Thursday, 27 March 2014

صرف ہفتے کے دن عدالتی ہڑتال ۔۔۔۔۔۔۔وکلاء کا معاشی قتل عوام پر ظلم


آج مجھے بہت خوشی ہوئی جب مجھے یہ پتہ چلا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن بحیثیت ادارہ پاکستان بار کونسل کو ہڑتال  اور بالخصوص  ہفتے کے دن ہڑتال  کے خلاف خط بھیجنے کا ارادہ ہے باالخصوص  پاکستان بار کونسل میں موجود سپریم کورٹ کے وکلاء جن کی ڈسٹرکٹ کورٹس کی پریکٹس ہی نہیں ہے وہ گزشتہ چند سال سے ہڑتال کے نام پر وکلاء کے معاشی قتل کے مرتکب ہورہے تھے۔ان کی آنکھیں اب کھل جانی چاہیئں ۔کیونکہ سپریم کورٹ اور ہایئکورٹ تو ویسے بھی ہفتے کے دن بند رہتی ہیں اس لیئے سینئرز پورا ہفتہ ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ میں مصروف رہتے ہیں اس کے بعد ہفتے کے دن ہڑتال کروا کر عدلیہ اور حکومت کو اپنے دباؤ میں رکھنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں ان کا ہڑتال سے کوئی کام متاثر نہیں ہوتا جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس کاکام تو پہلے ہی ہڑتالوں نے تباہ کردیا ہے وہ کسی مزید نئی ہڑتال سے  مزیدتباہ اور برباد ہوجاتا ہے اس بار گزشتہ دنوں  ہفتے کے دن ہی  پاکستان بار کونسل کی ہڑتال کے ردعمل میں کراچی بار کی منیجنگ کمیٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ  ہفتے کو ہی کیوں ؟  پیر ،منگل ،بدھ ، جمعرات  یا جمعہ کے دن ہڑتال کیوں نہیں  ہوسکتی ۔۔۔۔۔اس لیئے کہ ہفتے کو سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس ویسے بھی بند ہوتی ہیں کراچی بار کی کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ  اگر  اب ہڑتال کی کال سپریم کورٹ کے وکلاء دیں گے تو وہ بھی ہمارے شانہ بشانہ ہونگے اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے ساتھ ساتھ اعلٰی عدالتیں بھی بند رہیں گی نہیں تو ہڑتال نہیں ہوگی۔ اگرچہ اس بات سے وائٹ کالرز متاثر ہونگے ان کی سیاست متاثر ہوگی لیکن قربانی کا بکرا ڈسٹرکٹ کورٹس کے وکلاء ہی کیوں
ویسے میں ذاتی طور پر ہڑتال کے خلاف ہوں اس سے عدالتی کام تباہ  برباد ہوجاتا ہے

19 ستمبر 2013 کو گزشتہ سال ایک بلاگ لکھا تھا اس وقت تو بہت کم لوگوں نے اس کی حمایت کی تھی مجھے خوشی ہے کہ چھ ماہ بعد بار نے بحثیت ادارہ اس  مطالبے کی حمایت کی ہے

ہڑتال وکلاء کا معاشی قتل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔19 ستمبر 2013
"افسوسناک طور پر 21 ستمبر 2013 کو وکلاء رہنماؤں نے ایک بار پھر ہڑتال کا اعلان کردیا ہے اور پورے صوبہ سندھ میں ہڑتال ہوگی کیونکہ ہائی کورٹ کے وکلاء کافی باشعور ہیں اس لیئے وہ احتجاج کیلیئے اپنے ہی معاشی قتل عام پر یقین نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی مفت کی سیاست کا حصہ نہیں بنتے  اور ہڑتال کرکے اپنا معاشی قتل نہیں کرتے  یہی وجہ ہے کہ حسب معمول اس بار بھی قربانی کے روایتی بکرے ڈسٹرکٹ کورٹس کے وکلاء ہی ہیں ایک بار پھر غریب وکلاء کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے دنیا میں احتجاج کے بے شمار طریقے رائیج ہیں جنرل باڈی کی جاسکتی ہی ریلی نکالی جاسکتی ہے ،دھرنا،علامتی ہڑتال،یوم سیاہ منانا اور بے شمار پرامن طریقے رائج ہیں لیکن پاکستان کے ڈسٹرکٹ کورٹس کے وکلاء کا مقدر ان کا اپنا ہی معاشی قتل یعنی کورٹ کی کاروائی کا بایئکاٹ ہے جس سے کرپشن میں مزید اضافہ ہوتاہے"


Sunday, 23 March 2014

ہم عوام۔۔۔ہم عام لوگ۔۔ہم کمزور لوگ۔۔۔ہم ایک طاقت ہیں اور شکوے اور شکایات ہمیں کمزور کرتے ہیں



بعض اوقات اللہ تعالٰی انسان سے ایسا کام لیتا ہے کہ خود اس کی اپنی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔دوماہ قبل ہم ایک نئے نیٹ ورک کے قیام کا سوچ رہے تھے بہت سے نام تجویز کیئے جارہے تھے اور کثرت رائے سے ہم سیٹیزن پروٹیکشن نیٹ ورک کے نام پر متفق بھی ہوچکے تھے
اسی دوران  محترم شاہد قریشی صاحب نے ہماری مشکل کو آسان کیا اور نیٹ ورک کیلئے ایک خوبصورت وژن تخلیق کیا جو دوستوں کو اسقدر پسند آیا کہ وہی وژن ہی نیٹ ورک کا نام قرار پایا
اسی دوران لانچنگ کی تقریب کے سلسلے میں ایک سیمینار منعقد کیا اور اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں دعوت نامہ لیکر چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ محترم مقبول باقر صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ "پروٹیکٹنگ سول لیبرٹیز اینڈ سول رائٹس" ایک ایسا بہترین آئیڈیا ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا چیف صاحب نے خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس موضوع پر پیپر پڑھنا پسند کریں گے لیکن  ہماری بدقسمتی کہ  چیف صاحب کو گزشتہ دنوں جب بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس میں ان کے تمام محافظ جان بحق ہوگئے تھے لیکن چیف صاحب معجزانہ طور پر محفوظ رہے  اس المناک واقعہ کے بعد سیکورٹی خدشات کے پیش نظر چیف صاحب    نے مصروفیات محدود کردی ہیں
مجھے بہت خوشی ہے کہ چیف صاحب کے کہنے پر  قابل احترام جسٹس سندھ ہایئکورٹ محترم حسن فیروز صاحب نے سیمینار میں شدید سیکورٹی خدشات کے باوجود شرکت کی اور پیپر پڑھا لیکن اس سے پہلے جسٹس صاحب نے اس آئیڈیا کو منفرد اور بہترین قرار دیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا
سول سوسائٹی کے دوستوں نے تو اس نیٹ ورک کا نام ہی" میگنا کارٹا "رکھ دیا ہے۔
بلاشبہ اب تو مجھے بھی یقین ہوگیا ہے کہ ہمارا نیٹ ورک ایک نئی سوچ کو تخلیق کرے گا۔بہت سی این جی اوز  ایسی ہیں جو ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں ۔اور بہت سے لوگ ہیں جو پورے خلوص کے ساتھ اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
دوستو صرف چند دن کی بات ہے "شہری آزادیوں  اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیئے بنائے گئے نیٹ ورک نے انشاءاللہ اپنے منشور کے مطابق وہ تمام وعدے پورے کرنے کا سلسلہ شروع کرنا ہے جس کا وعدہ 18 مارچ کے سیمینار میں عوام سے کیا گیا ہے
ہم نے پاکستان  کی تاریخ میں پہلی بار شہری آزادیوں اور شہری حقوق کے تحفظ کیلئے عدلیہ اور بار کو فریق بنایا ہے
ہم نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شکوے اور شکایات کے سلسلے کو ختم کرکے "اپنی مدد آپ" کا نظریہ پیش کیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ  اب شکوے شکایات کا سلسلہ چھوڑ کر ہمیں خود کوشش کرنی چاہیئے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنی مدد آپ کے تحت اپنے گھر سے تبدیلی کا سلسلہ شروع کریں
جو ٹائم ہم  شکوے اور شکایات پر خرچ کرتے ہیں اتنی توانائی ہم اپنی مدد آپ پر خرچ کریں تو اس کے مثبت اثرات سامنے آسکتے ہیں اور آرہے ہیں
ہم عوام۔۔۔ہم عام لوگ۔۔ہم کمزور لوگ۔۔۔ہم ایک طاقت ہیں اور شکوے اور شکایات ہمیں کمزور کرتے ہیں
ہم عوام۔۔عام لوگ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت اپنی تقدیر کو اب خود بدلیں گے ہم اب مزید کسی کا انتظار نہیں کریں گے۔۔۔مزید کوئی شکوہ نہیں کوئی شکایت نہیں ۔۔ہمارا اپنے آپ سے عہد ہے کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت ایک عام آدمی کو طاقت دیں گے
ہم سے اختلاف ممکن ہے لیکن ہم نے یہ بھی عہد کیا ہے کہ اپنی پرواز اونچی رکھ کر اپنے نظریئے کو  درست ثابت کردیں گے
چند دن میں ایک خوشخبری دوستوں کو دیں گے
دعاگو

