Friday, 19 September 2014

پرانے شکاری ایک بار پھر نیا مگر مضبوط ریشمی جال لیکر آچکے ہیں



جو تبدیلی بتدریج  آتی وہی مستقل ہوتی ہے اور راتوں رات جو انقلاب آتے ہیں ایسے انقلاب اپنے ہی بچوں کو
 کھاجاتے ہیں  سب سے پہلے تو ان دوستوں کو یہ بتادوں  جو یہ کہتے ہیں کہ کرا چی بار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یہ بات درست نہیں ہے گزشتہ سات برس کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن  میں بے شمار تبدیلیاں آچکی ہیں اور قیاد ت نوجوان وکلاء کے پاس ہے
کراچی بار کی پارکنگ سیکورٹی رسک کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے  جس کو کراچی بار کسی حد تک حل کرچکی ہے   اور کیونکہ یہ تبدیلی بھی چونکہ  بتدریج آئی ہے اس لیئے محسوس نہیں ہوتی
کراچی بار کی  کتابوں سے محروم سابق لایئبریری ایک چھوٹے سے کمرے میں موجود تھی جس میں زیادہ سے زیادہ تیس وکلاء آتے تھے  اس کی جگہ ایک عظیم الشان لایئبریری لے چکی ہے جو جدید ترین کمپیوٹر لیب سمیت ہرقسم کی سہولیات سے آراستہ ہے  اور گنجائیش بھی بہت زیادہ ہے پہلے ریفرنس بکس کا مطالعہ کرنے ہایئکورٹ جانا پڑتا تھا  جبکہ آج کراچی بار کی جدید ترین لایئبریری میں ہرقسم کی ریفرنس بک موجود ہے اور کراچی بار کی لایئبریری   اس وقت ہایئکورٹ بار ایسوسی ایشن کی لایئبریری سے کہیں زیادہ اپ ڈیٹ اور جدید ترین  ہے

