Saturday, 30 November 2013

حیرت ہے سول جج کو اسٹینو جیسی بنیادی دفتری سہلولت کیوں حاصل نہیں

کسی بھی ادارے میں کام کرنے کیلئے کام کرنے کا ایک بہتر ماحول بنانا بہت ضروری ہوتاہے۔ عدالت کیلئے کام کا ماحول بنانا مزید ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ جب تک کمرہ عدالت میں سکون نہ جج  جب تک عدالت کے سارے کام سلیقے سے نہ ہورہے ہوں کمرہ عدالت میں افراتفری ہورہی ہو تو کام کرنے کا ماحول تو بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے  اس لیئے  جب تک کمرہ عدالت میں سکون نہیں  ہوگا اس وقت تک کسی بھی جج اور عدالت میں پیش ہونے والے وکیل کیلئے کورٹ میں کام کرنا نہایت ہی مشکل ہوجاتا ہے
آپ اپنے مقدمے کی سماعت کیلئے آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ پراسیکیوشن کو تو کورٹ کی جانب سے نوٹس ہی جاری نہیں کیا گیا اب  سول جج اس کورٹ کلرک کو بلاتا ہے جس سے کورٹ اس کی مقرر کردہ ذمہ داریوں سے پہلے ہی ذیادہ کام لے رہی ہے تو کس طرح اس کی سرزنش کرسکتی ہے
سول جج ہماری عدلیہ کی بنیادی اینٹ ہے یہ وہ بنیادی اینٹ ہے جس پر ہمارا پورا نظام کھڑا ہے آج کا سول جج کل کا سینئر سول جج  یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج بنے گا جس کے بعد وہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہواسیشن جج ،جسٹس اور بعد ازاں چیف جسٹس پاکستان بھی بن سکتا ہے
ہماری گورننس کی ایک کمزوری کہ  صوبہ سندھ کا عدالتی نظام ایک سول جج کو اسٹینو گرافر کی سہولت فراہم نہیں کرتا  جس کی وجہ سے سول جج کو اپنے تمام آرڈرز خود ٹائپ کرنے پڑتے ہیں  دن بھر مختلف قسم کے مسائل سے دوچار رہنا پڑتا ہے ریمانڈ  پر آرڈرز ،ضمانت کی درخواستوں پر آرڈر،گواہی ریکارڈ کرنا،164 کے بیانات ریکارڈ کرنا اور اس طرح کے بے شمار کام ہوتے ہیں جن  میں ایک سول جج پورا دن مگن رہتا ہے حیرت ہے کہ سول جج کو اسٹینو گرافر جیسی بنیادی دفتری سہولت کیوں نہیں دی گئی اس کو جوکورٹ اسٹاف دیا جاتا ہے وہ  روزانہ کے معمولات میں اسقدر مگن ہوتے ہیں کہ ان کو فرصت ہی نہیں ملتی  وہ روزانہ کی بنیاد پر کاز لسٹ بناتے ہیں جس میں 100 مقدمات کی تفصیل لکھنی ہوتی ہے  یہ تو کورٹ کلرک کا روزانہ کا کام ہے اس کے بعد روزانہ کم ازکم 60مقدمات میں پراسیو کیوشن برانچ کو مختلف قسم کے نوٹس  اور وارنٹ بھیجنے  ہوتے ہیں اس دوران کورٹ کلرک کو اسٹینو کا اضافی کام بھی کرنا ہوتا ہے
صرف اسٹینوگرافر نہ ہونے کی وجہ سے کورٹ کے بےشمار کام التواء کاشکار ہورہے ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالتی طرز حکمرانی یعنی گورننس میں  مجسٹریٹ  اور فیمل جج  کی عدالت میں اسٹینو کی سیٹ  مختص ہی نہیں جس کی وجہ سے مجسٹریٹ اور فیملی ججز کا م کے بے تحاشا دباؤ کا شکار رہتے ہیں اسٹینو نہ ہونے کی وجہ سے کام کا رش بڑھتا ہے وکلاء اور سائلین کے کام وقت پر نہ ہونے کی وجہ سے اکثر  کورٹ کے اسٹاف سے تلخ  کلامی کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ماحول خراب ہورہا ہوتا ہے اسٹینو نہ ہونے کی وجہ سے کچھ سول ججز رش کی وجہ سے "جگاڑ"  کرتے ہیں جس کی وجہ سے عدالتی  کام کے معیار میں فرق پڑتا ہے میری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز سے اپیل  ہے کہ وہ سندھ ہایئکورٹ  کو خط لکھیں کہ سول جج کی عدالت میں اسٹینو کی سیٹ کا اضافہ کیا جائے اسی طرح سندھ بار کونسل سے بھی گزارش ہے کہ  وائیس چیئر مین صاحب اس حوالے سے چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے ملاقات کریں اور انہیں  مجسٹریٹ کی عدالت کے مسائل سے آگاہ کریں کیونکہ اس وقت سول جج کو اسٹینو کی سہولت حاصل  نہیں ہے اگر اس کیلئے ایک نئی سیٹ کا اضافہ کرنا ہوگا تو صوبہ سندھ کی فنانس  منسٹری سے  بجٹ کی منظوری لینا لازمی ہوگا   اس لیئے گزارش ہے کہ بجٹ سفارشات میں  عدلیہ کی جانب سے جہاں بہت سی گزارشات بھیجی جارہی ہیں وہیں اسٹینو کی سیٹ کیلئے بھی سفارشات بھجوادیں تاکہ کم از کم جولائی تک  صوبہ س€ندھ کے مجسٹریٹس  اور فیملی ججز کو اسٹینو کی سہولت حاصل ہوجائے
بار ایسوسی ایشنز کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے مسائل  کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیں جن کی وجہ سے ایک عام شہری کو عدالت میں آکر پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے امید ہے  سول ججز کو سہولت دینے سے عام شہریوں کو ریلیف ملے گا
تحریر :صفی الدین اعوان

لاء سوسائٹی پاکستان

Thursday, 28 November 2013

منور حسن اور مولانا فضل الرحمن جیسے نا اہل لیڈر ملک کو کس طرح مشکل صورتحال سے دوچار کردیتے ہیں

نا اہل  لیڈر ملک کو کس صورتحال سے دوچار کردیتے ہیں اس کا نتیجہ ہم نے گزشتہ دنوں بھگت لیا  جب  دو قومی سطح کے لیڈران نے پاک فوج کے سپاہیوں کی شہادت اور کتے کو شہید قرار دینے کے حوالے سے ملک میں ایک بلاوجہ کی بحث چھیڑ دی
قومی سطح کے لیڈر اتنے حاظر دماغ ہوتے ہیں کہ وہ اپنی حاضر دماغی اور ذہانت سے  مشکلات کو ٹال دیتے ہیں  آخر کیا وجہ ہے کہ ایک عام سا شخص کروڑوں افراد کی دلوں کی دھڑکن بن جاتا ہے آخر وہ کونسی صلاحیت ہے جو ایک عام شخص کو دوسروں سے ممتاز کردیتی ہے
انٹرویو کرنے والے نے لیڈر کو مشکل میں پھنسانا ہوتا ہے اور مشکل سوال کرکے لیڈر کو بند گلی میں داخل کرکے اس کے پیروکاروں کو امتحان میں ڈالنا ہوتا ہے سلیم صافی صاحب نے بہت ہی طریقے سے جال لگاکر جماعت کے سادہ دل لیڈر کو گھیرا اور گھیر گھار کر بند گلی میں لے گئے اور جماعت کے امیر سید منور حسن سے وہ باتیں کہلوا دیں جو ایک جو وہ نہیں کہنا چاہتے تھے سلیم صافی نے اپنی ذہانت اور امیر صاحب نے اپنی نالائقی پوری طرح ثابت کردی
برٹش دور میں غدر کے دوران  فرنگی  پولیس کے ہمراہ ایک شیخ الحدیث کو گرفتار کرنے آئے  اتفاقاً وہ مسجد کے باہر ہی کھڑے تھے پولیس والوں نے پوچھا کہ مولانا صاحب کہا ں ہیں کیونکہ پولیس والے مولانا صاحب کو جانتے نہیں تھے اور شیخ الحدیث صاحب جھوٹ بول کر جان بھی نہیں بچانا چاہتے تھے اس لیئے وہ دوقدم پیچھے ہٹ گئے اور جہاں وہ پہلے کھڑے تھے اس مقام  کی طرف اشارہ کرکے کہا ""ابھی تو یہاں تھے"" اس طرح پولیس  جب تلاشی لینے گئی تو انہوں نے روپوش ہوکر جان بچائی یہ حاضر دماغی بڑے کام کی چیز ہے
اسی طرح میرے  پیرطریقت امام  اہلسنت مجدد دین وملت پروانہ شمع رسالت عظیم البرکت عظیم المرتبت الشاہ احمدرضاخان فاضل بریلوی سے پوچھا گیا کہ امام ابوحنیفہ کا رتبہ زیادہ ہے  یا سیدنا غوث پاک کا آپ نے کہا کہ یہ دونوں آنکھیں ہیں سوال کرنے والے پوچھا کہ ان میں سے سیدھی آنکھ  کونسی ہے  اور باہنی آنکھ کونسی ہے آپ نے حاضر جوابی سے کہا اس میں باہنی ہے ہی نہیں دونوں ہی داہنی یعنی سیدھی آنکھیں ہیں کیونکہ آپ سوال کرنے والے کی نیت کو بھانپ گئے تھے
وکلاء تحریک کے دوران لانگ مارچ بھی آگیا اور عید میلادالنبی کا موقع بھی آگیا اس موقع پر وکلاء سیا ہ جھنڈے لہرا رہے تھے اور علماء اہلسنت اس موقع پر جشن کے قائل ہیں ان کا ایک وفد محترم اعتزاز احسن کے پاس گیا اور کہا کہ آپ  سیاہ جھنڈے نہ لہرایئں کیونکہ اس سے ربیع الاول کا تقدس پامال ہوتا ہے مجھے اندازا تھا کہ شاید اعتزاز بند گلی میں نہ پھنس جائے اور علماء اکرام کو قائل نہ کر پائے لیکن اس دن مجھے اندازا ہوا کہ وہ لوگ  جو لیڈر ہوتے ہیں وہ  ایسے ہی نہیں بن جاتے بلکہ اس کے پیچھے ان کی ذہانت ہوتی ہے ان کو پتہ  ہوتا ہے کہ ان کی زبان اگر غلط پھسل گئی تو بے شمار مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اعتزاز صاحب نے کہا کہ میں کالا جھنڈا کیوں نہ لہراؤں کیونکہ میرے تو آقا کی کملی ہی کالی ہے یہ جواب دیکر اعتزا ساحب نے نہایت ہی خوبصورتی سے ساری بحث ہی سمیٹ دی اس دن میں اعتزاز کی ذہانت کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوگیا

تو جناب بات کچھ بھی نہیں قومی لیڈر کوئی بھی بیان داغنے سے پہلے سوچ لیا کریں اور قوم بھی جب کسی لیڈر کو لیڈر بناتی ہے تو دیکھ بھال کر بنائے میں ادب سے کہتا ہوں کے ایک اچھا لیڈر ایک حاظر جواب لیڈر ان تمام سوالوں کو ٹال سکتا تھا جو سلیم صافی صاحب نے سید منور حسن صاحب سے کیئے اور صحافیوں نے فضل الرحمن سے کیئے

