہی ہیں   میرا یہ بلاگ ایک ایسی ڈائری ہے جس میں کورٹ میں پیش آنے والے واقعات کو  عوامی زبان میں لکھ دیا جاتا ہے آج ہمارے بلاگ ہی کی وجہ سے عدلیہ کا وہ چہرہ عوام کے سامنے ہے جو کبھی پیش نہیں کیا گیا آج سوشل میڈیا  کے توسط سے  لوگ جان گئے ہیں کہ اصل طاقتور ادارہ پولیس ہی ہے جس کے سامنے جج کی کرسی پر بیٹھے ہوئے مجسٹریٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے  وہ صرف  شور مچا سکتا ہے اس سے زیادہ کوئی  حیثیت  نہیں ہےجس کے بعد اب کچھ ججز نے زبان کھولنے کی ہمت کی ہے اب وہ کبھی کبھی پولیس والے سے پوچھ لیتے ہیں کہ اس شخص کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اب چند ججز کے اندر اتنی ہمت بھی پیدا ہوچکی ہے کہ   ڈرتے ڈرتے پولیس سے کیس پراپرٹی کے متعلق پوچھ لیتے ہیں یہ کہنے کی جرات پیدا کرلیتے ہیں کہ  ملزم سے جو برآمدگی ہوئی ہے پیش کی جائے  ورنہ پہلے ایسا کوئی تصور نہ تھا

اور اب چند ججز پولیس رپورٹ اور پولیس چالان کو پڑھنے کی زحمت کرلیتے ہیں   لیکن آج بھی  ننانوے فیصد مجسٹریٹ صاحبان پولیس رپورٹ پر انگوٹھا لگا کر کیس سماعت کیلئے منظور کرتے ہیں  اور پولیس کی بالادستی آج بھی قائم و دائم ہے

لاء سوسائٹی نے پہلی بار مجسٹریٹ کو یہ احساس دلایا کہ وہ لوگ پولیس سے طاقتور ہیں  وہ پولیس کے ماتحت نہیں ہیں اور پولیس کی ذہنی غلامی سے نجات دلانے کیلئے ہماری جدوجہد جاری ہے جاری رہے گی

کورٹ محرر ایک ایسا طاقتور پولیس آفیسر ہوتا ہے جس سے سیشن ججز بھی خوفزدہ رہتے ہیں کورٹ محرر پر ایک تفصیلی بلاگ  نے ملک گیر شہرت حاصل کی
ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان کا نوجوان وکیل ہم سے امید رکھتا ہے سینئرز کی امیدوں کی ہمیں جرورت بھی نہیں ہے
ہمارے بلاگ میں دادا  استاد کو مرکزی حیثیت حاصل رہی  لیکن آج  کل وہ ہم سے نراش ہیں

موجودہ صورتحال میں ہم اپنے آپ کو آزمائیش کا شکار سمجھتے ہیں   کیونکہ  حلقہ احباب وسیع تر ہوچکا ہے بہت سے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ روزمرہ پیش آنے والے واقعات کو  بلاگ میں لکھا جائے میں اس حوالے سے واضح طور پر معذرت کرنا چاہتا ہوں  میں صرف ان واقعات کو لکھ سکتا ہوں جن کا میں خود عینی شاہد ہوں  اور میں اپنی بات سے کبھی نہیں مکرتا اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں نفع نقصان کی کبھی پروا ہی نہیں رہی
میں سندھ ہایئکورٹ کا شکر گزار ہوں جس نے ہماری تنقید کا تعمیری انداز میں جواب دیا 
آج اردو بلاگنگ سوشل میڈیا کے اندر ایک نئی طاقت بن کر ابھری ہے    ایک اردو بلاگر کا پیغام دور دور تک جارہا ہے بلکہ ایسے ایسے مقامات پر جارہا ہے جہاں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے  قارئین کی تعداد میں حالیہ دنوں میں بہت زیادہ اضافہ  ہوا ہے اس ساری جدوجہد میں بہت سے وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے ایسے وقت میں اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی جب اردو بلاگ کے حوالے سے بات کرنا بیوقوفی سمجھی جاتی تھی
کراچی میں ہونے والی  اردو سوشل میڈیا سمٹ نے اردو بلاگنگ اور اردو سوشل میڈیا کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے پورے ملک میں ایک بھونچال برپا ہے نئے نئے اردو لکھاری سامنے آرہے ہیں  دائرہ وسیع ہورہا ہے  اردو بلاگرز اپنا نیا مقام بنارہے ہیں  بلاگ پر تنقید اور تعریف کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے
اردو سوشل میڈیا ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے
ہر وہ شخص خراج تحسین کا مستحق ہے جس نے اردو   بلاگ کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کیا


Safiudin awan
03343093302
safilrf@gmail.com

Friday, 29 May 2015

خواب ، جنوں اور تعبیر ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

میرے ایک دوست ہیں نام لینا مناسب نہیں لیکن   شعبہ وکالت میں آنے کے بعدکافی عرصے تک "خرچے" سے بھی تنگ تھے کافی عرصہ تنگ دستی کی زندگی گزارنے کے بعد نہ صرف ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی سے نااہل وکیل قرار پائے بلکہ روایتی خوشامدی اور چاپلوس نہ ہونے کی وجہ سے  سسٹم کا حصہ نہ بن سکے اوران کی وکالت کامیاب نہ ہوسکی کمال کے مقرر ہیں اور ایک اچھے قصہ گو ہیں اتنے اچھے کہ وہ پورا دن بولتے رہتے تھے اور ان کی  باتیں ہم سنتے رہیں  پاکستان  میں وکالت میں شدید ناکامی کے بعد خاموشی سے یورپ میں جابسے کچھ عرصہ ہم نے ان کی کمی کو محسوس کیا  بعد ازاں کافی عرصے تک اس کے خوابوں کو ڈسکس کرتے رہے اس دنیا کے ناکام ترین انسان کی باتیں شیئر کرتے رہے  اور ہنستے بھی تھے کہ عجیب  پاغل تھا سسٹم کو بدلنے کی  بات کرتا تھا  بیوقوف  کہیں کا

 پانچ سال کے طویل وقفے اور روپوشی کے بعد دودن قبل اس کی کال وصول ہوئی اس نے کہا کہ وہ واپس آچکا ہے اور ملنا چاہتا ہے  پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ دنیا کا ناکام ترین انسان واپس آچکا ہے بہرحال  میں  اس سے ملنے گیا اس کے ساتھ پورا دن رہا  اس کے حالات اچھے دکھائی دے رہے تھے مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ ایک یورپی ملک کا ایک اہم اٹارنی بن چکا ہے اور اس کی لاء فرم یورپ کی مشہور  لاء فرم بن چکی ہے  اور اس کے پاس کامیابیوں کے بے شمار ریکارڈ تھے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شارٹ کٹ تو کامیاب نہیں ہوگیا اس نے کہا ایسا کچھ نہیں وہاں پر وکالت کا ایک نظام ہے ایک ماحول ہے ایک احساس زمہ داری ہے وکالت کتنا زمہ داری کا شعبہ ہے وہاں جا کر احساس ہوا اور ایک وکیل کی کتنی عزت ہوتی ہے وہاں احساس ہوا میں نے پوچھا کہ وہاں کے جج تو کافی ایماندار ہونگے میرے دوست نے کہا نہیں وہاں ایسا کوئی تصور نہیں ایماندار جج اور بے ایمان جج کیا ہوتا ہے؟ جج تو جج ہی ہوتا ہے کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی آنکھ سے یہ ان کا اصول ہے اگر کوئی بے ایمان ہے تو اپنے خرچے پر وہاں کا سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ کوئی کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا  ان کو اپنے ججز پر بھروسہ نہیں ہے بلکہ ان کو اپنے ایسے نظام پر بھروسہ ہے جو کرپشن کو پکڑنے کی صلاحیت  رکھتا ہے

 اچھا کیا وہاں ججز کی کرپشن کو سپورٹ کرنے کیلئے "ایم آئی ٹی" نہیں ہے بھائی یہ ایم آئی ٹی کیا بلا ہے وہاں ایک ہی "ٹی" ہے وہاں کا سسٹم خود ایماندار  اور مضبوط ہے اس لیئے یورپی ممالک میں عدلیہ کو "ایم آئی ٹی" جیسے ڈھول بجانے کی فرصت ہی نہیں نہ ان کو ایسے ڈھکوسلے ایجاد کرنے کی کوئی ضرورت ہے یہ ایم آئی ٹی جیسے ماموں بنانے کے نسخے صرف پاکستانیوں کی ایجاد ہیں  کیونکہ کرپشن کو تحفظ فراہم کرنے کے  ایم آئی ٹی سمیت سو بہانے ہوتے ہیں  وہاں ایم آئی ٹی نہیں ہے  لیکن اتنا چیلنج ہے کوئی کرپشن کرکے تو دیکھے

اچھا اگر کسی بااثر جسٹس کا  ایسا جونئیر  جو جج ہو کرکرپشن کرے تو اس کے لیئے وہ سفارش تو کرتا ہوگا میرے دوست نے کہا ایسا کچھ نہیں وہاں ڈھکوسلوں کا کوئی سلسلہ ہے ہی نہیں   وہاں عدلیہ  صرف عدلیہ ہے اور سب سے زیادہ ذمہ دار وکیل ہوتا ہے   وکیل اپنے کلائنٹ کے قانونی حقوق کی حفاظت کا زمہ دار ہے ہر صورت ہر قیمت پر اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ وکیل نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو اس کو اپنے ہی منتخب نمائیندوں کی حمایت حاصل نہیں ہوتی لائسنس منسوخ  کردیا جاتا ہے اس لیئے کوئی بھی وکیل اپنے کلائینٹ کے ساتھ برے سلوک کا سوچ بھی نہیں سکتا  اس حوالے سے کوئی رعایت ہی نہیں اگر ایک وکیل نے کیس لے لیا اور اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا  اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو پھر اس وکالت کا حق بھی نہیں ملتا


