Sunday, 14 August 2016

انصاف کا خون کرنے والوں کا خون تحریر صفی الدین

انصاف کا خون کرنے والوں کا خون تحریر صفی الدین
کل میں اپنی دھن میں مست تنہا جارہا تھا تو اچانک زمین سے آواز آئی غور سے سنا تو میری زمین میری دھرتی زاروقطار رورہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھرتی نے کہا کہ میں پیاسی ہوں میں نے اپنی پیاس بجھانی ہے
میں نے غصے سے کہا کہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کی جان لیکر بھی تیری پیاس نہیں بجھی کتنے ہی لوگ خود کش بم دھماکوں میں شہید ہوگئے یہ تیری پیاس کی ہوس کیسے کم ہوگی کتنے لوگ روڈ پر دہشت گردی کی نظر ہوگئے لیکن تیری پیاس کم نہ ہوئی بڑھ گئی ہے

دھرتی نے جواب دیا بس آخری بار ہی اب پیاس بجھانی ہے
جن لوگوں نے اس دھرتی پر بیٹھ کر انصاف کا خون کیا اب آخری بار ان کا خون پینا ہے

دھرتی نے کہا انصاف کا خون کرنے والوں سے اب میں خود انصاف کروں گی
یہ کہہ کر میری دھرتی خاموش ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر خوفناک قسم کی سرسراہٹ اور آہٹ محسوس ہونے لگی

Thursday, 11 August 2016

چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ کے نام ایک کھلا خط تحریر صفی الدین اعوان

