Saturday, 14 January 2017

ون مین آرمی ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان









ون مین آرمی  ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان

زیادہ پرانی بات نہیں ابھی یہ  چند سال پہلے  انیس سونونے کی دہائی  یعنی  کل ہی کی تو بات ہے کہ   کراچی کے ڈسٹرکٹ کورٹس میں رشوت کا دور دورہ تھا  اور فلورنگ  رشوت کی بدترین شکل تھی  
پیسہ گھن آ تے آرڈر گھن ونج۔۔۔۔لے آ لے آ لے آ لے آ مال لے  آ۔۔۔۔۔کھنی اچ کھنی اچ  پیسہ کھنی اچ  آرڈر کھنی ونج

پاکستان  اور عدالتوں میں رشوت کی تاریخ بہت پرانی ہے  پاکستان کے ہرادارے کی طرح   عدلیہ کا دارہ  اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا تھا  ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک وقت وہ بھی آیا جب  عدالتوں کے پورے فلور کے فلور  پر جرائم پیشہ عناصر وکیل کا یونیفارم پہن کر قبضہ کرلیتے تھے  اس  مقبوضہ  علاقے  میں پریکٹس کو فلورنگ کہا جاتا تھا  "فلورنگ" کرپشن کی بدترین شکل تھی  زیر حراست افراد سے  جعلی وکیل  زبردستی وکالت نامے دستخط کروا کر معاملات طے کرلیئے جاتے تھے وکالت نامے کے ساتھ ہی  دو آرڈر تیار ہوجاتے تھے پہلا آرڈر ملزم کو جیل بھیجنے کا دوسرا  ریلیز آرڈر بننا شروع ہوجاتا تھا   یعنی ملزم  کی رہائی  کا  ضمانت کی درخواست لکھنا اور پراسیکیوشن کو نوٹس پرانی تاریخوں میں بعد میں ہوجاتے تھے   
ضلع کا بڑا ساب بڑا لفافہ لے لیا کرتا تھا  وہ نظام الگ سے قائم تھا
فلورنگ کرنے والے جرائم پیشہ عناصر صرف وکالت نامے اور لفافے کا بندوبست کرتے تھے اگلا کا م ساب لوگ کرتے تھے لیکن  ساب لوگوں  کو   ڈائریکٹ ڈیل کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی ساب کا اسٹاف ریلیز بھی بناتا تھا اور ضمانت کی درخواستیں بھی لکھ لکھ  کر فائل کا خالی پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کرتا تھا
جرائم پیشہ عناصر نے مافیا کی طرح   پورے کے پورے فلور قبضہ کیئے ہوئے ہوتے تھے  اور ایک عام وکیل کو کسی صورت پریکٹس کی اجازت نہیں ہوتی تھی عام وکیل کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا   عام وکیل صرف سول کیسز ڈیل کرتا تھا
اس وقت  ساب لوگوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ رشوت لینا ان کا بنیادی حق ہے یہ سوچ آج بھی قائم ہیں  ۔۔۔۔۔سنا ہے جرائم پیشہ لوگ بہت ظالم تھے   سب کچھ لوٹ لیتے تھے  بہت سے جرائم پیشہ لوگ اور ان کے ساب لوگ ساتھی   برے انجا م سے دوچار ہوئے قدرت کے انتقام سے کوئی نہ بچ سکا  لیکن  گنتی  کے ایک دو دانے  آج بھی حیات ہیں

پھر  ڈسٹرکٹ  کورٹس سے فلورنگ کا خاتمہ ہوگیا کس طرح  ہوا اس حوالے  سے تاریخ خاموش ہے  لیکن اعلٰی عدلیہ میں فلورنگ ایک  نئے انداز سے سامنے آئی جس کا ذکر بعد میں ۔۔۔۔۔بعد ازاں فلورنگ والے جج برطرف ہوئے  بہت سے آج بھی موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔جرائم پیشہ عناصر غائب ہوگئے کچھ مرکھپ گئے کچھ تائب ہوگئے اور  کچھ نے تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر حج و عمرہ کرکے   اللہ اللہ شروع کردیا  لیکن کوئی بھی ظالم اللہ کی پکڑ سے بچ نہ سکا   فلورنگ کرکے ظلم کرنے والے ہرکردار کو دنیا میں ہی سزا ملی  اور ملے گی
جب ہم آئے تو فلورنگ کا سلسلہ  مکمل طورپر ختم ہوچکا تھا    لیکن  فلورنگ  کے خاتمے کے بعد ساب لوگ  اپنے اسٹاف  کے زریعے  یا براہ  راست   ڈیل  کرنے کی کوشش  کرتے تھے  یہ سلسلہ بھی کافی عرصہ کامیابی سے چلا اور آج بھی  کسی  حد تک موجود ہے    عجیب وغریب ٹیڑھی شکلوں والے ساب لوگ ہوا کرتے تھے   ایک تو شکل ٹیڑھی دوسرا منہ سے بات نہ کرنا  تیسرا نیت میں فتور
ہم نے وکالت کی کوشش کی ابتدا میں  ناکا م رہے اس وقت جس پیشے کو وکالت کہا جاتا تھا  وہ وکالت ہرگز ہرگز نہ تھا میں وکالت سے دلبرداشتہ اس وقت ہوا جب میرے پاس ایک بہت ہی  زبردست  نوعیت  کا کیس آیا   اس کیس کی نوعیت کچھ اس قسم کی تھی کہ میرے کلائینٹ کو سرعام گولیاں ماردی گئی تھیں   موقع کے چشم دید  گواہان موجود تھے   ایف  آئی آر  بروقت  تھی   مختصر یہ کہ  ضمانت  مسترد  کرنے کے سارے لوازمات  پورے  تھے سپریم کورٹ  کے بہت سے  کیس لاء موجود تھے  جن کی روشنی میں مجھے یہ غلط فہمی ہوچکی تھی  کہ ملزم کی ضمانت مسترد ہوجائیگی بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا ساب منہ سے بات کرتا ہی نہیں تھا اور لوگ کہتے تھے کہ یہ اصول کا بہت پکا ہے  بعد ازاں کافی عرصہ لٹکانے  کے  بعد ساب نے ضمانت کی درخواست منظور کرلی  یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ ساب نے مال پکڑا ہے لیکن کچھ عرصے بعد یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ساب نے  اس کیس میں  صرف دو بلیک بیری  فون سیٹ لیئے تھے حالانکہ   اس کیس میں کم ازکم دس لاکھ روپیہ آسانی سے مل سکتا تھا  یقین کریں کہ افسوس رشوت لینے پر نہ ہوا بلکہ  گھٹیا  اور کم رشوت لینے پر ہوا  مجھے یہ بھی افسوس ہوا کہ میں نے میرٹ کا راستہ  کیوں چنا کیونکہ ہماری پارٹی اس سے زیادہ اچھے موبائل فون دے سکتی تھی  منہ مانگا پیسہ دے سکتی تھی خیر اس قسم کے بہت سے واقعات روزانہ معمول کا حصہ تھے

