Saturday, 2 January 2016

ڈاکٹر ظفراحمد شیروانی صاحب تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی تحریر صفی الدین اعوان


میں سندھ ہایئکورٹ کی توجہ دواہم معاملات کی جانب دلانا چاہتا ہوں  جن کا تعلق گورننس سے ہے
سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے کسی تھانے سے بھی ایف آئی آر رجسٹر ہونے کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں چوبیس گھنٹے کے اندر فراہم نہیں کی جاتی   حالانکہ  ضابطے کے مطابق تو چوبیس گھنٹے کے  اندر اندر  علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں فراہم  کرنا ضروری ہے ۔۔۔۔ قانون کے مطابق ایف آئی آر کی غیر موجودگی میں کوئی بھی ملزم عدالت سے حفاظتی ضمانت نہیں کرواسکتا اور اگر ایف آئی آر عدالت میں فراہم نہیں کی جاتی تو اس کی وجوہات  کیا ہیں
پہلی وجہ تو سندھ ہایئکورٹ کی یہ باقاعدہ غفلت ہے کہ سندھ ہایئکورٹ نے ایسا کوئی نظام ہی تشکیل نہیں دیا جس کے تحت  ایف آئی آر  کا ریکارڈ عدالت میں رکھنے کا نظام موجود ہو
کوئی ایسا نظام موجود نہیں جس کے تحت ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کورٹ میں   اس کی ایک کاپی  فراہم نہیں کی جاتی تو تھانے کے خلاف کوئی کاروائی کی جاسکے ۔ ماضی میں ایک کچا رجسٹر بنایا گیا تھا جس کے مطابق کورٹ کا اسٹاف ایف آئی آر کا کچا ریکارڈ رکھتا ہے لیکن  اس رجسٹر کے مطابق بھی اہم ایف آئی آر  غائب ہوتی ہیں اور وہ مخصوص مقامات پر دستیاب ہوتی ہیں  

ضرورت اس امر کی ہے کہ   سندھ ہایئکورٹ اس حوالے سے باقاعدہ ایک نظام تشکیل دے جس کے تحت ایک مستقل رجسٹر بنایا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر ایف آئی آر کورٹ میں فراہم کی جائے اور وہ ریکارڈ روزانہ  مجسٹریٹ کے دستخط سے محفوظ کیا جائے
اگر ایف آئی آر کی کاپی مجسٹریٹ کی عدالت میں چوبیس گھنٹے میں نہ آئے تو ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کی جائے
اس طرح کا ریکارڈ مرتب کیا جائے کہ اگر چوبیس  گھنٹے کے بعد ایف آئی آر کی کاپی عدالت میں  فراہم کی جائے تو عدالت کیلئے  بھی ممکن نہ ہوکہ وہ  اس قسم کی ایف آئی آر کو عدالت کے ریکارڈ پر لاسکیں  جس کے نتیجے میں اس ایچ او کے خلاف کاروائی کرنا ممکن ہوجائے گا جس نے چوبیس گھنٹے کے اندر کورٹ کو ایف آئی آر کی کاپی  فراہم نہیں کی

لیکن یہ بھی حقیقت جاننا ضروری ہے کہ ایف آئی آر کی کاپی عدالت کو فراہم کیوں نہیں کی جاتی   مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایف آئی آر  ان وکلاء کو فراہم کی جاتی ہے جو پولیس کے ساتھ مل کر پارٹنرشپ کے تحت  پریکٹس کرتے ہیں  یہی وجہ ہے کہ  اہم نوعیت کی ایف آئی آر مخصوص مقامات پر دستیاب ہوتی ہیں  اور اس کی قیمت کم ازکم پانچ ہزار روپے ہوتی ہے
لیکن اس  کرپشن کی اصل ذمہ داری تو سندھ ہایئکورٹ پر عائد ہوتی ہے جس نے ایف آئی آر چوبیس گھنٹے کے اندر کورٹ میں فراہم کرنے کا کوئی بھی نظام تشکیل ہی نہیں دیا ۔ ضلع ملیر کے حالات تو سب سے زیادہ خراب ہیں وہاں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ایف آئی آر کی کاپی عدالت سے مل جائے  کیونکہ ملیر میں  یہ دائرہ تھوڑا سا وسیع ہوگیا ہے

