Friday, 29 April 2016

عدلیہ اور وکیل تحریر صفی الدین اعوان



میری کلائینٹ جانے لگی تو اس کی کمسن  بیٹی نے آفس سے نکلتے وقت اچانک میرے سامنے ہاتھ جوڑ لیئے اور روتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب اگر میری ماں  پراپرٹی  کا یہ کیس ہار گئی تو ہم پانچ بہنیں  اپنی ماں سمیت روڈ پر آجائیں گے
یہ بات سن کر مجھے ذہنی طور پر بہت شاک لگا۔ میرے پاس ایک لمحے کیلئے الفاظ ختم ہوگئے
کیونکہ میں جانتا تھا کہ بظاہر میری کلائینٹ کا کیس بہت کمزور تھا
مخالف پارٹی نے جو وکیل کیا تھا اس  کا تجربہ پچاس سال کا تھا جس کا وہ عدالت میں فخریہ اظہار بھی کرتا تھا
میرے کلائینٹ کے پاس  صرف ایک بجلی کا بل اور بچوں کے پیدائیشی سرٹیفیکیٹ تھے  دوسرے الفاظ میں  اس کے پاس صرف  قبضہ تھا
بچی کے الفاظ  نے مجھے ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب کیا  ان کے جانے کے بعد میں کافی دیر تک گم سم رہا اس کیس کا  نئے سرے سے مطالعہ کیا لیکن میں مطمئین  نہ ہوا
پھر وہ کیس میرے لیئے ذہنی بوجھ بن گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ  وکالت کتنا حساس ترین شعبہ ہے کسی کی جان کسی کا مال  ہمارے رحم وکرم پر ہوتی ہے۔ زراسی کوتاہی کسی کے پورے خاندان   کو سڑک پر لاسکتی ہے ہماری ذرا سی کوتاہی کسی کو اس کی عمر بھر کی جمع پونجی سے ہی محروم کرسکتی ہے
اسی طرح دن گزرگئے اور کیس  کی  سماعت کا دن آگیا۔ بدقسمتی سے بھرپور کوشش کے باوجود میں  اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اس کیس میں کامیابی حاصل کرسکوں  اس لیئے جج صاحب سے تاریخ لی  اور  بوجھل قدموں سے واپس آگیا مخالف  وکیل صاحب فاتحانہ نظروں سے دیکھ رہے تھے
میں نے کوشش کی لیکن  ناکام رہا کافی مطالعہ کیا لیکن کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تھی
اسی دوران دوبارہ کیس کی سماعت کی تاریخ  آگئی۔ شام کو میں  کافی پریشان تھا اور بچی کے الفاظ میرے ذہن میں تھے کہ وہ روڈ پر آجائیں گے ۔ اسی پریشانی میں  شام کے وقت  چند منٹ کیلئے میری آنکھ لگ گئی  اسی دوران میرے ذہن میں انیس سو ستاسی کا کچی آبادیز کا ایکٹ آیا جس کے تحت قابضین کو ریگولر کیا گیا تھا
مخالف وکیل نے  سپریم کورٹ کے سترہ فیصلہ  جات پیش کیئے تھے جس کے مطابق بجلی کے بل کی بنیاد پر کوئی بھی شخص ملکیت کا دعوٰی نہیں کرسکتا لیکن وہ تمام فیصلے موروثی اور ریگولر جائیداد کے متعلق تھے  بعد ازاں یہی نکتہ اس کیس    اہمیت اختیار کرگیا میں  اس کیس میں پہلی بار ہرلحاظ سے مطمئین تھا 
خیر کیس کی سماعت ہوئی تو   وہ اتنی دھواں دار تھی کہ کورٹ روم کے اندر ہی صرف اس سینئر ترین وکیل نے  صرف میرے ساتھ ہاتھا پائی نہیں کی وہ شور شرابہ کیا کہ   میں خود حیران  رہ گیا  میں سوچتا ہی رہ گیا  کہ سینئر ایسے بھی ہوتے ہیں
انیس ستاسی کے کچی آبادی کے ایکٹ نے نہ صرف اس کے تمام دلائل ہوا میں اڑادیئے بلکہ   سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کا طلاق بھی   اس  پراپرٹی پر نہیں ہوا کیونکہ اعظم بستی کچی آبادی تھی
جج صاحب  اچھے انسان تھے معاملہ فہم تھے فیصلہ سنانے سے پہلے  مدعی سے پوچھا کہ تم یہ دعوٰی کرتے ہو کہ یہ بوڑھی اماں تمہاری کرایہ دار تھی تو سچ بتاؤ کہ یہ تم کو کتنا کرایہ ماہانہ دیتی تھی تو خان صاحب نے سادگی سے جواب  دیا کہ وہ وکیل صاحب نے کیس میں لکھ دیا ہے جو وکیل نے لکھا ہے وہی کرایہ دیتی تھی  وکیل ساب کو سب پتہ ہے ۔  جج صاحب نے جواب دیا کہ  اصل بات یہ ہے  کہ یہ بوڑھی اماں کبھی تمہاری کرایہ دار نہیں  رہی اگر تم نے کرایہ لیا ہوتا تو تم کو ضرور یاد ہوتا  تم لوگوں نے کورٹ کا بہت قیمتی وقت برباد کیا اس طرح  اس کیس کا فیصلہ اس غریب عورت کے حق میں سنادیا گیا  یاد رہے کہ اعظم بستی کا سواتی گروپ اسی طریقے سے بے شمار پلاٹس پر قبضہ کرچکا ہے اور یہ ان کی پہلی شکست تھی
وکالت بہت ہی مشکل حساس اور مقدس ترین پیشہ ہے   نہ جانے کیوں عوام الناس میں وکیل کی وہ بات نہیں رہی جو کسی  زمانے  میں ہوا کرتی تھی شاید وہ وکیل بھی بہت کم باقی ہیں  لیکن آج  بھی چند وکلاء ایسے موجود ہیں جن پر شعبہ وکالت کو فخر ہے
وکیل کے ساتھ ساتھ اچھے ججز کی اہمیت کو کبھی کم نہیں کیا جاسکتا ۔ اچھا وکیل کبھی بھی جج نہیں بنتا
عدلیہ میں نالائق اور نااہل زیادہ عرصے چل نہیں سکتے۔ جج کے ہاتھ میں اگرچہ لوگوں کی تقدیر ہوتی ہے اور قلم کا ایک اشارہ  بہت کچھ بدل سکتا ہے لیکن  وکیل   اس کی بھرپور رہنمائی کرتا ہے۔ایک اچھے وکیل  کی رہنمائی  کے بغیر  جج کچھ نہیں کرسکتا ۔ وکالت  اورعدلیہ  کبھی مذاق نہیں تھے نہ یہ  شعبے مذاق بن سکتے ہیں
ایک سال پہلے ایک نااہل جج صاحبہ کے سامنے  ایک  کیس کے اندر درخواست دائر  کی تو ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود  جب  جج صاحبہ نے فیصلہ نہیں کیا تو میں نے  تنگ آکر اور بہت زچ  ہو کر کیس سے یہ درخواست دے کر وکالت   نامہ  واپس لیا کہ جج صاحبہ کو عدالتی  کام  بالکل بھی نہیں آتا   وہ آرڈر لکھنا بھی نہیں  جانتی ہیں ۔اس لیئے میں مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے وکالت نامہ ہی واپس لے لیتا ہوں مزے کی بات یہ ہے کہ جج صاحبہ نے  وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست منظور کرلی اور  اس  بات کا زرا بھی برا  نہیں منایا کیونکہ   ان کے پاس مائینڈ  تھا ہی نہیں  یہی  نااہلی  وکالت کو تباہ کررہی ہے
اللہ تعالٰی نے  بہت سے نوجوان وکلاء کو عزت سے نوازا وہ جج کے عہدے پر فائز ہوئے بدقسمتی سے   سندھ ہایئکورٹ کو  یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ جن لوگوں کو وہ جج بناکر  ڈسٹرکٹ کورٹس میں بھیج رہے ہیں ان کے ہاتھ میں لوگوں کی تقدیر ہوگی  کم از کم تجربہ کار وکلاء کو شامل کیا ہوتا لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے اور سازش کے تحت ایک دن کی پریکٹس والے نان پریکٹسنگ وکلاء کو عدلیہ میں شامل کیا گیا
وہ لوگ فیلڈ میں آئے تو حالات کا سامنا نہیں کرسکے۔جب پریکٹس ہی نہیں کی جب وکالت میں قدم ہی نہیں رکھا تو  قانون کی تشریح کیسی جس کے بعد تصادم کا آغاز ہوا جو کہ بڑھتا ہی بڑھتا گیا
وکالت سمجھنے کو ایک وقت چاہیئے۔  معمولی نکتے سمجھنے میں  کئی سال لگ جاتے ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے  جوتوں کے جوڑے  باقاعدہ طور پر ٹوٹ گئے  تب کہیں جاکر تھوڑا بہت سمجھ آیا کہ وکالت کیا ہوتی ہے 
اسی طرح  وکلاء کی تحقیق اور محنت کے نتیجے میں اکثر جج کو رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔ عوام الناس میں  وکلاء  کے متعلق ہزاروں باتیں مشہور ہیں ۔ یہ بھی سچ ہے کہ وکیل  بن جانا بہت ہی آسان ہے ۔ آپ کسی بھی کالج سے باآسانی وکالت کی ڈگری خرید کر بار کونسل کو پیسے دیکر  لائیسنس خرید سکتے ہیں   عمر کی کوئی قید   نہیں ڈاکٹر انجینئر  زندگی کے ہر شعبے کے ناکام لوگ ریٹائرڈ لوگ اس شعبے میں باآسانی کھپ  سکتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ وکالت کا شعبہ تباہ ہوکررہ گیا
اس کے نتیجے میں  مسائل تو جنم لیں گے   اور مسائل جنم لے رہے ہیں تیزی سے لوگ اس شعبے میں داخل ہوتے ہیں اور تیزی سے چلے بھی جاتے ہیں  صرف اچھا وکیل ہی اس شعبے میں رہ سکتا ہے  صرف وہ وکیل ہی شعبے میں رہتا ہے جو  وکالت کے ساتھ  تحقیق پر بھی توجہ دیتا ہے   جبکہ  ناکام قسم کے لوگ جلد یا دیر سے ناکام ہی ہوتے ہیں

