Monday, 19 February 2018

ایک تھا جسٹس سجاد علی شاہ اور ایک ہے جسٹس احمد علی شیخ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



ایک تھا جسٹس سجاد علی شاہ اور ایک ہے جسٹس احمد علی شیخ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
(زیرنظر تحریر میں سابق چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ جناب سجاد علی شاہ  اور موجودہ چیف جسٹس جناب احمد علی شیخ صاحب دامت برکاتہم العالیہ  کی کرپشن کے خلاف کاکرکردگی کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا خصوصاً کرپشن کے خاتمے کیلئے  دونوں جسٹس صاحبان کی "نیت" کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی)
پہلی قسط
اعمال کا دارومدار  نیتوں پر ہے
عوام کی حفاظت کیلئے پہرہ دینے والا سپاہی بھی رات بھر پہرہ دیتا ہے اور رات بھر جاگ کر اپنے بچوں کےلیئے روزی کماتا ہے  جبکہ ایک چور بھی رات بھر جاگتا ہے لیکن چور کا رات بھر جاگنا بری نیت سے ہوتا ہے وہ لوگوں کو  غافل پاکر گھر میں داخل ہوتا ہے اور لوٹ مارکرکے اپنے بچوں کیلئے رزق حرام کماتا ہے
نیت  کا زندگی کے ہرشعبے میں ایک اہم کردار ہوتا ہے  جبکہ قانون کے شعبے میں سب سے زیادہ اہم کردار نیت ہی کا ہوتا ہے اگر کوئی جج ،وکیل کورٹ ،اسٹاف یا پراسیکیوٹر گھر سے رزق حلال کمانے کی نیت سے نکلتا ہے تو وہ سارا دن رزق حلال ہی کمائے گا  جب کہ اگر   کوئی گھر سے ہی حرام کمانے کی نیت لیکر نکلتا ہے تو  وہ سارا دن اپنے بچوں کیلئے حرام ہی کمائے گا حرام ہی تلاش کرے گا
چند سال قبل میں عدالتی معاملات کا ذکر اشارتاً  اپنے بلاگ  میں  اکثر کیا کرتا تھا  بعد ازاں سندھ ہایئکورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان اشاروں ہی کی بنیادپر بدعنوان ججز کا سراغ لگایا  اور کراچی کے تقریباً سارے کے سارے اس وقت کے بدنام زمانہ ججز فارغ کیئے گئے  ان میں سے بیشتر وہ گھٹیا لوگ تھے جو سارا دن سو سوروپے کا دھندہ کرتے تھے   میں اس حوالے سے ان کا شکر گزار ہوں کہ جب  اپنے  اردو بلاگ  میں کرپشن کی نشاندہی کی تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ توہین عدالت کا جرم ہوگیا بلکہ انہوں نے میرے بلاگ کو سنجیدہ لیکر کرپشن کے خلاف کاروائی کی
ایک برطرف جوڈیشل مجسٹریٹ تو پورا نیٹ ورک بناکر چلتا تھا    اس کے چار اپنے  تفتیشی افسر ہواکرتے تھے  جہاں اس کا ٹرانسفر ہوتا تھا  اس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے   تفتیشی  افسران کا ٹرانسفر بھی  اپنی  حدود میں واقع  تھانوں میں کروالیتا  تھا اس نے اپنے تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر "انت" مچائی ہوئی تھی وہ   "اے کلاس " کے پرانے کیسز تلاش کرتے تھے  اور جن پرانے کیسز  کو "اندھا" کیس کہہ کر بند کردیا جاتا تھا یا جن میں نامعلوم افراد  نامزد ہوتے تھے اور سراغ نہیں ملتا تھا اور اے کلاس ہوجاتے تھے ان میں  جج اور پولیس والے ملکر شکار پھنساتے   شکار گرفتار ہوتا  جج صاحب ریمانڈ دیتے اور اس کے بعد لین دین کرکے چھوڑ دیا جاتا تمام وکلاء جانتے ہیں کہ "اے کلاس" کیسز کا اسکوپ کتنا لامحدود ہے  یہ نیٹ ورک جمعے کو میٹنگ کرتا تھا جمعہ کی شام کو   شریف معزز شہریوں کو گرفتار کیا جاتا  اور گرفتاری ہفتے کے دن ڈال دی جاتی تھی  جس کے بعد  مجسٹریٹ صاحب کی ڈیوٹی ہفتے اتوار کے دن بطور ڈیوٹی مجسٹریٹ لگوائی جاتی تھی   یاد رہے کہ اتوار کو صرف ایک ہی  جوڈیشل  مجسٹریٹ  بیٹھتا  ہے جو پورے ضلع کے ریمانڈ لیتا  ہے اور وہ ملزمان اتوار کے دن  دوپہر دوبجے چپکے سے "ریمانڈ" کیلئے  پیش  کیئے جاتے تھے سارے معاملات  جج کے چیمبر میں طے ہوجاتے تھے    اور بھاری رشوت وصول کی جاتی تھی کیونکہ  اکثر اے کلاس کیسز سنگین نوعیت کے ہوتے تھے دہشتگردی اور قتل کے مقدمات ہوتے تھے  اس طرح جج پولیس کورٹ اسٹاف نیٹ ورک میں شامل  دیگر اسٹیک  ہولڈرز نے کروڑوں روپے کمائے
جب میں نے اس نیٹ ورک کا  اپنے اردو بلاگ  میں  انکشاف کیا تھا  تو اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے اس کو توہین عدالت نہیں سمجھا خاموشی سے تحقیقات کروائی  اور اس  ناسور کو فارغ کیا  ملازمت سے برطرف کیا