جعلی وکلاء کے بعد اب جعلی ججز ۔۔۔ٹاؤٹ ازم کی بدترین مثال


ہماری ڈسٹرکٹ کورٹس میں بے شمار مافیاز سرگرم عمل ہیں ۔اور یہ  مافیاز ہمیشہ سے ہی سرگرم  رہے ہیں۔چند ماہ قبل مجھ سے ایک پرانے "کلائینٹ " نے رابطہ کیا ان کی کمپنی کے فوجداری مقدمات کی پیروی میں کرتا ہوں کلایئنٹ نے کہا کہ وہ اپنی ایک قریبی عزیزہ کا خلع کا کیس داخل کرنا چاہتے ہیں کتنا عرصہ لگ جائے گا اور لڑکا  جس سے خلع لینی  ہے  پنجاب میں رہتا ہے میں نے کہا کہ اگر مخالف پارٹی دوسرے صوبے یا شہر میں رہایئش پزیر ہوتو قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے کم ازکم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے
کلائینٹ نے کہا کہ ہمیں تو فوری طور پر ڈگری درکار ہے ۔ایک وکیل ہمیں ایک ہفتے میں ڈگری جاری کروا کر دے رہا ہے میں نے کہا کہ اگر فریق مخالف پہلی تاریخ پر حاضر ہوجائے تو بھی کم ازکم ایک ماہ درکار ہے   آخر کار میں نے  زچ ہو کر کہا  بھائی جو ایک ہفتے میں یہ کام کروارہا ہے اسی سے کروالو۔ بقول اس کے اس کاکام ہوگیا تھا لیکن میں نے یہی سمجھا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے
اس قسم کی رپورٹنگ عرصہ دراز سے ہورہی تھی کہ جو کا م قانونی طور پر ایک سال یا چھ ماہ سے قبل ہوناناممکن ہے وہی کام ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک دن ایک ہفتے یا چند دن میں ہوجاتا ہے۔ لیکن میں اس کو مذاق ہی سمجھتا تھا۔کیونکہ بہت سے سائل یا کلایئنٹ جھوٹ کا پلندہ ہوتے ہیں اور وہ اس قسم کے جھوٹ بول کر "جوش" دلانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہمارے ڈسٹرکٹ کورٹس میں  
ایک سے ایک  فن کار گھومتا ہے مختصر یہ کہ کراچی بار ایسوسی ایشن نے تاریخ میں پہلی بار اس "بلی " کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی کوشش کی ہے جو کہ بلی نہیں بلا ثابت ہوا اور بھی  دھاری دارباگڑ بلا

لیکن بہت سے کام بالا ہی بالا ہورہے ہوتے ہیں
ایک سب سے خطرنا ک مافیا وہ ہے جس کی جڑ عدالت کے اندر موجود ہوتی ہے اور وہ جعل سازی کیلئے عدالت کا کمرہ استعمال کرتے ہیں اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ شام کو جب جج اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہیں تو جعل ساز مافیا بعض اوقات ایک جعلی جج کو اصلی چیمبر میں بٹھا دیتے ہیں ۔جہاں پر اصلی سائل پیش ہوتا ہے اور اس سے منہ مانگی رقم وصول کرکے اس کو احکامات جاری کردیئے جاتے ہیں یہ احکامات جعلی ہوتے ہیں اس میں کورٹ کا عملہ تو ملوث ہوتا ہے لیکن جب ڈرامہ اسٹیج کیا جاتا ہے تو   متعلقہ کورٹ کا عملہ موجود نہیں ہوتا بلکہ "گاما"  اور اس کے گروپ کے لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن ایسا بہت کم اور اس وقت ہوتا ہے جب بڑی رقم کا آسرا ہو
اسی طرح بعض اوقات اس سے بھی بڑی نوعیت کے معاملات چل رہے ہوتے ہیں
سائل یہی سمجھتا ہے کہ کورٹ کا کمرہ تھا جج بھی اصلی  تھا تو میرا کام ٹھیک ہی ہوا ہوگا۔لیکن درحقیقت اس کو بے وقوف بنایا گیا ہوتا ہے
جعل سازی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب لوگ یہ کہتے ہیں کہ خلع کی ڈگری چایئے۔یا گارجین وارڈ کا سرٹیفیکیٹ تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایک کورٹ کی ڈگری بنا کر دے دویا فلاں سرٹیفیکیٹ بنا دیں جس کیلئے کورٹ میں مقدمہ داخل کرنا لازمی ہوتا ہے لیکن یہ اہم اور حساس  نوعیت کی   جعلی قانونی  دستاویزات بھی چند ہزار روپے میں مل جاتی ہیں  کیونکہ کورٹ میں سرکاری ڈاک کی آمدورفت کا  ریکارڈ رکھنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اس لیئے  تصدیق کا کیا سوال اور اگر مشکوک معاملہ موصول ہوجائے تو کورٹ جواب دینے کی بھی زحمت نہیں کرتی
چند سال قبل یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ پاکستان سے بہت بڑی تعداد میں  یتیم بچے  اور کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ  بچے جن کے والدین اس دنیا میں نہیں تھے سر پرستی کے قانونی سرٹیفیکیٹ کے زریعے بیرون ملک میں موجود مذہبی اداروں کو بیچ دیئے جاتے تھے۔ اس انکشاف کے بعد اگرچہ اب کورٹ اس قسم کے سرٹیفیکیٹس احتیاط سے جاری کرتی ہیں لیکن  کیا اس قسم کے سرٹیفیکیٹس جب پاسپورٹ آفس میں جمع کروائے جاتے ہیں تو وہ ان کی تصدیق کرواتی ہے؟ ۔۔۔نہیں تو اس کا کیا مطلب ہوا
جعل ساز مافیا  اس قسم کے سرٹفیکیٹس بھی چند روپوں کے عوض  جاری کردیتا ہے جس سے اس معاملے کے حساس پہلوؤں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کورٹ سے جاری شدہ اہم نوعیت کے وہ سرٹیفکیٹ جو نادرا میں شناختی کارڈ یا فارم "اے" کیلئے جمع ہوتے ہیں وہ کورٹس سے آج کل کم ہی جاری ہوتے ہیں بلکہ جعل ساز گروپ خود ہی جاری کردیتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ نادرا ان دستاویزات کو درست مانتی ہے جب کہ عام عوام کو کیا پتہ کہ ان کو کس طرح لوٹ لیا گیا ہے۔جعلی طلاق نامہ بنانا تو آج کل چٹکی کاکام ہے کراچی بار کوشش کرے کہ نادار ا کا نیا کمپیوٹرائزڈ نظام لایا جارہا ہے تو  کمپیوٹرائزڈ طلاق نامہ  بھی اس میں شامل کرلے کیونکہ یہ بھی کورٹ کی حدود میں ہونے والی اہم ترین جعل سازیوں میں سے ایک ہے کیونکہ پرانی تاریخ میں بنائے گئے طلاق نامہ کے زریعے کسی بھی عورت کو اس کے شوہر کی جائیداد سے محروم کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیئے صرف اور صرف شناختی کارڈ کی ایک کاپی کی ضرورت ہے
موجودہ صورتحال میں آن لائن عدلیہ تو وقت کی ضرورت بن گئی ہے جب پورے سندھ کے وکلاء کا ڈیٹا آن لائن کرکے کسی بھی وکیل کی تصدیق سندھ بارکونسل کی ویب سائٹ سے کی جاسکتی ہے
آن لائن عدلیہ کے زریعے  یہ  بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی عدالتی ڈگری کی آن لائن تصدیق ممکن ہے کہ وہ خودساختہ ہے یا کورٹ کی جانب سے جاری کردہ یا اس نمبر کا کوئی کیس کورٹ میں داخل بھی ہوا ہے یا نہیں
مختصر یہ کہ کراچی بار ایسوسی ایشن نے ہمت دکھائی ہے لیکن وہ اب بھی صرف   دس فیصد کرپشن بے نقاب کرپائے ہیں کیونکہ   کرپشن کے اس سمندر سے کرپشن کو بے نقاب کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے
یہ مافیا طاقتور بھی ہے اور بااثر بھی ہے اب دیکھنا ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن اس معاملے کو کہاں تک لیکر جاسکتی ہے  