ذاتی طورپر میں اس واقعہ کے بعد  بہت دلبرداشتہ ہوا اور سوشل سیکٹر میں چلا گیا  لیکن وکالت سے تعلق  برقرار رکھا
پھر عدالتی اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا  لیکن ججز کا رویہ درست نہ ہوا  چند خاندانی لوگ تو منہ سے بات کرلیا کرتے تھے میں نے اپنی آنکھوں سے صرف ڈبل سواری کے ملزمان کو  جیل جاتے ہوئے دیکھا   نااہلوں کو یہ احسا س تک نہ ہوتا تھا کہ انسانی حقوق بھی کوئی چیز ہوتے ہیں یہ ادارہ انصاف کا  ادارہ ہے

پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی  پیسہ کھنی اچ کھنی اچ  کھنی اچ کا سلسلہ وقتی طور پر اس وقت دم توڑ گیا  جب بہت بڑی تعداد میں ججز کو قانونی  تقاضے پورے کرنے کے بعد  جھاڑو پھیر کر  پیسے جمع کرنے کی نوکری سے فارغ کردیا گیا  لیکن پھر بھی  متاثرین بجائے رونے دھونے کے اگر جمع شدہ مال   طریقے سے خرچ کریں تو وہ لوگ اتنا مال جمع کرچکے تھے کہ مرتے دم تک گھر بیٹھ کر کھاسکتے ہیں  اس کے باوجود بہت سے لوگ شکوے کرتے پھررہے ہیں  اس کے بعد اب ججز کا رویہ کافی بہتر ہوچکا ہے اور بہت  سے لوگ اب منہ سے بات کرتے ہیں
وقت کی دوسری کروٹ یہ تھی کہ نوجوان وکلاء میں سے میرٹ کی بنیادپر ججز  بھرتی ہوگئے  اور وہ چونکہ رشوت دے کر نہیں آئے تھے اس لیئے وہ رشوت نہیں لیتے ہاں وہ ناتجربہ کار ضرور ہیں لیکن وہ منہ سے بات کرتے ہیں  برابری کی بنیادپر بات کرتے ہیں  یہ لوگ بہت اچھے ہیں
وقت کی ایک اور کروٹ یہ ہے کہ  پیشہ وکالت میں تبدیلی آئی ہے  ترقی کے بے شمار مواقع سامنے آرہے ہیں  اگر کسی بھی وکیل میں قابلیت نام کی ذرا سی بھی کوئی چیز ہے تو وہ اچھا خاصا کما رہا ہے  
اب اس پورے سسٹم میں  صرف تین مسئلے باقی بچ گئے ہیں
پہلا مسئلہ مشکوک نوعیت کی بھرتی والے بڈھے جج ہیں    یہ زیادہ تر  انیس سو نوے  کی دہائی میں  رشوت دے کر بھرتی  ہوئے تھے  یہ مایوس عناصر ہیں  اگر کوئی جج بحیثیت جوڈیشل مجسٹریٹ آج سے دس سال پہلے بھرتی ہوا تھا اور اس کا پروموشن نہیں ہوا  اور وہ آج بھی جوڈیشل مجسٹریٹ  ہے تو اس کو خود ہی  یہ نوکری چھوڑدینی   چاہیئے  صاف  ظاہر ہے کہ  آپ سینیارٹی   اور قابلیت  کے معیار  پورا  نہیں  اترے آپ لوگ اس  نوکری پر لعنت بھیجیں استعفٰی دیں اللہ پر یقین رکھیں    اور پریکٹس شروع کردیں  اب ایک  لاکھ روپے کی معمولی نوکری کیلئے  انسان کو اتنا بھی نہیں گرنا چاہیئے ادارہ سینیارٹی کی بنیاد پروموشن نہیں دے رہا تو  بجائے  ہروقت عدالت میں روٹھی ہوئی بیوہ کی طرح شکل بناکر بیٹھ  کر اور بازو کی آستین  سے  بار بار ناک صاف کرکے  مایوسی  کے اندھیرے پھیلانے سے ہزار درجے  یہ بہتر ہے کہ استعفٰی لکھ کر جمع کروادیں اور وکالت شروع کردیں ہمارے سامنے تین جوڈیشل مجسٹریٹس کی مثال موجود ہے ایک کو پروموشن نہیں ملی دوکو ہایئکورٹ نے غلط شوکاز بھیجے تو بجائے ذلیل ہونے کے ان لوگوں نے  غیرت کا مظاہرہ  کرتے  ہوئے استعفٰی کو ترجیح دی اور نوکری پر لعنت بھیج کر  "ون مین آرمی " یعنی  وکالت کی آزاد زندگی شروع کردی نہ کسی شوکاز کا خوف نہ کسی  کی بلاوجہ کی جواب طلبی اور آج وہ پہلے سے زیادہ خوشحال زندگی  بسر کررہے ہیں  آمدن کے لحاظ سے اور ہر لحاظ سے  وہ لوگ پہلے سے بہتر ہیں دوسری طرف وہ جوڈیشل مجسٹریٹ جن کی نوکری کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا  وہ ناسور بننا شروع ہوجاتے ہیں اور پندرہ سال کی نوکری والے نہ صرف ناسور بن چکے ہیں   بلکہ ادارے اور دھرتی دونوں پر ایک مستقل بوجھ چکے ہیں  سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ  وہ نئی قانون سازی کروائے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی نوکری کو دس سال تک محدود کردے اس دوران جو مجسٹریٹ پروموشن حاصل نہ کرسکے اس کو تھوڑی بہت پنشن دے دلا کر  مکمل عزت اور احترام سے رخصت کردے
کیونکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے یہ مایوس قسم کے بڈھے  مجسٹریٹس پورے سسٹم کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ  ناسور اب نوجوان ججز کو بھی خراب کررہے ہیں  اور یہی نوجوان ججز ہی تو ادارے کا اثاثہ ہیں  اس لیئے فوری طورپر ناسور بڈھے مجسٹریٹس کیلئے گولڈن ہنڈ شیک کا اعلان کرکے ان سے فوری  نجات حاصل کی جائے   
دوسرا  مسئلہ صرف کراچی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ پندرہ ملین  روپے تک کے  سول  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس میں چلتے ہیں جوکہ ٹرائل کورٹ ہے  سندھ ہایئکورٹ جو کہ اپیل کی عدالت ہے وہاں پندرہ ملین  روپے سے زائد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے  اس حوالے سے تاویل پیش کی جاتی ہے کہ کیونکہ کراچی ساحلی شہر ہے اس لیئے  ہندوستان کے تمام ساحلی شہروں میں انگریز یہی اصول مقرر کرگیا تھا بھائی اب انگریز جاچکا ہے اس  انگریز کو گولی مارو دوسری بات یہ ہے کہ سندھ ہایئکورٹ  ایک اپیل کا فورم ہے یہ ٹرائل کا فورم نہیں  یہاں کیس صحیح طریقے سے ٹرائل نہیں ہوتے  نہ ہی ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ  وراثت کا جو مقدمہ ایک مہینے میں  ڈسٹرکٹ  کورٹس  میں حل ہوجاتا ہے ہایئکورٹ میں وہ پورا کیس ہی ذلیل ہوجاتا ہے   اور دیوانی مقدمہ تو رل ہی جاتا ہے  اس لیئے اس  حقیقت کو تسلیم کرکے کیسز ٹرائل کا حق صرف ڈسٹرکٹ کورٹس  ہی کو ہونا چاہیئے   ہایئکورٹ  کو کیس  ٹرائل  کے سارے اختیارات  ڈسٹرکٹ  کورٹس  کو دے دینے  چاہیئں  اور یہ ہوگا ضرور ہوگا  انشاء اللہ تعالٰی سندھ ہایئکورٹ صرف اور صرف اپیل کی عدالت بنے گی انصاف کی عدالت بن کر انصاف فراہم کرے گی
تیسرا اہم مسئلہ قابل احترام جسٹس صاحبان کی آل اولاد ہے  جو ہورہا ہے وہ غلط ہورہا ہے یہ آپ لوگ خود بھی جانتے ہیں   باربار وضاحت کی ضرورت نہیں لیکن یہ انکل ججز کی  فلورنگ عدلیہ زیادہ عرصہ  نہیں چلے گی  اور یہ رجحان اب  ڈسٹرکٹ کورٹس تک آگیا   موجودہ دور میں یہ بھی فلورنگ کی ایک بدترین اور جدید  گندی  شکل ہے   اور انشاءاللہ یہ فلورنگ بھی  جلد ختم ہوگی  جب دونمبر جج نہ رہے تو تمہاری اولاد کس طرح فلورنگ کرے گی
ون مین آرمی  دنیا کی بہترین  تربیت یافتہ آرمی ہوتی ہے یہ خود ہی چیف آف آرمی اسٹاف ہوتے ہیں خود ہی کمانڈر اور خود ہی  جنرل  اس ناقابل شکست آرمی کو عرف عام میں لوگ وکیل کے نام سے جانتے ہیں  اور یہ قلم کی مار مارتے ہیں
غیر تربیت یافتہ  وکیل لوگ اس میں شامل نہیں   اور ہر وکیل ون مین آرمی نہیں بنا سکتا