   محترم  جنا ب چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ


جناب اعلٰی
دوسری جنگ عظیم کے دوران چرچل سے جنگ کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو وہ قوم سے ایک ہی سوال کرتا تھا کہ کیا برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں  قوم کی طرف سے جواب ملتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں
چرچل جواب دیتا تھا کہ جب تک اس ملک کی عدالتیں شہریوں کو انصاف فراہم کررہی ہیں اس وقت تک  کوئی قوم برطانیہ کو شکست نہیں دے سکتی ۔۔ اور یہ بات سچ ثابت ہوئی  
حبس بے جا ایک مشہور زمانہ   ضابطہ ہے قانون کا ایک عام طالبعلم اور ایک عام وکیل بھی جانتا ہے کہ حبس بے جا کی رٹ کیا ہوتی ہے
لیکن یہ اعزاز صرف سندھ ہایئکورٹ کو حاصل ہے کہ   گزشتہ دنوں  یہ بات سامنے آئی کہ ایک چوبیس سال کی سروس کرنے والی اور ڈبل پروموشن حاصل کرکے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک جج صاحبہ کو یہ نہیں پتا تھا کہ حبس بے جا کیا ہوتی ہے
اسی طرح ایک  چودہ سال کی سروس کرنے والے ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو  بھی حبس بے جا کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ حقیقت ہرلحاظ سے شرمناک  اور افسوسناک ہے لیکن اس میں ان دونوں ججز کا کیا قصور؟
قصور تو ان نااہلوں کا ہے جنہوں نے اپنے جیسے ان نااہلوں کو  ایک بار نہیں دوبار پروموشن دی
گزشتہ دنوں ہی یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو ججز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سلیکشن کیلئے این ٹی ایس کے امتحانات میں وکلاء کے ساتھ   گزشتہ چھ سال سے شریک ہوکر بار بار فیل ہوتے رہے ہیں ان کو پروموشن کمیٹی نے ڈبل پروموشن دے کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا کر  اس ملک میں سول وار اور خانہ جنگی کی راہ ہموار کردی ہے
سیلیکشن کمیٹی کے وہ ممبران جنہوں نے این ٹی ایس فیل ججز کو پروموٹ کیا بلاشبہ وہ اس   قوم کے مجرم ہیں جن کی کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے اس ملک کو یہ دن دیکھنا پڑا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو یہ پتا  ہی نہیں کہ حبس بے کی رٹ کیا ہوتی ہے
دوسری طرف سندھ ہایئکورٹ نے ایک بار پھر میرٹ کی دھجیاں اڑا کر اسی  پروموشن بورڈ کے ممبران کے زریعے جو اس صوبے کے عوام کو دھوکہ دے کر نااہل ججز کو عدلیہ پر مسلط کرکے اس ملک میں سول وار اور خانہ جنگی کی بنیاد رکھ چکے ہیں وہ دوبارہ  میرٹ کا جنازہ نکال کر  ڈرامہ رچانے کا پروگرام بنا چکے ہیں
سندھ ہایئکورٹ کی جانب سے جاری کردہ  اشتہار میں یہ بات کہیں بھی نہیں لکھی ہوئی ہے کہ عدالتی نظام میں این ٹی ایس فیل سفارشی اور نااہل ججز کو نوازنے اور ان کو دوبار پروموشن دینے کے بعد  اس وقت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی کتنی سیٹیں خالی ہیں  سوال یہ ہے کہ جب تمام سیٹوں پر این ٹی ایس میں فیل ہونے والے نااہلوں کی فوج بٹھا دی گئی ہے تو پھر یہ این ٹی ایس کا ڈرامہ کیوں رچایا جارہا ہے کیوں لوگوں کا قیمتی وقت ضائع کررہے ہو
ملک میں آپریشن ضرب عضب چل رہا ہے لیکن ایک نہیں ایک ہزار آپریشن ضرب عضب کروالیئے جایئں  جب تک عدالتی نظام میں موجود نااہلوں  کے خلاف  آپریشن ضرب عضب کرکے اہل ججز عدلیہ میں تعینات کرکے ان کے زریعے ملزمان کو سزا دینے کا کوئی نظام نہیں بنایا جاتا اس وقت تک سارے  ضرب عضب اور فوجی آپریشن بے کار ہیں دوسری طرف سندھ ہایئکورٹ نے نااہل ججز کو تعینات کرکے اس ملک میں سول وار کی راہ ہموار کردی ہے دوسری طرف چیف جسٹس پاکستان نے تسلیم کیا کہ  نوے فیصد ملزمان عدالتوں سے باعزت بری ہوجاتے ہیں اگرچہ چیف صاحب نے ملبہ پراسیکیوشن  پر ڈال دیا ہے لیکن  جن ججز کو  حبس بے جا کے ضابطے کا علم نہیں وہ کسی ملزم کو سزا کیا سنائیں گے اور پراسیکیوشن یا  جھوٹا مقدمہ بنانے والے تفتیشی افسر کے خلاف کیا کاروائی کریں گے وہ صرف تھوک کے حساب سے صرف ملزمان کو رہا ہی کرکے ملبہ پراسیکیوشن پر ہی ڈال سکتے ہیں  
اس پس منظر میں چیف جسٹس ہایئکورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طورپر  اخبارات میں اشتہار دے کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں کی تعداد اناؤنس کی جائے تاکہ شفافیت قائم ہو
ہم چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں  گزشتہ چھ سال کے دوران جو ججز این ٹی ایس  کے امتحانات میں شریک ہوکر فیل ہوتے رہے ہیں ان کا ریکارڈ طلب کرکے اس ریکارڈ کی روشنی میں تمام پروموشن کو  کالعدم قرار دیا جائے اور ان نااہلوں کو برطرف کیا جائے  اور نااہل  پروموشن بورڈ میں شامل ان تمام قابل احترام جسٹس صاحبان کے خلاف پورے احترام کے ساتھ  ان کے ریفرنس بنا کر جوڈیشل کمیشن میں  بھیجا جائے

