Saturday, 2 January 2016

جوڈیشل مجسٹریٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

انٹرویو کسی کے خیالات  جاننے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے ایک ایسے وقت میں جب  عدلیہ انتہائی نازک  دور سے گزررہی ہے اور عوام الناس میں غلط فہمیاں عام ہیں تو ہم نے کوشش کی ایک مجسٹریٹ سے انٹرویو کے زریعے ان کے خیالات جاننے کی وہ مسائل جاننے کی جن سے وہ دوچار رہتا ہے
مجسٹریٹ  عدالتی نظام کی بنیادی اکائی ہے اور کسی بھی عمارت کی مضبوطی کا اندازہ بنیاد کی مضبوطی سے لگایا جاسکتا ہے عدالتی نظام کا صرف یہی عہدہ  درست کام کرے تو پولیس کلچر ختم ہوسکتا ہے  عدالتی نظام کی یہ بنیاد کن مسائل کا شکار ہے اور کتنی مضبوط ہے کوشش کی ہے کہ سوالات کا مقصد مسائل کو اجاگر کرنا رہے
انٹرویو کا مقصد اصلاح تھا تو شناخت کو چھپالیا گیا  تاریخ اور واقعات میں معمولی ترمیم کی اس لیئے ایک فرضی نام کے طور پر مجسٹریٹ کا نام ہے سچل"
سوال: سچل صاحب یہ بتایئں کہ کس طرح اس شعبے میں آئے؟
سچل: میں نے   شوقیہ طور پر اندرون  سندھ وکالت کا پیشہ جوائن کیا تھا اور اللہ کی مہربانی کے اچھے سینئر ملے بعد ازاں وکالت کا تجربہ اچھا رہا اسی طرح 2002 میں مجسٹریٹ کی سیٹیں آئیں تو آخری دن فارم بھرا بعد ازاں سلیکشن ہوئی میرٹ پر اور اندرون سندھ ہی ایک ضلع میں پوسٹنگ ہوئی

سوال: ایک مجسٹریٹ کی زندگی اور کیئرئیر میں بحثیت جج پہلا دن،پہلا مہینہ  کتنی اہمیت رکھتا ہے؟

جواب : پہلا دن ہمیشہ یاد رہے گا کیونکہ پہلے ہی دن ایک وڈیرے کا جس کی ضلع میں 400 ایکڑ زمین تھی  نے ایک غریب کسان  جس کی صرف ڈیڈھ ایکڑ زمین تھی کے بیٹے جس کی عمر 16 سال تھی کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کروایا تھا اور پولیس ریمانڈ کیلئے اس کو اس حالت میں زنجیروں سے  جکڑ  کر لائی کہ اس  کی قمیض پھٹی پرانی اور پاؤں میں جوتے بھی نہ تھے   وہ بچہ تھر تھر کانپ رہا تھااور یہ صورتحال ایسی تھی اس غریب کسان کے بیٹے کی آنکھوں میں جو درد تھا  جوڈر تھا جو خوف تھا وہ بیان نہیں کیا جاسکتا اس صورتحال  نے مجھے شاک سے دوچار کیا مختصر یہ کہ اس جھوٹے مقدمے میں اس بچے کو ذاتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا جس کے بعد  پولیس افسران میں ہلچل مچ گئی کیونکہ وڈیرہ بااثر تھا اور سیاسی اثرورسوخ رکھتا تھا چند منٹ کے بعد ایڈیشنل ایس ایس پی کی کال آئی  اتفاقاً وہ افسر میرے ضلع کا تھا نہایت ہی بے تکلفی سے گفتگو شروع کردی اور مختصر تمہید کے بعد کہا کہ ایک عرض ہے کہ اس بدمعاش لڑکے  کا  چند روز کا ریمانڈ دے دیں  معاملہ عزت کا بن گیا ہے یہ سن کر میں نے کہا کہ شاید آپ کے پولیس افسران کو یہ بھی نہیں پتا کہ کم عمر بچوں کو ہتھکڑی  لگا کر عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا دوسرا یہ کہ اگر آئیندہ میری عدالت میں  کسی بھی کم عمر بچے کے ساتھ ایسا ہوا تو بلاتکلف آپ کے پولیس افسران کو جیل بھیج دوں گا  جس کے بعد پولیس افسر نے کال کاٹ دی مختصر یہ کہ پہلا ہی دن ہنگا مہ خیز رہا بعد ازاں پورا مہینہ یہی صورتحال رہی  اس وقت اندرون سندھ وڈیرہ شاہی عروج پر تھی   پولیس  ان کے ذاتی ملازم کے طور پر کام کرتی تھی  اور کرتی ہے  اور عدلیہ  کی نااہلی  کی وجہ سے  پولیس لوگوں پر ظلم کرتی ہے



