Sunday, 18 September 2016

کراچی کا شہری ووٹ بینک اور سیاسی تبدیلیاں ۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان


کراچی کا شہری ووٹ بینک   اور سیاسی تبدیلیاں ۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان
اگلے دوسال میں کراچی سیاسی تبدیلیوں کی زدمیں ہے  کراچی کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں  کراچی کا شہری ووٹ بینک  خاموشی کی کیفیت میں چلا گیا ہے شاید یہ بھی  اپنی  سیاسی قیادت سے خاموش  احتجاج ہے  جبکہ مضافاتی ووٹ تو ہمیشہ ہی مخالف رہا ہے اسی دوران کراچی کا شہری  ووٹ بینک کا کافی بڑا حصہ   گزشتہ  عام  انتخابات  کے دوران تحریک انصاف کی طرف  بھی گیا لیکن شاید  تحریک انصاف کی طرز سیاست کراچی کے شہری ووٹروں کو راس نہ آئی تو دوسری طرف خان صاحب کراچی کی کیمسٹری اور کراچی کے ووٹرز کا مزاج سمجھنے میں بھی ناکام رہے  یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اب کراچی  کے شہری حلقوں میں  اب  متبادل سیاسی قوت نہیں ہے  
ایم کیو ایم میں قائد کی تبدیلی کا عمل کامیاب ثابت نہیں ہوا اور نئے قائد کے حادثے میں زخمی ہونے کے بعد لاکھوں افراد کا ہجوم تڑپ کر  باہر بھی نہیں نکلا اور  نہ ہی اسپتال اور گھر پہنچا جب فاروق ستار بھائی صحتیاب ہوکر گھر پہنچے تو گنتی کے چند افراد استقبال کیلئے موجود تھے یہاں تک کہ رش کی کیفیت بھی نہیں تھی    جس سے  شہری حلقوں کی لاتعلقی کو تقویت ملتی ہے
بانی ایم کیو ایم  کی  تیزی  سے گرتی ہوئی صحت  اب ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے سے قاصر ہے اس لیئے بظاہر ایم کیو ایم کی  سیاست بانی قائد کی صحت سے منسلک ہوچکی ہے   مضبوط  متحرک  اور طاقتور متبادل  قیادت  موجود نہیں  ہے اس وقت  ایسا کوئی رہنما موجود نہیں  جو بانی  قائد کی طرح مضبوط  اعصاب کا مالک  ہو اور قائدانہ صلاحیت  رکھتا  ہو  ۔ عامر خان ایک واحد نام ہے جو  الطاف حسین کا کسی حد تک متباد ل ہے لیکن کیا قوم  عامر خان کو قبول کرلے گی   جہاں  عامر خان میں دیگر "صلاحیتیں " تو موجود ہیں  لیکن تقریر  کی شاید وہ صلاحیت نہیں جو  ایم کیو ایم کے بانی قائد کے اندر موجود ہے   اسی طرح بانی ایم کیو ایم کے پاس فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی   اور کیا کراچی کی  عوام کو ان تمام  باتوں سے دلچسپی  بھی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا  ایم کیو ایم کیلئے  آپریشن  کے  دوران تنظیمی بحران حل کرنا آسان نہیں ہے    ایک بڑے فوجی آپریشن اور نصیراللہ بابر کے آپریشن  کلین  اپ   کا مقابلہ کرنے  والی ایم کیو ایم آج مزاحمت کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے    اور پورے کراچی کے ایک گلی کوچے میں بھی  مزاحمت نہیں ہوئی دوسری طرف ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو بھی بند کروادیا گیا ہے لیکن  کراچی  کی عوام نے اس معاملے سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے
رینجرز نے بھی طریقہ کار تبدیل کیا اور اس انداز میں  کراچی آپریشن ہوا کہ  آبادی کو ٹارگٹ کرنے کے بجائے مطلوب افراد کو  رات کی تاریکیوں میں  غائب کردیا گیا  اس طرح پارٹی مزاحمت ہی نہ کرسکی  رینجرز گزشتہ دوسال سے رات کی تاریکیوں میں کاروائیاں کرتی رہی لیکن یہ بات کبھی بھی میڈیا پر نہ آئی  رینجرز کا نظر نہ آنے والا آپریشن   ماضی کے مقابلے میں سخت ترین آپریشن تھا لیکن  رینجرز نے ماضی کی کمزوریوں اور خامیوں سے سبق سیکھ کر آپریشن کیا اور رونے کا موقع  بھی نہ دیا    رینجرز  نے بھی اس بار نہ ہی  شہری آبادیوں کے محاصرے کیئے اور نہ ہی عام پبلک کو تنگ کیا
اخبارات اور ٹی وی چینلز کیلئے  الطاف حسین کانام  شجر ممنوع ہے  جس کی وجہ سے  عوامی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے  شاید عوام بھی اس ساری صورتحال سے مکمل  لاتعلق ہیں
اس وقت وہ جان نثار  لڑکے بھی موجود نہیں ہیں جو قائد  کی  ایک کال پر جان کی   بازی لگا دیا کرتے تھے  لڑکے بھی  ملائیشا  دبئی  وغیرہ  کی طرف تیتر  ہوچکے ہیں   ماضی  کے فوجی آپریشن کے دوران   بھی پارٹی نے شدید ترین مزاحمت کی تھی  اسقدر شدید  مزاحمت  تھی کہ فوج بھی گھبرا گئی تھی  جبکہ نصیراللہ بابر کے آپریشن  کا بھی پارٹی نے سخت مقابلہ کیا تھا اس وقت  مزاحمت کرنے والے لڑکے بھی موجود تھے آج وہ لڑکے  بھی موجود نہیں ہیں  گورنر ہاؤس میں بیٹھا ہوا  جان نثار لڑکا بھی اب لڑکا نہیں رہا  اور وہ  اب  کافی سمجھدار  ہوچکا ہے  
دوسری طرف  مصطفٰی کمال صاحب کی پارٹی تیزی سے جگہ بنارہی ہے اور آری سے نا کٹنے  والا  بہاری قبیلہ مصطفٰی کمال کے ساتھ ہے   یوں محسوس ہوتا ہے کہ کمال صاحب معاملات کو  ٹیک اوور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے  وہ خاموشی مگر تیزی سے معاملات کو  اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں  لیکن کیا وہ شہری  حلقوں اور شہری ووٹرز کا دل جیتنے میں کامیاب ہونگے کیونکہ  عوامی مقبولیت تو ان کے پاس بھی نہیں ہے  عوامی مقبولیت کا اندازہ تو آنے والے الیکشن میں ہوگا  