کافی عرصے بعد کراچی بارایسوسی ایشن   ، ملیر بار اور سندھ  کی دیگر بارایسوسی  ایشن نے نے ججز کے رویوں کے خلاف وکلاء کو درپیش مسائل کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے یہ ایک اچھی مہم ہے اس کے اثرات دوررس  ہونگے
لیکن میں  توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ  کراچی میں  سندھ  ہایئکورٹ بار کو اس قسم کے معاملات سے دلچسپی نہیں   اس لیئے ان کو زبردستی   تحریک کا حصہ  بنانا درست نہیں ہے  
تمام بار ایسوسی ایشنز  اپنے مطالبات کے پینا فلیکس بنوا کر آویزاں کریں  تاکہ  کوئی مفاد پرست  من مانی تشریح نہ کرسکے  سندھ ہایئکورٹ کی حدود یا احاطے کے اندر کراچی باراور ملیر بار  کو اپنی جنرل باڈی منعقد کرنی چاہیئے  اور اس سلسلے میں ہایئکورٹ بار سے  کسی بھی قسم کی مدد لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے 
یہ ایک ہرلحاظ سے حساس اور اہم ترین تحریک ہے ۔ لیکن تاحال مطالبات واضح نہیں ہیں ۔ مطالبات کی لسٹ پینا فلیکس کے زریعے وکلاء تک پہنچانا کراچی بار کی ذمہ داری ہے  کیونکہ پانچ ہزار وکلاء  اپنے حساب سے  اس کی تشریح کررہے ہیں جو کہ مناسب عمل نہیں
اخلاقیات کی بہت اہمیت ہے  عدلیہ کا احترام ضروری ہے لیکن دل کو کبھی کبھی تنہا بھی چھوڑ دینا چاہیئے ۔ اگر جائز اور آئینی مطالبات سندھ ہایئکورٹ  تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی تو سجاد  علی شاہ سمیت کسی بھی جسٹس کا عزت اور احترام کے ساتھ  راستہ روکنے اور اس کی عدالت میں جاکر احتجاج کرنے  سمیت ہر  راستہ اختیار کرنا وقت کی  اہم ترین ضرورت ہے  وکلاء قانون کے محافظ ہیں  اور قانون کی  حفاظت کے دوران اگر کسی کو ونجی دینے کی ضرورت ہوتو    دینے میں حرج نہیں  
ہم سے الجھو گے تو زمانے میں جیو گے کیسے
ہم تو ظلم کی ہردیوار گرادیتے ہیں

Tuesday, 26 April 2016

قانون کون سکھائے گا ؟ تحریر صفی الدین اعوان

سندھ میں بار کونسلز نے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ہرروز دوگھنٹے کی ہڑتال ہوا کرے گی فی الحال یہ ایک ہفتے کیلئے ہے وکلاء کے مطالبات جائز ہیں لیکن مفادات کی جنگ میں جائز ناجائز کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اہمیت ہوتی ہے تو صرف طاقت کی ۔۔۔۔۔۔۔اہمیت ہوتی ہے تو صرف اس بات کی کیا مدمقابل سامنے والے کے کان گرم کرسکتا ہے یا نہیں مفادات کی جنگ میں اکثر دلائل پاؤں کے نیچے کچل دیئے جاتے ہیں یہ ایک اہم تحریک ہے کیونکہ ماضی کی قیادت کی غفلت کی سزا آج پورا صوبہ سندھ بھگت رہا ہے بشیرے کام نہیں جانتے نہ ہی نان پریکٹسنگ وکلاء جن کو جج بنایا گیا ہے وہ قیامت تک کام سیکھ سکیں گے یہ ناممکن ہے دنیا میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے کہ ایک دن کا وکیل وکالت کیئے بغیر اچھا جج بن جائے وہ صرف بشیرے کا کردار ادا کرسکتے ہیں جو کہ وہ بخوبی نبھارہے ہیں

لیکن اب شاید بہت تاخیر ہوچکی ہے عدلیہ اپنے معاملات میں کافی مضبوط ہوچکی ہے برسراقتدار جسٹس صاحبان کا گروپ ہایئکورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک بہت مضبوط ہے اور اس وقت ایک ہی گروپ کی حکومت ہے
وائٹ کالرز کو پڑتال سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔ جب تک تشدد کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوگا اور تشدد بھی نچلی سطح پر نہیں برسراقتدار طبقے کے ساتھ اس وقت تک معاملات ٹھنڈے ٹھنڈے ہی رہیں گے
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں پر موجودہ عدلیہ قیامت تک آئین پاکستان کے مطابق وکلاء کو نمائیندگی نہیں دے گی یہ وائٹ کالر اتنے اچھے نہیں ہیں ویسے بھی نمائیندگی دی نہیں لی جاتی ہے اور کس طرح لی جاتی ہے پاکستان میں ایک بارکونسل نے اپنا وہ حق چھین کرلیا ہے اور ونجی دے کر لیا ہے جو سندھ کے وکلاء سے چھین لیا گیا ہے ہمیں اس بار کونسل سے بھی رابطہ کرکے وہ طریقہ سیکھنا چاہیئے کہ جس طرح وائٹ کالرز سے اپنا حق حال ہی میں چھین کرلیا ہے وہ بتائیں گے کہ قانون کس نے کس کوپڑھانا ہے رولز کس نے کس کوسکھانے ہیں
دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر ہماری وکلاء قیادت چیف سے ملنے چلی جائے تو وہ ان کو قانون سکھانا شروع کردے گا رول پڑھانا شروع کردے گا
لیکن اصل قانون تو عالمگیر قانون ہے جو سب کیلئے ہے جو طاقتور ہے وہ جیت جائے گا اور جو کمزور ہے وہی قانون پڑھ کر اور سیکھ کر آئے گا قانون وہی پڑھاتا ہے جو طاقتور ہوتا ہے اور معلومات میں اضافہ اسی کی ہوتا ہے جو کمزور ہوتا ہے کیونکہ طاقتور تو قانون کی تشریح اپنے مفادات کے حساب سے کرتا ہے
عدلیہ اپنے بشیروں سے سچا پیار کرتی ہے وہ ان پر آنچ نہیں آنے دے گی یہ تو وہ بھی جانتے ہیں کہ نئے بشیرے کام نہیں جانتے وہ بدتمیز بھی ہیں لیکن کسی کی شہہ پر ہیں

