Monday, 24 November 2014

انگریزی زبان کا ایک لفظ اور اونٹ سے بڑے ساب

میں حیرت سے  آنکھ جھپکے بغیرعدالت میں موجود  اس اونٹ سے بڑے  شخص کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس ادارے کی عظمت کو اکیس توپوں کی سلامی یہ اتنے بڑے  لوگ تلاش کیسے کرلیتا ہے جبکہ وہ اونٹ سے بڑا  ساب کورٹ کی فائل کے صفحات یوں الٹ پلٹ رہا تھا جیسے پہلے دن کوئی جونئیر وکیل کسی مقدمے کی فائل اٹھاتا ہے تو اس کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ اس کو کیسے سمجھے کیسے اس کیس کا مطالعہ کرے
واقعہ یہ تھا کہ اس  کی غفلت سے تین بے قصور اور بے گناہ لوگ  جن میں ایک بوڑھی اور بیمار عورت  بھی شامل تھی ایک  کیس میں بری طرح فٹ کردیئے گئے تھے اور وہ جس کا  فکری  اور ذہنی قد کاٹھ اونٹ سے بھی کافی بڑا تھا یوں بے نیاز بیٹھا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
میرا دعوٰی ایک دلیل کے ساتھ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ صوبہ سندھ کی عدالتوں کے مجسٹریٹ سطح کی عدلیہ کی اکثریت پولیس کی ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت ہے عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کا تاحال سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پہلے پولیس والے اپنے ایک افسر کے سامنے پیش ہوتے تھے اور اب وہ اپنے ایک ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت کے سامنے پیش ہوتے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف نااہلوں کی وہ فوج ہے جو جمع کرلی گئی ہے یہ بے چارے نہیں جانتے کہ تفتیش کیا ہوتی ہے اور تفتیش کے دوران مجسٹریٹ کی ذمہ داری کیا ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد جب پولیس چالان لیکر آتی ہے تو اس چالان پر اپنی رائے کس طرح قائم کرنی ہے نہ تو ان کو ادارے نے کوئی تربیت دی ہے نہ وہ تربیت دینے کی کوکوئی ضرورت محسوس کرتے ہیں   میں پورے کراچی میں صرف دو مجسٹریٹ صاحبان کو جانتا ہوں جو کہ انتظامی حکم جاری کرنے سے پہلے پولیس فائل سکون سے پڑھتے ہیں مطالعہ کرتے ہیں اور ایک تفصیلی حکم نامہ  جاری کرتے ہیں اور اکثر اوقات وہ پولیس کی رائے سے اتفاق  نہیں کرتے جس کے نتیجے میں پولیس  کے فراڈ اور دھوکے سامنے آتے رہتے ہیں  کیونکہ وہ  نہ تو پولیس کے ذہنی غلام ہیں اور نہ ماتحت  اسی پریکٹس کے تحت انہوں نے سینکڑوں بے گناہوں کو پولیس کی حراست سے نکلوایا اسی پریکٹس ہی کے تحت کتنے ہی ملزمان کی ہتھکڑی کورٹ میں ہی کھلوادی گئی کہ کیس بنتا ہی نہیں  اصولی طور پر تمام عدالتی افسران کو یہ کام کرنا ہے ہوسکتا ہے کچھ اور لوگ بھی یہ نیک کام کرتے ہوں میرا واسطہ ان سے نہیں پڑا
تفتیش کے بعد مجسٹریٹ  انتظامی حکم کے زریعےکیس کی گرفت کرتا ہے اس پر آرڈر پاس کرتا ہے اس انتظامی آرڈر کی اہمیت کا  اندازہ آج تک ان نااہلوں کو ہو ہی نہیں سکا کہ یہ ہوتا کیا ہے  سپریم کورٹ  اور ہایئکورٹ نے  لاکھوں  صفحات ضائع کردیئے اس راز کو تلاش کرنے کیلئے کہ پولیس کی تفتیش مکمل ہوجانے کے بعد پولیس کا ادنٰی سا خادم اور ذہنی غلام اس پر جو حکم نامہ جاری کرتا ہے وہ ایک انتظامی نوعیت کا آرڈر ہے یا جوڈیشل آرڈر
قانون دانوں اور ججز کے ایک بہت بڑے گروہ کا یہ کہنا ہے کہ پولیس کی تفتیش پر مجسٹریٹ جو حکم جاری کرتا ہے اس کی نوعیت جوڈیشل ہے جبکہ  قانون دانوں اور وکلاء کی اکثریت اس پر اب متفق ہوچکی ہے یہ انتظامی نوعیت کا حکم ہے اور اس حکم کے خلاف اپیل بھی ہایئکورٹ میں ہوگی وہ بھی ایک آئینی پٹیشن کے زریعے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کیا ان کو وہ اہم ترین انتظامی آرڈر لکھنے آتا ہے اگر سپریم کورٹ اتنی بات سوچ لیتی تو وہ اس فضول بحث میں الجھنے کی بجائے اپنے عدالتی افسران کی تربیت کا انتظام ہی کرلیتی