Saturday, 31 December 2016

چورن پور کا مسخرہ تیسری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




چورن  کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔3
"چورن پور  کا مسخرہ  "کی تیسری قسط پیش خدمت ہے  میں وضاحت کردوں کہ  تیسری قسط کا ایک ایک لفظ سفید جھوٹ پر مبنی ہے   لیکن    مردود شیطان آپ کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈال سکتا ہے کہ یہ کہانی سچ پر مبنی ہے اس لیئے گزارش ہے کہ باوضو ہوکر  تیسری قسط پڑھیں تاکہ مردود شیطان اس جھوٹی کہانی کو سچ سمجھنے پر مجبور نہ کرسکے

  مرحوم اداکار رنگیلے کی سنجیدہ فوٹو اسٹیٹ کاپی نے پولیس والے کو گھورا اور اس طرح  غصے سے دیکھا جیسے " گابھن " گائے کتے  کی طرف  دیکھتی ہے اور کہا بے ایمان
کام چور ،سفارشی کلچر کی پیداوار کیوں آئے ہو کورٹ  میں

پولیس والے نے کہا کہ کورٹ سے نوٹس آیا تھا آج وہ کیس میں گواہی دینے کیلئے حاضر ہوا ہے 
چورن پور کے مسخرے نے  کہا کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی  رشوت لیتے ہو  اور اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے صرف تم لوگوں کی نااہلی  کی وجہ سے کیس نہیں  چلتے  صرف اور صرف تم لوگوں کی وجہ سے  کیس نہیں  چلتے  جس کے بعد تو تقریر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا  بک بک ، چخ  چخ چخ  مسخرے نے پولیس والے کو خوب خوب لیکچر دیا اور پولیس والا بھی ہاں  میں ہاں اس طرح ملارہا تھا جیسے آج اس مسخرے کی تقریر اور وعظ سن کر توبہ کرلے گا  اور  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رشوت لینا چھوڑ دے گا دوسری طرف مسخرہ  پورے جوش و خروش سے اپنی نہ ختم ہونے والی تقریر کا سلسلہ  جاری رکھے ہوئے تھا  وعظ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اس طرح پورا ایک گھنٹہ گزر گیا  پولیس والے کا  تو تقریریں  سن سن کر "ترا "  ہی  نکل گیا  وہ  پسینے میں شرابور کھڑا  تھا کہ  یہ  منحوس  مسخرہ تو تقریر کیلئے نفلوں کا بھوکا نکلا  تقریر تھی کہ  ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی   دوسری  طرف  حاظرین  محفل  اور وکلاء کے تو مزاحیہ  ڈائیلاگ  سن سن کر  پیٹ میں وٹ  ہی پڑگئے  تھے مجھے تو کئی  بار مسخرے کے مزاحیہ  ڈائیلاگ  سن سن کر اسقدر ہنسی  کا دورہ پڑا کہ  میرے تو آنکھوں سے  آنسو ہی نکل  آئے خیر خدا خدا کرکے پہلی تقریر اور وعظ کا سلسلہ ختم ہوا  اور پولیس والے کی جان چھوٹی جاتے جاتے پولیس والے نے پوچھا جی کیس کب چلے گا یہ سن کر مسخرے نے ایک بار پھر  پولیس والے کی طرف دوبارہ گندی گندی نظروں سے اس طرح دیکھا جیسا کہ  " گابھن " گائے کتے کی طرف  دیکھتی ہے اور کہا زیادہ ہمارا باپ بننے کی کوشش نہ کر کیس چلانا یا نہ چلانا ہمارا کام ہے  لیکن پولیس والا بھی کوئی بگڑا ہوا افسر تھا کہنے لگا ساب سال سے اوپر ہوگیا ہے آپ اسی طریقے سے ہر تاریخ پر مجھے تقریریں سنا سنا کر  اور تین بجے تک بٹھا  بٹھا کر واپس  بھیج دیتے ہو لیکن کیس  کبھی بھی نہیں چلاتے ہو آخر ہمارا قصور کیا ہے جو تقریریں آپ ہر تاریخ پر سناتے ہیں خدا کے واسطے کبھی خود بھی عمل کرلیا کرو آپ ہمیشہ پولیس کی غیر زمہ داری کی بات کرتے ہو ہمیں چور اور رشوت خور ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہو باربار ہمیں یہ طعنے دیتے ہو کہ پولیس والے سفارشی ہیں  لیکن ساب کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں کہ کبھی کیس بھی چلا لیا کرو ساب حقیقت یہ ہے کہ آپ کو بک بک کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں
یہ  سننا تھا کہ  مسخرہ "تسے داند" کی طرح  دوبارہ بھڑک اٹھا اور پولیس والے کی دوبارہ ایسی مٹی پلید کی کہ وہ پوری زندگی کبھی کسی جج کے سامنے زبان  چلانے کی جرات نہیں کریگا  باربار ایک ہی آواز آتی تھی کہ میں تو زہر کھا کر بیٹھا ہوں ابھی جیل بھیج دونگا   یہاں میں خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ چورن پور کا مسخرہ اس صدی کا حقیقی معنوں میں سب سے بڑا مزاحیہ  فنکار ہے  کیونکہ یہ   سنجیدگی سے جس طرح سے پرفارم کرتا ہے دنیا کا بڑے سے بڑا فنکار بھی اس طرح پرفارم نہیں کرسکتا دنیا کے بڑے سے بڑے فنکار کے پاس نت نئے ڈائیلاگ کی ایک مخصوص اور محدود ورائٹی ہے لیکن مسخرے کے پاس لوگوں کو ہنسانے کی لامحدود ورائٹی ہے ہرروز نیا ڈائیلاگ  چورن پور کا   مسخرہ  عدالت میں  بیٹھے بیٹھے ایسے ایسے ڈائیلاگ مارتا ہے کہ آپ  کتنے ہی پریشان کیوں نہ ہوں  ہنس ہنس کے پیٹ میں وٹ پڑجائیں گے اور ایسے ایسے وٹ پڑیں گے جو ہفتوں ٹھیک نہیں ہوتے  جن افراد کا مثانہ کمزور ہے ان کو میرا مشورہ ہے کہ  چورن پور کے مسخرے کی عدالت کا رخ ہی نہ کریں کیوں کہ ایسا نہ کہ ہنستے ہنستے  "پشی"  ہی نہ نکل جائے   میں دعوے سے کہتا ہوں موجودہ صدی میں جتنے بھی  بڑے سے بڑے مسخرے پیدا  ہوئے ہیں   ممبئی سے لیکر ہالی ووڈ تک لیکن اتنا بڑا فن کار اور اتنا بڑا مسخرہ نہ صرف پوری دنیا بلکہ انسانی تاریخ میں آج تک پیدا ہی نہیں ہوا  لیکن یہ چورن پور کے شہریوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ مسخرے کی عدالت میں ہرروز بلا ناغہ ہونے والا یہ شو صرف اور صرف چھ سے زیادہ افراد نہیں دیکھ سکتے   یہ اکیسویں صدی کے اس سب سے بڑے مسخرے اور فن کار کے فن کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے  اس لیئے میں چورن پور کے شہریوں کی جانب سے حکومت چورن پور سے مطالبہ  کرتا ہوں کہ  مسخرے کو اپنا روزانہ شو دکھانے کیلئے ایک بہت بڑا آڈیٹوریم بنایا جائے جہاں  چورن پور کے شہری براہ راست روزانہ ہونے والا شو دیکھ سکیں اسی طرح بہت سے پرایئویٹ چینل  چورن پور کے مسخرے کا صبح کا شو براہ راست دکھانا چاہتے ہیں  ان کو بھی جلد ازجلد اجازت دی جائے کیونکہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین تو کبھی بھی اس شو میں نہیں آسکتی  ہیں  یہ عورتوں کے حقوق کی  بھی سب سے  بڑی خلاف ورزی ہے کیونکہ چورن پور میں عورتوں کا ہر سطح پر استحصال کیا جاتا ہے اور یہ استحصال  صرف اور صرف  صنف کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے  ۔ ویسے  یہ  واقعہ بھی مشہور ہے کہ جب چورن پور میں  مجاہدین آزادی کو  چورن پور کی موجودہ آسیب ذدہ بلڈنگ  میں مقدمات چلاکر  چورن پور کی بلڈنگ کے پیچھے واقع پھانسی گھاٹ میں پھانسیاں دی جارہی تھیں تو ان بدقسمت افراد میں  چورن پور  کا اس زمانے میں مشہور ترین مسخرہ  " کالو ونجی" بھی تھا کالو ونجی پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ  اس نے  مجاہدین کے سامنے انگریزوں  سے متعلق  ایک ڈرامہ پیش کیا تھا   اور انگریزی  پولیس کا مزاق  اڑایا تھا جس کی بنیاد پر جب مجاہدین کو گرفتار کیا گیا تو چورن پور کے مشہور مسخرے " کالوونجی " کو بھی  گرفتار کرکے پولیس کا مذاق اڑانے کی پاداش  میں  پھانسی پر چڑھا دیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ  کالو ونجی کی  بے قرار روح صدیوں سے اس آسیب ذدہ بلڈنگ میں بھٹک رہی تھی  جیسے ہی کالو  مسخرے کا ٹرانسفر چورن پور میں ہوا کالو ونجی کی  بے قرار روح کو بالآخر قرار مل ہی گیا  اور کالو ونجی کی روح   چورن پور کے مسخرے میں سرایت کرچکی ہے  یہی وجہ ہے کہ چورن پور کا مسخرہ   سب کو ونجی دینے کے چکر میں گھوم رہا ہوتا ہے  لیکن میں لوگوں کی اس رائے سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا کیونکہ لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں  بہت سے لوگ تو یہ بکواس بھی کرتے ہیں کہ ماضی کی سابقہ بیوٹی کوئین اور ایک ڈرامے کی  مشہور زمانہ  اداکارہ کی  ادکاری  چورن پور کے ایک جسٹس کو اسقدر پسند آئی کہ اس نے دوسرے دن ہی اس سے دوستی کرکے اس کو وکالت کی ڈگری خرید کردی اور مقامی بار سے لایئسنس خریدنے کے بعد  اس کو سول جج لگادیا لیکن جب ماضی کی اس مشہور فن کارہ کا تبادلہ چورن پور کی آسیب ذدہ بلڈنگ میں ہوا تو یہاں   ایک مغل شہزادی شہزادی سلطانہ کی بھٹکتی ہوئی روح   کو بالآخر قرار مل گیا  اور اس کی روح  ماضی  کی  مشہور زمانہ اداکارہ اور ماضی کی بیوٹی کوئین میں سرایت کرگئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ  جج صاحبہ کا رویہ  شہزادی سلطانہ کی طرح ہوگیا  وکلاء اور کورٹ اسٹاف کو  فرشی  تعظیمی  سلام پر مجبور کرتی تھی   بعد ازاں مغل شہزادی سلطانہ کی بھٹکتی ہوئی روح نے ماضی کی اس عظیم فن کارہ  کو اسقدر پریشان کیا کہ  چورن پور کی اعلٰی عدالت کو اس کا ٹرانسفر مشرقی صوبے  میں کرنا پڑا لیکن شہزادی سلطانہ کی ڈھیٹ روح نے  ماضی کی اس فنکارہ کا پیچھا نہ چھوڑا اور حالات یہاں تک پہنچے کہ جو کورٹ کا اسٹاف شہزادی سلطانہ  کو فرشی  تعظیمی  سلام نہیں کرتا تھا  شہزادی  سلطانہ کی  روح مجبور کردیتی کہ  وہ اسٹاف کو چھڑی سے مارپیٹ کرے
ایک صبح کورٹ کا  نیا پیش کار صبح سویرے پیش ہوا تو   وہ حیدرآباد  دکن والے اسٹائل میں  فرشی  تعظیمی سلام کرنا بھول  گیا  جس کے بعد اس کو سبق سکھانے کیلئے جج صاحبہ نے  چھڑی  اٹھائی یہ دیکھ کر پیش کار ڈر کے مارے بھاگ کھڑا  ہوا لیکن  جج صاحبہ  نے  پیش کار کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا  اب سین یہ تھا کہ پیش کار آگے آگے بھاگا جارہا ہے اور جج  صاحبہ  پیچھے پیچھے  پیش کار بھاگتا ہوا روڈ پر نکل  گیا لیکن جج صاحبہ  چھڑی لیکر پیچھے پیچھے جس کے بعد عوام نے بڑی مشکل سے قابو کیا  اور  رسی سے باندھ کر پاغل خانے جمع کروایا  چند  دن کے علاج معالجے کے بعد  ماضی کی فن کارہ کو گھر بھیج دیا گیا لیکن چورن پور کی عدلیہ   نے فوری طورپر  جج صاحبہ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا بعد ازاں عدلیہ اب اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جج صاحبہ کو گھر بیٹھے لاکھوں روپیہ ماہانہ تنخوا ادا کررہی ہے جبکہ نیا بھرتی ہونے والا پیش کار ایسا بھاگا کہ واپس ہی نہیں آیا
ثقافت اور کلچر کے ساتھ ساتھ فن اور فنکاروں کی جو خدمت چورن پور کی  عدلیہ نے کی ہے اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں  ملتی  اب دیکھ لیں مسخرے کو ماہانہ بنیاد پر لاکھوں روپے ادا کیئے جاتے ہیں اور ماضی کی عظیم اداکارہ  کو گھر بیٹھے لاکھوں روپے  ادا کیئے جاتے ہیں  اس حوالے سے چورن پور کے شہری بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جن کے ٹیکس  کے پیسوں سے ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ کی مد میں ایک مسخرے اور  ماضی کی اداکارہ کو پیش کیئے جاتے ہیں لیکن  چورن پور کے شہری  اس بات پر بہت خوش ہیں  انہوں نے کبھی بھی اعتراض نہیں کیا اس لیئے اصل خراج تحسین کے مستحق تو بلاشبہ چورن پور کے عظیم شہری ہیں  
دوسرے کیس کیلئے آواز لگائی گئی تو اتفاق سے وہ بھی قتل ہی کا مقدمہ تھا
چورن پور کی ایک اور اہم ترین روایت بھی ہے سوال یہ ہے کہ اچھا جج کون ہوتا ہے اچھا  جج وہ ہوتا ہے جو کسی بھی ملزم کو اس کا جرم ثابت ہونے کے بعد سزا سنانے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ سزا کا فیصلہ لازمی طورپر  ہایئکورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں  ہایئکورٹ میں جب اعلٰی پائے کے وکیل اور جسٹس صاحبان  اس عدالتی فیصلے کا تفصیل سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تو جج کی اہلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے اس لیئے  ججز کی اکثریت کوشش کرتی ہے کہ سزا سنانے کے بجائے ملزمان اور مدعیان کی آپس میں بن جائے اور وہ کیس کے دوران ہی صلح کرلیں  اور اس قسم کے نالائق  سفارشی اور نااہل  کوشش کرتے رہتے ہیں کہ  ملزمان  اور مدعی  آپس میں صلح ہی کرلیں   تاکہ ان کی نااہلی چھپی رہے اور کبھی بھی سامنے نہ آئے
مدعیان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کافی کوشش کے باوجود صلح  ناممکن ہے اس لیئے آپ گزارش ہے کہ  اس کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرکے فیصلہ سنا دیا جائے

