Powered By Blogger

Wednesday, 23 September 2015

کیا عروج کیا زوال ٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

کیا عروج کیا زوال
ہمارے علاقے کے مقامی  گورنمنٹ اسکول میں بیالوجی کا ٹیچر نہیں تھا  چند معزز شہری ضلع کونسل کے ممبر کے پاس گئے اور  اس کے سامنے مطالبہ رکھا کہ  اسکول میں بائیولوجی کے ٹیچر کی سیٹ منظور کروائی جائے  معزز ممبر نے بات تحمل سے سنی اور نہایت سنجیدگی سے کہا کہ یہ  "بائیولوجی " کیا چیز ہوتی ہے پہلے تو مجھے یہ سمجھاؤ  اس کے بعد بات ہوگی  کافی سمجھایا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا آخر اس نے زچ ہوکر کہا کہ اتنے معززین آئے ہیں تو  یہ  " بائیولوجی "کوئی کام ہی  کی چیز ہوگی معزز ممبر شاید یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید  سڑک  کی کسی نئی  قسم کو بیالوجی کہتے ہیں یا یہ کوئی کنواں یا ٹیوب ویل شکل کی کوئی  چیز ہوگی یا واٹر سپلائی  کی کوئی نئی قسم ہوگی  خیر جس دن ضلع کونسل کا اجلاس تھا معززین  نے ممبر صاحب کو بائیولوجی  بائیولوجی ،بائیولوجی  کا خوب رٹے  لگوا کر ضلع  کونسل  کے دروازے تک لیکر آئے یا اجلاس شروع ہوا تو ہمارے ممبر نے  سب سے پہلے کھڑے ہوکر یہ  رٹا ہوا مطالبہ کیا کہ  میرے گاؤں کے اسکول کیلئے بایئولوجی کے ٹیچر کی سیٹ منظور کی جائے چیئرمین نے منظوری دے دی اسی دوران ہماری ایک حریف یونین کونسل کا ممبر بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ جو چیز ملک صاحب کیلئے منظور کی ہے وہ میرے گاؤں کیلئے بھی منظور کی جائے  خیر چیئرمین نے دوسرے گاؤں کیلئے بھی منظوری دی  چائے کہ وقفے میں ضلع کونسل کے معزز ممبران آپس میں ڈسکس کرتے رہے کہ  یہ بائیولوجی کس بلا کانام ہے  اور بایئولوجی کی سیٹ پر خوب مزاق ہوا اس طرح  بایئولوجی کے ٹیچر کا مسئلہ حل ہوا
جب ہم جوڈیشل ریفارم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے  جو شخص  کم ازکم کروڑ روپیہ خرچ کرکے صدر یا جنرل سیکریٹری کی سیٹ  پر منتخب ہوتا ہے وہ اتنا بے وقوف ہرگز نہیں ہوتا کہ   عدالتی اصلاحات  کے چکر میں  پڑ کر اپنا قیمتی ٹائم ضائع کرے کیونکہ منتخب لوگوں کو عدالتی اصلاحات کے عمل کیلئے آمادہ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ   ضلع کونسل  کے کسی  ان پڑھ معزز ممبر کو  یہ سمجھانا کہ بیالوجی کیا چیز ہوتی ہے وہ کیوں  نہ کوئی بڑا کام پکڑ کر الیکشن پر کیا گیا خرچہ برابر کرے
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بار کے  بعض ممبران کی  عدلیہ  کے سامنےچلتی بھی ہے اور ہر  منتخب ممبر کی بھی نہیں چلتی صرف پرانے کھگے  اور پرانے کھپڑ ہی اس دہی میں سے مکھن نکال سکتے ہیں نوجوان نسل تو جج کے ساتھ سیلفی بنوا کر ہی خوش ہوجاتی ہے  
چند سال قبل ایک ذاتی قسم کا مسئلہ تھا  اور تھا بھی معمولی نوعیت کا  لیکن  چند  کیسز ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سارا کئیرئیر داؤ پر لگ جاتا ہے ۔بدقسمتی سے جج کو قانون کے علاوہ بہت کچھ آتا تھا بلکہ سب کچھ ہی آتا تھا بڑے قانون جھاڑے  بڑی ریسرچ زیر زبر کی  اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات پیش کیئے  لیکن صاٖ ف محسوس ہوتا تھا کہ جب کوئی قانون کا نقطہ بیان کیا جاتا تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جج صاحب کو زبردستی بیالوجی کا لیکچر دیا جارہا ہے یا اس کو نیوٹن کے چھلے  اردو میں سمجھانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے بہت  کوشش کی لیکن وہی ڈھاک کے تین پات
آخرکار  بار کا ایک دوست ملا اس سے پوچھا کہ یار کیا کروں نہ نگلا جارہا ہے نہ اگلا  میرا دوست بھی تھا تو منتخب نمائیندہ لیکن تھا پرانا  کھگا 
دوست نے جج کا نام پوچھا مجھے ساتھ لیا بے تکلفی سے ساب کے چیمبر میں چلے گئے ساب نے سوڈا واٹر پلایا فائل منگوائی تھوڑی دیر بات چیت کی  اور  چند منٹ  میں کافی عرصے سے لٹکا ہوا  میرا مسئلہ حل کیا ۔ مسئلہ تو حل ہوا لیکن اس کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ لائیبریری میں موجود کتابوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ صرف  ایک بوجھ ہی ہیں ساب اس بات پر  بار کے عہدیدار سے نراض شراض بھی ہوئے کہ خود آنے کی کیا ضرورت تھی فون کردیا ہوتا
بار کی  بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ سب سے اہم ترین ذمہ داری  عدالتی اصلاحات بھی ہے  عدالتی اصلاحات کا عمل  واش روم کا نل اور بیسن کی ٹونٹی ٹھیک کروانے سے زیادہ اہم ترین ہے
یہ بات مانتے ہیں کہ  پارکنگ کا مسئلہ حل ہوا۔ یہ نہایت ہی  اہم مسئلہ تھا۔   نیا رنگ وروغن کیا گیا   نئے فرنیچر کا انتظام کیا گیا ۔ پاکستان کی جدید ترین لایئبریریوں میں  سے ایک لایئبریری  کی بنیاد رکھی گئی۔  لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وکالت کمزور ہوئی ہے   اخلاقیات  بہت پیچھے چلی گئی وقت کے ساتھ عدالتی اصلاحات کا عمل نہیں ہوا  اور اگر ہوا بھی تو بار کا  اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا بار کیلئے تو بیالوجی اور عدالتی اصلاحات میں کوئی فرق نہیں ہے
میرے ایک دوست بار کے اہم عہدے سے فارغ ہوئے تو   ایک ماہ بعد میری ایک تفصیلی ملاقات ہوئی  انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ سال بھر وکلاء گروپس اور وکلاء کے آپس میں کیا انفرادی  مسائل تھے اور ان کے کلایئنٹس کی کیا شکایات تھیں   مجھے افسوس ہوا کہ وہ تمام شکایات انتہائی  گھٹیا نوعیت  کی تھیں جن کو حل بھی کرنا ضروری ہوتا تھا