Saturday, 22 March 2014

سٹی کورٹ کا "گاما" بالآخر گرفتار ہوگیا


گزشتہ دنوں کراچی بار ایسوسی ایشن  کے ممبران منیجنگ کمیٹی نثار احمد شر اور عزیزاللہ قمر  نے  بار کی نمائیندگی کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کو گرفتار کروایا جو کہ عرصہ دراز سے بحیثیت جج کام  کررہا تھااس کے قبضے سے تمام ہی ججز کی جعلی مہریں برآمد ہوئیں جن کے زریعے وہ آرڈر جاری کرتا تھا اس شخص نام گاما ہے
اس کے پاس لائیسنس تو اسٹامپ وینڈر کا تھا لیکن اس کی آڑ میں  اس کے نیٹ ورک میں شامل لوگ عام لوگوں کے کیس  میں وکیل کی پوری فیس لیکر ان کو کورٹ کے جعلی آرڈر بنا کر دیتے تھے
خلع کی ڈگری ایک دن میں مل جاتی تھی۔۔ایس ایم اے سمیت اس قسم کے دیگر دیوانی نوعیت کے مقدمات جن کا فیصلہ ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں وہ شخص ایک دن میں بنا کردے دیتا تھا
ہرقسم کے حکم امتناعی منٹوں میں بن جاتے تھے اور پولیس والے ان احکامات کو تسلیم بھی کرتے تھے
کراچی بار کے  تمام وکلاء  کو چاہیئے کہ اس حوالے سے کراچی بار کے دست وبازو بن جائیں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں  کیونکہ اس قسم کے مافیاز نے وکالت کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے
گاما اکیلا نہیں تھا اس کے گروپ میں ایک سو  سے زیادہ لوگ شامل تھے اور اس کی گرفتاری کے بعد بہت بڑی تعداد میں اس کے حامی جمع ہوگئے تھے لیکن بار کی مداخلت کی وجہ سے وہ لوگ ناکام ہوگئے
کراچی بار ایسوسی ایشن اتنی بڑی طاقت ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا بار کے تمام عہدیداران کی مشترکہ ذمہ داری کے وہ اس قسم کے مقدمات میں مدعی بنیں اور ایسی جعل سازی کی نشاندہی کرنے والوں کو تعریفی اسناد بھی جاری کی جائیں
بدقسمتی سے اس شخص نے ایسے ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو لوٹا جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی  مشکوک شخص کو اپنا کیس نہ دیں اور نہ ہی جعل سازی یا رشوت  کے لین دین کی بات کریں ورنہ اس قسم کے جعل ساز گروپ خود ساختہ احکامات ٹائپ کرکے دے دیں گے

اس قسم کے مافیا سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں ہے اللہ کراچی بار کے منتخب ممبران کو استقامت عطا فرمائے

Thursday, 13 March 2014

دوسری شادی اور اسلامی نظریاتی کونسل


دوسری شادی کا قانون اصولی طور پر غلط ہے ۔لیکن اس بے اصول معاشرے میں  اس قانون کو 
اصولی طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔سنا ہے کہ اس زمانے میں ایک طاقتور برسراقتدار کے بہنوئی نے دوسری شادی کی تھی تو صاحب اقتدار نے فیملی قوانین میں یہ شق بھی شامل کردی کہ دوسری شادی  کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے لیکن تلاش کے باوجود مجھے اس کا تاریخی حوالہ نہیں ملا
لیکن اتنا ضرور پتہ چلا کہ  1961 کے فیملی قوانین کی اصل خالق بیگم  زاہدہ چوہدری  خلیق الزمان تھیں۔نواب صاحب لکھنو کہ نواب تھے اور ان کے شوق بھی نوابوں والے تھے۔لیکن یہ علم نہیں ہوسکا کہ جب نواب صاحب نے خود دوسری شادی کی تھی تو پہلی سے اجازت لی یا نہیں
اس زمانے میں ایک واقعہ مشہور ہوا جس کا میں تذکرہ کردوں کہ نواب صاحب کی اپنی ایک بھانجی تھیں جن کا نام معینہ خاتون تھا اور ان کے شوہر کا نام خواجہ جمال الرحمٰن تھا ۔جمال صاحب  لکھنو سے ایم اے پاس تھے اور کے پی ٹی میں ملازمت کے علاوہ اسٹوڈنٹس کو مفت انگلش کی ٹیوشن پڑھانا ان کا مشغلہ تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے علاقے میں بھی ہردلعزیز تھے۔میاں بیوی میں بھی بھرپور اتفاق تھا کہ ایک مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا وہ مسئلہ یہ تھا کہ جمال صاحب کے ہاں  کافی عرصہ اولاد نہیں ہوئی  اور وہ یونین کونسل میں چلے گئے کہ کیوں کہ ان کی اولاد نہیں ہورہی اور وہ  یعنی (جمال صاحب ) اپنےماں باپ کے بھی اکلوتے ہیں  اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں ان کا نام آگے نہیں بڑھ پائے گااس لیئے ان کو دوسری شادی کی اجازت دی جائے ۔دوسری طرف معینہ خاتون صاحبہ تھیں کہ مان کے ہی نہیں دے رہی تھیں اور کیونکہ اس زمانے میں چوہدری صاحب کا خاندان اقتدار میں تھا تو یونین کونسل کی ہمدردی بھی نواب صاحب کے ساتھ تھی مختصر یہ کہ خواجہ جمال الرحمٰن صاحب کو دوسری شادی کی اجازت نہ ملی مجبور اور  زچ ہوکر انہوں نے پہلی بیوی سے علیحدگی اختیار کی دوسری شادی کی جس سے ان کے تین بچے ہوئے اور پھر وہ امریکہ ہجرت کرگئے مختصر یہ کہ یہ بہت سادہ سا معاملہ ہے   تیکنکی لحاط سے یہ سیکشن ہی غلط ہے اصل مسئلہ دوسری شادی کا ہے ہی نہیں پہلی بیوی کے ساتھ عدل اور کفالت کا ہے ایک شخص جو پہلی بیوی کے حقوق نہیں پورے کرپارہا وہ کیوں دوسری شادی کرے گا
اصل مسئلہ یہ ہے کہ  اسلامی نظریاتی کونسل میں جو مستانے بیٹھے ہیں ان کو پنجابی زبان کا ایک مشہور محاورہ نہیں پتا جو کہ اکثر گاڑیوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے
" پھل موسم دا گل ویلے دی" دہشت گردی کا شکار ملک جہاں ملاں بچوں کو خود کش دھماکے کرکے جنت کا سستا نسخہ دے رہے ہیں اس وقت ملاں کی جانب سے دوسری شادی کا مسئلہ اٹھانا کسی غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہی لگتا ہے بہتر یہ تھا کہ وہ خودکش دھماکوں کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈال لیتا لیکن شیروانی صاحب کیونکہ اس ادارے سے مفت کی تنخواہ وصول رہے تھے اور وفاقی وزیر کی مراعات انجوائے کررہے تھے اس لیئے شاید انہوں نے اپنی تنخواہ کو حلا ل کیا
جو بات کی گئی ہے وہ ٹھیک ہونے کے باوجود  موقع کے لحاظ سےٹھیک نہیں یہ تو ویسے بھی وہ گم گشتہ قانون تھا جس پر پہلے بھی عمل کہاں ہورہا تھا  صرف ایک تلوار ہی  تو تھی وہ بھی کند اور فرضی اسلامی نظریاتی کونسل بیوی اور بچوں کے حقوق پر کام کرے  کہ اسلام نے جو حقوق ایک بیوی اور اس کے بچے کو دیئے ہیں وہ اگر پورے نہ کیئے جائیں تو شوہر کو کیا سزا دی جائے
ملاں کو چاہیئے تھا کہ وہ یہ ترمیم لیکر آتا کہ دوسری شادی کیلئے شوہر کو حکومت سے اجازت لینی چاہیئے کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں اور پہلی بیوی کے حقوق پورے کروں گا اور اگر ایسا نہ کرپایا تو حکومت اس کو جیل میں ڈال دے گی
شوہر کو اپنی بیوی اور بچوں کے  حقوق ہر صورت پورے کرنے چاہیئں اس میں کوئی دوسری تاویل نہیں ہے اور دنیا بھر کی  عدالتیں چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو اس بات کی اجازت نہیں دیتی ہیں کہ کوئی بھی باپ اپنے بچوں کے حقوق پورے نہ کرے اسلامی نظریاتی کونسل اس حوالے سے فیملی قوانین پر کام کرے اور شوہر کو پابند کرے کہ وہ ہرصورت میں بچوں  اور بیوی کے حقوق پورے کرے  گا ورنہ جیل چلو۔۔۔۔یا اس کے اثاثے فروخت کرکے خرچہ پورا کیا جائے گا۔
ملاں یہ انسانی حقوق کی بات نہیں ہے اسلامی قوانین ہیں جو غیروں نے اپنائے ہیں اور اب ہم اپنی ہی تعلیمات کو غیروں کی تعلیمات سمجھ کر اپنانے سے ہچکچاتے ہیں