ججز کو پروموشن  دینے   کیلئے کریمینل  کیسز میں  ڈسپوزل پالیسی کو فوری طور پر ڈسپوز کیا جائے اس پالیسی کو واش روم میں فلیش کردیں اور پروموشن کو   ججز کی کارکردگی سے مشروط کردیں  کہ کتنے کیسز میں ملزمان کو سزا دی اور جھوٹے مقدمات بنانے والے کتنے تفتیشی افسران  کے خلاف مقدمات قائم کیئے  یہ پروموشن کا معیار ہونا چاہیئے  اسی طرح پروموشن کیلئے ڈیپارٹمینٹل ٹیسٹ ہونا چاہیئے
ہم چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں  صوبائی سیلیکشن بورڈ توڑ دیاجائے  اور  صاف ستھرے اجلے کردار  اور باضمیر افراد پر مشتمل جسٹس صاحبان   کو سیلیکشن بورڈ  میں شامل کیا جائے
 چیف جسٹس صاحب اگر این ٹی ایس فیل ججز کو دو بار پروموشن دینے کے عمل میں اگر آپ خود بھی شریک ہیں تو اصولی طور پر پاکستان کی مظلوم عوام سے معافی مانگ کر آپ کو اپنے عہدے سے استعفٰی دے دینا چاہیئے  کیونکہ نااہل ججز کو عدالتوں میں تعینات کرکے  نہ صرف صوبہ سندھ کے عدالتی نظام پر ضرب کاری لگا کر ایک خودکش حملہ کردیا ہے بلکہ  انصاف کے نظام کو تباہ  و برباد کردینے کے بعد   پاکستان میں سول وار اور خانہ جنگی کی راہ ہموار کردی ہے  اور یہ آپریشن ضرب عضب کو بھی ناکام بنانے کی کامیاب سازش ہے
سابق صوبائی سلیکشن بورڈ کے چیئرمین   جسٹس مشیر عالم نے خود کہا تھا کہ نااہلوں کو جج لگانے سے بہتر ہے کہ کسی کو جج لگایا ہی نہیں جائے 
لیکن کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ  جسٹس مشیر عالم سابق چیئر مین صوبائی سیلیکشن بورڈ نے جن لوگوں کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سیٹ کیلئے نا اہل قرار دیا تھا آج  وہ سب کے سب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج بن چکے ہیں  اور جس جسٹس مشیر عالم کی زیر نگرانی این ٹی ایس کے امتحان میں شریک ججز  نمایاں نمبروں سے فیل ہوگئے  تھے ان میں سے نوے فیصد ججز کو سینیارٹی کا بہانہ  بناکر  پروموشن دے دی گئی ہے   اس سے بڑھ کر افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ جسٹس مشیر عالم صاحب نے پورے صوبے سے جو صرف تین ہیرے تلاش کیئے تھے ان کے میرٹ کا یہ عالم تھا کہ  ان  میں سے دوججز  بنیادی قابلیت کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتے تھے یعنی بنیادی شرط یہ تھی کہ  امتحان  میں شرکت  کیلئے جج کی چھ سال کی سروس ہونا ضروری تھی لیکن سفارش اتنی  بڑی تھی کہ قواعد وضوابط توڑ کر ان کی دھجیاں اڑانے کے بعد اس جج کو کامیاب قرار دیا گیا  جس ہیرے کو پورے صوبے سے میرٹ  کی بنیاد پر تلاش کیا گیا  اس کی  سروس صرف چار سال تھی  اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  کرپشن کس  بدمعاشی  اور غنڈہ  گردی  سے کی جاتی ہے اور آج وہ ہیرا صوبہ سندھ میں سروس ہی نہیں کررہا وہ اسلام آباد بیٹھا ہے  اور تنخواہ سندھ ہایئکورٹ ادا کرتی ہے  
اس پر میں نے ایک بلاگ بھی لکھا تھا کہ  " پپا اوتھ  نہ لینا" جو   ہمارے اردو بلاگ پر موجود ہے

باقی مختصر یہ ہے کہ   اگر آزاد عدلیہ سے مراد کرپشن کی آزادی ہے اقرباء پروری کی آزادی  میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی آزادی  تو آپ سب لوگ سخت  غلطی کررہے ہیں
کیا پاکستان کی عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب ہے بالکل بھی  نہیں
 این ٹی ایس ججز کو پروموشن  دینے والے بدعنوان عناصر پر مبنی صوبائی سیلیکشن بورڈ کو کسی صورت تسلیم  نہیں کیا جاسکتا 
چیف جسٹس  سندھ  ہایئکورٹ  صاحب گزارش ہے کہ تین دن کے اندر صوبائی سیلیکشن بورڈ کو توڑ کر   ان  لوگوں پر مشتمل  بورڈ  تشکیل  جائے جو  این  ٹی ایس  فیل ججز کو پروموشن  دے کر ملک کو سول وار اور خانہ  جنگی  کے راستے پر  لے  جانے کے جرم  میں  شریک  نہیں ہیں 
 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی  سیٹوں کی تعداد کا اعلان کرنے  کے بعد  این ٹی ایس کے  نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے اور موجودہ  صوبائی سیلیکشن بورڈ کی جانب سے  تشکیل دیئے گئے شیڈول کو منسوخ کیا جائے
چیف جسٹس صاحب میں آپ  کو یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ سندھ ہایئکورٹ آپ کی یا کسی کی بھی ذاتی جاگیر نہیں ہے   عدلیہ کو جو بجٹ دیا جاتا ہے وہ اس غریب ملک کے عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس  عدالتی  نظام کو ایک آئین کی روشنی میں چلانے کے آپ بھی پابند ہیں  کسی قسم کی من مانی  کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جاسکتی
چیف جسٹس پاکستان اور کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی بینچ نے  سندھ پولیس  کو پروموشن اور نئی تعیناتیوں کے حوالے جو گایئڈ لائن   دی تھی اور پاکستا ن بھر کے سرکاری اداروں  کو  نئی تعیناتیوں کیلئے  سارا  دن  جو نصیحتیں   آپ لوگ کرتے ہیں  اس پر سب سے پہلے آپ لوگ خود عمل کرنے کے پابند ہیں اس لیئے گزارش ہے کہ فوری ایکشن لیاجائے  
شکریہ
صفی الدین اعوان