کراچی کی کیمسٹری اور کراچی کے شہریوں کا مزاج سمجھنا نہایت ہی مشکل کام ہے   میری ذاتی رائے ہے کہ کراچی کا شہری ووٹ بینک اگلے الیکشن میں کسی بہت بڑی تبدیلی کے موڈ میں ہے  کراچی اگر جاگ  گیا تو پورے پاکستان میں سیاسی تبدیلیاں شروع ہوجائیں گی  کیونکہ ماضی میں کراچی ہمیشہ سیاسی تبدیلیوں کا مرکز رہا ہے   

Wednesday, 14 September 2016

ایک منٹ میں سارا قاعدہ قانون (ایک سچا واقعہ ) تحریر صفی الدین اعوان

 ایک منٹ  میں سارا قاعدہ قانون (ایک سچا واقعہ )۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین


جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی نے  مجھے دیکھ کر تھوک نگلنے کی ناکام کوشش کی اور  ماتھے پر آیا ہوا ٹھنڈا پسینہ رومال سے  کئی   بار صاف کیا  کانپتے ہاتھوں سے کورٹ کی فائل کھولی اور پانچ منٹ  تک  خالی خالی نظروں سے اس  درخواست کو پڑھنے اور سمجھنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعدجج کی نشست پر بیٹھے ہوئے شخص نے  پوچھا جی وکیل صاحب کیا فرماتے ہیں
 
میں نے فائل کھولی اور جج کی نشست پر بیٹھے ہوئے آدمی کو بتایا کہ  یہ میں نے آپ کی عدالت میں  سیکشن چار سو اکیانوے کے تحت درخواست داخل کی ہے   یہ سن کر جج کی نشست پر بیٹھے ہوئے آدمی نے فوری طور پر ضابطہ دیوانی کھول لی اور تھوڑی دیر کے بعد مسکرائے اور کہا وکیل صاحب  کہاں سے تعلیم حاصل کی ہے 
میں نے کہا کیوں جی کیا ہوا فرمانے لگے ضابطہ دیوانی میں تو ٹوٹل سیکشن ہی  ایک سو اٹھاون ہیں آپ چار سو اکیانوے کہاں سے نکال کر لے آئے  
یہ سن کر تو  میں نے سر ہی  پیٹ لیا اور کہا ساب جی آپ نے تو کتاب ہی غلط کھول لی ہے  کیونکہ میں نے ضابطہ دیوانی کے تحت درخواست داخل ہی نہیں کی ہے
یہ سن کر جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی نے پاکستان پینل کوڈ کی کتا ب کھول لی میں نے کہا  حضور    اس  بار بھی آپ نے  قانون  کی غلط  کتاب  کا انتخاب  کیا ہے میں نے کریمینل   پروسیجر کوڈ کی سیکشن  چارسو اکیانوے کے تحت درخواست داخل کی ہے  آپ ضابطہ فوجداری کھولیں  جج کی سیٹ پر بیٹھے آدمی نے کہا مجھے   قاعدہ قانون سکھانے کی ضرورت نہیں میں سب جانتا ہوں  
یعنی یہ ایک کریمینل کیس ہے  میں نے کہا  حضور والا یہ حبس بے جا کی پٹیشن ہے ایک پانچ مہینے کے دودھ پیتے بچے کو اس کا باپ زبردستی اٹھا کر لے گیا ہے اس لیئے  ہم نے یہ پٹیشن   ضابطہ  فوجداری  کی سیکشن  چار سو اکیانوے  کے تحت داخل کردی ہے کیونکہ قواعد وضوابط کے مطابق  اس قسم کی ایمرجنسی میں  ابتدائی  طور پر اسی ضابطے کے تحت ہی داخل کی  جاتی  ہے  
جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے   تیلی پہلوان  نے جھنجھلا کر کہا   میاں بیوی  کے ذاتی  جھگڑے میں میرا  کیا قصور ہے میرے پاس کیوں آگئے ہیں  اور  پٹیشنر کدھر ہے؟
 میں نے کہا وہ تو گھر چلی گئی ہے کیونکہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی لیکن اس کا  کمپیوٹرائزڈ نادرا کا آن لائن  حلف نامہ ساتھ لگا ہوا ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ اب میاں بیوی کا معاملہ نہیں رہا شوہر بیوی کو طلاق دے چکا ہے
یہ سن کر جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی  کی جان میں جان آئی اور فائل ایک طرف کردی اور کہا کہ  پہلے پٹیشنر کو بلا کر لاؤ میں نے کہا پہلوان صاحب  نادرا کا کمپیوٹرائزڈ حلف نامہ  ساتھ لگا ہے آپ  پولیس کو نوٹس کردیں  یہ بہت ہی ایمرجنسی نوعیت کا مسئلہ ہے  اور قانون کے مطابق اس پر فوری کاروائی کی ضرورت ہوتی ہے  حبس بے جا کے کیس میں  تو ایک ایک لمحہ  ایک ایک سیکنڈ قیمتی اور اہم ہوتا ہے
کانگڑی پہلوان نے کہا  وکیل صاحب آخر آپ پٹیشنر کو کیوں پیش نہیں کرنا چاہتے ضرور کوئی چکر ہے میں نے کہا استاد جی کوئی چکر نہیں  کامن سینس بھی کوئی چیز ہوتی ہے خیر کل پیش کردیتا ہوں
اگلے دن پٹیشنر کو پیش کیا تو  جج کی سیٹ پر  مسلط  کیئے  گئے آدمی نے کہا کہ یہ تو میاں بیوی کا آپس کا مسئلہ ہے ہم لوگ کون ہوتے ہیں بیچ میں  بولنے والے  میں نے  کہا استاد جی   گزارش ہے کہ یہ ایمرجنسی قسم کا مسلہ ہے  اور قواعد وضوابط  ہی کے مطابق  درخواست  داخل کی گئی ہے   اس قسم  کی  درخواستیں روز کا معمول ہیں اس لیئے آپ سے عرض ہے کہ  پولیس کو فوری نوٹس کریں کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کہ بچہ  کسی اور جگہ منتقل  کردیں
جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے کانگڑی پہلوان نے  معنی خیز لہجے میں کہا " مسلہ"  ہم مسلے حل کر نے کیلئے تو بیٹھے ہیں 
میں نے زچ ہوکر کہا کہ جناب پھر  مسلے کو حل کرنے کیلئے  علاقہ پولیس کو نوٹس کریں اور انہیں حکم دیں کہ مغوی بچے  کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کریں  آپ کا ٹائم تو ہے ہی فالتو  میرا قیمتی وقت برباد کرنے پر کیوں تلا ہوا ہے
آزاد عدلیہ کے ترجمان نے کرسی پر جھولا جھولتے ہوئے  معنی خیز لہجے  میں  کہا کہ وکیل صاحب آپ کو اتنی جلدی کیوں ہورہی ہے  صبر سے کام لیں ٹھنڈا کرکے کھایئں   زیادہ  مت بولیں ایسا نہ ہوکہ توہین عدالت کے کیس میں  جیل بھجوادوں  اور میرے وقت کو ہرگز فالتو مت کہیں  میرا وقت  ہی تو سب سے زیادہ قیمتی ہے
یہ سن کر میں دل ہی دل میں بہت زیادہ  سہم گیا کیوں کہ اگر توہین عدالت کے کیس میں جیل چلا گیا تو لینے کے دینے پڑجایئں گے میری ضمانت کون کروائے گا   میں  نے بحیثیت وکیل اپنے آپ کو بہت زیادہ تنہا  اور کمزور  محسوس  کیا کیونکہ آج کل تو بار  والوں  نے وکلاء کی حمایت سے   ویسے ہی ہاتھ کھینچا ہوا ہے  وہ تو صاف کہتے ہیں کہ کوئی ایسا کام کرو ہی نہیں جس کی وجہ سے جیل جانا پڑجائے   اور اگر کوئی ایسا مسلہ ہو بھی جائے تو "یاشیخ اپنی اپنی دیکھ " کے فارمولہ پر عمل کرنا ہوگا
میں نے آخری بار پھر کوشش کی اور کہا پہلوان جی   آپ تھوڑی سی مہربانی کردیں کیونکہ  صرف پانچ مہینے کا دودھ پیتا  بچہ اس کی ماں سے چھین  لیا گیا ہے اب یہ رورو کر ہلکان ہورہی ہے  سب  سے پہلے آپ  خود قانون کا احترام کریں  یہ فوری سماعت کا کیس ہے قواعد وضوابط کے مطابق   کسی  اس کیس میں  فوری سماعت کا حکم ہے
کانگڑی پہلوان یہ سن کر بھڑک اٹھا اور کہا  مجھے قاعدہ قانون سکھاتے ہو  تم کون ہوتے مجھے قاعدے قانون سکھانے والے  
خاموش ہوجاؤ حد ادب گستاخ   وکیل جانتے  نہیں  میرا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جج کے سامنے  اونچی  آواز میں  بات کرنے کا نہیں ایک منٹ میں سارا قاعدہ قانون گھسیڑ دے گا   یہاں پرہم  بولے گا تم صرف سنے گا  
کانگڑی پہلوان  نے اچانک ہی غصے سے بپھر  کر   الٹے ہاتھ سے ایک ناقابل  اشاعت  گندا اشارہ کرتے ہوئے انڈین فلم 
'گنگا جل " کے کردار منگنی رام  کے  ڈائلاگ دہرائے
میرے دل کا خوف  بے بسی  کی وجہ سے مزید  بڑھ گیا اور دل کی دھڑکن  بھی خوف  کی وجہ سے   بہت  زیادہ تیز ہوگئی  مجھے کئی  بار یہ خوف محسوس  ہوا کہ خوف کی وجہ سے  دل باہر ہی نہ آجائے  میں  بہت زیادہ خوفزدہ  ہوچکا تھا اور دوسری طرف  اپنے بچے کی جدائی میں روروکر ہلکان ہونے والی  ماں  بھی سہم  کر  خوف  کی وجہ سے خاموش ہوگئی
ساب حبس  بے جا کی درخواست میں ایک ایک لمحہ اور ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے آپ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے آپ کیوں  انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں   میں نے بیچارگی کے عالم میں آخری بار بھینس کے سامنے بین بجانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا 