سپریم کورٹ پاکستان آج تاریخی لمحات سے گزرے گی غیر قانونی حراست کے حوالے سے آج 29 نومبر 2013 کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے

سپریم کورٹ پاکستان آج تاریخی لمحات سے گزرے گی غیر قانونی حراست کے حوالے سے آج 29 نومبر 2013 کا دن تاریخی اہمیت کا حامل ہے
کراچی سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل اعجاز شاہد کو بلوچستان کے لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آج جمعہ کو طلب کر لیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ آئی جی ایف سی آج لاپتہ افراد سمیت پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔ پھر دیکھیں گے کہ پولیس کس طرح انہیں گرفتار نہیں کرتی۔ حکومتوں میں پھر کیا ہوتا ہے۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ عدالت نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ عدالت نے ایف آئی آر میں نامزد تمام ایف سی اہلکاروں اور افسران کو طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس معاملہ پر سخت حکم جاری کرنے والے ہیں کہنے کو تو جمہوری حکومت ہے لیکن اس دور میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا، ایف سی نے متوازی حکومت بنا لی ہے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی رجسٹری میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں لارجر بنچ نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کی دوران سماعت ایف سی کے اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی پر عدالت نےبرہمی کا اظہارکیا اور کہاکہ لگتاہے ایف سی میں کوئی ذمہ دار نہیں اگر ہم اس دوران کوئی حکم دیدیں تو کون ذمہ دار ہوگا بلوچستان کے 85فیصد حصے پر ایف سی تعینات ہے لیکن وہ حالات سے آگاہ نہیں بلوچستان کے حالات بگڑتے جارہے ہیں پہلے 87افراد لاپتہ تھے اب ان کی تعداد بڑھ گئی ہے، دوران سماعت عدالت نے کہاکہ لاپتہ افراد کے اغواء کے مقدمات جن افسران کے خلاف درج ہیں وہ بھی عدالت میں پیش ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایف سی بلوچستان میں متوازی حکومت چلارہی ہے وزیراعلیٰ خود کہتے ہیں کہ یہ میرے بس میں نہیں۔لوگ پیدل چل کر بلوچستان سے کراچی آگئے کیا ملک کا وزیراعظم یہ نہیں دیکھتا وزیردفاع یہاں بیٹھے ہیں وہ بتائیں کیا کوئی حکومتی نمائندہ ان کی دادرسی کیلئے گیا۔ آپ ان کے بندے بازیاب کرائیں تب دادرسی ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ سمجھتے کیوں نہیں کہ ٹی وی پر بھی صرف آپ کی حکومت کے خلاف ہی تشہیر ہورہی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میںپریس کلب جاکر ان لوگوں سے ملتا ہوں اور انہیںواپس ان کے گھربھیجتا ہوں۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ جو لوگ بیٹھے ہیں نہ وہ جائیں گے نہ ہم انہیں جانے کے لئے کہیں گے۔ آپ جائیں لاپتہ افراد کو لیکرآئیں کراچی والے مہمان نواز ہیں آپ کچھ کریں یا نہ کریں وہ ان گھرانوں کی خدمت کریں گے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منیراے ملک سے کہاکہ آپ بتادیں کہ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں یا نہیں سیاسی، جمہوری اور منتخب حکومت میں لوگ پیدل چل کر کراچی آگئے۔ کسی کے کانوں پرجوں تک نہیںرینگی بلوچستان کے لوگوں کوسلام پیش کرتے ہیں بلوچستان کی ثقافت ایسی نہیں کہ مائیں بیٹیاں سڑکوں پر نکلیں، اتنی تکالیف اورمصائب کے باوجود انہوں نے جمہوری راستہ اختیار کیاہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آئین میں اسلامی جمہوریہ لکھا ہے لیکن یہ جو کچھ آپ لوگ کررہے ہیں اسلامی جمہوریہ میں ایسا کہاں ہوتاہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف سی وفاقی حکومت کے ماتحت نہیں،کیا آئی بی وفاقی حکومت کی اپنی ایجنسی نہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتےہوئے کہاکہ آئی ایس آئی اورایم آئی تعاون نہیں کرتیں آپ بھی ہیلپ لیس ہیں تو بتادیں۔ چیف جسٹس نے ایف سی کے وکیل سے کہاکہ وزیراعلیٰ آپ کے سامنے بے بس ہوچکا ہے آپ کیا چاہتے ہیں کہ حکومت ناکام ہوجائے۔ آپ لوگوں نے سوچ رکھا ہے کہ صرف سپریم کورٹ کےخلاف کام کرنا ہے۔ آپ نے کچھ کیا ہوتا تو وزیراعلیٰ بلوچستان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ کراچی پریس کلب کے باہربیٹھے عوام اس صوبے کے نہیںبلکہ دوسرے صوبے کے دارالحکومت میں بیٹھے ہیں کیونکہ یہ اپنے صوبے سے مایوس ہوچکے ہیں کوئی مدد کرنےکوتیار نہیں، صوبائی حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔ وفاقی حکومت کہتی ہے اسے کچھ پتہ نہیں۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ عالمی طورپر دنیامیں بدنامی کا سبب بن رہاہے۔ ہم کوئی مؤثر آرڈر کردیں گے تو آپ جانیں اور آپ کی حکومت لوگ سڑکوں پرآئیں گے پھرآپ نمٹتے رہنا۔ سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی کو لاپتہ افراد سمیت آج (جمعہ) کو عدالت میں طلب کرلیا ہے عدالت کا کہنا تھا کہ اب ہم کوئی رعایت نہیں دیں گے۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا اگر وہ نہ آئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے سکتے ہیں عدالت نے سماعت آج(جمعہ) تک کیلئے ملتوی کردی۔


Tuesday, 26 November 2013

ایک نامعلوم مصنف کی نامعلوم تحریر

دوست سوچتے تھے کہ ایک دن آئے گا جب وہ  قومی  کرکٹ ٹیم میں شامل ہوگا کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ بڑا آدمی بنے گا ایک معروف صنعتکار کا بیٹا تھا  اس کا والد ٹیکسٹائل کمپنی کا مالک تھا پھر کمپنی دیوالیہ ہوکر نیلام ہوگئی اور والد کے انتقال کے بعدتو سب کچھ ختم  ہی ہوگیا
نہ جانے کب جرم کی راہ پر چل نکلا اور بالآخر پکڑا گیا پھر رہا ہوا  پھر یہ سلسلہ چل نکلا  اور اپنے علاقے کا چھوٹا سا "ڈان" بن گیا کیونکہ کرکٹ کا شیدائی تھا اور اپنی ٹیم کا کپتان تھا تو کیپٹن کے نام سے شہرت حاصل کی  یوں محسوس ہوتا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے اور وہ ہمارے سامنے ہی کرکٹ کھیل رہا ہے لیکن نہیں کیپٹن اب وہ نہیں رہا تھا  اب وہ "علی کیپٹن "بن چکا تھا
پھر کراچی کے ایک مشہور زمانہ ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ نے سر پر ہاتھ رکھا تو کیپٹن جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا کیپٹن کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی وارداتوں میں پکڑا گیا لیکن اس نے کبھی وکیل نہیں کیا ہمیشہ "جج" کو خریدا اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کی عدالتوں سے منٹوں سیکنڈوں میں ضمانت کروا کر غائب ہوجاتا تھا  2 نمبر ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اس کی پسندیدہ کورٹ تھی لیکن عدالت میں پیش ہوتا تھا لیکن جب پولیس   نے ہاتھ رکھا تو اس پر 49 مقدمات تھے اس نے کہا جب "ففٹی" مکمل ہوگی تو اپنے آپ سے عہد کیا ہے کہ کبھی عداالت میں پیش نہیں ہوں گا  اور پچاسواں مقدمہ ایک حساس ادارے کے افسر کا کھارادر میں  قتل کا بنا جس کے بعد "کیپٹن" کبھی عدالت میں پیش نہیں ہوا  اور نہ ہم نے کبھی اس کو دیکھا پھر اس نے وہ سب کچھ کیا جو ایک ڈان کرتا ہے  وہ سوشل میڈیا میں متحرک تھا اس کا فیس بک اکاؤنٹ تھا،ٹویئٹراستعمال کرتا تھا آپ درج ذیل لنکس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انڈر ورلڈ کے لوگ کراچی میں کتنی آسانی سے گھومتے پھرتے ہیں سینکڑوں مقدمات میں ملوث لوگ کتنی آسانی سے پورے پاکستان میں گھومتے پھرتے ہیں ذرا سا ڈر زرا ساخوف بھی ان کو نہیں ہوتا

پاکستان تو پاکستان پوری دنیا میں یہ لوگ باآسانی گھومتے ہیں  ایک ایسی زندگی گزارتے ہیں  کاروبار کرتے ہیں سب کچھ کرتے ہیں
ہماری ایجنسیاں ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ سے کھیل کا سامان چھین کر کلاشنکوف دے رہی ہیں ان کو خود "ڈان" بناتی ہیں  اور جب  تک ان کے پیدا کردہ ڈان ان  کے اشارے پر چلتے ہیں سب ٹھیک رہتا ہے  اور جب باغی ہوجایئں تو یہ خود ہی ماردیتے ہیں یا دوسرے کسی ڈان سے مروادیتے ہیں اور اس کا علاقہ نئے ڈان کو مل جاتا ہے بے روزگاری عام ہے نیا ڈان یہ سوچ کر پھانسی کا پھندا قبول کرلیتا ہے کہ مرتو جایئں گے لیکن گھر والوں کیلئے کچھ بنا کر مریں گے منظر دہرایا جاتا ہے  اور ایک نیا بے روزگار ڈان تیار ہوجاتا ہے
کیپٹن  کراچی کا دوسرے نمبر پر بڑا ڈان بنا  اور بالآخر پورے گروپ سمیت مارا گیا اس کی فیس بک میں موجود آئی ڈی میں تمام کے تمام لوگ مارے جاچکے ہیں  
ہمیں بچوں کی تربیت میں خیال رکھنا چاہیئے  کہ وہ کسی جرائم پیشہ کردار کو اپنا آئیڈیل تو 
نہیں بنارہے


انڈین فلم واستو فلم کا سنجے دت یعنی رگھو بھائی اور باکسر بھائی موجودہ جرائم پیشہ افراد کے

ہیرو ہیں جس دور میں یہ فلم آئی تھی   وہ بچے جو کل تک رگھو بھائی کے پوسٹراپنے کمرے کی دیوار پر لگاتے تھے وقت نے ان کو جیتا جاگتا رگھو بھائی بنا دیا کراچی میں وہ سب کچھ ہوچکا ہے اور ہورہا ہے جو کل تک ہم انڈین فلموں میں ہوتا تھا دھیان رکھیں کہ آپ کا نوجوان بیٹا یا بھائی کس کو اپنا ہیرو بنا رہا ہے