Sunday, 7 August 2016

لاء سوسائٹی پاکستان کی ممبر شپ کا اعلان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفی الدین اعوان

لاء سوسائٹی پاکستان اپنی  تنظیمی ممبرشپ کا اعلان کرتی ہے
اپنی جدوجہد کے تین سال مکمل ہونے کے بعد لاء سوسائٹی پاکستان اپنی  ممبر شپ کا اعلان کرتی ہے یہ ممبرشپ پورے پاکستان میں ہوگی لاء سوسائٹی پاکستان کے قیام کا  بنیادی مقصد  عدالتی اصلاحات  تھا  عدلیہ میں سب سے پہلے بے خوف ہوکر کرپشن  اور نااہلی  کے خلاف لاء  سوسائٹی  نے آواز اٹھائی اور بدعنوان عناصر کے خلاف ٹھوس شواہد عدلیہ کو فراہم کیئے جس کے نتیجے میں  صوبہ سندھ سے تیس کے قریب بدعنوان ججز کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا
ججز کی نااہلی کا معاملہ سب سے پہلے لاء سوسائٹی پاکستان نے اٹھایا اور صوبہ سندھ میں  ان ججز کی نشاندہی لاء سوسائٹی پاکستان  نے کی جو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز کے امتحانات میں شریک ہوکر فیل ہوگئے تھے اور بعد ازاں  ان نااہلوں کو غیرقانونی طورپر پروموشن دے دی گئی ہے   اور اس وقت سو سے زائد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ایسے موجود ہیں جو کسی بھی طرح اس سیٹ  پر بیٹھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاء اللہ اس معاملے کو جلد آئینی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا
لاہور ہایئکورٹ کے چیف جسٹس اسی راستے پر چل رہے ہیں جس کی نشاندہی لاء سوسائٹی پاکستان ہمیشہ سے کرتی چلی آرہی ہے  اور انشاء اللہ پنجاب سے ایک سوسے زائد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور جوڈیشل  مجسٹریٹ جو کرپشن میں ملوث ہیں بہت جلد وہ اس عدالتی نظام کا حصہ نہیں ہونگے
لاء سوسائٹی پاکستان نے  عدلیہ  سے منسلک ہمیشہ سلگتے ہوئے مسائل پر کھل کر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے  
موجودہ دور میں تھانہ کلچر ایک سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے  اور تھانہ کلچر کا خاتمہ صرف آزاد اور خودمختار عدلیہ ہی کرسکتی ہے
بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسی عدلیہ موجود ہے جو  پولیس کی ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت ہے اس کی اہم وجوہات میں  نااہلی اور لیڈرشپ کا فقدان ہے  ایک عام پولیس کا سپاہی اور معمولی پولیس  افسر عدالتی احکامات کی حکم عدولی کرتے رہتے ہیں  جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے  
ذہنی غلام عدلیہ  اور ذہنی ماتحت عدلیہ خاموش تماشائی بن کر یہ سارا تماشا دیکھتی رہتی ہے اور حکم عدولی میں  ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کبھی ایکشن نہیں لیئے جاتے
ہر سال پولیس لاکھوں افرد  کو پولیس گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کرتی ہے  جن کو ایک بے مقصد قسم کے کورٹ ٹرائل سے گزارنے کے بعد  نااہل ججز رہاکردیتے ہیں  لیکن پولیس اور عدلیہ کے درمیان ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی کے خفیہ معاہدے کے تحت عدلیہ کبھی بھی کسی پولیس افسر کے خلاف ایکشن نہیں لیتی   ہم اسی ذہنی ماتحتی اور ذہنی غلامی کا خاتمہ چاہتے ہیں