مسخرے نے سنی ان سنی کرتے ہوئے  ملزمان سے کہا اپنی اکڑخانیاں بند کرو اور جا کر مدعی سے معافی مانگو، مدعی کے وکیل نے کہا  ساب آپ کافی عرصے سے کوشش کررہے ہیں کہ اس قتل کے مقدمے میں صلح ہوجائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مدعی مقدمہ کی خواہش یہ ہے کہ  قتل کے ملزمان کو مقدمہ چلا کر سزائے موت دی جائے مسخرے نے وکیل صاحب سے کہا وکیل صاحب  مجھے تو یہ لگتا ہے کہ صلح میں آپ رکاوٹ  پیدا کررہے ہیں  وکیل نے کہا ساب ہم کیسے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں  حکومت نے جو قانون  بنایا ہے اس کے مطابق تو ان ملزمان کو سزائے موت ملنی چاہیئے تاکہ دیگر لوگوں کو عبرت ہو
مسخرے نے کہا تو کیا سزائے موت دینے سے  تمہارا  بندہ واپس  آجائے گا اس لیئے تو میں کہتا ہوں کہ آپس میں بن جاؤ لڑائی جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں  وکیل صاحب فیس ہی سب کچھ نہیں ہوتی آپ تھوڑی کوشش کرو مسئلہ حل ہوجائے گا
وکیل نے کہا ساب اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو میں کیا کروں
مسخرے نے اس بار انتہائی گندی نظروں سے ملزمان کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور غضبناک نظروں سے مدعی مقدمہ کی طرف دیکھا جو کہ ایک پٹھان تھا
مسخرے نے پوچھا خان صاحب صلح کیوں نہیں کرتے
خان صاحب نے کہا ہمارے بھائی کو مارا ہے ہم بدلہ ضرور  لے گا تم سزا نہیں لگائے گا تو ہم ان کو روڈ پر گولی مارے گا
اگرچہ صلح کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن ساب نے کوششیں جاری رکھیں  ساب نے  پیش کا ر سے کہا کہ ان ملزمان کو قبر والی ویڈیو دکھائی ہے
قبر والی ویڈیو
پیش کار نے حیرت سے پوچھا کیونکہ پیش کار نیا تھا  اس لیئے پیش کار نے نفی میں سر ہلایا کہ ان لوگوں کو ابھی تک وہ قبر اور سانپ  والی ویڈیو  نہیں دکھائی
یہ سن کر  مسخرہ سخت غصے میں آگیا اور کہا کہ کمبخت ابھی تک ان کو  سانپ  اور قبر والی ویڈیو نہیں دکھائی
جس کے بعد  مسخرے نے اپنا سمارٹ فون اٹھایا اور قبر کے  سانپ والی ویڈیو تلاش کرنا شروع کردی کچھ دیر کے بعد  سانپ والی ویڈیو  مل گئی اور ساب نے میرے ہاتھ میں  فون دیا اور کہا ذرا احتیاط سے کیوں کہ کافی قیمتی فون ہے جس کے بعد ملزمان نے وہ سانپ والی فلم  دیکھی جس میں ایک سانپ  قبر سے نکل رہا تھا  اور خطرناک قسم کی آوازیں  بھی نکال رہا تھا
ساب نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں گناہ کرتے ہیں ظلم  کرتے ہیں  تمہارا بھی یہی انجام ہوگا  اسی طرح قبروں سے سانپ نکلیں گے اور قبر میں بچھو ڈنگ ماریں گے
جب ملزمان نے   دس منٹ کی وہ ویڈیو دیکھ لی تو   سانپ  اور قبر والی ویڈیو دیکھنے  کے بعد  ملزمان کا تو "ترا" کئی بار نکل چکا چکا تھا اور وہ  تھر تھر کانپ رہے تھے ساب نے کہا اب اگر  کیونکہ یہ فلم ملزمان نے دیکھ لی ہے تو یہ فلم مدعی کو نہ دکھا نا سخت زیادتی ہوگی
جس کے بعد سانپ والی فلم ملزمان کے ساتھ ساتھ مدعی کو بھی دکھائی گئی
لیکن  مسخرے کی تبلیغ کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی اور صلح نہ ہوسکی  اب آدھا دن گزرچکا تھا مجھ سمیت  تمام وکلاء کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ مسخرے کو کام وغیرہ کچھ نہیں آتا وہ صرف اور صرف ٹائم برباد کرنے کی مشین ہے
میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کورٹ میں موجود تھا اور مشکوک انداز میں نوٹس لے رہا تھا پہلے مجھے  یہ شک ہوا کہ یہ کسی ایجنسی کا آدمی ہے

