Tuesday, 4 November 2014

ایک ممبر سندھ بار کونسل کا انٹرویو


سندھ بارکونسل کی کارکردگی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ ممبران نے نااہلی کے تمام ہی ریکارڈ توڑڈالے ہیں اس کارکردگی کے بعد شرم وحیا کا تقاضا یہ تھا کہ سابق ممبران دوبارہ بار کا رخ ہی نہیں کرتے لیکن کیا کیا جائے کہ سندھ بارکونسل کے وسائل لوٹنے کھسوٹنے کے بعد جب کسی احتساب کا خوف بھی نہ ہو  اور پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعدیہ سندھ بار کونسل  کی  حکمرانی بھی ایک ایسا نشہ بن چکی ہے کہ بقول شاعر ” چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی“یہی وجہ کہ وہ تمام نااہل افراد ایک بار پھر سندھ بار کونسل میں نہ صرف ڈھٹائی سے حصہ لے رہے ہیں بلکہ اپنی نااہلی کا بھی سرعام دفاع کررہے ہیں اسی حوالے سے حقائق جاننے کیلئے ہم نے ایک  ممبر سندھ بارکونسل سے ملاقات کا وقت لیا  اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی

 سندھ بار کی کارکردگی کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟


سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں ایک انتہائی مصروف ترین وکیل ہوں اور سند ھ بار کونسل  کےالیکشن میں حصہ لیکر میں اپنا قیمتی وقت وکلاء برادری کیلئے وقف کرتا ہوں لیکن افسوس کہ ان وکیلوں کو میری قدر ہی نہیں ہرجگہ ہماری کارکردگی کا ڈھنڈورا ہی پیٹتے رہتے ہیں ذرا سا دانت پیس کر یہ جو نوجوان وکیل باتیں کرتے پھر رہے ہیں ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے  حقیقت یہ ہے کہ یہ میرا ایک سندھ بار کونسل اور وکلاء پر احسان ہے کہ میں اپنا قیمتی وقت ان کو دیتا ہوں وکلاء کا مجھ پر کوئی بھی احسان نہیں  جناب شاید آپ میرا سوال سمجھ نہیں سکے میں نے سندھ بار کونسل کاکردگی کے حوالے سے سوال کیا تھا؟ جب تک آپ وکیل لوگ میرا یہ احسان تسلیم نہیں کرتے  کہ میں اپنی پروفیشنل مصروفیات میں سے اپنا قیمتی وقت نکال کر سندھ بار کونسل کو اپنا انتہائی قیمتی وقت دیتا ہوں  اس وقت تک میں کیا جواب دے سکتا ہوں 

 آپ نے گزشتہ الیکشن میں بھی وعدہ کیا تھا کہ وکلاء کیلئے عالمی معیار کا رہایئشی ہاسٹل اور اسپتال بنایا جائے گا اس وعدے کا کیا ہوگا؟

میری مصروفیات میری وکالت میرا کام اتنی  بڑی لاء فرم چلانا کوئ بچوں کا کھیل نہیں آپ ابھی بھی انتظار گاہ میں جاکر دیکھیں میرے کلایئنٹس کا رش لگا ہوا ہے یہ میری کل کی ڈائری دیکھیں کل بھی بے شمار کیسز لگے ہوئے ہیں اس کے باوجود میں نے سندھ بارکونسل کو ٹائم دیا اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس بار منتخب ہوکر یہ کام بھی کرہی دوں گا ویسے شہر میں اچھے ہوٹل اور اچھے اسپتالوں کی کوئی کمی نہیں اگر کسی کو ایڈریس پتا نہ ہوتو میں بتادوں گا