لاء سوسائٹی پاکستان  ایک ایسی عدلیہ چاہتی ہے  جو قانون شکن عناصر کو سزا دے اور اگر کسی بے گناہ انسان کے خلاف پولیس مقدمہ قائم کرتی ہے  اور ٹرائل کے دوران یہ بات ثابت ہوجاتی ہے تو عدلیہ ان پولیس افسران کے خلاف ایکشن لے ان کے خلاف مقدمات قائم کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موجودہ صورتحال میں ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ پولیس کا  خوف ججز کے دلوں میں موجود ہے  چیف جسٹس پاکستان بھی اپنی نااہل عدلیہ کی نااہلی  تسلیم کرچکے ہیں کہ  نوے فیصد ملزمان  پراسیکیوشن کی غلطی سے رہا ہوجاتے ہیں  جس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری عدلیہ نے ملزمان کو رہا کرتے وقت کسی پولیس افسر کے خلاف ایکشن نہیں لیا جس کی غفلت سے  ملزمان رہا ہوجاتے ہیں
اس کے باوجود قابل قدر ججز لاء سوسائٹی پاکستان سے منسلک ہیں جو نہ صرف پولیس افسران کے خلاف سخت قسم کے ایکشن لیتے ہیں بلکہ ان کو عدالت کی حکم عدولی پر جیل بھیجتے ہیں  اور بے گناہ افراد کے خلاف مقدمات قائم کرنے والے پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کاروائیاں کرتے ہیں  لیکن ایسے ججز کی تعداد کم ہے
عدالتی اصلاحات کے حوالے سے لاء سوسائٹی پاکستان نے جسٹس صاحبان  سیشن ججز سینئر سول ججز  اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور مجسٹریٹ صاحبان کے ساتھ    انفرادی سیشن کیئے ہیں   جس کے نتیجے میں بے شمار مسائل ابھر کر سامنے آئے ہیں  
ہم آپ کو لاء سوسائٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں  اگر آپ کسی وکلاء گروپ سے منسلک ہیں تو آپ ہمدرد بن کر ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں  لیکن وہ لاء سوسائٹی کے  مشاورتی  اور تنظیمی سیٹ اپ میں شامل نہیں ہوسکتے  اسی طرح دوسرے گروپس میں شامل تمام ممبران کی ممبر شپ   کا  درجہ تبدیل کرکے ان کو ہمدرد کا درجہ  دے دیا گیا ہے اور اب  ان کو کسی بھی  تنظیمی فیصلے، مشاورت   اور اجلاس میں شامل نہیں کیا جائے گا
نئے تنظیمی سیٹ اپ کا اعلان  15ستمبر 2016کو کیا جائے گا
سول سوسائٹی  اور عام شہری بھی لاء سوسائٹی میں شامل ہوسکتے ہیں   اس کیلئے ممبر شپ فارم  چودہ اگست سے دستیاب ہوگا
اس کے ساتھ ہی ہم عدلیہ سے  پولیس کی ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی  کے خاتمے کی ملک گیر مہم کا اعلان کرتے ہیں
یہ مہم چودہ اگست   2016سے شروع ہوگی
ہمارے مطالبات بالکل واضح ہیں کہ
  عدلیہ کے احکامات کی حکم عدولی کرنے والے افسران کو جیل بھیج کر ذہنی غلامی اور ذہنی ماتحتی کے خاتمے کا اعلان اور عملی ثبوت  فراہم کیا جائے   
ڈسپوزل پالیسی کا اطلاق کریمینل کیسز سے ختم کیا جائے  کیونکہ ڈسپوزل پالیسی ملکی سالمیت کیلئے خطرہ بن چکی ہے

 ججز کی پروموشن کو قانون شکن عناصر کو  سزا  دینے اور بے گناہ افراد کے خلاف  جھوٹے مقدمات بنانے والے پولیس  افسران   اور ان  مقدمات  کو  قابل  سماعت  قرار دیکر  انتظامی  حکم نامہ  جاری  کرنے والے  جوڈیشل  مجسٹریٹ کے خلاف  مقدمات  اور محکمہ جاتی  کاروائی  کرنے سے مشروط کیا جائے

چیف جسٹس  پاکستان کے اعتراف کے مطابق ہر سال  نوے فیصد مقدمات پراسیکیوشن کی غفلت اور غلطی کی وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ  ایسی صورتحال میں  عدلیہ  پولیس افسران کے خلاف مقدمات قائم کرکے عملی طور پر پولیس کی  ذہنی غلامی کی زنجیر کوتوڑنے کا اعلان کرے

پاکستان میں جاری عدالتی اصلاحات کے سفر میں آپ کا ہم سفر


صفی الدین اعوان
99 فرید چیمبر 8 فلور  عبداللہ ہارون روڈ صدر کراچی 
03343093302