کراچی بار نے اس سال کسی حدتک جعلسازی کا خاتمہ کروایا اور ایک اہم کردار ابھی تک جیل میں موجود ہے
کراچی بار کی نوجوان قیادت کی زیرنگرانی جدید سہولیات سے آراستہ پارکنگ زون کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے
کورٹس میں لفٹس کی تنصیب کا منصوبہ زیرغور ہے اس کے علاوہ ایک جدید ترین ویریفیکیشن سینٹر کی تعمیر کاکام بھی جاری ہے یہ وہ اقدامات ہیں جو کراچی بار نے گزشتہ چند سال کے دوران کیئے ہیں اگرچہ کارکردگی مثالی ہر گز نہیں لیکن کفن چوروں کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر ہے
 جبکہ سینئرز مافیا نے 1980 سے لیکر صرف دو برج بنائے جن کے زریعے  دومختلف اضلاع  کی عمارات کو آپس میں ملادیا گیا تھا اس  کے علاوہ ان لوگوں نے کراچی بار میں ٹیڈی پائی کا کام نہیں کیا صرف اپنے ہی مفادات حاصل کیئےبلکہ  کفن چوروں نے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں آن لائن عدلیہ کو ناکام بنانے کیلئے سیشن جج کا ہی ٹرانسفر کرواکر عدلیہ کو کرپشن سے پاک کرنے کا منصوبہ ناکام بنادیا
آج سے پانچ سال پہلے سندھ بار کونسل کے الیکشن میں اسی قسم کے  کھوکھلے دعوے ہوئے تھے لیکن منتخب ہونے کے بعد وہ سب وعدے بھلا دیئے گئے منتخب ہونے والے نئے ممبران بھی اسی رنگ میں رنگ گئے کئی باروائس چیئر مین کے انتخاب  میں  بولی لگا کرووٹس بیچ دیئے گئے
چند ممبران تو ایسے بے وفا نکلے کہ منتخب ہونے کے بعد پورے پانچ سال بعد انہیں کراچی بار کی یاد کبھی خواب میں بھی نہ آئی
شیریں جناح کالونی کے پلاٹ پر اسپتال بنانے کے دعوے جھوٹ اور فریب ثابت ہوئے اندرون ملک سے کراچی آنے والے وکلاء کیلئے ہاسٹل کی تعمیر کا وعدہ مکر اورجھوٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا کوئی ہاسٹل تعمیر نہیں ہوا نہ ہوگا نہ یہ کفن چور ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ ان کو کوئی ضرورت ہے
سندھ بار کونسل صرف اور صرف لائیسنس جاری کرنے کی مشین ہے اس کے علاوہ اس کا دوسرا کوئی مقصد ہمیں سمجھ نہیں آیا سندھ کے مقابلے میں پنجاب کے وکلاء کو اپنی  بہتر قیادت کی وجہ سے ہاسٹل سمیت بے شمار سہولیات حاصل ہیں  جن کا سندھ کے وکلاء تصور بھی نہیں کرسکتے
آج پانچ سال بعد پھر ایک موقع مل رہا ہے اگر فرصت مل جائے تو تھوڑا سا ریکارڈ دیکھ لیں کہ کراچی سے منتخب ہونے والے ممبران کب سے منتخب ہورہے ہیں اور ان کے پاس کیا پروگرام ہے یہ کیا خدمت سرانجام دے چکے ہیں اور ان کے پاس مستقبل کا کیا پلان ہے
حقیقت یہ ہے کہ  مستقبل کے کسی بھی پلان سے محروم سابقہ قیادت ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے اب سوال یہ ہے کہ وکلاء کیا کریں  کس کو ووٹ دیں میرے خیال میں اس کا آسان حل یہ ہے کہ سابقین کو مسترد کردیا جائے اس لیئے کہ یہ وہ آزمائے ہوئے لوگ ہیں جن کے پاس سرے سے کوئی پروگرام موجود ہی نہیں ہے یہ نام نہاد وکلاء رہنما
بڑے فخر اور حقارت سے کہہ دیتے ہیں کہ وکیلوں کو دو بڑے کھانے کھلادیں گے ایک بھینس کے پائے کی پارٹی کھلادیں گے جس کے بعد دعوت میں آئے افراد جب پائے کی پلیٹ منہ سے لگاکر  غٹا غٹ گھونٹ بھرنے کے بعد مونچھوں پر ایک تاؤ دیں گے تو پھر ان سے ووٹ لینا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اسی طرح بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وکلاء کو سال میں ایک بار کورٹ کی ڈائری لائن  میں لگاکر اور ان کے لائیسنس کی کاپی وصول کرنے کے بعد جب مفت   ڈائری دی  جائے گی تو ووٹ پکا بدقسمتی دیکھیں کہ  سوروپے والی مفت ڈائری لینے والوں کی ایک لمبی قطار ہوتی ہے جو ہاتھ میں اپنے لائیسنس کی فوٹو کاپی لہر ا کرسوروپے کی ڈائری وصول کرتے ہیں سوچیں کہ سوروپے کی اوقات ہی کیا ہے  کیا ان لوگوں سےڈائری دینے والوں اور لینے والوں سےہم تبدیلی کی کوئی امید رکھ سکتے ہیں اللہ کا شکر کہ ان قطاروں میں نوجوان وکلاء نہیں ہوتے اور نہ ہی نوجوان وکلاء پائے کی پلیٹوں کو منہ سے لگا کر غٹاغٹ گھونٹ بھرکرکسی کے ووٹ پکے کرتے ہیں  
سوال یہ ہے اس وقت ان لوگوں کے پا س کوئی پروگرام موجود نہیں جو کئی بار پہلے بھی منتخب ہوچکے ہیں  وہ صرف ممبر بننا چاہتے ہیں اور ممبر بن کر سندھ بارکونسل کے وسائل کو ہڑپ کرنے کا گھناؤنا کاروبار دوبارہ سے  جاری رکھنا چاہتے ہیں
اس لیئے اس سال سندھ بار کونسل کا پہلا اصول یہ یاد رکھیں کہ دوسری بار الیکشن لڑنے والوں کو واپسی کا محفوظ راستہ دکھانا ہے اور سابق قیادت جو ناسور بن چکی ہے   اس گھاؤ سے جان چھڑانی ہے
نوجوان وکلاء کو موقع ملنا چاہیئے جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں  جو تعلیم یافتہ ہیں  جن  کے پاس کچھ کرنے کی خواہش ہے جن کے پاس کوئی پروگرام ہے
پانچ سال بعد احتساب کا وقت قریب آچکا ہے اور ظلمت شب کے اندھیروں میں افراتفری ہے اگر پھر کسی نہاری بیچنے والے باورچی کسی قصائ  کسی کے ضعیف گھر داماد کو منتخب کرنے کی حماقت کی گئی تو بار کونسل کے حالات ایسے ہی رہیں گے
آئیے   قائداعظم جیسے کسی  وکیل کو اپنا آئیڈیل بنا کر یہ عہد کریں کے  کسی پڑھے لکھے سلجھے  ہوے وکیل کو سندھ بار کونسل کا ممبر منتخب کریں گے
نوجوان وکلاء کو سوروپے کی مفت ملنے والی ڈائری پر لعنت بھیجنی ہوگی اور ہر قسم کے ڈنر ز کا مکمل بایئکاٹ کرنا ہوگا ایک وکیل کا ووٹ اتنا سستا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک بریانی کی پلیٹ پر بک جائے


پرانے شکاری ایک بار پھر نیا مگر مضبوط  ریشمی جال لیکر آچکے ہیں

Post a Comment