ہم کس گلی جارہے ہیں اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں

اس کی موت کے بعد ایک دوست کی ای میل آئی
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے

سب ہے میرے پاس ایک تم ہی نہیں ہو

پاکستان بار کونسل نے ملک گیر عدالتی ہڑتال کا اعلان کردیا

پاکستان بار کونسل کی جانب سے  ملک گیر عدالتی ہڑتال کا اعلان…اسلام آباد میں وکلاء اور پولیس کے درمیان سپریم کورٹ کے باہر جھڑپ ہوئی ہے، جھڑپ میں 4 وکلا زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ساہیوال اور ڈی جی خان ڈویژن کے وکلاء کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا ہوا ہے ۔وکلا اور پولیس کے درمیان جھڑپ اُس وقت شروع ہوئی جب وکلاء نے سپریم کورٹ کے اندر جانے کی کوشش کی، وکلا کا کہناتھاکہ انہیں سپریم کورٹ میں قائم بار میں جانے دیا جائے تاہم پولیس نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پراندر جانے سے منع کردیا،وکلا کی جانب سے پتھراوٴ کیا گیا جبکہ پولیس نے وکلا کو کنٹرول کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اورربر کی گولیاں فائر کی، جھڑپ میں4 وکلاء زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ پتھراوٴ سے سپریم کورٹ کے بیرون گیٹ پر لگے واک تھروگیٹس کونقصان پہنچا، پولیس نے مزید نفری طلب کرلی ہے جبکہ وکلا بدستور سپریم کورٹ کے آگے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

2014 غیرقانونی حراست کے خاتمے کا سال لاپتہ افراد کی واپسی کا سال

10 دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن ہے جو اقوام متحدہ کے زیراہتمام منایا جاتا ہے  دنیا بھر میں موجود انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں 10 دسمبر کو مختلف  قسم کی تقاریب منعقد کرتی ہیں  لاء سوسائٹی پاکستان نے 2014 کو "پاکستان سے غیرقانونی حراست کے خاتمے کے سال" کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے  انشاءاللہ 2014 پاکستان سے غیرقانونی حراست کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی واپسی کا سال ہوگا ہمار ی اس ایک سالہ مہم  کا مقصد ڈسٹرکٹ کورٹس  کی کارکردگی کو بہتر بناکر تھانوں کی سطح سے غیرقانونی حراست کا مکمل خاتمہ ہے  لاء سوسائٹی پاکستان 10 دسمبر 2013 سے  اس سلسلے میں ایک بھرپور مہم شروع کررہی ہے جو پورا سال جاری رہے گی
 لاء سوسائٹی کو پوری کوشش ہوگی کہ اس  روایتی طریقہ کار کو آسان ترین بنایا جائے  دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور وہ تمام مشکلات دور کی جائیں جس کے تحت عدالتی حکم پر  غیرقانونی حراست کے خاتمے کیلئے عدالت کی جانب سےتھانے کا ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے ہماری (تجویز) ہے اورکوشش ہوگی کہ عدلیہ کی جانب سے منتخب اضلاع میں "ریسکیو" طرز کی سروس متعارف کروانا ہے جس کے تحت  غیرقانونی حراست کی شکایت کی صورت میں  ضروری  قانونی کاروائی پوری ہونے کے بعددس  منٹ میں عدالتی اسٹاف یا بیلف  تھانے پہنچ کر عدالت کے حکم پر تھانے کا ریکارڈ چیک کرے تجویز ہے کہ یہ ساری کاروائی  ویڈیو کیمرے کے زریعے ریکارڈ کرکے  فوری طور پر  کاروائی کی ویڈیو سیشن جج  اور صوبے کے چیف جسٹس کو آن لائن سسٹم کے زریعے ہی ای میل کردی جائے   اور ویڈیو کو قانونی کاروائی کا حصہ بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی کرپشن کا سوال ہی پیدا نہ ہو کیونکہ اکثر اوقات  بیلف بھی تھانے پہنچ کر "ڈیل " کرلیتا ہے بیلف کو یہ بھی اختیار دیا جائے کہ اگر مطلوبہ شخص کے علاوہ بھی کوئی شخص غیرقانونی حراست کا شکار ہوتو اس کو بھی کاروائی کا حصہ بنایا جائے  اور پولیس کے خلاف کاروائی کی جائے  ہماری یہ بھی تجویز ہے کہ ایسا سسٹم بنایا جائے جس کے بعد بیلف تھانے میں 10منٹ سے زیادہ نہ رہے بلکہ کم سے کم وقت میں کاروائی رپورٹ کردے
ہماری 10 دسمبر 2013 سے شروع ہونے والی مہم کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عدلیہ کوئی ایسا طریقہ کار طے کرے جس کے تحت 24 گھنٹے غیر قانونی حراست کے خلاف کاروائی کی سہولت موجود ہو اس پر عدلیہ کو کم زکم ایک سال ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا کیونکہ پولیس نے بدقسمتی سے عدلیہ کو مذاق سمجھ لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے
بنیادی طور پر پورے پاکستان میں یہ مسئلہ چل رہا ہے کہ پولیس خطرناک ڈاکو اورملزمان کو پکڑ کر تھانے لاتی ہے لیکن ان کی گرفتاری ظاہر نہیں کرتی اور پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ ملزمان  سے رشوت وصول کرکے ان کو تھانے سے رہا کردیا جائے اس قسم کے روزانہ واقعات کی تعداد پورے پاکستان میں ہزاروں میں ہے جس کی وجہ سے جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے  ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ جب کسی بھی پاکستانی شہری کو گرفتار کیا جائے تو اس کی گرفتاری  فوری طور پر کردی جائے  اور اس میں ایک بھی لمحے کی تاخیر مجرمانہ غفلت ہے  اس سے ایک مزید فائدہ یہ بھی ہوگا کہ قابل ضمانت جرائم میں ملوث افراد کو پولیس رہا کردے گی شخصی ضمانت پر کیونکہ اگر قابل ضمانت جرم میں ملوث ملزم کی طرف سے شخصی ضمانت آجائے تو پولیس رہا کرنے کی پابند ہے
بدقسمتی سے پولیس کی ہمت اسقدر بڑھ چکی ہے کہ انہوں نے مختلف مکانات ،رہائیشی بنگلوں،فلیٹوں اور فارم ہاؤسز میں  نجی طور پر  بہت بڑی تعداد میں تفتیشی مراکز قائم کررکھے ہیں جہاں لوگوں کو اغوا کرکے لایا جاتا ہے اور تاوان وصول کرکے چھوڑدیا جاتا ہے اکثر اوقات حقیقی ملزم بھی پکڑ لیئے جاتے ہیں لیکن ان سے ڈیل کرکے رہا کیا جاتا ہے  پاکستان  خصوصاًکراچی کی پولیس دنیا کی بہترین پولیس ہے  پاکستان پولیس  کی تفتیش کی صلاحیت کسی بھی طرح "اسکاٹ لینڈ یارڈ" سے کم نہیں ہے
کراچی پولیس کی خفیہ ایجنسیاں سی آئی ڈی اور (اے وی سی سی) کسی بھی جرم کا جڑ سے خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے مؤثر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے وہ مجرم ختم کرنے کی بجائے ان کو تحفظ دے رہی ہیں ریاست کی جانب سے دی گئی طاقت پر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے  اغواء برائے تاوان میں ملوث ہوگئی ہیں ایک طرف وہ  ہمارے بچوں کے ہاتھ میں ہتھیار دے کر ان کو "ڈان" بناتے ہیں اور وہی بچے جب ان کے قابو سے باہر ہوتے ہیں تو ہماری ایجنسیاں اسی خطرناک  "ڈان" کو مارکر یا دوسرے "ڈان" سے مرواکر ہم سے خراج تحسین بھی وصول کرلیتی ہیں
اندازہ لگایئے کہ کراچی کا ایک "اہم تھانہ" روزانہ ایک لاکھ روپیہ "اوپر" پہنچا رہاہے اگر روز کا ایک لاکھ اوپر پہنچ رہا ہے تو وہ خود کتنا کماتے ہونگے  یہ پیسہ پولیس پاکستان کے معصوم شہریوں سے ہی وصول کرتی ہے اور زیادہ تر پیسہ اغواء برائے تاوان یعنی شہریوں کو  اغواء کرکے تھانے میں بند کرنے کے بعد غیرقانونی حراست میں رکھنے کے بعد رہا کرکے وصول کیا جاتا ہے یہ صرف ایک تھانے میں نہیں پورے کراچی میں یہی صورتحال ہے جبکہ پاکستان بھر میں شہری اس نوعیت کے مسئلے کا شکار ہیں
لیکن جب شفافیت کا نظام موجود نہ ہو جب احتساب کا طریقہ کار ہی موجود نہ ہو  تو پولیس   خودبخود ہی کرپشن کی جانب گامزن ہوجاتی ہے ہم چاہتے ہیں عدلیہ وہ ذمہ داری ادا کرے جو آئین پاکستان نے شہریوں کے تحفظ کیلئے اس کے سپرد کی ہے غیرقانونی حراست کا خاتمہ صرف عدلیہ ہی کرسکتی ہے صرف اور صرف عدالت ہی اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرسکتی ہے
ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں ہر شہری کی عزت ،مال اور آبرو سلامت رہے

صفی الدین اعوان

safilrf@gmail.com

Monday, 25 November 2013

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

ساحر لدھیانونی کی ایک نظم دوست نے میل کی شئیر کررہا ہوں
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں 
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں

روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں
وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں

روح مرجائے تو ہر جسم ہے چلتی ہوئی لاش
اس حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں

کئی صدیو ں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے
کئی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج

لوگ عورت کی ہر ایک چیخ کو نغمہ سمجھیں
وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا سماج

جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کرے
یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں



نیشنل لیگل ایجوکیشن کانفرنس 28 نومبر کو کراچی میں منعقد ہوگی



شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جسٹس خالد علی زیڈ۔ قاضی نے کہا ہے کہ نیشنل لیگل ایجوکیشن کانفرنس 28 نومبر بروز جمعرات 2 بجے  دوپہر منعقد ہوگی ۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اورسندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ’ جسٹس مقبول باقرافتتاحی تقریب کے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سینئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے دیگر متوقع مقررین میں مسٹر جسٹس سید سجاد علی شاہ ، وائس چیئرمین سندھ بار کونسل محمد عاقل، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل انور منصور خان ، سینیٹر ڈاکٹر فروغ نسیم، کونسل جنرل فیڈرل ری پبلک آف جرمنی ڈاکٹرٹیلو کلنر، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مصطفیٰ لاکھانی ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ ، پروفیسر ڈاکٹر بریگیڈیئر ریٹائرڈ شفاعت نبی شیروانی ، ڈی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد یوسف، کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد قیصر اور دیگر شامل ہیں۔ دعوت ناموں کے حصول کیلئے براہ راست یونیورسٹی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے

Tuesday, 19 November 2013

“NO VIRTUE IS GREATER THAN JUSTICE”

“NO VIRTUE IS GREATER THAN JUSTICE”. Justice is a master virtue, which brings harmony and peace amongst individuals as well as nations. An independent judiciary plays a pivotal role in eradicating tyranny and oppression, and establishing a just and fair social order in society, which is essential for growth, development and prosperity. It guides us to live a happy and contented life based on principles of equality and fairness. Undoubtedly, judiciary has a primary role in promoting rule of law and all authorities and institutions have to render auxiliary support and cooperation in the administration of justice and execution of the judicial process. The Executive and Legislature share equal responsibility to achieve the object of independence of judiciary. If such an environment is created where all three organs perform their functions while remaining within their prescribed spheres, it would provide a stable and predictable environment, facilitating the judiciary to enforce the fundamental rights of the citizens, guaranteed under the Constitution. 