اب ملاحظہ فرمائیں وہ واقعہ جس کے تحت عدالت میں تعینات  پوسٹ گریجویٹ اونٹ سے بڑے ساب  کو  میٹرک پاس پولیس والا کیسے ایک جج  کو  ماموں بناکر چلا گیا
واقعہ کچھ یہ تھا کہ ایک گھر کے اندر ہونے والے واقعہ کی ایف آئی آر درج کروائی گئی  ایک شخص نے ایف آئی آر درج کروائی کہ اس کی  بیوی اور بیٹوں نے اس کو پاگل خانے میں پاگل قرار دے کر داخل کروادیا تھا جس کے بعد اس کے رشتے داروں نے اس کو وہاں سے نکلوایا جس کے بعد جب وہ اپنے گھر آیا تو اس کے بیوی بچوں نے  اس پر تشدد کیا اور پستول دکھا کر جان سے مارنے کی کوشش کی جس کے بعد اس نے اپنی اسی گھر کی گراؤنڈ فلور پر رہایئش پذیر اپنی بیٹی  "ج" کے گھر پناہ لی تفتیش کے بعد اصل واقعہ یہ سامنے آیا کہ وہ شخص واقعی  پاگل ہے  اس کو نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا علاج معالجے کیلئے اسی دوران اس کے رشتے دار اس کو وہاں سے زبردستی نکلوا کرلے گئے ڈاکٹر نے گواہی دی کہ یہ شخص خطرناک نفسیاتی مریض ہے اس کے علاوہ وہ اپنی جس بیٹی کے ساتھ گراؤنڈ فلور پر رہتا ہے اور اس نے اپنے بیان کے مطابق اس کے گھر پناہ لی تھی  اس نے بھی واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا  جس کے بعد اس کیس کو  شواہد کے مطابق"اے کلاس" میں ختم کردیا گیا
دوبارہ تفتیش ہوئی پولیس نے رشوت مانگی ملزمان نے نہیں دی جس کے بعد پولیس افسر نے چالان پیش کردیا اور دوشناختی کارڈز کو گواہ بنایا ایک شناختی کارڈ نیو کراچی کا دوسرا شناختی کارڈ سیفل گوٹھ  کا ہے جن کا دعوٰی تھا  کہ وہ اس واقعے کے گواہ ہیں   سوال یہ ہے کہ وہ پہلے کیوں نہیں پیش ہوئے جب کہ ایک گلشن اقبال میں ہونے والے گھریلو جھگڑے کی گواہی نیوکراچی یا صفورا گھوٹھ کا رہایئشی کیسے دے سکتا ہے واقعہ کے گواہ اڑوس پڑوس کے لوگ ہوسکتے ہیں جبکہ حیرت ہے کہ وہ گواہ بننے کیلئے   گھر کے اندر داخل ہوکر فرسٹ فلور پر بھی چڑھ گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ  دو گواہ گھر کے فرسٹ فلور پر کیا کررہے تھے
حقیقت یہ ہے کہ تفتیشی افسر نے دوشناختی کارڈز کی فوٹو کاپیاں  پیدا کرکے دو چشم دید جعلی گواہ بنائے لیکن یہ وضاحت نہ کی کہ وہ ایف آئی آر درج ہونے کے آٹھ مہینے تک کہاں رہے شاید اس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ شناختی کارڈ  کی فوٹو کاپی کو گواہ کیسے بنایا جاتا ہے
لیکن سب سے بڑا دھوکہ یہ دیا گیا کہ جس ڈاکٹر کی گواہی کی بنیاد پر کیس ختم کیا گیا تھا اس کو اس کیس کا مرکزی گواہ بنا لیا گیا حالانکہ اس نے اپنی  گواہی تبدیل نہیں  کیس کی فائل میں اس کا بیان موجود ہے کہ مدعی مقدمہ پاگل ہے  لیکن یہ فائل پڑھنے کی زحمت کون کرے گالیکن ایک  مجسٹریٹ کو کیا پتہ کہ پراسکیوشن کا گواہ کیا ہوتا ہے  ایک  مجسٹریٹ کو کیا پتہ کہ ایف آئی آر کیا ہوتی ہے ایک مجسٹریٹ  کو کیا پتہ کہ پولیس نے اہم ترین گواہ کو گواہ کیوں نہیں بنایا
پولیس نے چالان اپنے ذہنی غلام اور ذہنی ماتحت کے سامنے پیش کیا جس پر سندھ ہایئکورٹ کے مقرر کردہ مجسٹریٹ نے صرف ایک انگریزی زبان کا لفظ لکھا "رجسٹرڈ" اور پولیس کی تفتیش سے  مکمل اتفاق کرلیا سوال یہ تھا جو کہ اب ہمارا مطالبہ بھی بن چکا ہے کہ اگر انگریزی زبان کا ایک لفظ لکھنا ہی انتظامی حکم ہے تو اس کیلئے کسی پوسٹ گریجویٹ کی خدمات لینے کی ضرورت کیا ہے کورٹ کا ایک چپراسی مقرر کردیا جائے کافی ہے کیونکہ یہاں چپراسی بھی میٹرک پاس  ہے وہ بھی انگریزی زبان کا ایک لفظ لکھ سکتا ہے