وفاقی وزیر کے برابر مراعات کی حامل نام نہاد اسلامی نظریاتی کونسل  میں اور موجودہ فیملی قوانین میں موجود دوسری شادی والی سیکشن میں زرا   بھی فرق نہیں
" دونوں کی کوئی حیثیت نہیں

کنولج کی کمی بھی ایک نعمت ہے

کل  میں ایک عمر رسیدہ مجسٹریٹ صاحب کے سامنے ریمانڈ پیش ہوا۔چیک باؤنس  کا مقدمہ تھا۔ملزم گرفتار  تھا اور کورٹ کے سامنے پیش ہوا تفتیشی افسر نے کہا کہ 2 دودن کا پولیس ریمانڈ دیا جائے کیونکہ مدعی مقدمہ اور ملزم صلح کرنا چاہتے ہیں۔مجسٹریٹ صاحب نے اختلاف کیا اور ملزم کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کردیئے تفتیشی افسر نے بتایا کہ مدعی مقدمہ کورٹ میں موجود ہے وہ صلح کرنا چاہتا ہے مجسٹریٹ صاحب نے کہا کہ میرے پاس کمپرومائز کیسے ہوگا ابھی تو چالان بھی پیش نہیں ہوا۔میں کمپرومائز قبول نہیں کرسکتا کیونکہ نہ تو میرے پاس چالان ہے نہ چارج شیٹ  اسی دوران مدعی بھی پیش ہوگیا اس نے کہا ہمارا کمپرومائز ہوگیا ہے اب اس مقدمے کو ختم کیا جائے اور کورٹ سے گزارش ہے کہ ملزم کو رہا کیا جائے مجسٹریٹ صاحب نے کہاکہ جب میں نے مدعی کوبلایا ہی نہیں تو یہ آیا کیسے۔اصل میں تفتیشی افسر شاید اپنی طاقت  اور عدلیہ کی نااہلی ملزم اور مدعی کو دکھانا چاہتا تھا میں نے اجازت لیکر مداخلت کی کہ جناب والا گزارش یہ ہے کہ جب مدعی مقدمہ پیش ہوگیا اور آپ کے علم میں آچکا ہے کہ ان کا کمپرومائز ہوچکا ہے تو آپ رہا کردیں ملزم کو
عمر رسیدہ مجسٹریٹ صاحب مسکرائے وکیل صاحب قانون تو بہت آتا ہے آپ کو ذرا یہ بھی بتادیں کہ کس قانون کے تحت کس ضابطے کے تحت میں نے کہا کہ  کرنے کو تو بہت کچھ کیا جاسکتا ہےجناب آپ جج ہیں اختیار رکھتے ہیں تفتیشی افسر جب اس مدعی کو ساتھ لیکر آیا ہے تو اس   کو اپنے سامنے بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیں اور یہیں کمپرومائز قبول کرکے تفتیشی افسر کو رہا کرنے کا حکم دیں اور مدعی مقدمہ موجود ہے  اور تفتیشی افسر اس کو اپنے ساتھ لیکر آیا ہے تو اس کا 164 ضابطہ فوجداری کے تحت بیان ریکارڈ کریں اور اس کے بعد ملزم کی ہتھکڑی کھول دیں
مجسٹریٹ صاحب نے کہا میں یہ غیرقانونی حرکت نہیں کرسکتا میں نے کہا کیوں؟ مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا کہ  آپ کے اندر "کنولج" کی شدید کمی ہے میں کس قانون کے تحت تفتیش میں مداخلت کروں گا اور اگر تفتیش کے دوران سیکشن تبدیل ہوگئی اور کسی ایسی سیکشن کا اضافہ ہوگیا جس میں  کمپرومائز نہیں ہوسکتا تو میری نوکری ہی چلی جائیگی
میں نے کہا سر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ تفتیش کے دوران ہی یہ "باؤنس شدہ چیک" بم بن جائے گا۔کیا یہ چیک خودکش جیکٹ بن جائے گی کیا یہ چیک کوئی نیٹو کا اسلحے والا کنٹینر بن جائے گا  یا رینٹل پاور کیس  اس چیک سے برآمد ہوجائے گامختصر یہ کہ صاب اڑی کرگیا لیکن اس بات پر راضی ہوگیا کہ جیل کی بجائے پولیس ریمانڈ دے دیتا  ہوں
میں نے کہا کہ سر ایک اور کام ہوسکتا ہے وہ یہ کہ ضمانت پر رہا کردیں وہ بھی  شخصی ضمانت پر صاب نے کہا کہ ہاں یہ ہوسکتا ہے لیکن آج نہیں کیونکہ  آج دیر ہوگئی اور سرکاری وکیل بھی موجود نہیں ہے کل نوٹس کروں گا اور اگر پولیس پیپر آگئے تو میں  ضمانت کی درخواست کی سماعت کے بعد ضمانت پر فیصلہ کروں گا میں نے کہا  اور اگر پولیس پیپر نہیں آئے تو۔۔۔۔۔ وکیل صاب اب آپ مجھے قانون نہ سکھائیں  اور نہ ہی کوئی ہدایت دیں سر یہ  ضمانت تو آپ کا صوابدیدی اختیار ہے لیکن صاحب پڑھا لکھا صاحب علم تھا اڑی کرگیا لیکن دو دن کے پولیس ریمانڈ پر راضی ہوگیا
مختصر یہ کہ پھر میں نے فارمولہ نمبر 420 استعمال کیا صاب سے اجازت لیکر چیمبر سے باہر نکلا
تفتیشی افسر سے کہا کتنے پیسے لے گا اس نے کہا پورے پچاس ہزار میں نے کہا کہ(  1000 ) دس ہزارلے لو اور ہتھکڑی یہیں کھول دو  دوسری صورت میں مجسٹریٹ شخصی ضمانت پر رہا کررہا ہے اگرچہ تفتیشی افسر خرانٹ تھا  لیکن وہ جھانسے میں آگیا اور پچاس کی بجائے صرف دس ہزار روپے لیکر رہا کردیا حالانکہ اس کی بات پچاس ہزار میں ہی ملزم کے ورثاء سے ہوئی تھی لیکن جب  پولیس والے نے دیکھا کہ کہیں مجسٹریٹ کوئی "غیرقانونی "کام نہ کردے  اور کنولج کی کمی کا شکار وکیل کی باتوں میں آکر ملزم کو رہا ہی نہ کردے تو اس نے  رشوت کے نرخ میں 80 فیصد کمی کردی
ساب نے 2 دن کا پولیس ریمانڈ دیا اور تفتیشی افسر نے دونمبر کام پوری ایمانداری سے سرانجام دیتے ہوئے ملزم کی ہتھکڑی کورٹ میں ہی  کھول دی  اور ملزم جئیے شاہ جبل میں شاہ  اور ماں کی دعا میں بچ گیا کہ نعرے لگاتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوگیااللہ کا احسان کہ پاکستان میں جائز کام رشوت سے ہوجاتے ہیں ورنہ ایماندار تو زندہ ہی نگل جاتے
اس واقعہ پر مزید تبصرہ نہیں
لیکن پاکستان کی عدالتوں میں آہستہ آہستہ ایسے  ججز کی تعداد بڑھ رہی ہے جو "کنولج" کی کمی کا شکار ہیں لیکن  عوام کو ریلیف دے کر کورٹ میں ہی ہتھکڑی کھول کر رہا کردیتے ہیں ڈبل سواری جیسے "گھناؤنے جرم" میں  جیل یاترا کی بجائےشخصی ضمانت پر رہا کرتے ہیں اور پولیس کو تھانے سے ہی قابل ضمانت جرائم میں رہا کرنے کا حکم اور  کئی ججز ایسے بھی ہیں جن کے تھانے کی حدود میں  550 ضابطہ فوجداری کے تحت گاڑی بند نہیں کرتی
اور چند ایسے بھی ہیں جو اس قسم کے معاملات میں ضابطوں کی بجائے "کامن سینس" کا استعما ل کرتے ہیں
لیکن تعجب ہے کہ ان کو نوکری سے نہیں نکالا جاتا یااللہ ہم سب کو کنولج کی کمی کی نعمت عطا فرما
اگرچہ یہ ایک انفرادی واقعہ ہے  لیکن اس پر بحث کی ضرورت ہے