اسی طرح اس وقت چونکہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹس سٹی کورٹ کا پوسٹ آفس جاری کرتا تھا  اور اکثر ججز نے ان کے ساتھ بھی معاملات "سیٹ" کیئے ہوئے تھے جب ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ  عدالت میں بطور ضمانت جمع ہوتے تھے  تو وہ ناظر برانچ میں بھیجے نہیں جاتے تھے  جج اپنے اسٹاف کے ساتھ مل کر  چندروز بعد ہی وہ سرٹیفیکیٹس  ڈاک خانے والوں سے مل کر کیش کروالیتے تھے  جس کے بعد ملزم سے بھی رشوت لیکر چھوڑ دیا جاتا تھا اس طرح ڈبل کمائی ہوتی تھی   اس معاملے کے انکشاف کے بعد ہی ڈاک خانے والوں کو ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ کے اجراء سے روکا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ مقامی بینک کے زریعے  جاری کیئے جاتے ہیں اور اگر کیش کروانا ہوتو  بینک کی سٹی کورٹ برانچ یہ سرٹیفیکیٹس کیش  نہیں کرتی بلکہ بولٹن مارکیٹ سے کیش ہوتے ہیں  یہ بھی میری ہی تجویز تھی
سندھ ہایئکورٹ نے اس واقعہ میں ملوث ایک اہم جج کو نہ صرف فارغ کیا بلکہ  تادیبی کاروائی بھی کی  بعد ازاں اس جج کے چیمبر سے چارسو سے زائد ایسی فائل ملیں تھیں جن میں پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا تھا   اور ملزمان کو ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹس کی بنیاد پر ضمانت پر چھوڑا گیا  اس کے بعد نہ ملزمان کا کوئی اتا پتا نہ ہی  ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹس کا کوئی اتا پتا  لیکن جج کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک میں شامل کورٹ اسٹاف کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا افسوسناک ہے
جب جسٹس سجادعلی شاہ صاحب چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ ہواکرتے تھے تو وکلاء ہرروز ہی منتظر ہوتے تھے  کہ آج کس کا نمبر لگنے والا ہے  اور سندھ ہایئکورٹ سے ہرہفتے ہی خبر آتی تھی کہ ایک اور وکٹ اڑادی گئی ہے  اور مجھے فخر ہے اور یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان میں سے پچاس فیصد لوگ میرے اردو بلاگ کی بنیادپر فارغ کیئے گئے وہ سارا ریکارڈ آج بھی میرے اردو بلاگ پر موجود ہے  اور جن لوگوں کی میں نے نشاندہی کی تھی وہ ججز کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث تھے  ایک خاتون جج صاحبہ نے  اسی کروڑ روپے سے زیادہ رقم بیرون ملک منتقل کی تھی  اور فراغت کے بعد انہوں نے بیرون ملک جاکر اپنا کاروبار ہی سنبھالا ہے
ایک اور بہت بڑا نیٹ ورک تھا جعلی ضمانت جمع کروانے کا  اس وقت ڈسٹرکٹ کورٹس میں  ایسے دلال گھومتے تھے جو جعلی کاغزات بطور ضمانت عدالت میں جمع کرواتے تھے  اس نیٹ ورک میں وکیل کورٹ اسٹاف اور چند ججز شامل تھے 
سادہ بات تھی پراپرٹی کے جعلی کاغذات عدالت میں پیش ہوتے تھے  نیٹ ورک میں شامل لوگ متعلقہ اداروں کی  جعلی  مہروں سے تصدیق کرتے تھے  اور ملزم رہا کرکے وہ جعلی کاغزات ناظر برانچ میں جمع ہوجاتے تھے  اس کے بعد نہ ہی ملزم کا کوئی اتا پتا نہ ہی ضامن کا کوئی اتا پتا  کاغذی طورپر ضمانت بحق سرکار ضبط کرلی جاتی تھی  سب سے زیادہ مال اسی طریقے سے بنایا گیا تھا    یہ نیٹ ورک بھی جسٹس سجاد علی شاہ نے مکمل طورپر ختم کیا  اور آج ضمانت جمع کرواتے وقت دوبار کمپیوٹرائزڈ تصدیق ایک سیشن جج کی زیرنگرانی ہوتی ہے لیکن ان دنوں  جعلسازی کا ایک نیا راستہ تلاش کرلیا گیا ہے جس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا
اسی طرح ایک اور نیٹ ورک تھا جو  سیٹنگ کرکے ملزمان سے جھوٹی درخواستیں لگوا کر  ان کی ضمانت  کی رقم پانچ ہزار روپے کرتے تھے اور لاکھوں روپے نقد بطور رشوت جیب میں چلی جاتی تھی   وہ "ڈاکٹر  "نیٹ ورک تھا  یہ فامولا ایک سابق سیشن جج نے ایجاد کیا تھا   جو جسٹس بھی رہا تھا  لیکن کنفرم  نہیں  ہوا  تھا شکل سے نہایت ایماندار لگتا تھا  بدقسمتی سے یہ صاحب نہ صرف بچ گئے بلکہ ریٹائرڈ ہوکر دوبارہ کنٹریکٹ بھی حاصل کرلیا
چند ججز  جو اس دوران برطرف ہوئے تھے ان کا دعوٰی ہے کہ ان کے خلاف زیادتی ہوئی  تھی  وہ  ایک تحریک بھی چلارہے  ہیں  میں آگے چل کر ان کا  مؤقف بھی بیان کروں گا 
جسٹس سجادعلی شاہ  نے  برصغیر  پاک  وہند کی تاریخ میں سب سے زیادہ ججز برطرف کیئے لاہور ہایئکورٹ کے  جسٹس منصور نے ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا 
ساتھ رہیئے گا یہ پہلی قسط ہے
چغل خوروں کا شکریہ