لیکن میرا یہ مشاہدہ ہے  بار اس قسم کے کاموں سے  ہی بہت خوش ہوتی ہے میرے سامنے چند سال قبل ایک سرکش  سول جج کا تبادلہ  چند منٹ کے نوٹس پر ہوا اسی طرح ایک سرکش سیشن جج کا ٹرانسفر کروانے کے بعد اس کو حیدرآباد پہنچا کر دم لیا اس قسم کے کام ہوں تو عہدیدار کافی خوش رہتے ہیں
بار کا پورے ملک میں ایک سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ بار کی وجہ سے کم ازکم ڈسٹرکٹ کورٹس میں عدلیہ برابری کی بنیاد پر بات تو کرتی ہے  جہاں بار کمزور ہے وہاں ایک مجسٹریٹ بھی   خودساختہ دانشور بنا دکھائی دیتا ہے اور وکیل کو  ذرا بھی اہمیت نہیں دیتا   یہ بار ہی ہے جس کی وجہ سے عدلیہ برابری کی بنیاد پر بات چیت پر مجبور ہوتی ہے  اور ایک عام وکیل  بھی  جج  کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے جن عدالتوں میں بار نہیں پھر وہاں آپ ججز کا رویہ بھی مشاہدہ کرسکتے ہیں
لیکن   ان تمام باتوں کے باوجود  آج وقت بدل چکا ہے۔ بینچ نے تیکنکی بنیاد پر بار کی نسبت اپنی طاقت کو بہت زیادہ مستحکم کیا ہے۔ بینچ نے عدالتی اصلاحات کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ کروڑ روپے لگاکر منتخب ہونے والے امیدوار ہرصورت میں منافع کے ساتھ رقم کی واپسی چاہتے ہیں  ان کی عدالتی  اصلاحات نامی مذاق  سے کوئی لین دین ہی نہیں
چند سال پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہایئکورٹس  کی   جانب سے عالمی بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے  عدالتی اصلاحات کے حوالے سے فوکس گروپ ڈسکشن اور مختلف سیمینار ہوئے تھے اسی دوران ہی عدلیہ کی جانب سے منصوبہ بندی کا عمل جاری رہا ۔  ہماری عدلیہ بحیثیت ادارہ آج سے دس سال پہلے اگلے بیس سال کی پلاننگ کر چکی تھی یہی وجہ ہے کہ آج بحیثیت ادارہ عدالتی اصلاحات کاکام تیزی سے جاری ہے اور  اس پلاننگ میں بار کاکردار مائینس کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ  موجودہ صورتحال میں بات اگر عدالتی اصلاحات کی ہے تو  اس حوالے سے بحیثیت ادارہ بار کی پلاننگ کیا ہے ۔ بار کے پاس ایک بھی ڈھنگ کی رپورٹ نہیں  جس کی بنیاد پر وہ عدالتی اصلاحات کی بات کرسکیں
بار کے پاس عدالتی اصلاحات کا سرے سے کوئی پروگرام ہے نہیں  ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر قسم کا ایسا کوئی پروگرام موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ اعلٰی عدلیہ سے بات کرسکیں کہ وکلاء کا یہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہے جس کے زریعے وکلاء ان مطالبات پر عمل درآمد چاہتے ہیں  
 ہماری قیادت کا  ایک ہی چارٹر آف ڈیمانڈ ہے کہ سیشن جج میرا یار ہونا چاہیئے جس کے زریعے ہم قتل کے کسی مقدمے میں بھاری فیس لیکر اس  ملزم کی ضمانت  کرواسکیں  اگر سیشن جج یار  ہے تو سارا عدالتی عمل درست اگر سیشن جج یار نہیں ہے تو سارا عدالتی عمل مشکوک ہے
ہماری ساری عدالتی اصلاحات اس بات  کے اردگرد گھومتی ہیں کہ کم ازکم سیشن جج  اپنا یار ہو اور دیدہ ور ہو
حالیہ دنوں  میں بہت تیزی سے بار کو زوال ہوا بار کی طاقت کمزور ہوئی ہے ۔ بار آج تک ایسا کوئی میکنزم نہیں بنا سکی جس کے تحت اگر کسی جج کے خلاف کوئی شکایت کسی وکیل کو ہو تو اس کے خلاف کاروائی کی جاسکے اس کا طریقہ کیا ہونا چاہیئے جج کی شکایت کے حوالے سے ایم آئی ٹی کو کس طرح  اپنے ساتھ شامل کرنا ہے  مقامی سطح پر جب معاملہ حل کیا جاتا ہے تو اس سے مزید کرپشن پھیلتی ہے  ۔ کیونکہ کوشش کی جاتی ہے کہ ایم آئی ٹی کو شامل کیئے بغیر  وکیل اور جج یا کسی کلائینٹ کے معاملے کو حل کیا جائے جس سے مزید معاملہ خراب ہوتا ہے
بار کو چاہیئے کہ ایم آئی ٹی کے ساتھ مل کر ان مسائل کو سائینٹیفک  بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کرے اور ایم آئی ٹی  کو بھی پابند کیا جائے کہ کسی شکایت کی صورت میں وہ اپنے یخ بستہ کمروں سے نکل کر ڈسٹرکٹ کورٹس میں پہنچ کر  اگر جج کے خلاف جائز شکایت ہوتو بار کے ساتھ مل کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کرے ہایئکورٹ اس بات کو ہر صورت میں یقینی بنائے کہ  بار تنازعات کو  ڈائریکٹ حل کرنے کی بجائے ایم آئی ٹی کے ساتھ مل کر حل کرے اگر وکیل کا قصور ثابت ہو تو معاملہ سندھ بار کو بھیجا جائے اور جج کی غلطی ہوتو ایم آئی ٹی کے پاس شکایت بھیج دی جائے دونوں صورتوں میں قصور وار پارٹی کے خلاف ہرصورت میں ایکشن کو یقینی  بنایا جائے
لیکن ہوکیا رہا ہے جج اور وکیل کے درمیان تنازع کے حل کا طریقہ کار ہی غلط ہے  دیسی  طریقہ کار یہ ہے کہ  میرا کوئی  مسئلہ ہوگا کوئی تنازع ہوگا  تو میں بار کے آفس آؤں گا وہاں  بار کا کوئی  کوئی عہدیدار موجود ہوگا  اس کو میں جذباتی انداز میں کہوں گا کہ فلانے جج نے یہ کام کیا ہے کیا تم لوگوں کو ووٹ اسی دن کیلئے دیئے تھے کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک ہو یہ سن کر بار کا عہدیداراٹھ کر  کھڑا ہوگا  اور کورٹ کی طرف اپنے مریدوں سمیت روانہ ہوجائے گا  وہاں جج صاحب سے ہلکی پھلکی بات چیت ہوگی  اور مسئلہ حل  وکیل  کو دم دلاسہ دے کر فارغ کردیا جائے گا کہ آپ کا مسئلہ  حل ہوگیا لیکن پھر شام کو جج کے ساتھ اسی بار کے عہدیدار کی ایک الگ سے میٹنگ بھی ہوتی ہے جس میں اس کو یقین دلایا جاتا ہے کہ معاملہ اوپر نہیں جائے گا اور چراندی وکیلوں  سے محتاط رہا کر
لیکن کیا یہ بات مناسب نہیں ہوگی کہ بار ایک طریقہ کار تشکیل دے  جس کے تحت کسی بھی مسئلے کو ایک خاص طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے  ایک طریقہ کار مقرر کیا جائے  جس میں سیشن جج  اور ایم آئی ٹی بھی اہم  فریق ہو ں
لیکن پھر وہی بات کہ کیا ہم کوئی ادارہ ہیں  اداروں کے پاس تو بیس سال کی پلاننگ ہوتی ہے ہمارے پاس تو ایک دن کی پلاننگ نہیں ہے  ہمارے پاس تو کوئی ایسا چارٹر آف ڈیمانڈ ہی نہیں ہے
کیا بار کے عہدیداران کو یاد ہے کہ   عدالتوں سے این جی اوز کے خاتمے کے وقت بینچ کو تحریری طور پر کیا یقین دہانیاں کروائی گئی تھیں اور کیا ان پر عمل درآمد ہوا؟  کیا بار نے  اپنا قانونی امداد کا  پروگرام شروع کرنے کا وعدہ پورا کیا ؟

بار کی طاقت تیزی سے زوال پذیر ہورہی ہے۔ ہڑتالوں کی سیاست نے وکالت کے پیشے اور بار کی طاقت کے زوال میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ آہستہ آہستہ وکیل کا کردار عدالتوں سے ختم کرنے کی کوششیں   کامیابی سے کی جارہی ہیں ۔  اعلٰی   عدالتوں  کے بار کے  منتخب عہدیداران کو کروڑوں اور اربوں روپے کے  مفادات کے شکنجے میں پھنسا کر بے بس کیا جاچکا ہے ۔ ڈسٹرکٹ بار کے عہدیداران تو کسی گنتی میں ہی شامل نہیں ہیں
نو مارچ 2007  کو وکلاء اسقدر طاقت میں تھے کہ  ملک کا چیف آف آرمی اسٹاف ان کے سامنے بے بس تھا نومارچ 2007 کو شروع ہونے والی احتجاج کی سیاست  بعد ازاں ہمارے مزاج کا حصہ بن گئی۔ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے کہ  این جی اوز کے خلاف تحریک کے دوران  سندھ ہایئکورٹ کے چیف جسٹس جناب مشیر عالم صاحب بار کے دورے پر آنا چاہتے تھے اور بار کی قیادت  نے جواب دیا تھا کہ ہمارے لیئے آپ کو ویلکم کرنا ممکن نہیں ہے  یہ اس وقت کا عروج تھا ہایئکورٹ کے چیف جسٹس کو ایسی بات کہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے  اور آج کا چیف جسٹس لفٹ ہی نہیں کراتا
آج ہم کہاں کھڑے ہیں   آج ہمیں ویلکم کرنے کیلئے پولیس کی نفری منگوا کر  ہمارا استقبال کیا گیا جس کی ذمہ دار ہم خود ہیں  
اگر بار کمزور ہوئی تو  یہ بہت بڑا المیہ ہوگا
اگر بار بینچ کی طاقت کو چیلنج کرنا چاہتی ہے تو نوجوان عہدیداران بوڑھی قیادت سے بغاوت کرتے ہوئے پورے پاکستان میں   جج کی چیمبر میٹنگ پر پابندی کا مطالبہ کریں   کہتے ہیں کہ بھینس کو تکلیف دینی ہوتو اس کے کٹے کو تکلیف دینا ضروری ہوتا ہے
بینچ کی اصل طاقت چیمبر پریکٹس میں پوشیدہ ہے  ترقی یافتہ دنیا میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ وکیل  جج کے ساتھ مل کر چیمبر میں بیٹھتے ہوں کھانا کھاتے ہوں گپ شپ کرتے ہوں کیس چلاتے ہوں   نوجوان  عہدیداران ہر سطح پر اکثریت میں ہیں اگر بینچ کو ہرروز یاددہانی کروائی جائے کہ چیمبر میں کیس چلانا اور  دوستوں کو بٹھاکر  ڈیل والے کیس چلانا مناسب نہیں  
 ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے ہایئکورٹ کی سطح پر چیمبر پریکٹس کے خاتمے کا مطالبہ کرنا نہایت ضروری ہوچکا ہے اور یہی وہ مطالبہ ہے جس سے اوپر کی سطح پر کرپشن کم ہوگی  جب کہ بار کو ادارے میں بدلنے کا وقت آچکا ہے

