Wednesday, 4 February 2015

ہم کتنے عظیم لوگ ہیں ناں


بعض حق بڑے ہی عجیب سے ہوتے ہیں اور بالکل ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں
ان انتہائی ذاتی حقوق میں سے ایک حق "نام" کا بھی ہے۔ ہم دنیا میں جہاں بھی چلے جائیں اپنے اس ذاتی حق سے کسی بھی صورت محروم نہیں ہوسکتے ہم اپنے بچوں کے نام اپنی محبت اور چاہت سے رکھتے ہیں
کتابیں  خریدی جاتی ہیں  قرعہ اندازی ہوتی ہے نام کا مطلب تلاش کیا جاتا ہے اور کافی دیر  بحث مباحثہ کے بعد ہم اپنے بچوں کے نام محبت سے رکھتے ہیں اس نام کے پیچھے ایک محبت کا جذبہ بھی ہوتا ہے
لوگ اپنے نام اپنے مذہب اور کلچر کے مطابق بھی رکھتے ہیں  یہ ان کا ذاتی حق ہے ہم کسی بھی شخص سے اس کا یہ حق کیسے ادھار مانگ سکتے ہیں  ہم کسی بھی شخص سے یہ حق کیسے چھین سکتے ہیں نام تو ذاتی حق ہوتا ہے ناں اس میں کوئی کیسے مداخلت کرسکتا ہے یہ تو ایک اخلاقی حق بھی ہے کوئی مسلمان اپنے بیٹے کا نام  روی داس شنکر نہیں رکھ سکتا اور کوئی ہندو اپنے بیٹے کا نام  عبداللہ خان کیوں رکھے گا
جب مسلمان کوئی بستی بسانے جاتے ہیں تو اس کانام مدینہ کالونی رکھا جاتا ہے اس کا نام محمد علی سوسائٹی رکھا جاتا ہے اس کانام پیر الٰہی بخش کالونی رکھا جاتا ہے اس بستی کانام اپنے ماحول  اور کلچر کے مطابق بھی رکھ سکتے ہیں بعض اوقات کسی قابل احترام سماجی شخصیت کے نام پر بھی رکھ دیا جاتا ہے چاہے اس کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو
یہی معاملات مختلف شاہراؤں کے ہیں  کسی بھی روڈ یا سڑک کانام کسی بھی قومی ہیرو یا سماجی شخصیت کے نام رکھ کر اس کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے
ہم پاکستانیوں کو ایک عجیب سا شوق ہے تاریخ بدلنے کا ہمیں ایک عجیب سا شوق ہے  کہ ہم اپنے شوق کا بلڈوزر تاریخ پر چڑھادیتے ہیں  ہم پاکستانیوں کو ایک عجیب سا یہ شوق ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سڑکوں قومی شاہراؤں اور بستیوں کے نام اپنے قومی ہیروز اور ہردلعزیز ہستیوں کے نام  کردیں ہم اپنے شوق کا بلڈوزر لیکر کبھی لائیلپور پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اس کانام فیصل آباد رکھ دیتے ہیں ہمارے شوق کا یہ بلڈوزر بندر روڈ پر چڑھ دوڑتا ہے اور ہمارے شوق کا یہ بلڈوزر کبھی موتی لعل نہرو روڈ پر چڑھ کر اس کانام ایک ہندوستانی مسلمان شاعر جگر مراد آبادی تبدیل کرکے رہتا ہے حالانکہ جگر مراد آبادی ایک عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک سچے ہندوستانی تھے


لیکن یہ بحث تو اب پرانی ہوچکی بری طرح گھس چکی پٹ چکی یہ ہم کس موضوع کو لیکر بیٹھ گئے بات دراصل یہ ہے کہ میرے سامنے ایک سرکاری معاہدہ موجود ہے جس پر حکومت سندھ  کالوگو   نشان موجود ہےاس معاہدے کو ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ سمیع الدین صدیقی کی منظوری حاصل ہے اور یہ معاہدہ منظوری کے بعد ڈپٹی چیف سیکرٹری  سندھ سمیت تمام اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو بھی بھیجا گیا ہے یہ  معاہدہ تین اکتوبر 2013 کو دوپہر تین بجے ہوا جس کا مقصد کورنگی میں مسلمانوں اور کرسچن کمیونٹی کے درمیان ہونے والے مزہبی تنازعے اور فسادات کے بعددونوں فریقین کی صلح کروانی تھی اگرچہ مجھے اس معاہدے کے بہت سے نکات سے اختلاف ہے
لیکن معاہدے کا ایک نقطہ میرے دل  ہی کو چھید گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس صلحنامے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ  اس کرسچن بستی جہاں سارے کرسچن آباد ہیں اور تین سو گھرانوں پر مشتمل اس آبادی میں دوہزار کے قریب مسیحی  برادری کے افراد بستے ہیں صلح نامہ کے مطابق اب اس بستی کا نام  عیسائیوں کی بجائے مسلمانوں کی ایک قابل احترام شخصیت کے نام سے پکارا جائے گا بعد ازاں سرکاری طور پر اس بستی کا نام تبدیل کیا گیا اور سرکاری سرپرستی میں وہاں کی آبادی کو مجبور کیا گیا کہ  اس آبادی کی دیواروں سے پرانا نام مٹا دیا جائے اور نیا نام لکھ دیا جائے

مجھے حیرت ہے کہ ہم کس معاشرے میں رہتے ہیں کسی بھی شخص سے کسی بھی گروہ سے ہم کیسے کس بنیاد پر اس کانام کا حق چھین سکتے ہیں نام کا حق تو ذاتی ہوتا ہے  ہم کسی اقلیتی گروپ کو کس بنیاد پر  اس بات پر مجبور کرسکتے ہیں
ہم اپنی بستیوں کے نام سو بار تبدیل کرسکتے ہیں کسی دوسرے گروہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر کس اخلاق کے تحت اپنا فلسفہ مسلط کرسکتے ہیں
ایسا تو اس صورت میں ہوتا ہے جب ایک دشمن ملک دوسرے ملک کی کسی بستی پر قبضہ کرتا ہے اور فتح کی خوشی میں اس شہر کا نام  ہی تبدیل کرکے اس بستی کے شہریوں کو  ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے یہ پیغام دیتا ہے  کہ ہم فاتح ہیں تم مفتوح ہو ہم طاقتور ہیں تم کمزور ہو دیکھ لو ہم نے تم سے طاقت کی بنیاد پر تم سے تمہارا نام ہی چھین لیا
ہم نے کونسا ملک فتح کیا ہے ہم اپنے ہی ملک کی بستیوں کو فتح کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں  کیا ہم غیر مسلموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم فاتح ہیں تم  مفتوح ہو اب ہم سرکاری طور پر  ان بستیوں کے نام بھی وہاں کے شہریوں کی مرضی اور اجازت کے بغیر  زبردستی تبدیل کرکے مسلم اکابرین کے نام پر رکھ رہے ہیں جہاں غیر مسلم آباد ہیں اور وہ بستیاں جو غیر مسلموں نے چند سال قبل ہی آباد کی ہیں چند سال سے مراد بیس سے پچیس سال پہلے ہے
ہم دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا کب سیکھیں گے کل تک ہم تاریخ کو مسخ کررہے تھے اب ہماری ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم نے اپنے حال کو بھی مسخ کرنا شروع کردیا ہے ہم کتنے عظیم لوگ ہیں
           بستی
Post a Comment