Saturday, 17 February 2018

زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر 2 تحریر صفی الدین اعوان



تحریر : صفی الدین اعوان

دوسری قسط
جب  میں نے    غریب بچوں کیلئے  غریبوں کی اس بستی میں اسکول کی تعمیر کو رکوانے  والے "قبضہ مافیا" کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کروانے کیلئے عدالت میں پٹیشن داخل کی تو مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ میری یہ پٹیشن  ماضی کے اس دم توڑتے" پیشے "کو ایک نئی زندگی  کی  حرارت  عطاکرے  گی  کیونکہ  زمینوں پر قبضے کرنا بھی  ایک   "اہم  ترین  پیشہ"  ہے "قبضہ مافیا "کراچی کا ایک اہم کردار ہیں   کراچی  شہر کی آدھی سے زیادہ "آبادکاری" قبضہ مافیا ہی کی مرہون منت ہے چند ماہ پہلے تک یہ  ایک "دم توڑتا ہوا پیشہ "تھا  کیونکہ زمینوں پر قبضے روکنے کیلئے وفاقی حکومت نے قانون سازی کردی تھی لیکن میری عدالتی پٹیشن نے اس پیشے کو دوبارہ زندہ کردیا  اور کراچی ضلع وسطی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب ایاز مصطفٰی صاحب نے اس کیس میں ایسے اصول بیان کردئیے جن کے بارے میں سوچنا بھی جرم تھا
سب سے پہلے تو پٹیشن لگانے کے بعد میرا یہ خیال تھا کہ چند روز میں اس پر فیصلہ ہوجائے گا لیکن جج صاحب نے پٹیشن کو بھی " ست  لکھی وظیفہ" بنادیا  اور پٹیشن میں حصول ثواب کی نیت سے  تاریخ پر تاریخ دینے کا سلسلہ شروع کردیا  میں  صبح  سویرے  عدالت  میں پیش  ہوتا  تو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  چوہدری  ایاز مصطفٰی  گجر صاحب چیمبر میں بیٹھ کر اللہ ہو اللہ ہو کی آوازیں نکال رہے ہوتے تھے   اس دوران  کراچی  کے ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن  کورٹ  ضلع  وسطی  کی  پوری  عمارت  پر انوار  وتجلیات  کی   برسات  ہورہی ہوتی  تھی   اور جب  ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن  جج  صاحب چاشت اور اشراق کے نوافل سے فارغ ہوکر  حق حق  سچ سچ کا ورد اور  ذکر کرکے جھومتے ہوئے چیمبر سے نکل کر انوار وتجلیات کی بارش میں   عدالت  میں  آتے تو ایک عجیب سماں بندھ جاتا   اورصبح سویرے ہرتاریخ پر میری پٹیشن  بھی اگلی تاریخ کیلئے فارغ کردیا کرتے تھے
میں بھی خوش خوش  عدالت سے واپس آتا  اور اس بات پر خوشی محسوس  کرتا کہ  عدالت میں جاکر ایک ولی کامل کی زیارت کرلی   اور جج صاحب کے چیمبر سے آنے والی اللہ ہو اللہ ہو کی صداؤں سے فیض بھی حاصل کرلیا  
 آخر کئی مہینوں کے بعد "ست لکھی وظیفہ " اپنے اختتام کو پہنچا  اور    جج صاحب نے  انواروتجلیات  کی  بارش میں  ایک ایسا تاریخی فیصلہ لکھا جس نے کراچی میں  "قبضہ گروپوں " کو ایک نئی زندگی کی حرارت  عطا کی   زمینوں پر قبضے کا یہ پیشہ کراچی میں تیزی سے دم توڑ رہا تھا بڑے بڑے قبضہ گروپ بے روزگاری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوچکے تھے
یہ ہرلحاظ سے ایک تاریخی فیصلہ ہے  کیونکہ اس عدالتی فیصلے نے ڈاکوؤں اور ڈکیتوں کو بھی ایک نئی زندگی عطا کی ہے  اور ان کے "پیشے" کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے  جج صاحب نے انواروتجلیات کی بارش میں لیز اور الاٹمنٹ  کے  قانونی کاغزات کو  مروڑ کر"بتی" بنادیا ہے   عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیئے لیکن عدالتی  فیصلے میں جج صاحب نے یہ جھوٹ بولا کہ پٹیشنر نے لیز کے کاغزات فراہم ہی نہیں کیئے وہ تمام کاغزات  نہ صرف پیش کیئے گئے بلکہ  ان کی مکمل تفصیلات  اور پٹیشنر کا پاور آف اٹارنی سول اپیل میں کورٹ کے  ریکارڈ پر موجود ہے  یہاں ہم حسن ظن سے کام لیتے ہیں کیونکہ جب   جج صاحب چاشت اور اشراق کے نوافل پڑھ کر اللہ ہو اللہ  ہو کی آوازیں نکالتے ہیں  تو  انواروتجلیات کی  کمرہ  عدالت اور چیمبر میں  اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ شاید وہ لیز کے کاغزات  اور پاور آف اٹارنی   اور جائیداد کے قانونی مالک   کے درمیان جو رقم کی ادائیگی کا معاہدہ ہوا تھا جو عدالت میں بھی پیش کیا گیا تھا شاید وہ ان کو نظر ہی نہیں آیا ہوگا اس لیئے میں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ ان کو عدالتی ریکارڈ پر موجود  یہ ریکارڈ نظر ہی نہیں آیا  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انوار وتجلیات کی بارش میں سارا ریکارڈ ہی بھیگ کر ضائع ہوگیا ہو
اگرقبضہ مافیا نے کسی کی کروڑوں روپے  کی  لیز جائیداد پر کسی کے بنگلے پر قبضہ کرنا ہو ایک سوروپے کا اسٹامپ پیپر خریدیں  پلاٹ  کا  ایک خودساختہ سیل ایگریمنٹ بنا کر "منہ اٹھا کر " کورٹ میں پہنچ جائیں "یادرہے " دھونے "کی  بھی ضرورت  نہیں ہے اور بغیر منہ" دھوئے" صرف  سوروپے کے اسٹامپ  پیپر کی بنیادپر کسی کے کروڑوں روپے کے بنگلے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ  دعوٰی کردیں کہ یہ پلاٹ یا بنگلہ میرا ہے اگر  سینئر سول جج  وہ جعلی اسٹامپ کو قانونی دستاویز تسلیم کرنے سے انکار کردے  اور وہ کیس رجسٹر کرنے سے انکار کردے تو  بالکل بھی گھبرانے کی  ضرورت نہیں آپ کراچی کے ضلع وسطی کی عدالت تین نمبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  کورٹ  سے رابطہ کریں  
جج صاحب نے جب ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے داخل کی گئی پٹیشن  پر فیصلہ دیا تو اس میں   چوروں ڈاکوؤں اور ڈکیتوں کو بھی   ایک طریقہ کار کے تحت یہ حق دے دیا کہ وہ کسی بھی بھر میں جاکر ڈاکہ بھی ڈالیں چوری بھی کریں لوٹ مار بھی کریں  سب کچھ کریں یہ کوئی جرم نہیں ہے  اس حوالے سے انہوں نے جس کیس لاء کا حوالہ دیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے
2010 YLR 189
یہ عدالتی فیصلہ اس بات کا حق دیتا ہے  چوروں ڈاکوؤں اور ڈکیتوں کو یہ قانونی حق فراہم کررہا ہے  کہ وہ  کسی بھی جائیداد پر قبضے کیلئے سوروپے کے اسٹامپ پیپر پر سیل ایگریمنٹ بناکر  عدالت میں آجائیں اور اگر  عدالت اس کیس کو رجسٹر کرنے سے انکار کردے  اور وہ جعلی کاغزات اٹھا کر منہ پر ماردے تو  ایازمصطفٰی کی عدالت  میں سول اپیل داخل کردیں اور اس کے بعد قانون آپ کو اجازت دے رہا ہے کہ  وہ پورا بنگلہ جاکر لوٹ لیں  قانون آپ کے ساتھ ہے صرف سول اپیل کی بنیادپر کسی بھی گھر میں داخل  ہوکر ان کی خواتین کی عصمت دری سمیت  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی یہ تشریح لامحدود اختیار فراہم کررہی ہے  یوں سمجھ لیں کہ ایک نیک دل جج نے چوروں اور ڈاکوؤں کے پیشے کو بھی تحفظ فراہم کرکے ان کو  گویا ایک  قسم کا  پرمٹ فراہم کردیا ہے
قانون کی تشریح تو دیکھئے  سوروپے کے اسٹامپ پیپر کی بنیادپر   ہونے والی سول اپیل  اس کیس کی سول اپیل جسے ایک سینئر سول جج زاشیہ رحمان نے  اس قابل بھی نہ  سمجھا کہ کیس رجسٹر کیا جائے اور  قبضہ  مافیا  سے تعلق  رکھنے والے جعلی مالک کے منہ پر کاغزات ماردیئے وہ جعلی کاغز ات "مذہب کا ڈھونگ  رچائے  بیٹھے  " ایک ڈھونگی   جج  کیلئے اسقدر معتبر کیسے  ہوگئے کہ  اس  سول اپیل کو بنیادبنا کر  جج صاحب نے   اس گھر میں گھس کر لوٹ مار کی بھی اجازت دے دی  
I find support from the judgment reported in 2010 YLR 189.