Saturday, 19 September 2015

سوڈے کی بوتل ٭٭٭٭٭ تحریر صفی الدین اعوان

کراچی کے وکلاء کیلئے 2005 کا سال ایک یادگار سال تھا
کراچی میں آزمائیشی بنیاد پر آن لائن عدلیہ کا تجربہ کیا گیا تھا جو کہ نہایت ہی کامیاب رہا تھا۔کورٹ کیس کی ڈائری آن لائن  موجود ہوتی تھی جس کی وجہ سے کلائینٹ بیرون ملک بیٹھ کر خود بھی اپنے کیس کی اپ ڈیٹ حاصل کرلیا کرتے تھے
بار کے عہدیداران کا خصوصی ریلیف بند ہوگیا تھا چیمبر میں خاص وکلاء کو نہیں سنا جاتا تھا جس سے کراچی کے ایک عام وکیل کو بھی فائدہ پہنچا تھا
عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار ای میل کی بنیاد  سیشن جج نے پر بیرون ملک بیٹھ کر  حبس بے جا کی درخواست پر رات کے دوبجے آرڈر جاری کیا اور مجسٹریٹ نے رات دوبجے تھانے پر چھاپہ مارکر مغوی کو بازیاب کیا اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کی
کئی  بااثر ججز  جو کرپشن میں ملوث  تھے کے تبادلے سیشن جج کی درخواست پر ہوئے   اور ان کے خلاف کاروائی بھی ہوئی
کورٹ اسٹاف کے خلاف عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار کاروائی ہوئی کراچی بار کا ایک عام وکیل کرپشن سے پاک ایسی عدلیہ  ہی چاہتا ہے
بدقسمتی کہ پاکستان میں آن لائن عدلیہ کا ماسٹر مائینڈ  بھی تاریخ کے جبر سے محفوظ نہیں رہ سکا اور ایک متنازعہ عدالتی فیصلہ جس نے عدلیہ کی بطور ادارہ چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں اور وہ شخصیت بھی اس کی زد میں آئی
اس کے علاوہ بھی بہت سے قابل ترین لوگ عدالتی فیصلے کی زد میں آئے جن کا متبادل آج دن تک نہیں مل سکا
آج سے دس سال پہلے جب انٹرنیٹ کی سروس بہت ہی سست تھی اس وقت آن لائن عدلیہ ایک خواب تھی اور لوگ اس کو دیوانے کا خواب سمجھتے تھے  اور پھر یہ خواب سچ ہوا
بدقسمتی سے  ہم ایک ہجوم بن چکے ہیں جو جس طرف چاہے ہمیں ہانک دیتا ہے
جب دنیا بھر میں دیوانی کیسز میں تنازعات کے متبادل حل کی بات ہورہی ہے تربیت یافتہ ثالثوں کے زریعے عدالتوں میں آنے والے کیسز کو حل کرنے کی بات ہورہی ہے تو پھر یہ پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتا
سندھ ہایئکورٹ کی یہ سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی کہ تنازعات کے متبادل حل کیلئے عالمی بینک کی فنڈنگ کو  ریٹائرڈ ججز کی فلاح وبہبود کیلئے بنائی گئی ایک این جی او  پر خرچ کروایا گیا کے سی ڈی آر کو ریٹائرڈ ججز کی فلاح و بہود کا ادارہ بنا دیا گیا تھا  اور جب اس ادارے نے ثالثی کے عمل کو  کراچی بارایسوسی ایشن کو مکمل طور پر بائی پاس کرکے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو وکلاء نے پورے ادارے کو اٹھا کر ہی باہر روڈ پر پھینک دیا تھا لیکن اگر یہی کام بار کے مشورے سے کیا جاتا تو کیا کراچی بارایسوسی ایشن اس میں رکاوٹ ڈال دیتی؟  ہر گز نہیں  بلکہ کراچی بار ایسوسی ایشن  اور سندھ ہایئکورٹ مل کر تنازعات کے متباد ل حل کے طریقہ کار کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے
اگر ثالثی اور تناعات کے حل  کیلئے کی جانے والی کوششوں کو این جی او کی بجائے  سندھ ہایئکورٹ نے بحیثیت ادارہ لیا ہوتا تو آج پاکستانی عدلیہ کی تاریخ بدل چکی ہوتی  لیکن    سندھ ہایئکورٹ نے ریٹائرڈ ججز کی بھلائی کیلئے جو این جی او بنوائی تھی سارا فنڈ اس پر خرچ کیا گیا  اور پاکستان میں ثالثی   کو سائنٹفک بنیاد پر لانے کی کوشش ناکام رہی جس کی مکمل ذمہ دار سندھ ہایئکورٹ ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں آن لائن عدلیہ کا ماسٹر مائینڈ پی سی او ججز کے کیس کی ذد میں آنے کی وجہ سے  کے سی ڈی آر  کو جوائن کرچکا تھا
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب نے متعدد بار ڈاکٹر ظفر شیروانی کو آن لائن عدلیہ اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے بلایا  اور  ان کی خدمات سے استفاذہ کیا ان کا آن لائن عدلیہ کا مقالہ اس وقت بھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود تھا جب  ان کو پی سی او کے تحت ہٹایا گیا اور آج بھی موجود ہے
پاکستان میں ہر سطح پر یہ تسلیم کیا گیا کہ  ڈاکٹر ظفر شیروانی کو ضا ئع کیا گیا  ان کی خدمات سے استفاذہ نہیں کیا گیا اسی دوران سندھ ہایئکورٹ نے ڈاکٹر ظفر شیروانی کی خدمات کو دوبارہ حاصل کیا  اگرچہ   ریٹائرڈ لوگوں کو واپس لانا مناسب نہیں ہوتا لیکن سندھ ہایئکورٹ  کا یہ ایک درست فیصلہ تھا کیونکہ   پی سی او   ججز فیصلے کے بعد ہر فورم پر یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ  ڈاکٹر ظفر شیروانی  کے ساتھ زیادتی  ہوئی تھی بہت سے لوگ  اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ ان کی خدمات کو حاصل کیا جائے ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب سندھ ہایئکورٹ  کے ایک کونے میں بیٹھ کر اپنی خدمات میں مصروف عمل تھے کہ  ایک وکیل اور مجسٹریٹ کے درمیان تنازعہ ہوا جس پر  صرف وکیل کے خلاف کاروائی کے طریقہ کار پر  وکلاء اور ہایئکورٹ میں اختلاف پیدا ہوا کیونکہ جس طریقے سے کاروائی ہوئی  وکلاء کا صرف اس طریقہ کار پر اختلاف تھا  ۔ لیکن اسی دوران جب اختلاف بڑھے تو اچانک ہی سابق رجسٹرار کو ہٹا کر ڈاکٹر ظفر شیروانی کو رجسٹرار بنادیا گیا
اسی دوران کسی نے سوڈے کی بوتل  کا ڈھکن   کھول  کر میں نمک ڈال دیا  جس  سےسوڈے کی بوتل میں بہت زیادہ ابال پیدا ہوا لیکن دودن کے بعد سب کے تعزیئے   جل  کر ہمیشہ  کیلئے ٹھنڈے پڑگئے
پاکستان میں بہت زیادہ عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے آن لائن عدلیہ بہت سے مسائل کا حل ہے
میں پرامید ہوں کہ پاکستان میں آن لائن عدلیہ کے زریعے  بہت سے وکلاء جو اپنے کلائینٹس کے کیسز صحیح طریقے سے نہیں چلاتے ان کے خلاف کاروائی کرنا آسان ہوگا
میں ایک چھوٹا سا المیہ بیان کردوں
ہمارا ادارہ بہت سے کیسز میں وکلاء کی خدمات بطور پینل ایڈوکیٹ   حاصل کرتا ہے  بدقسمتی سے کئی بار ہم مکمل فیس اداکردیتے ہیں لیکن وکلاء کیس نہیں چلاتے  گزشتہ دنوں ہم نے ایک انتہائی اہم کیس میں ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں  اور اس کو مکمل فیس ایڈوانس ادا کردی   جو اس نے طلب  کی   وکیل صاحب نے  بتایا کہ  سندھ ہایئکورٹ میں پٹیشن داخل ہوچکی ہے میں  نے کہا پٹیشن کا نمبر کیا ہے تو اس نے کہا دودن کے بعد ملے گا پھر پتہ چلا کہ کوئی آبجیکشن آگیا ہے  خیر پھر وہ دودن پورے ایک مہینے کے بعد آیا کافی دن کے بعد وکیل صاحب نے پٹیشن کا نمبر دیا میں نے آن لائن چیک کیا تو   بطور وکیل کسی اور کا نام آرہا تھا  میں نے حسن ظن  سے کام لیا کہ شاید کسی ایسوسی ایٹ  کا نام ہوگا خیر  وکیل صاحب نے کہا کہ یہ کیس فلاں تاریخ کو لگا ہے میں نے آن لائن چیک کیا تو نہیں لگا ہوا تھا  اسی دوران وہ  پٹیشن 9 ستمبر کو  آفتاب  احمد گورڑ کی کورٹ میں لگی ہوئی تھی میں نے وکیل صاحب کو شام کو بتایا کہ صبح سیریل نمبر ایک پر پٹیشن لگی ہے آپ پیش ہوجانا  وکیل صاحب نے کہا کہ بے فکر ہوجاؤ میں آجاؤنگا لیکن میری چھٹی حس کہہ رہی تھی  کہ  وکیل نہیں آئے گا اس لیئے میرے ایسوسی ایٹ  نے خود صبح سویرے پہنچ کر  پٹیشنر کو پیش کیا    بریف ہولڈ کروایا پتہ یہ چلا کہ وکیل صاحب نے صرف پٹیشن پر نوٹس  کا آرڈر کروایا اور پھر  سروس ہی نہیں کروائی  اسی دوران وکیل صاحب کہہ رہے تھے کہ میں  ہایئکورٹ  آرہا ہوں پھر وکیل نے کال وصول کرنا ہی بند کردی اور آج تک وصول نہیں کی    اور ہمیں  بار میں دیکھ کر راستہ  ہی بدل لیتا ہے مزید ظلم یہ کہ وکالت نامہ ہی جعلی تھا وکیل نے  چالاکی سے اپنا وکالت نامہ ہی کورٹ میں پیش نہیں کیا لیکن بہرحال کسی وکیل کا یہ ایک انفرادی فعل ہے اکثریت ایسی نہیں
جب ہم کورٹ میں وکالت نامہ پیش کرتے ہیں تو آج دن تک صرف ذاتی اعتبار اور ہمارے کالے کوٹ کے احترام کی وجہ سے  کسی جج  نے مجھ سے میرا نام کبھی نہیں پوچھا کیونکہ جج کو یقین ہوتا ہے کہ یہ وکیل صاحب جو وکالت نامہ پیش کررہا ہے یہ اسی کا ہی ہوگا لیکن  ایک دیہاڑی دار کو یہ کس نے حق دیا کہ  وہ اس یقین کا خون کرے اور چند ہزار کیلئے  جعلی وکالت نامہ پیش کرے اور جب کوئی موقع آتا ہے تو سوڈے کی بوتل میں کوئی نمک ڈال دیتا ہے اور پھر ہم لوگ ہجوم کی طرح اپنے وکیل بھائی کے پیچھے چل پڑتے ہیں  
اگر سندھ ہایئکورٹ آن لائن نہ ہوتی تو مجھے یہ کیسے پتہ چلتا کہ میرا کیس کورٹ میں داخل نہیں ہوا وکیل صاحب مجھے جعلی تاریخیں دیتے رہتے اور  آخر میں ایک جعلی حکم نامہ ہاتھ میں پکڑا دیتے
لیکن اس واقعہ سے ہمیں یہ فائدہ ہوا کہ اب ہم  نے پینل ایڈوکیٹ تحلیل کرکے وکلاء کی خدمات مستقل  بنیاد پر حاصل کی ہیں
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اگر میرا وکیل بھائی میرے ساتھ ایسا کرسکتا ہے تو وہ کسی عام آدمی کے ساتھ کیا برتاؤ کرتا ہوگا
ان وجوہات کی بنیاد پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ آن لائن عدلیہ کرپشن کے سارے راستے بند کررہی ہے   بہت سے راستے بند ہوبھی چکے ہیں  نادرا ویریفیکیشن سینٹر کی وجہ سے مزید بہتری آئی ہے اب قبر کا مردہ قبر سے نکل کر کورٹ میں کیس داخل نہیں کرسکتا نادرا ویریفیکیشن سینٹر نے کراچی سٹی کورٹ سے یہ اہم سہولت ختم کردی ہے ۔ ابھی بہت سی سہولیات مزید ختم ہونا باقی ہیں جس کے بعد امید کرتے ہیں کہ وکالت کا پیشہ ابھر کر اور نکھر کر سامنے آئے گا دیہاڑی دار گیٹ مافیا کے خاتمے کا وقت قریب آرہا ہے