میرے منہ سے نکل گیا کیا وہاں بارکونسل نہیں ہیں ؟
 میرے دوست نے کہا ادارے ہیں لیکن وہ زمہ دار ہیں وہاں کی ریگولیٹری اتھارٹیز اداروں کی شکل میں کام کرتی ہیں
اب فائدے سن لو وہاں ایک عام وکیل کی بھی اتنی انکم ہے کہ وہ ایک پورے خاندان کو پال سکتا ہے ادارے مضبوط ہونے سے ادارے کا وقار بحال ہے کرپشن کے خاتمے سے ایک میرے جیسا نااہل وکیل جو پاکستانی  عدلیہ میں مس فٹ تھا آج کامیاب زندگی گزار رہا ہے بعد ازاں جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ صرف پانچ سال کے قلیل عرصے مٰیں اس نے پاکستان جو اثاثے بنائے ان اثاثوں کا سوچنا بھی مشکل ہے  لیکن مجھے اس کی ایک بات ہمیشہ یاد رہی یار خواب بڑے دیکھو ایک دن آتا ہے وہ بڑے خواب تعبیر بن جاتے ہیں مٰیں نے کہا چلو آج ڈسٹرکٹ کورٹ چلتے ہیں اور ان لوگوں سے ملتے ہیں  جن کو  تمہاری قابلیت پر شک تھا میرے دوست نے کہا کہ  کہا نہیں کبھی نہیں کیونکہ وہاں میرے خواب دفن ہیں وہ خوابوں کا قبرستان ہے وہاں میں نہیں جاسکتا

میں نے کہا پتہ چلا کہ  "وہ"صاحب بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بن گئے ہیں وہ بھی تو ہم سے اپنے خواب شیئر کیا کرتے تھے ان کے خواب شرمندہ تعبیر کیوں نہ ہوئے میرے دوست نے کہا اپنے اپنے جنون کی بات ہواکرتی ہے میرے خوابوں کے پیچھے میرا جنون تھا اور ان کے خواب کیوں شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ہوں وہ خود جانتے ہونگے ہوسکتا ہے کہ ان کا خواب صرف چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ بننے کا ہو تو ان کاخواب بھی شرمندہ تعبیر ہوچکا آج وہ بھی تو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ہیں  نوجوان وکلاء کے ساتھ بیٹھ کر جو خواب دیکھتے اور دکھاتے تھے جب وہ خود بھول گئے ہیں تو ہمیں بھی بھول جانے میں کیا حرج ہے ویسے بھی بعض اوقات خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں
ہم اس دن ساتھ رہے اور شام کو میرا دوست رخصت ہوگیا
یہ تحریر پانچ سال  پرانی ہے

آخر میں کچھ عرصہ قبل لکھی گئی ایک تحریر کا دوبارہ حوالہ
خوش قسمتی سے سپریم کورٹ میں کام کرنے ایک اچھا ماحول موجود ہے کمرہ عدالت کا ایک بہترین ماحول ہے تمام کاروائی ریکارڈ ہوتی ہے اور اہم اداروں کے سربراہان کی کوششوں کے باوجود کیسز چیمبر میں نہیں سنے جاتے بلکہ مقدمات کی کھلی سماعت کی جاتی ہے اس حوالے سے چیف صاحب پر کوئی کبھی بھی تنقید نہیں کرے گا کہ سپریم کورٹ میں گورننس کے ایشوز ہیں یہی حال ملک بھر کی ہائیکورٹس کا ہے وہاں نظام کو بہتر بنانے میں کافی کامیابیاں ہوئی ہیں ججز کی کمی ایک مسئلہ تھی وہ بھی کسی حد تک حل ہوچکا ہے
ماتحت عدلیہ جہاں ہرروزلاکھوں کی تعداد میں پیش ہوتے ہیں جہاں لوگوں کے معمولی نوعیت کے معاملات سے لیکر قتل تک کے مقدمات پیش ہورہے ہوتے ہیں وہاں پاکستان کی عدالتوں میں ہمیشہ سے مسائل اور پریشانیاں عوام کا مقدر رہی ہیں ان عدالتوں سے نہ صرف عوام بلکہ وکلاء کو بھی شکوے اور شکایات رہے ہیں اس حوالے سے متعدد بار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی توجہ دلائی گئی لیکن کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی حالیہ دنوں میں 2013 کی کراچی بارکی منتخب کابینہ نے شاید تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت کاروائی کی جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے سخت نوٹس بھی لیا جوابی طورپر وکلاء نے بھی ہڑتال کی اور کافی کامیاب ہڑتال کی لیکن بالآخر یہ معاملہ بھی اسی طرح ہی شاید حل ہونے جارہا ہے کہ" تھپڑ" مار کر معافی مانگ لی جائے اور یہ گھسا پٹا نعرہ بلند کردیاجائے کہ بار اور بنچ ایک ہی گاڑی کے دوپہیئے ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے پھر یہی کہا جائے گا کہ" سب کچھ بھول جا" لیکن چیف صاحب کو اس بار اس کا سخت نوٹس لینا چایئے اس سارے معاملے کو ایک جسٹس کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے
کیا واقعی رشوت کا لین دین ہوتاہے؟
اس کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
ماتحت عدلیہ کے اکثر ججز مقدمات کی کھلی عدالت میں سماعت کیوں نہیں کرتے؟
کیا عدالتی اوقات کار کے دوران یا بعد ججز کا اپنے دوست وکلاء یا ملزمان کے ساتھ بیٹھ کر میٹنگ کرنا درست ہے یا غلط؟
جو نظام جو ڈسپلن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی سطح پر سختی سے لاگو ہوچکا ہے وہ ماتحت عدلیہ میں کیوں نہیں ہوسکتا؟
اگرسپریم کورٹ اورہائی کورٹ کی ساری کاروائی شفاف بنانے کیلئے ریکارڈ کی جاسکتی ہے تو ماتحت عدلیہ میں کیا رکاوٹ ہیش آرہی ہے ؟
کراچی میں پاکستان کی ٪12 آبادی رہتی تو اس حوالے سے کیا خصوصی اقدامات کیئے گئے ہیں؟
کراچی کے جوڈیشل کمپلیکس کے حوالے سے اہم فیصلوں میں کیا رکاوٹیں ہیں؟
ریکارڈکیپنگ کے لیئے جو پیمانہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنایا گیا ہے وہی ماتحت عدلیہ میں کیوں نہیں؟
کراچی کی عدالتوں سے ہزاروں سنگین جرائم میں ملوث افراد کس طرح ضمانت پر رہا ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے ہیں؟ کون ذمے دار ہے؟ اور کیا ان کی ضمانت کے طور پر جمع کروائی گئیں دستاویزات پر جرمانہ عائد کیا گیا اور کیا وہ دستاویزات اصلی تھیں؟ اور اگر جعلی دستاویزات تھیں تو پریذایڈنگ آفیسر کس حد تک ذمے دار تھے؟ اسی طرح بہت سے افراد کو ذاتی ضمانت پر چھوڑا گیا کیوں؟ کیا سنگین جرائم میں ملوث افراد کو صرف زاتی ضمانت پر چھوڑا جاسکتا ہے؟
وکلاء  تنظیمیں صرف ایک ہی مطالبہ کررہی ہیں کہ ان کو کام کرنے وہی ماحول میسر ہونا چاہیئے جو سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں وکلاء کو حاصل ہے جس طرح عوام کو چیٖف صاحب سے بے شمار توقعات وابستہ ہیں اسی طرح وکلاء بھی وہی توقعات وابستہ کیئے بیٹھے ہیں

یہ تحریر پانچ سال  قبل لکھی گئی  تھی اس میں اب اتنا اضافہ کرلیا جائے کہ وکلاء کی عدلیہ سے وابستہ توقعات دم توڑ چکی ہیں


Thursday, 28 May 2015

جوڈیشل مجسٹریٹ کانفرنس وقت کی ضرورت ہے ٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان


ہمارے وہ تمام دوست اور احباب جو جوڈیشل مجسٹریٹس کو "بے اختیار" سمجھتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ہرگز ہرگز  بے اختیار نہیں جیسا کہ تصور کرلیا گیا ہے اتنا ضرور ہے ہے کہ بحیثیت ایک برٹش کالونی   کے چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی موجود تھے جن کو انتظامیہ استعمال کرتی تھی اصولی طور پر انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات اکٹھے نہیں ہوسکتے اس لیئے کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی کوئی پولیس نہیں ہوتی اور پولیس کی کوئی عدالت نہیں ہوتی لیکن یہ صرف مہزب ممالک کیلئے ہے


انتظامیہ کی عدلیہ سے علیحدگی ایک زمانے میں بہت بڑا نعرہ تھا  کیونکہ انتظامیہ کی جانب سے تفتیش میں بے جا اور ناجائز مداخلت ہوتی تھی اسی وجہ سے اعلٰی عدالتوں کے فیصلہ جات  جن کا تعلق تفتیش میں مداخلت سے ہے وہ سول انتظامیہ کے افسران تھے عدالتی افسران کو مخاطب نہیں کیا گیا
جب بھی ہم نے تفتیش کے دوران عدالتی اختیارات کی بات کی تو ہمارے دوست احباب وہی عدالتی فیصلے لیکر آجاتے ہیں جن کے تحت انتظامیہ سے منسلک عدالتی اختیارات کے حامل مجسٹریٹ صاحبان کو اختیارات حاصل تھے  دوستو یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیئے کہ ہم عدالتی نظام کی برائیاں بیان کرنے کیلئے ہرگز نہیں بیٹھتے نہ ہی ہمارا وقت اتنا فالتو ہے کہ عدالتی نظام کی خامیاں گنواتے رہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ مشکلات جو روزمرہ پیش آتی ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں یہاں ایک اور معاملہ بھی ہے کہ مجسٹریٹ تو ایک انتظامی اختیارات کے استعمال کا عہدہ ہے کیونکہ مجسٹریٹ جو حکم جاری کرتا ہے ان کی حیثیت انتظامی نوعیت کی ہوتی ہے  اور یہ بہت بڑی اور اہم بحث ہے جس پر سالہا سال سپریم کورٹ میں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے
میں نے کئی بار ذکر کیا کہ کراچی کے ایک سیشن جج نے جب کراچی میں آن لائن عدلیہ کا تجربہ کیا تو اس نے کسی عدالتی اصلاح کا انتظار نہیں کیا اور وہ کرگزرا اور ایک کامیاب تجربہ کے زریعے یہ ثابت کیا کہ اصلاح کا انتظار کرنے والوں کا مؤقف درست نہیں  ان کا یہ مؤقف غلط ہے کہ پارلیمنٹ نئی قانون سازی کرے بلکہ جو لوگ تبدیلی لانا چاہیں ان کیلئے ہر وقت ماحول سازگار ہوتا ہے
اگر ہم ضابطہ فوجداری کی زیردفعہ 159 کا ذکر کریں تو اس میں مجسٹریٹ کیلئے کیا اختیارات موجود ہیں