پہلے  ہی دن سماجی تعلقات داؤ پر لگنا شروع ہوئے سماج سے رشتہ ٹوٹنا اور انسانیت سے رشتہ جڑنا شروع ہوا بدقسمتی  سے سندھ کے وڈیرے اور سرمایہ دار  سیشن  جج کے حکم پر یا یاری  دوستی میں  ججز اور جسٹس صاحبان کیلئے شکار کی محفلیں سجاتے ہیں جن پر لاکھوں روپے کے اخراجات آتے ہیں  جس کی وجہ سے بھی عدلیہ بھی کسی نہ کسی صورت ان مظالم میں شریک ہوجاتی ہے۔  مزے کی بات یہ ہے کہ جس سپریم کورٹ میں تلور کے شکار کے خلاف کیس کی  سماعت ہوتی ہے سماعت کے بعد اسی سپریم کورٹ کاایک جسٹس خود تلور کا شکار کھیلنے کیلئے  نکل پڑتا ہے  ۔ یہ بھی ایک دوہرا معیار ہے ۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اسقدر سوشل ہوں کہ وہ  ان دولت مند افراد کی میزبانی میں غیرقانونی  شکار کا شوق پورا کرتے ہوں  جن کے خلاف مقدمات ان ہی عدالتوں میں زیرسماعت ہوں

پہلا مہینہ مکمل ہوا تو دوسرا شاک اس وقت لگا جب ماہانہ تنخوا کا چیک وصول ہوا   اس زمانے میں  تنخوا اتنی کم تھی کہ وکالت کے دنوں میں اتنے پیسے دوستوں  اور کھانے پینے پر خرچ ہوجاتے تھے جس کے بعد والد صاحب کو بتایا کہ عہدہ تو اچھا ہے کیونکہ وہ میری کارکردگی سے خوش تھے   لیکن تنخوا بہت کم ہے  اس لیئے میں شاید عدلیہ میں اپنا کیرئیر جاری نہ رکھ سکوں جس کے بعد والد محترم نے حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ یہ عہدہ پیسے سے زیادہ انسانیت کی خدمت کا ہے کچھ عرصہ کرو پھر دیکھیں گے دومہینے کے بعد والد محترم نے مجھے ایک معقول رقم بھجوائی جس  سے میں نے (اے سی ) لگوایا اس زمانے میں اندرون سندھ کسی جج کی جانب سے (اے سی) لگوانا یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنی آمدن سے زیادہ اخراجات کررہا ہے یا لگژری لائف کی علامت سمجھا جاتا تھا میرے ایک قریبی عزیز کی کال آئی کہ سنا ہے (اے سی ) لگوالیا ہے میں نے کہا جی ہاں پوچھا کہ پیسے کہاں سے آئے  میں نے کہا والد نے دیئے ہیں  اے سی کے اخراجات کیسے برداشت کروگے میں نے کہا کہ جس طرح باقی لوگ کرتے ہیں بل تو آتا ہی نہیں پوری کالونی کنڈا لگاتی ہے ہمارے تو سیشن جج کا گھر بھی کنڈے پر چل رہا ہے تو میرے قریبی عزیز نے کہا کہ جج ہوکر بجلی چوری کروگے یہ سن کر مجھے افسوس ہوا  غلطی کا احساس ہوا میں نے دوسرے ہی دن الیکٹرک کمپنی کے لیگل ایڈوایئزر کو بلوا کر میٹر لگوایا اگرچہ یہ باتیں بہت چھوٹی محسوس ہوتی ہیں لیکن یہی باتیں  انسان  کا کردار متعین کرتی ہیں