  “The provisions of S.22-A, Cr.P.C have been misused in a number of cases. The wisdom of legislature was not that any person who in discharging of duties takes an action against the accused would be subjected to harassment by invoking provision, of S.22-A, Cr.P.C. The Courts in mechanical manner should not allow application under S.22-A & B and should apply its mind as to whether the applicant has approached the court with clean hands or it is tainted with malice. Unless such practice is discharged, it would have far-reaching effect on the police officials who in discharge of duties take actions against them. The law has to be interpreted in a manner that its protection extends to every one. I am therefore, of the opinion that order of the Sessions Judge was passed in mechanical manner and the applicant approaching the Sessions Judge. As per the record reflects that it was tainted with malice.” 

          The petitioner has failed to make out a case of issuance of directions as prayed in the instant petition. The dispute if any in between the parties which is of civil nature for which civil Misc. Appeal is pending for adjudication. The intentions of petitioner are clear, that he wants to convert civil litigations into criminal and civil court is competent forum to resolve such types of controversy. There is no substance in this petition, I therefore, dismiss this petition.
سوروپے کے جعلی اسٹامپ پیپر کو  عدالت میں بیٹھے ہوئے ایک  صوفی منش  ایک بزرگ جج ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جو عزت  بخشی ہے اور اس جعلی کاغذکو جس طرح وقار دیا ہے اور لیز کے کاغذات کو جس طرح "بتی"  بنا کر "واڑ" دیا ہے  اس  کی مثال  عدالتی  تاریخ  میں  نہیں ملتی
 لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر میرا بھی ایک سوال ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ قابل احترام احمد علی شیخ صاحب دامت برکاتہم العالیہ مدظلہ العالی  آپ کی عدلیہ میں ایک ادارہ تھا جو ایم آئی  ٹی کے نام سے مشہور تھا  آپ سے پہلے جو چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ  ہواکرتے تھے جسٹس سجاد علی شاہ ان کا نام تھا  ان کے دور میں   آپ کے اس ادارے نے چالیس  ججز کو کرپشن اور دیکر الزامات کے تحت برطرف کیا تھا  میرا سوال یہ ہے کہ کیا جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کے جانے کے بعد آپ کی عدالتوں سے کرپشن ختم ہوچکی ہے  یا پھر ایم آئی ٹی اتنا فعال نہیں رہا یا پھر کرپشن کے خلاف کاروائی ختم کردی گئی ہے اور ججز کو رشوت  لوٹ مارکی کھلم کھلا اجازت دے دی ہے جس کی وجہ سے آپ کے بابرکت دور میں کسی بھی جج کے خلاف کاروائی سامنے نہیں آئی نہ ہی ہوگی  
احمد علی شیخ صاحب آپ کے "بابرکت دور "میں ایم  آئی ٹی کا  "اچانک "غیر فعال  ہوجانا  بدعنوان ججز کے خلاف  تادیبی کاروائی  اچانک  ہی روک دینا  چیف صاحب کچھ تو ہے جس کی "پردہ داری" ہے
جس طرح بعض ججز نے مذہب کی آڑ لیکر ایمانداری کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے   سجاد علی شاہ صاحب کے جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ایم آئی ٹی بھی  اب ایک ڈھونگ ہی  تو بن کر رہ گئی ہے
چیف صاحب  یا تو سابق چیف جسٹس سجادعلی شاہ غلط تھا یا تم غلط ہو
اگر سجاد علی شاہ صاحب غلط تھے تو جن ججز کو برطرف کیا گیا ان کو دوبارہ بحال کردو  ورنہ میں یہ کہنے کا مکمل حق رکھتا ہوں کہ  عدلیہ میں ساری کرپشن کے اکیلے ذمہ دار  "تم  اور صرف تم ہی ہو "  کیونکہ تم   نے ہی اپنے دور میں   ایم آئی ٹی کو ایک زندہ لاش بنا یا ہوا ہے

جج صاحب کی جانب سے اسکول کی تعمیر روکنے  کیلئے  قبضہ مافیا کے خلاف چوری کی درخواست پر  عدالتی  فیصلہ مندرجہ ذیل ہے     
IN THE COURT OF III ADDITIONAL SESSIONS JUDGE KARACHI, CENTRAL.
CR. PETITION NO.792/2017.

