Saturday, 6 January 2018

خانہ بدوش ، زمین دار اور گورنر ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



خانہ بدوش ، زمین  دار  اور گورنر ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
ایک  دفعہ  کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت  کے سامنے  چوری کے تین  ملزمان  پیش کیئے گئے

بادشاہ نےچوری کے تینوں ملزمان سےپوچھاکہ کہ  تم  تینوں کے والدین   کیاکرتے ہیں

پہلے چورنےکہاکہ میرا باپ  خانہ بدوش ہے   اورمیں خودبھی خانہ بدوش  ہوں
دوسرے نے کہاکہ میں فلاں زمیندار کا بیٹا ہوں  اورفارغ ہوں کوئی کام  نہیں  کرتا ہوں
تیسرے نے  خاموشی اختیارکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بادشاہ نےکہاکہ جواب دووالدکیاکام  کرتے ہیں
تیسرے  چورنےکہاکہ  میرے والدصاحب صوبے کے گورنر تھے  یہ کہہ کر چور نے خاموشی اختیار کی

بادشاہ  نےحکم  دیا کہ   خانہ بدوش  کا ناک کاٹ دو
زمیندارکے بیٹے کو دوکوڑے مارو
اورگورنر کے بیٹے کو انتہائی غضب ناک نظروں سے دیکھادومنٹ کے بعدانتہائی غصے سےکہاکہ شرم نہیں آتی بے شرم گورنرکے بیٹے ہوکر چوری چکاری کرتے ہو   دور ہوجاؤ  میری نظروں کے سامنے سے باپ کی بھی عزت کا خیال نہیں

حکم کی تعمیل ہوئی
درباریوں نے بادشاہ سےکہاکہ  ایک ہی جرم کی تین الگ الگ سزابادشاہ نے کہاکہ  اس کا نتیجہ کل سامنے آجائے گا

دوسرے دن  خانہ  بدوش کا بیٹا جس کی ناک کاٹ دی گئی تھی چوک پر  کھڑا ناچ  رہا تھا
زمیندار کا بیٹا   شہر چھوڑ کرچلا گیا تھا  اورگورنر کے بیٹے سے بادشاہ کے دربار میں  ہونے والی   بے عزتی برداشت  نہ ہوسکی  اس نے شرم کے مارے   خودکشی کرلی
بہت سے  لوگ سزاؤں کے  اصلاحی نظریئے کے بارے میں نہیں جانتے اور بہت سے لوگ شاید یہ بھی نہیں  جانتے کہ   صرف ہتھکڑی لگانے کا احساس ہی  کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے
ایک ملزم کو جب پولیس گرفتارکرکے تھانے لاتی ہے جب اس کو لاک اپ میں رکھا جاتا ہے اور جب اس کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے  اور عدالت سے  جیل بھیجنے کیلئے جب اس کو قیدیوں کے مخصوص لاک اپ میں جمع کروایا جاتا ہے اور وہاں سے قیدیوں کے لیئے مخصوص گاڑی میں میں جب اس کو جیل لیجایا جاتا ہے  اور وہاں سے جب اس کی  آمد کا اندراج جیل میں کیا جاتا ہے تو یہ سب کے سب مراحل کتنے تکلیف دہ ہیں ان کو نہ تو محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس ذلت اور تکلیف کو کوئی محسوس کرسکتا ہے  کسی بھی باعزت شخص کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے یہ تمام مراحل ہی کافی ہیں  پولیس کی حراست میں جانے والے  باعزت افراد عمر بھر اس احساس ندامت سے باہر نہیں نکل پاتے اور دوران حراست ان کی عزت نفس کو جو ٹھیس پہنچی تھی وہ اس احساس سے بھی عمر بھر نہیں نکل سکتے
دنیا بھر میں قیدیوں کی اصلاح کیلئے  مختلف طریقے موجود ہیں جن میں سے ایک پروبیشن کا طریقہ بھی موجود ہے جو پاکستان میں رائج ہے  اور ایسے لوگ جو پہلی بار پولیس کی حراست میں جاتے ہیں  ان پر اگر ٹرائل کے دوران جرم ثابت ہوجائے اور سزا دوسال ہو  تو   عدالت سزا کے بعد ایسے شخص کو پروبیشن آفیسر کے حوالے کرسکتی ہے
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی جج کیلئے سب سے مشکل مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ  کسی  ملزم کے مقدمے کا فیصلہ کرتا ہے
ایک بار میں اپنے ایک دوست جج کو ملنے گیا  تو وہ ابھی عدالت میں ہی تھے میں انتظار کرنے لگا کہ وہ عدالت سے چیمبر جائیں  گے تو ملاقات ہوگی اسی دوران جج صاحب نے ایک مقدمے کا فیصلہ سنانے کیلئے ملزم کو بلایا ملزم ہتھکڑی میں تھا اور اس پر قتل کا الزام تھا  جج صاحب نے   ملزم کو چارج پڑھ کر سنایا کیس میں پیش ہونے والے گواہوں سے متعلق بتایا  بعد ازاں ملزم کو  الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی   جس  کے بعد وہ اپنے چیمبر میں چلے گئے  اسی دوران ملزم کی ماں   بہن اور بیوی نے  عدالت کے باہر رونا اور بین کرنا شروع کردیا ملزم کے  کم عمر بچوں نے بھی رونا شروع کردیا  پولیس افسر ملزم کو عدالت سے دور لے گیا  مجھے  پیش کار نے بتایا کہ صاحب کی طبیعت خراب ہے وہ آج نہیں مل سکتے  اسی دوران انہوں نے ڈرایئور کو بلایا  اور چند ہی منٹ میں وہ عدالت سے گھر کیلئے روانہ ہوگئے بعد ازاں تین دن کے بعد مجھے بلایا میں چیمبر میں ملنے گیا تو  انہوں نے بتایا کہ کسی کو سزا سنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ایک انسان کی بیوی بچے بوڑھے ماں باپ اور جوانی ہمارے سامنے ہوتی ہے   جرم ثابت ہونے کے باوجود بھی دل نہیں چاہتا کہ کسی جیتے جاگتے انسان کی جوانی بربادکردیں لیکن   ہماری مجبوری ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ مجرم کو کیفرکردار تک پہنچائیں    اور ہم ملزمان کو کیفرکردار تک  پہنچاتے ہیں یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ڈیوٹی بھی ہے  لیکن سزا دینے کے بعد  کے بھی مراحل ہیں ملزمان کی آنکھوں کی حسرت  اس کی  برباد جوانی  ان کے بیوی بچوں  کی امیدیں  سب ٹوٹ جاتی ہیں  اس لیئے افسوس ضرور ہوتا ہے  یہی  وجہ تھی کہ ملزم کو سزا سنانے کے بعد  میرے لیئے ممکن نہ رہا کہ میں عدالت میں موجود رہتا اس لیئے اس دن جلدی گھر چلاگیا  ایسا نہیں ہے کہ ملزمان سے مجھے کوئی ہمدردی ہے  لیکن ایک خاص مقام پر آکر ہمیں افسوس ضرور ہوتا ہے اس لیئے ہم کئی بار یہ سوچتے ہیں کہ کسی کی جوانی برباد نہ ہو اور جن کی سزا کم ہو  ان کو ہم  پروبیشن پررہا کردیتے ہیں
دنیا بھر میں سزاؤں کے حوالے سے بہت سے نظریات موجود ہیں  لیکن پوری دنیا میں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ سزا کا مقصد اصلاح ہو اور ملزم جیل سے رہا ہوکر  جب دوبارہ معاشرے میں واپس آئے تو  ایک اچھی زندگی بسر کرے اور معاشرے کیلئے ایک اچھا فرد ثابت ہو
گزشتہ دنوں  یہ خبریں  کراچی سے آنا شروع ہوئیں کہ  ججز نے انوکھی سزائیں  سنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت ملزم کو یہ سزا دی گئی کہ وہ ہرہفتے روڈ کے کنارے مصروف شاہراہ پر پلے کارڈ پکڑ کر کھڑا ہوگا جس  پر ٹریفک قوانین     کی پابندی کے متعلق  لکھا ہوگا اسی طرح  بعض  ملزمان کو یہ بھی سزائیں دی گئیں کہ وہ کسی اسپتال   یا مسجد کی صفائی کریں اور اس طرح اپنی سزا معاشرے کے اندر رہ کر ہی مکمل کریں  سندھ ہایئکورٹ نے ان سزاؤں کا نوٹس لیا اور ججز کو اس قسم کی سزائیں سنانے سے روک دیا ہے کیونکہ  پاکستان میں ابھی سماجی سزاؤں کے حوالے   سے  ابھی  قانون سازی نہیں ہوئی ہے
ماضی میں ایک کھلی جیل کا  تصور بھی رہا ہے بدین کے مقام پر   ایک بہت بڑی اراضی  جیل کی تھی جہاں ملزمان اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے اور سزایافتہ  ملزمان  کھیتی باڑی کرکے وہ اناج اگا کر  جیل حکام کو بھجوادیا کرتے تھے   اس طرح وہ اپنی سزا مکمل کیا کرتے تھے   اس اراضی کے اردگرد کوئی باڑ بھی نہیں تھی اس کے باوجود ملزمان اپنی سزا مکمل کرکے ہی جاتے تھے دوسری طرف  اس طرح جیل کی گندم اور سبزی وغیرہ کی ضروریات بھی پوری ہوتی تھیں  اب یہ سلسلہ مکمل طورپر ختم ہوچکا ہے
ضرورت اس عمل کی ہے  صوبے  سماجی سزاؤں کے حوالے سے ملزمان کی اصلاح کیلئے قانون سازی کریں تاکہ  ملزمان  کی سزاکے دوران اصلاح بھی ہو اور ملزمان معاشرے کے ایک مفید فرد کے طورپر اپنی زندگی بھی گزارسکیں 
اس طرح جیلوں میں قیدیوں کا دباؤ بھی کم ہوگا اور  فی کس قیدی اخراجات کی مد میں بھی بچت ہوگی دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جیلیں  ملزمان کیلئے جرائم کے تربیتی ادارے ثابت ہورہی ہیں اور اکثر ملزمان جیل جا کر عادی مجرم بن کرہی نکلتے ہیں   اس لیئے  قیدیوں کی اصلاح کیلئے   ایسی قانون سازی کی ضرورت  ہے جس کے زریعے ملزمان کو سماجی قسم کی سزائیں سناکر  قیدیوں کی اصلاح کی جاسکے  


Post a Comment