Monday, 18 November 2013

سندھ ہایئکورٹ نے بالآخر نوٹس لے ہی لیا

 سندھ ہائیکورٹ  کی جانب سے پورے سندھ میں مختلف ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کے تبادلے اور تقرریوں کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مسٹر غلام مصطفیٰ (جی) ممین کو کراچی سائوتھ سے تبادلہ کرکے کراچی ویسٹ میں خالی جگہ پر مقرر کیا گیا ہے۔ مسٹر جاوید احمد کیریو کا ٹنڈو الٰہ یار سے تبادلہ کرکے کراچی سینٹرل میں خالی جگہ پر مقرر کیا گیا ہے۔ مسٹر امداد حسین کھوسو کو لاڑکانہ سے تبادلہ کرکے حیدرآباد میں خالی جگہ پر مقرر کیا گیا ہے۔ مشتاق احمد کلوڑ کو شکارپور سے تبادلہ کرکے خیرپور اور مسٹر امجد علی بھیو کا جیکب آباد سے تبادلہ کرکے دادو، سید ساغرحسین زیدی پریزائیڈنگ آفیسر لیبرکورٹ حیدرآباد کا تبادلہ کرکے سانگھڑ، مسٹر ارشاد علی شاہ اینٹی کرپشن کو سیشن کورٹ جج لاڑکانہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ مسٹر امجد علی قاضی کا کشمور ایٹ کندھ کوٹ سے تبادلہ کرکے شکارپور، مسٹر عبدالغفور کلہوڑو کا تبادلہ شہید بینظیر آباد سے قمبر شہداد کوٹ، مسٹر حیدرعلی ابڑو پریزائیڈنگ آفیسر لیبرکورٹ سکھر کا تبادلہ کرکے کشمور ایٹ کندھ کوٹ میں مقرر کیا گیا ہے۔ مسٹر سکندرعلی لاشاری کا مٹیاری سے تبادلہ کرکے تھرپارکر ایٹ مٹھی، مسٹر منیر احمد شیخ کا تبادلہ کرکے قمبرشہداد کوٹ سے ٹنڈوالہیار، مسٹر غلام حسین شاہانی کا گھوٹکی سے تبادلہ کرکے جیکب آباد جبکہ میرصفدر حسین تالپور اینٹی کرپشن حیدرآباد سے تبادلہ کرکے مٹیاری اور محبوب علی جانوری کا سانگھڑ سے تبادلہ کرکے گھوٹکی میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مقرر کیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی روشنی میں چیف جسٹس آف سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے مسٹر احمدلقمان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (بی پی ایس 21) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسپیشل کورٹ سینٹرل 1 کی ملنے والی نئی ذمہ داری پر کام شروع کریں۔

صفی الدین اعوان

غیر قانونی حراست چیف جسٹس ریڈیو پاکستان، اسٹیل مل ،پی آئی اے،انکم ٹیکس اور پاکستان ریلوے کے سربراہان کے خلاف ایکشن لیں

لاہور میں آج شام تقریباً 7 بجے ایک اور غیر قانونی حراست  کا واقعہ پیش آگیا جب ایک نجی چینل کی ٹیم نے ایک پرایئویٹ ٹارچر سیل  بمقام شاہدرہ  لاہورپر چھاپہ مار کر  پورے پاکستا ن کو براہ راست دکھا دیا


 کہ پولیس نے دونوجوانوں کو ایک نجی عقوبت خانے میں قید کررکھا ہے پولیس نے دوافراد کو اکیسویں صدی کے اس دور میں گزشتہ آٹھ دن سے غیرقانونی حراست میں رکھا ہوا تھا
اس طرح کے بے شمار واقعات روزانہ  پورے پاکستان میں پیش آرہے ہیں غیر قانونی حراست کا خاتمہ شاید پاکستان ریلوے کی زمہ داری ہے  اورکچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی زمہ دار پی آئی اے ہے اور پی آئی اے جیسے غیر زمہ دار اور نااہل ادارے کی غفلت کی وجہ سے پاکستان میں پولیس اس طرح دیدہ دلیری سے شہریوں کو اغواہ کرکے لے جاتی ہے اور تاوان وصول کرکے  رہا کرتی ہے،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آئین  پاکستان نے غیرقانونی حراست کے خاتمے کی ذمہ داری اسٹیل مل جیسے بدنام زمانہ ، غیرذمہ دار اور نااہل ادارے کے پاس ہے جس کی وجہ سے  پاکستان میں غیرقانونی حراست کے واقعات پیش آتے ہیں  کل ایک دوست فرمارہے تھے کہ آئین پاکستان کے مطابق غیرقانونی حراست کے خاتمے کی ذمہ داری  انکم ٹیکس کے محکمے کے پاس ہے یہ غیر ذمے دار ادارہ اتنا نا اہل ہے کہ اس کو اپنی ذمہ داری کا کوئی خیال  نہیں جس کی وجہ سے یہ غیر قانونی حراست کے واقعات پیش آرہے ہیں  ایک دوست کہہ رہا تھا کہ یہ ذمہ داری ریڈیو پاکستان کی ہے جس کی نااہلی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے پاکستان بھر میں غیرقانونی حراست کے واقعات عروج پر ہیں
جب تک وہ ادارہ جس کو آئین پاکستان نے غیرقانونی حراست کے خاتمے کی ذمہ داری دی ہے وہ ادارہ اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرے گا اس وقت تک پاکستان میں غیر قانونی حراست کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے جب تک وہ ادارہ اپنے نظام کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرتا اس وقت تک پولیس شہریوں کو اغوا کرکے ٹارچر سیل میں بند کرتی رہے گی
لاء سوسائٹی پاکستان چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ پاکستان اسٹیل مل،ریڈیو پاکستان،انکم ٹیکس،پی آئی اے اور اس جیسے تمام نااہل اداروں کے سربراہان کو طلب کریں اور ان کے خلاف ایکشن لیں کیونکہ ان نااہل اور غیر ذمہ دار افسران اور نااہل اداروں کے سربراہان کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے پولیس شہریوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں لیتی ہے


صفی الدین اعوان

Sunday, 17 November 2013

پنجاب پولیس کا اہلکارراولپنڈی میں ایک شہری پر تشدد کررہا ہے







غیر قانونی حراست کے خاتمے کیلئے عدلیہ کا کردار اور شہریوں کی توقعات :تحریر صفی الدین اعوان

جن ممالک میں قانون کی بالادستی نہ ہو وہاں کے شہری اکثر خفیہ ایجنسیاں لاپتہ کردیتی ہیں  شہریوں کی گمشدگی سے نفرت جنم لیتی ہیں  بعض اوقات جب ملک داخلی بحران کا شکار ہو اور ادارے ناکام ہوجایئں تو ملک دشمن عناصر کو مداخلت کا موقع ملتا ہے۔خفیہ ایجنسیاں حرکت میں آتی ہیں اور ایسے شہریوں کو غائب کردیتی ہیں  جو غیر ملکیوں سے رابطے میں ہوتے ہیں  خفیہ ایجنسیاں مختلف وجوہات کی بنیاد پر شہریوں کو غائب کرتی ہیں  اکثر اوقات لاپتہ افراد کو قتل کردیا جاتا ہے  عدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ کبھی بھی شہریوں کی گمشدگی کی حمایت نہیں کرتے یہ ادارے اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت کیلئے ہرممکن قدم اٹھاتے ہیں  لیکن  امریکہ سمیت بہت سے ممالک میں خفیہ ایجنسیاں ایک متوازی حکومت چلانے کی کوشش کرتی ہیں  خاص طور پر عرب ممالک میں خفیہ ایجنسیاں جس کو جب چاہیں غائب کردیں

پاکستان کے بے شمار سنگین مسائل میں سے ایک مسئلہ "مسنگ پرسنز" کا ہے میں نے ایک درجن سے زائد ایسے لوگوں سے ملاقات کی  ان کے ہاتھ صاف نہ تھے لیکن ایجنسیوں کی جانب سے ان کو لاپتہ کردینا غیر آئینی تھا لاپتہ افراد میں سے ایک فرد میرے آبائی گاؤں سے تعلق رکھتا تھا وہ پیشے کے اعتبار سے ایک ڈرائیور تھا لیکن اچانک اس کے پاس بے حساب دولت آگئی  اور اس کے زیرانتظام ٹرانسپورٹ کمپنی اثاثہ جات کے لحاظ سے ان کمپنیوں سے آگے نکل گئی جو قیام پاکستان سے پہلے کام کررہی تھیں پھر اچانک اس کو غائب کردیا گیا اس کا والد میرے پاس قانونی مشورے کیلئے آیا تو گھر واپسی پر ہی اس کو کال آگئی کہ اگر بیٹے کو تلاش کروگے تو  اس کو ماردیں گے جس کے بعد اس نے  صبر کیا اور ایک سال بعد وہ لاپتہ شخص واپس آگیا اس حال میں کہ اہل خانہ نے بھی نہیں پہچانا اس نے عبرت ناک واقعات سنائے لیکن اس کی خفیہ دولت آج تک ایک راز ہے 
گمشدہ افراد کی ایک قسم سابقہ مجاہدین کی تھی جن پر مشرف دور میں گمشدگی کے بعد کلاشنکوف اور بم وغیرہ رکھ کر مقدمے بنادیئے جاتے تھے جس کے بعد وہ کورٹ کے مقدمے بھگت کر خود ہی ٹھنڈے ہوجاتے تھے
جولوگ لاپتہ ہوجاتے ہیں ان کے اہل خانہ تو جیتے جی ہی مرجاتے ہیں آپ ایسے انسان کی بےقراری اور بے بسی کو برداشت نہیں کرسکتے جس کا کوئی پیارا لاپتہ کردیا گیا ہو۔جس ریاست میں شہریوں کو لاپتہ کردیا جاتا ہو وہ ریاست زیادہ عرصہ مستحکم نہیں رہ سکتی  کیونکہ وہاں آئینی ادارے ناکام ہورہے ہوتے ہیں آئینی اداروں کی ناکامی سے ریاست انتشار کا شکار ہوتی ہے
چیف جسٹس آف پاکستان اکثر انتظار کرتے رہ جاتے ہیں اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان پیش نہیں ہوتے  عدلیہ کوشش کرتی رہتی ہے  اور اکثر اوقات شہری گھر واپس آجاتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا عارضی حل ہے