ABC --------------------------------Applicant.

VERSUS

S.H.O PS Kh. Ajmer Nagri, Karachi.-----------------Respondent.

O R D E R.
27-10-2017.

     By this order, I would like to dispose of application under section 22-A Cr.P.C, filed by the applicant through his advocate, praying therein to direct the respondent / SHO PS Kh. Ajmer Nagri, Karachi to record the statement of applicant U/S 154 Cr.P.C and to take legal action against culprits and also register FIR against the proposed accused.

     I have heard learned counsel for the applicant, learned counsel for the proposed accused and have perused the report submitted by the SHO PS Kh. Ajmer Nagri, Karachi.

     As per contention of learned counsel for the applicant, that subject Faizan Academy is running under the management of Memon Madrassa Faizul Uloom since last 27 years, and said Faizan Academy entered into deal in respect of purchase and paid 60% of the deal to the owner and original documents are in possession of the applicant but in this regard, neither the petitioner has annexed any documentary evidence with this petition, which could prove his contention that Faizan Academy is running under the management of Memon Madrassa Faiz-ul-Uloom for the last 27 years, nor any authority letter issued by said Memon Madrassa in his favour to sue the proposed accused on their behalf. Further more, neither any alleged deal annexed by the applicant with this petition, which could prove contention of petitioner that Faizan Academy has entered into a deal of purchase subject plot from its owner and they paid 60% of said deal to its owner. Further more,
وضاحت:؛یہاں میں مختصر یہ بیان کردوں کہ  پٹیشنر سوروپے کے اسٹامپ پیپر  کی  بنیادپر پر ہونے والی  نام نہاد سول اپیل میں  نہ صرف  لیز کے قانونی کاغزات پیش کرچکا تھا بلکہ ایک عدد پاور آف اٹارنی بھی اسی عدالت کے ریکارڈ پر جمع کرواچکا تھا  اسی طرح ساٹھ فیصد ادائیگی کا ثبوت  سول کیس میں پیش کرچکا تھا  سمجھ سے بالاتر ہے کہ جج صاحب نے یہ عدالتی فیصلہ لکھتے ہوئے جھوٹ کا سہارا کیوں لیا 
اور  اتنے دھڑلے سے عدالتی فیصلوں میں جھوٹ بولنا سمجھ سے بالاتر ہے
 as per contention of learned counsel for proposed accused, Haq Nawaz purchased subject plot from its previous owner(وضاحت:  یہاں سابق مالک سے مراد قبضہ مافیا ہے جو مقامی تھانے کے ہیڈ محرر کا بھائی ہے ) and he is in possession of subject plot since date its purchase in the year 2013 and in this regard proposed accused Haq Nawaz had filed suit for declaration and Permanent injunction but unfortunately, learned senior Civil Judge returned plaint to be presented before proper court and said order of learned Senior Civil Judge Karachi Central is impugned in Civil Misc. Appeal No.13/2017 before this court.
عدالتی فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ قبضہ مافیا کے کارندے جب سینئر سول جج کی عدالت میں کیس داخل کرنے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا تھا اور سوروپے کے اسٹامپ پیپر پر داخل ہونے والی اپیل کا ذکر بھی کردیا
         
          From the above position, it has come on record that the dispute, if any, in between the parties over landed property and a civil suit in respect of subject property was filed by the proposed accused and a civil Miscl. Appeal is in respect of subject property is also pending before this court. There are instances of misuse of provisions of S.22-A Cr.P.C. and therefore, it is the duty of the court that such misuse should be taken care of and such application should not be lightly entertained in a mechanical manner. I find support from the judgment reported in 2010 YLR 189.

  “The provisions of S.22-A, Cr.P.C have been misused in a number of cases. The wisdom of legislature was not that any person who in discharging of duties takes an action against the accused would be subjected to harassment by invoking provision, of S.22-A, Cr.P.C. The Courts in mechanical manner should not allow application under S.22-A & B and should apply its mind as to whether the applicant has approached the court with clean hands or it is tainted with malice. Unless such practice is discharged, it would have far-reaching effect on the police officials who in discharge of duties take actions against them. The law has to be interpreted in a manner that its protection extends to every one. I am therefore, of the opinion that order of the Sessions Judge was passed in mechanical manner and the applicant approaching the Sessions Judge. As per the record reflects that it was tainted with malice.” 