کانگڑی پہلوان نے  ایک بار پھر میرا قیمتی وقت برباد کرتے  ہوئے  دس دن کی تاریخ دے کر  ایک بار پھر مجھے ٹرخا دیا
درخواست داخل کرنے کے بارہ دن بعد اور  تیسری بار اس کیس کی سماعت ہوئی تو بیچاری ماں کے روروکر تو آنسو ہی خشک ہوچکے تھے  کانگڑی پہلوان حسب  معمول چیمبر میں جج کی سیٹ پر بیٹھا اونگھ رہا تھا
کیس پیش ہوا تو کانگڑی پہلوان نے ہاتھ سے ہی اونگھتے ہوئے اشارہ کیا کہ   آرڈر کرتا ہوں  انتظارکرو اور چار دن کی مزید ایک بار پھر تاریخ دے دی
میں  اس بار مکمل طور پر زچ ہوچکا تھا   ایک بار پھر  ہمت  کرکے کہا کہ ساب بارہ دن گزرچکے ابھی تک جناب نے  تھانے کو نوٹس تک نہیں کیا وکلاء کا وقت بھی بہت قیمتی ہوتا ہے آپ جناب کیوں بلاوجہ  میرا  نہایت  ہی قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں   لیکن اسی دوران  قانون  کی سیٹ  پر  بیٹھے کانگڑی پہلوان نے کرسی پر جھولتے جھولتے  اونگھتے ہوئے آنکھیں موند لیں  شاید قانون کی نیند کافی گہری ہوتی ہے  اسی لیئے  قانون  جلد ہی گہری نیند سوگیا   اور چیمبر میں قانون کے خراٹوں کی آواز گونجنے لگی
میں خاموش ہوگیا  اور آواز پیدا کیئے بغیر آہستگی سے محتاط  اور بے آواز قدم   اٹھا کر چیمبر سے باہر آگیا کیونکہ اگر مزید بول کر   قانون کی  گہری نیند خراب کرتا تو خدشہ تھا کہ توہین عدالت کا قانون مجھ  غریب حقیر بے توقیر پر  ہی  نافذ نہ ہوجائے اور مجھے جیل نہ بھیج دیا جائے  اور مجھ غریب کے خلاف  توہین عدالت کے ایک اور ریفرنس کا اضافہ نہ ہوجائے 
چاردن بعد جب عدالت میں پیش ہوئے تو پتہ چلا کہ کانگڑی پہلوان چھٹی منانے کیلئے  اپنے آبائی گاؤں  جوتے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے دوسرے الفاظ میں قانون اپنی سیٹ چھوڑ کر بھگوڑا ہوچکا تھا  
 بعد ازاں  یہ کیس ایک  اصلی  جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا  جج صاحب نے بھی  اپنے ادارے پر حیرت  اور خفگی  کا  اظہار کیا کہ  اس قدر نااہلی۔۔۔۔اور صرف اتنا  جامع  ترین تبصرہ کیا کہ ۔۔۔ ایسے ویسے" کیسے کیسے "ہوگئے
اصلی  جج  صاحب نے فوری طور پر  بالآخر  پورے سولہ دن گزرجانے کے بعد متعلقہ  تھانے کو نوٹس کیا اگلے دن بچہ عدالت میں پیش کیا گیا اور مختصر سماعت کے بعد دودھ پیتا بچہ ماں کے حوالے کردیا گیا