فی الحال کسی کامیابی اور تبدیلی کا کوئی امکان نہیں

Monday, 25 April 2016

میرا اردو بلاگ ...امیدیں توقعات اور چیلنجز تحریر صفی الدین اعوان

بار اوربینچ کے درمیان تعلقات ہمیشہ سوالیہ نشان رہے ہیں ۔ بینچ اور وکلاء کے درمیان تعلقات بھی ہمیشہ ایک کیمسٹری کے مضمون کی طرح رہے ہیں  جو کبھی سمجھ نہیں آتے
بار کے منتخب عہدیدار سے پہلی بار واسطہ اس وقت پڑا جب ہم وکالت کے شعبے میں نہیں آئے تھے  اورایک رشتہ دار کی کسی  معمولی کیس میں ضمانت کروانی تھی  منتخب عہدیدار نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ سیشن جج تو بار کے عہدے کی وجہ سے اس کا  "یار"ہے
جس دن ضمانت کی درخواست کی سماعت تھی  تو وکیل صاحب نے بتایا کہ رات بار کے ڈنر میں ملاقات ہوئی تھی سیشن جج سے آپ کے کیس کا ذکر کیا تھاامید ہےکام ہوجائے گا۔ خیر دوران سماعت سیشن جج کا موڈ کافی  خراب دکھائی دیا ایک ٹیکنیکل ایشو پروکیل صاحب کی  کلاس لی  لیکن ضمانت کی درخواست منظور کرلی  وہ لمحات قیامت کی طرح تھے کیونکہ اگر ضمانت منظور نہ ہوتی تو مسئلہ ہوجاتا
اس وقت ہی یہ بات ذہن میں ڈال دی گئی تھی کہ اگر ڈسٹرکٹ کورٹس سے کوئی کام کروانا ہے یعنی کوئی چھوٹی موٹی ضمانت کروانی ہے  تو بار کے عہدیدار کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہیں ایک بات یہ بھی ذہن میں رہی کہ بار کے  مشہور عہدیداران کو مشکل قسم کے قتل وغیرہ کے مقدمات ملتے ہیں جن  میں ضمانت وغیرہ کروانا ایک عام وکیل کیلئے ناممکن ہوتا ہے تو  مشہور عہدیدار  بریف کیس کے زریعے اس ناممکن کو ممکن بناتے ہیں  
یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے ۔  بار کے   چند مخصوص عہدیداران کو خصوصی ریلیف ملتا ہے ۔لیکن ہر عہدیدار کو یہ ریلیف نہیں ملتا اور یہ بات بھی کافی حد تک درست ہے کہ  بڑی رقوم کی ادائیگی بار کے انتہائی قابل اعتماد لیڈرز کے زریعے ہی ہوتی ہے۔  اگرچہ کتابوں میں بہت کچھ لکھا ہوا ہے لیکن بار  کے صدر وغیرہ کی اصل  ذمہ داری  قتل سمیت بڑے مقدمات  میں   لین دین  کیلئے "سہولت کار"  کا فریضہ سرانجام دینا ہے ۔   اور ماہانہ اس قسم کے معاملات میں کروڑوں روپے کی ڈیل ہوتی ہے  لیکن صرف بڑے شہروں میں
ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کیلئے  بار کے عہدیداروں کی رائے کومدنظر رکھا جاتا تھا  لیکن اچھے وکلاء  نے کبھی جج بننے کیلئے کوشش نہیں کی ۔۔۔۔  اس زمانے میں عدالتوں سے ملزمان  کو سزائیں  دینے کا بھی رواج  تھا  اس زمانے میں  بشیرا سسٹم  رائج  نہیں  ہوا تھا ۔وقت کا المیہ اور بشیروں کے عروج کے بعد    عدلیہ  مذاق  بن گئی    کورٹ  صرف حاضری  لگانے کی جگہ بن گئی ہے جیسا کہ کسی پرائمری اسکول میں بچے حاضری لگانے آتے ہیں ، چند ماہ  کے بعد  بشیرے ملزم  کے ہاتھ میں بریت  کا  لیٹر پکڑا  دیتے ہیں  جس کی وجہ سے جب کسی  کو سزا کا خوف ہی نہیں تو کوئی  فیس  کیوں دے گا   قابل وکلاء مالی مسائل  کا شکار ہوئے آج مالی مسائل کی وجہ سے  انتہائی قابل ترین وکلاء  جج بننے کی لائن میں لگے ہوئے ہیں اور ان کو  سلیکشن  کیلئے اہمیت نہیں دی جاتی ۔۔۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ   کمزور بار  سے رائے لی ہی نہیں جاتی بلکہ اب تو معاملات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ بار کے ایک  اہم ترین عہدیدار کو جن کی قابلیت  کا ایک زمانہ قائل ہے   ان کو نشانہ بنا کر منتخب نہیں کیا گیا
دومسائل جنم لے چکے ہیں  بار کمزور ہوچکی ہے ۔ وکلاء تقسیم  درتقسیم ہوچکے ہیں   عدلیہ وکلاء اور کمزور بار کی یہ کمزوری جانتی ہے    

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں عدلیہ کا بنیادی یونٹ مجسٹریٹ کا ہے جن کو تربیت دینے کیلئے تربیت یافتہ اسٹاف دستیاب نہیں ہے ۔ تجربہ کار وکلاء کو نظرانداز کرکے  ان لوگوں کو شامل کیاجاتا ہے جنہوں نے کبھی عدالت میں پریکٹس نہیں کی یہ سال اس لحاظ سے خوش قسمت رہا کہ  اس سال بہت بڑی تعداد میں  تجربہ کار وکلاء کو عدالتی نظام میں شامل کیا گیا ہے   لیکن بشیرے بھی کثیر تعداد میں بھرتی ہوکر آئے ہیں جن لوگوں نے  وکیل کی حیثیت سے  عدالتوں میں خدمات سرانجام نہیں دی ہیں نہ جانے وہ کس طرح  عدالتی نظام میں فٹ ہونگے یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے شاید اس سوال کا جواب اس  چیف بشیرے کے پاس ہوگا جس نے ہایئکورٹ میں بیٹھ کر یہ گندی پالیسی تشکیل دی ہے    
حالانکہ ڈسٹرکٹ کورٹس تو تربیت کے اہم ترین ادارے ہیں یہاں سے جن وکلاء  نے پانچ سال پریکٹس کی اور وکالت کے شعبے کو جوائن کیا  وہ بہترین جوڈیشل افسر ثابت ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے بار کی  رائے کو نظرانداز کیا گیا ماضی میں   لیڈر شپ سے محروم لوگوں کو عدلیہ  میں شامل کیا گیا جس کے اثرات ہم ہرجگہ محسوس کرتے ہیں  عدلیہ مجبور ہوجاتی ہے  کیونکہ جب ہایئکورٹ کیلئے  ایلوویشن کی جاتی ہے تو مجبوری میں  بشیرے ہی  منتخب کیئے جاتے ہیں  کیونکہ بشیروں کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے
بارہا ایک  بات سامنے آتی ہے کہ اب ڈسٹرکٹ کورٹس میں لوگ مناسب فیس ادا نہیں کرتے ہیں  اس کی ایک  اہم  وجہ کرپشن ہرگز نہیں ہے   نچلی سطح پر  اب تجربہ کار وکلاء کی بھی کمی ہے اور ججزکی  بھی