اس  پوری تحریر میں کئی قانونی اصطلاحات تھیں جن کو عام آدمی کی سہولت کیلئے سادہ الفاظ میں ڈھالا

Sunday, 9 March 2014

لاء سوسائٹی پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اک عزم اک تحریک

ایک سال گزر گیا اور گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا
ایک سال پہلے جب لاء سوسائٹی کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو ایک میں اکیلا تھا۔سات سال پہلے فورم کی بنیاد رکھنے کے بعد ہم اس کو بلندیوں تک لے گئے تھے "زیرو "سے شروع ہونے والا سفر وہاں ختم ہوا جہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ مختصر یہ کہ طویل اختلافات کے بعد جب دوستوں میں احترام کا رشتہ ختم ہوگیا تو میں نے استعفٰی دے دیا تھا   فورم سےجس کی بنیاد کو "زیرو" سے اٹھایا تھا۔اور جس پر بھرپور وسائل  وقف کیئے تھے

میرے سامنے یہ سوچ تھی کہ  میں دوبارہ شروع کرسکتا ہوں جب میں  فورم کو زیرو سے اوپر لے جاسکتا تھا تو  لاء سوسائٹی کو عروج پر کیوں نہیں لاسکتا تھا ۔ یہ میرا اور میرے دوستوں کی صلاحیتوں کا امتحان تھا
اگرچہ میرے دوست  میرے استعفٰی دینے کے فیصلے سے متفق نہیں تھے  لیکن میرے ذہن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مبارک قول تھا کہ  اگر پوری دنیا بھی مخالف ہوجائے اور صرف ایک مخلص دوست آپ کے ساتھ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ہمارا اصل اثاثہ چند  مخلص  ترین دوست ہی تو ہیں ۔مخلص دوستوں نے ساتھ نبھایا ان کا شکریہ
لاء سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔سفر کا آغاز شروع ہوا۔ محترمہ جمیلہ اسلم۔محترم کبیر احمد صدیقی۔ محترم امرت شردھا میشوری۔شعیب صفدر گھمن ،ڈاکٹر وقاص ،ہمایوں علوی  ،ملک شاہد ،ملک سلیم اور جاوید حلیم اس نئے سفر میں شامل ہوئے اپنے بھرپور اخلاص کے ساتھ جس کے بعد ایڈوکیٹ رستم،طاہرہ شاہ   ،خرم ایڈوکیٹ ،محترم وسیم سومرو،محترمہ ثناء ایڈوکیٹ ،محترم ارشد بھٹی ایڈوکیٹ، اور  انتخاب   عالم ایڈوکیٹ سمیت بے شمار دوستوں کی شمولیت سے ہمارا قافلہ مضبوط ہوا۔بعد ازاں محترم شفیق احمد ایڈوکیٹ جو میرے سینئر بھی ہیں لاء سوسائٹی میں شامل ہوئے
محترم سالم سلام انصاری ،ساتھی ایم اسحاق ، محترم خالد ممتاز،چوہدری ایمان ایڈوکیٹ مبشر بھٹہ  اور فرحان خالق انور صاحب ہمارے اولین معان پنجاب سے ملک سلیم اقبال اعوان ہمارے مضبوط معاون ہیں 
   اور بعض صنعتکار ہمارے معاونین کی لسٹ میں شامل ہوئے
اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ججز  کے گروپ جو کہ عدالتی نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ صرف عدالتی فیصلہ جات کی بجائے شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے وہ بھی ہماری جانب متوجہ ہوئے  جس سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی کہ ہمارے عدالتی نظام کے اندر ایک ایسی تحریک موجود ہے جو تبدیلی  کی خواہش رکھتی ہے۔یہی تحریک ایسی ہے جو نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ ایک مکمل تحریک ہے اس میں بہت بڑی تعداد میں مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن ججز شامل ہیں   لیکن یہ تحریک قانونی طور پر کھل کر کام نہیں کرسکتی۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ عدلیہ  کے اندر سے ہی اٹھنے والی آواز کو دبانا ناممکن ہوگا

سال گزشتہ کے دوران سوشل میڈیا کے زریعے یہ بات بھی سامنے آتی رہی کہ پنجاب میں نوجوان وکلاء نے ینگ لائرز فورم کو پورے پنجاب میں متحرک کردیا ہے کراچی بار ایسوسی ایشن میں محترم  بیرسٹرصلاح الدین احمد نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا اور نوجوان وکلاء کو تبدیلی کے عمل کے لیئے آمادہ کیا ۔ اس وقت کراچی بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے اور وہ نعرہ ہے تبدیلی کا ۔اللہ کا شکر  اور احسان ہے کہ عدالتی نظام میں تبدیلی کا جو نعرہ میرے دوستوں نے یکم جون 2007 کو بلند کیا تھا وہ آج ہر ایک کا پسندیدہ نعرہ بن چکا ہے اور اللہ کا یہ بھی شکر ہے کہ ایک کے سوا تمام دوست بھی ساتھ ہیں اور شانہ بشانہ ہیں  اپنی جدوجہد کے ساتھ اپنے وسائل کے ساتھ اپنی بے لوث محبت کے ساتھ
خوش قسمتی سے وکلاء نے  تبدیلی کی اس تحریک کو خوش آمدید کہاہے
نوجوان وکلاء کے بہت سے گروپ کراچی بار ایسوسی ایشن میں  فعال ہیں جو تبدیلی  اور عدالتی اصلاحات کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں ان میں سے ایک گروپ جو  بہت زیادہ  فعال ہے     "یوتھ لائرز فورم "جس میں میرے دوست امرت شردھا میشوری  اور وسیم سومرو شامل ہیں اس گروپ
میں شامل محترم ممتاز شاہ صاحب 