ویسے مجسٹریٹ کو چاہیئے کہ ویسی رپورٹ موصول ہونے پر مجموعہ ہٰزا میں  مقرر کردہ طریقہ کے مطابق تفتیش کرنے کا حکم دے یا مقدمہ کی ابتدائی انکوائری کرنے یا اسے اور طرح طے کرنے کی غرض سے  خود جائے یا اپنے ماتحت کسی مجسٹریٹ کو مقرر کرے
یہ ایک حیرت انگیز سیکشن ہے جس کا ہماری عدلیہ نے آج تک استعمال نہیں کیا سنا ہے کہ جب عدالتی اختیارات انتظامیہ سے واپس لیکر عدلیہ کو منتقل کیئے جارہے تھے تو اس وقت انتظامیہ نے عدالتی افسران کو وہ گاڑیاں دینے کی پیشکش کی تھی جو اس وقت ان کے انتظامی افسر استعمال کررہے تھے جن کے تحت کسی واقعے یا حادثے کے بعد مجسٹریٹ خود بھی جائے حادثہ پر پہنچ جاتا تھا شاید انتظامیہ نے یہ سوچا ہوگا کہ عدالتی افسران کس طرح جائے وقوعہ پر پہنچیں گے لیکن اس وقت سینئر سول جج کے پاس بھی گاڑی کی سہولت نہیں تھی تو ہماری عدلیہ نے اس زمانے میں اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھایا  اور یہ کہا کہ اگر عدالتی افسر اس قسم کے کام کریں گے تو وہ بھی "خراب" ہوجائیں گے
ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کی سطح پر ہایئکورٹ مجسٹریٹ کانفرنس منعقد کی جائے
کیونکہ جب تک مجسٹریٹ صاحبان کے اختیارات کا تعین نہیں ہوجاتا اس وقت تک بہت سے معاملات اٹکے ہی رہیں گے
مجسٹریٹ کانفرنس اس لیئے بھی ضروری ہے کہ یہی وہ  فورم ہے جہاں سے عدلیہ انتظامیہ کے اختیارات کو کنٹرول کرنے کا آغاز کرتی ہے
زیادہ دور کی بات نہیں صرف چند سال پہلے کی بات ہے کراچی ہی کے ایک مجسٹریٹ کے ساتھ  جنرل پرویز مشرف کی اس وقت ذاتی دوستی تھی جب وہ مطلق العنان صدر تھا
اگرچہ یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ ایک عدالتی افسر کی کسی حکمران سے دوستی ہو لیکن بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس عہدے کی اتنی تو اہمیت ہے کہ اپنے وقت کا حکمران ایک مجسٹریٹ کا دوست ہو
کہاں وہ شان و شوکت کہ پورے ضلع کا پولیس افسر باہر بیٹھ کر مجسٹریٹ سے ملاقات کا منتظر
اور کہاں بے خبری کا یہ عالم کہ ہمارے مجسٹریٹ یہ سوال کرتے ہیں کہ تفتیش کے دوران کامن سینس استعمال کرنا ضابطہ فوجداری کی کس سیکشن کے تحت آتا ہے


ایسے ماحول میں ضروری ہوجاتا ہے کہ سندھ ہایئکورٹ فوری طور پر سالانہ بنیادوں پر مجسٹریٹ کانفرنس کا انعقاد کرے جس میں بطور انتظامی افسر عدالتی افسر کے کردار کو زیر بحث لایا جائے  

پہلے کیڑے کا علاج ہوگا



گزشتہ چند سالوں کے دوران   بلاگ لکھتے ہوئے صرف دو واقعات نےذہنی طورپر بہت ڈسٹرب کیا جن کا تعلق وکلاء سے ہی تھا
پچھلے سال ایک قابل اعتماد  وکیل صاحب  جو دوست بھی ہیں نے مجھے یہ بتایا کہ ایک سیشن جج  نے میری پولیس کےخلاف درخواست کو سننے سے ہی انکار کیا اور بااثر پولیس آفیسر کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی بجائے اس کو سپورٹ کی  اور میری درخواست کو سنے بغیر ہی مسترد کردیا
خیر میری یہ غلطی کہ اپنے دوست کی بات پر اعتبار کرکے ایک بلاگ لکھ دیا سیشن جج شریف آدمی تھے انہوں نے پیغام بھیجا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا جس پر میں نے اپنے دوست سے رابطہ کرکے آرڈر کی کاپی مانگی تو وہ بیان تبدیل کرنے لگا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا بہرحال مجھے اس واقعہ نے سخت شرمندگی سے دوچار کیا لیکن وکیل صاحب کو اپنے جھوٹ پر کوئی شرمندگی نہ تھی درخواست مسترد ہونا بہت دور کی بات ہے سیشن جج کے پاس کبھی پیش ہی نہیں کی گئی تھی
دوسرا واقعہ گزشتہ دنوں اس وقت پیش آیا جب میرے ایک انتہائی قابل اعتماد کولیگ نے  شام کو فون کرکے بتایا کہ اس کے ساتھ ایک مجسٹریٹ نے سخت زیادتی کی ہے اور اس  کوکمرہ عدالت سے  شناختی پریڈ کے دوران کمرہ عدالت سے نکال دیا جبکہ اس دوران لنک کورٹ کا اسٹاف کورٹ میں موجود تھا جو  مجھ پر ہنس رہا تھا  اصولی  طور پر وکلاء کے ساتھ کورٹ اسٹاف  کو بھی  باہر نکالنا چاہیئے تھا جس کے بعد وکیل صاحب نے بتایا کہ  ان کا جج سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ اور اچھا خاصا سخت کلامی ہوئی
میں نے اس پر ایک سخت  ترین بلاگ لکھا لیکن اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب وکیل صاحب نے اس واقعہ کی تردید کردی میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہمارے وکلاء صرف کراچی کے وکلاء کے ساتھ اگر کورٹس میں زیادتی ہوتی ہے تو اس کے وہ خود بھی مکمل طور پر ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم صرف بار روم میں بیٹھ کر بات کرنا جانتے ہیں ہم لوگ کینٹین میں بیٹھ کر بات کرنا جانتے ہیں
ہم پورا دن بار روم میں یہ سنتے رہتے ہیں کہ یہ ہورہا ہے اور وہ ہورہا ہے یہ کیوں ہورہا ہے تو وہ کیوں نہیں ہورہا
کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ اگر ان کے خلاف کوئی  زیادتی ہوئی ہے کسی جج نے زیادتی کی یا کوئی غلط طریقے سے کورٹ چلارہا ہے یا وہ سائیلین یا عوام کو تنگ کررہا ہے تو رجسٹرار سندھ ہایئکورٹ کے پاس جاکر حلف نامے کے ساتھ درخواست دے دیں  تاکہ ایسے ججز کے خلاف سندھ ہایئکورٹ نوٹس لے سکے

جہاں تک میں سمجھا ہوں اور میں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جو لوگ بار روم میں بیٹھ کر ججز کی کردار کشی کررہے ہوتے ہیں ایسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں  اور وکلاء کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں  کیونکہ اگر کوئی سچائی ہوتی تو وہ لوگ خود کیوں نہ اس  بے ضابطگی کو روکنے کی کوشش کرتے
 اس  واقعہ کے بعد اگر کوئی وکیل مجھے یہ کہتا ہے کہ فلاں جج زیادتی کررہا ہے یا اس نے یہ نیا کام کیا ہے تو اس کو میں یہ کہتا ہوں کہ بھائی ٹھیک ہے آؤ رجسٹرار کے پاس چلے چلتے ہیں آپ حلف نامے کے ساتھ درخواست دیں  تو کاروائی ضرور ہوگی جس کے بعد کوئی تعاون پر آمادہ نہیں ہوتا اور اکثر لوگ ت سے تیتر ہوجاتے ہیں  یا گاف سے گول ہوجاتے ہیں
میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ کراچی بار بھی شاید  اس لیئے  ایکشن نہیں لے پاتی کیونکہ ممبران مکمل تعاون نہیں کرتے ہونگے

میں صرف یہی کہوں گا کہ ایک مرد کی مردانگی کا تعلق اس بات  سے ہے کہ جب وہ کوئی بات کرے تو موت 
قبول کرلے لیکن اپنی بات سے ہٹنا بات کہہ کر مکرجانا ایک مرد کے شایان شان نہیں
نواب آف کالاباغ کے فرزند ملک مظفر اعوان جب اپنے قافلے کے ساتھ  گھر سے  ریاست کے دورے پر نکلے تھے تو  ان  کو راستے میں ہی یہ اطلاع دی گئی  کہ سامنے پہاڑی پر پراسرار نقل و حمل ہوئی ہے اور ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو اتارا گیا ہے  خدشہ ہے کہ بنی افغان کے لوگ قافلے پر حملہ کرسکتے ہیں  سیکورٹی عملے نے  کہا کہ واپس گھر چلتے ہیں  آگے خطرہ  ہے تو  ملک مظفر اعوان نے یہ کہا تھا کہ   میں میدان چھوڑ کر واپس کیسے جاسکتا ہوں   کل  بنی افغان کیا سوچیں گے کہ نواب امیر محمد خان کا بیٹا  ملک مظفر  بنی افغان سے ڈر کر واپس بھاگ گیا ملک مظفر   اعوان نے سفر جاری رکھا  اور جب بنی افغان کے علاقے سے گزرے تو  مورچہ  بند بنی افغان نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قافلے پر  راکٹ لانچروں سے حملہ کیا  ملک مظفر  اعوان نے مقابلہ کیا موت کو قبول کیا لیکن میدان چھوڑ کر بھاگنا قبول نہیں کیا حالانکہ اگر وہ بھاگ جاتے تو اپنی جان بچا سکتے تھے

