Sunday, 18 September 2016

کراچی کا شہری ووٹ بینک اور سیاسی تبدیلیاں ۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان


کراچی کا شہری ووٹ بینک   اور سیاسی تبدیلیاں ۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان
اگلے دوسال میں کراچی سیاسی تبدیلیوں کی زدمیں ہے  کراچی کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں  کراچی کا شہری ووٹ بینک  خاموشی کی کیفیت میں چلا گیا ہے شاید یہ بھی  اپنی  سیاسی قیادت سے خاموش  احتجاج ہے  جبکہ مضافاتی ووٹ تو ہمیشہ ہی مخالف رہا ہے اسی دوران کراچی کا شہری  ووٹ بینک کا کافی بڑا حصہ   گزشتہ  عام  انتخابات  کے دوران تحریک انصاف کی طرف  بھی گیا لیکن شاید  تحریک انصاف کی طرز سیاست کراچی کے شہری ووٹروں کو راس نہ آئی تو دوسری طرف خان صاحب کراچی کی کیمسٹری اور کراچی کے ووٹرز کا مزاج سمجھنے میں بھی ناکام رہے  یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اب کراچی  کے شہری حلقوں میں  اب  متبادل سیاسی قوت نہیں ہے  
ایم کیو ایم میں قائد کی تبدیلی کا عمل کامیاب ثابت نہیں ہوا اور نئے قائد کے حادثے میں زخمی ہونے کے بعد لاکھوں افراد کا ہجوم تڑپ کر  باہر بھی نہیں نکلا اور  نہ ہی اسپتال اور گھر پہنچا جب فاروق ستار بھائی صحتیاب ہوکر گھر پہنچے تو گنتی کے چند افراد استقبال کیلئے موجود تھے یہاں تک کہ رش کی کیفیت بھی نہیں تھی    جس سے  شہری حلقوں کی لاتعلقی کو تقویت ملتی ہے
بانی ایم کیو ایم  کی  تیزی  سے گرتی ہوئی صحت  اب ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے سے قاصر ہے اس لیئے بظاہر ایم کیو ایم کی  سیاست بانی قائد کی صحت سے منسلک ہوچکی ہے   مضبوط  متحرک  اور طاقتور متبادل  قیادت  موجود نہیں  ہے اس وقت  ایسا کوئی رہنما موجود نہیں  جو بانی  قائد کی طرح مضبوط  اعصاب کا مالک  ہو اور قائدانہ صلاحیت  رکھتا  ہو  ۔ عامر خان ایک واحد نام ہے جو  الطاف حسین کا کسی حد تک متباد ل ہے لیکن کیا قوم  عامر خان کو قبول کرلے گی   جہاں  عامر خان میں دیگر "صلاحیتیں " تو موجود ہیں  لیکن تقریر  کی شاید وہ صلاحیت نہیں جو  ایم کیو ایم کے بانی قائد کے اندر موجود ہے   اسی طرح بانی ایم کیو ایم کے پاس فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی   اور کیا کراچی کی  عوام کو ان تمام  باتوں سے دلچسپی  بھی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا  ایم کیو ایم کیلئے  آپریشن  کے  دوران تنظیمی بحران حل کرنا آسان نہیں ہے    ایک بڑے فوجی آپریشن اور نصیراللہ بابر کے آپریشن  کلین  اپ   کا مقابلہ کرنے  والی ایم کیو ایم آج مزاحمت کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے    اور پورے کراچی کے ایک گلی کوچے میں بھی  مزاحمت نہیں ہوئی دوسری طرف ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو بھی بند کروادیا گیا ہے لیکن  کراچی  کی عوام نے اس معاملے سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے
رینجرز نے بھی طریقہ کار تبدیل کیا اور اس انداز میں  کراچی آپریشن ہوا کہ  آبادی کو ٹارگٹ کرنے کے بجائے مطلوب افراد کو  رات کی تاریکیوں میں  غائب کردیا گیا  اس طرح پارٹی مزاحمت ہی نہ کرسکی  رینجرز گزشتہ دوسال سے رات کی تاریکیوں میں کاروائیاں کرتی رہی لیکن یہ بات کبھی بھی میڈیا پر نہ آئی  رینجرز کا نظر نہ آنے والا آپریشن   ماضی کے مقابلے میں سخت ترین آپریشن تھا لیکن  رینجرز نے ماضی کی کمزوریوں اور خامیوں سے سبق سیکھ کر آپریشن کیا اور رونے کا موقع  بھی نہ دیا    رینجرز  نے بھی اس بار نہ ہی  شہری آبادیوں کے محاصرے کیئے اور نہ ہی عام پبلک کو تنگ کیا
اخبارات اور ٹی وی چینلز کیلئے  الطاف حسین کانام  شجر ممنوع ہے  جس کی وجہ سے  عوامی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے  شاید عوام بھی اس ساری صورتحال سے مکمل  لاتعلق ہیں
اس وقت وہ جان نثار  لڑکے بھی موجود نہیں ہیں جو قائد  کی  ایک کال پر جان کی   بازی لگا دیا کرتے تھے  لڑکے بھی  ملائیشا  دبئی  وغیرہ  کی طرف تیتر  ہوچکے ہیں   ماضی  کے فوجی آپریشن کے دوران   بھی پارٹی نے شدید ترین مزاحمت کی تھی  اسقدر شدید  مزاحمت  تھی کہ فوج بھی گھبرا گئی تھی  جبکہ نصیراللہ بابر کے آپریشن  کا بھی پارٹی نے سخت مقابلہ کیا تھا اس وقت  مزاحمت کرنے والے لڑکے بھی موجود تھے آج وہ لڑکے  بھی موجود نہیں ہیں  گورنر ہاؤس میں بیٹھا ہوا  جان نثار لڑکا بھی اب لڑکا نہیں رہا  اور وہ  اب  کافی سمجھدار  ہوچکا ہے  
دوسری طرف  مصطفٰی کمال صاحب کی پارٹی تیزی سے جگہ بنارہی ہے اور آری سے نا کٹنے  والا  بہاری قبیلہ مصطفٰی کمال کے ساتھ ہے   یوں محسوس ہوتا ہے کہ کمال صاحب معاملات کو  ٹیک اوور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے  وہ خاموشی مگر تیزی سے معاملات کو  اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں  لیکن کیا وہ شہری  حلقوں اور شہری ووٹرز کا دل جیتنے میں کامیاب ہونگے کیونکہ  عوامی مقبولیت تو ان کے پاس بھی نہیں ہے  عوامی مقبولیت کا اندازہ تو آنے والے الیکشن میں ہوگا  

کراچی کی کیمسٹری اور کراچی کے شہریوں کا مزاج سمجھنا نہایت ہی مشکل کام ہے   میری ذاتی رائے ہے کہ کراچی کا شہری ووٹ بینک اگلے الیکشن میں کسی بہت بڑی تبدیلی کے موڈ میں ہے  کراچی اگر جاگ  گیا تو پورے پاکستان میں سیاسی تبدیلیاں شروع ہوجائیں گی  کیونکہ ماضی میں کراچی ہمیشہ سیاسی تبدیلیوں کا مرکز رہا ہے   
Post a Comment