Thursday, 18 September 2014

عدلیہ کے مائینڈ سیٹ کی تبدیلی بھی ضروری ہے



ایک عام ااور غریب آدمی کی زندگی میں یہ تبدیلی آرہی ہے کہ وہ جب اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں تو اب حق مہربتیس روپے بارہ آنے حق مہر شرعی مقرر نہیں کیا جاتا اور اس کے ساتھ ساتھ لڑکی کے قانونی حقوق کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اب ایسے نکاح نامے شازونادر ہی نظر آتے ہیں  جن میں حق مہر بتیس روپے لکھا ہو   لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ شادی جیسے مقدس بندھن کو بھی ہمارے معاشرے میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یہ سوچ موجود ہے کہ ہم جب چاہیں گے جس وقت چاہیں گے کچے دھاگے سے بھی اس کمزور بندھن کو توڑ کر پھینک دیں گے ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا  ہر سطح  کے علاوہ دور دراز علاقوں اور کچی آبادیوں میں یہ سوچ  اس لیئے موجود ہے   کہ رشتوں کو مذاق بنانے والے بھی جانتے ہیں کہ قانونی کاروائی ایک مہنگا سودا ہے  اس لیئے قانونی حقوق محفوظ ہونے کے باوجود عورت کے پاس جب کھانے کے پیسے بھی نہیں ہونگے  اور عدالت آنے جانے کے اخراجات  بھی نہیں ہونگے تو وہ قانونی کاروائی  خاک کرے گی اور ایک پروفیشنل ایڈوکیٹ ایک خاص حد تک ہی کسی غریب کی قانونی امداد کرسکتا ہے ایسی صورتحال میں دستگیر لیگل ایڈ سینٹر ظلم وتشدد کا شکار خواتین کو مفت قانونی امداد فراہم کرکے ان کے قانونی حقوق کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر ان خواتین کو جن کے پاس وسائل بالکل بھی نہیں ہوتے
دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں کراچی کے انتہائی دور دراز علاقے سے آنے والی خواتین کے ساتھ شادی کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں ان کو سن  کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے  معاشرے میں شادی  جیسے مقدس بندھن کو بھی سنجیدہ نہیں لیا جاتا کوئی بھی شخص کسی بھی وقت کسی لڑکی  سے شادی کرنے کے بعد جب اس سے دل بھر جائے تو اس کو ماں باپ کے دروازے  کے سامنے کھڑا کرکے چلاجاتا ہےیا دھکے دیکر نکال دیتا ہے  
سوال یہ ہے کہ شادی جیسے مقدس بندھن کو سنجیدہ نہ لینے کی کیا وجوہات ہیں
بے شمار وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ  قانون کا خوف نہ ہونا اور لوگوں کا عدالت کے اخراجات برداشت نہ کرپانا ہے اور ایک زوال پزیر معاشرے کی عدلیہ کا وہ متحرک کردار ادا نہ کرپانا جس کی سوسائٹی عدلیہ سے توقع رکھتی ہے
 گزشتہ دنوں ایک کم سن لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ دستگیر لیگل ایڈ سینٹر میں آئی اس کی عمر صرف  سترہ سال تھی اور وہ ایک بچے کی ماں تھی اس کے ساتھ اس کی والدہ بھی تھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے اپنی بیٹی کی شادی صرف پندرہ سال کی عمر میں کردی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ لڑکی کا باپ بیمار تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں اپنی زندگی میں ہی بیٹی کی شادی کردوں  یہی وجہ تھی کہ  ایک علاقے میں رشتے کرانے والی عورت کے زریعے انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کردی تھی  بعد ازاں یہ رشتہ کامیاب نہ ہوا لڑکے نے ایک سال تک بیوی کو ساتھ رکھا اور جب  اس کی کم سن اہلیہ امید سے ہوگئی تو ایک دن بغیر کچھ بتائے وہ غائب ہوگیا بچے کی پیدائش گھر میں ہی ہوئی اور ہم نہ جانے کس طرح یہ سوچتے ہوئے برداشت کریں گے کہ ایک  سولہ سال کی کمسن بچی نے لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں  بچے کو جنم دیا ہوگا مجھے تو یہ سوچ کرہی صدمہ ہوا کہ ایک کمسن بچی پر کیسی قیامت گزرگئی ہوگی اور نہ جانے وہ کیسے موت کے منہ سے بچ کر نکلی ہوگی