دوسری طرف اخلاقی طور پر سندھ ہایئکورٹ اس وقت بہت بلندی پر پہنچ گئی ہے   آدم ایچ سنگھار، عالیہ ملک، رومانہ صدیقی اور ارم جہانگیر  جیسے  نااہل  اور بدعنوان  لوگ آج ہمارے عدالتی نظام کا حصہ نہیں ہیں  سجاد علی شاہ  صاحب کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ہمیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ سجاد علی شاہ صاحب اور محترم  فیصل عرب صاحب نے صوبہ سندھ کے عدالتی نظام سے کرپشن کو کافی حد تک ختم   کیا ۔ لیکن  جن  ججز کیخلاف  کاروائی  کی گئی ہے ان ججز نما چوروں ڈاکوؤ ں  اور ڈکیتوں نے  جس طریقے سے ماضی  قریب میں جج کی مقدس سیٹ پر بیٹھ کر   عدالتی سسٹم کو تباہ و برباد کیا وکلاء کی پریکٹس کو تباہ کیا   اس کا ازالہ قیامت تک ممکن نہیں ہے  
  لاء سوسائٹی پاکستان کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ ہم نے نہ صرف بدعنوان عناصر کی نہ صرف  بروقت  نشاندہی کی  بلکہ   ان کے خلاف متعلقہ فورم پر ریفرنسز بھی داخل کیئے   اس  پر ہمیں روکا بھی گیا  اور شدید نتائج  کی دھمکیاں  بھی دی گئیں ۔جس کے سب سے زیادہ نقصانات ہمیں ہوئے  میری پریکٹس کو نشانہ بنایا گیا   مجھے ذاتی طور پر بہت زیادہ مالی نقصان ہوا لیکن میں نے معافی کی بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے    اپنی جنگ جاری رکھی اور  آخر کار ایک ایک کرکے وہ تمام لوگ ماضی کا حصہ بنتے چلے گئے جنہوں نے مجھے نشانہ بنایا تھا۔ اسی دوران میں نے اپنی وکالت کو دوبارہ مستحکم کیا  میں وکلاء کو مشورہ دوں گا کہ کوئی ارم جہانگیر کوئی رومانہ صدیقی کوئی آدم ایچ سنگھار اور کوئی عالیہ ملک  راستے کی رکاوٹ بنے تو  ان کے سامنے سر نہیں جھکانا ان کے غیرقانونی اقدامات کو تحریر ی شکل دے کر  حلف نامے کے ساتھ  رجسٹرار کے پاس  ایسے عناصر کے خلاف درخواست ضرور دیں لیکن مقامی  بار کے اوپر کسی صورت میں بھروسہ نہ کریں کیونکہ بار کے مرکزی عہدیدار  ہرصورت میں  کرپشن  کیلئے صرف سہولت کار کا فرض سرانجام دیتی ہے  موجودہ دور میں ایک مردہ ادارے کا یہ رول بھی غنیمت  ہے  کمزور ادارے کا یہ رول بھی اب خاتمے کی جانب گامزن ہوچکا ہے کیونکہ  اب  اوپر سے بار کے ساتھ عدم تعاون کی  پالیسی نافذ ہوچکی ہے    