اگرچہ وکیل صاحب اپنی بات سے یہ کہہ کر  مکر چکے ہیں کہ بندوق چلانے کیلئے ان کا کاندھا استعمال ہوا لیکن  اگر وہ واقعہ جھوٹ پر مبنی تھا اور دیگر واقعات جھوٹ پر مبنی تھے تو میں ایک بات سمجھ نہیں پایا  وہ یہ کہ ایک مجسٹریٹ صاحب جن کا میں نے نام اپنے بلاگ میں نہیں لکھا اور نہ ہی ان کا کوئی حوالہ دیا بس چند واقعات کا ذکر کیا  میں ایک افسانہ نگار ہوں ہوسکتا ہے کہ میں نے جھوٹ بولا ہو  وکیل صاحب کے اپنی بات سے مکر جانے کے باوجود  وہ مجسٹریٹ صاحب کیوں  بضد ہیں  اور انہوں نے بلاوجہ ہی  کیوں فرض کرلیا ہے کہ میں نے ان کے خلاف بلاگ لکھا ہے اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ خصوصیات جن کا ذکر میں نے قابل اعتراض انداز میں کیا وہ کسی نہ کسی کے اندر موجود ہیں    اور کیا وہ واقعات  سچ پر مبنی ہیں یہی وجہ ہے کہ  کوئی اس بلاگ کو اپنے خلاف سمجھتا ہے تو کیوں سمجھتا ہے  اگر کسی مجسٹریٹ کا ایسا ہی کردار ہے تو وکیل صاحب کے اپنی بات سے مکر جانے کے باوجود مجھے فخر ہے کہ میں نے  وہ قابل اعتراض  بلاگ لکھا تھا جس کے خلاف اتنا شور ڈالا جارہا ہے اور اگر کسی کا ایسا کردار نہیں ہے تو پھر معذرت کیوں کی جائے جب کسی کا نام نہیں لکھا گیا تو ایک فرضی کردار کے متعلق یہ تصور کرلینا کہ وہ  فرضی کردار  فرضی نہیں  ہے  سراسر بیوقوفی ہے اور اگر معذرت کی بھی جائے تو کس سے کی جائے ایک فرضی کردار جس کے خلاف بلاگ لکھا گیا میں اس کو کہاں تلاش کرکے معذرت کروں کراچی میں دوسو مجسٹریٹ ہے اب  ان دوسو میں سے کوئی کیسے اپنے اوپر بلاگ فٹ کرسکتا ہے


ایک شہر میں ایک ڈاکٹر آیا تو اس کے پاس جو بھی مریض آتا وہ تشخیص کرتا کہ اس کے پیٹ میں کیڑا ہے اور تمام مریضوں کو ایک پیلا سا شربت پلا دیتا تھا اس کے پاس سردرد کا مریض آیاتو اس نے تشخیص کیا کہ اس کے پیٹ میں کیڑا ہے    پیٹ کے کیڑے مارنے والی پیلی دوائی پلادی دل کا مریض آیا تو یہی تشخیص کیا کہ اس کے پیٹ میں کیڑا ہے گردے کا مریض آیا مرگی کا مریض آیا کھانسی کا مریض آیا دمے کا مریض آیا سب کو 
ایک ہی علاج ایک ہی دوا کہ پیٹ میں کیڑا ہے

پھر ایک دن ایک لڑکا کلینک میں آیا جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی سارا شہر جمع ہوگیا کہ آج ڈاکٹر صاحب  کا امتحان ہے ڈاکٹر نے حسب معمول چیک اپ کیا اور کہا کہ اس لڑکے کے پیٹ میں کیڑا ہے پہلے پیلی دوا پلائی جائے  لوگوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ لوگوں کو بیوقوف بنارہے ہو اس لڑکے کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور آپ اس کی  ٹانگ  پر مرہم  پٹی لگانے کی بجائے یہ تشخیص کررہے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کیڑا ہے
ڈاکٹر نے اس لڑکے کے والد سے پوچھا کہ لڑکے کی ٹانگ کیسے   ٹوٹی ہے تو اس کے باپ نے کہا درخت کی ٹہنی سے لٹک رہا تھا کہ درخت سے نیچے گرگیا
ڈاکٹر نے سکون سے جواب دیا کہ اگر کیڑا نہ ہوتا تو درخت سے کیوں لٹکتا

اس لیئے پہلے کیڑے کا علاج ہوگا 

Tuesday, 26 May 2015

شیر ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ تحریر : صفی الدین اعوان



ہمارے ایک دوست کو شیر پالنے کا شوق ہے گزشتہ دنوں وہ چائینہ سے شیر خرید کرلایا کیا شیر تھا انتہائی طاقتور، زور 
سے چنگھاڑتا تھا چند روز بعد شیر کو ایک بکری نے زور کی ٹکر ماری تو شیر بھاگ کھڑا ہوا

میرا دوست اور میں مشہور و معروف پروفیسر چوہدری مدثر صاحب دامت برتہم العالیہ مدظلہ العالی کے پاس تشریف لے گئے اور بابا جی سے مشورہ طلب کیا بابا جی نے شیر کو گھور کر دیکھا اور کہا کون کہتا ہے کہ یہ شیر ہے میں نے باباجی سے کہا کہ اس کی مونچھیں شیر کی طرح ہیں بابا جی نے کہا کہ مونچھیں رکھنے سے کوئی شیر نہیں بن جاتا
میں نے کہا کہ بابا اس کی آواز بالکل شیر جیسی ہے بابا نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا آواز کی وجہ سے کوئی شیر نہیں بن جاتا
میں نے کہا کہ اب کیسے معلوم کریں کہ یہ شیر ہے

بابا نے کہا بہت آسان سا ٹیسٹ ہے اس شیر کو پورا ایک دن بھوکا رکھیں گے ایک دن شیر کو بھوکا رکھا تو شیر بھوک سے بےحال ہوگیا بابا نے کہا اس کے سامنے گھاس رکھیں ہم نے گھاس رکھا تو شیر مزے لے لے کر گھاس کھانے لگا بابا نے کہا دیکھو شیر میں ایک خوبی ہے وہ صرف گوشت ہی کھاتا ہے چاہے سرکس کا ہی کیوں نہ ہو اگر گوشت نہیں ملے گا تو بھوک سے مرجانا قبول کرلے گا لیکن گھاس نہیں کھائے گا

بابا جی پھر یہ شیر جیسی چیز کیا؟
بابا جی نے کہا یہ چائینہ کے کھوتے ہیں جو گوشت مل جائے تو گوشت کھالیتے ہیں نہ ملے تو گھاس کھالیتے ہیں
میں جانے لگا تو بابا جی کے کان میں چپکے سے پوچھا کہ بابا جی شیر کی پہچان تو بتادی انسان کی پہچان کیا ہے
بابا جی نے کہا کیا اب عمر بھر کی ریاضت تمہیں دے دوں خیر تم بھی کیا یاد کروگے 
آج کل چائینہ نے چائینہ کے انسان بھی مارکیٹ میں متعارف کروادیئے ہیں جو انسان جیسے ضرور ہیں لیکن انسان نہیں وہ بھی چائینہ کے کھوتے ہیں  بابا جی نے کہا کہ انسان کی پہچان اس کی زبان پر پختگی ہے انسان وہ ہے جو زبان پر قائم رہے ۔ جو انسان اپنی زبان پر قائم نہیں رہ سکتا جو انسان زبان سے پھر جائے جو انسان اپنی زبان کا مان اور یقین نہیں رکھ سکتا ایسا وجود انسان نہیں وہ صرف اور صرف چائینہ کا کھوتا ہے
بابا نے یہ کہہ کر محفل برخاست کردی اور رخصتی کے وقت میرے دوست کو چائینہ کے کھوتے کیلئے دو گھاس کی گڈیاں گفٹ کردیں 
بابا نے کہا کہ گھر میں باندھ دو کسی کو کیا پتہ کہ یہ شیر ہے یا کھوتا ہر کسی کو رمز کی باتیں بتہ نہیں ہوتی ہیں 


تحریر صفی الدین اعوان
03343093302

Thursday, 14 May 2015

اردو بلاگنگ کا مستقبل روشن ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




ایک دفعہ کا ذکر ہے  کہ ہم نے ایک ادارے کے ساتھ مل کر ایک ریسرچ  کی جس کا مقصد لوگوں میں کتب بینی  کے کم