ڈاکٹر ظفر شیروانی ایک حقیقت کے طور پر سامنے آچکے ہیں ۔ اور دوسال تک ان کو ہلا جلا کوئی نہیں سکتا   میں امید رکھتا ہوں کہ آن لائن  ہایئکورٹ کے بعد  آن لائن ڈسٹرکٹ کورٹس کا خواب جلد پورا ہوگا
سندھ ہایئکورٹ کو بھی چاہیئے کہ بار کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کرے    بار کے ساتھ رویہ  میں تبدیلی  کی ضرورت  ہے ہم مفتوح نہیں ہیں وکیل کو پولیس اور رینجرز کے زریعے کچل ڈالنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا
  بار ایسوسی ایشن کی قیادت نوجوان وکلاء کو منتقل ہورہی ہے   نوجوان  وکلاء عدالتی اصلاحات  کے عمل میں رکاوٹ  نہیں  لیکن  بار کے نوجوان  منتخب  عہدیداران  کو بوڑھی  قیادت  پر  بالکل بھی بھروسہ  نہیں کرنا چاہیئے  کیونکہ سیاست  کے سینے میں دل  اور آنکھ میں حیا نہیں  ہوتی  ایک عام وکیل دیہاڑی دار مافیا کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔ دیہاڑی دار شعبہ وکالت کیلئے ناسور کا درجہ رکھتے ہیں
 کراچی کی عدالتوں میں جو کیسز زیرسماعت ہیں  ان میں سے نوے فیصد کیسز ایسے ہیں جو بے جان اور بے بنیاد  ہیں   اگر اچھا تربیت یافتہ جج ہو تو صرف ایک جھٹکے میں اپنی عدالت سے کیسز کا صفایا کرسکتا ہے اسی طرح اکثر کیس ایسے ہیں جو زیادہ سے زیادہ تین تاریخوں پر ختم ہوجائیں   نااہل عدلیہ بھی ایک مسئلہ ہے بلکہ نااہل عدلیہ دیہاڑی دار مافیا سے زیادہ خطرناک ہے اکثر ججز کو ابھی تک آرڈر تک لکھنا نہیں آتے  اور بنیادی قوانین سے آگاہ نہیں
لیکن یہ تربیت یافتہ ججز کہاں سے آئیں گے اس کا جواب خود سندھ ہایئکورٹ کے پاس بھی نہیں  سندھ ہایئکورٹ کا صرف یہ مؤقف درست نہیں کہ صرف  وکلاء نااہل ہیں اصل بات یہ کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے
نااہل ججز اور مس کنڈکٹ کرنے والے وکلاء کے خلاف بلا تفریق  کاروائی ہونی چاہیئے
چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ صاحب بڑے احترام سے یہ عرض ہے کہ   یہ افواہیں گرم ہیں کہ  عدالتی اوقات کے بعد جسٹس صاحبان کے چیمبر میں کیسز چلتے ہیں  اس کا واحد علاج ہے کہ جسٹس صاحبان کے چیمبر میں میٹنگ کیلئے  فالتو کرسی موجود ہی نہ ہو کیونکہ اگر کوئی زبردستی کا مہمان آبھی جائے بیٹھنے کیلئے کرسی  نہ ہونے کی وجہ سے شرمندہ ہوکر دوبارہ نہ آئے گا اسی طرح ہر سطح پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ جج  بار کے عہدیداران  سمیت اپنے مہمان سے عدالت کے کمیٹی روم میں ملاقات کرے گا اور میٹنگ  کے مقاصد  اور منٹس سرکاری ریکارڈ میں رکھے جائیں گے  بطور ایک پریکٹسنگ وکیل کے میں اچھی طرح جانتا ہو ں کہ چیمبر میں  ججز کے مہمان کیوں آتے ہیں  اور چیمبر میٹنگ کا نتیجہ ہمیشہ برا  اور کرپشن  کی صورت  میں ہی نکلتا ہے
سندھ ہایئکورٹ  کے قابل  احترام  چیف  جسٹس کو چاہیئے کہ جسٹس صاحبان کو پابند کریں کہ  عدالتی اوقات کار کے بعد کسی کو بھی چیمبر میں آنے کی اجازت نہ دی جائے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن کی ضرورت ہے جب اوپر سے معاملہ ٹھیک ہوگا تو کسی مجسٹریٹ کی کیا ہمت کہ اپنے مہمان چیمبر میں بٹھائے لیکن مشہور یہ ہے کہ جو معاملات  جسٹس صاحبان  کے چیمبرز میں ڈیل ہوتے ہیں وہ کروڑوں نہیں اربوں روپے کے معاملات ہیں  تو کیا اتنی ہمت کسی میں ہے کہ اربوں کھربوں روپے کی ڈیل کرنے والے مافیا سے ٹکر لے سکے اسی طرح  کراچی بار ایسوسی ایشن کی نوجوان قیادت کو چاہیئے کہ سندھ ہایئکورٹ پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ    ہایئکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس سمیت ہر سطح سے  چیمبر پریکٹس کے خاتمے کیلئے  پریشر ڈالیں  اگر کراچی بار کسی ایسے ایشو پر آواز اٹھائے گی جس کا تعلق کرپشن کے خاتمے سے ہوگا تو  اس کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوگا
دعا گو ہیں کہ سندھ ہایئکورٹ  آن لائن عدلیہ کیلئے جو اقدامات کررہی ہے وہ جلد پورے ہوجائیں گے اس سے گھٹیا قسم کی کرپشن کا  خاتمہ ہوگا
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب اللہ تعالٰی نے آپ کو ایک موقع دیا ہے  آن لائن  عدلیہ کے حوالے سےآپ اپنا نامکمل کام مکمل کریں  اس وقت  حالات  بھی سازگار ہیں اور  دوسال کے بعد  کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں عدلیہ کو ہمیشہ کیلئے خیر آباد کہہ دیں  کیوں کہ اگر دوسال بعد بھی آپ  اپنا متبادل  تیار نہیں کرپاتے تو یہ عمل بھی آپ کی نااہلی میں شمار ہوگا  اور کوئی بھی شخص حرف آخر نہیں ہوتا
اپنے ادارے سے عزت اور وقار کے ساتھ رخصت ہوجانا سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے

سندھ ہایئکورٹ کو چاہیئے کہ ایسا کوئی قدم نہ  اٹھائے جس سے کسی کو سوڈے کی بوتل میں نمک ڈالنے کا موقع ملے جبکہ بار کو بھی چاہیئے کہ سوڈے کی بوتل پر ٹائٹ والا ڈھکن لگا کر لاک میں بند کرکے رکھے تاکہ کسی کو ڈھکن کھول کر سوڈے کی بوتل میں نمک ڈال کر  بلاوجہ کی سیاست کا موقع  نہ ملے 

Thursday, 17 September 2015

سبز کتاب کا مصنف تحریر :: صفی الدین

میں نے ایک بار کسی جسٹس صاحب سے یہ پوچھا کہ  آپ کب اپنے آپ کو پریشانی میں محسوس کرتے ہیں کب محسوس ہوتا ہے کہ آپ مشکل میں ہیں جج کی سیٹ پر مشکل لمحہ کب آتا ہے آزمائیش کی گھڑی کب آتی ہے
جسٹس صاحب نے کہا کہ مجھے کبھی پریشانی نہیں ہوتی لیکن صرف ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جب میں پریشان ہوجاتا ہوں جب میں اپنے آپ کو بہت زیادہ پریشانی اور آزمائیش میں گھرا  میں محسوس کرتا ہوں ۔ اور وہ لمحہ اس وقت آتا ہے جب  سبز کتاب کا مصنف  میری عدالت میں داخل ہوتا ہے اور اس وقت میں شدید بے بسی اور گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں میرا دل کرتا ہے کہ اس شخصیت کے احترام کی خاطر میں کھڑا ہوجاؤں لیکن میں ایسا کرنہیں پاتا
بہت سے وکیل کسی آئینی پٹیشن میں پیش ہوکر سبز کتاب کی کسی سیکشن کی وضاحت کرتے ہیں   اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں سیکشن کی وضاحت کیا ہے   وکلاء اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ  اس کی وضاحت  یہ بھی ہوسکتی  ہے اور اس لفظ  کا مقصد کیا ہے اور یہ سیکشن کیوں شامل کی گئی ہے  لیکن پوری دنیا میں صرف ایک وکیل ایسا ہے جب وہ اس سبز کتاب کو کھول کر بتاتا ہے کہ  میں نے یہ سیکشن اس مقصد کیلئے لکھی تھی
جس سبز کتاب کے زریعے  بیس کروڑ لوگوں کی زندگی کے بہت سے  معاملات طے کیئے جاتے ہیں وزیراعظم  کے اختیارات  سے لیکر  آرمی چیف  کی تقرری اور صدر سے لیکر اسپیکر کے انتخاب تک  
عدلیہ کے بنیادی اسٹرکچر سے لیکر بار ایسوسی ایشن کے کردار تک      یہ سب باتیں دنیا میں صرف ایک شخص جانتا ہے  عدلیہ کے احترام سے لیکر عدلیہ کے وقار تک  اور قومی اسمبلی سے لیکر لوکل گورنمنٹ  تک انسانی حقوق کے تحفظ سے لیکر پٹیشن کے زریعے  حکومت پاکستان  کو فریق بنانے کے اختیار تک یہ سب  باتیں لکھنے کا اعزاز جس شخص کے حصے میں آیا  اس کا نام حفیظ الدین پیرزادہ تھا
دنیا کا وہ واحد انسان تھا جب وہ عدالت میں پیش ہوجاتا تھا تو عدلیہ کا امتحان شروع ہوجاتا تھا اور قابل احترام جسٹس صاحبان اپنے آپ کو پریشانی میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے۔ کیونکہ اس عظیم انسان  کا یہ حق بنتا تھا کہ جب وہ سامنے آجائے تو اس کو کھڑے ہوکر عقیدت اور احترام کے ساتھ عزت دی جائے لیکن ایک منصف کے عہدے اور ذمہ داریوں کے بھی کچھ تقاضے  ہیں  جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوپاتا تھا دنیا میں موجود واحد وکیل تھا جو پاکستانی عدلیہ کے کسی جج کو یہ کہنے کا حوصلہ اور حق رکھتا تھا کہ سبز کتاب میں موجود فلاں سیکشن میں نے اس مقصد کیلئے لکھی تھی
ہم پر کیا قیامت بیت گئی ہم لوگ خود بھی نہیں جانتے  ایک ایسا باوقار انسان پاکستان سے رخصت ہوگیا جو پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم ترین انسان تھا
حفیظ الدین پیرزادہ کا مقام اور مرتبہ  ہم کبھی جان نہیں سکتے ۔ آپ انمول تھے ۔عدالت کی سیڑھیاں  حفیظ الدین پیرزادہ  جیسی شخصیت کیلئے ترس جاتی ہیں ۔ ہماری عدالت کی سیڑھیوں کا یہ انتظار شاید کبھی ختم نہ ہو کیونکہ  حفیظ الدین پیرزادہ صاحب اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ہاں میری دعا ہے کہ  نوجوان وکلاء ان کو آئیڈیل بنائیں  اور وکالت کو دوبارہ سے ایک بہت ہی باقار پیشہ بنانے کی کوشش کریں
سال کا سب سے بڑا سانحہ کہ سبز کتاب کا مصنف اس دنیا سے رخصت ہوا