پھر کیا ہوا یہ اگلی قسط میں
پہلی اور دوسری قسط  بھی منسلک ہیں
چورن پور کا مسخرہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
پہلی قسط ۔۔۔1
دوسری قسط۔۔۔۔2
ساحلی شہر چورن پور کی مرکزی غلہ منڈی  کھل چکی تھی اور کاروبار کا آغاز ہوچکا تھا ایک طرف اونٹ گاڑیاں غلہ لیکر اندرون شہر جارہی تھیں تو دوسری طرف   لوڈنگ گاڑیاں بیرون شہر سے غلہ لیکر پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے حسب معمول ٹریفک جام ہوچکا تھا آسمان پر ہزاروں کی تعداد میں چیلیں اڑ رہی تھیں اور آوازیں نکا ل نکال کر اپنی موجودگی کا احساس دلارہی تھیں
چورن پور کی  مرکزی غلہ منڈی کے سامنے برٹش دور کا قدیم پھانسی گھاٹ تھا جہاں ایک  خشک  آسیب زدہ درخت کے عقب میں  ایک آسیب زدہ پرانی مگر باوقار برٹش  دور کی   پتھر سے بنی  ہوئی بلڈنگ تھی  پھانسی  گھاٹ  کے ساتھ  واقع آسیب زدہ درخت کے بارے میں مشہور تھا   کہ اس پر کبھی کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا تھا  جبکہ  پھانسی  گھاٹ  کے نیچے واقع ایک کمرہ عدالت  میں تعینات  جج  نے چند سال پہلے ایک جج نے  پراسرار طورپر اپنے گھر کے اندر خودکشی کرلی تھی اس کے علاوہ وہاں ایک مخصوص عدالت میں ججز ہمیشہ نفسیاتی ہوکر ہی نکلے تھے
میں اپنے کلایئنٹ کے ساتھ چورن پور کی  سیشن عدالت میں  داخل ہوا جو اسی آسیب زدہ بلڈنگ میں قائم تھیں  سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے تھوڑا سا خوف محسوس ہوا لیکن میں نے چند وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے جس کے بعد دل میں ذرا سا سکون محسوس ہوا اور میں نے اپنے آپ کو آسمانی اور زمینی بلییات سے  محفوظ محسو س کیا لیکن اس کے باوجود دل میں ایک نامعلوم نوعیت کا خوف محسوس ہوا جس کی وضاحت الفاظ میں نہیں کی جاسکتی
آسیب ذدہ بلڈنگ کی آسیب زدہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میری نظر سامنے لگے  کلوز سرکٹ کیمرے پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح خراب تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس خراب کلوز سرکٹ کیمرے  سے  چند نامعلوم  آنکھیں گھورتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وکلاء اور سائلین حسب معمول  عدالت میں پیش ہورہے تھے ایک طرف سیڑھیوں سے ملحق  ایک لفٹ زیر تعمیر تھی  جس  پر کافی عرصے سے کام رکا ہوا تھا اس حوالے سے بھی ایک پراسرار داستان مشہور تھی  اگرچہ میں نے ہمیشہ کی طرح وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے تھے  کام  کی زیادتی کی وجہ سے اور چند دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں کیسز کی تیاری نہیں کرسکا تھا اور چند نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر دل  میں ایک عجیب سی اداسی تھی  اور کام کی زیادتی کی وجہ سے دل میں پریشانی سی تھی اس کے بعد آگے چل کر صرف چند منٹ کے بعد ہی چورن پور میں میرے ساتھ ایک ایسا عجیب  اور پراسرار واقعہ ہوا جو ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیااور اس واقعہ نے زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی پیدا کی
جب  میں آسیب زدہ بلڈنگ کی مشکل سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا تو ہلکا سا سانس پھول گیا سامنے   ایک  چھوٹا سا آسیب ذدہ شکایت  بکس لگا ہوا تھا جس پر لگا ہوا   زنگ آلود تالا اس کے آسیب ذدہ ہونے کا اعلان  کررہا تھا  بظاہر   اس تالے کو کبھی نہیں کھولا جاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام کو اندھیرا چھا جانے کے بعد  اس آسیب زدہ بلڈنگ میں روحوں کی ہرروز لگنے والی عدالت میں اس تالے کو روز کھولا جاتا ہے  اور درج ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتاہے مشہور ہے کہ چورن پو ر میں  ہرروز روحوں کی اپنی ایک عدالت لگتی ہے اور رات کو خوب  چہل پہل ہوتی ہے
حقیقت یہ ہے کہ چورن پور کی  رات کی عدالتوں کے فیصلے نہایت ہی سخت ہوتے ہیں  جن لوگوں کو   چورن  پور کی  حدود میں واقع   عدالتوں  سے دنیا میں انصاف نہیں  ملتا  چورن پور کے مظلوم شام کو   عدالت لگا کر  الگ سے کیس چلاتے ہیں اور سزا سناتے ہیں اس عدالت کی شان ہی کچھ اور ہے یہ دنیا کی واحد عدالت ہے  جو شام کو لگائی جاتی ہے   چورن پور کی شام کی عدالت دنیا کی واحد عدالت ہے جس کے فیصلے میرٹ پر سنائے جاتے ہیں  اور فوری طورپر نافذ العمل ہوتے ہیں  چورن پور کی شام کی عدالت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شام کو بیٹھنے والے ججز پولیس کے ذہنی ماتحت اور ذ ہنی  غلام بھی نہیں ہیں
چورن پور کی رات کی عدالتوں کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ جب انگریز دور میں مجاہدین آازدی کو نام نہاد مقدمات  چلا کر  عدالت  سے متصل پھانسی گھاٹ قائم کرنے کے بعد پھانسی کی سزایئں سنائی گئیں تو اس کے کچھ عرصے کے بعد ہی یہاں  پراسرار واقعات جنم لینا شروع ہوگئے تھے
آزادی کے بعد جب چورن پور کا قیام عمل میں آیا تو انصاف کا چورن بنادیا گیا  شروع دن سے ہی انصاف کا  مذاق بنایا گیاتھا  یہاں عدالتوں میں سرعام قتل کرنے والوں کو رشوت کا بازار گرم کرکے چھوڑ دیا جاتا تھا اور مظلوم  بے بسی کی تصویر بن کر  چورن پور کی قدیم بلڈنگ کے ساتھ ہی سر پھوڑ کر گھر واپس چلے جایا کرتے تھے اکثر مظلوم  جھولی پھیلا کر بددعائیں دیتے تھے اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا کرتے تھے
جس کے بعد چورن پور میں ایک علیحدہ سے  متوازی  عدالت قائم ہوگئی جو  رات کے وقت قائم ہوتی تھی ان عدالتوں میں صرف قتل کے مقدمات چلتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر قاتلوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں  یہاں نہ وکیلوں کو جرح کی اجازت ہوتی ہے نہ پولیس کی رپورٹ کا انتظار کیا جاتا ہے  چورن پور کی رات کی عدالتوں کا اپنا ایک نظام ہے ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے نہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں
 ویسے تو چورن پور کی شام کی عدالتوں نے  بے شمار مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں  بے شمار قتل کے ملزمان  کو موت  کی سزائیں  سنا کر ان پر عمل درآمد  بھی کردیا گیا لیکن چورن پور کی رات کی عدالتوں میں جو سب سے بڑا اور اہم مقدمہ آج تک آیا ہے وہ ایک فیکٹری میں چار سو مزدوروں کو زندہ  جلانے کا تھا  جب چورن پور کی ایک فیکٹری میں سینکڑوں  غریب ملازمین کو زندہ جلا کر کوئلہ بنادیا گیا  تھا
پہلے یہ مقدمہ  چورن پور کی مقامی عدالت میں چلایا گیا جس میں تفتیشی افسر نے پانچ کروڑ روپے رشوت لیکر ان لوگوں کے خلاف چالان پیش نہیں کیا جنہوں نے فیکٹری کو آگ لگائی تھی بلکہ بے گناہ  فیکٹری مالکان سے ہی پانچ کروڑ روپے لیکر ان ہی کے خلاف چالان بھی پیش کیا لیکن قتل کی سیکشن ختم کرنے اور مقدمے کا چورن چٹنی بنانے کے  لیئے رشوت وصول کرلی
تفتیشی افسر اسی رشوت کی رقم  سے حج کی سعادت حاصل کرنے گیا تو اس دوران اس کی نوجوان  بیٹی کا اچانک ہی انتقال ہوگیا اور اس کو بیٹی کا جنازہ پڑھنا بھی نصیب  نہ ہوا
جب واپس آیا تو ایک نفسیاتی مریض بن کر واپس لوٹا  رشوت کی رقم اب بوجھ بن چکی تھی   شاید چورن پور کی شام کی عدالت نے اس کو کوئی ایسی سزا سنائی کہ  وہ ہمیشہ کیلئے چپ ہی  ہو گیا ہے بس خاموشی سے چپ چاپ آفس میں بیٹھا رہتا ہے  عدالت میں آتا ہے تو چپ ہی رہتا ہے   بس دیوار کو تکتا رہتا ہےاسی رشوت کی رقم سے  اب اس تفتیشی افسر نے  اپنے علاقے میں ایک مسجد بناکر  زیادہ دیر مسجد میں بیٹھا رہتا ہے   اسی طرح  چورن پور کی فیکٹری  میں چار سوافراد کو زندہ جلانے والے کسی بھی کردار کو سکون نصیب نہ ہوا چاہے وہ شخص جس نے پلاننگ کی اور چاہے وہ لوگ  جنہوں نے آگ لگائی 
ان سب کو سزا ضرور ملے گی ۔۔۔۔مل رہی ہے
ذمہ داران  خود ہی سامنے آرہے ہیں اور  مظلوموں کی عدالتیں مجبور کررہی ہیں کہ وہ خود عدالتوں میں آکر اپنے جرائم کو قبول کریں  وہ خود ہی قبول کررہے ہیں
چورن پور میں فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے والے ایک درجن اہم ترین کرداروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی عبرت  ناک ہے لیکن فی الحال اس کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے
فیکٹری کو آگ لگانے والے بہت سے کردار تھے اگر ریسرچ کی جائے تو سب کے سب برے انجام کا شکار ہیں 
بہت سے قاتل خوشی خوشی رشوت دیکر رہا ہوجاتے ہیں لیکن جب مقدمہ شام کی عدالت میں چلتا ہے  اور وہاں سے سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو وہی قاتل صرف روز بعد  ہی یاتو پولیس مقابلے میں مرجاتا ہے یا موت خود ہی اس کو تلاش کرتی ہوئی آتی ہے اور اس کو دبوچ لیتی ہے ۔۔۔۔وہ سزا بڑی ہی سخت ہوتی ہے
چورن پور میں بے شمار بے گناہوں کو قتل کیا گیا بے شمار قاتل رہا ہوئے اور قانون کی گرفت میں وہ کبھی بھی نہیں آئے  اور اگر قانون کی گرفت میں آئے بھی تو وہ گرفت اس قدر ڈھیلی تھی کہ باآسانی رہا ہوگئے لیکن ایک بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  چور ن پور کی رات کی عدالتوں نے آج تک کسی ملزم کو نہیں چھوڑا