 ہوتے ہوئے رجحان کی وجوہات تلاش کرنا تھا۔ ہمیں آنہ لائیبریری کا بھی پتہ چلا
کراچی میں کسی زمانے میں ایسی لائیبریریاں ہر گلی میں موجود ہوا کرتی تھیں جہاں کتابیں  معمولی کرایہ پر پڑھنے کیلئے مل جاتی تھیں پھر رفتہ رفتہ وہ لائیبریریاں ختم ہوگئیں اور لوگوں میں بظاہر کتب  بینی کا رجحان کم ہوگیا
اس ریسرچ کے دوران ایک ایسی ہی لائیبریری کا بوڑھا مالک ملا جس نے میری ساری الجھنیں دور کردیں
میں نے اس بوڑھے سے یہ سوال کیا کہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا رجحان کیوں کم ہوگیا  بوڑھا مسکرایا اور کہا کہ کس نے یہ کہا ہے کہ عوام میں کتب بینی  کارجحان کم ہوگیا ہے  پہلے کسی ابن صفی کو تو تلاش کرکے لاؤ
میں نے کہا اس سے کیا لوگوں میں کتب بینی کے رجحان میں اضافہ ہوجائے گا تو لائیبریری کے بوڑھے مالک نے جواب  دیا کہ لوگوں میں کتب بینی کا رجحان کبھی کم ہوہی نہیں سکتا ہوا کچھ یوں تھا کہ جس زمانے میں گلی گلی آنہ لائیبریریاں موجود تھیں اس زمانے میں ابن صفی کا سکہ چلتا تھا لوگ صبح سویرے ہماری لائیبریری کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہوتے تھے  عوام الناس منتظر رہتے تھے کہ کب ابن صفی کی نئی جاسوسی کتاب منظر عام پر آئے اور کب وہ  حاصل کرکے اس کو پڑھنا شروع کریں
ابن صفی نے عمران سیریز تخلیق کی تو لوگوں میں دھوم مچ گئی جس کی وجہ سے ہر گلی محلے میں  ابن صفی کی دھوم مچ گئی اس کے علاوہ بھی بہت سے اچھے لکھنے والے موجود تھے جن کی کتابیں پڑھنے کیلئے لوگوں میں  ایک تڑپ تھی پھر ہوا کچھ یوں کہ وہ ابن صفی صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ عوام کا مصنف تھا عوام کیلئے لکھتا تھا اور عوام میں اس کی پذیرائی بھی تھی ان کے رخصت ہوتے ہی وہ بات بھی ختم ہوگئی کافی عرصے تک لوگ کسی نئے ابن صفی کے منتظر رہے نئی نسل عمران سیریز کی پرانی کتابیں پڑھتی رہی اور اس کے بعد معاملہ یکسانیت کا شکار ہوگیا کوئی نیا لکھنے والا ابن صفی کی جگہ نہ لے سکا اس طرح پہلے رش کم ہواپھر رش مکمل طور پر ختم ہوگیا پھر اکا دکا لوگ آتے تھے  جو ماہانہ میگزین وغیرہ لیکر جاتے تھے آہستہ آہستہ   ہم خسارے کا شکار ہوگئے اور پھر ایک دن میری لائیبریری بند ہوگئی
کچھ دیگر مصنفین کے نام بھی اس بزرگ نے لیئے تھے جو اب مجھے یاد نہیں رہے
اسی طرح کچھ دن پہلےمیں وارث ڈرامہ کتابی شکل میں پڑھ رہا تھا  جو کہ امجد اسلام امجد کی تحریر ہے تو مجھے اندازہ ہوا کہ انہوں نے ڈرامے کا ایک ایک ڈائیلاگ  ناپ تول کرلکھا ہے یہی وجہ ہے کہ جب  پی ٹی وی ڈرامہ ٹیلی کاسٹ کرتا تھا تواس زمانے میں  گلیاں ویران ہوجاتی تھیں
یہ  تمہید صرف اس لیئے باندھی ہے کہ یار لوگ اردو بلاگنگ کے حوالے سے کافی فکر مند رہتے ہیں میرے خیال میں یہ سب بلاوجہ ہی کی باتیں ہیں  جب کوئ ابن صفی آئے گا  جب کوئی شوکت صدیقی آئے گا جب کوئی امجد اسلام امجد کے پائے کا اردو بلاگر آئے گا  تو اردو بلاگرز کا مستقبل خود ہی روشن ہوجائے گا
مجھے یاد پڑتا ہے کہ جناب وسعت اللہ خان صاحب کی تحاریر کے سحر میں کافی عرصے تک مبتلا رہا  یہاں تک کہ پھر وسعت اللہ خان صاحب سچ لکھتے لکھتے  کسی اور طرف نکل گئے جب کسی اور طرف نکلے تو وہ مزا  اب نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا میں خود ذاتی طور پر گزشتہ دوماہ سے جناب وسعت اللہ خان کو تلاش کررہا ہوں ان کی نئی تحاریر کو تلاش کرتا ہوں نئی آن لائن تحریر سامنے بھی آتی ہے لیکن گزشتہ دوماہ سے  ہربارکسی کی فرمائیشی تحریر پڑھ کر مایوسی ہوتی ہےمجھے لگتا ہے کہ شاید وسعت اللہ خان صاحب کو بھی ہم نے کھودیا ہے
اسی طرح جاوید چودھری کا دور شاندار دور تھا لیکن اب وہ بات باقی نہیں ہے  کیونکہ جاوید چودھری صاحب کی تحاریر میں بھی ایک یکسانیت محسوس ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اردو  اخبارات کے ادارتی صفحات  اب کسی نئے ارشاد احمد حقانی کے منتظر ہیں جو تجزیہ کرسکے اور سامنے لاسکے جو پاکستانی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کرسکے
لیکن اس وقت بلاگنگ کے حوالے سے جن مسائل کی بات کی جارہی ہے ان میں ایک مسئلے پر بات نہیں کی جارہی وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت کوئی اعلٰی پائے کا اردو بلاگر موجود ہے  ؟اور کیا وہ عوام الناس میں مقبولیت حاصل کررہا ہے یا کرچکا ہے یہ دو بنیادی سوالات ہیں
حال  ہی میں منعقدہ اردو سوشل میڈیا سمٹ سے یہ بات سامنے آئی کے اس وقت انٹر نیٹ پر اردو پڑھنے کیلئے بے شمار قارئین موجود ہیں بس نہیں ہے تو صرف کوئی ابن صفی نہیں ہے میں محسوس کررہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ  وہ کونسا اردو بلاگر ہے جو پروگرام کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے
یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے  جس سے اختلاف کا بنیادی حق سب کو حاصل ہے اگر کوئی ایسا بے باک بلاگر موجود ہوتا جس کی تحاریر ایک تسلسل سے سامنے آرہی ہوتیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کررہا ہوتا اور اس کے خیالات ایک آبشار کی طرح گررہے ہوتے تو  تو یقینناً نہ صرف اردو سوشل میڈیا سمٹ میں اس کو نمائیندگی دینا مجبوری بن جاتی بلکہ  ایسے اردو بلاگر کو ہرفورم پر نمائیندگی بھی ملتی بلکہ ایسے ہی کسی اردو بلاگر کی آمد پروگرام کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی تھی
صرف ایک ابن صفی ایک شوکت صدیقی ایک امجد اسلام امجد کی ضرورت ہے اس کے بعد تو ایک لائن لگ جائے گی  اور اس کے بعد ہی کوئی معاشی سلسلہ شروع ہونا ممکن ہے کیونکہ جب تک  کوئی پبلک ڈیمانڈ سامنے نہیں آجاتی اس وقت تک کوئی نیشنل یا انٹرنیشنل اسپانسر کسی بلاگر کے  بلاگ پر اپنا اشتہار کیوں دے گا یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب اردو کی آن لائن افادیت کو تسلیم کرلیا جائے گا
اردو بلاگنگ کے حوالے سے جتنی بھی باتیں کرلی جائیں  جب تک  ایک ابن صفی  کے پائے کا اردو بلاگر سامنے نہیں آجاتا  اس وقت تک بات نہیں بن سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔صرف باتیں بن سکتی ہیں  جو ہم بنا رہے ہیں 

Sunday, 5 April 2015

ایسٹر کے تہوار کے موقع پر عیسائی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ تحریر صفی الدین اعوان


پاکستانی عدلیہ غیر مسلم اقلیتوں  کو تیسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے
غیر مسلم  ہمارے لیئے غیر ہی تو ہیں ۔ غیر وہ ہوتا ہے جو اپنا نہیں ہوتا جو اپنا نہ ہو وہ بیگا نہ ہوتا ہے اور  جو اپنا نہ ہو اس کے ساتھ پاکستان کی عدالتوں میں غیروں والا سلوک کیا جاتا ہے ۔اور اسی کے وہ مستحق ہیں  کیونکہ وہ  عدالتوں کیلئے بھی غیر ہی ہیں  اپنے اور بیگانے میں یہی فرق ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عدالتیں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ مذہبی تفریق کرتے ہوئے ان کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کرتی ہیں
غیروں کے برخلاف غیر مسلموں کے بر خلاف !!!!!
جب ہمارے اپنوں کی باری آتی ہے تو !!!!!
پاکستانی عدالتوں میں ایک روایت موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی اہم تہوار آتا ہے تو اس تہوار کے احترام میں
  جیلوں میں بند قیدیوں کو  قانون  کے دائرے میں رہ  کر ترجیحی بنیادوں پر رہا کیا جاتا ہے اگر ان کی ضمانت کی درخواست زیر سماعت ہو تو اس کو فوری طور پر سنا جاتا ہے اور فوری فیصلے کیئے جاتے ہیں۔

کوشش  کی جاتی ہے کہ اگر قانون اجازت دے اگر ریلیف بنتا ہوتو قانون کے مطابق قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے یہ سلسلہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک جاری ہے چاند رات کو عید سے ایک دن پہلے بھی  ہایئکورٹ  کی ہدایت پر ججز جیلوں میں جاتے ہیں اور معمولی جرائم میں ملوث ملزمان کو جیلوں سے رہا کرتے ہیں  اس سارے سلسلے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منائیں۔اسی طرح  ایک یہ بھی ریلیف دیا جاتا ہے کہ ملزم کی رہائی میں اگر کوئی  ضابطہ فوجداری سے متعلق مسئلہ ہوتو اس  رکاوٹ کو دور کیا جاتا ہے  مثلاً اگر  ضمانت کے طور پر جو کاغذات عدالت میں پیش کیئے جاتے ہیں  ان کی ویریفیکیشن   کی شرط کو ختم کیا جاتا ہے   اور ملزم کو تو رہا کردیا جاتا ہے لیکن ویریفیکیشن بعد میں کروائی جاتی ہے لیکن کیا یہ تمام سہولیات صرف مسلمان قیدیوں کیلئے ہی مخصوص ہیں ؟ جی ہاں غیر مسلم اس  ریلیف کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ وہ غیر ہیں اور غیر بیگانہ ہوتا ہے
   