عدلیہ چاہے تو اس کا مستقل حل تلاش کرسکتی ہے کیونکہ مسنگ پرسن کے مسئلے کا مستقل حل صرف اور صرف عدلیہ کے پاس ہے آئین پاکستان  نے صرف عدلیہ کو یہ اجازت دی کہ وہ اس مسئلے کو حل کرے آئین پاکستان  کے مطابق عدالت کسی بھی شخص کے جسم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے "زندہ یا مردہ" ہر صورت  ہر قیمت پر ریاست کے مطلوبہ شہری کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم اس حکم کی حکمت کے پیچھے عدلیہ کی صدیوں پرانی تاریخ ہے دنیا بھر کی عدالتوں کو یہ حق صدیوں کی جدوجہد کے بعد ملا ہے اب اس حق کو دور جدید کے تقاضوں سے کس طرح ہم آہنگ کرنا ہے  یہ دنیا بھر کی عدالتوں نے اپنے طور پر طے کیا ہے افتخار محمد چوہدری  چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ایک اچھا موقع تھا  وہ عدلیہ کی اس طاقت کو دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرسکتے تھے شہریوں کو ایجنسیوں کی جانب سے عذاب میں مبتلا کرنے کے خلاف وہ ایک بہت بڑا قدم اٹھا سکتے تھے کوئی انسانی جسم زندہ حالت میں غائب کردینا آسان کام نہیں ہوتا ۔ اللہ کی خاص حکمت ہے کہ سب سے مشکل کام کسی انسان کو انسانی آنکھ سے اوجھل کرنا ہے لیکن ایسی صورت میں جب عدلیہ دی گئی طاقت کو استعمال نہ کررہی ہو جب اس طاقت کے استعمال کا طریقہ کار ہی پیچیدہ ہو کسی بھی  شہری کو غیرقانونی حراست سے محفوظ رکھنے کیلئے عدلیہ کو جو طاقت حاصل ہے وہ صدیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے  یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی عدالتیں خفیہ ایجنسیوں کی آنکھ میں خار کی طرح کھٹکتی ہیں  اور جب انتظامیہ بھی اس معاملے میں ملوث ہوتو بھی عدلیہ ہی شہریوں کی حفاظت کیلئے اقدامات اٹھاتی ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں عدلیہ سے خوفزدہ رہتی ہیں
مارشل لاء کی وجہ سے عدلیہ کو بار بار حکمرانوں نے استعمال کیا اور عدلیہ استعمال ہوتی رہی لیکن موجودہ عدلیہ نے پہلی بار  مکمل آزادی کا دعوی کیا ہے اگرچہ چیف صاحب کے اقدامات سے خفیہ ایجنسیوں نے شہریوں کو رہا کیا ہے  لیکن پاکستان میں مشرف دور میں ماڈل کورٹس کا تجربہ کامیاب رہا تھا جس کے مطابق کم سے کم وقت میں عدالتی بیلف یا مجسٹریٹ خفیہ اداروں تک پہنچ کر شہریوں کو ایجنسیوں کی قید سے رہائی دلاتے تھے  اور یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ ہمارے ایک سیشن جج  جو ایک کانفرنس میں امریکہ گئے تھے جب ان کو ای میل کے زریعے  غیرقانونی حراست کی شکایت ملی تو امریکہ سے ہی بذریعہ ای میل بیلف مقرر کیا جس نے تھانے سے رات کو 2 بجے ایک شہری کو غیرقانونی حراست سے نجات دلائی یہ ہوتی ہے عدالت یہ ہوتا ہے عدلیہ کی طاقت لیکن افسوسناک طور پر مشرف دور ہی میں اس پر کام روک دیا گیا یا رکوادیا گیا جو بھی ہوا لیکن شہری محروم ہوگئے عدلیہ کی اس طاقت سے جو عدالتوں نے صدیوں کی جدوجہد سے حاصل کی اور آج تک محروم ہیں   اگر محترم افتخار محمدچوہدری   توجہ کرتے یا ان کی اپنی گرفت کریمینل جسٹس سسٹم پر مضبوط ہوتی تو وہ پاکستان کو ایک ایسا سسٹم دے سکتے تھے جو کم سے کم وقت میں کسی بھی بے گناہ انسان کو پولیس یا خفیہ ایجنسیوں کے حراستی مراکز سے نجات دلا سکتے تھے آئین پاکستان صرف عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی خفیہ ادارے اور پولیس سے جاکر پوچھے کہ جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اس پر کیا الزام ہے کیا اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی ہے
لاء سوسائٹی پاکستان اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کسی بھی خفیہ ادارے یا پولیس کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے کسی بھی شخص کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق اس کی گرفتاری کو فوراً ہی ظاہر کرے گرفتاری میں 
ایک منٹ کی تاخیر بھی غیرقانونی اور غیر آئینی ہے

صرف غیر قانونی حراست اور لاپتہ افراد ہی کے مسئلے کی وجہ سے ہمارا ایک صوبہ نفرت کی آگ میں جل رہا ہے او ر وہاں علیحدگی کی باتیں ہورہی ہیں ایجنسیوں کی بریفنگس اور دلائل اس لیئے بے معنی ہیں کیونکہ اگر ان کے دلائل کو مان لیا جائے تو پھر آیئن کا کیا کریں گے لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ محترم افتخار محمد چوہدری صاحب سے اس معاملے پر غفلت ہوئی ہے اگر وہ چاہتے تو اس حوالے سے شہریوں کو ایسا طریقہ کار دے سکتے تھے  جس کے زریعے وہ چوبیس گھنٹے غیر قانونی حراست سے تحفظ کیلئے  عدالت کا دروازہ بجا سکتے تھے   افسوس آپ ایسا نہ کرسکےمحترم افتخار محمد چوہدری کے جانے کے بعد عدلیہ  اندرونی محاز آرائی کے خدشے سے دوچار ہے  عدلیہ کی اندرونی محاذ آرائی سے پاکستان میں انسانی حقوق کی تحریکوں کو نقصان ہوگا اور خفیہ ایجنسیوں کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا غیر قانونی حراست جو کہ آج بھی عروج پر ہے مزید اضافہ ہونے کا
خدشہ ہے

اس تحریر کے مصنف صفی الدین اعوان ہیں جو گزشتہ سات سال سے پاکستان میں عدالتی اصلاحات کیلئے سرگرم عمل ہیں)

Saturday, 16 November 2013

مذہبی جلوسوں کے پرمٹ منسوخ کرکے تمام مذہبی جلوس شہر سے باہر منعقد کیئے جایئں لاء سوسائٹی پاکستان

مذہبی جلوسوں کے پرمٹ منسوخ کرکے تمام مذہبی جلوس شہر سے باہر منعقد کیئے جایئں ہنستے بستے بازاروں میں صرف مخالف فرقے کی دکانوں اور کاروباری مراکز کو آگ لگانا ہر گز غلطی نہیں جس طرح چند سال قبل کراچی کے قدیم مارکیٹیں جلا کر راکھ کی گئیں تھیں ان کے متاثرین آج تک زندہ درگور ہیں آج راولپنڈی کے زندہ درگور ہوگئے  کل کسی اور شہر کے بازار کو جلادیا جائے گا
وہ علماء جو اپنے مزہبی کارکنان کے جزبات کو کنٹرول نہیں کرسکتے ان کو شہر کے مصروف بازار میں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی غیر منظم ہجوم  جس پر منتظمین کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا  مصروف بازار سے جلوس نکالنے کی اجازت دینا کراچی اور راولپنڈی کے واقعات کے بعد ایک جرم تصور کیا جارہا ہےان کو شہر سے منتقل کیا جائے 
پنجاب کی صورتحال مزید خراب ہوگی مزہبی جنونی کسی کے قابو میں نہیں  
آرہے 
پاکستان شاید ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے

محترم افتخار اجمل بھوپال کے نام

اگرچہ ہرروز کافی ای میل اور پیغامات موصول ہوتے ہیں لیکن اپنے ایک قابل احترام  سینیئر افتخار اجمل  بھوپال کے تبصرے  کو نظر انداز نہ کرسکا کوشش کی ہے کہ  اس حوالے سے وضاحت کی جائے
آپ  فرماتے ہیں کہ
"اللہ کا فرمان اٹل ہے ۔ سورت 53 النّجم آیت 39۔  وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ (اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی)
سورت 13 الرعد آیت 11۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ (اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے )
برائی کے خلاف جد و جہد انسان کا فرض ہے جس سے عصرِ حاضر کا انسان غافل ہو چکا ہے ۔کوئی خود غلط کام نہیں بھی کرتا لیکن وہ دوسرے کو غلط کام سے روکنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ گویا انسان مصلحتی بن چکا ہے جو کی اسلام کی نفی ہے ۔

محترم اگر جھاڑو دیا جائے تو غلیظ جگہوں سے کچھ گندگی کم ہو جاتی ہے لیکن صاف جگہوں پر اس میں سے کچھ گندگی پہنچ جاتی ہے ۔ اسلئے جھاڑو نہیں پھیرنا چاہیئے ۔ معاشرے کے ہر تکنیکی گروہ میں اچھے لوگ ہیں اور بُرے بھی ۔ چنانچہ وکلاء کو استثنٰی حاصل نہیں ہے ۔
دوسری بات کہ جج صاحبان کے جن اقارب کی بات آپ کر رہے ہیں وہ آپ ہی کے تکنیکی گروہ (وکلاء) سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیا وکلاء کی بار کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ جج صاحبان کے ان اقارب وکلاء کو کسی نظم کا پابند کر سکیں ؟ اگر نہیں تو پہلے اپنی بار کے قواعد و ضوابط درست کروایئے پھر جہاد کا عَلَم بلند کیجئے ۔ جس کا اپنا گھر ہی درست نہ ہو وہ دوسروں کو کیا درست کرے گا    پوری تحریر پڑھنے کے بعد یہ تاءثر اُبھر سکتا ہے کہ جیسے جج صاحبان کے اقارب آپ کا رزق کم کرنے کیلئے کوشاں ہیں جو باعثِ خلش ہے ۔ بلاشبہ پرہیز گار سب جج نہیں اور سب وکلاء بھی کچھ جج صاحبان سے پیچھے نہیں ۔ میں وکیل نہیں ہوں لیکن وکلاء کے بہت قریب رہا ہوں اور بات چند سال کی نہیں یہ قُرب چالیس سال سے زائد پر محیط ہے جس میں وکلاء کی تین جنریشنز سے واسطہ پڑا ۔ میرا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر وکلاء بد اخلاقی چھوڑ دیں تو کوئی جج کم ہی کسی بد اخلاقی کی جرءت کرے گا "   


ہماری رائے مندرجہ زیل ہے


افتخار اجمل بھوپال صاحب  ایک قابل احترام شخصیت ہیں آپ کی رائے ہمارے لیئے اہم ہے

 آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنی رائے سے نوازا سب سے پہلے عدلیہ کے حوالے سے ایک بات واضح کردوں کہ عدلیہ کی گورننس مشکل ترین گورننس ہے    اور دوسرے اداروں سے مختلف ہےایک شخص جو انصاف کرنے کیلئے بیٹھا ہے اس کی حیثیت ہر حال میں قابل احترام ہے منصف  ملازم  نہیں ہے اس پر چھاپہ نہیں مارا جاسکتا عدلیہ کی پیچیدہ گورننس کو جاننا بھی ایک علم ہے 

افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے عدلیہ نے ایک اہم ترین کامیابی حاصل کی اور بظاہر عدلیہ انتظامیہ کے شکنجے سے آزاد ہوگئی لیکن عدلیہ کس قدر آزاد ہے اس کا فیصلہ تب ہوگا جب میدان سجے گا اللہ نہ کرے کہ کوئی نیا آمر آئے یا کوئی نیا "پی سی او" آئے   خدانخواستہ جب عدلیہ پر کوئی امتحان آیا تو یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا کہ ہماری عدلیہ سرخرو ہوگی  یا نہیں

لیکن وکلاء تحریک کے دوران جو بحران آئے انہوں نے اندرونی طور پر عدلیہ کو ہلا کر رکھ دیا جسٹس ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی تھی ہایئکورٹ کا جسٹس پورے صوبے کے قابل ترین وکلاء اور سیشن ججز سے منتخب کیئے جاتے ہیں اکثر وکلاء اس عہدے کو قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ عہدہ ذمہ داری کا ہے ہر صوبے کا چیف جسٹس ماضی میں کوشش کرتا تھا کہ وہ بینچ کو مضبوط کرے  9 مارچ 2007 تک جو عدلیہ پاکستان میں موجود تھی وہ ادارے کا ساٹھ سال کا تسلسل تھا  ہایئکورٹ یا سپریم کورٹ ایک یا دودن میں تشکیل نہیں پاسکتی اس کیلئے کئی سال کی محنت درکار ہوتی ہے جو سول جج  1983 میں عدلیہ میں شامل ہوا ہوگا وہ ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا 30 سال کے بعد اس قابل ہوتا ہے کہ وہ جسٹس بنے ایک سیشن جج سالہاسال کی ریاضت کے بعد جسٹس جیسی ذمہ داری سنبھالتا ہے اسی طرح ایک وکیل 25 سال بار میں گزارتا ہے اس کی دیانت اس کی محنت اس کا رکھ رکھاؤ اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ جسٹس کے عہدے پر فائز ہو لیکن 9 مارچ 2007 کے اقدامات نے عدلیہ کی بنیاد کو ہلایا ہی تھا 3 نومبر کی ایمرجنسی نے رہی سہی کسر پوری کردی    بنیادی طور پر 3 نومبر 2007 پاکستان کی عدلیہ کی تباہی کا دن تھا ۔جس کا ازالہ مزید کئی سال ممکن نہیں بار سے وہ لوگ  بینچ میں شامل ہوئے جو اہل نہیں تھے   تیزی سے سیشن ججز کو آگے لایا گیا اور انہوں نے بھی اپنا وقت پورا ہونے سے پہلے حلف اٹھالیا اگرچہ اکثریت اہلیت رکھتی تھی اکثر ججز اس عہدے کے منتظر تھے لیکن یہ شان ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی صرف خوش نصیب  سیشن جج ہی جسٹس بنتے ہیں  اسی دوران عدلیہ بحال ہوئی لیکن پھر پی سی او ججز کے حوالے سے ایک فیصلہ آگیا جب بہت بڑی تعداد میں جسٹس فارغ ہوگئے تو ایک نیا بحران پیدا ہوا ۔ ان کا متبادل آج دن  تک نہیں ملا کیونکہ وقت کے ساتھ ایک جسٹس ریٹائر ہوتا ہے اس کی جگہ ایک اور جج آجاتا ہے  میرٹ پر بھی ایک ہی وقت میں چار جسٹس تلاش  کرنا بھی ایک مشکل ترین مرحلہ ہے  بعض اوقات صرف ایک جسٹس تلاش کرنا مسئلہ  ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ"پی سی او" ججز کے جانے کے بعد ان کا متبادل تلاش  نہیں کیا جاسکا جو لوگ ملے وہ اہل نہ تھے
اور بدقسمتی سے ہماری عدلیہ آج بھی اسی بحران کا شکار ہے بدقسمتی سے  عدلیہ کا پیچیدہ طرز حکمرانی یا گورننس بھی متاثر ہوا ۔انتظامی ڈھانچہ  آج بھی بحران کا شکار ہے آج بھی سندھ کے اہم شہروں میں  اچھے سیشن جج نہیں مل رہے اتنی اہم سیٹیں خالی ہیں یہ سانحہ سندھ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا  کہ اتنا عرصہ پرنسپل سیٹ خالی ہو اہم پوزیشن پر قومی پرچم نہیں لہرارہا ہے  عوام توقعات وابستہ کیئے بیٹھے ہیں   لیکن مزید پانچ سال عدلیہ کو درکار ہیں اپنے انتظامی بحران پر قابو پانے میں
محترم عالی وقار  اگر آپ نے عدلیہ سے وابستہ تین نسلوں کا  جائزہ لیا ہوتو عدلیہ تو ضیاءالحق کی آمریت کے دوران بھی   عام مقدمات میں اچھی پرفارمنس دکھا رہی تھی اس دور میں بھی اچھے جج سامنے آتے رہےتھے لیکن اس دور میں عدلیہ انتظامیہ کی  مرضی سے اہم فیصلے دینے پر مجبور تھی لیکن یہ مجبوری ہر دور میں رہی ہے  کیونکہ آزاد عدلیہ  انتظامیہ کو من مانی سے ہمیشہ روکتی ہے مشرف دور میں اگرچہ عدلیہ انتظامیہ کے سامنے مجبور تھی  یہی وجہ ہے کہ "پی سی او "حلف لیا گیا لیکن مجبوریوں اور خامیوں کے باوجود جب بھی ماضی میں عدلیہ کو موقع ملا پی سی او پر حلف لینے کے باوجود عدلیہ نے اپنا کام کیا محترم افتخار چوہدری نے ایک بار عدلیہ کو انتظامیہ کے شکنجے سے آزادی دلوادی اور اب عدلیہ انتظامیہ کے شکنجے سے آزاد ہے یہی آزاد عدلیہ کی علامت ہوتا ہے لیکن دنیا بھر میں جہاں جہاں آزاد عدلیہ کی تحریکیں چل رہی ہیں وہیں آزادی کے ساتھ ساتھ شفافیت کی بھی بات ہوتی ہے وہیں احتساب کی بھی بات ہوتی ہے لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ شفافیت اور احتساب کا نظام اندرونی ہوگا  "مکمل اندرونی نظام "عدلیہ کا احتساب انتظامیہ یا پارلیمنٹ نہیں کرسکتی لیکن  پارلیمنٹ  قانون سازی کے زریعے صرف طریقہ کار طے کرسکتی ہے یہ ایک انتہائی نازک اور سنجیدہ بحث ہے جو پوری دنیا خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں رہی ہے احتساب کا کوئی بھی طریقہ کار جس میں انتظامیہ شامل ہوگی عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہوگا  برطانیہ میں کسی بھی جج کے خلاف شکایت اس وقت تک  درج نہیں ہوتی جب تک ثبوت نہ ہو لیکن جب شکایت رجسٹر ہوجائے تو پھر پارلیمنٹ عدلیہ سے پوچھ سکتی ہے کہ شکایت کا کیا ہوا لیکن پارلیمنٹ اس سے زیادہ اختیار نہیں رکھتی برطانیہ کی عدلیہ نے بھی یہ سفر صدیوں میں طے کیا ہے لیکن ایک جج کا اپنے اثاثے ظاہر کرنا شفافیت کی علامت ہے ایک جج کا اپنے رشتے داروں کی لسٹ فراہم کرنا شفافیت کی علامت ہے ایک جج کا اگر بیٹا یا بیٹی وکیل ہے تو وہ اس رہائیش گاہ کو استعمال نہیں کرسکتی پہلے یہ پابندی اخلاقی تھی اب کئی ممالک کی پارلیمنٹ نے قانونی شکل دے دی ہے لیکن اگر بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر ہے کوئی اور شعبہ ہے تو وہ رہایئش رکھ سکتے ہیں  اخلاقیات کا یہ سفر صدیوں میں  طے ہوا  ہندوستان کی تاریخ کے پہلے مسلمان چیف جسٹس   اللہ آباد ہایئکورٹ سرشاہ سلیمان مرحوم اپنے انتہائی قریبی رشتے دار کی شادی میں اس لیئے شریک نہ ہوئے کیونکہ ان کے داماد کا کیس ان کی عدالت میں زیرسماعت تھا ججز ہمیشہ احتیاط کرتے رہے ہیں کہ ان کی غیر جانبداری متاثر نہ ہو
پاکستان دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہے ہم اخلاقیات کو قانونی شکل دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ہم  شفافیت کا مطالبہ کررہے ہیں 
کیا برطانیہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں اس بات  کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک سپریم کورٹ کا حاضر جسٹس اور ہایئکورٹ کا حاضر جسٹس کسی لاء فرم میں جاکر بیٹھ جاتے ہوں  اگر آپ کے سامنے ایسا معاملہ آجائے تو آپ کیا کریں گے؟
بہت اہم سوال ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ کے جسٹس کسی وکیل کے دفتر میں اکثر آتے جاتے ہوں تو آپ کیا کریں گے؟ کیا وہ اپنی زمہ داری سے آگاہ نہیں  یہی معاملہ عزیز واقارب کا ہے  یہ بحث صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں چل رہی ہے انڈیا میں کافی عرصہ ججز اس معاملے میں ہڑتال کرچکے ہیں جس کے بعد اخلاقیات کو قانونی شکل دے دی گئی خلاف ورزی پر کاروائی کا طریقہ کار بیان کردیا گیا بہت سے قواعد اور ضوابط بنانا پارلیمنٹ کا ہی کام ہے  وکلاء اس حوالے سے رولز نہیں بنا سکتے  یہ پارلیمنٹ کا ہی کام ہے  جہاں تک تعلق ہے روزگار کا وہ اللہ عزوجل کے ہاتھ میں جو پتھر کے اندر موجود اپنی مخلوق کو روزی پہنچاتا ہے
  عدلیہ تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے ہم دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے  انڈیا میں جوڈیشل اسٹینڈرڈ اور احتساب بل کے زریعے  اس مسئلے کا حل نکالا گیا لیکن  اگر یہ اتنا آسان بھی نہ تھا اس پر ایک بھرپور بحث  ہوتی رہی ہڑتالیں ہوتی رہیں احتجاج ہوتے رہے آخرکار
 قانونی شکل دے دی گئی ہے
محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب بات یہ ہے کہ  اس سارے معاملے کو کھلے ذہن سے دیکھنے کی ضرورت ہے   
مکالمہ بہت سے مسائل کا حل ہوتا ہے ہوسکتا ہے کہ ہم غلط ہوں لیکن کیا بہتر نہ ہو کہ ہمیں مکالمے سے غلط ثابت کیا جائے
صفی الدین اعوان