 سندھ بار کونسل  حکومت کی مالی امداد کیوں نہیں قبول کرتی؟

یہ الزام درست نہیں اگر ہم چاہیں تو ایک سال میں ہاسٹل بھی بن جائیں گے اسپتال بھی بن جائیں گےوکلاء کیلئے اعلٰی معیار کے کلب بھی بن جائیں گےمیڈیکل فنڈ میں بھی اضافہ ہوجائے گااور وکلاء کے بینوویلنٹ فنڈ میں بھی اضافہ ہوجائے گا لیکن ہم حکومت کا احسان نہیں لینا چاہتےاسی وجہ سے ہم حکومت کی امداد قبول نہیں کرتےایک صدر پاکستان نے پانچ کروڑ کے ابتدائی پیکیج کا اعلان کیا تھا اور شرط صرف اتنی رکھی تھی کہ ہم ایوان صدر سے آکر یہ چیک لیجائیں لیکن ہم نے کہا کہ آپ بزریعہ ڈاک پانچ کروڑ کا چیک بھجوادیں جس پر صدر صاحب برا مان گئےویسے بھی مجھے نہ تو اسپتال کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی ہاسٹل کی اللہ کا شکر ہے کہ میرا اور میرے بچوں کا علاج  عالمی معیارکے اسپتالوں میں ہوتا ہے جبکہ میں ہمیشہ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ٹہرتا ہوں اگر وکلاء کیلئے ہاسٹل بن بھی جائے گا تو کونسا انقلاب آجائے گا

سوال: آپ کے آئیندہ کیا منصوبہ جات ہیں آپ کس بنیاد پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں؟

ممبر سندھ بار مسکرا کر جب تک بریانی کی ایک پلیٹ کے بدلے ووٹ کا سودا کرنے والے وکلاء موجود ہیں  اور لائن میں لگ کر  ذلت آمیز طریقے سےاپنے بار کے کارڈ کی فوٹو کاپی جمع کروا کرسو سوروپے کی ڈائری لیکر ووٹ ڈالنے والے لوگ موجود ہیں مجھے کسی کواپنا پروگرام دینے کی کوئی ضرورت نہیں میں سالانہ پانچ سو وکلاء کیلئے ڈنر کا اہتمام کرتا ہوں کیا یہ سب  وکیل میرے چاچے لگتے ہیں  یا میرے مامے لگتے ہیں  یہ سب جانتے ہیں کہ میں ان  کو کیوں ڈنر کھلاتا ہوں  کیا میرا دماغ خراب ہے یا میرے سر پر دوعدد سینگ آپ کو نظر آرہے ہیں وکیلوں سے صاف صاف کہتا ہوں میرا نہ پچیس سال پہلے کوئی پروگرام تھا نہ آج ہے جس نے جو مہم چلانی ہے شوق سے جاکر چلالےمیں گزشتہ پچیس سال سے ممبر سندھ بار کونسل بن رہاہوں اور اگلے پچیس سال بھی بنتا رہوں گا  میں دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ وکلاء جو گزشتہ پچیس سال سے ایک کورٹ کی ڈائری اور بریانی کی ایک پلیٹ کے بدلے مجھے ووٹ دے رہے ہیں  وہ اس بار بھی مجھے مایوس نہیں کریں گے ویسے بھی مایوسی کفر ہے

تبدیلی کے نعرے کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں ؟

اس نعرے کی بھاری قیمت لیڈرشپ کو ادا کرنی ہوگی نئی لائیبریری بنالینا بار کی تزئین و آرائش کروالیناسیکورٹی بہتر بنالینا نادرا کا ویریفیکیشن سینٹر بنالینا کونسی تبدیلی ہے  ،کار پارکنگ بنالینا کونسی تبدیلی ہے یہ سب تو میرے ایک منٹ کے کام تھے لیکن میں نے کیئے نہیں

 آخر کیوں نہیں کیئے کوئی وجہ تو ہوگی؟

میں نے اس لیئے کوئی کام نہیں کیا کیونکہ یہ وکیل لوگ اس قابل ہی نہیں اب آپ ہی بتائیں  ڈسٹرکٹ کورٹ کے وکلاء کا کتابوں کے مطالعے سے کیا لینا دینا پہلے مطالبہ تھا لائیبریری بنادو وہ بن گئی تو مطالبات آگئے کہ نئی کتابیں  بھی چاہیئں اب کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کورٹس میں لفٹ لگا دو پارکنگ کے بعد اب کچھ تبدیلی کے علمبردار یہ کہہ رہے ہیں میڈیکل کے فنڈ میں اضافہ کردو پھر کچھ لوگ آجائیں گے جو یہ کہیں گے بینوویلنٹ فنڈ میں اضافہ کردو ان وکیلوں کا سر پر نہ چڑھاؤ اگر یہ سرپر چڑھ گئے تو پھر یہ اتریں گے نہیں پرانا فارمولہ ہے سال میں ایک بار بریانی  کی ایک پلیٹ ہاتھ میں پکڑادو اور ایک مفت کی ڈائری بس کام ہوگیا پھر کل ایک نئی قوم آجائے گی جو کہے گی کہ وکلاء کیلئے پروفیشنل رہنمائی کا اہتمام کیا جائےیہ جولوگ نوجوانوں کو اکسا کر سر چڑھا رہے ہیں کل وہ خود پچھتائیں گے  آج جو میرے بھائی اور سیاسی نابالغ نوجوانوں کو پرانی لیڈرشپ کے خلاف ورغلاء رہے ہیں ان کو ایک نہ ایک دن خود پچھتانا ہوگااگر یہ نوجوان ووٹر بیدار ہوگئے تو یہ معاملہ دور تک نکل جائے گااور اگر ایک بار ان کے چند مطالبات مان لیئے گئے تو نئے مطالبات کی لسٹ تیار ہوجائے گی پھر ایک پینڈورا بکس تیار ہوجائے گا جس کو بند کرناناممکن ہوگاکل یہی وکیل آپ دیکھیں گے کہ کسی نظریئے کی بنیاد پر سندھ بار کا الیکشن لڑرہے ہونگےوکیل مطالبات لیکر آجائیں گے کہ یہ کام کردو وہ کردو ماحول خراب ہوجائے گا