کوئی کتنا بھی بااثر جج کیوں نہ ہو  اگر وہ کرپشن کرے گا تو آپ کی درخواست اس کو  ایک  دن کیفرکردار تک ضرور پہنچائے گی  اس لیئے خاموش مت رہیں خاموشی بھی ایک جرم ہے
جو لوگ صرف باتیں کرتے ہیں عدلیہ کی کرپشن کی جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں وہ صرف بزدل اور نااہل ہیں جو صرف باتیں کرنا جانتے ہیں  اور ایک قدم آگے بڑھ کر کبھی بھی کرپشن کے خاتمے کیلئے کوشش نہیں کرتے
دوستوں کاایک اعتراض یہ بھی تھاکہ  اردو بلاگ  کا لہجہ درست نہ تھا لب و لہجہ گستاخ تھا   عدلیہ کے شایان شان نہیں تھا  لیکن  وقت  نے یہ ثابت کیا کہ نظام کے اندر شدید گڑبڑ موجود تھی اور موجود ہے  یہی وجہ ہے  کرپشن چوربازاری فراڈ اور دھوکہ دہی میں ملوث  بہت بڑی تعداد میں ججز کے خلاف کاروائی کرکے ان کو فارغ کردیا گیا ہے،  ہمارے مؤقف کی سچائی کو وقت نے ثابت کیا ہے  لیکن جن لوگوں کو فارغ کیا گیا ان لوگوں  نے ہمارے معاشرے میں جس طریقے سے جرائم کو پروان چڑھایا  اس کا ازالہ ناممکن ہے
یہ صورتحال ان لوگوں کیلئے بھی سوالیہ نشان ہے جو  لاء سوسائٹی کے اردو بلاگ کو  تنقید  کا نشانہ بناتے تھے  
لاء سوسائٹی پاکستان ایک واحد ادارہ ہے جس کا اردو بلاگ  پوری  دنیا  میں وسیع پیمانے پر پڑھا جاتا ہے ہم پالیسی ساز ی کا حصہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالٰی کا احسان عظیم ہے کہ ہماری رائے پالیسی کارخ ضرور متعین کرتی ہے  بہت سے مقامات پر واضح طور پر توہین عدالت محسوس ہوتی تھی لیکن نوٹس اس لیئے نہیں لیا گیا کہ ہم نے جو بات کی اس کے پیچھے سچ موجود تھا   چغل خور عناصر نے عدلیہ میں جاکر ہمارے بلاگ کے حوالے سے چغلیاں کھائیں لیکن ان کا یہ عمل تبدیلی کا باعث بن گیا سچ کوکوئی شکست نہیں دے سکتا ہماری سچائی ہماری طاقت ہے  ایک بلاگر کی حیثیت سے میں نے کبھی بھی کسی قسم کا کوئی ڈر اور خوف کبھی بھی محسوس نہیں کیا  اور سچائی کو بیان کیا  کسی نقصان کیپروا کیئے بغیر
ہمارے خلاف بدعنوان عناصر نے توہین عدالت کے جھوٹے مقدمات دائر کیئے جن کا ہم سامنا کررہے ہیں
سوشل  میڈیا کے زریعے ہماری آواز  پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں تک پہنچی  ۔ عدالتی معاملات سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں نے  ہمارے اردو بلاگ کے زریعے  عدالتی نظام کے اندر جھانکنے کی کوشش کی  اردو بلاگ میں اٹھائے گئے ہمارے  بیشتر مطالبات وقت کے ساتھ ساتھ تسلیم کیئے جاچکے ہیں  عدلیہ کا نظام آن لائن  ہوچکا ہے  کیس کی ڈائری آن لائن دستیاب ہوتی ہے  بدعنوان  ججز کی بہت بڑی تعداد فارغ ہوکر گھر جاچکی ہے ۔اور جن ججز کے خلاف شواہد موجود ہیں ان کے خلاف انکوائریاں  چل رہی ہیں ۔لیکن اس ساری صورتحال  میں بار کا کوئی کردار ہمارے سامنے موجود نہیں ہے بار کی عدم موجودگی میں صرف اور صرف لاء سوسائٹی ہی ایک ایسا ادارہ تھا جو  مشکلات  کے باوجود آواز بلند کررہا تھا ۔  یہ فتح نہیں تو اور کیا ہے۔  لاء سوسائٹی  کا بلاگ   عدلیہ میں  پالیسی سازی کے عمل    پر سب  سے زیادہ  اثرانداز ہوا  اعلٰی  عدلیہ میں  سب  سے زیادہ  بلاگ  پر بحث  مباحثہ  ہوا کہ اس  کے خلاف  کیسے ایکشن لیاجائے گزشتہ دنوں بھی ایک دوست نےپیغام دیاکہ عدلیہ کے ساتھ مل جل  کر کام کرنا مناسب ہے وقت کی ضرورت  ہے  میں نے جواب دیا کہ ملکر  چلنے سے کیا مراد ہے کیا ہم عدلیہ کے پاؤں پڑجائیں  کیا ہروقت ان کی مدح سرائی کرتے پھریں  اور ہروقت  مخصوص لوگوں کی چاپلوسی کرتے پھریں    تو یہ  ہرصورت میں ناممکن ہے
وقت آگیا ہے کہ اب  ہمیں اپنے مسائل پر کھل کر بات کرنی ہوگی۔ سوشل میڈیا ایک بہترین فورم ہے ۔ بار جیسا عظیم ادارہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔ بار کے  عہدیداران  کی ساری توجہ آنے والے الیکشن  پر ہوتی ہے    اور صرف اور صرف  الیکشن کا کھیل ہی کسی نہ کسی صورت سارا  سال جاری وساری رہتا ہے  ۔بار میں  مضبوط لیڈرشپ موجود نہیں  ہے وکلاء کی ایک اکثریت سوشل میڈیا پر موجود ہے اور بہت سے نان ایشوز پر سارا دن بات کی جاتی ہے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک عظیم مقصد یعنی عدالتی اصلاحات  کیلئے استعمال کریں ۔
عدلیہ میں آنے والے  ملزمان کی اکثریت کو باعزت طور پر بری کردیا جاتا ہے یہ شرح  ننانوے فیصد تک جاپہنچی ہے ۔میرا سوال یہ ہے کہ  عدالتی نظام کی یہی کمزور ی وکلاء  کو معاشی طور پر تباہ کررہی ہے جب عدالتی نظام سے سزا کا تصور ہی ختم ہوجائے گا  تو لوگ وکلاء کو فیس کیوں اداکریں گے  اس کی وجہ صاف ظاہر ہے
عدلیہ کا بنیادی یونٹ مجسٹریٹ   ہے جس کے سامنے ریمانڈ پیش کیا جاتا ہے جس کے سامنے ملزمان کو ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جاتا ہے  ہمارا مجسٹریٹ  تفتیش کی بنیاد کو  ہی نہیں سمجھتا    مزید بدقسمتی یہ ہے کہ  وہ  اہلیت  ہی نہیں رکھتا  بہت  بڑی  تعداد میں بشیرے  عدالتی نظام  میں موجود ہیں جن میں دھڑا دھڑ اضافہ ہی کیا جارہا ہے  ہایئکورٹ میں بیٹھے کسی   بشیراعظم  کو کسی نے غلط پٹی پڑھا دی ہے کہ جو وکیل  ناتجربہ کار ہوگا جس نے عدالت میں پریکٹس  نہیں کی ہوگی وہی اچھا  جج ثابت ہوسکتا ہے  حالانکہ یہ  ناممکن ہے اس قسم کے لوگ صرف مسائل ہی کا سبب بنتے ہیں  غلط تفتیش کی رپورٹ جب غلط شخص کے سامنے پیش کی جاتی ہے  تو وہ غلط آدمی غلطی سے  پولیس  کی تفتیش سے غلط طور اتفاق کرتا ہے وہ سادہ دل انسان آج تک یہ فلسفہ ہی حل نہیں کرسکا کہ قتل ایک سیشن ٹرائل ہے تو پولیس ریمانڈ مجسٹریٹ سے کیوں لیتی ہے اور سیشن ٹرائل کیلئے جب چالان اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو اس بشیرے   کو  تفتیش  کی باریکیوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا  یہی وجہ ہے کہ کسی بھی گناہگار کو عدالت سے سزا دینا ایک جرم بن چکا ہے شاید اسی وجہ سے کسی کو سزا نہیں ملتی  
صحیح شخص کو صحیح جگہ پر بٹھائے بغیر مسائل کا حل ناممکن ہے  
ان کمزوریوں کے ساتھ مقدمہ مجسٹریٹ کی عدالت سے سیشن کورٹ تک چلاجاتا ہے اور سیشن کی عدالت سے ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ تک  یہ مقدمہ چلاجاتا ہے بنیادی کمزوریوں پر کبھی بات نہیں کی جاتی  معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ  ایک دعوٰی کرتا ہوں کہ پاکستان کی عدلیہ میں وہ لوگ جو ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی بیٹھے ہیں  وہ فوجداری قوانین کی روح کو نہیں سمجھتے  
دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران صرف   چھ  وکلاء کوایڈیشنل ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن جج کی پوسٹ  دی گئی جبکہ اسی دوران ننانوے فیصد بریت کے زمہ دار جوڈیشل مجسٹریٹس کو ہی  پروموشن دیکر اس عہدے کے ساتھ مذاق  کیا گیا ہے یہ کیسا نظام  ہے اس سے زیادہ بار  کونسلز،عدلیہ اور وکلاء کی بدقسمتی کیا ہوگی  یہی وجہ ہے کہ  محسوس ہوتا ہے کہ بار کا وجود ختم ہی ہوچکا ہے  لیکن سوال یہ ہے کہ اس قسم کے  بشیرے پروموٹ کیسے ہوجاتے ہیں اور کس طرح اس قسم کی حساس نشستوں پر پہنچ کر اپنے مائینڈ سیٹ  کاعوام کو نشانہ بناتے ہیں
عدلیہ  تجربہ کار وکلاء کو عدالتی نظام میں شامل نہیں کررہی ہے ۔ اپنے نااہل  بشیروں  کو  ہی پروموٹ کرکے ان عہدوں  پر فائز کررہی ہے  اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج کی سیٹ پر وکلاء کو دھوکہ دے کر  ایک خود ساختہ  اوٹ پٹانگ قسم کے  این ٹی ایس کے نام پر وکلاء کا استحصال کرکے  ان کے ان جائز حق سے محروم کررہی ہے  اور این ٹی ایس کے زریعے بھی  جوڈیشل افسران ہی کو شامل کرلیا جاتا ہے اور جو این ٹی ایس سے شامل ہونے سے بچ جائیں ان کو ایک بار پھر  براہ راست پروموشن دے دی جاتی ہے  استحصال ہمیشہ وکیل کا ہی ہوتا ہے  باعث شرم بات یہ ہے کہ جن عدالتوں سے ننانوے فیصد  ملزمان مجسٹریٹ کی ابتدائی نااہلی کے نتیجے میں  باعزت طور پر بری ہوجاتے ہیں  وہ عدلیہ وکلاء کی قابلیت پر سوالیہ نشان بنانے کا حق کیسے رکھ سکتی ہے ۔ بار کبھی ان مسائل پر کھل کر بات نہیں کرتی جیسا کہ  ہمارے اردو بلاگ میں کھل کر بات کی جاتی ہے  
کاش کہ ہماری بار اتنی کمزور نہ ہوتی ۔
سکندر اعظم نے کسی ملک کو فتح کیا تو اس کو اندیشہ تھا کہ وہ اس ملک پر زیادہ دیر قبضہ قائم نہیں رکھ پائے گا تو اس کے کسی مشیر نے مشورہ دیا تھا کہ   اس ملک پر کمزور اور نااہل حکمران مسلط کردیئے جائیں
ایک اردو بلاگر کی حیثیت سے شاید اب ہمارے لیئے بھی اپنے معیار کو برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے کیونکہ   عدلیہ کے احترام اور  بالادستی پر یقین رکھنے والے لوگ  اس بلاگ کے قارئین میں شامل ہیں