Friday, 15 November 2013

آزاد عدلیہ، انکل ججز اور قانون سازی کی ضرورت

اخلاقیات یہ ہے کہ  7مئی 1997 میں انڈیا کی سپریم کورٹ کے قابل احترام جسٹس صاحبان نے فل کورٹ میٹنگ کے زریعے اپنے اثاثے سپریم کورٹ آف انڈیا  کی ویب سائٹ پر ظاہر کرنے کا اعلان کیا وہ ہر سال 30 جولائی کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرواتے تھے  جو پبلک کیلئے ویب سائٹ پر موجود ہوتے تھے  لنک ملاحظہ فرمایئں
 لیکن میری معلومات کے مطابق ہایئکورٹ کے ججز اثاثے ظاہر کرنے کے قانونی پابند نہ تھے  لیکن وہ  بھی فل کورٹ  میٹنگزمیں قراردیں پاس کرکے اپنے اثاثے عوام کے سامنے پیش کررہے تھےسپریم کورٹ کے ججز بھی اگر غلط اثاثے ظاہر کرتے تو یہ بد اخلاقی صر ف اخلاقی ہی تھی قانونی نہ تھی اسی دوران جسٹس بی کے رائے نے 2004 میں ہریانہ اور پنجاب کے چیف جسٹس کی حیثیت سے ان "انکل" ججز کو خط لکھ دیا جو ایک خاموش کوآپریٹو سوسائٹی بناکر ایک دوسرے کے بچوں کو ان کی مرضی کے آرڈر دے رہے تھے یہ خط خودکش حملہ ثابت ہوا اور "انکل" ججز نے باآسانی  چیف جسٹس کو ٹھکانے لگا دیا لیکن جسٹس بی کے رائے جہاں بھی گئے "انکل" ججز کے لیئے مسائل پیدا کرتے رہے  لیکن صرف قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے آزاد عدلیہ اور اس کے محافظ ہمیشہ ان کو شکست فاش دینے میں کامیاب رہے جسٹس بی کے نارائن کے اقدامات کا جواب ججز نے ہڑتال اور وکلاء نے بائیکاٹ کی صورت میں دیاجسٹس بی کے نارائن وقتی طور پر ناکام ضرور ہوئے تھے کیونکہ بداخلاقی کا پیمانہ جانچنے کا کوئی معیار مقرر نہ تھا ججز کے راتوں رات بڑھتے ہوئے اثاثے  اخلاقی جرم نہ تھے  وہ اثاثے ظاہر کرنے کے غیر آئینی سوال پر بھڑک اٹھتے تھے  اور اس کو آزاد عدلیہ کے خلاف سازشیں قرار دیتے تھے اور" انکل ججز  " نعرے لگاتے ہوئے ہڑتال پر چلے جاتے تھے لیکن  جسٹس نارائن تنہا نہ تھے انڈیا کی سپریم کورٹ  اور ان کے ساتھ ججزمسلسل "انکل ججمنٹس "پر اپنے سخت ریمارکس دیتی رہے  انڈیا کی عدلیہ  کا ایک اہم حصہ مسلسل  اس بداخلاقی کے خلاف جدوجہد کرتا رہا جس کا ہم  پاکستانی بھی شکار ہیں   اس ساری پریکٹس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں شعور بیدار ہوا جسٹس نارائن غلط تھے یا صحیح یہ ایک الگ  بحث ہے لیکن  آخر کار یہ معاملہ   انڈیا کے ایک عام شہری تک پہنچابعد ازاں بارکونسلز اور عام وکیل اس جدوجہد میں شامل ہوئےاور  ایک طویل جدوجہد کے بعد بداخلاقی  یا  اختیارات کے ناجائز استعمال کی قانونی تعریف   بھی کی گئی اور فیس ویلیو کے نام پر انکل ججز کو کنٹرول کرنے کیلئے کچھ اصول اور کچھ ضابطے بنادیئے گئے رشتے داری کی تعریف بھی کی گئی اور ان کی حدود مقرر کی گئی
 “Misbehavior” means,—
(i)               Conduct which brings dishonor or disrepute to the judiciary; or
(i)(ii) Willful or persistent failure to perform the duties of a Judge; or
(i)(iii) Willful abuse of judicial office; or
(i)(iv) Corruption or lack of integrity which includes delivering judgments for collateral
(i)or extraneous reasons, making demands for consideration in cash or kind for
(i)giving judgments or any other action on the part of the Judge which has the effect
(i)of subverting the administration of justice; or
(i)(v) Committing an offence involving moral turpitude; or
(i)(vi) Failure to furnish the declaration of assets and liabilities in accordance with the
(i)provisions of this Act; or
(i)(vii) Willfully giving false information in the declaration of assets and liabilities under
(i)this Act; or
(i)(viii) Willful suppression of any material fact, whether such fact relates to the period
(i)before assumption of office, which would have a bearing on his integrity; or
(i)(ix) Willful breach of judicial standards.
(i)



جوڈیشل اسٹینڈرڈ اور احتساب بل  کے تفصیلی مطالعے  کی ہمیں سخت ضرورت ہے کیونکہ یہ عدلیہ کے ججز کے احتساب ،ان کے اثاثوں ،متنازعہ انکل ججمنٹس  ،فیس ویلیو بداخلاقی یا اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشتے داروں کے حوالے سے ایک مناسب بحث کرتا ہے
انڈیا میں قانون سازی کے بعد اخلاق کا وہ معیار جو خود احتسابی کے تحت 7 مئی 1997 کو انڈیا کے سپریم کورٹ کے ججز نے خود اختیار کیا رضاکارانہ بنیادوں پر وہ قانون بنا اور اس کی خلاف ورزی  کو بداخلاقی یا اختیارات کے غلط استعمال قرار دیا گیا  لیکن انڈیا کی ہایئکورٹس کے ججز نے رضاکارانہ بنیادوں پر اپنے اثاثے ظاہر کیئے اور 1997 سے جاری یہ سفر بالآخر قانون سازی پر ختم ہوارشتے داری کی بنیاد پر انکل ججز کے فیصلوں پر اعتراض کا ایک قانونی راستہ نکالا گیا جس کے بعد "فیس ویلیو" کے خلاف جاری جدوجہد اب انڈیا میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اس دوران ایک طویل بحث جاری رہی ہے کہ اخلاقیات کیا ہیں اور بداخلاقی کیا ہے
اخلاق  کا اعلی معیار یہ بھی ہے کہ   یہ شاید 1992 کے دور کا واقعہ ہے تاریخی دستاویز دستیاب نہیں میرے پاس لیکن یہ بات ایک سینیئر ایڈوکیٹ نے مجھے بتائی کہ ہایئکورٹ کے ایک چیف جسٹس نے خود احتسابی کا یہ معیار بھی قائم کیا کہ انہوں نے ججز کے چیمبر میں صرف جج کی اپنی ایک ہی کرسی رکھنے کا حکم دیا تھا کیونکہ  صرف یہی ایک طریقہ تھا ان دوستوں کو روکنے کا جو چیمبر میں ان ججز سے ملنے آتے تھے جو ان سے دوستی کے دعوے دار تھے اور خود احتسابی کا یہ سلسلہ سب آرڈینیٹ کورٹس تک چلا گیا تھا جس کی وجہ سے ججز کے چیمبر میں دوستوں کی آمدورفت کا سلسلہ ختم ہوا تھا   اس پر قانون خاموش ہے لیکن میں ذاتی طور پر اس کو اخلاقیات کا اعلی معیار سمجھتا ہوں لیکن کرسیاں رکھنا بھی بری بات نہیں ہے البتہ ججز کے پاس اس کے دوستوں اور رشتے داروں کا آنا اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہے
   اسی طرح جس وکیل نے بار میں25 سال کا طویل عرصہ گزارا ہو اس کے بار میں موجود دوست ، رشتے داراور احباب اس سے من پسند فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں یہ ایک قدرتی امر ہے  بار کے ٹایئکون بھی اپنے چیمبرز سے اس لیئے جسٹس مقرر کرواتے ہیں کہ مرضی کے فیصلے لینے میں آسانی ہو اس لیئے رشتے داروں دوستوں اور سابقہ لاء فرم کے دوستوں  سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کو دوسرے صوبے میں بھیج دیاجائے اور آئین پاکستان بھی اس کی اجازت دیتا ہے

بدقسمتی سے پاکستان میں خود احتسابی کا نظام موجود نہیں ہے  اکثر ججز اپنی آمدنی سے زائد اثاثے رکھتے ہیں ہماری عدلیہ میں کوئی جسٹس بی کے نارائن بھی موجود نہیں  اور بار بھی خاموش ہے  اور سپریم کورٹ بھی ہایئکورٹس کی ججمنٹس پر ریمارکس یا اسٹرکچر پاس نہیں کرتی سخت الفاظ میں اس کو ملی بھگت بھی کہہ سکتے ہیں
اخلاق یہ ہے دہلی ہایئکورٹ نے اپنی ویب سائٹ پر  ججز کے اثاثے قانون سازی سے پہلے ظاہر کیئے
مدراس ہایئکورٹ کی ویب سائٹ دیکھیں

یہ بھی اخلاقیات ہی ہے
اب دیکھ لو ہم نے پاکستان کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی 

Wednesday, 13 November 2013

عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں لیکن بداخلاقی پر مبنی آزادی ہمیں قبول نہیں