سوال: پہلا سال کیسے گزرا؟
پہلا سال  کسی بھی جج کیلئے بہت اہم ہوتا ہے لوگ سفارش کیلئے دوستوں اور عزیز واقارب سے رابطے کرتے ہیں  رشوت کی آفرز ہوتی ہیں اکثر لوگ گھر تک پہنچ جاتے ہیں اسی طرح وہ دوست جن کے ساتھ وکالت میں وقت گزارا لوگ ان تک پہنچتے ہیں سفارش کرواتے ہیں
ایک بار قریبی عزیز ایک لاکھ روپیہ لیکر آگیا کہ فلاں کا کام کردو میں نے نہایت طریقے سے منع کیا اس کو سمجھا کر واپس کردیا۔ دوستوں کو اہمیت نہیں دی تو سماجی تعلقات خراب ہوئے جو بعد ازاں چند سال بعد اس وجہ سے بحال ہوئے کہ میں نے کبھی کسی کی سفارش نہیں مانی  بنیادی طور پر خاندان اور ذاتی ترجیحات بھی اہمیت رکھتی ہیں  جب خاندان توقع رکھتا ہے کہ ہم  غلط کام کریں تو لوگ مجبور ہوجاتے ہیں جب خاندان ہدایت دیتا ہے کہ حق حلال کما کر لاؤ تو انسان ثابت قدم رہتا ہے جب آپ اپنی اہلیہ کے ہاتھ پر حق حلال کی کمائی رکھتے ہیں اور وہ اسی کم آمدن پر صابر وشاکر رہتی ہے  تو یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے لیکن لوگوں کو اپنے کام نکلوانے ہیں وہ اپنے مسئلے سے اور عدالت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں کسی بھی جج کے کردار کی گواہی اس کا ذاتی اسٹاف ، اس کا پٹے والا،اس کا ریڈر اور ڈرایئور دیتے ہیں  پہلے مرحلے میں لوگ انہی کے زریعے  کوشش کرتے ہیں کہ کام کیسے نکلوایئں  جج سفارش مانتا ہے یا پیسے لیتا ہے اس کا قریبی دوست کون ہے کس کی بات نہیں ٹال سکتا یہ وہ باتیں جن سے ہرجج کو گزرنا پڑتا ہے  میری عدالت میں میرے آبائی ضلع سے لوگ میرے پرانے دوستوں کو تلاش کرکے لائے اور وہ جب میری عدالت میں آئے تو میں نے ان کی سفارش کو نہیں مانا میرٹ پر ان کا جو بھی ریلیف بنتا تھا دیا جس کی وجہ سے دوست ناراض ہوئے لیکن پہلے سال کی مشکلات کے بعد لوگوں کو اندازہ ہوگیا  اور اس کے بعد  یہ سلسلہ ختم ہوا کافی عرصہ ہوا  نہ تو کوئی سفارش لیکر آیا نہ کسی نے آفر کی ہمیں لوگوں کی نفسیات کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ وہ اسقدر دوڑ دھوپ کیوں کرتے ہیں  بنیادی طور پر بعض اوقات جائز کام کیلئے بھی ناجائز زرائع استعمال کیئے جارہے ہوتے ہیں  اگر جائز کام فوری کردیئے جایئں تو لوگ اس قسم کی دوڑ دھوپ کیوں کریں؟

سوال: بعض اوقات پرانے دوستوں کو اہمیت تو دینا ہی پڑتی ہے؟

جواب : جج بن جانے کے بعد سماجی تعلقات داؤ پر لگتے ہیں  انسانیت سے رشتہ جوڑنے کیلئے تعلقات اہمیت نہیں رکھتے   جب آپ ایک دوست کی سفارش مانیں گے تو یہ خبر باقی دوستوں تک پہنچے گی  اس طرح قطار بن جائے گی اسی طرح ایک بلاوجہ کی بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوگا ہاتھ صاف نہیں ہونگے تو  اعتماد ختم ہوجائے گا سماجی تعلقات کے چکر میں انسان انصاف سے دور ہوجاتا ہے