اعلٰی عدلیہ میں  لاء سوسائٹی پاکستان کے اردو بلاگ  کی گونج ہمیشہ رہی ہے  ۔ وکلاء سول سوسائٹی ججز اور انٹرنیٹ پر اردو زبان  پڑھنے والوں کی اکثریت  ہم سے جو امیدیں رکھتی ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ عدلیہ کے احترام کو مدنظر رکھ کر  ان پر پورا اترنے کی کوشش کرنا  ہمارے لیئے  مستقبل کا  ایک چیلنج رہے گا 

Wednesday, 13 April 2016

سمندر کے کنارے آباد بار کے چیئرمین کا خصوصی انٹرویو تحریر صفی الدین اعوان





آج ہمارے درمیان سمندر کے کنارے آباد ایک بار کی چیئرمین   زی وقار موجود ہیں   ہم شکر گزار ہیں کہ انہوں اپنے قیمتی وقت سے انٹرویو کیلئے چند لمحات  ہمار ے لیئے وقف کیئے
بلاتاخیرچیئرمین  ذی وقار کا انٹرویو آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے
چیئرمین صاحب آپ یہ بتایئے  کہ چیئرمین بنتے ہی سب  سے بڑا کونسا چیلنج آپ کو درپیش تھا؟
جواب مجھے  چیلنج ہی چیلنج درپیش تھے مسلے ہی مسلے درپیش تھے اتنے مسلے تھے کہ میرے جوتے گھس گئے لیکن وکیلوں کے مسلے حل نہ ہوسکے  سب سے بڑا مسلہ  بار کے واش روموں کی ٹوٹیا ں اور نلکے ٹوٹے پھوٹے پڑے تھے میں نے ان سب ٹوٹیوں کو ٹھیک کروایا اس طرح یہ پہلا مسلہ میں نے حل کیا
لیکن  چیئرمین  صیب معزرت کے ساتھ آپ کے ممبر تو کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی مسلہ حل نہیں کیا بلکہ  ہفتہ وار  اسپیشل  مصالحے والی  بریانی والا لنگر بھی بند کروادیا ؟
جواب  یہ سراسر الزام اور میرے خلاف سازش ہے میں نے سارے مسلے حل  کردیئے  اور مجھ فقیر حقیر بے توقیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ  میں نے سارے مسلے "یونانی مسلی" طریقے  سے  حل کیئے ہیں
ہفتہ وار لنگر بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ  کچھ ممبروں کو بدہضمی ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ہمارا باورچی ہی بھاگ گیا  ورنہ ہفتہ وار دس دیگوں کا لنگر کا انتظام کرنا کوئی مسلہ نہیں ہے  اس مسلے کو بھی ہم بہت جلد یونانی مسلی حل کرلیں گے لیکن ایک صاحب  جھوٹے دعوے کرتے  نہیں تھکتے تھے کہ وہ لنگر کا انتظام اپنی جیب خاص سے کرتے تھے اگر وہ اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں  لنگر ہم نے بند نہیں کیا  بلکہ وہ لوگ جو یہ دعوے کرتے تھے کہ وہ اپنی جیب سے  انتظام  کرتے ہیں ان کیلئے  لنگر کا بند ہوجانا ایک سوالیہ نشان ضرور ہے
چیئرمین صاحب یہ جمعے والے دن  وضو کیلئے پانی کیوں ختم ہوجاتا ہے یہ کیا کہانی ہے ؟
جواب یہ جمعے والے دن  بار میں پانی کا ختم ہوجانا ہماری کمیٹی  کے خلاف ایک منظم عالمی  سازش ہے یہ ایک ہارے ہوئے سابق عہدیدار کی یکی ہے وہ ایک نمبر کا یک ہے اس نے   میرے خلاف چار پانچ کن ٹوٹے چھوڑ رکھے ہیں  جو جمعے کے دن صبح سویرے واش  روم  کی ٹوٹیاں کھول کے بھاگ جاتے ہیں  جس  کی وجہ سے پانی ختم ہوجاتا ہے ہم نے مخبر چھوڑ رکھے ہیں جس  دن ان کو پکڑ لیا تو کم ازکم ان کی تو وہ لترول کرنی ہے کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے  فی الحال میں نے ٹوٹی بند کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے
پارکنگ کے حوالے سے بھی ممبران کو بہت سی شکایات ہیں اس کی اصل کہانی کیا ہے ؟
جواب پارکنگ   اتنا اہم مسلہ نہیں ہے    اس سال ہم نے فوج کے ایک ریٹائرڈ سپاہی جو کہ ہمارا منتخب ممبر بھی ہے کی زیرنگرانی  ایک جاسوسی کا نظام تشکیل دیا ہے جس  کے تحت ہم نے پارکنگ میں موجود ایک مافیا کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے
بار کی تاریخ میں پہلی بار ہم نے گاڑیاں دھونے والے مافیا کے ممبران کو رنگے ہاتھوں  وکلاء کی گاڑیاں دھوتے ہوئے           اور معزز ممبران سے پچاس پچاس روپے نقد لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے  ہم نے ان کی ویڈیو بھی بنائی کل تاکہ وہ مکر نہ سکیں  ۔ یہ مافیا ہر سال اربوں روپیہ کماتا تھا لیکن ہم نے ان کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی مثال ماضی  میں نہیں ملتی  
یہ گاڑیاں دھونے والوں کو پکڑنا کارنامہ ہے یا نہیں ؟  ہم نے کہا جی سر آپ نے تو وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی
چیرمین صاحب  آپ بار کے لیڈر ہیں بار کے بڑے ہیں آپ یہ بتاؤ کہ اگلا منصوبہ کیا ہے کس مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا منصوبہ ہے؟ اور آپ کا کوئی کارنامہ بھی ہے ؟
جواب چیئرمین صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا  بات  تو راز کی ہے لیکن چلیں بتا دیتا ہوں  ہماری ٹیم "یونانی مسلی " طریقے سے  بار میں موجود موچیوں  اور  لاک  اپ کے سامنے بیٹھے خوانچہ  فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جارہے   ہیں یہ  لوگ کروڑوں روپے کماتے ہیں    اور  مافیا بن چکے ہیں   اس کیلئے بھی ہم نے پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی  مستقل   ڈیوٹی لگادی ہے  انٹرویو کے دوران ہی ہم نے دیکھا کہ  ایک ریٹائرڈ فوجی  دو شکل سے ہی کنگلے نظر آنے والے افراد کو پکڑ کر بار میں لیکر آیا ان کو دھکا مار کر سائڈ پر کھڑا کیا اور چیئرمین صاحب  کو ایک زوردار سیلوٹ ٹھوک کر مارا اور غصے سے کہا   آج ان موچیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ ہی لیا آج یہ بار کے آفس کے سامنے والے روڈ پر معزز ممبران  کے جوتے پالش کرکے ان سے پیسے بٹورنے میں مصروف تھے  میں  نے رنگے ہاتھوں ان کو چھاپ لیا لیکن دوموچی پالیش کی ڈبی لیکر  فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور میں نے پالش کرتے ہوئے ان کی ویڈیو بھی بنالی ہے  مافیا کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی

چیئرمین صاحب نے یہ دیکھ  اور سن کر فاتحانہ نظروں سے دیکھا اورداد طلب انداز میں پوچھا  اب بتاؤ کہ یہ کارنامہ ہے یا نہیں یہ  موچی نہ جانے کتنے سال سے ممبران سے لوٹ مار میں مصروف تھے آج بالآخر ہم نے کس طرح یونانی مسلی ان کو گرفتار کیا  ان کے خلاف ثبوت بھی اکٹھے کرلیئے
افسوس ہمارے کارنامے کسی کو نظر نہیں آتے
جس طریقے سے ہم نے موچیوں والا  پرانا مسلہ حل کیا  یہ کارنامہ رہتی دنیا تک ہمارا نام روشن رکھے گا  ہم نے بھی ہاں میں ہاں ملانا ضروری  سمجھا
اسی دوران چیئرمین صاحب نے   موچیوں کو مخاطب ہوکر کہا اوئے موچیو تم کیا سمجھتے تھے کہ  تم بچ جاؤگے تم تو شکل سے ہی موچی نظر آتے ہو تمہارا وہ حشر نشر ہوگا کہ یاد رکھوگے
اسی دوران ہم نے مداخلت کی اور چیرمین صاحب سے  کہا جناب یہ ٹکے ٹکے کے موچی  اور گاڑیوں کی صفائی کرنے والے اس قابل نہیں  کہ آپ ان پر ٹائم ضائع کریں  فی الحال ان کی جان چھوڑ کر آپ انٹرویو دیں
چیئرمین صاحب آپ یہ بتائیں کہ  موجودہ صورتحال میں آپ کیا کہتے ہیں  کہ سسٹم میں کیا تبدیلی لائی جائے؟
جواب ہم نے یہ سیکھا ہے کہ اگر کسی ادارے کا نظام غلط چل رہا ہو تو  اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا سراسر بے قوفی ہے کوشش کی جائے کہ اس نظام کو مزید خراب کیا جائے اس کو خراب سے خراب کردیا جائے  اس قدر خراب کردیا جائے کہ وہ  مکمل طور پر بگڑ  ہی جائے یہاں تک آپ کے جانے کے بعد جو بھی نیا آئے تو اگر وہ اس کو ٹھیک کرنے کی  کوشش بھی کرے تو اس کو کامیابی نہ ہو اور وہ  خود مکمل طورپر ناکام ہوجائے اور سسٹم کو مزید خراب سے خراب کرنا اس کی مجبوری بن جائے  سسٹم کو تباہ کردو برباد کردو مکمل ناکارہ کردو
چیئرمین صاحب مضبوط بار انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جی ہاں مضبوط بار سے مراد یہ ہے کہ بار  کی تعمیر کے دوران مضبوط قسم کا سریا استعمال کیا جائے  سیمنٹ کی صحیح مقدار ہو  سنگ مرمر کے ساتھ ساتھ  اچھی کوالٹی کا  پلستر  بھی کیا جائے  کیونکہ بار جتنی مضبوط ہوگی انصاف کی فراہمی اتنی ہی آسان ہوگی  اس حوالے سے میں کہوں گا کہ ہماری بار دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے پرانے زمانے کی پرانی بلڈنگ ہے اکثر سیمنٹ اور پلستر گر تا رہتا ہے میری خواہش  ہے کہ  میری بار کی نئے سرے سے تعمیر کرکے  مضبوط بار تعمیر کی جائے  میری بھی خواہش  ہے کہ میری بار بھی مضبوط ہو تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی نایا جاسکے
عدالتی اصلاحات کے حوالے سے آپ کیا کوشش کررہے ہیں ؟
چیئرمین صاحب نے غصے سے کہا  یہ کیا  چیز ہوتی ہے   اس گندے  اور غلط موضوع کو رہنے دیں  گولی مارو عدالتی اصلاحات کو  بار کی یہ کوئی ذمہ داری نہیں
چیئرمین صاحب  آپ کی کمیٹی اجازت نامہ پر بھی اقرباء پروری کرتی ہے؟
چیئرمین صاحب نے کہا یہ ایک الزام ہے لیکن بار سے پرمیشن لینے کا وہ طریقہ استعمال کرنا چاہیئے  جو آزمودہ ہے اب  یونانی مسلی والے فامولے سے آؤگے تو  مسلہ تو ہوگا سب کیلئے  میرے لیئے بھی  اور آپ کیلئے بھی
آزمودہ طریقہ کیا ہے ؟
چیئرمین صاحب اب سب باتیں  بتانے کی نہیں کچھ خود بھی سمجھدار ہونا چاہیئے  شام کو بات کرلینا
چیئرمین صاحب قوم کے نام کوئی پیغام ؟
چیئرمین صاحب بات یہ ہے کہ  ابھی میں مسلوں میں الجھا ہوں مجھے زرا ان مسلوں سے فارغ ہولینے دیں  پھر میں قوم کے نام پیغام ضرور دوں گا



Friday, 8 April 2016

وگو جیپ والا قاتل والا کبھی بھی گرفتار نہیں ہوگا عدلیہ کی طاقت صرف کمزور کیلئے ہے تحریر صفی

گزشتہ دنوں ایک المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک معروف بلڈر کے کم عمر بچے کے ساتھ اسکول واپسی پر اسکول وین میں ایک اور کم عمر بچے کے ساتھ معمولی جھگڑا ہوا ۔ ڈرائیور نے گاڑی روک کر اس معمولی جھگڑے کو ختم کیا اور دونوں بچوں کو ان کے گھر چھوڑدیا
ان میں سے ایک بچہ بلڈر کا بیٹا تھا۔ اسکول وین کے ڈرائیور کو والدین کی جانب سے فون آیا اس نے واقعہ کے متعلق بتایا تو بلڈر نے کہا کہ آپ مجھے اس بچے کے گھر لے جاؤ میں نے اس کے والدین سے بات کرنی ہے
وین ڈرائیور ڈر کے مارے نہیں لے گیا۔ وین ڈرائیور عیسائی تھا اسی دوران ایسٹر کا تہوار آگیا ڈرائیور گھر پر تھا اسی دوران ستائیس اپریل بروز اتوار کو بلڈر نے ڈرائیور کو فون کیا ڈرائیور نے بتایا کہ وہ گھر پر ہے ان کا تہوار ہے وہ ایسٹر منارہا ہے لیکن بلڈر نے کہا کہ اگر وہ اس کے بنگلے پر نہ آیا تو اس کو گھر سے زبردستی اٹھا لیں گے یہ سن کر وہ بلڈر کے بنگلے پر پہنچا تو وہ لوگ اسلحہ لیکر تیار تھے ڈرایئور کو وگو جیپ میں ڈالا اور اس کو کہا کہ وہ اس بچے کے گھر لیکر جائے جس نے ان کے بچے کے ساتھ جھگڑا کیا ہے
ڈرائیور نے گھر دکھایا وہ پہنچے اور جاتے ساتھ ہی بغیر کسی وارننگ کے اہل خانہ کے ساتھ لڑائی جھگڑا شروع کردیا اسی دوران ان کا والد باہر آیا تو بوڑھے والد کو بھی پستول کے بٹ مارے جس کی وجہ سے اس کا موقع پر ہی انتقال ہوگیا
مدعی مقدمہ نے عمران شیخانی اور آصف شیخانی نامی شخص کو قتل کے مقدمے میں نامزد کیا اور وین ڈرائیور موقع کا ایک اہم ترین چشم دید گواہ تھا
پولیس ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی ملزمان بااثر ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر مقدمے کو کمزور کرنے کیلئے پولیس نے مرکزی ملزم وین ڈرائیور کو قرار دیا
مدعی مقدمہ ملزم کو بے قصور سمجھتے ہیں بے گناہ سمجھتے ہیں لیکن پولیس نے چالاکی سے کام لیکر واحد پرائیویٹ چشم دید گواہ کو ملزم قرار دیا اور اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ وہ شخص جس کو مدعی نے نامزد نہیں کیا جس کے خلاف گواہ کوئی نہیں جو خود گواہ ہے۔
سلام ہے ہمارے عدالتی نظام کو جس نے قتل کے ایک خطرناک ملزم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا
کل کہا جائے گا گواہ نہیں ملے ۔ لوگ گواہی نہیں دیتے۔ مقدمہ ثابت نہیں ہوسکا
عدلیہ غریب کیلئے شیر ہے سچ کہیں گے تو توہین عدالت ہوجائیگی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تین بار ریمانڈ تو ایک ڈبل گریجویٹ جوڈیشل مجسٹریٹ نے دیئے ہیں۔ وہ کس چیز کی تنخواہ لیتا ہے ۔ اس کا کام کیا ہے۔ وہ شخص جو منصف کی سیٹ پر بیٹھا ہے سندھ ہایئکورٹ کے ماتحت ہے یا سندھ پولیس کے پے رول پر کام کررہا ہے۔ کریمینالوجی کیا ہوتی ہے۔ قتل کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اور قتل جیسا گھناؤنا جرم کیوں کیا جاتا ہے کیا ساب یہ سب فلسفے نہیں جانتے تو کیا وہ اس سیٹ پر بیٹھنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے کہ نہیں
جبکہ ساب بھی جانتا ہے کہ ایک غریب اسکول وین کا ڈرائیور کیوں قتل کرے گا
یہاں ایک دفعہ پھر جوڈیشل افسران کی قابلیت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے اگر اس طرح عدالتی سلسلے چلانے ہیں تو میری ذاتی رائے یہ ہے کہ میٹرک پاس شخص کو جوڈیشل مجسٹریٹ بھرتی کرنا زیادہ مناسب ہوگا اور بیس ہزار روپیہ تنخواہ کافی ہے اگر پولیس ہی کی ماتحتی کرنی ہے اگر بدنام زمانہ تفتیشی افسران کی چال بازیاں نہیں سمجھ سکتے تو یار! گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتے
کل بڑے ساب کے پاس جائیں گے تو بڑے ساب کہیں گے 302 کا مقدمہ ہے قتل ہوا ہے قتل اور تین سو دو کی ایف آئی آر درخت کے ساتھ بھی باندھ دو تو وہ سوکھ جاتا ہے
وگو والا کبھی گرفتار نہیں ہوگا اس کیلئے عدلیہ کمزور ہونے کے ساتھ اپاہچ بھی ہے
صفی
03343093302