سبز کتاب کا مصنف  کسی چیز کا محتاج نہیں تھا لیکن اگر پاکستان کی بار ایسوسی ایشنز کیلئے ممکن ہو تو  اپنی لائیبریری کا نام حفیظ الدین پیرزادہ سے موسوم کرسکتے ہیں  اس سے بار کی عزت میں اضافہ ہوگا نوجوان نسل کیلئے حفیظ الدین جیسے وکلاء  کی زندگی ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے

Saturday, 15 August 2015

بلی پہلی رات ہی ماردینی چاہیئے ٭٭٭ تحریر صفی اعوان

دو بھائیوں کی  ایک ہی دن شادی ہوئی ۔ دونوں بھائیوں کا امتحان لینے کیلئے ان کی ساس نے سہاگ رات کو  ایک بلی خفیہ راستے سے ان کے کمرے میں   بھجوادی
پہلے بھائی کے کمرے میں جب بلی داخل ہوئی تو اس نے ہش ہش کرکے بلی کو بھگانے کی کوشش کرتا رہا  لیکن ڈھیٹ بلی تھی کہ بھاگنے کا نام لیکر ہی نہیں دیتی تھی  اس کی بیوی سمجھ گئی کہ یہ صرف ہش ہش والا ہے
جبکہ دوسرے بھائی کے کمرے میں جب بلی داخل ہوئی   بلی نے جیسے ہی میاؤں کی آواز نکالی تو دوسرے  بھائی  نے کمر کے ساتھ بندھا ہوا  گراری دار چاقو  نکالا  تاک کر بلی  کا نشانہ لیا کھینچ کر مارا اور  بلی  ماردی  یہ منظر دیکھ کر دوسرے بھائی کی بیوی وہیں سہم گئی اور سمجھ گئی کہ شوہر ہش ہش والا نہیں ہے  بلکہ  بلی  مار بھی سکتا ہے
جس بھائی نے  شادی کی پہلی رات ہی بلی  ماردی تھی اس کو پوری زندگی بلی نے دوبارہ تنگ نہیں کیا پوری زندگی بیوی  نے اس  کو بلاوجہ کبھی تنگ نہیں کیا
جبکہ ہش ہش کرکے بلی بھگانے والے بھائی کو  اس کی بیوی نے پوری زندگی تنگ کرکے رکھا پریشان کرکے رکھا
اسی لیئے کہتے ہیں کہ بلی پہلی رات ہی مار دینی چاہیئے ورنہ پوری زندگی تنگ کرتی ہے
یہی حال ہمارا ہے   ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ پاکستان کے بہت سے مسائل کی ذمہ دار عدلیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   ماضی میں ہمارے دوستوں نے ان پر کبھی ضرورت سے زیادہ اعتماد نہیں کیا۔ اور براہ راست عدلیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتے ہیں
آپ لوگ اکثر خبروں میں سنتے ہونگے میڈیا میں دیکھتے ہونگے کہ  پاکستان میں  اکثر ججز کی ٹکور کی جارہی ہوتی ہے  جو اوقات سے باہر نکلنے کی کوشش کررہا ہو وکلاء مل جل کر اس کو اس اوقات میں لارہے ہوتے ہیں  کیونکہ مفادات کی جنگ میں اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ ویسے بھی اگر ان کو آزاد اور کھلا چھوڑ دیا جائے تو یہ لوگ فوراً اپنا آپ دکھانا شروع کردیتے ہیں
ہم نے یہ بھی دیکھا کہ چند سال قبل خودساختہ آزاد عدلیہ کے خودساختہ ہیرو جسٹس شریف نے بھی جب مفادات کی اس جنگ میں اپنے  پیٹی بھائی کی حمایت کی تو وکلاء نے اس خودساختہ ہیرو کو بھی رگڑا لگا دیا اور ایسی فزیکل ٹریٹمنٹ دی کہ اس کی طبیعت ٹھیک ہوگئی
بنیادی طور پر  پاکستان بھر کے وکلاء نے اس شیطان بلی کو پہلی رات ہی ماردیا تھا یہی وجہ ہے کہ  ان کو بلی نے دوبارہ کبھی تنگ نہیں کیا
دوسری طرف ہم سندھ  میں گزشتہ کچھ عرصے سے  حالات ہی مختلف پاتے ہیں
ہم نے بلی کو ہش ہش کرکے بھگانے کی حماقت کی ہے۔ ہم نے جسٹس صاحبان کی بھولی بھالی صورتیں دیکھ کر ان پر اعتبار کرنے کی سنگین ترین غلطی کی ہے ۔ صرف یہی وجہ ہے کہ سندھ کا چیف جسٹس   اپنے  دیگر چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں پر  وکلاء کے مفادات  پر ڈاکہ ڈالنے کے بعد اپنی   ہی جج برادری کے اسی فیصد  امیدواروں   کو میرٹ  میرٹ کا ڈرامہ اور کھیل رچا کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج   لگادیتا ہے  اور اس کے بعد ہم وکلاء کو بشیرا  سمجھ  کر قانون پڑھانا شروع کردیتا ہے ۔ اب بڑے ساب ہمیں یہ بتارہے ہیں کہ میرٹ کیا ہوتا ہے۔ میرٹ میم سے شروع ہوتا ہے اور ٹ  ساکن ہوتا ہے
مشیر عالم صاحب وکلاء کو چکنی چپڑی باتوں سے  عدالتی  اصلاحات  کے نام  پر بے وقوف بناتے تھے جبکہ فیصل عرب صاحب اور ان کے مشیر خاص سجاد علی شاہ   نے  تو بدقسمتی  سے وکلاء کو  بشیرا   ہی سمجھ لیا ہے  شاہ صاحب  یہ سمجھ رہے ہیں کہ وکلاء کو یہ نہیں پتہ کہ میرٹ کیا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وکلاء  بشیرے کی  طرح سادے ہیں کہ ان کو یہ پتہ  ہی نہیں کہ کسی بھی امیدوار کو کس طرح کھڈے لائن لگایا جاتا ہے اور کس طرح خاص خاص لوگوں کو ٹاپ کروادیا جاتا ہے جو جتنا بڑا خوشامدی وہ اتنا ہی زیادہ میرٹ کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے
پاکستان میں وکلاء کے مفادات پر عدلیہ کی جانب   سےشب خون مارنے کی روایات ہمیشہ سے موجود رہی ہیں   لیکن اسی دوران  پورے پاکستان میں  میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی   اگر ان  ججز کو کسی نے اگر حقیقی  معنوں میں پہچانا ہے تو وہ  پاکستان کے وکلاء نے پہچانا ہے   یہی وجہ ہے کہ  ماضی میں   ججز  وکلاء کو  بشیرا سمجھ  کر قانون  سکھانے کی  سنگین  غلطی  نہیں کرتے  تھے اور نہ ہی ججز کی تعیناتی کے عمل میں وکلاء کو نظر انداز کرنے کی روایت موجود تھی
لباس خضر میں یاں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں ۔جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