سے میری ملاقات رہی ہے مجھے محسوس ہوا کہ اس سال  نوجوان وکلاء کا گروپ تبدیلی کے عمل کے لیئے اپنا اہم رول  ادا کرے گا کیونکہ 2014 تبدیلی کا سال ہے ۔ محترم ممتاز شاہ صاحب اور ان کے دوست امید کی کرن ہیں
اس سال سندھ بار کے الیکشن ہونے ہیں  اور یہ الیکشن ہر لحاظ سے تاریخی ہونگے کیونکہ نوجوان وکلاء کی بہت بڑی تعداد اب پرانے چہروں سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو  آج پانچ سال بعد شیریں جناح کالونی والا پلاٹ یاد آنا شروع ہوگیا ہے جس پر پچھلے الیکشن میں شاندار اسپتال بنانے کے اعلان کیئے گئے تھے۔ اچانک یاد آیا کہ  پانچ سال پہلے اندرون سندھ اور بیرون شہر سے آنے والے وکلاء کیلئے  ایک ہاسٹل بھی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور بھی بہت سے وعدے تھے  جو کہ اب  شاید منتخب نمائیندوں کو خود بھی یاد نہیں ہونگے۔بہت سے سندھ بار کونسل کے ممبران کی آنکھ اب پورے پانچ سال بعد خواب خرگوش کے مزے لینے کے بعد اچانک ہی کھل گئی ہے اور وہ اخلاق کا اعلٰی نمونہ بن کر کراچی بار ایسوسی ایشن میں   ہفتے کے دن بطور مہمان اداکار موجود ہوتے ہیں
میری خواہش ہے کہ ہم اپنے پہلے یوم تاسیس پر ہونے والے ڈنر اور سیمینار میں  ان تمام وکلاء تحریکوں کے سربراہان اور متحرک نوجوان وکلاء کو مدعو کرکے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کریں  جو کہ اپنے اپنے فورم سے تبدیلی کی خواہش کے ساتھ کام کررہے ہیں اور اس موقع پر اگر ان تمام  دوستوں کی آپس میں ملاقات ہوجائے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔اگر سوشل میڈیا پر بھی ایک آن لائن گروپ بن جائے اور وہ گروپ تبدیلی کے عمل کی جدوجہد کرے،الیکشن اور سیاسی گروپنگ سے بالاتر ہوکر اگر یہ تمام دوست تبدیلی کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں تو مجموعی طور پر نظام میں بہتری آئیگی
لاء سوسائٹی کی ایک اہم کامیابی یہ بھی ہے کہ لاء کالجز کے طلبہ و طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد نے گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے
پہلے یوم تاسیس کے موقع پر ہم نے جس سیمینار کا اہتمام کیا ہے اس  کے موضوع نے بہت سے  دوستوں کو جذباتی کردیا ہے
موضوع ہے "شہری آزادی کے تحفظ کیلئے عدلیہ اور بارایسوسی ایشن کا کردار"
اس موقع پر عدلیہ  کی جانب سے سیمینار میں شرکت کی یقین دہانی کروائی گئی ہے جبکہ کراچی کی تین بارایسوسی ایشنز شرکت کریں گی
انشاء اللہ یہ ہر لحاظ سے ایک تاریخی سیمینار ہوگا
تبدیلی کی خواہش رکھنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ  ضرور شرکت کریں اور معاونین سے گزارش ہے کہ سیمینار کے شایان شان انعقاد کیلئے  مالی تعاون کریں
لاء سوسائٹی پاکستان ۔۔۔ایک عزم اور ایک ایسی تحریک ہے جو پورے خلوص کے ساتھ تبدیلی کے عزم کے ساتھ رواں دواں ہے


Wednesday, 5 March 2014

جواں موت کس کس کو تڑپا گئی..............تحریر طیبہ ضیاء


اسلام آباد میں دہشت گردی کے شرمناک واقعہ پر بھی ہم لواحقین سے یہی کہیں گے کہ ’’صبر کرو…‘‘! اسلام آباد میں ایک اور المناک واقعہ پیش آیا ایف 8 کچہری پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا اور شدید فائرنگ بھی ہوئی‘ اس کے نتیجے میں ایک جج سمیت گیارہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے کا نشانہ بننے والوں میں ایک نوجوان وکیل خاتون فضہ ملک بھی شامل تھی۔ فضہ ملک اسی سال برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پاکستان واپس پہنچی تھی اور ملک و قوم کی خدمت کے عزم کے تحت پریکٹس کا آغاز کئے اسے ابھی دو روز گزرے تھے کہ قوم کی اس قابل فخر بیٹی کو شہید کر دیا گیا۔ فضہ کی ماں کو روتے ہوئے دیکھ کر دنیا کی ہر ماں کا کلیجہ پھٹ گیا۔ جوان اولاد کی ناگہانی موت بذات خود ایک ناقابل برداشت سانحہ ہے جبکہ باصلاحیت اولاد کی جدائی کا صدمہ مزید تکلیف دہ ہے۔ فضہ اور مومنہ جیسی باصلاحیت یوتھ کا اس دنیا سے چلے جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ فضہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھی۔ والدین کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ فضہ اپنی کار خود ڈرائیو کرکے کچہری گئی۔ سیاہ کوٹ پہن کر جاب پر گئی تو اس کی خوشی کی انتہا نہ تھی مگر اس کے خواب کی تعبیر کو ابھی دو روز گزرے تھے کہ اس کا سیاہ کوٹ سفید کفن میں بدل گیا۔ انگریزی اخبار کی معروف کالم نگار انجم نیاز نے جب فضہ ملک کی شہادت کی خبر سنی تو ہم سے کہا کہ فضہ اور مومنہ کی کہانی میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔ فضہ کی موت نے زخم ہرے کر دیئے ہیں۔ فضہ ملک کی طرح مومنہ چیمہ بھی ہماری اکلوتی بیٹی اور دو بھایئوں کی اکلوتی بہن تھی۔ وہ بھی پچیس سال کی تھی۔ وہ بھی قانون کی ڈگری کے لئے امریکہ کی بہترین یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی۔ مومنہ بھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ امریکہ کی جیلوں میں قید مسلمان قیدیوں کو رہائی دلانے کا عزم رکھتی تھی۔ مومنہ کو نیویارک کی عدالت میں فیڈرل جج کے ساتھ انٹرن شپ کرتے ہوئے ایک ہفتہ گزرا تھا کہ کار حادثہ میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ مومنہ بھی اپنی گاڑی خود چلا رہی تھی۔ مومنہ بھی اپنی جاب سے بے حد خوش تھی۔ مومنہ نے بھی آخری روز وکالت کا سیاہ کوٹ پہن رکھا تھا۔ مومنہ کو بھی تقدیر نے سفید لباس پہنا دیا۔ فضہ اور مومنہ بلاشبہ جنت میں بیٹھی مسکرا رہی ہیں مگر زمین پر ان کے والدین تڑپ رہے ہیں۔ یہ قابل اور خوبصورت بچیاں اپنے ادھورے خواب اپنے ساتھ لے کر رخصت ہو گئیں اور ان کے والدین انہیں سرخ جوڑے میں دیکھنے کا خواب لئے مٹی کے ڈھیر پر بیٹھے کراہ رہے ہیں۔ تین جوان بیٹوں کے انتقال کا صدمہ جھیلنے والی عقیلہ نے کہا کہ ہم لوگ کیا کریں جن کے بچوں کا اوڑھنا بچھونا پاکستان میں ہے مگر زندگیوں کی ضمانت نہیں۔ فضہ کی طرح بیرون ملک جانے والے بچے جب وطن لوٹتے ہیں تو موت ان کی منتظر ہوتی ہے۔ قاتل گرفتار ہو بھی جائیں تو ان کو سزائے موت نہیں دی جاتی، ان کے پیچھے لمبے ہاتھ انہیں آزاد کرا لیتے ہیں اور جن کا بس نہیں چلتا ان کی مائیں مقتول کی ماں کے پیروں میں آکر بیٹھ جاتی ہیں کہ ان کے بیٹے کو معاف کر دیا جائے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔
بے نصیب ماں قاتل کو معاف بھی کر دے تو دنیا والے جینے نہیں دیتے اور مقتول کے لواحقین پر ’’مک مکا‘‘ کا الزام لگا کر ان کی عزت کو نیلام کرتے ہیں، اس بھیانک کھیل میں میڈیا اور تھانے والے پیش پیش ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کچہری میں پیش آنے والے اس ہولناک واقعہ میں جاں بحق ہونے والے جج اور وکلاء کے گھروں میں بھی صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ دنیا میںاموات کا جائزہ لیا جائے تو نوجوانوں کی  شرح اموات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ تیس سال سے کم عمر نوجوانوں کی اموات کی وجوہات مختلف ہیں۔ ینگ ڈیتھ کی وجوہات میں سر اول دہشت گردی‘ سٹریٹ کرائمز‘ موذی امراض اور ایکسیڈنٹ شامل ہیں۔ جس قدر بری خبریں اس دور میں سننے کو مل رہی ہیں‘ چند سال پہلے تک یہ صورتحال نہ تھی۔ اللہ سبحان تعالیٰ کی حکمتیں وہی جانتا ہے۔ پاکستان کے حالات دیکھیں تو لگتا ہے ملک الموت نے پاکستان میں مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
برستی ہیں آنکھیں  تڑپتا ہے دل
جواں موت کس کس  کو  تڑپا گئی
وہ اک نرم و نازک حسیں پھول تھی
جو  دو  روز  گلشن کو  مہکا  گئی