نو اپریل 2008 بے بسی اداسی اور درد تحریر صفی الدین اعوان


9 اپریل کے بعد بھی کافی دن تک خوف کے سائے چھائے رہے تھے۔
9 اپریل 2008 خون اورخاک کا وہ کھیل جو ایک سیاسی جماعت نے مشرف کے کہنے  پر پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں کھیلا۔اس کھیل میں بہت سے لوگ ملوث تھے
وکلاء اپنے چیمبرز کی طرف نہیں جاتے تھے۔طاہر پلازہ میں انسانی اعضاء کے جلنے کی بو کافی عرصے تک رہی۔واقعے کے  دوسرے دن جب جنرل باڈی منعقد ہوئی تھی تو وکلاء صرف سسکیوں کے علاوہ کچھ نہ بیان کرسکے۔وہ آنسو وہ خوف وہ سسکیاں وہ وحشت ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ شاید کسی نے تقریر کی ہو کہنے اور سننے کیلئے بچا ہی کیا تھا
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے
بلوائیوں نے نہ صرف طاہر پلازہ میں وکلاء تحریک سے منسلک وکلاء کے چیمبرز کو ٹارگٹ کیا بلکہ ان کو نظر آتش بھی کیا۔بنیادی طور پر بلوایئوں کا اصل ٹارگٹ کراچی بار ایسوسی ایشن کے خزانچی  نصیر عباسی صاحب تھے ۔جب وہ نہیں ملے تو الطاف عباسی کے آفس کو ٹارگٹ کیا گیا
جب بلوائی طاہر پلازہ میں  داخل ہوئے تو وکلاء نے حفاظتی اقدام کے طور پر اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر اپنے آفسز میں ہی محصور کرلیا تھا۔بہت بڑی تعداد میں  آفسز کو نظر آتش کیا گیا تو وہ خالی تھے ۔الطاف عباسی  نے بھی اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر محصور کیا ہوا تھا اندر چند کلایئنٹ بھی موجود تھے جو کہ دم سادھے بیٹھے تھے ۔بلوائی مایوس ہوکر جارہے تھے  ان کو محسوس ہوا کہ اندر لوگ موجود ہیں جس کے بعد ایک مخصوص کیمیکل  کی شیشی جو اس روز پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فسادات کے دوران استعمال ہوئی تھی کو آفس کی کھڑکی  سے اندر پھینک دیا گیا۔منٹوں سیکنڈوں میں انسانی چیخیں بلند ہوئیں دروازے پر حفاظتی اقدام کے طور پر تالے لگے ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے آفس میں محصور افراد باہر نہیں نکل سکے۔چند لمحوں میں ہی چھ جیتے جاگتے انسان جل کر کوئلہ ہوگئے۔ انسان تو انسان آفس کے پنکھے تک پگھل 
گئے



پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں بلوائی اسلحہ اور کیمیکل لیکر گھوم رہے تھے  پولیس اور رینجرز ان سے نظریں چرا رہی تھیں
سینکڑوں لڑکوں نے طاہر پلازہ کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔اس کے بعد وہ سکون سے نیچے اترے ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر وکلاء کی گاڑیاں کھڑی تھیں  وکلاء کے مخصوص اسٹیکرز کے زریعے ان کی گاڑیوں کو شناخت کرکے ان کو بے دردی سے آگ لگادی گئی۔بلوائی وکلاء کو تلاش  کررہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے سٹی کورٹ کو گھیرے میں لیا اور وکلاء کی تلاش شروع کردی۔لیکن جب طاہر پلازہ کو آگ لگائی جارہی تھی  اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا تو اسی دوران پورا سٹی کورٹ خالی ہوچکا تھا بار رومز ویران تھے۔بلوائی کراچی بار ایسوسی ایشن میں  شہریار  شیری ایڈوکیٹ کو تلاش کرتے ہوئے اور دندناتے ہوئے  داخل ہوئے۔کلوز سرکٹ کیمرے نکالے توڑ پھوڑ  کی فائرنگ  کا سلسلہ جاری رہا اور لیڈیز بار روم کو نظر آتش کرنے کے بعد   ڈسٹرکٹ ویسٹ کے راستے سے واپس ہوئے اور وکلاء کی گاڑیوں کو نظر آتش کرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ تک چلے گئے۔ اسی دوران   وکلاء تحریک کے ایک رہنماء سیدشہریار عرف شیری  جو ایک بہت ہی  معصوم اور سادہ قسم کا انسان تھا کو تلاش کرکے شہید کیا گیا۔
اسی قسم کی ٹولیاں وکلاء کے مختلف آفسز میں گئیں اور وکلاء کے آفسز کو نظر آتش کیا۔9 اپریل کو ایک تو جانی نقصان ہوا دوسرا بہت بڑی تعداد میں وکلاء کے چیمبرز اور گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں اس کے ساتھ ہی  ملیر میں ۔ملیر بار ایسوسی ایشن کو آگ لگادی گئی تھی
طاہر پلازہ کی اس آگ کو کس نے بجھایا اور کوئلہ بنی لاشوں کو کس نے نکالا کوئی نہیں جانتا
9 اپریل کے بعد کافی عرصے تک سٹی کورٹ میں خوف اور دہشت کا عالم رہا۔اس خوف کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا ڈسٹرکٹ کورٹس میں عجیب قسم کا سناٹا ہوتا تھا۔
جن وکلاء نے ان مناظر کو براہ راست دیکھا وہ کافی عرصے تک صدمے کی وجہ سے خوف کا شکار رہے اور شاید آج تک ہیں۔
شہید وکلاء کے لواحقین آج کس حال میں ہیں؟ جن وکلاء نے ایک عظیم مقصد کیلئے جان دی آج ان کے بچوں کے پاس اسکول کی فیسیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے

صرف عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کا صدر منتخب ہونے کے بعد جب وہ کراچی آئیں تو شہدا وکلاء تحریک کے ورثاء کی خبر گیری کی اور وہ یہ بتاتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں کہ جب وہ اچانک ایک شہید وکیل کے گھر پہنچیں تو ان کا بیٹا اپنے گھر میں چند بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہا تھا اور یہی اس شہید وکیل کے ورثاء کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔اسکول کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