اس کی ماں نے بتایا کہ ہم زچگی کے اخراجات برداشت نہیں  کرسکتے تھے اور لڑکی کی جان کو شدید خطرہ تھا اللہ نے نئی زندگی دی
لیکن اس سارے معاملے میں ایک قانونی پہلو بھی ہے  جس کی وجہ سے اس لڑکے واپس آنا پڑا اور وہ یہ تھا کہ شادی کے وقت جہاں والدین نے مجرمانہ طور پر ایک پندرہ سال کی بچی کی شادی جلد بازی میں کردی وہیں لڑکی کی والدہ نے اپنے علاقے میں موجود ایک سینئر ایڈوکیٹ سے  نکاح نامے سے متعلق مشورہ بھی لیا  جن کے مشورے کے مطابق نکاح نامے کا کوئی بھی خانہ خالی نہیں ہے اور حق مہر میں دوایکڑ زرعی زمین بھی لکھوائی گئی ہے اس کے باوجود وہ لڑکا جس کی نیت ہی  فراڈ اوردھوکہ دینے کی تھی اس نے نکاح کے وقت اپنا نام ہی غلط لکھوایا  اور کہا کہ میرا شناختی کارڈ گم گیا ہے  جس پر نکاح خوان نے نکاح نامے پر دستخط کی بجائے لڑکے سے انگوٹھا لگوالیا جس کی وجہ سے اس کے خلاف اب دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی بن سکتا ہے
بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد اس لڑکی کا شوہر دوبارہ واپس آگیا اور ایک کمرے کا مکان کرائے پر لیکر رہنے لگا چند روز بعد دوبارہ تنازعات شروع ہوگئے اسی دوران اس کے شوہر نے چند کاغزات تیار کروالیے اور وہ کاغزات اپنی بیوی کے پاس لایا کہ یہاں دستخط کردو کہ میں حق مہر کی دوایکڑ زمین اپنی رضامندی سے معاف کرہی ہوں  جس پر لڑکی نے بتایا کہ وہ اپنی ماں سے پوچھ کر  دستخط کرے گی جس کے بعد تکرار بڑھ گئی اس کے شوہر نے مارنے کیلئے ڈنڈا اٹھا لیا جس کے اس لڑکی نے اپنے چند ماہ کے بچے کو اٹھایا اور اپنی جان بچا کر پڑوسیوں کے گھر میں گھس گئی  اس کا شوہر اس کو تلاش کرتا رہا لیکن اس کو یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس کی بیوی کس کے گھر میں گھسی ہے  کئی گھنٹے گزرنے کے بعد  جب اس کا شوہر چلا گیا تو پڑوسی کی رحم دل بیوی نے اس کی ماں کو اطلاع دی جس کے بعد اس کی والدہ لڑکی کو اپنے گھر بحفاظت لے گئی
اس پورے واقعے میں ہمیں والدین کی غفلت کے بےشمار پہلو نظر آتے ہیں جنہوں نے   مجرمانہ طور پر اپنی  بیٹی کی شادی کم عمری میں ہی طے کی   جنہوں نے اپنی بیٹی کی خود ہی قدر نہیں کی لیکن ان کے پاس ایک قانونی  دستاویز موجود ہے جس کے مطابق  اس لڑکی کے بہت سے حقوق اس لڑکے نے ادا کرنے ہیں  اس کو حق مہر کے پچاس ہزار روپے اداکرنے ہیں   اس کو دو ایکڑ زرعی زمین دینی ہے   انشاءاللہ ہم عدالت میں جائیں گے اور ایک ایسے ظالم کا تعاقب ضرور کریں گے جس نے نکاح کو مذاق سمجھا  شادی کے مقدس بندھن کے زریعے ایک کم عمر لڑکی کی زندگی برباد کردی
ہم سندھ ہایئکورٹ کے شکر گزار ہیں  جنہوں نے  گزشتہ دنوں ہماری  چند درخواستوں پرسخت ترین نوٹس لیئے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے  عدالت کو چاہیئے کہ فیملی مقدمات کی سماعت کو تیزرفتاری سے نمٹانے کی کوشش کرے کورٹ کی "رٹ" نظر آئے کیونکہ اکثر فیملی مقدمات صرف اس وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں کہ فریقین تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کو انصاف نہیں ملتا عدلیہ کو اب کم ازکم فیملی مقدمات میں آہنی ہاتھ رکھنا ہوگا خصوصی طور پر وہ علاقے جہاں کچی آبادیاں موجود ہیں وہاں کیلئے خصوصی اقدامات کرنے ہونگے اب قوانین کی بجائے عدلیہ کے مائینڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہوچکی ہے رشتوں کو مذاق سمجھنے والوں کو  قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعدجب تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں  دھکیلا جائے گا اس وقت تک مسائل موجود رہیں گے

ہم اس ضابطہ اخلاق کے پابند ہیں جس کے تحت   ہم کسی بھی صورت میں تشدد کا شکار افراد  کو اپنی یا اپنے ادارے کی تشہر  اور مفاد کیلئے استعمال نہیں  کریں  گے اس لیئے حالات و واقعات کو تبدیل کردیا جاتا ہے


Post a Comment