مہذب طریقہ یہی تھا کہ اس واقعہ کی اطلاع فوری طور پر اس صوبے کے رجسٹرار اور سیشن جج کو مہذب  طریقے اور مہذب الفاظ میں  دے  دی گئی
  لیکن چونکہ  صوبے کا رجسٹرار   بقلم  خود جسٹس  بننے کی  " تپسیا" کرنے میں مصروف ہے  اور چاپلوسی کا " چلہ" کاٹ کاٹ کر ہلکان ہورہا ہے اس لیئے انہوں نے  اس مسلے کو نظرانداز کردیا کیونکہ  چاپلوسی کا  چلہ کاٹتے ہوئے  اس قسم کے مسائل کا نوٹس لینا شاید ان کو ان کی منزل یعنی جسٹس بننے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرسکتا تھا اس لیئے انہوں نے اپنی  "تپسیا" کو خراب کرنا شاید مناسب نہیں سمجھا ویسے بھی اگر اتنی اہم ترین سیٹ پر کوئی چپڑاسی سطح کا آدمی بیٹھا ہوا ہے تو وہ کوئی عام آدمی  ہر گز نہیں ہوگا ایسا نہ ہوکہ  نوٹس  لینے  کے بعد رجسٹرار خود ہی فارغ نہ ہوجائے  اور جسٹس بننے کی  ساری کی ساری تپسیا دھری کی دھری رہ جائے بلکہ جسٹس تو دور کی بات موجودہ نوکری کے ہی لالے نہ پڑجائیں  

