Thursday, 17 September 2015

سبز کتاب کا مصنف تحریر :: صفی الدین

میں نے ایک بار کسی جسٹس صاحب سے یہ پوچھا کہ  آپ کب اپنے آپ کو پریشانی میں محسوس کرتے ہیں کب محسوس ہوتا ہے کہ آپ مشکل میں ہیں جج کی سیٹ پر مشکل لمحہ کب آتا ہے آزمائیش کی گھڑی کب آتی ہے
جسٹس صاحب نے کہا کہ مجھے کبھی پریشانی نہیں ہوتی لیکن صرف ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جب میں پریشان ہوجاتا ہوں جب میں اپنے آپ کو بہت زیادہ پریشانی اور آزمائیش میں گھرا  میں محسوس کرتا ہوں ۔ اور وہ لمحہ اس وقت آتا ہے جب  سبز کتاب کا مصنف  میری عدالت میں داخل ہوتا ہے اور اس وقت میں شدید بے بسی اور گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں میرا دل کرتا ہے کہ اس شخصیت کے احترام کی خاطر میں کھڑا ہوجاؤں لیکن میں ایسا کرنہیں پاتا
بہت سے وکیل کسی آئینی پٹیشن میں پیش ہوکر سبز کتاب کی کسی سیکشن کی وضاحت کرتے ہیں   اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں سیکشن کی وضاحت کیا ہے   وکلاء اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ  اس کی وضاحت  یہ بھی ہوسکتی  ہے اور اس لفظ  کا مقصد کیا ہے اور یہ سیکشن کیوں شامل کی گئی ہے  لیکن پوری دنیا میں صرف ایک وکیل ایسا ہے جب وہ اس سبز کتاب کو کھول کر بتاتا ہے کہ  میں نے یہ سیکشن اس مقصد کیلئے لکھی تھی
جس سبز کتاب کے زریعے  بیس کروڑ لوگوں کی زندگی کے بہت سے  معاملات طے کیئے جاتے ہیں وزیراعظم  کے اختیارات  سے لیکر  آرمی چیف  کی تقرری اور صدر سے لیکر اسپیکر کے انتخاب تک  
عدلیہ کے بنیادی اسٹرکچر سے لیکر بار ایسوسی ایشن کے کردار تک      یہ سب باتیں دنیا میں صرف ایک شخص جانتا ہے  عدلیہ کے احترام سے لیکر عدلیہ کے وقار تک  اور قومی اسمبلی سے لیکر لوکل گورنمنٹ  تک انسانی حقوق کے تحفظ سے لیکر پٹیشن کے زریعے  حکومت پاکستان  کو فریق بنانے کے اختیار تک یہ سب  باتیں لکھنے کا اعزاز جس شخص کے حصے میں آیا  اس کا نام حفیظ الدین پیرزادہ تھا
دنیا کا وہ واحد انسان تھا جب وہ عدالت میں پیش ہوجاتا تھا تو عدلیہ کا امتحان شروع ہوجاتا تھا اور قابل احترام جسٹس صاحبان اپنے آپ کو پریشانی میں گھرا ہوا محسوس کرتے تھے۔ کیونکہ اس عظیم انسان  کا یہ حق بنتا تھا کہ جب وہ سامنے آجائے تو اس کو کھڑے ہوکر عقیدت اور احترام کے ساتھ عزت دی جائے لیکن ایک منصف کے عہدے اور ذمہ داریوں کے بھی کچھ تقاضے  ہیں  جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوپاتا تھا دنیا میں موجود واحد وکیل تھا جو پاکستانی عدلیہ کے کسی جج کو یہ کہنے کا حوصلہ اور حق رکھتا تھا کہ سبز کتاب میں موجود فلاں سیکشن میں نے اس مقصد کیلئے لکھی تھی
ہم پر کیا قیامت بیت گئی ہم لوگ خود بھی نہیں جانتے  ایک ایسا باوقار انسان پاکستان سے رخصت ہوگیا جو پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم ترین انسان تھا
حفیظ الدین پیرزادہ کا مقام اور مرتبہ  ہم کبھی جان نہیں سکتے ۔ آپ انمول تھے ۔عدالت کی سیڑھیاں  حفیظ الدین پیرزادہ  جیسی شخصیت کیلئے ترس جاتی ہیں ۔ ہماری عدالت کی سیڑھیوں کا یہ انتظار شاید کبھی ختم نہ ہو کیونکہ  حفیظ الدین پیرزادہ صاحب اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ہاں میری دعا ہے کہ  نوجوان وکلاء ان کو آئیڈیل بنائیں  اور وکالت کو دوبارہ سے ایک بہت ہی باقار پیشہ بنانے کی کوشش کریں
سال کا سب سے بڑا سانحہ کہ سبز کتاب کا مصنف اس دنیا سے رخصت ہوا

سبز کتاب کا مصنف  کسی چیز کا محتاج نہیں تھا لیکن اگر پاکستان کی بار ایسوسی ایشنز کیلئے ممکن ہو تو  اپنی لائیبریری کا نام حفیظ الدین پیرزادہ سے موسوم کرسکتے ہیں  اس سے بار کی عزت میں اضافہ ہوگا نوجوان نسل کیلئے حفیظ الدین جیسے وکلاء  کی زندگی ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے
Post a Comment