میں نے چورن پور سے رشوت  دے کر باعزت طورپر بری ہونے والے قاتلوں کو ہمیشہ غیر فطری  اور بدترین موت کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا ہے  اگر آپ کے پاس وقت ہو  تو تحقیق کرکے دیکھ لیں کہ چورن پور میں جتنے بھی قتل کے مقدمات چلے اور کسی وجہ سے رشوت دیکر یا کسی اور طریقے سے رہا ہوگئے تھے اور ورثاء  نے ان کو معاف نہیں کیا تھا  اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہوا تھا تو ان کا انجام کیا ہوا  ان کا حشر کیا ہوا
ان سب کو سزا ملی ہے ان سب کو عبرت ناک سزا ملی ہے اور ایسی موت ملی جسے دیکھ کر لوگوں نے دعا کی کہ خدا کسی دشمن کو بھی ایسی سزا  نہ دے
یہ  چورن پور کی روحوں کی کہانی بھی عجیب و  غریب ہے مشہور ہے کہ  فرنگیوں کے دور میں جب آسیب زدہ بلڈنگ سے منسلک قدیم پھانسی گھاٹ میں ہزاروں  بے گناہوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا  تو ان کی روحیں آج تک وہاں بھٹکتی پھرتی ہیں بعد ازاں  ان روحوں کی چورن پور کے ان زندہ  مظلوموں سے دوستی ہوگئی جن کے  پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن  قاتل عدالت سے بچ نکلے  اور ان کو عدالت سزا  سنانے میں کامیاب نہ ہوسکی   کچھ عرصے بعد ہی چورن پور میں شام کی متوازی  عدالتیں  قائم ہوگئیں  اور صرف قتل  کے  مقدمات شام  کی عدالتوں پیش کیئے جانے لگے  اور باعزت بری ہونے والے قاتل اپنی بریت کے کچھ عرصے بعد ہی  پراسرار اموات کا شکار ہونے لگے