ججز کی تعیناتی کے ڈرامے پنجاب  سمیت  پورے پاکستان میں بھی ہوئے ہیں ماضی میں پنجاب میں بھی  میرٹ میم سے شروع ہوکر ٹ  پرساکن ہوجاتا تھا اور جس طرح اس بار وکلاء کو   بشیرا بنا کر دن دیہاڑے صوبہ سندھ میں نام نہاد میرٹ کے  ذریعے  میرٹ  کو ننگا کرکے اس کی عزت  لوٹی  گئی ہے  جس طرح  وکلاء کو بشیرا  سمجھنے کے بعد دھوکہ دے کر وکلاء کے مفادات پر ڈاکہ ڈال کر  لوٹ لیا گیا ہے اسی طرح ماضی میں  پنجاب  میں بھی ڈرامے ہوتے رہے ہیں  جس کے بعد جب اس سال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی  ایک سو اسی نشستوں کا اعلان کیا گیا تو بہت بڑی تعداد میں وکلاء کے ساتھ ساتھ ججز نے بھی درخواستیں جمع کروادیں
وکلاء سمجھدار تھے جانتے تھے  آگے کیا ڈرامہ ہونے والا ہے  میرٹ  کے نام پر کیا تماشہ  ہوگا  کیونکہ   مفادات کی جنگ میں اخلاقیات کی ٹکے کی بھی اہمیت نہیں  اس لیئے پورے صوبے کے وکلاء  نے یہ فیصلہ کیا کہ  اس سال صرف وکلاء ہی اس امتحان میں شریک ہونگے ایک کمیٹی تشکیل دے کر چیف جسٹس  کے پاس  آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل  کر  برابری  کی بنیاد پر بات کرنے کیلئے بھیجا گیا کہ اگر اپنے پیٹی بھائیوں کو سیشن جج لگانا ہے تو ان کو محکمہ جاتی ترقی دے دی جائے ان کیلئے الگ سے امتحان کا انعقاد کیاجائے  اس کے علاوہ وکلاء کو ان پر بھروسہ بھی نہیں تھا ۔
وکیل جانتے تھے کہ اگر بلی کو ہش ہش کیا گیا تو بلی پوری زندگی  تنگ کرے گی  اس لیئے چاقو نکال کر پہلے دن ہی بلی ماردی
چیف جسٹس  پنجاب نے وکلاء کے اصولی مؤقف سے اتفاق کیا بلکہ اس کو اتفاق کرنا ہی پڑا کیونکہ اگر اتفاق نہ کرتا تو فزیکل ٹریٹمنٹ کے ساتھ ساتھ نفسیاتی علاج کے عمل سے بھی گزرنا پڑتا ۔ فزیکل ٹریٹمنٹ کا سوچ کر ہی ان کو جھر جھری آجاتی ہے
چیف صاحب نے پیٹی بھائیوں کو معزرت کے ساتھ امتحان میں شرکت کیلئے جمع کروائے گئے پیسے  سول  ججز کو واپس کیئے اور کہا کہ وکلاء نہیں مان رہے
جبکہ دوسری طرف سندھ کے مظلوم وکلاء جن کی قیادت ہش ہش کرکے بلی بھگانے  پر یقین رکھتی ہے ہم بیچارے ہرسال  عدلیہ پر یقین  کرنے کی غلطی کرتے ہیں جس کے جواب میں عدلیہ بھی ہمیں خوب رگڑا لگاتی ہے اور ہرسال وکلاء  کے حقوق پر دن کے اجالے میں ڈاکہ ڈال کر ان  کو لوٹ لیا جاتا ہے  اور ہمارے بار کی   نااہل  بزدل  خوشامدی قیادت صرف ایک دن کی ہڑتال کروا کر پھر سوجاتی ہے
اس سال ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں پر مقابلے کے امتحان کا انعقاد کیا گیا جس میں  وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ این ٹی ایس کے بعد  تحریری امتحان کا انعقاد کیا گیا جس کے نتائیج  کا اعلان  طویل عرصے بعد کیا گیا جو کہ ہرلحاظ سے مشکوک تھے
امیدواروں کو  صرف اور صرف وکیل  ہونے کی بنیاد پر امتیاز ی  سلوک  کا نشانہ بنایا گیا
دوسری طرف میرٹ کے تمام تقاضے پورے کرنے کے بعد سارے ڈرامے مکمل کرنے کے بعد  چیف صاحب نے سندھ ہایئکورٹ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر اپنے اپنے  پیٹی بھائیوں میں اسی فیصد نشستیں   ریوڑی  کی طرح تقسیم کردیں جبکہ باقی بچ جانے والی تین نشستیں خیرات کے طور پر وکلاء کو دے دیں اس طرح  بیچارے وکلاء منہ ہی دیکھتے رہ گئے  اور سرعام ان کے مفادات پر ڈاکہ ڈال دیا گیا   
چیف جسٹس صاحب وکلاء نے تو آپ پر مکمل بھروسہ کرنے کی  سنگین غلطی کی تھی   ہمیں تو یقین تھا کہ آپ ہمارے بھروسے پر پورا اتریں گے لیکن افسوسناک طور پر جس طرح آپ نے ججز کی سلیکشن کے دوران   جس طرح وکلاء کو  بشیرا سمجھ کر نظرانداز کیا اس سے  اصولی  طور پر وکلاء کی آنکھیں کھل  جانی چاہیئں   ججز کی سلیکشن کے عمل میں وکلاء مفادات کو جس طریقے لوٹا گیا جس طرح وکلاء کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر نظر انداز کیاگیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی  یہ بات پوری طرح ثابت ہوگئی ہے کہ آپ اور آپ کے دیگر چار ساتھی جسٹس سجاد علی شاہ  سمیت آپ سب  احباب   وکلاء سے  شدیدنفرت کرتے ہیں
اگرچہ ہم جانتے تھے اور جانتے ہیں کہ اس سارے عمل کے دوران کیا کیا ڈرامے بازیاں ہوتی رہی ہیں لیکن ہم خاموش تھے

رہ گئی بات میرٹ کی تو  چیف جی ہمیں سب پتہ ہے کہ میرٹ کیا ہوتا ہے ۔ آپ وکیلوں کو  بشیرا سمجھ کر یہ مت سکھائیں کہ میرٹ کیا ہوتا ہے
مجھے خوشی ہوئی کہ کراچی بار کے صدر نے اس حساس مسئلے پر یوم آزادی کی تقریب میں لب کشائی کی ہے  لیکن ہش ہش کرنے سے بلی اور شیر ہوتی ہے اس معاملے پر کراچی بار کا کردار قائدانہ ہونا چاہیئے
حقوق حاصل کرنے کیلئے فراڈ اور دھوکے کے سب راستے بند کرنے ہونگے ۔ جب تک ان  وکلاء کے دشمنوں کو پہچانا نہیں جائے گا اس وقت تک یہ لوٹ مار کرکے میرٹ کا سبق دیتے رہیں گے


چیف جسٹس کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ اپنے  ججز کو نوازنے کیلئے کوئی الگ فورم تلاش کرلیں ان کیلئے پروموشن پالیسی کا اعلان کریں ان کیلئے الگ سے امتحان کا انعقاد کریں  یہ ڈرامے بازی اب کسی صورت مزید نہیں چلنے دیں گے
چیف جسٹس کو پابند کرنا ہوگا  کہ اب صرف اور صرف وکلاء اس امتحان میں شریک ہونگے  نہ صرف  شریک ہونگے بلکہ ان کو منتخب بھی کرنا ہوگا   دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں کہ وکلاء نالائق ہیں میرٹ پر پورے 
نہیں اترتے اصل بات  وہی ہش ہش والی ہے ان کو پتہ ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔

مضبوط بار ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔مضبوط بار کی تعریف کا تعین آپ کو پاکستان جیسے ملک میں خود کرنا ہوگا
 جہاں حقوق مانگنے سے نہیں ملتے حقوق کو چھینا جاتا ہے  اگر چیف جسٹس کو یہ خوف ہوگا کہ دوبارہ وکلاء مفادات پر ڈاکہ ڈالا تو وکلاء چیمبر میں گھس کر مرغا بنا کر جوتے ماریں گے تو وہ صرف اس خوف سے وکلاء  کے مفادات پر ڈاکہ ڈالنے سے باز رہے گا اور اگر اس کے  وکلاء دشمن ساتھیوں کو یہ خوف ہوگا  وکلاء کے مفادات  پر ڈاکہ ڈالنے کی سزا یہ کہ وکلاء ہایئکورٹ کی برٹش دور کی ٹوٹی پھوٹی سیڑھیوں پر گھسیٹ بھی سکتے ہیں تو وہ صرف اور صرف اس  فزیکل  ٹریٹمنٹ  کے خوف سے  وکلاء کے حقوق  لوٹنے سے باز رہیں گے۔
ویسے عدلیہ  کا احترام کرنا چاہیئے جو معاشرے عدلیہ کا احترام نہیں کرتے وہ تباہ ہوجاتے ہیں  برابری کی بنیاد پر بات کرنے کے بعد آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے بعد  وکلاء کے مفادات کو طاقت کی بنیاد پر محفوظ بنانے کے بعد ہمیں 
چاہیئے کہ ان تمام فلسفوں پر مکمل یقین رکھیں
بدقسمتی سے ہمیں مضبوط بار نظر نہیں آتی  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری بارایسوسی ایشنز سندھ ہایئکورٹ کی بغل بچہ تنظیمیں
 بن چکی ہیں  جن کی سرپرستی میں  وکلاء کو ان کے جائز حقوق سے مسلسل محروم کیا جارہا ہے
لیکن یہ کام کرے گا کون کیا  بار میں اتنی ہمت ہے؟
ایک واقعہ سنا کر سارا معاملہ ختم کرتا ہوں

کافی عرصہ قبل ایک کلائینٹ میرے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اپنے دودشمنوں کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا ہے اس حوالے سے آپ سے ایک قانونی مشورہ لینا ہے
میں نے کہا کہ کیا مشورہ لینا ہے
کلائینٹ نے کہا کہ دوافراد کو قتل کرنا ہے اس کے حوالے سے بات کرنی ہے
 قتل کے بعد کیا ہوگا؟
میں نے بتایا کہ تم یہ  جرم  کرکے سیدھے جیل جاؤگے
کلایئنٹ نے کہا کہ سنا ہے کہ جیل میں پولیس والے مارتے بہت ہیں  بہت زیادہ مارتے ہیں  ٹکٹکی لگاکر کر مارتے ہیں جیل کی زندگی بہت زیادہ مشکل ہوتی ہے  میں نے قتل تو کرنا ہے لیکن اس خوف سے قتل نہیں کرتا کیونکہ سنا ہے کہ یہ پولیس 
والے جیل میں بہت مارتے ہیں
خیر اس نے آج تک قتل نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جیل میں پولیس والے بہت زیادہ مارتے ہیں


Wednesday, 12 August 2015

عزیز دوستو !
تیزاب گردی ایک ایسا جرم ہے جس کے زریعے معصوم عورتوں کے چہرے پر تیزاب پھینک کر پوری زندگی کیلئے ان کو جینے کے حق سے ہی محروم کردیا جاتا ہے  بہت ہی مہنگے علاج کے بعد اگر جان بچ بھی جائے تو اس قسم کی خواتین پوری زندگی بے بسی کی تصویر بن کر گزارتی ہیں
زیادہ تفصیل بیان کرنے کی ہمت  نہیں ہورہی لیکن ایک ملتی جلتی اسٹوری یہ ہے کہ ان جیتی جاگتی لڑکیوں کے رشتے طلب 
کیئے گئے اور گھر والوں کی جانب سے انکار کے بعد ان پر تیزاب پھینک دیا گیا



پہلی متاثرہ  لڑکی سدرہ ہے جو فیکٹری جارہی تھی کہ اس دوران ایک بدبخت نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا  سدرہ 
کا علاج جاری ہے یہ اپنے گھر کی واحد کفیل بھی تھی اور اب اس کے گھر کوئی بھی کمانے والا نہیں ہے اگر اللہ نے آپ کو توفیق  دی ہے تو اس کی مدد کرسکتے ہیں اس کی والدہ کا فون نمبر شئیر کررہا ہوں
03142603735

دوسری لڑکی  ذکیہ نہایت ہی کم عمر ہے اور اس کو بھی  رشتہ نہ ملنے ہی کے تنازع پر تیزاب پھینک کرجلادیا گیا اس کی ضرورت یہ ہے کہ ان کے پاس علاج معالجے کے پیسے نہیں ہیں تو اگر ہمارے کسی دوست کیلئے ممکن ہوتو اس کا علاج کروا سکتا ہے  اس کا گھر ایوب گوٹھ  کراچی میں ہے آج مجھے انتہائی دکھ اور تکلیف محسوس ہوئی جب شدید گرمی کے عالم میں یہ لڑکی 
 باربار پکار رہی تھی کہ مجھے گرمی لگ رہی ہے  افسوس کے میں اس کیلئے کچھ نہیں کرپایا
میں عورت فاؤنڈیشن کے اسٹاف کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنی  ذاتی تنخواہ سے ان دونوں لڑکیوں کی مدد کی