اپنی مدد آپ


پاکستان گزشتہ 15 سال سے دہشت گردی کا شکار ہے اور اس دہشت گردی نے پاکستانیوں سے بہت کچھ چھین لیا ہے بلکہ سب کچھ چھین لیا ہے ۔حکومت کے پاس فرصت ہی نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی ادائیگی کرسکے
ہمارے قیمتی وسائل جو تعلیمی ادارے بنانے میں خرچ ہونے تھے، جو اسپتال بنانے میں خرچ ہونے تھے جو وسائل شہریوں کو سہولیات دینے میں خرچ ہونے تھے وہ اب دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کی نظر ہوجاتے ہیں
ایک فلاحی ریاست ہونے کے ناطے حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ شہریوں کو تعلیم،صحت اور رہایئش کی اچھی سے اچھی سہولتیں فراہم کرے لیکن موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ پاکستان کے آدھے سے زیادہ وسائل دفاع کی نظر ہوجاتے ہیں اور باقی وسائل دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کی نظر ہوجاتے ہیں
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس دوران حکومت سے  توقع رکھنے کی بجائے کیوں نہ ہم سب مل کر اپنی مدد آپ کریں دنیا بھر کے شہریوں میں اپنی مدد آپ کا بھرپور رجحان پایا جاتا ہے۔اگرچہ بہت سے ادارے اپنی مدد آپ کے تحت کسی خاص مذہب،قومیت،مسلک یا برادری کے تحت کام کررہے ہیں اور اچھا کام کررہے ہیں لیکن ہم یہ  سمجھتے ہیں کہ ہم مل جل کر کام کریں ایک عام آدمی کی حیثیت سے دنیا بھر کے  شہریوں  کے ساتھ مل کر"اپنی مددآپ" کے کلچر کی سخت ضرورت ہے اگر تمام شہری متحرک ہوجائیں اپنے وسائل کو منظم انداز سے خرچ کریں تو اپنی مدد آپ کے کلچر کے تحت وہ بہت سے ایسے کاموں میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں جو دہشت گردی کی وجہ سے ہماری حکومت نہیں کرپارہی
لاء سوسائٹی پاکستان نے اس سلسلے میں ایک پیشرفت کی ہے  شہری آزادیوں کے تحفظ اور شہری حقوق کے تحفظ کیلئے کراچی کے  چند معززین اور رفاہی اداروں کے ساتھ مل کر ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی ہے جس کاکام اپنی مدد آپ کے تحت شہری آزادیوں کے تحفظ  کو یقینی بنانا اور اس سلسلے میں  ایسے منصوبہ جات کا آغاز کرنا ہے جو  شہری ہی شروع کریں گے اور حکومت کی  جانب دیکھنے کی بجائے خود ہی ان منصوبہ جات کو کامیابی سے چلانے کی کوشش کریں گے
مارک ٹوین نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ" ایک ناکامی کے لیے ہزاروں معذرتیں ہوتی ہیں مگر کوئی اچھی وجہ نہیں ہوتی۔ جب میں نے معذرت کرنا چھوڑ دیا تو میں ترقی کی طرف گامزن ہو گیا۔ جب میں نے دوسروں پر الزامات لگانا چھوڑ دئیے تو آگے بڑھتا چلا گیا۔  میں نے زندگی کے تاریک پہلوئوں کا مقابلہ کیا اور ان پر قابو پا لیا۔ جیسے ہی میں نے اپنے مقاصد حاصل کرنا شروع کیے میر ی زندگی میں تبدیلی پیدا ہونا شروع ہو گئی"
حکومت کی جانب دیکھنے کی بجائے اب وقت آگیا ہے کہ بحیثیت قوم ہم اپنی ناکامیوں کو  عظیم کامیابیوں میں بدلنے کیلئے ایک نئے سفر کا آغاز کریں
PROTECTING CIVIL LIBERTIES & CIVIL RIGHTS

بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔اس سلسلے میں تفصیلی بات چیت ہمارے سالانہ عشایئے کی تقریب میں ہوگی

Monday, 3 March 2014

بیرسٹر صلاح الدین احمد، خالد ممتاز صاحب اور کراچی بار کی منتخب ٹیم سے وابستہ توقعات