سوال: کیا کبھی کسی سیشن جج نے کسی کام کیلئے دباؤ ڈالا؟

جواب: جی ہاں لیکن صرف ایک بار واقعہ یہ تھا کہ میں نے ایک بااثر پولیس افسر کو جرم ثابت ہو نے پرسزا سنائی  اور گھر روانہ ہوگیا کچھ دیر بعد میرے سیشن جج کی کال  میرے سیل فون پرآئی اور کہا کہ پولیس افسر کے معاملے میں نظر ثانی کریں میں نے کہا کہ میں تو گھر آگیا ہوں یہ سن کر سیشن جج آگ بگولہ ہوگیا اور کہا کہ جانتے ہو کس سے بات کررہے ہو میں فلاں ہوں میں نے کہا کہ بالکل جانتا ہوں لیکن شاید آپ بھول رہے ہیں کہ میں سچل بات کررہا ہوں یہ سن کر انہوں نے کال منقطع کی بعد ازاں اپیل میں سیشن جج نے اس پولیس افسر کو باعزت بری کردیا اسی طرح ایک پولیس افسر نے ایک وڈیرے کے حکم پر ایک بچے کو  جھوٹے مقدمے میں ملوث کرکے گرفتار کرنے کے بعدتھانے میں کرسی پر بٹھا کر بجلی کے تار سے  نہایت ہی ظالمانہ طریقے سےجکڑا   اور گھر چلا گیا اس دوران وہ بجلی کے تار  اس کے جسم میں اتر گئے  وہ شدید زخمی ہوگیا لیکن ڈھٹائی دیکھیں کہ وہ پولیس افسر  دوسرے دن  ریمانڈ کے دوران خودکشی کے مقدمہ بھی بناکر لے آیا کہ اس ملزم نے بلیڈ مار کر خودکشی کی کوشش کی ہے  میں نے میڈیکل کروایا  جس سے بلیڈ مارنا ثابت نہیں ہوا یہ بات سامنے آئی کہ بجلی کے تار سے ملزم کو جکڑا گیا تھا کیس رجسٹر کرکے ٹرائل کیا شواہد مضبو ط تھے سزا سنائی یہ  پولیس افسر بھی  سیاسی طور پر طاقتور تھا ججمنٹ جاندار تھی سیشن جج نے رہا تو نہیں کیا دوبارہ ٹرائل کروا کر گواہ منحرف کروائے گئے اس طرح پولیس افسر کی جان بچائی گئی یہ دو انفرادی واقعات تھے  جو کہ پورے 11 سال کے کیئرئر میں پیش آئے  اس کے بعد  کبھی کسی سیشن جج نے میرے اختیارات میں مداخلت نہیں کی رشوت نہ لینے والا اور اصولوں پر چلنے  والے انسان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا

سوال: وکلاء کا رویہ کیسا رہا ؟

جواب: اندرون سندھ بار اور  وکلاء کا رویہ ججز کے ساتھ بہت اچھا ہے وہ کورٹ اور جج کا ادب کرتے ہیں  اور کبھی بھی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتے نہ ہی شور شرابہ کرتے ہیں  مجھے اپنے پورے کیرئیر میں کبھی بھی اندرون سندھ   کسی وکیل سے کوئی شکایت نہیں پیدا ہوئی اور نہ ہی بار سے کوئی شکایت رہی نہ ہی بار کی جانب سے کبھی مجھ پر کبھی کوئی دباؤ رہا شاید اس کی وجہ یہ بھی ہوکہ میرا دامن صاف ہے   اس کی  ایک  اور وجہ سندھ کی وہ ہزاروں سال پرانی روایات ہیں  جس کے تحت وہ جج کا ہمیشہ احترام کرتے ہیں اگر کوئی ایسا واقعہ کبھی پیش آیا بھی ہوگا تو میرے علم میں نہیں یہاں تک کے عوام الناس میں بھی احترام ہے

