Monday, 26 October 2015

"ریاست اپنے اختیارات واقتدار کو عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کے زریعے استعمال کرے گی" تحریر صفی الدین اعوان

مجھے تیزاب سے متاثرہ چہرے دیکھ کر آئین پاکستان یاد آجاتا ہے جس طرح تیزاب سے بگڑے ہوئے چہرے کبھی بحال نہیں ہوتے اسی طرح  جب ڈکٹیٹروں نے آئین پاکستان  پر تیزاب گردی کی تو اس کا  اصل چہرہ ہی مسخ ہوگیا ہے 
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ تیزاب گردی کا شکار ایک لڑکی جس کا نام سدرہ ہے اس نے ایک سیمینار میں  بتایا کہ اس کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ یہ آواز تو میری امی کی ہے لیکن چہرہ امی کا نہیں میری امی کب واپس آئیگی پروگرام کے دوران سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر محترمہ شہلا رضا نے لڑکی سے پوچھا کہ  اس کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو سدرہ کی  معصوم خواہش نے کئی لمحات کیلئے سب کو افسردہ  اور اشکبار کردیا جب سدرہ نے یہ کہا کہ مجھے میرا چہرہ واپس چاہیئے 
میں  فوجی  ڈکٹیٹروں  کی جانب سے   تیزاب گردی کا شکار آئین پاکستان کو دیکھتا ہوں تو کئی لمحات کیلئے افسردہ ہوجاتا ہوں  سدرہ  کے چہرے پر صرف ایک بار تیزاب پھینک کر جلایا گیا جبکہ اس کا ملزم بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہے جبکہ   موجودہ آئین پاکستان پر تو دوبارڈکٹیٹر نے  تیزاب سے حملہ کرکے اس کا چہرہ مسخ کیا گیا  جبکہ  ملزم  آزاد گھوم رہا ہے ارضا ربانی صاحب کی سربراہی میں بننے والی    ستائیس  رکنی آئینی کمیٹی برائے اصلاحات  جس  میں  اقلیتی  برادری   کا کوئی  نمائیندہ  نہیں تھا بھی اس کی  مکمل سرجری کرنے میں ناکام رہی  ڈکٹیٹروں کی  آئین پاکستان پر کی جانے والی تیزاب  گردی نے سب سے  زیادہ اقلیتی برادری کو متاثر کیا  لیکن تمام کوششوں کے باوجود  آئین پاکستان کا اصلی چہرہ بحال نہیں ہوسکا
آیئے دیکھتے ہیں کہ اقلیتی نشستوں پر ووٹ کا حق ختم ہوجانے کے بعد  اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے  پنو ٹھاکر کو  اپنے نمائیندوں کی جانب سے کس رویئے کا سامنا کرنا پڑتا ہے
 پاکستان کی اقلیتی  برادری سے تعلق رکھنے والا مظلوم پنو  ٹھاکر   بہت سی  توقعات  لیکر جب  اپنی برادری کے ایم پی اے کے پاس آیا تو اس کی توقع کے خلاف ایم پی اے ساب نے  نہ صرف ملاقات کیلئے ٹائم  دینے سے انکار  کردیا ۔ لیکن پھر بھی  وہ صبح سویرے سے ہی  ایم پی  اے  ساب سے  ملاقات  کیلئے انتظار کررہا تھا
اقلیتی  برادری سے تعلق  رکھنے والا ایم پی اے جو صوبائی وزیر بھی تھا اور کوئی عام وزیر نہیں ایک انتہائی بااثر قسم کا وزیر تھا۔ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا پنو ٹھاکر اپنی بیوی اور بچی کے اغوا کی فریاد لیکر اقلیتی برادری کے ایک ایم پی اے کے پاس گیا تھا ۔ کیونکہ اس کی بیوی اور بیٹی کے اغواء کے بعد انتظامیہ اس سے تعاون نہیں کررہی تھی  ۔ پنو ٹھاکر یہ سمجھ رہا تھا کہ  اس کی برادری کا صوبائی وزیر اس کی فریاد سن کر تڑپ اٹھے گا اور اس کی بیوی  اور بیٹی کی بازیابی کیلئے پولیس کے اعلٰی افسران سے بات کرے گا  لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نکل آیا۔اس کی اپنی ہی  برادری کے  اقلیتی نمائیندے نے تو ملنا بھی گوارہ نہیں اسی دوران صوبائی وزیر صاحب  گھر سے  محافظوں  کے لشکر کے ساتھ اسمبلی جانے کیلئے نکلے تو پنو ٹھاکر نے راستہ روک لیا اور کہا  ساب میں صبح سے یہاں بیٹھ کر آپ کا انتظار کررہا ہوں  ۔آپ اسمبلی میں ہماری نمائیندگی کیلئے منتخب ہوئے ہیں آپ نے تو ملنا بھی گوارا نہیں کیا  ساب میری بیوی اغواء ہوگئی بیٹی کو  بھی ساتھ میں اغواء کرلیا  ۔ آپ ہمارا ساتھ دیں آخر آپ کس بات کے ہمارے نمائیندے ہیں  آپ اقلیتوں کے نمائیندے ہیں  کچھ تو حق  ادا کریں  آپ تو ملنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔  اس سے پہلے کہ   ایم پی  اے کے محافظ اس حقیر بے توقیر پنو ٹھاکر کو دھکیل کر راستے سے ہٹاتے  ایم پی اے صاحب  نے  اپنے گن مین  کو ایک منٹ کیلئے روکا اور پنو ٹھاکر کی بات سن  کر اقلیتی برادری کے نمائیندے نے قہقہہ لگایا اور کہا پنو ٹھاکر  کس نے کہا کہ میں تم لوگوں کا نمائیندہ ہوں ۔ یہ کس  گدھے نے کہا کہ میں اقلیت کا نمائیندہ  ہوں ۔کیا میں نے تم سے کبھی ووٹ مانگا۔ کیا تم نے کبھی مجھے ووٹ دیا۔ تم نے مجھے ووٹ  دیا ہی  نہیں میں نے تم سے ووٹ  مانگا ہی نہیں مانگا پھر میں تمہارا کس بات کا نمائیندہ ہوں۔  میں نے تو یہ سیٹ تجارت  کے ذریعے لی ہے  ۔ یہ سیٹ  نیلامی میں  فروخت  ہورہی تھی میں  نے سب سے زیادہ  قیمت ادا کرکے  یہ سیٹ  خرید  لی ۔میں نے یہ سیٹ الیکشن سے نہیں   جیتی  بلکہ  اپنی ایک پوری فیکٹری  حکمران پارٹی کو تحفہ دے کر خریدی ہے  ۔ یادرکھو کان کھول کر سن لو  تم مجھے  کبھی بھی ووٹ مت دینا ۔ میں تم سے ووٹ  کبھی بھی نہیں مانگوں گا اور میں  تم جیسے ٹکے ٹکے  کے لوگوں  سے ووٹ مانگنا تو دور کی بات  میں ہاتھ ملانا بھی گوارہ  نہیں کرتا  میں تمہارے ووٹ پر لعنت بھیجتا ہوں ۔  نہ  پہلے کبھی ووٹ  مانگا ہے نہ آئیندہ  کبھی مانگوں گا۔تعجب ہے تم اتنے  بے خبر  کیوں ہو کہ  اقلیتوں کی نشستوں پر الیکشن  نہیں ہوتے  اقلیتوں کی نشستیں برائے  فروخت  ہیں   ہم ووٹ  لیکر نہیں پیسہ  خرچ کرکے  آئے ہیں یہ کہہ کر صوبائی وزیر نے جیب سے سو روپیہ نکال کر پنو کو دیا اور کہاکہ یہ واپسی کا کرایہ ہے اپنا  خیال رکھنا  اور مظلوم اقلیتی برادری کا ایم پی اے  محافظوں کی فوج کے ساتھ اسمبلی کے  سیشن کیلئے روانہ ہوگیا ۔
جی ہاں  آج پاکستان کی اقلیتی برادری حیران اور پریشان ہے کبھی وہ آئین پاکستان میں کیئے گئے وعدوں کی طرف دیکھتی ہے کبھی قرارداد مقاصد کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی آئین کی بنیادی تمہید کی طرف  اور کبھی عدلیہ کی طرف کہ جسے   عدالتی نظرثانی کا حق دیا گیا ہے۔ کبھی اقلیتیں تصدق حسین جیلانی کے تاریخی فیصلے کو پڑھتی ہیں تو کبھی جسٹس جواد ایس خواجہ  کے تاریخی اختلافی نوٹ  کو پڑھتی ہیں جو  اکیسویں ترمیم کے حوالے سے ججمنٹ میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے تحریر کیا ہے ۔ اور کبھی اقلیتیں قائداعظم محمد علی جناح کے چودہ نکات کو پڑھتی ہیں جن میں اقلیتوں کے جداگانہ انتخاب کی بات کی گئی ہے ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس وقت اقلیت سے مراد مسلم اقلیت تھی۔
ایک ڈکٹیٹر آئین پاکستان کا حلیہ اس قدر بگاڑ چکا تھا کہ اس کی بحالی کیلئے اٹھارویں ترمیم کی صورت میں آئین پاکستان کی پلاسٹک سرجری کرنا پڑی لیکن تیزاب زدہ چہرے پلاسٹک سرجری کے بعد بھی مکمل طور پر بحال کبھی نہیں ہوتے شاید یہی حال آئین پاکستان کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔کیونکہ  آئین پر جو چرکے جناب ضیاءالحق صاحب لگا گئے تھے ابھی تو ان کے نشان بھی باقی تھے کہ   دوسرے ڈکٹیٹر نے رہی سہی کسر بھی نکال دی
پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات نے اٹھارویں ترمیم کے سلسلے میں کل ستتر 77 اجلاس کیئے  اور کل  تین سو پچاسی گھنٹے  پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات کے اجلاس منعقد ہوئے  ۔ ہر ترمیم کے حوالے سے کاروائی کا ریکارڈ ملتا ہے۔مختلف اراکین کے اختلافی اور حمایتی نوٹس بھی موجود ہیں  لیکن  حیرت انگیز طور پر  کمیٹی اقلیتوں کے معاملے کو نظر انداز کرگئی  مشرف کے دور میں  اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر الیکشن کا حق  ختم کرکے آئین پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔ کیونکہ  پاکستان کی عوام نے منتخب نمائیندوں کو آٹھ ہدایات جاری کی ہیں جن میں ترمیم ممکن نہیں ہے  پہلی ہدایت یہ ہے کہ