          The petitioner has failed to make out a case of issuance of directions as prayed in the instant petition. The dispute if any in between the parties which is of civil nature for which civil Misc. Appeal is pending for adjudication. The intentions of petitioner are clear, that he wants to convert civil litigations into criminal and civil court is competent forum to resolve such types of controversy. There is no substance in this petition, I therefore, dismiss this petition.
              
Announced in open Court.
Given under my hand, this 27th day of October, 2017.


          (Ayaz Mustafa Jokhio)
       III Additional Sessions Judge,
                                   Karachi, Central.

ابھی میرے ساتھ ہی رہیئے گا ابھی اس تحریر کی  تیسری  قسط باقی ہے لیز کے قانونی کاغزات کے  مقابلے میں ایک  سوروپے والا اسٹامپ پیپر کتنی اہم قانون دستاویز ہے یہ بتانا ابھی باقی ہے  کراچی کے ایک تھانے کے ہیڈ محرر کا بھائی  اپنی مرضی کا عدالتی فیصلہ کیسے لیکر گیا یہ بتانا ابھی باقی ہے
ابھی یہ بھی بتانا باقی ہے کہ مذہب کا ڈھونگ رچائے بیٹھے ایک ڈھونگی جج نے ایک غریب  بستی کے بچوں  کیلئے اسکول کی تعمیر  روکنے کیلئے کون کون سے گھٹیا ہتھکنڈے  اور طریقے اختیار کیئے  ابھی تو علامہ اقبال کے اس شعر کی بھی تشریح بھی باقی ہے کہ
لباس  خضر میں یاں سینکڑوں رہزن بھی بیٹھے ہیں
جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر 
کیونکہ یہ تو ابھی بتایا ہی نہیں کہ   نام  نہاد سول اپیل  پر عدالت نے کیا فیصلہ دیا
جبکہ میں ٹھوس ثبوت کے ساتھ اپنے خلاف  ہونے والی  ممکنہ   توہین عدالت کی کاروائی کا بھی بے چینی سے منتظر ہوں

زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان




زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان

جج صاحب کا نورانی چہرہ اور گھنی داڑھی دیکھ کر دل ہی خوش ہوگیا ماتھے پر بنا ہوا محراب   گواہی دے رہا تھا کہ جج صاحب  پنج وقتی نماز کے علاوہ تہجد گزار بھی ہیں
فیضان اکیڈیمی کراچی کا ایک مشہور ومعروف تعلیمی ادارہ ہے یہ ادارہ غریب آبادیوں میں   جدید سہولیات سے آراستہ اسکول تعمیر کرکے نہایت ہی کم فیس میں   غریب بچوں  کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتا ہے  یہ اسکول ایک ٹرسٹ کے زیراہتمام چلتا ہے   میرٹ  کا یہ عالم  ہے کہ یہاں داخلہ  آسانی  سے نہیں  ملتا اسی سلسلے میں انہوں نے سرجانی کی ایک غریب بستی میں اسکول کی تعمیر کیلئے ایک پلاٹ خریدا اور وہاں اسکول کی تعمیر شروع کردی  پلاٹ لیز تھا اور اس کی قیمت تقریباً سترلاکھ کے لگ بھگ تھی جس کا بیشتر حصہ ادا کردیا گیا اور باقی ماندہ رقم  جائیداد کی منتقلی کی کاروائی کے  بعد ادا کرنی تھی اسی دوران پلاٹ پر دن رات کام جاری تھا اور اسکول کی تعمیر زوروشور سے جاری تھی
اسی دوران انتظامیہ پر  عدالت کا نوٹس بم بن کر گرا
میرے ایک دوست نے کیس کی تفصیلات مانگیں تو میں نے  فائل  چیک کرکے ان کو بتایا کہ  یہ ایک بلیک میلر قبضہ مافیا نے کیس داخل کیا ہے اور ان کے پاس کسی بھی قسم کی کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے  یہی وجہ ہے کہ قبضہ گروپ  نے جب  سینئر سول جج صاحبہ زاشیہ رحمان  کی عدالت سے تعمیرات روکنے  کیلئے " اسٹے آرڈر"لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کھڑے کھڑے اس کیس کو خارج کردیا اور قبضہ مافیا سے کہا کہ  سوروپے کے اسٹامپ پیپر پر زمینوں پر قبضے کا دور چلاگیا  اگر کوئی قانونی دستاویز ہے تو لیکر آجاؤ  قبضہ مافیا نے بہت زور دیا کہ ماضی میں اسٹامپ پیپرز پر اسٹے ملتے رہے ہیں   یا بکتے  رہے ہیں  اس لیئے ہمیں بھی اسٹے دیا جائے لیکن سینئر سول جج  زاشیہ رحمان صاحبہ نے  کھڑے کھڑے ہی یہ کیس نمٹا دیا
یہاں میں یہ عرض کردوں کہ زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے  یہ ایک خاتون جج صاحبہ ہیں  نہ ہی ان کے ماتھے پر محراب بناہوا ہے  اس نے اپنے چیمبر میں جاء نماز بھی نہیں رکھی ہوئی(ہوسکتا ہے کہیں چھپا کر رکھی ہوئی) اور ہم نے اس کو کبھی نماز پڑھتے ہوئے بھی نہیں دیکھا  ویسے بھی عموماً ہم اس عدالت میں صبح دس یا گیارہ بجے کے درمیان پیش ہوتے ہیں   اس دوران نماز کا ٹائم تو ویسے بھی نہیں ہوتا  لیکن  فی زمانہ جو ریاکاری  اور نمائیش  کا  دور چل رہا ہے تو  ان کو ہم نے کبھی اشراق اور چاشت کے نوافل ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا  اور نہ ہی جج صاحبہ چیمبر میں بیٹھ کر اللہ ہو اللہ ہو کی آوازیں نکالتی ہے
خیر قبضہ مافیا  کے معززین  زاشیہ رحمان کی عدالت سے جوتے اور چھتر کھاکر   اپنا اسٹامپ  پیپر لیکر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن جج کراچی سینٹرل جناب  ایاز مصطفٰی جوکھیو کی عدالت میں گرتے پڑتے  جادھمکے اور وہاں اپیل داخل کردی
میں جب پہلی بار عدالت میں گیا تو وہاں جاکر جو ایمان افروز نظارے دیکھے  خدا کی قسم ایمان تازہ ہوگیا  جج صاحب چیمبر میں ہی تھے اور چاشت اشراق کی نماز پڑھ کر اللہ ہو اللہ ہو کے ذکر میں مصروف تھے   جس کی ہلکی ہلکی آواز چیمبر سے باہر بھی آرہی تھی اسی دوران  جب جج صاحب چیمبر سے نکل کر عدالت  سے  میں آئے تو ان کے چہرہ مبارک کو دیکھ ایمان تازہ ہوگیا یوں محسوس ہورہا تھا کہ انوارو تجلیات کی کمرہ عدالت میں بارش شروع ہوچکی ہے  نورانی   چہرے  پر بنا ہوا محراب جج صاحب کے تہجد گزار ہونے کی دلیل دے رہا تھا
اسی دوران کمرہ عدالت ہی میں مجھے یہ اطلاع ملی کی        قبضہ مافیا نے  عدالت میں داخل اپیل کی آڑلیکر پلاٹ پر قبضہ بھی  کرلیا ہے
میں نے وکالت نامہ داخل کرتے ہوئے جب فائل دیکھی تو پتہ چلا کہ  ایک شخص منہ اٹھاکر عدالت آیا ہے اور پلاٹ کی ملکیت کا دعوٰی کررہا ہے میں نے یہ دیکھ کر بیٹھے  بیٹھے ہی لیز کے کاغزات منسلک کرکے ایک سادہ پیپر پر ہی جواب تحریر کیا اور مختصر لکھا کہ زاشیہ رحمان سینئر سول( جس خاتون   جج  کا ذکر کیا جارہا ہے اس کی داڑھی بھی نہیں ہے اور وہ صبح عدالت میں آکر چاشت اشراق کے نوافل بھی نہیں پڑھتی اور اس نے اپنے چیمبر میں  سرعام نمائیش  کیلئے جاء نماز بھی نہیں رکھی ہوئی  نہ ہی چیمبر میں اسلامی کتابیں رکھتی ہے )
اس کا فیصلہ درست تھا قبضہ مافیا کے پاس پلاٹ کی ملکیت کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے اور سینئر سول جج نے قبضہ مافیا کا کیس رجسٹر کرنے سے ہی انکار کرکے بالکل درست فیصلہ کیا ہے  رجسٹرڈ لیز کاغذات  اور قانونی قبضے  کے مقابلے میں صرف سوروپے کے اسٹامپ پیپر  کی اوقات ہی کیا ہے گزارش ہے کہ یہ اپیل خارج کی جائے   
میں نے دولائینیں لکھ کر عدالت میں جمع کروادیں  عدالت نے تاریخ دے دی
خیر اگلے دن  تھانے والوں نے قبضہ مافیا سے جگہ خالی کرواکر پلاٹ  پر تالا لگادیا اسی دوران قبضہ مافیا نے پلاٹ پر قبضہ کے دوران جنریٹر وغیرہ اور دیگر قیمتی سامان چوری کیا جس کی ایف آئی آرتھانے نے رجسٹر کرنے سے انکار کردیا تو  عدالت میں 22 اے کی پٹیشن  داخل کی جو اسی نورانی چہرے والے جج کی عدالت میں سیشن جج نے ٹرانسفر کردی
پھر کیا ہوا میرے ساتھ رہیں یہ  بات بعد میں بتاؤں گا
جاری ہے
پہلی قسط