خاص طور پر عید الفطر اور عید قربان پر یہ خصوصی ریلیف ملزمان کو فراہم کیا جاتا ہے
گزشتہ دنوں صوبہ سندھ میں عیسائیوں کی سب سے بڑی بستی عیسٰی نگری میں   دو سال  پہلے دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کے بعد  عیسائی  برادری  کی جانب سے کیئے گئے احتجاج  کے بعدحکومت سندھ  کی جانب سے   چرچ اور آبادی کی حفاظت کیلئے تعمیر کی گئی "سیفٹی وال" کو  شدت پسندوں کے ایک جم غفیر نے توڑنے کی کوشش کی اس کوشش کے دوران  میں یہ بات انتہائی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ  مقامی عیسائی  آبادی نے صبر اور تحمل سے کام لیا  کسی قسم کی مزاحمت  نہیں کی اور  فوری طور پر پولیس اور رینجرز کو اطلاع دی جس کے بعد فوری طور پر پولیس اور رینجرز جب وہاں پہنچی تو وہاں کچھ لوگ اس  " سیفٹی وال" کو گرا چکے تھے پولیس نے اس واقعہ کا  پولیس کی مدعیت میں ذمہ داران کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا کرسچین آبادی اور  چرچ کی حفاظت کیلئے بنیادی طور پر سات سیفٹی وال تعمیر کی گئیں تھیں جس کے زریعے سات گلیوں کو بند کیا گیا تھا حیرت انگیز طور پر اس واقعے میں پولیس نے دیوار گرانے کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ  بڑی تعداد میں کرسچین کمیونٹی کے افراد پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا
یہ واقعہ چوبیس مارچ  2015 کو پیش آیا جبکہ اگلے دن پولیس نے ایک دروازہ توڑ آپریشن کے زریعے  آٹھ عیسائی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا اور ان اپنے ہی چرچ اور اپنی ہی آبادی کی حفاظت کیلئے بنائی گئی  دیوار کو توڑنے کے جرم میں گرفتار کرلیا یعنی ظالم اور مظلوم دونوں کو ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا گرفتار شدگان میں سے اکثریت ایسے افراد کی تھی جن کے نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے۔
ملزمان  کو پولیس  نے دہشت گردی کی عدالت میں پیش  کیا  تو  انسداد دہشتگردی کے جج نے ریمانڈ دینے سے انکار کیا اور علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے ریمانڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی سیکشن بھی خارج کردی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پولیس نے مقدمہ قائم کرتے ہوئے بدنیتی کا مظاہرہ کیا
مقامی عدالت میں پیش ہوئے علاقہ مجسٹریٹ نے ملزمان کو جیل میں بھیج دیا اور ملزمان کی ضمانت کی درخواست جمع کروادی گئی  جو کہ سیشن جج نے ایک ایماندار جج کے پاس بھیج دی
ایماندار جج وہ ہوتا ہے جو پوری ایمانداری کے ساتھ کسی کا بھی کام نہیں کرتا
اسی لیئے اس کو ایماندار جج کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایماندار ہوتا ہے اسی لیئے ایماندار کسی کاکام بھی وقت پر نہیں کرتا اگر کربھی دے گا تو خوب ذلیل کرکے کرے گا
خیر ایماندار جج نے تاریخ دی ۔۔۔۔مقررہ تاریخ پر ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی اور ایک اور تاریخ مقرر کی
چھ اپریل جس پر ہم نے اعتراض کیا کہ  پانچ تاریخ کو عیسایئوں کا ایک مقدس تہوار  "ایسٹر" ہے اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اگر ایسٹر سے پہلے کی تاریخ مقرر کردی جائے تو   یہ لوگ اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ  کے ساتھ مناسکتے ہیں
ایماندار جج نے انکار کیا جس پر میں نے اپنی زبانی درخواست کو تحریری شکل میں  پیش کردیا جس پر  چار اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی دوسرے دن پتہ یہ چلا کہ چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے سلسلے میں پورے سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جس پر میں نے دوبارہ رابطہ کیا اور دوسری بار درخواست پیش کی  خیر ایماندار جج نے تین اپریل کی تاریخ مقرر کردی
تین اپریل کو ایماندار جج نے ضمانت کی درخواست منظور کی اور  ملزمان  کی  رہائی کے لیئے ریلیز آرڈر جاری کیئے بغیر کورٹ سے  جوتے چھوڑ کرفرار ہوگئے میں یہ سمجھا کہ جج صاحب جمعہ کی نماز پڑھنے جارہے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایماندار جج صاحب  اس لیئے عدالت سے  جوتے چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں کہ ان کو عیسائی قیدیوں  کے ریلیز آرڈر جاری نہ کرنا پڑیں اور وہ عیسائی قیدی اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ مناسکیں  
اگر جج صاحب کچھ دیر رک جاتے  جوتے چھوڑ کر نہ بھاگتے اور ان ملزمان کا ریلیز آرڈر جاری کردیتے تو یہ لوگ اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منالیتے
اگر رشوت  خور جج ہوتا پیسہ کھانے والا جج ہوتا تو  یہ لوگ پہلے ہی دن  رہا ہوجاتے اور آج اپنا مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منارہے ہوتے
جو ججز پیسہ کھاتے ہیں اللہ ان کو خوش رکھے  ان میں بے شمار خوبیاں ہوتی ہیں
پیسہ کھانے والے جج میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ پیسہ لیتا ہے لیکن کام گارنٹی سے کرتا ہے اور انصاف فوری فراہم کرتا ہے  جبکہ ایماندار نہ تو پیسہ لیتا ہے لیکن کام بھی نہیں کرتا اور اگر کام کرتا بھی ہے تو ایسا ذلیل کرکے کرتا ہے کہ  انسان ذلیل ہوجاتا ہے  ایک سرائیکی محاورہ ہے جس کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے کہ بھیڑ دودھ بھی دیتی ہے تو وہ مینگنوں سے بھرا ہوتا ہے (بھڈے دودھ دتا ای  او وی مینگناں دا بھرا ہویا) یہ محاورہ ہمارے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ان ایماندار ججز پر صادق آتا ہے جنہوں نے ایمانداری کو ایک گالی بنادیا ہے
یہی وجہ ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایمانداری ایک لعنت بن چکی ہے   ایمانداری ایک گالی بن چکی ہے اس کے ذمہ دار وہ تمام ایماندار جج ہیں جن کو ایمانداری سے زیادہ ایمانداری کا   حیضہ ہے اور جو ایمانداری کے نام پر عوام الناس کو تنگ کرتے ہیں  حالانکہ ایک ایماندار جج کو ان ججز کے مقابلے میں زیادہ ریلیف دینا چاہیئے جو پیسے لیکر کام کرتے ہیں تاکہ عوام کے اندر ایمانداری کا جذبہ پیدا ہو
خیر سیشن جج  ایسٹ سے رابطہ کیا تو انہوں  نے کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے سے انکار کیا سیشن جج نے کہا کہ جج اپنے ٹائم پر گھر گیا ہے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ عید کے موقع پرمسلمان قیدیوں کی رہائی کیلئے  تو یہ  جج لوگ رات بارہ بجے تک ڈیوٹی کرتے ہیں ۔  جبکہ  غیر مسلم  افراد کیلئے  ذرا بھی ریلیف  نہیں ہے سیشن جج نے کہا کہ اب آپ معاملے کو غلط رخ لیکر جارہے ہیں ۔  جج اپنے مقررہ ٹائم پر گیا ہے اگر عیسائی قیدیوں کی عید خراب ہوئی ہے تو مجھے اس پر افسوس ہے شاید تقدیر میں یہی لکھا ہوا ہوگااب اگر میں رہا کروں گا تو یہ کوئی اچھی روایت نہیں ہوگی اب آپ  عیسائی برادری سے یہ کہیں کہ وہ صبر سے کام لیں  


اگر ہم مساوات کی بات کرتے ہیں تو ہمارے  معاشرے میں مساوات کہاں پائی جاتی ہے ہم مذہبی اقلیتوں کو کب برابری دیتے ہیں
جب  ہم مسلمانوں کی عید آتی ہے تو اس موقع پر  عدالتوں  کے سارے قاعدے قانون نرم ہوجاتے ہیں اور جب کسی غیر مسلم کے مذہبی تہوار کا موقع آتا ہے تو غیر مسلم قیدیوں  کو ان کا وہ حق بھی نہیں دیا جاتا جو ان کا جائز حق بنتا ہے کیونکہ غیر مسلم "غیر" ہی تو ہیں
جب مسلمانوں کی عید کے تہوار آتے ہیں تو جج جیل پہنچ کر موقع پر ہی ملزمان کو رہا کرتے ہیں جبکہ ایک غیر مسلم کو اس کے مذہبی تہوار کے موقع پر ان کا جائز حق بھی نہیں ملتا کراچی جیسے شہر میں ایک جج بھی نہیں ملتا جو  کسی غیر مسلم کا کورٹ  میں بیٹھ کر ریلیز آرڈر ہی جاری کردے جج عدالتوں سے  جوتے چھوڑ کر اس لیئے فرار ہوجاتے ہیں کہ ان کو  کسی غیر مسلم کی رہائی کیلئے ریلیز آرڈر جاری نہ کرنا پڑجائے جج اقلیتوں  کو اپنی نفرت کا نشانہ اس لیئے بناتے ہیں کہ وہ اپنے مذہبی تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ مناسکیں کیونکہ وہ غیر ہیں  
ایمانداری کا مطلب ایمانداری ہی ہوتا ہے ایمانداری کا مقصد ہر گز ہرگز عوام کو تنگ کرنا نہیں ہوتا ایمانداری کا مقصد ہر گز لوگوں کے مسائل میں اضافہ کرنا نہیں ہوتا ایماندار ججز کو ان ججز سے سبق سیکھنا چاہیئے جو پیسہ لیکر مخلوق خدا کاجائز کام وقت پر کردیتے ہیں اسی لیئے تو اب  لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ رشوت لینے ولا جج ایماندار جج سے بہتر ہے جو پیسے لیتا ہے لیکن کام تو وقت پر کرتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے  رشوت خور جج ہی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں  

جج کو صرف جج ہونا چاہیئے یہ ایمانداری اور بے ایمانی کیا چیز ہوتی ہے
جب ایمانداری  بدمعاشی بن جائے تو بدمعاشی کسی صورت میں تسلیم نہیں کی جاسکتی ایسی ایمانداری جس کے زریعے اللہ کی مخلوق کو تنگ کیاجائے جس کے زریعے اللہ کی مخلوق پر  خدا کی زمین تنگ کردی جائے  ایسی ایمانداری پر ہم لعنت بھیجتے ہیں اور  جو ایماندار وقت پر کام نہیں کرتے اور اللہ  مخلوق کو اپنی ایمانداری کی آڑ میں تنگ کرتے ہیں  ان کے لیئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
لکھ  لعنت ایسے نیکاں تے
ہم بد تو ویسے ہی بد ہیں
اب معاملہ چلا گیا پیر کے دن  یعنی 6 اپریل 2015 کو اس معاملے کا فیصلہ ہوگا
جج ایماندار ہے اور کیونکہ ایمانداری  کو ایک لعنت بنا دیاگیا  ہے اس لیئے پیر کو بھی یہ ریلیزآرڈر جاری نہیں کرے گا یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ پیر کے دن چھٹی کرلے وہ چاہے تو پورا ہفتہ چھٹی کرسکتا ہے اس دوران رہائی کے منتظر افراد کہاں جائیں گے
یہ ایماندار جج اپنی ایمانداری کے جرم کی سزا مزید دے گا  اور پیر کے دن بھی  اقلیتی برادری کے افراد کو اپنی مذہبی نفرت کا نشانہ بنائے گا یہ ایماندار جج اپنی ایمانداری کی سزا منگل کو بھی دے گا اور ملزمان کو رہا نہیں کرے گا اور اپنی ایمانداری کو اقلیتوں پر مسلط کرنے کیلئے کوئی نیا قاعدہ قانون گھڑ لے گا کیونکہ وہ غیروں کے ساتھ انصاف کرنا ہی نہیں چاہتا
اس لیئے اب تنگ آمد بجنگ آمد
اس لیئے پاکستان کی مقامی اقلیتوں کے پاس اب ایسا کوئی قانونی راستہ نہیں بچا جس کے زریعے وہ عدالت سے اپنا حق لے سکیں اس لیئے اب مقامی اقلیتیں مجبور ہوچکی ہیں کہ وہ عدالت کے باہر  "ایسٹر کے موقع پر   مذہبی نفرت اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر  اور عدالت کی جانب سے  غیر مسلم قیدیوں کو عملی طور پر دوسرے درجے کا شہری  قرار دے کر رہا نہ کیئے جانے والے عیسائی قیدیوں  کی رہائی کیلئے اپنا  بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں

 عیسائی کمیونٹی  ایسٹر کے موقع پر عیسائی قیدیوں کو  مقامی سیشن جج کی جانب سے مذہبی  نفرت  مزہبی تعصب  اور مزہبی تفریق  کا نشانہ بناتے ہوئے   عیسائی قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف  اب پیر کے دن مزید ایک دن انتظار کرنے کے بعد اگر عیسائی قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو منگل کے دن  ڈسٹرکٹ ایسٹ کی عدالتوں میں شاہد پرویز میمن کی عدالت کے باہر اب ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کرے گی اور یہ پرامن  مظاہرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سندھ ہایئکورٹ اس معاملے کا نوٹس نہیں لے لیگی اس مظاہرے میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ حصہ لیں گے ہر مذہب کے لوگ حصہ لیں  گے عیسائی قیدیوں کی رہائی کا معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک  ہنگامہ نہیں ہوگا شاہد پرویز میمن صاحب یہ چاہ رہے ہیں کہ ہنگامہ آرائی ہو جلاؤ گھیراؤ ہو  عیسائی کمیونٹی ان کی عدالت کے باہر جمع ہوجائے اور عدالت کے تقدس کو پامال کردے
جب لوگوں کے سامنے تمام قانونی راستے بند کردیئے جائیں تو پھر یہ ایک ہی راستہ ان کے پاس بچتا ہے کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں لیکر اپنے مسائل کو حل کروائیں

Tuesday, 3 March 2015

International Women's Day 2015 Theme: MAKE IT HAPPEN



International Women's Day 2015 Theme: MAKE IT HAPPEN
All around the world, International Women's Day represents an opportunity to celebrate the achievements of women while calling for greater equality.
Make It Happen is the 2015 theme for our international women day global hub, encouraging effective action for advancing and recognising women.
Each year International Women's Day (IWD) is celebrated on March 8. The first International Women's Day was held in 1911. Thousands of events occur to mark the economic, political and social achievements of women. Organisations, governments, charities, educational institutions, women's groups, corporations and the media celebrate the day.
Various organisations identify their own International Women's Day theme, specific to their local context and interests. Many charities, NGOs and Governments also adopt a relevant theme or campaign to mark the day. For example, organisations like the UN, TLSP,Oxfam, Women for Women, Care International, Plan, World Association of Girl Guides & Girl Scouts (WAGGGS) and more - run exciting and powerful campaigns that raise awareness and encourage donations for good causes. The UN has been declaring an annual equality theme for many years.
Support International Women's Day ONLINE
Use your voice via social media:- #MakeItHappen- #womensday-
#IWD2015-
#internationalwomensday-
#PaintItPurple-
And watch out for even more #hashtag activism from loads of great groups all around the world
Interact with womensday on:- Twitter- Facebook- Youtube- LinkedIn- Pinterest
Lend your support:- Retweet and share content- Display the International Women's Day on your website or blog - Donate to your favourite womens charity- Paint It Purple - your website, blog, emails for the day- Insert the IWD logo in your email signature block for the day- Support a female-focused crowd-funding initiative- Make and upload a video- Run a webinar
Support International Women's Day OFFLINE
- Run an event celebrating women to raise awareness for gender equality- Participate in local activities and campaigns- Paint it purple - your building, canteen, playground, wear purple clothing- Do a media interview- Create images or film
Whatever you do - celebrate women, call for equality - and 'Make it happen'
Why purple?
From 1908, the Women's Social and Political Union (WSPU) in Great Britain adopted the colour scheme of purple, white and green to symbolise the plight of the Suffragettes. Purple symbolised justice and dignity - two values strongly associated with women's equality. The three colours were used for banners, flags, rosettes and badges to show solidarity.

Friday, 27 February 2015

وہ ایک رات صدیوں کے برابر ہوتی ہے ٭٭تحریر صفی الدین اعوان



غریب لوگ رات آٹھ بجے ہی وہاں جمع ہوجاتے ہیں
وہاں ایک لمبی لائن ہرروز لگتی ہے ضرورت مندوں کی غریبوں کی سسکتی ہوئی انسانیت کی لائن
ساحلی بستی کے موٹے مچھر رات بھرساحلی بستی کے  ان غریبوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں ۔سردی ہو یا گرمی روز کا یہی معمول ہے  اس ہسپتا ل کے باہر ہرروز غریبوں کی ایک لمبی لائن لگتی ہے  اس لائن میں عورتیں بھی ہوتی ہیں اور مرد بھی
جو لوگ ضرورت کے تحت لائن میں لگتے ہیں ان کیلئے   ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ  ان غریبوں کیلئے انتظار کے وہ لمحے کتنے طویل ہوتے ہیں رات کے وقت صبح کا انتظار کتنا جان لیوا ہوتا ہےایک ایک منٹ سال کے برابر ہوتا ہے اور  اگر انسان بیمار ہو یا تکلیف میں ہوتو ایک ہی رات صدیوں کے برابر ہوتی ہے
مچھروں سےلڑتے لڑتے صبح ہوجاتی ہے اور صبح مقررہ وقت پر اسپتال کا دروازہ کھل جاتا ہے

لیکن صرف 80 مریضوں کو اندر داخلے کی اجازت دی جاتی ہے چالیس مرد اور چالیس عورتیں  ان کو نمبر کی پرچی الاٹ کی جاتی ہے باقی لوگ مایوس ہو کر لوٹ جاتے ہیں  یوں رات بھر کا انتظار بیکار چلاجاتا ہے
ڈاکٹروں کا پینل ان مریضوں کا معائینہ کرتا ہے اور اگر ڈاکٹر یہ محسوس کریں کہ ان کو اس اسپتال میں علاج کیا جاسکتا ہے تو ان کو ایک کارڈ جاری کردیا جاتا ہے تو اس کے بعد ان مریضوں کی دیکھ بھال اس اسپتال کا فرض بن جاتی ہے 
مریض پر آنے والے تمام اخراجات اسپتال برداشت کرتا ہےیہی اس اسپتال کی سب سے بڑی خوبی ہے
غریبوں کیلئے قائم کیئے گئے اس اسپتال کا نام "انڈس اسپتال " ہےہم سوچ نہیں سکتے کہ یہ ادارہ کراچی میں غریب لوگوں کے علاج معالجے کیلئے کس قدر خطیر رقم خرچ کررہا ہے
کراچی کے شہری اور سرمایہ دار غریب پرور ہیں میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے اگر زراسی توجہ دی جائے تو  انڈس اسپتال جیسے کئی ادارے قائم کیئے جاسکتے ہیں 
اگر ہم تمام لوگ مل کرکوشش کریں تو انڈس اسپتال جیسے مزید ادارے کراچی میں قائم ہوسکتے ہیں اگر ایسے ادارے وجود میں آئیں گے تو حکومت پر بھی بوجھ کم ہوجائے گا اور انڈس اسپتال پر بھی  رش کم ہوگا لوگوں کی لمبی لائن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجائے گی اور ایک دن وہ وقت بھی آجائے گا کہ  ایک غریب شخص یا ایک باعزت پاکستانی شہری عزت سے اسپتال میں   آئے گا اور اپنا طبی معائینہ  کروائے  گا خیر انڈس اسپتال میں عزت تو آج بھی دی جاتی ہے لیکن جب ایک اسپتال کے وسائل ہی محدود ہوں تو اس کے پاس کوئی راستہ بھی موجود نہیں ہوتا اگر وسائل میں اضافہ ہوگا تو ان کی سروسز بھی پہلے سے زیادہ ہوجائیں گی اسٹاف میں اضافہ ہوگا

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اپنا ذہن یہ بنائیں کہ ہم اپنا پیسہ نیکی کے دیگر کاموں میں بھی لگائیں گے  نیکی کے ان کاموں میں اسپتال بنانا بھی شامل ہے مسجد بنانا نیکی کا بہت بڑا کام ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں لوگوں نے صرف مسجد بنانا ہی نیکی کاکام سمجھا ہے  علماء اکرام کو چاہیئے کہ لوگوں کی رہنمائی کریں  اور  ایسے نیکی کے کام بھی کیئے جائیں جن سے خلق خدا کو براہ راست بھی فائدہ پہنچے

بہرحال انڈس اسپتال کورنگی میں بہت بڑا کام کررہا ہے  اور ایسے ایسے واقعات  لوگ  بیان  کرتے  ہیں جن کو سن کر دل بہت  خوش ہوتا  ہے ہم انڈس اسپتال کے تمام معاونین کیلئے دعاگو ہیں جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے میں اللہ تعالٰی سے دعاگو ہوں کہ   ان تمام لوگوں کو کامیابی عطا فرمائے
پاکستان میں لوگوں کو آج بھی ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے جو ان کا پیسہ ایمانداری سے خرچ کریں 
مذہب کا نیکی کے کاموں سے گہرا رشتہ ہے کسی زمانے میں میرے آبائی شہر میانوالی میں سکھ بھی آباد تھے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میانوالی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں  میرا جانا ہواتومیں نے مشاہدہ کیا کہ وہاں 1947 میں بھی ہائی اسکول قائم تھا  ایک تالاب بنوایا گیا تھا اور ایک ڈسپنسری بھی قائم تھی جوکہ  اس علاقے کے مقامی سکھوں نے اپنی مزہبی فریضے کے تحت بنائے تھےاور غربت کے باوجود قطرہ قطرہ کرکے دریا بن گیا تھا

