Monday, 1 December 2014

کیا یہ ہتھوڑی کیل ٹھونکنے کے کام آئے گی

ایک بہت ہی خوبصورت باغ میں لوگ قطار کی صورت میں جارہے تھے باغ کے باہر ایک بددماغ قسم کا چوکیدار بھی کھڑا تھا ایک معزز ساشخص وہاں سے گزرا اس نے چوکیدار سے پوچھا کیا میں اندر جاسکتا ہوں کیا مجھے اندر جانے کی اجازت ہے تو بددماغ چوکیدار نے کہا نہیں چپ کرکے یہاں  کھڑا ہوجا وہ بھی کھڑا ہوگیا کافی دیر کھڑا رہا  اور لوگ اس کے سامنے سے گزرتے رہے جب کہ وہ بیوقوفوں کی طرح دیکھتا رہا اسی دوران  اس نے چوکیدار سے کہا کہ آپ ان لوگوں کو کیوں نہیں روک رہے توبددماغ چوکیدار نے جواب دیا کہ کیونکہ ان میں سے کسی نے یہ فضول سوال نہیں کیا کہ وہ باغ کے اندر جاسکتا ہے یا نہیں اپنی طاقت یا اختیارات کے بارے میں سوال کرنا دنیا کا فضول ترین سوال ہے
طاقت دماغ کے اندر موجود ہوتی ہے کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی   اب یہ فضول سا سوال لگتا ہے کہ کہ
 کہاں لکھا ہے کہ مجسٹریٹ  کس حد تک  ایک تفتیشی افسر کے سامنے بااختیار ہے اگرچہ اس فضول  سوال کا قانونی  جواب بھی موجود ہے لیکن
جج ہونا ہی ایک نفسیاتی طاقت ہے۔ جج کا مطلب ہی جج ہونا ہے ایک اپنے اختیارات کا تعین کسی کتاب کے ذریعے کیسے کرسکتا ہے کل تک چند عدالتی اختیارات انتظامیہ کے پاس بھی تھے ڈپٹی کمشنر کیا آپ سوچ سکتے ہیں کے ڈپٹی کمشنر کیسے مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتا ہوگا کمشنر یا ڈپٹی کمشنر اسقدر بے لگام تھے کہ ہماری سوچ سے بڑھ کر کیونکہ ان کے پاس لیڈرشپ بھی تھی
پورا پاکستان جانتا ہے کہ وکیل کی طاقت کیا ہے یہ سب باتیں کسی بھی کتاب میں لکھی ہوئی نہیں ہیں  بلکہ استعمال کرتے ہیں جو انہوں نے خود ہی طے کرلیا یہی وہ نفسیاتی طاقت تھی جب مشرف نے ایک خود ساختہ سپریم کورٹ کے زریعے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کی تو منیر ملک  نے ایک تاریخی بیان دیا کہ "ہم سپریم کورٹ کو آگ لگا دیں گے"  یہ وہ طاقت تھی جو منیر ملک صاحب کے دماغ کے اندر ہی موجود تھی اور پاکستان کے ذہین ترین وکلاء میں سے ایک ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی  طاقت کا اعلان کیا  تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا اسی طرح وہ وکیل جو خود کو وکیل بھی سمجھتا ہے یہاں دیہاڑی دار "دلال" مراد نہیں  ہیں اور یہاں کالا کوٹ لٹکا کر گھومنے والے بھی نہیں ہیں وہ وکیل  جو خود کو وکیل بھی سمجھتا ہے عدلیہ کے اندر کس کی ہمت ہے جو اس کو ایک لفظ  بھی سنا سکیں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا وکیل اپنی شان کے ساتھ کورٹ روم میں آتا ہے اپنے ان اختیارات کے ساتھ اپنی اس طاقت کے ساتھ جس کا تعین اس نے خود ہی کرلیا ہے میرے ایک دوست نے گزشتہ سال لاہور ہایئکورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تو جسٹس صاحب کو پٹیشن ڈسمس کرنے کا بڑا شوق تھا وہ ساری پٹیشنز سرسری سن کر ڈسمس کرتے جارہے تھے ان کا حشر بھی یہی ہوا تو انہوں نے آگے سے کہا  ڈسمس۔۔۔ڈسمس میرے سے پہلے کی دس پٹیشنز بھی ڈسمس اور اگلی دس پٹیشنز بھی ڈسمس ایسا کر کورٹ کے باہر ایک بورڈ لکھ کے لگا دے کہ ڈسمس پتا نہیں تمہیں جسٹس کس نے لگایا ہے یہ سن کر پٹیشن ڈسمس کرنے کے شوقین جسٹس نے حکم دیا کہ "اریسٹ ہم" اسے گرفتار کرلو تو اس  نے اس کو کھڑے کھڑے جواب دیا "اریسٹ ہم" کا بچہ مجھے گرفتار کرنے کیلئے تمہیں عدالت سینٹرل جیل کے اندر لگانی ہوگی خیر اب اتنی ہمت کس میں ہے کہ وکیل کو کورٹ  روم سے گرفتار کرسکے لیکن اس جسٹس کو یہ سبق ضرور مل گیا کہ اپنی طاقت کے ساتھ سامنے والے کی طاقت کا احترام بھی ضروری ہے بدمعاشی کی اجازت تو کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر کسی کو نہیں دی جاسکتی چاہے وہ کوئی جسٹس ہو،سیشن جج ہو یا مجسٹریٹ کراچی میں بعض جسٹس جس طرح کاروائی چلاتے ہیں اس طرح کے رویئے کی اجازت پنجاب میں نہیں دی جاسکتی  اور کراچی میں ایسا کیوں ہوتا ہے  اس کے پیچھے بار کی کمزوری کے علاوہ بھی ایک وجہ ہے یعنی مالی معاملات ہیں اسی طرح پنجاب بھر میں بار ایسوسی ایشنزنے اپنی  "رٹ" قائم کی ہے وہ کسی کتاب میں نہیں لکھی ہوئی ہے پنجاب میں مجسٹریٹ پولیس کی رپورٹ پر تفصیلی  حکم نامہ جاری کرنے کا ہر صورت میں پابندہے وہاں ایک انگریزی کا لفظ لکھ کر بے قصوروں اور بے گناہوں کو رگڑنے کی اجازت ہر گز نہیں ہے اس  کے پیچھے بھی بار کی طاقت ہے
ولیس ایک طاقت ہے  لیکن وہ ایک مکار طاقت ہے  وہ مکاری سے عیاری سے اپنی طاقت کو استعمال کرتی ہے اور استعمال کرنا خوب جانتی  بھی ہے پولیس ایک بے رحم طاقت  ہے
پولیس نے بھی اپنی طاقت کا تعین خود ہی کرلیا ہے  اور چالاکی اور مکاری سے اپنے افسر کو اپنا ذہنی ماتحت بنالیا ہے وہ شہریوں کو بدمعاشی سے تنگ کرتے ہیں جبکہ عدالت کو مکاری سے  اپنا غلام بناتے ہیں اپنے ذہنی غلام کو دس سیلوٹ مار کر یقین دلاتے ہیں کہ ہم ماتحت آپ کے ہیں لیکن کام آپ سے اپنی مرضی کا ہی کروائیں گے مکاری سے جھک کر وہ یقین دلادیتے ہیں کہ  ہم آپ کے ماتحت ہیں لیکن  ان کے دماغ میں جو سوفٹ ویئر فٹ کردیا گیا ہے اس کے مطابق انہوں نے خودہی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ منصف کی سیٹ پر جو شخص بیٹھا ہوا ہے وہ ان کا ذہنی ماتحت ہے اور اس کے دل کو خوش کرنے کیلئے دس سیلوٹ ٹھوکنے پڑجائیں
 وہ  اس تابعداری کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں  اگر وہ شور مچاکر دل کو خوش کرلیتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ان کے دماغ کے اندر جو طاقت موجود ہے وہ اپنے ماتحت سے کام  اپنی مرضی کا ہی کرواتے ہیں  لیکن کیونکہ پولیس ایک مکار طاقت ہے اس لیئے وہ پوری مکاری اور عیاری سے  ساب کو یقین دلاکررکھتی ہے کہ ہم آپ کے خادم آپ کے نوکر چاکر ایک اشارہ تو کریں لیکن  مرضی میری  ہی ہوگی
طاقت اور اختیارات کا تعین دنیا کی کوئی طاقت نہیں کرسکتی دنیا کے سب آئین طاقت اور اختیار کے سامنے بے بس ہیں
اب وزیراعظم کو ہی دیکھ لیں یہ بیچارہ آرمی چیف کا تقرر کرتا ہے  اور بظاہر چیف  وزیراعظم کے ماتحت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں  کیونکہ آرمی چیف بھی  از خود اپنی  طاقت اور اختیارات کا تعین کرچکا ہےاسی طرح ڈی جی  "آئی ایس آئی" بظاہر تو آرمی چیف کے ماتحت ہے لیکن  حقیقت یہ ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے از خود ہی اپنی طاقت اور اختیارات  کا تعین کرلیا ہے مشرف کا انجام سب کے سامنے ہے کیونکہ ساری خفیہ طاقتیں افتخار چوہدری کے ساتھ تھیں اور آرمی چیف بے چارگی سے صرف تماشہ ہی دیکھتا رہا
طاقت اور اختیارات کا تعین تو دماغ طے کرتا ہے
طاقت ۔۔طاقت  کے استعمال سے ہی آتی ہے مجسٹریٹ جب کسی سرکش پولیس افسر کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہیں تو پھر وہ منسوخ کیوں ہوجاتے ہیں  کان سے پکڑ کر پولیس افسران کو صرف ایک ہفتے کیلئے جیل بھیج دیں تو سارے کس بل ایک منٹ میں نکل جائیں گے ذیادہ نہیں دس سال پرانی بات ہے کراچی کے دو سیشن ججز نے جب دیکھا  تھا کہ پولیس بے لگام ہوچکی ہے اور ایس ایچ او بھی بات نہیں مانتا تو ایک واقعہ میں   پولیس  کے افسران کو جب ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیجا تو سب کے سب ٹھیک ہوگئے تھے اسی طرح صرف ایک رپورٹ وقت پر نہ آنے پر وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے تھے  ایس ایچ اوز روزانہ ہی لائن لگا کر کورٹ کے باہر کھڑے ہوتے تھے اور ان کے خلاف کیسز بھی ان کو پورا دن بیٹھا کر  اور پوری اکڑخانی نکلوا کر سنے جاتے تھے آج ہر گز ایسا نہیں کہ پولیس شریف ہوگئی یا ان کے خلاف کراچی میں شکایات ختم ہوگئی ہیں بلکہ وہ سیشن ججز باقی نہ رہے آج تو جج سوال کرتے ہیں کہ کیا میں یہ کرسکتا  
ہوں کیا یہ میرا اختیار ہے ایک جج یہ سوال کرے اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا
کل ایک جج یہ سوال بھی کرسکتا ہے کہ یہ جج کی ٹیبل پر جو ہتھوڑی پڑی ہوتی ہے کیا وہ کیل ٹھونکنے کیلئے رکھی ہے یایہ اخروٹ توڑنے کے کام آئے گی


Post a Comment