Thursday, 22 January 2015

جیوری پاکستان کے عدالتی نظام کی فعالیت کیلئے امید کی کرن تحریر صفی الدین اعوان



ہمارے بہت سے دوست یہ کہتے ہیں کہ  پاکستان میں جیوری کی بات کرنا حقیقت پسندی نہیں ہے حالانکہ جیوری کا تصور تو زمانہ قبل مسیح میں بھی ملتا ہے

جیوری بنیادی طور پر شہریوں کی ایک جماعت ہوتی ہے جوکمرہ عدالت میں بیٹھ کرحقائق کی روشنی میں شہادت کی بنیاد پر کسی واقعے کی رونما ہونے کے بعدکسی فوجداری کیس کی سماعت کا تعین کرتا ہےشہریوں کی جماعت حقائق کا تعین کرتی ہے جبکہ قانونی پوزیشن کا تعین جج کرتا ہےکیا

یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان میں ستانوے فیصد ملزمان ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر باعزت بری ہوجاتے ہیں کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ  موجودہ نظام میں پولیس تفتیش کے دوران حقائق کا تعین نہیں کرتی  بلکہ تفتیش کے زریعے صرف شہریوں کو پریشان کیا جاتا ہے 

کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایف آئی آر خوف کی علامت ضرور ہے انصاف کی علامت نہیں ہے اور یہی خوف ناانصافی کو جنم دیتا ہےبہت سے دوستوں کا یہ اعتراض درست نہیں کہ جیوری امریکہ کی عدالتوں کیلئے ہی موزوں ہےشہریوں کی جماعت کا تصور ہردور میں رہا ہے پنچایتی نظام بھی اسی سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے اسی طرح جرگہ سسٹم  کے زریعے بھی شہریوں کے کردار کا تعین کیا جاتا ہےبلدیاتی نظام میں مصالحتی انجمن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن یہ تمام کڑیاں  پاکستان میں عدالت کے کمرے سے باہر ہی موجود ہیں ہم نے پنچایتی نظام کا بھی میڈیا ٹرائل کیا اور صدیوں پرانے جرگہ کا بھی اتنا میڈیا ٹرائل کیا کہ جرگہ کے لفظ سے ہی خوف آتا ہے  دنیا بھر میں متحرک شہری اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں

 پاکستان میں نہ جانے کیوں وکلاء مسائل کے متبادل حل کی  بھی  مخالفت کرتے ہیں  حالانکہ فوجداری عدالت  جیوری کے بغیر نامکمل ہے اسی طرح سول نوعیت کی عدالت کیس داخل ہونے سے پہلے مسائل کے متبادل حل کی کوشش کے بغیر سائلین پر ظلم کے مترادف ہے اگر پاکستان میں اے ڈی آر یعنی مسائل کے حل کا متبادل نظام آجائے تو آدھے سے زیادہ سول نوعیت کے کیسز خود ہی خود ختم ہوجائیں جبکہ حیرت انگیز طور پر وکلاء کا روزگار بھی اس سے متاثر نہیں ہوگا بلکہ اضافہ ہوگا کیونکہ  اے ڈی آر کی فیسز بھی وکلاء کو ملتی ہے آپ تصور کرکے سوچیں کہ کیا جیوری کی موجودگی میں پولیس بوگس تفتیش کرکے چالان جمع کروا سکتی ہے کیا جیوری کی موجودگی میں  ایک جج پولیس کی ذہنی ماتحتی اور غلامی کرسکتا ہے

 یقینی طور پر نوے فیصد فوجداری مقدمات ختم ہوجائیں گےکیونکہ  جو مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں ان میں سے اکثر ہی بے بنیاد ہیں  اور  ان کو سماعت کیلئے منظور کیوں کیا جاتا ہے اس کی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش اور عدلیہ میں شہریوں کی شمولیت کا نہ ہونا ہےجیوری کی موجودگی میں کیا پولیس کسی بے گناہ کو گرفتار کرکے مجسٹریٹ کے سامنے ڈھٹائی سے پیش کرسکتی ہے  اور کیا ریمانڈ لینا ممکن ہوگا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ مجسٹریٹ شہریوں کی موجودگی میں کسی بے گناہ کے خلاف پیش ہونے والے چالان کو منظور کرنے میں کامیاب ہوجائےجیوری کے حوالے سے تمام الزامات اس لیئے کمزور ہیں کیونکہ موجودہ عدالتی نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے  ہماری عدالتوں سے ملزمان کی  باعزت طور پر رہائی کا رجحان اس لیئے زیادہ ہے  کیونکہ پولیس کی تفتیش ناقص ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ سے ہی اس نقطے کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ پولیس ریمانڈ اور چالان عدالت میں جمع کرواتی ہے
  بدقسمتی سے مشرف دور میں عدالتی اصلاحات پر کچھ کام ہوا تھا جس کا تسلسل جاری نہ رہا اور مشرف دور میں ہی عدالتی اصلاحات کا سلسہ ختم ہوگیا تھا لیکن مشرف دور میں بھی مصالحتی انجمن کو یونین کونسل کی سطح پر اختیارات دیئے گئے تھےضرورت اس عمل کی ہے کہ  متحرک شہری اپنا کردار ادا کریں ضرورت اس عمل کی ہے کہ ہم سب یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ  ایک عام شہری کو عدلیہ سے  "ٹکے" کا فائدہ بھی نہیں پہنچ رہا لوگ عدالتوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں عدالت سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالتی نظام میں شہریوں کی شمولیت نہیں ہے جوکہ کسی بھی ریاست کے شہریوں کا بنیادی حق ہے اور یہ حق شہریوں کو صدیوں سے حاصل ہے آج بھی دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں جیوری عدالتی نظام کا حصہ ہےیہ کام آسان ہرگز نہیں  ہوگا متحرک عدلیہ کسی کرپٹ نظام کیلئے ہر گز مفید نہیں ہوسکتیبدقسمتی سے ہم ایک نامکمل  عدالتی نظام  کے زریعے انصاف کی فراہمی کی کوشش کررہے ہیں  جو کہ ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی خصوصی عدالتیں اور کبھی ملٹری  عدالتوں کا تجربہ کیا جاتا ہے  

Post a Comment