سوال: لیکن وکلاء اور ججز کے تعلقات خراب رہتے تو ہیں؟

جواب: میرے علم میں نہیں  میں خود غلط نہیں ہوں تو کوئی مجھے غلط کام کرنے کا نہیں بولتا  نہ ہی کوئی پریشر ڈالتا ہےمیں صرف اتنی بات جانتا ہوں۔ جن کے تعلقات خراب ہیں وجہ بھی وہی جانتے ہونگے
جب میرٹ پر کام کریں گے وقت پر کام کریں گے تو تعلقات کی خرابی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا

سوال:بحیثیت جج کراچی کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: کراچی کا تجربہ بھی ٹھیک ہی ہے  شروع شروع میں کچھ  لوگوں نے شور شرابہ کیا  لیکن جب میرا اپنا دامن صاف ہے تو کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ایک بار  میں نے بار ایسوسی  ایشن کی ایک اہم شخصیت کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ  بڑے ہی غصے میں کمرہ عدالت میں تشریف لائے اور اوپن کورٹ میں کہا کہ ہم آپ کی تنخواہوں میں اضافے کےلیئے سپریم کورٹ تک  گئے اور آپ ہمارے خلاف ہی فیصلے دے رہے ہیں میں نے تحمل سے کہا کہ میں نے کب کہا ہے آپ کو کہ میری تنخواہ میں اضافے کیلئے آپ کوشش کریں یا سپریم کورٹ جایئں    یہ فیصلہ میرٹ پر کیا ہے کسی کے خلاف نہیں یہ سن کر وہ خاموش ہوگئے اور عدالت سے چلے گئے بہرحال سیشن جج نے ان کا کیس میری عدالت سے دوسری عدالت میں ٹرانسفر کیا مختصر یہ کہ  ایک دومعمولی واقعات کے بعد یہاں بھی صورتحال ٹھیک ہوگئی  نہ ہم غلط کام کرتے ہیں اور نہ ہی غلط بات برداشت کرتے ہیں ہماری ایمانداری ہمارا اصل اعتماد ہے

سوال: کوئی بھی جج پہلی غلطی کب کرتا ہے؟

جواب: پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ کسی جاننے والے کی یا کسی دوست کی سفارش مان لیتا ہے یہی غلطی کرپشن کے سارے راستے کھول دیتی ہے اور جج خود اعتمادی سے محروم ہوجاتا ہے جج کو انسانیت سے رشتہ جوڑنا چایئے لیکن میں کہتا ہوں "بے درد نامرد" جس جج کے دل میں انسانیت کا درد نہ ہو وہ اپنے سامنے پیش ہونے والے انسانوں کے دکھ اور درد کو محسوس نہ کرسکتا ہو تو میرا خیال ہے اور میری ذاتی رائے یہ ہے کہ  ایسے ایماندار جج جس کے دل میں انسانیت کا درد نہ ہو اس سے وہ جج بہت بہتر ہے جو پیسے لیکر کم ازکم کام تو کردیتا ہے کیونکہ رشوت لینے والا کم ازکم کام تو کرتا ہے  جبکہ ایماندار نفسیاتی جب تک سو افراد کو اپنی ایمانداری کا گواہ اور وکلاء کو کورٹ کے سو چکر نہ لگوالے اس کا ایمانداری کا ہیضہ ٹھیک ہی  نہیں ہوتا
انسانیت کا درد محسوس کیئے بغیر جج کا عہدہ بے معنی ہے ۔

سوال : کیا وجہ ہے کہ ایماندار ججز کی اکثریت نفسیاتی ہے؟

جواب : ایسا ہرگز نہیں ہے بہت سے اچھے جج موجود ہیں جو ایماندار ہیں اور  عدلیہ میں ان کی عزت ہے بنیادی طور پر ایمانداری بھی ایک جھانسا ہے  چند ججز کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ایمانداری کے چرچے ہوں یہی وجہ ہے کہ وہ صبح سویرے روٹھی ہوئی بیوہ کی طرح شکل بنا کر بیٹھ جاتے ہیں  ۔ کام نہیں آتا تو فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی  فائل کو دبا کر بیٹھے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کام کا پریشر بڑھ جاتا ہے اور وہ  آہستہ آہستہ نفسیاتی بن جاتے ہیں  وہ یہی سوچتے رہتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق کا جینا کس طرح  
حرام کیا جائے