پاکستان کے مذہبی طبقے ،میڈیا،ہمارے ادیبوں ،سیاستدانوں اور سوشل میڈیا پر موجود باشعور افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی ذہن سازی کریں سماجی بہبود کو مذہب سے منسلک کردیا جائےجب لوگ اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر اسکول بنائیں گے اسپتال بنائیں گے تو یہ بہت سے چھوٹے قطرے بارش بن کر برسیں گے اور نیکی  کا دریا رواں دواں ہوجائے گا

 ہمارے ہاں عوام نیکی کے جزبے سے سرشار ہیں وہ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید نیکی کے کام کا سب سے آسان کام یہی نظر آیا ہے کہ لوگ جاکر ایک مسجد  بنادیتے ہیں  اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ  بھی نیکی ہے   لیکن انسانیت کی خدمت پر بھی  توجہ کی ضرورت ہے

یہ تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہے جب   مذہب کا مطلب ہی انسانیت کی خدمت قرار پائے گا تو ہر گلی ہر محلے میں  ایک  انڈس اسپتال  موجود ہوگا  جہاں انسانیت کی خدمت مذہبی فریضے کے طور پر کی جائے گی     

Thursday, 26 February 2015

احساس کمتری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



بیٹی انسان کو بہت پیاری ہوتی ہے خاص طور پر جب اکلوتی ہو۔ لیکن اکثر اوقات اکلوتی بیٹیاں بھی انسان کو دکھ دے جاتی ہیں 
چند ماہ قبل ایک  کراچی کے بہت بڑے تاجر نے جس کے کراچی کے  پوش علاقے میں دو شاپنگ سینٹر ہیں رابطہ کیا ا ور ایک فیملی کے معاملے پر قانونی مدد چاہی  ایک نامور  مرحوم تاجر کی   دواولادیں  تھیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ،بیٹی بہت پیاری تھی اور لاڈلی تھی لیکن کہتے ہیں نہ کہ عشق نہ پچھے  ذات بعض بیٹیاں ایسی غلطیاں کر جاتی ہیں جن کی قیمت ہر لمحہ ادا کرنی پرتی ہے دس سال پہلے شرارتی ماں باپ کی لاڈلی اور ضدی بیٹی نے ایک  سنگین غلطی کی

 ایک غریب لڑکے سے پسند کی شادی  یعنی کورٹ میرج کرلی یہ ایک ایسی غلطی تھی جس کی ماں کو توقع ہی نہ تھی اور  لڑکا بھی ایسا  کنگلا جس کے پاس نہ روزگار نہ تعلیم مختصر یہ کہ ماں باپ اور بھائی  نےمجبوراً کمپرومائز کیا  کورٹ میرج کے بعدلڑکی کو گھر سے رخصت کیا کچھ عرصے بعد اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر اس کو غریب بستی سے  کلفٹن منتقل کیا ایک قیمتی فلیٹ بھائی نے تحفہ کے طور پر دیا  جس کی موجودہ  مالیت  دوکروڑ سے بھی زیادہ ہے اور بہن کو پچاس ہزار روپیہ نقد بطور خرچ ادا کرنا شروع کیا  اور گھر کے جو بھی اخراجات تھے وہ اداکرنے شروع کیئےلیکن  ان ساری کوششوں کا الٹا نتیجہ یہ نکلا کہ  اس لڑکی کا غریب شوہر احساس کمتری کا شکار ہوا  اور عجیب وغریب رویئے کا اظہار کیاکیونکہ غریب کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر اکثر غریب ہوتا ہے جو اس کو احساس کمتری کا مریض بنادیتے ہیں یہ احساس کمتری کا شکار لوگ بھی عجیب و غریب ہوتے ہیں 
میرا اپنا ایک دوست  تھا  وہ تو احساس کمتری کا باقاعدہ مریض تھااس کے باپ نے دو شادیاں کیں  اور  اس  کو بچپن میں  ہی باپ نے  گلیوں میں رلنے کیلئے لاوارث چھوڑدیا وہ بچپن میں بدترین غربت کا شکار ہوا جیسے تیسے مانگ تلنگ کے تعلیم حاصل کی اور جب وہ تھوڑا صاحب اختیار ہوا تو  میں مشاہدہ کرتا تھا کہ وہ ایک عجیب سا نفسیاتی اور شکی مریض بن گیا ہر وقت احساس کمتری ہر لمحہ وہ احساس کمتری میں مبتلا رہتا تھا اور لوگوں کو بے عزت کرکے اس کو عجیب سا نفسیاتی سکون ملتا تھا اپنے ماتحت عملے کو تو اس نے کبھی جانور کا درجہ بھی نہیں دیا اسی طرح لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونا بھی اس کا ایک مشغلہ ہی تھا  احساس  کمتری کے مریض کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو بھی ذلیل کیا جائے اس مظلوم لڑکی کے ساتھ بھی یہی حال ہوا وہ بھی کسی کے نفسیاتی تشدد ، احساس کمتری کا شکار اور نشانہ بنی
لڑکی نے عشق میں مبتلا ہوکر جو غلطی کی اس کی قیمت ہر لمحہ ادا کی احساس کمتری کا شکار شوہر نے ہر لمحہ ذہنی اذیت دی  جس کو مظلوم لڑکی نے برداشت کیا کچھ عرصے بعد جسمانی تشدد کا بھی آغازہوا جو کہ بڑھتا گیا دوبچوں کے ماہانہ تعلیمی اخراجات بھی والدین ادا کرتے تھے   اس کے باوجود لڑکی پر پابندی تھی کہ وہ والدین کے گھر نہیں جاسکتی تھی ،دس سال بعد اس لڑکی نے بالآخر اپنی دس سال پہلے کی جانے والی غلطی کو سدھارنے کا فیصلہ کیا ماں کے ساتھ دو بچے بھی باپ کے احساس کمتری کا نشانہ بن رہے تھے
انہوں نے ہم سے قانونی مشورے کے بعدگھر چھوڑا  لیکن وہ پورا خاندان بے حد خوفزدہ تھا اس کے شوہر نے دس سال کے دوران اسقدر ذہنی اذیت اور خوف وہراس پیدا کیا کہ وہ لڑکی خواب میں بھی ڈر جاتی تھی  دس سال کے دوران لڑکی پر ایسا ذہنی اور نفسیاتی تشدد تھا کہ وہ لڑکی محسوس کرتی تھی کہ اس کا شوہر اس کے پورے خاندان ہی کو مٹادے گا۔خیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے اس نے گھر چھوڑا
جب وہ چلی گئی تو پھر احساس کمتری کے نفسیاتی مریض کو احساس ہوا کہ اس سے کیا غلطی ہوچکی تھی معافی مانگی لیکن لڑکی نے معاف نہیں کیا پہلے فلیٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن ملکیت اپنے نام نہ کرواسکا بالآخر اس کو فلیٹ چھوڑنا پڑا  لیکن چند روز بعد ہی نام نہاد عاشق نے دھوم دھام سے شادی کی
لڑکی نے گھر چھوڑنے کے فوراً بعد ہی
خلع  اور بچوں کے ماہانہ اخراجات کا کیس داخل کیا کورٹ نے خلع کا فیصلہ اس کے حق میں دیا  بچوں کے ماہانہ اخراجات کی بات آئی تو سابق شوہر نے بے روزگاری اور غربت کا بہانہ بنایا اور کورٹ کے سامنے ہاتھ جوڑ لیئے کہ اس کے پاس بچوں کے اخراجات ادا کرنے کیلئے  کچھ بھی نہیں ہے
لڑکی نے معاف کیا تو لڑکے کا وکیل جو وکیل کم اور گھاگ شکاری زیادہ تھا اور  لڑکی  کی کردار کشی کیلئے بہت سا مواد اکٹھا کرکے لایا تھا ،  لیکن جج نے  گھاگ وکیل کو کسی بھی قسم کی کردار کشی  کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیالیکن گھاگ وکیل کوشش کرتا رہا کہ  اس کے کلائینٹ کے خلاف  کیس چلتا رہے لیکن اس کے باوجود لڑکی نے کہا کہ کیا میرے لیئے یہ کافی نہیں کہ یہ شخص میری زندگی سے ہمیشہ کیلئے چلا جائےصرف اس شرط پر اپنا کیس واپس لینے کیلئے تیار ہوں کہ یہ شخص میری زندگی سے ہمیشہ کیلئے چلاجائے  
اس طرح ایک المناک کہانی اپنے انجام کو پہنچی
لڑکی نے اس شرط پر کہ اس کا سابق شوہر زندگی بھر اس کو تنگ نہیں کرے گا بچوں کے اخراجات کا مقدمہ واپس لے لیا 
بیٹیوں کی بہت سی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کی بھاریی قیمت ان کو ادا کرنی پڑتی ہے
لڑکیوں کو ایسی غلطی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا چاہیے بہت سے جذباتی فیصلے عمر بھر پریشان کرتے ہیں آج کل جو معاشرے میں کورٹ میرج کا چلن چل نکلاہے اور چار دن کی محبت کے بعد کورٹ میرج کے اکثر ہی بھیانک نتائج نکل رہے ہیں ان تمام نتائج کا تعلق معاشی  اور نفسیاتی مسائل سے بھی ہے 
میں نے اپنے کلائینٹ سے کہا کہ سزا اس کا حق تھی معاف کرنا اچھی بات ہوتی ہے لیکن اس کو سزا ملنا چاہیئے تھی
اس مظلوم لڑکی کے آنکھوں سے دو معصوم سے آنسو گرے  اور وہ صرف اتنا کہہ پائی کہ جج صاحبہ کی آنکھوں میں میرے لیئے  جو عزت تھی اور  میرے سابق شوہر کیلئے جو نفرت تھی وہی میری جیت تھی آج چند لمحوں کے دوران پری ٹرائل کے دوران جو کچھ بھی ہوا میں نے زندگی بھر کی  زیادتیوں کا بدلہ اس سے لے لیا ہے
اور جہاں تک بات ہے پیسے کی  تو کیا پیسے سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں پورے دس سال میرے بھائی اور ماں  نے  میری خوشی کیلئے   میرے ایک غلط  فیصلے کودرست فیصلے میں تبدیل کرنے کیلئے  میرے شوہر  کی ہر ڈیمانڈ پوری کی  لیکن میرے لیئے خوشیاں نہ خرید پائے
وہ دنیا کا کونسا بازار ہے جہاں پیسے سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں 
میرے ایک غلط اور جذباتی فیصلے کی وجہ سے نہ صرف پوری زندگی برباد ہوگئی بلکہ میرے بچوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے