Wednesday, 10 January 2018

میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان

انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  
جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو
اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو
جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...

یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  
بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ
حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا 
بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھے
میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہا
اکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھا
شعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا
چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا
آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں
یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا "
Post a Comment