میں پاکستان کی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی توجہ ایک اہم معاملے کی جانب دلانا چاہتا ہوں  اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کی عدلیہ "رشتے داروں اور اپنے بچوں"کے معاملات میں اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے  جس سے ملکی سلامتی  اور پیشہ وکالت کو شدید خطرات لاحق ہیں   عدلیہ کی جانب سے خودہی بنائے گئے عدالتی اصول اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ججز کے بیٹے ،بیٹیاں،بھانجے،بھتیجے،داماداور دیگر رشتے دار ان عدالتوں میں پریکٹس کریں جہاں ان کے والد یا انکل بطور جسٹس  اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں جس ہایئکورٹ میں باپ یا انکل بطور جسٹس اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں وہاں ان کے رشتے داروں کو "فیس ویلیو" کے نام پر ہرقسم کا خصوصی ریلیف ملتا ہے ان کے مقدمات خصوصی بنیادوں پر چلائے جاتے ہیں جبکہ ٹریبونل اور سب آرڈینیٹ کورٹس کے ججز  ان کے پریشر میں ہوتے ہیں اور رشتے دار مافیا کو  خصوصی ریلیف دینے پر مجبور ہوتے ہیں بعض مقامات پر ججز خاموش "کوآپریٹو سوسائٹی" بناکر ایک دوسرے کے بچوں کو خصوصی ریلیف دیتے ہیں
پاکستان بننے سے پہلے یہ اصول موجود تھا کہ جب کسی جسٹس کا بیٹا بطور وکیل اپنی  پریکٹس کا آغاز کرتا تو بیٹےکو اجازت نہ تھی کہ وہ اس صوبے میں پریکٹس کرے جہاں اس کا والد بطور جسٹس  اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہو بلکہ اس مقصد کیلئے اس کو دوسرے صوبے  میں بطور وکیل پریکٹس کرنا ہوتا تھا اس کا واضح مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ ان عدالتوں میں اپنے والد اور والد کے دوستوں سے  بد اخلاقی پرمبنی خصوصی ریلیف حاصل  نہ کرسکیں جہاں ان کا والد بطور جسٹس اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہو لیکن اس اصول کی تبدیل کیا گیا ختم کیا گیا اور ججز کے بچوں کو بطور وکیل ان عدالتوں میں پیش ہونے کی اجازت دے دی گئی جہاں ان کا والد بطور جسٹس فرائض سرانجام دے رہا ہو اس  سے عدالتوں میں کرپشن کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے اور بداخلاقی کی انتہا دیکھیں کہ  اکثر جسٹس صاحبان کی اولاد ان کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتی ہے   اور اکثر ججز اپنے بچوں کی لاء فرم کی خصوصی سرپرستی کرتے ہیں یہاں تک کہ حصول برکت کیلئے رزق میں مزید اضافے کیلئےاپنے بچوں کے  لاء فرم کے چیمبر میں بھی  بیٹھ کر چیمبر کو "دم " کرتے ہیں  جو کہ بداخلاقی کی ایک بدترین مثال ہے
دنیا بھر  میں جسٹس صاحبان کو چند اصولوں کا پابند کیا گیا ہے اور وہ اصول اسقدر سخت ہیں  کہ اگر کسی جسٹس کا بیٹا وکیل ہو تو وہ اس رہائیش گاہ کو بھی استعمال نہیں کرسکتا جہاں جسٹس قیام پذیر ہو کیونکہ لازمی طور پر وہ مقدمات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی عدلیہ نے اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے کوئی اصول بنانے کی زحمت اس لیئے نہیں کی کیونکہ ججز کی اولاد اور ان کے رشتے دار اپنی پریکٹس کے زریعے کروڑوں روپے ماہانہ کماتے ہیں   دوسرے الفاظ میں یہ مافیا بن چکے ہیں دیگر ممالک  کی باضمیر عدلیہ  شفافیت کے معاملے میں اس حد تک آگے جاچکی ہے کہ اگر  کسی جسٹس کے رشتے دار زیادہ ہوں تو سفارش کی جاتی ہے کہ وہ دوسرے صوبے میں اپنی خدمات سرانجام دیں  تاکہ ان کے رشتے دار ناجائز فائدے نہ اٹھا سکیں  اپنے والد یا انکل کے نام پرکروڑوں روپے روزانہ کمانے والے یہ اعتراض اٹھاتے ہیں اگر جج سپریم کورٹ کا جسٹس ہو تو کیا ہوگا تو اس معاملے پر بھی دنیا بھر کی عدلیہ نے اصول وضع کررکھے ہیں وہ یہاں بھی قبل عمل ہیں کہ وہ اپنے انکل یا والد کے سامنے پیش نہ ہو اس پر بھی ترقی یافتہ ممالک نے قانون سازی کی ہے اس سے مدد لی جاسکتی ہے لیکن جو کچھ پاکستان کی عدالتوں میں روزانہ ہوتا ہے وہ پورے ملک کے وکیل جانتے ہیں کہ ججز کے رشتے دار اور بچے کس طریقے سے ان کا نام کیش کرواتے ہیں  ججز کی لاء فرمز بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں
یہ صورتحال ملکی سلامتی کیلئے بھی شدید خطرہ ہے کیونکہ اگر جسٹس کا بیٹا کسی بہت بڑے ایسے دہشت گردیا طالبان کے کیس میں کوئی ڈیل کرتا ہے  جیسا کہ عام طور پر ہورہا ہے اسی طرح عدالتوں میں ملکی سلامتی سے متعلق بے شمار معاملات آرہے ہیں جس کی وجہ سے عدلیہ کی اس قسم کی آزادی پورے ملک کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ  عدلیہ تو ایسے معاملے میں بہت زیادہ مجبور ہوتی ہے وہ ایسے وکلاء کو ریلیف دینے پر مجبور ہوتے ہیں جن والد یا انکل جسٹس ہوں کیونکہ انہوں نے کروڑوں روپے فیس پکڑ رکھی ہوتی  ہے  اس قسم کی بداخلاقی کی وجہ سے  عدالتوں میں کرپشن پھیلتی ہے اسٹیک ہولڈرز کو" زبان بند ی "کیلئے خصوصی مراعات دی جاتی ہیں  جس کی وجہ سے ایک عام وکیل کو نقصان ہوتا ہے  کیونکہ اس کے کلائینٹ کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی ہوتی ہےاس قسم کے انصاف سے ناانصافی پھیلتی ہے چونکہ یہ معاملہ ملکی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے اس لیئے پاکستان آرمی کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیئے 
آزاد عدلیہ قابل احترام ہے لیکن آزاد عدلیہ اپنی آزادی کا احترام کرے ایسے اصول بنائے جس کی وجہ سے اس بداخلاقی کا خاتمہ ہو اگر عدلیہ اپنی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے اور ایسے اصول وضع نہیں کرتی جن کی وجہ سے ججز کو بچوں اور ان کے رشتے داروں کو ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا جاسکے تو میں پارلیمنٹ سے گزارش کرتا ہوں کہ عدلیہ کی آزادی کے اس حصے کو مفلوج کردیا جائے جس کا تعلق    ملکی سلامتی سے ہے  عدلیہ کی آزادی کے اس حصے کو سرجری کی شدید ضرورت ہے   اس لیئے پارلیمنٹ فوری طور ایسے اصول بنائے جس کے ذریعے ججز  پابند ہوجایئں ان سنہری اصولوں کے جن پر عمل درآمد کرکے عدلیہ کے زریعے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جائے جس میں کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو لیکن یہ کام آسان نہیں پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ   ایک پورے مافیا کا کروڑوں روپے کا مفاد اس بداخلاقی  سے وابستہ ہے
اس قسم کے"فرشتے " پڑوسی ملک انڈیا میں بھی موجود ہیں 2004 میں پنجاب اور ہریانہ ہایئکورٹ کے چیف جسٹس  بی کے رائےنے اس مافیا سے ٹکر لی تو ان کا اپنا کیا انجام ہوا  ۔اس لیئے پارلیمنٹ کو بھی فرشتوں سے ٹکر لینے کیلئے کافی احتیا ط کی ضرورت ہوگی
In 2004, Justice B.K. Roy, then Chief Justice of the Punjab and Haryana High Court, issued an administrative order barring a group of 10-12 judges from hearing any case argued by their relatives. In his order, Justice Roy said: “It was generally believed that A,B, C and D (all judges) constituted a mutual cooperative society, in the sense it was believed that each of the four judges would protect the sons of the three other judges.” Punjab and Haryana High Court judges protested against this order and proceeded on leave en masse. Justice Roy was subsequently transferred. Since then the order has been ignored.
لیکن انڈیا میں اس معاملے پر کافی بحث ہوچکی ہے اور وہاں پارلیمنٹ میں "جوڈیشل اسٹینڈرڈ اور احتساب بل2009"  کے  زریعے  بداخلاقی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی پاکستانی پارلیمنٹ کو بھی "جوڈیشل اسٹینڈرڈ اوراحتساب بل کے زریعے پاکستان کی عدالتوں میں جاری فیس ویلیو کے نام پر ہونے والی کرپشن کا خاتمہ کرنے کیلئے اپنا رول ادا کرنا ہوگا یہ اہم ترین معاملہ ہے وکلاء کو اس پر غور کرنا چاہیئے  ہم مکالمے کا راستہ روک نہیں سکتے 2009 میں ہی انڈیا کے لاء کمیشن کی رپورٹ ملاحظہ فرمایئں
“If a person has practiced in a High Court, say, for 20-25 years and is appointed a judge in the same High Court, overnight change is not possible. He has his colleague advocates – both senior and junior – as well as his kith and kin, who had been practicing with him. Even wards of some district judges, elevated to a High Court, are in practice in the same High Court. There are occasions when advocate judges either settle their scores with the advocates who have practiced with them, or have soft corner for them. In any case, this affects their impartiality, and justice is the loser. The equity demands that justice shall not only be done but should also appear to have been done. Judges, whose kith and kin are practicing in a High Court, should not be posted in the same High Court. This will eliminate ‘uncle judges'.”
The commission added:
“Sometimes it appears that this high office is patronized. A person, whose near relation or well-wisher is or had been a judge in the higher courts or is a senior advocate or is a political high-up, stands a better chance of elevation. It is not necessary that such a person must be competent because sometimes even less competent persons are inducted. There is no dearth of such examples. Such persons should not be appointed and at least in the same High Court. If they are posted in other High Courts, it will test their caliber and eminence in the legal field.”
اگرچہ دونوں سفارشات انڈیا کے مخصوص حالات کے پیش نظر پیش کی گئی ہیں لیکن اگر ہم اس کو پاکستان کے حالات کو سامنے  رکھ کر دیکھیں   یہ سفارشات  "بار اور بنچ " نامی استحصالی طبقے کی کمر توڑنے کیلیئے کافی ہیں کیونکہ ہایئکورٹ میں جو جسٹس لائے جاتے ہیں وہ مخصوص چیمبرز سے ان "چیمبرز" اور چند لوگوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے لائے جاتے ہیں  وہ انصاف کرنے کیلئے نہیں آتے اگر کراچی کا کوئی جسٹس جس نے کبھی "سب آرڈینیٹ  کورٹ "میں آکر پریکٹس کرنے کی زحمت گوارا نہیں ڈسٹرکٹ کورٹ میں جانا ہی اپنی توہین سمجھا اس کو لاہور بھیجا جاتا ہے اور اس نے سماعت کے دوران  کسی لاہور کے وکیل سے یہ کہہ دیا کہ وکیل صاحب"کاؤنٹر حلف نامہ" کب جمع کروارہے ہیں تو وہاں تو معاملہ کافی خراب ہوجائے گا  وکیل ضمانت کے کیس میں اوپن کورٹ میں ہی ایسا "کاؤنٹر ایفے ڈیوٹ" جمع کروایئں گے  کہ پوری زندگی یاد کرے گا کہ ضمانت کی درخواست میں کاؤنٹر حلف نامہ کیسے جمع کروایا جاتا ہے
اگر ہم مکالمے کی زریعے اس قسم کی سفارشات لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو  پاکستان میں بار اور بنچ نامی استحصالی طبقے کی کمر ٹوٹ جایئگی اور ایک ایسی عدلیہ سامنے آیئگی جو پاکستان سے ظلم ناانصافی کا خاتمہ کردے گی بار اور بنیچ نامی  استحصالی طبقہ ہی انصاف کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے موجودہ عدلیہ جس قسم کا انصاف کررہی ہے  اس پر میں یہی کہوں گا کہ

دیپ جس کا، محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے 
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو  

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

کیا بھارت کے عوام اور ان کی پارلیمنٹ تنگ نظر ہے؟ جنہوں نے جوڈیشل اسٹینڈرڈ  linkاور احتساب بل کے زریعے عدلیہ کے احتساب کا طریقہ کار طے کردیا

http://www.prsindia.org/uploads/media/Judicial%20Standard/Judicial%20standard%20and%20accountibility%20bill,%202010.pdf


عدلیہ کی  آزادی پر یقین رکھتے ہیں لیکن بداخلاقی پر مبنی آزادی ہمیں قبول نہیں

صفی الدین اعوان