ذکیہ کے والد کا نمبر شیئر کررہا ہوں  آپ لوگ رابطہ کرسکتے ہیں
03452693539
مزید لکھنے کی ہمت نہیں ہے دل بہت افسردہ ہے
میرا بلاگ دنیا بھر  پڑھا جاتا ہے امید ہے کہ  ہمارے دوست اس کا مثبت جواب دیں گے  اس حوالے سے ہم بہت جلد ایک ای میل اپیل بھی جاری کریں گے


Tuesday, 7 July 2015

ابدال


ابدال پوشیدہ ولی ہوتے ہیں جو دنیا کے انتظام و انصرام کے لیے مامور کیے جاتے ہیں۔ باران رحمت کا نزول اور آفات سماوی و ارضی کا سدباب انہی کے فرائض میں داخل ہے۔
اصطلاح تصوف میں اولیاء کا پانچواں درجہ ابدال ہے۔
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ابدال کی خبر احادیث میں ہے اور ان کا وجود درجہ یقین تک پہنچا ہے۔

اسی طرح علامہ سخاوی رحمہ اللہ نےلکھا ہے کہ سب سے واضح روایت ابدال کے بارے میں ہے جو کہ امام احمد ابن عباد نے شریخ ابن عبید سے  روایت کی ہے :
حضرت علی کرم وجہہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل شام پر لعنت نہ کرو کیونکہ ان میں چالیس ابدال رہتے ہیں۔ ان کی برکت سے بارش ہوتی ہے اور ان سے دین کو مدد ملتی ہے۔
امام سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت علی کرم وجہہ اللہ کی روایت جو امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند دس طرقوں سے زیادی ملتی ہے۔
۔
حضرت ابو نعیم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر اللہ کے ایسے خاص بندے ہوتے ہیں جن کی دعا و برکت سے اللہ تعالیٰ لوگوں پر رحم فرماتا ہے، آسمان سے بارش اور زمین سے فصل وغیرہ انکی دعا سے اگتی ہے۔ یہ لوگ دنیا کے لیے باعث امن ہیں۔
امام احمد ابن عباد صامت سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں قیامت تک چالیس آدمی ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے زمین و آسمان کا نظام قائم رہے گا۔
علامہ خطیب نے کتاب التاریخ البغداد سے نقل کی ہے کہ نقباء 100 ہوتے ہی اور نجباء 70، ابدال 40 اور 7 اوتاد ہوتے ہیں، قطب زمین میں تین اور قطب الاقطاب یا غوث ایک ہوتا ہے۔

 غوث ان سب کا سردار ہوتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باطنی جانشین یا خلیفہ ہوتا ہے

اعلٰی حضرت  عظیم البرکت  عظیم المرتبت  امام اہلسنت  مجدد دین و ملت  پروانہ شمع رسالت  الشاہ  امام  احمد رضاخان  بریلوی کو سرکارِ بغدادِ حضور ِ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ِ بابرکات سے بے پناہ عشق او روالہانہ لگاؤ تھا آ پ کی مجلس میں بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ حضو رِ غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا جاتا اور اس غلامی کا اظہار اعلیٰ حضرت اپنے اشعار میں کس والہانہ انداز سے کرتے ہیں:
تجھ سے در،در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دُور کا ڈورا تیرا
اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹہ تیرا


Wednesday, 1 July 2015

بلوچ بہن کا دکھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

گزشتہ دنوں ایک انتہائی المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلدیہ ٹاؤن کی ایک  مضافاتی  بستی میں رہائیش پذیر دوبہنوں  پر ایک بدبخت نوجوان نے اس وقت تیزاب پھینک دیا جب وہ  محنت مزدوری کیلئے حسب معمول فیکٹری میں جارہی تھیں
ان دونوں   بہنوں  کا تعلق ایک مفلوک الحال بلوچ  خاندان سے ہے باپ کا انتقال ہوچکا ہے اور غربت سب سے بڑا جرم ہے تیزاب پھینکنے کی وجہ یہ تھی کہ  اس بدبخت اور شقیق القلب لڑکے نے لڑکی کا رشتہ طلب کیا تھا اور لڑکے کی بیروزگاری کی وجہ اس لڑکی کی والدہ نے انکار کردیا تھا
جس کے بعد اس نے سرعام صبح سویرے ان غریب بہنوں پر تیزاب پھینک دیا جس کی وجہ سے  بڑی بہن کا چہرہ مکمل طور پر جھلس گیا  اور آنکھ شدید متاثر ہوئی ہے لڑکا تیزاب پھینک کر بھاگ رہا تھا کہ اس دوران رینجرز کی موبائل وہاں سے گزررہی تھی جس نے اس کو پکڑلیا اور اب وہ لڑکا جیل میں موجود ہے
وہ درندہ جس نے ایک زندہ جیتی جاگتی لڑکی پر تیزاب پھینک کر اس لڑکی کے چہرے کو ایسا بنادیا ہے کہ کہ شاید اس لڑکی کی باقی ماندہ زندگی عزاب بن کر گزرے گی

دستگیر لیگل ایڈ سینٹر کراچی نے اس لڑکی کو فوری قانونی امداد فراہم کی ہے اور امید ہے کہ وہ بدبخت کیفر کردار کو پہنچے گا  ہماری قانونی ٹیم اس کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کررہی ہے

لیکن یہاں اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ دونوں بہنیں گھر کی واحد کفیل بھی تھیں اس واقعہ کے بعد وہ گھر فاقہ کشی کا شکار ہے
کوئی ہے جو اپنے رب کی رضا کیلئے اس لڑکی کے گھر کا دورہ کرے اور اس کی مالی مشکلات اور علاج معالجے کا خرچہ ادا کرے
یہ خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہے
لاء سوسائٹی پاکستان کا اردو بلاگ لاکھوں  لوگوں کی نظر سے گزرتا ہے اور پوری دنیا میں اردو سمجھنے والے اس کو پڑھتے ہیں  میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری اپیل پر پوری دنیا سے کوئی نہ کوئی مثبت جواب ضرور آئے گا
03343093302
دفتر لاء سوسائٹی پاکستان فرید چیمبر  روم نمبر 99 آٹھواں فلور
عبداللہ ہارون روڈ صدر کراچی    

Sunday, 28 June 2015

بچوں کی تحویل کا مقدمہ ایک نامکمل کہانی تحریر صفی الدین اعوان

مقدمات میں التواء کے ماہر دادا استادوں کے  تاریخ لینے کیلئے ججز کو چکر دینے کے قصے سنانا ویسے تو بہت مزے کی بات  لگتی ہے لیکن ایسے استادوں کا سامنا کرنا بڑا ہی دل گردے کاکام ہے کیونکہ اس قسم کے دادا استاد اخلاقی طور پر بھی غریب ہوتے ہیں
گزشتہ دنوں بچوں کی تحویل کے ایک مقدمے میں ایک دادا استاد کا سامنا کرنا پڑا میں ایک غریب اور مظلوم عورت کے مقدمے میں بطور وکیل پیش ہوا
مظلوم عورت کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے  جس کے بعد سسر اور اس کے بیٹوں  نے عورت کو جائیداد کے حق سے محروم کرکے مرحوم شوہر کے تمام کاروبار پر قبضہ کرکے اور اس کے بچوں کو چھین لینے کے بعد  اس کو گھر سے نکال باہر کیا جس کے بعد اس عورت نے عدالت کا دروازہ بجایا اس دوران تین سال تک جو ظلم اس عورت پر  عدالت  میں ہوئے وہ ایک الگ داستان ہے لیکن تین سال کے بعد اس عورت نے دستگیر لیگل ایڈ سینٹر سے قانونی امداد طلب کی
کورٹ فائل کا مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ  ایک دادا استاد اس کیس میں پیش ہورہا ہے جو صرف جج کو چکر پر چکر دے کر  تاریخ لیکر نکل جاتا ہے  اور عورت اپنے بچوں کی ملاقات کی حسرت ہی دل میں لیکر رہ جاتی ہے تاریخ لینے کیلئے بالکل سادہ سا فارمولہ کے دوروپے کے کاغذ پر ایک درخواست لکھ کر عدالت میں دے  دی کہ  مدعا علیہ بیمار ہے کورٹ میں پیش نہیں ہوسکتا اس لیئے  بچوں سے میٹنگ اگلی تاریخ پر کروا دی جائے گی اس حوالے سے کورٹ  میں کبھی میڈیکل سرٹیفیکیٹ بھی پیش نہیں کیا  نہ کورٹس طلب کرتی ہیں
گزشتہ تاریخ پر بھی یہ بہانہ تھا کہ سسر صاحب خود بیمار ہیں اس لیئے وہ عدالت تشریف نہیں لائے اور بچے بھی نہیں آئے
جس کے بعد ہم نے ذہن بنالیا کہ اس تاریخ پر بھی سسر جی نہیں آئیں گے اور یہی ہوا
دادا  نے ایک پوتے کو عدالت بھیجا دوسرے کو جان بوجھ کے نہیں بھیجا دادا استاد نے التوا کی درخواست دے دی جس کو چیلنج کرتے ہوئے  میری مؤکلہ نے  بھی یہ درخواست کورٹ میں حلف نامے کے ساتھ جمع کروادی کہ  مخالف پارٹی بچے سمیت کورٹ کی حدود میں موجود ہے اور جان بوجھ کر کورٹ میں پیش نہیں کررہی  اس بات کی   وہ خود عینی شاہد ہے جس پر دادا استاد خوب سٹپٹائے اور کہا کہ وہ اگلی تاریخ پر تاریخی آبجیکشن داخل کریں گے  عورت  جھوٹ  بول رہی ہے ایسا کچھ نہیں ہے اگرچہ جج صاحب نے التواء کی درخواست  کو قبول کرتے ہوئے ایک بے توقیر قسم کا عدالتی فیصلہ کیا کہ اگلی سماعت پر لازمی بچے کو پیش کرنا ظاہر ہے اس قسم کے بے توقیر عدالتی فیصلوں کی ویسے بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی
اسی دوران ہم نے بچوں کی تعلیم کے معاملے کو اٹھا دیا کہ بچوں کے   دادا جی بچوں کے باپ کی پندرہ کروڑ روپے مالیت کے فلیٹ گھر اور کاروبار پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں  وہ اکیسویں صدی کے اس دور میں بچوں کو تعلیم کے حق سے صرف اس لئے محروم کرنے پر تل گئے ہیں کہ کل وہ ان کے اثاثہ جات پر بھی قبضہ کرسکیں  اس لیئے کورٹ   مخالف پارٹی کو ہدایت جاری کرے کہ وہ ان کی تعلیم کیلئے فوری اقدامات کریں
اس بات پر بھی دادا استاد خوب سٹپٹائے  لیکن بولے کچھ نہیں  اور کہا کہ ان کا تجربہ اگلی تاریخ پر بولے گا
لیکن مجھے حیرت ہے عدالت پر بھی کہ اتنے عرصے سے مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہے بچے کسی اسکول میں نہیں پڑھتے اس کے باوجود عدالت نے کبھی بچوں کے موجودہ سرپرست  جو کہ  کروڑ پتی  ہیں کو  ایسا کوئی حکم  نامہ کبھی جاری نہیں کیا کہ وہ بچوں کی تعلیم اور تربیت کیلئے اقدامات اٹھائیں کیونکہ اس قسم کے معاملات میں بچوں کی اصل سرپرست تو کورٹ ہی ہوتی ہے  اور موجودہ کیس میں اکیسویں صدی کے اس دور میں اگر بچے تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں تو ذمہ دار عدالت ہے ٹھیک ہے کہ عدالتوں میں رش ہوتا ہے لیکن پھر بھی کچھ بنیادی اصول ہر جج کو ہروقت ذہن میں رکھنے ضروری ہوتے ہیں  
دادا استاد جب کورٹ سے جارہے تھے تو کافی غصے میں دکھائی دیتے تھے وہ مجھے نظروں ہی نظروں میں تول کر گئے
ابھی یہ کہانی ادھوری ہے کیونکہ  اس کیس میں میری تو پہلی ہی سماعت تھی نئے جج صاحب کی بھی پہلی ہی سماعت تھی  امید ہے کہ معاملہ اچھا رہے گا  جھوٹ کا علاج جھوٹ ہی سے کیا جاسکتا ہے  