بار کی ہڑتال کےخاتمے کیلئے آپ نے کوئی کوشش کی دیکھیں اس سے عوام کو کتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟


ممبر سندھ بار مسکرا کر دیکھا بلی آگئی نہ تھیلے سے باہر بار کی ہڑتال ہی تو ہماری اصل طاقت ہےاگر ہم عدالتیں بند نہ کروائیں تو چیف جسٹس اور اعلٰی عدلیہ ہمیں لفٹ کیوں کروائے گی اور ہمارے مطالبات کیوں تسلیم کرے گی یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی  مسئلہ ہو ہم عدالتیں فوری بند کروادیتے ہیں  عوام جائیں بھاڑ میں اور عام وکیل جائے تیل لینے ہمیں کوئ فرق نہیں پڑتاہم بار کی ہڑتالیں جاری رکھیں گے اور جو ان ہڑتالوں کے خلاف آواز اٹھائے گا اس کا ٹینٹوا دبا دیں گے  اگر مہینے میں پانچ دن ہڑتال کے چکر میں عدالتیں بند پڑی رہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا اور اب تو یہ ہڑتال والی بیماری ہم سندھ ہایئکورٹ میں بھی لے آئے ہیں   

کیا ان بے وجہ کی ہڑتالوں سے وکلاء کے کوئی مسائل بھی حل ہوئے ہیں؟

ہمارا مسائل کے حل سے کیا لینا دینا اور اگر وکلاء کے مسائل حل ہوگئے تو ایک بریانی کی پلیٹ اور لائن میں سوروپے کی ڈائری کیلئے لائن میں لگ کر ہمیں ووٹ کون دے گا؟ اس سوال کا مجھے آپ جواب دے دیں

آپ کے ممبران سندھ بار کونسل پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ آپ نے عدلیہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا عدالتی اصلاحات کیلئے کوئی کوشش نہیں کی ؟

یہ الزام درست نہیں لیکن عدالتی اصلاحات ایک ڈھکوسلہ ہیں اور ہم بلاوجہ کے ڈھکوسلوں   پر یقین نہیں رکھتے

نوجوان وکلاء کے نام کوئی پیغام ؟

خبردار ان کم بخت نوجوان وکلاء کا نام بھی میرے سامنے مت لیںکم بخت نگوڑے کہیں کے ان کم بخت سیاسی نابالغوں نے آخری عمر میں ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے اب بلاوجہ بار میں جاکر وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں   ہم نے پچھلے پانچ سال اگر ٹکے کا کام نہیں کیا تو کونسا کفر ہوگیا یہ تو ہمیں یوں ذلیل کرتے پھر رہے ہیں جیسے  ہم نے کوئی بہت بڑا جرم کردیا ہے حالانکہ پچھلے پچیس سال میں سندھ بار کونسل نے کوئی کام نہیں کیا سندھ  بار کی یہ روایت  ہی نہیں کہ ہم کوئی کام کریں کل چند نوجوانوں کو مفت ڈائری دی لینے سے انکار کردیا کیا زمانہ آگیا ہے  لیکن اس بار مجھے ممبر بن جانے دیں ان کا علاج ضرور کروں گا کم بختوں کا یہ وہ بچے ہیں جو اس فلسفے پر یقین رکھتے ہیں کہ نہ کھیڈاں  گے نہ کھیڈن دیاں گے   
Post a Comment