وہاں  مجسٹریٹ ، کورٹ اسٹاف،مخصوص وکلاء اور پولیس  کی مضبوط پارٹنرشپ قائم ہے  ایک بار میں نے اپنے ذاتی زرائع سے کسی طرح ایک ایف آئی آر چوبیس گھنٹے  کے اندر حاصل کرلی اورکیس کے سلسلے میں کوئی درخواست دائر  کی تو ملیر کے کورٹ اسٹاف کو یہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ  یہ ایف آئی آر کس طرح ایک عام وکیل تک پہنچ گئی  اس بات پر اسٹیک  ہولڈر آپس میں ہی لڑپڑے اور ایک دوسرے پر کاروباری بددیانتی کے الزامات کی بوچھاڑ کی سب سے بڑھ کر مجسٹریٹ تو یوں دیکھتا تھا جیسے میں  اس کی بھینس کھول کرلے گیاہوں
بار بار ایک ہی سوال کہ یہ ایف آئی آر آپ نے کیسے حاصل کی  ؟ کورٹ محرر کی اچھی خاصی کلاس کورٹ اسٹاف نے لے لی کہ یہ سب کیا ہے
بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  اس دھندے کے پیچھے ایک بہت بڑا مافیا موجود ہے جس کی سرپرستی میں ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے کہ عدالت میں کرپشن کو فروغ دیا جائے  یہی وجہ ہے کہ عدالت کی بجائے پولیس اسٹیشن میں رجسٹر ہونے والی ایف آئی آر  عدالت کے ریکارڈ پر نہیں لائی جاتی
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب آپ سندھ ہایئکورٹ کے سب سے طاقتور ترین رجسٹرار ہیں  سندھ ہایئکورٹ  کی تاریخ میں آپ جیسا طاقتور رجسٹرار پہلے کبھی نہیں آیا نہ آئے گا
مجھے آپ کی تقاریر اور تمام فلسفے آج تک یاد ہیں  مجھے امید ہے کہ آپ  کم ازکم اس کرپشن کا خاتمہ کرسکتے ہیں

دوسرا اہم مسئلہ جو  آپ کے ساتھ ماضی میں کئی بار  گفتگو کا حصہ رہا ہے وہ ہے پولیس اسٹیشن سے غیرقانونی حراست کا خاتمہ اہم نکتہ یہ ہے کہ صبح نوبجے سے پہلے اور  دوپہر تین بجے کے بعد عدالت کیلئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ   بیلف مقرر کرے
اسی طرح تعطیلات کے دنوں میں کورٹ بیلف مقرر نہیں کرسکتی کیونکہ عدالت ہی بند ہوتی ہے اب شہری جائیں تو کہاں جائیں  ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  اس مسئلے کا حل آپ جانتے ہیں اور جو کہ آپ نے خود ہی تجویز کیا تھا اور جس کی وجہ سے آج سے دس سال پہلے کراچی کے  ڈسٹرکٹ ایسٹ سے غیرقانونی حراست کا خاتمہ ہوگیا تھا  اور یہ اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہے کہ امریکہ بیٹھ کر رات کو دوبجے آپ نے  ای میل کے زریعے  مجسٹریٹ کو بیلف مقرر کیا تھا جس نے تیموریہ تھانے سے غیرقانونی حراست کا خاتمہ کیا تھا سلام ہے آج بھی اس مجسٹریٹ کو جس نے رات کو تین بجے عدالتی احکامات کی تعمیل کی اور  اپنی نیند قربان کی جب عدلیہ  جاگ رہی ہوتی  ہے تو اس ملک کے کروڑوں شہری سکون سے  سورہے ہوتے ہیں
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ  عدلیہ گہری نیند سوچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج غیرقانونی حراست ایک معمول کا حصہ بن چکی ہے  میرے اس سوال کا عدلیہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ تعطیلات اور عدالتی اوقات کے بعد غیرقانونی حراست کا خاتمہ کس  طرح کرتے ہیں  اور کیا یہ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی نہیں

