Wednesday, 31 July 2013

کیا پاکستان کے آزاد اور بے گناہ شہریوں کو غیرقانونی حراست میں رکھ کر آئین پاکستان کو نہیں توڑا گیا؟

یقین ہی نہیں آتا کہ اکیسویں صدی میں جب پاکستان میں  پانچ عالمی معیار کی سیلولر فون کمپنیاں موجود ہیں ،عالمی معیار کی انٹرنیٹ کی سروس موجود ہے  آزاد عدلیہ کے ساتھ ساتھ آزاد پرنٹ اور الیکٹرانکس میڈیا موجود ہے جس ملک میں خبروں کی دوڑ لگی ہو اور میڈیا مالکان چٹ پٹی خبروں کی تلاش میں سردھڑ کی بازی لگا کر بیٹھے ہوں ایسے باخبر ملک میں میڈیا کیسے اتنا بے خبر رہ گیا کہ تھانہ کلفٹن میں پولیس نے اسکریپ کے تین تاجروں کو بغیر کسی ایف آئی آر کے پانچ دن تک  غیرقانونی حراست میں رکھا ہو خیر عدلیہ نے اتنا تو کام کیا کہ تھانے پر چھاپہ مارکر ان تاجروں کو رہا کردیا روزنامہ جنگ کی مؤرخہ اکتیس جولائی کی خبر ہے کہ "

 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے حکم پر ہیڈ بیلف مدثر حسین نے تھانہ کلفٹن میں چھاپہ مار کر 5/ روز سے پولیس کی غیر قانو نی حراست میں محبوس 3/ اسکریپ تاجروں کو بازیاب کرالیا۔ بیلف نے تاجروں محمد اقبال، ذاکر اور یاسین کو 5,5 ہزار روپے کے مچلکہ پر رہا کرتے ہوئے ایس ایچ او کلفٹن اور ڈیوٹی افسر کو تمام ریکارڈ سمیت آج عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ منگل کو درخواست گزار محمد صادق نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی سہیل جبار ملک کی عدالت میں زیر دفعہ 491 کے تحت حبس بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کے عزیز محمد اقبال، ذاکر اور یاسین قیوم آباد میں اسکریپ کا کام کرتے ہیں 26/ جولائی کو کلفٹن تھانے کی پولیس اس کے عزیزوں کو زبردستی اٹھا کراپنے ہمراہ لے گئی اور انہیں غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اورا ن کی رہائی کے عوض پولیس 50/ ہزار روپے طلب کررہی ہے لہٰذا استدعا ہے کہ چھاپہ مارنے کا حکم دیا جائے اور اس کے عزیزوں کو بازیاب کرایا جائے۔ عدالت نے درخواست پر بیلف مدثر کو تھانے پر چھاپہ مارنے کا حکم دیا۔ بیلف نے عدالتی حکم پر مذکورہ تھانے پر چھاپہ مارا اور تھانے کا لاک اپ چیک کیا تو درخواست گزار کے عزیز لاک اپ میں موجود تھے بیلف نے تاجروں کی تھانے میں موجودگی کے حوالے سے پوچھا تو تھانے میں موجود ایس ایچ او اور ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ انہیں تفتیش کیلئے تھانے لایا گیا ہے اور اس حوالے سے زیر دفعہ 54/ کے تحت اندراج بھی کیا گیا ہے تاہم بیلف نے بتایا کہ تاجروں کو 5/ روز قبل اٹھایا گیا تھا جبکہ تھانے میں جو زیر دفعہ 54/ کے تحت اندراج کیا گیا تھا وہ چھاپے سے کچھ دیر قبل تھا جس پر بیلف نے زیر دفعہ 54/ کے اندراج کو مشکوک قرار دیتے ہوئے تاجروں کو 5,5 ہزار روپے کے مچلکہ پر رہا کرتے ہوئے ایس ایچ او اور ڈیوٹی افسر کو آج طلب تمام ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کرلیا ہے" بہت ہی معذرت کے ساتھ اگلی کہانی بھی سن لیں کہ کیا ہوگا  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب  ایس ایچ او کو تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ کریں گے کے پکڑے کیوں گئے ؟  اصل جرم پکڑے جانا ہے اس کے بعد تینوں تاجر بیان دے دیں گے کے انہوں نے معاف کردیا معاملہ ختم  لیکن سوال یہ کہ کیا پولیس رولز نہیں توڑے گئے؟  کیا پاکستان کے آزاد اور بے گناہ شہریوں کو غیرقانونی حراست میں رکھ کر آئین پاکستان کو نہیں توڑا گیا؟اور تاجر معاف بھی کریں گے تو کیوں یہ سب جانتے ہیں کیا پولیس  جب کسی بے گناہ شہری کو پکڑ کر اس کا اندراج قانونی طریقے سے نہیں کرتی تو  یہ بھی ایک جرم نہیں ؟ اور کیا تاجروں کے معاف کردینے سے معاملہ ختم ہوسکتا ہے  ہرگز نہیں تاجروں کے معاف کردینے کے باوجود بھی جرم باقی رہے گا کیونکہ ایک ریاستی ادارے نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے اس  کو سزا نہیں ملے گی تو جرم دوبارہ بھی ہوگا  پاکستان میں پولیس کی جانب سے جو بھی غیر قانونی حراست ہے اس کی زمہ دار صرف اور صرف عدلیہ ہے کیونکہ  جب اس جرم میں ملوث ملزمان کو سزا دینی کی جرات اور ہمت عدلیہ میں نہیں ہے تو یہ جرم بار بار ہوتا رہا ہے او ر ہوتا رہے گا