"ریاست اپنے اختیارات  واقتدار کو  عوام کے منتخب کردہ نمائیندوں کے زریعے استعمال کرے گی"
اس کا مطلب یہ ہوا کہ  آئین پاکستان کے تحت  سیلیکشن کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے آگے چل کر  بنیادی متن مزید یہ کہتا ہے کہ
"جمہوریت، آزادی ،مساوات،رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں  پر جیسا کہ اسلام نے اس کی تشریح کی ہے  پوری طرح اس پر عمل کیا جائے گا"
اگر ہم ان دوبنیادی اصولوں کو ذہن میں رکھیں تو  یہ بات سامنے آتی ہے کہ  غیر منتخب نمائیندہ چاہے وہ کسی بھی مخصوص نشست پر منتخب ہوا ہو آئین پاکستان کے تحت پارلیمان میں اجنبی ہے ۔ کیونکہ  ریاست اپنے اختیارات و اقتدار کو  غیر منتخب نمائیندوں کے زریعے استعمال کرہی نہیں سکتی ۔ 
 آئینی کمیٹی برائے اصلاحات میں  کل ستائیس افراد شامل تھے ان میں اقلیت کا ایک بھی نمائیندہ موجود نہیں تھا۔ اس طرح پاکستان کی آئینی تاریخ کے اس اہم ترین مرحلے میں اقلیتی آبادی کی کوئی نمائیندگی موجود  نہیں تھی حالانکہ   اقلیتی نمائیندوں نے قیام پاکستان کے بعد آئین سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اور قرارداد مقاصد پر  جو اعتراض اس زمانے میں کیئے گئے تھے  انیس سو تہتر میں ان کی رائے کو تسلیم کرکے اس بات کا ثبوت دیا گیا کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد  ایک بہترین سیاسی شعور رکھتے ہیں
اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے آئینی کمیٹی برائے اصلاحات کا جو ریکارڈ موجود ہے اس کے مطابق   اصلاحاتی کمیٹی نے  اقلیتوں کی مخصوص نشستیں جو  ان کا حق ہے اقلیتوں کا جائز حق بھی  خیرات کے طور پر غیر منتخب افراد کو دینے کے معاملے پر کوئی بحث ہی نہیں کی  گئی ہے اور صرف   سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے اس معاملے پر ایک تائیدی نوٹ لکھا اور مخصوص نشستوں کی مخالفت کی ہے۔اس کے علاوہ  اقلیتوں کا معاملہ  آئینی کمیٹی  برائے اصلاحات  کے سامنے زیربحث  ہی نہیں  آیا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آئینی کمیٹی برائے اصلاحات نے اقلیتوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں  اس سے یہ معاملہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے ۔
اس لیئے جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرنے کے بعد  اور آئین پاکستان میں  عوام کی جانب سے منتخب نمائیندوں کو  دی گئی پہلی ہدایت کو  ہی نظر انداز کردیا گیا کہ   "اس  ریاست کا اقتدار و اختیار منتخب نمائیندوں کے زریعے  استعمال کیا جائے گا "جس کے بعد مشرف دور میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر ووٹ کا جو حق ختم ہوا تھا اس غیر آئینی ترمیم کو بحال رکھا گیا ۔ جہاں مشرف دور کی خامیوں کو برقرار رکھا گیا وہاں مشرف دور میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ بلدیاتی اداروں میں  اقلیتوں کی  سیٹوں کا کوٹہ  مخصوص  کیا گیا اور بلدیاتی سطح پر اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر   بھی  جنرل بالغ رائے دہی کے ذریعے امیدوار منتخب کیئے گئے ۔ اس  طریقہ کار کو اقلیتوں نے پسند کیا تھا ۔ میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ  اس بات پر بھی بحث کی ضرورت ہے کہ ایسا کونسا جمہوری طریقہ متعارف کروایا جائے جس کے تحت اقلیتوں کے نمائیندے منتخب ہوکر سامنے آسکیں ۔  لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ سندھ اور پنجاب   نے مشترکہ طور پر ایک جیسی ترامیم کرکے بلدیاتی سطح پر بھی اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر ووٹ کا حق ختم کردیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی لیبر، خواتین اور یوتھ کی نشستوں پر بھی ووٹ کا حق ختم کردیا گیا ہے ایک طرف آئین پاکستان ہے جو غیر منتخب  افراد کو اقتدار اور اختیارات کے استعمال کے حوالے سے مکمل طور پر  اجنبی قرار دیتا ہے  تو دوسری طرف  پاکستانی سیاستدانوں کے غیر جمہوری رویئے ہیں  جوہر حال میں پاکستان کے اندر غیر جمہوری  اصولوں  کی فصل کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں ۔ ایسی  صورت میں  ہمارے پاس صرف دو ہی امیدیں باقی بچتی ہیں  ہماری پہلی امید  سول سوسائٹی ہے جس نے آئین پاکستان کی بحالی کی جنگ لڑنی ہے ،ہماری دوسری اور آخری امید سپریم کورٹ آف پاکستان ہے  جس  نے اب عدالتی نظرثانی کا حق بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا
میری ذاتی رائے یہ بھی ہے کہ  اقلیتوں اور عورتوں کی مخصوص نشستوں کو بھی ہر صورت میں جمہوری دھارے میں لایا جاسکتا ہے اس حوالے  سے دنیا بھر میں  بہت سے طریقے موجود ہیں جن کو استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہاں سب سے اہم ترین مسئلہ اقلیتوں کی نشستیں ہیں ۔ جن پر الیکشن کروائے ہی نہیں جارہے۔ جن پر الیکشن کا حق ختم کرکے غیرمنتخب افراد کو نمائیندگی دینے کے بعد ریاست کا اقتدار واختیار ان کے ہاتھ میں دے کر آئین پاکستان اور پاکستانی عوام  کی توہین کی گئی ہے ۔  قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں   آئین پاکستان اور پاکستانی عوام کی توہین کے بعد یہ سلسلہ اب  بلدیاتی اداروں تک  وسیع کردیا گیا ہے اور  غیر منتخب افراد کے زریعے  بلدیاتی اداروں کا نظام بھی  چلانے کی کوشش کی جائیگی ۔ ایک جمہوری دور میں جمہوریت کے خلاف اس  سے بڑی سازش کیا ہوگی کہ ایسی قانون سازی کی جارہی ہے جس کے زریعے جمہوری اداروں کی جڑوں کو ہی کھوکھلا کیا جارہا ہے دومختلف برسر اقتدار سیاسی جماعتوں  کی موجودگی میں  سندھ اور پنجاب میں  ایک جیسی ترامیم  آنا بھی  ایک سوالیہ نشان ہے کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہورہی کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے  مشترکہ طور پر غیر آئینی  اور غیر جمہوری رویئے کا اظہار کیا ہے   ریاست کا اقتدار و اختیار  غیر جمہوری طریقے سے  ایسے افراد کے حوالے کیا جارہا ہے جن کو بالغ حق رائے دہی کے ذریعے کسی نے منتخب ہی نہیں کیا جو آئین کی نظر میں اقتدار و اختیار چلانے کیلئے اجنبی ہیں ۔
مجھے ایک نواب زادے کا سچا واقعہ یاد آگیا۔ جب  ضیاء الحق کے بعد جمہوریت بحال ہوئی تو ایک  ریاست کا نواب زادہ  ایک جلسہ عام سے خطاب کررہا تھا اس نے بھرے جلسے میں عوام کو مخاطب ہوکر کہا کہ میرے مخالفین مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں  خاندانی  نواب ہوں  اسی لیئے مغرور ہوں ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نواب ابن نواب ہوں لیکن میں  ہر گز ہر گز مغرور نہیں ہوں  کیونکہ اگر میں مغرور ہوتا تو تم  جیسے ٹکے ٹکے کے لوگوں سے ووٹوں مانگنے کبھی نہیں آتا

اس  جلسہ عام کے بعد نواب صاحب کی الیکشن کے دوران ضمانت ہی ضبط ہوگئی  اور وہ اپنی خاندانی نشست سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ کیونکہ جن لوگوں کو وہ حقیر بے توقیر سمجھ رہا تھا ان لوگوں نے ووٹ کے زریعے اپنے جیسا ایک غریب نمائیندہ منتخب کرلیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی حق آج اقلیتیں بھی مانگ رہی ہیں 
Post a Comment