نوٹ : عدلیہ کا احترام ہم سب پر  فرض کی طرح واجب ہے ایک ایسا بلاگ  جس  کو قانون  کے شعبے کا قابل قدر  طبقہ باقاعدگی  سے  پڑھتا  اور رائے دیتا ہے جس کی تعریف چند روز قبل ہی  سپریم کورٹ کے ایک جسٹس  نے کی ہے  اس کے باوجود اس تحریر کو آن لائن   کرنے  سے پہلے مجھے ایک ہزار بار سوچنا پڑا ہے  دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے  منع ہی کیا لیکن دل نے کہا کہ اگر ہم خاموش ہوجائیں گے اس قسم کے واقعات پر خاموشی اختیار کریں گے تو اس قسم کے رویئے عام ہوجائیں گے  لیکن اس کے باوجود  یہ  تحریر آن لائن کرنے سے پہلے متعلقہ رجسٹرار اور سیشن جج کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ  بلاوجہ  وکیل کا قیمتی وقت برباد کرنا بھی توہین عدالت  ہی میں آتا ہے اور جب متعلقہ رجسٹرار نے واقعہ کا نوٹس نہیں  لیا تو اس کے بعد یہ تحریر آن لائن کررہا ہوں  واقعہ کا مکمل  سرٹیفائڈ ریکارڈ میرے پاس موجود ہے 

سارا قاعدہ قانون ایک منٹ میں گھسیڑ دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین


Friday, 9 September 2016

چوہدری سجاد کا المیہ تحریر صفی الدین اعوان





دسمبر 2012 کی سرد اور بھیگی بھیگی شام تھی اسلام آباد  کے ایک فایئو اسٹار ہوٹل میں قانون تک 
رسائی کے ایک پروگرام کی افتتاحی تقریب تھی  جس کے مہمان خصوصی سپریم کے ایک جسٹس تھے پروگرام کی خاص بات  چوہدری سجاد نامی لڑکے کی کہانی تھی جس کو پراپرٹی کے تنازع پر فائرنگ کرکے زخمی کیا گیا تھا
اس  کہانی کو ڈاکومنٹری کی صورت میں پیش کیا گیا   چوہدری سجاد نے بتایا کہ اس کو تفتیش کے دوران کس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس  نے کس طرح قدم قدم پر ہراساں اور پریشان کیا  اور کس کس طریقے سے  رشوت طلب کی
 یہ کیس  ڈاکومینٹری  بنانے کیلئے میں نے منتخب کیا تھا ۔ اس لیئے مجھے بھی خوشی ہوئی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس سمیت قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس ڈاکومینٹری کو پسند کیا
چار سال بعد اس کیس کا فیصلہ ہوا اور مرکزی ملزم کو تین سال کی سزا ہوئی
میں نے اس کیس میں مشاہدہ کار کا رول ادا کیا  مدعی مقدمہ نے صرف مشور مانگا وہ ہم نے دیا لیکن کیس کی پیروی  مختلف  وجوہات  کی بیاد پر نہیں کی
 اس کیس میں ایک   بنیادی خامی تھی تفتیش کے دوران پولیس نے  ڈاکٹر کو گواہ ہی نہیں بنایا تھا جس پر چوہدری سجاد نے  درخواست داخل کرکے ڈاکٹر کو گواہ بنانے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی   چوہدری سجاد  اور چشم دید گواہان کے بیانات کے بعد چوہدری سجاد ذخمی  حالت میں  ہی  ملتان شفٹ ہوگیا جہاں اس کے سسرال نے اس کا علاج کروایا  اسی دوران کیس اللہ کے آسرے پر چلتا رہا شواہد مضبوط تھے ملزم کو  سزا ہوئی  چوہدری سجاد صاحب عدالتی فیصلہ لیکر میرے پاس آئے تو میں  نے کہا کہ اس پورے کیس کی بنیادی خامی ابھی تک موجود ہے  عدالت نے ڈاکٹر کو گواہی کیلئے طلب کیا لیکن اس کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا  اس لیئے صرف اس بنیاد پر     ملزم رہا ہوجائے گا
ملزم نے اپیل داخل کی اور اسی بنیادی خامی کی بنیاد پر کیس کو دوبارہ ٹرائل کیلئے کورٹ  بھجوادیا گیا ہے  اور  ٹرائل کورٹ کا فیصلہ   کالعدم قرار دے دیا  گیا

 بنیادی سوال اپنی  جگہ موجود ہے کہ ڈاکٹر کو گواہ بنانا مدعی مقدمہ کی ذمہ داری نہ تھی تفتیشی افسر کی ذمہ داری تھی  اس نے یہ ذمہ داری پوری نہ کی
پراسیکیوٹر نے بھی اعتراض نہ کیا اور سب سے بڑھ کر مجسٹریٹ نے  بھی اپنا کام نہیں کیا  اور انتظامی  حکم نامہ  جاری کیا اس کے باوجود کے ڈاکٹر کو گواہ  نہیں  بنایا گیا پولیس اسی قسم کی غلطیاں کرتی ہے  جس کی بنیاد پر ملزم باعزت بری ہوجاتے ہیں  اور مجسٹریٹ وغیرہ اس قسم کی غلطی کی نشاندہی نہیں کرپاتے

اگرچہ سیشن جج نے دوبارہ ٹرائل کا حکم تو دیا ہے اور ڈاکٹر کا بیان ریکارڈ  کرنے کا حکم دیا ہے لیکن انصاف کا تقاضہ تھا کہ  وہ پریزائڈنگ افسر جس نے ڈاکٹر کی گواہی  ریکارڈ کیئے بغیر ہی فیصلہ دیا  اس  کے خلاف ایکشن لیا جاتا اسی طرح بالترتیب  مجسٹریٹ پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے خلاف ایکشن لیا جاتا  اس کے بعد 
لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے  اگرچہ  سیشن جج نے بہترین فیصلہ دیا لیکن  ان تمام ذمہ داران جن کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے  ڈاکٹر  کو گواہ نہیں بنایا گیا اور بعد ازاں اس کا بیان ریکارڈ  نہیں ہوا  ان تمام لوگوں کے خلاف  ایکشن ہوتا تو محسوس ہوتا کہ یہ ایک ترقی یافتہ ملک کی عدالت کا فیصلہ ہے
لیکن ہم یتیموں کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتے کیوں عدلیہ نے یتیم پالنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے  تمام زمہ داران وہ یتیم ہیں جن کی کفالت کا ٹھیکہ عدلیہ کے پاس ہے  اور یہی ہمارے نظام کی بنیادی خامی ہے
یہاں تو مدعی مقدمہ کے خلاف ہی ایکشن ہوگیا  

پھر بھی اللہ کا شکر ہے کہ سیشن جج نے مدعی مقدمہ کو  جیل بھیجنے کا حکم نہیں دیا