Saturday, 20 June 2015

دادا استاد استادوں کا استاد ** تحریر صفی الدین اعوان

دادا استاد  استادوں کا استاد
دادا استاد کی اصل وجہ شہرت ان کی وہ بے مثال اداکاری ہے جس کے جوہر وہ کورٹ روم میں اکثر دکھاتے ہیں وہ اداکاری حقیقت سے اتنی قریب تر ہوتی ہے کہ بڑے بڑے استاد ان کو اپنا استاد مانتے ہیں اور یہی وجہ شہرت ہے کہ ان کو دادا استاد کا لقب ملا دادا  نے یوں تو زندگی میں بے شمار کام کیئے لیکن تاریخ لینے میں جو ان کو مقام حاصل ہے وہ کسی اور استاد کو حاصل ہوہی نہیں سکتا۔ تاریخ لینے اور مقدمات کے التواء میں ان کے پاس ایگزیکٹ کی پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے جس پر شعیب شیخ نے خود دستخط کیئے ہیں   اس طرح کی ڈگریوں سے استاد نے الماری بھر رکھی ہے  
ایک بار نئی سینئر سول جج صاحبہ آئیں تو ان کو دادا کی فن کاریوں کا پتہ چلا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ایسی کی تیسی ہے دادا استاد کی دیکھتی ہوں کراچی کے اس دادا استاد کو کیسے تاریخ لیتا ہے میری عدالت سے پیش کار نے بتایا کہ  میڈم استاد واقعی استاد ہے  اور استادوں کا استاد ہےکل  ہی ایک کیس لگا ہوا ہے استاد کا اس میں وہ مسلسل تاریخ لے رہا ہے کیس نہیں چلاتا   خاتون جج نے کہا کہ کل استاد کی ساری استادیاں نہ نکالیں تو پھر کہنا
مختصر یہ کہ استاد قابو نہ آیا مصروف تھے ہایئکورٹ میں  جونیئر تاریخ لیکر کھسک گیا اسی طرح تاریخیں چلتی رہیں
لیکن  ایک دن وہ  قسمت  سےتشریف لے ہی آئے  پیش کار نے  اشاروں میں بتایا کہ یہی دادا استاد ہے سینئر سول جج صاحبہ جو مہینوں سے خار کھائے بیٹھی تھیں استاد کو نظروں ہی نظروں میں تولا
دادا استاد ساری صورتحال سے بے خبر حاضری لگوا کر کھسکنے کی ہی لگے تھے کہ 
سینئر سول جج صاحبہ الرٹ ہوگئی مدعی مقدمہ نے بتایا کہ یہ مقدمہ کئی سال سے لٹکا ہوا ہے آج وکیل صاحب تشریف لے آئے ہیں  ان کے فائینل دلائل سن کر  اس کا فیصلہ کرہی دیں
دادا نے بہت بہانے بنائے لیکن جج صاحبہ  مہینوں سے خار کھائے بیٹھی تھیں  کہ قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں دادا کے سارے حربے سارے بہانے ساری چالیں ناکام ہوگئیں  کورٹ روم میں اور استاد بھی موجود تھےایک لمحے کیلئے دیگر استادوں کو محسوس ہوا کہ آج تو استاد پھنس  ہی گیا
آج تو کوئی بہانہ نہیں چلے گا ہرصورت میں مقدمہ چلانا ہی چلانا ہے آپ کو
ابھی بحث چل ہی رہی تھی کہ آج وہ کس وجہ سے مقدمہ نہیں چلارہے تو  اچانک مدعی خود   زور سے بول پڑا کہ وکیل صاحب   نے اپنی پارٹی سے پیسے لئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کیس نہیں چلارہے اور وکیل صاحب نے پیسے ہی اسی بات کے لیئے ہیں کہ وہ کیس نہیں چلائیں گے
یہ سن کر دادا استاد نے پیچھے مڑ کر مدعی مقدمہ کی طرف دیکھا  چشمہ اتارا ۔سامنے پڑے ٹیبل پر رکھا اور اپنی کرسی یوں بیٹھ گئے جیسے ان کو  مدعی کی بات سن کر شاک لگ گیا ہے  اور وہ شدید صدمے سے دوچار ہیں  
کورٹ روم میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ کیونکہ دادا کا بہر حال ایک مقام تو ہے
دادا استاد پانچ منٹ اسی طرح صدمے کی حالت میں سر پکڑ کر بیٹھے رہے کبھی چشمہ پہن لیتے کبھی اتار دیتے اور کبھی چشمہ اتار کر آنکھیں ملنا شروع کردیتے   یوں محسوس ہورہا تھا کہ ان کا جسم  صدمے کی وجہ سے آہستہ آہستہ جھٹکے لے رہا ہے۔ یوں لگتا تھا کہ ان کا بلڈ پریشر قابو سے باہر ہوچکا ہے
اچانک کھڑے ہوئے اور  بے بسی  کے انداز میں  کہا  جج صاحبہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج میری وکالت کے پچیس سالوں پر کسی نے پانی پھیر دیا ہے اس شخص نے یہ چند الفاظ بول کر میری زندگی کے وہ پچیس سال مجھ سے چھین لیئے ہیں  جو میں نے بہت مشکل سے بنائے تھے
پچیس سالوں میں آج تک کسی نے میرے متعلق ایسے الفاظ نہیں کہے اس شخص نے یہ الفاظ بول کر مجھے صحرا میں کھڑا کردیا ہے
کورٹ روم بھرا ہواتھا   اور ایک دم سناٹا چھایا ہوا تھا
کورٹ میں ایک ہی آواز بار بار گونج رہی تھی میری زندگی کے پچیس سال۔پچیس سال میری زندگی کے آج خاک میں مل گئے آج میں خالی ہاتھ کھڑا ہوں میرے اثاثہ لٹ چکا ہے انسان کے پاس ہوتا ہی کیا ہے میرا اثاثہ ہی کیا تھا  میرا کل اثاثہ ہی وہ پچیس سال تھے جو آج عدالت کے سامنے اس شخص نے لوٹ لیا ہے آج عدالتوں کے درودیوار نے بھی شرم سے سر جھکالیا ہے کیونکہ ایک شخص نے کھڑے کھڑے  میری ساکھ تباہ کردی
دادا استاد کبھی  صدمے سے بیٹھ جاتا کبھی کھڑا ہوجاتا کبھی کورٹ روم میں ہی چلنا شروع کردیتا  میری زندگی کے پچیس سال  برباد ہوگئے آج  ایک شخص نے چند الفاظ بول کر چھین لیئے ہیں میرے پاس تھا ہی کیا میرا کل اثاثہ پچیس سال ہی تو تھے میں نے دن رات ایک کرکے اپنا مقام بنایا جو کہ آج چھین لیا گیا ہے جونیئر نے پانی کا گلاس پیش کیا لیکن دادا استاد کو کہاں ہوش تھا کہ وہ پانی پیتے  
دادا کی آواز کھڑک سنگھ کی طرح گونج رہی تھی 
عدالت اندازا نہیں لگا سکتی کہ میں کس تکلیف سے گزر رہا ہوں کس قدر ازیت ناک ہوتا ہے اس شخص کیلئے جب اس سے اس کی زندگی کے پچیس قیمتی سال چھین لیئے جایئں
یہ کہہ کر دادا استاد چشمہ سامنے رکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے شاید وہ آنسو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کررہے تھے
جج صاحبہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ایسا کریں آج تاریخ لے لیں مقدمہ پھر چلالیں گے
دادا استاد نے کہا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا جس شخص سے اس کی پیشہ ورانہ زندگی کے پچیس سال چھین لیئے جایئں اس کی اذیت کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا جو مرضی آئے تاریخ دے دیں مجھے اب اپنی زندگی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی میرا دماغ کام ہی نہیں کررہا
خاتون جج صاحبہ نے  ایک ماہ کی تاریخ دے دی
دادا استاد خاموشی سے اٹھے پیچھے مڑکر مدعی مقدمہ کو ایک طنزیہ قسم کی بھرپور آنکھ ماری  خاتون جج صاحبہ کی طرف مسکرا کر دیکھااور  کورٹ روم سے باہر نکل گئے
 سینئر سول جج صاحبہ حیرت  سے دیکھتی رہ گئیں اور سب  ڈرامہ سمجھنے کے بعد سر پکڑ کر بیٹھ گئیں
وہ دن آج کا دن  جج صاحبہ نے پورا زور لگالیا  مقدمہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے اور دادا استاد پھر کبھی اس کورٹ میں نظر بھی نہیں آئے

تحریر :: صفی الدین اعوان