میں اس بات پر فخر کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ اگر اتوار کے دن اور سرکاری تعطیلات کے دن سندھ کی عدالتوں میں مجسٹریٹ آن ڈیوٹی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں عید کے دن بھی ایک عدالت شہر میں کھلی ہوتی ہے جو شہریوں کو پولیس کے چنگل سے نجات دلاتی ہے تو یہ سب  میری کاوش کا نتیجہ تھا کہ  اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ جناب سرمد جلال عثمانی صاحب نے ایک  تاریخی حکمنامے کے زریعے یہ ممکن بنایا تھا
اس سے پہلے سندھ میں اتوار کے دن تمام عدالتیں بند رہتی تھیں اور معمولی نوعیت کے کیسز خصوصاً ڈبل سواری کے ملزمان بھی  تین تین دن تھانے میں بند رہتے تھے  اور معمولی  قابل ضمانت نوعیت کے کیسز میں بھی  تھانے سے رہائی لاکھوں روپے کے لین دین کے بعد ممکن ہوتی تھی

مجھے امید تھی مجھے یقین تھا کہ  جب آپ رجسٹرار  مقرر ہوئے تھے تو  کم ازکم آپ ایف آئی آر کی بروقت فراہمی کے نظام  کو ضرور متعارف کروائیں گے اور غیرقانونی حراست کے خاتمے کیلئے ایسا نظام ضرور متعارف کروائیں گے کہ ہماری عدلیہ چوبیس گھنٹے اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ  غیرقانونی حراست کے خاتمے کیلئے تھانے میں جاکر ریکارڈ چیک کرنے کی پوزیشن میں ہوگی
ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب بہت ہی معذرت کے ساتھ یہ عرض ہے کہ یہ امیدیں پوری نہیں ہوسکی ہیں

ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  شاید تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے  ایک ایسا رجسٹرار جو فوجداری معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتا تھا اور فوجداری نظام کو اس اصل روح کی گہرائی تک سمجھتا تھا اور فوجداری معاملات میں جس کی کہی ہوئی بات ایک اتھارٹی کا درجہ رکھتی تھی  تاریخ کا اس سے بڑا جبر  کیا ہوگا کہ اس رجسٹرار کی موجودگی میں بھی سندھ کی عدالتوں میں ایف آئی آر  کا ریکارڈ رکھنے کا کوئی نظام نہیں  اور غیرقانونی حراست کے خاتمے کا کوئی نظام عدالتی اوقات اور تعطیلات کے دوران موجود نہیں

یہاں میں ضمنناً عرض کردوں کہ شاید پورے پاکستان میں  قانون کے پورے شعبے میں وکلاء اور ججز سمیت کل سو افراد بھی نہیں ہونگے جو فوجداری نظام کو اس کی روح کے مطابق سمجھتے ہونگے
اور میں اگر صوبہ سندھ کی عدالتوں کی بات کروں تو   ہزاروں وکلاء،  سینکڑوں ججز اور جسٹس صاحبان  کی موجودگی میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ شاید پورے صوبے میں تیس افراد بھی  ایسے نہیں کہ  جو کریمنل جسٹس  سسٹم یعنی فوجداری نظام کو اس کی روح کے مطابق جانتے ہونگے  اور ان میں سے ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب ایک ہیں
میں اگر اپنی بات کے دعوے میں جاؤں تو ضابطہ فوجداری میں موجود ایک لفظ
Take cognizance
صرف اس لفظ کی تشریح اور اس کو سمجھنا بعض اوقات پوری زندگی ممکن نہیں ہوتا  اور جس ملک کی عدلیہ کو یہ لفظ سمجھ آجائے وہاں پولیس کبھی عوام کو تنگ نہیں کرسکتی 


لیکن اس کے باوجود اگر مسائل حل نہیں ہوتے تو ڈاکٹر ظفر شیروانی صاحب  تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے 
گی

SAFIUDIN AWAN 
03343093302 
Post a Comment