میں نے جب اس ساب کی توجہ اس جانب دلائی تو اونٹ سے بڑے اس  ساب نے کورٹ کی فائل کے صفحات کے صفحے یوں الٹنے پلٹنے شروع کردیئے جیسے کہ  اداکارہ میرا کا نکاح نامہ غلطی سے فائل میں آگیا ہو  "ادھر ادھر "کی باتوں کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ نے پڑھے بغیر ہی سوچے سمجھے بغیر ہی   اتنا اہم ترین انتظامی حکم نامہ دستخط کردیا ہے اور پولیس والا اونٹ سے بڑے  ساب کو "ماموں "بناکر چلا گیا
اب ہوگا کیا کیس چلے گا گواہ نہیں ملیں گے ڈاکٹر آئے گا گواہی دے گا جس کے بعد کیس ختم
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ہماری سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان "ناناپاٹیکر" کی طرح ڈایئلاگ مارنے کے شوقین ہیں وہ اپنا تاریخی ڈائیلاگ مارتے ہیں کہ پولیس کی غلط تفتیش کے نتیجے میں ملزمان بری ہوجاتے ہیں  اور ہمارے اخبارات اس کی شہہ سرخیاں لگاتے ہیں جیسے کسی چرسی بابے نے کوئی راز کی بات بتادی ہو یا کوئی سٹے کا نمبر بتادیا ہو حقیقت یہ ہے ہماری سپریم کورٹ اور ہایئکورٹ کے جسٹس  صاحبان حقیقت سے نظریں چرا کرجھوٹ  بولتے ہیں  اور عوام کو دھوکہ دیتے ہیں وہ اپنے ادارے میں موجود اونٹ سے بڑے  دانشوروں کی نااہلی کا اعتراف کرنا نہیں چاہتے جن کی نااہلی کی وجہ سے پولیس چالان منظور کروالیتی ہے جس کی وجہ سے پولیس بے گناہوں کو  جھوٹے کیس میں پھنسالیتی ہے پولیس ایک عام شہری پر جو بھی تشدد کرتی ہے اس کی ذمہ دار وہ عدلیہ جس کے متعلق دعوٰی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ایک آزاد عدلیہ موجود ہے جی ہاں عدلیہ مکمل آزاد ہے لیکن  یہ آزادی عدلیہ نے پولیس کو دے رکھی ہے کہ جس کو چاہے جس کیس میں چاہے اٹھا کر فٹ کردے
سپریم کورٹ اور ہایئکورٹ کی اوقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ گزشتہ  ستاسٹھ سال سے حکم نامے جاری کررہی ہے کہ انتظامی حکم اسپیکنگ ہونا چاہیئے اور جانچ پڑتال کے بعد جاری کرنا چاہیئے جبکہ آج تک وہ اپنی ماتحت عدلیہ سے یہ بات نہیں منوا سکے کہ وہ انتظامی حکم اسپیکنگ نوعیت کا لکھیں کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر وہ پولیس کی تفتیش سے اتفاق کرکے کیس کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہیں  آج بھی اکیسویں صدی کے اس دور میں  ہم اونٹ سے بڑے  سابوں  سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں  جو کہ انگریزی زبان کے ایک لفظ کے زریعے  کسی کے بھی مستقبل سے کھیل سکتے ہیں ہم ہایئکورٹ سے اب کبھی بھی یہ نہیں کہیں گے کہ وہ اس سلسلے کو روکیں کیوں روکا جائے اس ملک کے  غریب آدمی کو اوقات میں رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس پر پولیس مسلط کی جائے اس کو پولیس کے زریعے ذلیل کیا جائے شاید عدلیہ کی خواہش ہے کہ پولیس  غریب لوگوں کو جھوٹے کیسز میں پھنسائے یہی وجہ ہے کہ صرف انگلش زبان کا ایک لفظ لکھ کر ہمارے عدالتی افسران پولیس کے فراڈ کو پولیس کے دھوکے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں  ہم ہایئکورٹ سے  مطالبہ کرتے ہیں کہ  وہ اپنا مشن جاری و ساری رکھے لیکن خدا کے واسطے انتظامی حکم کا عدالتی اختیار  اونٹ سے بڑے ان سابوں سے لیکرکورٹ کے چپراسیوں کو دے دیا جائے کورٹ کے پٹے والوں کو دے دیا جائے وہ بھی میٹرک پاس ہیں انگلش کا ایک لفظ لکھ ہی لیں گے
اسی طرح ہم چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سندھ جوڈیشل اکیڈمی کو فوری طور ختم کرنے کا اعلان کرکے وہاں کوئی  ڈھنگ کا شاپنگ سینٹر بنادیں   یا وہاں کوئی  بریانی  کی دکان کھول دی جائے یہ ججز کی تربیت کا ڈھکوسلہ ختم کیا جائےلعنت ہے اس  جوڈیشل اکیڈیمی پر جو  ججز کو ایک انتظامی حکم نامہ لکھنا نہ سکھا سکے

وہ وقت دور نہیں جب لوگ عدلیہ کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے 
Post a Comment