  قدیم لاک اپ کے سامنے نیم کے درختوں نے ایک سوکھے ہوئے درخت کو اپنے درمیان چھپا رکھا ہے اس پر کبھی بھی  کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا  اس بظاہر سوکھے ہوئے قدیم درخت کو کاٹنے کی جب بھی کوشش کی گئی ناکامی ہوئی مشہور ہے کہ یہاں بھی چند روحوں کا  مستقل قیام ہے

اسی  طرح لفٹ کی تنصیب  کے دوران جب زمین کو وہاں کے  مکینوں کی اجازت کے بغیر ہی  کھودا گیا تو آسیب زدہ بلڈنگ کے  کے مکینوں نے اس بات کا سخت برا منایا   اور اس کھدائی کو   اپنے سسٹم  کی حدود میں مداخلت قرار دیا بعد ازاں    لفٹ کی تنصیب کیلئے جس کمپنی کو ٹھیکہ ملا تھا اس کا چیف ہی اغواء ہوگیا تھا بعد ازاں معافی تلافی کے بعد  چورن پور کے  سینکڑوں برس  قدیم  مکینوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور بچہ   مشکل سے واپس ملا   لیکن مل گیا  اس کے بعد سے ابھی تک  لفٹ کی تنصیب کا کام کھٹائی میں پڑا ہوا ہے
میں نے  سائلین کی شکایات    کیلئے نصب  پرانے بکس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے کو ترجیح دی اور سیکنڈ فلور پر  پہنچ گیا  سیدھے ہاتھ پر پانچ کمرے چھوڑ کر عدالت میں جاکر بیٹھ گیا ابھی جج کے آنے میں زرا تاخیر تھی
اس دوران اعلان ہوا کہ ساب آرہے ہیں  ہم کھڑے ہوگئے میں نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ  ہٹا کٹا     ملنگ نما پہلوان جھومتا ہوا عدالت میں داخل ہوا 
آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا  جبکہ  بالوں میں تیل یوں چپڑا ہوا تھا جیسے   ساب نے سرپر تیل نہیں لگایا بلکہ  تیل کی کڑھائی میں سر آدھا گھنٹہ ڈبو کر بالوں میں تیل  کی چمپی  کی تھی
رنگ  زیادہ سیاہ  تو نہیں  تھا   لیکن دل کی سیاہی  نے چہرے کی سیاہی پر بہت زیادہ اثر ڈالا تھا  مجھے ایک بار محسوس ہوا کہ اداکار رنگیلا مرحوم سنجیدہ ہوکر بیٹھ گیا ہو بظاہر وہ شخص مجھے سنجیدہ  سا محسوس ہوا  اسی دوران آفس بوائے نے ساب کے سامنے ٹھنڈے پانی کا لال رنگ کا  "مگا "  رکھا جس پر  بہتے ہوئے آبی بخارات اس پانی کے یخ ٹھنڈا ہونے کی گواہی دے رہے تھے 
باہر پٹے والوں کے آوازیں گونج رہی تھیں
میں نے کاز لسٹ اٹھا کر دیکھی تو میرا کیس بیسویں نمبر پر لگا ہوا تھا میں نے جاکر پیش کار کو بتایا کہ بیس نمبر پر کیس لگا ہوا ہے تو ساب کے چہرے پر شدید ناگواری اور ناپسندیدگی کے تاثرات نظر آئے  پیش کار نے بتایا سرگوشی والے لہجے میں بتایا کہ تشریف رکھیں نمبر آنے پر کیس چلے گا
اسی دوران ساب نے  پانی کے "مگے " سے  پانی پیا
میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہورہی ہے  میں نے پیش کار سے پوچھا کہ ساب کب آئیں گے تو پیش کار نے  سرگوشی میں کہا یہی تو ساب ہے جو سامنے بیٹھا ہوا ہے
میں نے کہا  ساب ایسے ہوتے ہیں  یہ کس قسم کے ساب آرہے ہیں آج کل
 پیش کار نے کہا جی اسی قسم کے ساب آرہے ہیں آپ کو کوئی اعتراض ؟ 
 یہ سن کر مجھے زرا شرمندگی ہوئی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صاحب کسی  مزاحیہ ڈرامے کی شوٹنگ کیلئے تشریف لائے ہیں
ساب کے  چہرے پر بہت زیادہ  اور گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی  صاف محسوس ہوتا تھا  ساب سنجیدہ نظر آنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں 
میں کازلسٹ دوبارہ دیکھی تو مجھے ایک بار پھر شدید جھٹکا لگا کیونکہ کازلسٹ میں بہت سے قتل کے مقدمات بھی شامل تھی  مجھے ان تمام ملزمان  اور مدعیان سے دل میں بہت زیادہ ہمدردی محسوس ہوئی  کہ جن کے مقدمات وہاں لگے ہوئے تھے
خیر عدالتی کاروائی شروع ہوئی اور ساب نے پہلا کیس ہی قتل کا اٹھایا
پٹے والے نے آواز لگائی تو ایک پولیس افسر عدالت میں پیش ہوا
سنجیدہ ساب جو خاموشی سے مرحوم  اداکار رنگیلا کی سنجیدہ  فوٹو کاپی بنا بیٹھا تھا یوں محسوس ہوا جیسے پولیس والے پر نظر پڑتے ہی  وہ بے چین سا ہو گیا  اس میں  کرنٹ  دوڑ  گیا ہو اس کی حالت یوں ہوگئی جیسے "تسے داند" (پیاسے بیل )  کے سامنے کسی نے لال رنگ کا کپڑا لہرا دیا ہو اور پیاسے  بیل یعنی  تسے داند کی طرح  سامنے والے کو اپنے سینگ سے ٹکر مارنے کیلئے رسا تڑا کر بھاگنے کی تیاری کررہا    ہو اور   گرم گرم  سانسیں لیکر مدمقابل پر حملہ آور ہونے کیلئے تیار ہوگیا ہو  اور زمین پر  اگلے  دونوں پاؤں رگڑ رگڑ کر مدمقابل  کو اپنے سینگوں سے ٹکر مارنے کی تیاری کررہا ہو