سوال:  کیا عدلیہ  فرسودہ نظام کو ختم کرسکتی ہے؟

جواب: بالکل اگر  نچلی سطح پر توجہ دی جائے تو عدلیہ فرسودہ اور ظلم کے نظام پر کاری ضرب لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے صرف تربیت یافتہ جوڈیشل مجسٹریٹس ہی تھانہ کلچر کا خاتمہ کرسکتے ہیں ۔  بلکہ اگر عدلیہ درست سمت میں سفر کرے تو ایک عام آدمی کی زندگی میں انقلاب آجائے

سوال : وقت کے ساتھ بحیثیت جج کیا تبدیلی آئی؟

جواب: پہلے جب لوگ سفارش کرواتے تھے تو چڑ کر ان کے خلاف فیصلے دے دیتا تھا لیکن اب کوشش ہوتی ہے کہ انصاف کیا جائے لوگوں کو فوری انصاف ملے گا تو لوگ سفارش تلاش نہیں کریں گے  اس لیئے بروقت فیصلے کرنے کی کوشش کرتا ہوں  صرف بروقت فیصلے ہی کرپشن کا خاتمہ کرسکتے ہیں
لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ تجربہ کار  وکلاء اس سیٹ پر آئیں یہ جو ایک دن کی پریکٹس والے  وکیل کو جوڈیشل مجسٹریٹ لگا دیا جاتا ہے یہ پاکستان کے جوڈیشل سسٹم کے ساتھ  گینگ ریپ کرنے کے مترادف ہے
سوال: کیا عدلیہ اندرونی طور پر ٹھیک کام کررہی ہے ؟
جواب : جی نہیں عدلیہ اندرونی طور پر مسائل کا شکار ہے۔ جسٹس صاحبان کی اولاد بھانجوں بھتیجوں بیویوں سالیوں  کو  جلد ترقی ملتی ہے ان کو بڑے اضلاع میں  پوسٹ دی جاتی ہے جبکہ ایک عام جج کو قسمت سے ہی ترقی ملتی ہے ۔ خوشامدی ٹولے کو جلد ترقی مل جاتی ہے جبکہ ججز کی پروموشن کا آج تک کوئی معیار مقرر ہی نہیں ہے جو جتنا زیادہ چاپلوس ہے جو جتنا زیادہ خوشامدی ہے وہ زیادہ ترقی کا حقدار ہے اگر  جسٹس   صاحبان کے بیٹوں ،بیٹیوں، دامادوں، سالوں ،سالیوں ،بیویوں اور   دوستوں کی اولادوں کو پروموشن دینے کے بعد بھی اگر کوئی سیٹ  قسمت  سے بچ  جائے تو پھر ایک عام جج  بھی پروموشن  کا حقدار  بن جاتا ہے اس وقت ماتحت عدلیہ مکمل طور پر ذاتی رشتے داروں سے بھر چکی ہے
 کئی جسٹس صاحبان نے تو اپنے پورے  پورے "ٹبر" یعنی پورے  گھر کے افراد  عدلیہ میں فٹ کروا دیئے ہیں   اندھی مچ  گئی ہے  یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ عدالتیں جسٹس صاحبان  کے والدین کو جہیز میں ملی ہوئی ہیں  
عدلیہ کا سب سے اہم کام انتظامیہ کو کنٹرول کرنا ہے ۔ لیکن اس وقت ساری توجہ انتظامیہ کو کنٹرول کرنے کی بجائے  پورے خاندان کو جج کی نوکری دلانے اور جو۔۔۔۔ ہوگئے ان کو ترقی دلانے پر لگی ہے ان کے لیئے بڑے اضلاع میں پوسٹنگ  یہ مقدس شعبہ بھی نوکری پیشہ بن گیا ہے  ۔
یہاں میرا بھی ایک سوال ہے کیا نوکری پیشہ ۔۔۔۔۔۔ انصاف کرسکتا ہے
  
03343093302
safilrf@gmail.com 
  تحریر صفی الدین اعوان 
Post a Comment