کراچی بار ایسوسی ایشن سے منسلک وکلاء کیلئے 2013 کا سال اس لیئے ہنگامہ خیز تھا کہ وکلا کو خوشخبری دی گئی تھی کہ منتخب کمیٹی کرپشن کا خاتمہ طاقت کے بل بوتے پر کرے گی اور اس سلسلے میں ہر "طریقہ" استعمال کیا جائے گا
بدقسمتی سے یہ طریقہ ناکام رہا  اور پہلے ہی مہینے گریبان سے پکڑ کر کرپشن ختم کرنے کی مہم ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ایک کنونشن میں سینکڑوں وکلاء کی موجودگی میں یہ دعوٰی کیا گیا کہ ہم عدالتوں سے کرپشن اور بدمعاشی کا خاتمہ  کریں گے اور اس حوالے سے ہمیں اگر کسی کا گریبان بھی پکڑنا پڑا تو دریغ نہیں کیا جائے گا ۔جس پر مجمع نے بھرپور تالیاں بجائی تھیں
خیر پلاننگ کے بغیر شروع کی گئی مہم ناکام رہی اور توہین عدالت کے مقدمے کی وجہ سے باقی ماندہ سال  "ہن آرام ای" کی نظر ہوگیا
اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گریبان پکڑنے،تشدد کرنے اور غیر پارلیمانی الفاظ  اور طریقہ کار استعمال کرنے سے مسائل حل ہونے کی بجائے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ  اس قسم کے مسائل کے حل کیلئے ایک منظم اور بھرپور پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے
جسٹس صبیح الدین سابق چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو اللہ تعالٰی نے ایک حیرت انگیز صلاحیت سے نوازا تھا۔ وہ یہ کہ آپ کیس کی سماعت کے دوران آنکھیں بند کرلیتے تھے۔کورٹ میں موجود لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آپ سورہے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی وکیل غلطی کرتا یا کوئی وضاحت طلب بات ہوتی تو   وہ فوراً ٹوکتے  ان کے بہترین عدالتی فیصلے ہمارے لیئے مشعل راہ  ہیں یہاں میں نے قابل احترام جسٹس صاحب کا حوالہ اس لیئے دیا کہ اس عظیم ہستی کے صاحبزادے اس وقت کراچی بار کے صدر ہیں
گزشتہ سال کے  ناکام تجربے کے پیش نظر اس سال "وکلاء کراچی بار" نے تبدیلی کے نعرے کو ووٹ دیا اور تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے جسٹس صبیح الدین احمد کے صاحبزادے محترم صلاح الدین احمد ایک ناقابل شکست حریف کو شکست دینے میں کامیاب رہے بنیادی  طور پر یہ مقابلہ فرسودہ سوچ اور نئی سوچ کے درمیان تھا۔اور الیکشن کے دن بھی واضح ہوچکا تھا کہ سینئرز وکلاء ایک طرف اور ان ہی کے جونیئرز  دوسری طرف کھڑے تھے اس الیکشن میں محترم خالد ممتاز صاحب نے جنرل سیکرٹری کا الیکشن جیتا بنیادی طور پر خالد ممتاز صاحب  کی بھی کوشش رہتی ہے کہ عدلیہ کا احترام برقرار رہے   اور کمیٹی کو ساتھ لیکر چلیں جبکہ 2014 کی کمیٹی کی بھرپور خواہش یہ ہے کہ وہ 2014  میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لیکر  آئیں وکیل اگر سر جوڑ کر بیٹھ جائیں تو ان کے پاس پر مسئلے کا مکمل حل موجود ہوتا ہے
تاحال تبدیلی کے آثار نظر نہیں آئے۔پہلا تنازعہ بخیر و خوبی نبٹ گیا جو کہ سندھ آرمز ایکٹ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اب کراچی کے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں تھوڑا مسئلہ ہے جو کہ جلد حل ہونے جارہا ہے
ٹاؤٹ ازم کے خاتمے کی کوشش مؤثر رہی  ہے لیکن فرسودہ نظام کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ نئی اصلاح قبول ہی نہیں کرتا کیونکہ نظام کا معدہ بوڑھا ہوچکا ہے  وہ کسی اچھی چیز کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔جس کی وجہ سے پرانے گھسے پٹے نظام کو فوراً ہی بد ہضمی ہوجاتی ہے اور لینے کے دینے پڑجاتے ہیں    آپ خود سوچیں کہ دم توڑتا  سسکتا اور گنتی کی ادھار مانگی ہوئی چند سانسیں لیتا فرسودہ نظام کس طرح  آخری عمر میں کوئی نئی بات قبول کرسکتا ہے اس لیئے ٹاؤٹ ازم جعلی وکلاء اور پیدا گیروں کے ہمدرد معمولی مسائل کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں بدقسمتی سے وکلاء اور ججز کے درمیان بھی اکثر تکلیف دہ قسم کے تنازعات موجود رہتے ہیں  شاید فرسٹریشن یا وقت پر کام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ہی تنازعات رہتے ہیں لیکن ایک اہم ترین وجہ یہی موجودہ فرسودہ نظام ہی ہے جس کی تبدیلی اور خاتمے کا وقت  اب قریب آچکا ہے
میرے خیال میں کراچی بار ایسوسی ایشن کو ہر ماہ سیشن ججز کی میٹنگ منعقد کرنی چاہیئے  جس میں (ایم آئی ٹی-1) کو بھی بلانا چاہیئے کیونکہ ماضی میں (ایم آئی ٹی) کے تجربہ شاندار رہا ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں  سے (ایم آئی ٹی) کا ادارہ بھی توقعات پر پورا نہیں اتررہا ۔لیکن ماہانہ میٹنگز کے نتیجے میں معمولی نوعیت کے تنازعات فوری حل ہوں گے اور (ایم آئی ٹی) کا کردار بھی فعال ہوگا۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مستقل نظر انداز کی ہوئی  ڈسٹرکٹ کورٹس سے کسی بھی قسم کے نتیجے کی توقع رکھنا موجودہ صورتحال میں ایک خوش فہمی ہی ہوسکتی ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کی قیادت یہ بات بھی یاد رکھے کہ کوئی بھی تنازعہ کیوں پیدا ہوتا ہے اہم اور واحد وجہ روایتی  "بدانتظامی" ہے جب لوگوں کے کام وقت پر نہیں ہونگے تو  نتیجے کے طور پر فرسٹریشن جنم لے گی
میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ اگر صرف کراچی کی عدلیہ کو ہی مکمل طور پر آن لائن کردیا جائے  اور پبلک ڈیلنگ ممکنہ حد تک کم کروا کر سارے روایتی قسم کے کام بھی آن لائن کروا دیئے جائیں تو لوگوں  کی بلاوجہ عدالت میں آمدورفت کم ہوجائےگی  ایک بھرپور ریسرچ کے بعد میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر عدالت میں حاضری کیلئے ملزم کے انگوٹھے کا نشان نادرا یا کسی بھی اور سسٹم سے آن لائن منسلک کردیا جائے تو عدلیہ میں ایک بہت بڑی کرپشن ختم ہوجائےگی کیونکہ اکثر کیسز میں ملزمان خود پیش ہی نہیں ہوتے اگرچہ شروع میں مشکلات درپیش ہونگی لیکن وقت کے ساتھ بہت سی باتیں معمول پر آجائیں گی
کیا یہ حقیقت نہیں کہ لاہور ہایئکورٹ میں سرٹیفائڈ کاپی جیسے "عظیم" کام کو آن لائن کردیا گیا ہے آپ ڈسٹرکٹ کورٹ میں کسی سے مذاق میں بھی پوچھ لیں وہ اکثر سرٹیفائیڈ کاپی کے چکر میں گھوم رہا ہوگا ایک عام وکیل یا اس کے منشی کا آدھے سے زیادہ دن سرٹیفائڈ کاپی کے حصول جیسے فضول کام میں گزرجاتا ہے اگر ڈسٹرکٹ کورٹس کو اجازت دی جائے اور خود مختاری دی جائے یا کراچی  بار کی طرح بہترین کوآرڈینیشن سیشن کورٹس کے ساتھ ہے اس کے نتیجے میں کراچی کی سیشن عدالتیں ایسی ایسی سہولیات عوام کو دے سکتی ہیں جس کے بعد کورٹ اذیت گا ہر گز نہیں رہے گی جب معلومات عام ہوجائیں گی تو  منشیوں کی بلاوجہ کی چکر بازی کا خاتمہ ہوگا
میں دعوے سے کہتا ہونکہ پاکستانی عوام کی اکثریت ہرگز قانون شکن نہیں ہے قانون شکنی کی ابتداء ہی کورٹ سے شروع ہوتی ہے جب سسٹم کی کمزوری کی وجہ سے کرپشن ہوتی ہے   تو کرپشن کے نت نئے راستے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں
کراچی بار ایسوسی ایشن ،سندھ ہایئکورٹ کی (ایم آئی ٹی ) برانچ  اور سیشن ججز مل کر ایک نئی تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں
ایم آئی ٹی کے قیام کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے  امید ہے کراچی بار ایسوسی ایشن اپنی ترجیحات میں آن لائن عدلیہ کو اولین ترجیح دے گی
صرف نعرے لوگوں کو انصاف نہیں دے سکتے

بیرسٹر صلاح الدین احمد، خالد ممتاز صاحب اور کراچی بار کی منتخب ٹیم سے ہم سب کو بے شمار توقعات وابستہ ہیں