Sunday, 6 November 2016

مچھ جیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان



کسی زمانے میں   بلوچستان کی  مچھ جیل کی وجہ   شہرت یہ تھی کہ وہاں اگر کسی  سیاسی  قیدی کو پھینک دیا جاتا تو پہلے تین سال تک تو اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا کہ  جیل آئے ہی کیوں ہو بعد ازاں  تین سال بعد اس سے خیر خیریت پوچھی جاتی کہ بھائی جان معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے اور تین سال بعد اس کو عدالت روانہ کیا جاتا ہے  ہوسکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو لیکن عوام الناس میں مچھ جیل ایک محاورہ تھا کہ جو زیادہ تنگ کرے اس کو مچھ جیل بھیج دو جہاں وہ بغیر عدالتی ٹرائل کے پڑا رہے گا
غریب آدمی اور عوام الناس کیلئے اعلٰی عدلیہ مچھ جیل ہی بن  چکی ہے  پہلے تین سال تک تو کوئی پوچھتا ہی نہیں  تین سال  بعد کبھی وکیل نہیں تو کبھی  جج نہیں اور زیادہ تر تو نمبر نہیں آتا  اور اگر خوش قسمتی سے نمبر آبھی جائے تو کیس چلتا ہی نہیں ہے  جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت بہت تیزی سے کام جاری ہے
عملی طور پر اعلٰی سطح یعنی سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس کی سطح پر عدالتی نظام کم ازکم غریب آدمی کیلئے مفلوج ہوچکا ہے
اعلٰی عدلیہ میں جاکر غریب صرف دربدر ہی ہوتا ہے  اسی لیئے ساب لوگ آپس میں بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا ساب لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو   عدالت کیوں آیا کیونکہ اربوں کھربوں روپے کے تنازعات کے حل کے دوران غریب آدمی کا تو نمبر ہی نہیں آتا
ہایئکورٹ میں کیسز کیوں نہیں  چلتے یہ ایک الگ بحث ہے 
اگر ہم صرف کراچی میں  بیٹھ کر گزشتہ دس سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو   ڈسٹرکٹ  کورٹس  کی سطح  پر عدالتی نظام میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں
عدالتی نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے ۔ کیسز  کے نمٹائے جانے میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے    جوڈیشل مجسٹریٹ  سینئر  سول ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  ججز کو اب پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ کر بھی رہے ہیں   اور وہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ  ویئر کی وجہ سے اب کام  کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں  ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ بہت اچھا ہوچکا ہے لیکن  ماضی کی ابتر صورتحال کے مقابلے میں   صورتحال بہت ہی زیادہ بہتر ہوئی
اب صرف اہم معاملہ رہ گیا  وہ نااہلی کا ہے کیونکہ سفارشی لوگ جو کسی نہ کسی طرح سسٹم میں  گھس گئے  تھے ان کی نااہلی کی وجہ سے   قانونی مسائل جنم لے رہے ہیں دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نااہلی دونوں اطراف سے ہے  ججز کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی نااہلی کا شکار ہیں   جتنی محنت درکار ہوتی وہ محنت وکیل اب کم ہی کرتے ہیں  جبکہ
دوسری طرف   عدلیہ  میں بھی سفارشی لوگوں کو پروموشن بھی بہت جلد مل جاتی ہے   
     پولیس اسی طرح غلط تفتیش کرکے غریب آدمی کو مقدمات میں پھنسانے  میں مصروف ہے تو  پہلے جعلی کیس ختم ہونے میں تین سال کا وقفہ ہوتا تھا تو اب یہ دورانیہ  پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگیا ہے  اس حوالے سے عدلیہ بدستور پولیس کی سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہے گی کیونکہ  پولیس کی بددیانتی اور غلط تفتیش کو کنٹرول کرنے کیلئے جو صلاحیتیں درکار ہیں اس سطح کے عدالتی افسر  پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ہی نہیں ہیں   صرف ایک فیصد ایسے عدالتی افسران موجود ہیں  جو پولیس کی بددیانتی کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ عدلیہ شاید پولیس کی جعلی تفتیش کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر شاید کیسز ختم کرنے کی پابند ہے  اس کو پولیس کی ذہنی ماتحتی بھی  کہا جاسکتا ہے
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  اگر جائزہ لیا جائے تو  ماضی کے مقابلے میں  کام کی رفتار میں ایک ہزار فیصد تیزی آئی ہے   جبکہ اعلٰی عدالتیں اس حوالے سے بہت  ہی زیادہ پیچھے رہ گئی ہیں  بلکہ عدالتی کام کے حوالے سے اب ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہایئکورٹ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے  
ہایئکورٹ  میں  ججز کی تعداد میں  اضافے کے باوجود کام کی رفتار میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے  اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہورہا ہے    جس کا کوئی حل کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہا
ماتحت عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت ہی زیادہ تیزی آئی ہے  اتنی زیادہ تیزی آئی ہے کہ پورے صوبہ سندھ میں موجود سندھ ہایئکورٹ  کے جتنے جسٹس موجود ہیں  وہ  سب مل کر جتنا کام ایک مہینے میں  کرتے ہیں  ان کے مقابلے میں   صرف کراچی  کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں   بیٹھا  ہوا  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ ایک سینئر سول جج ،ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج     پورے سندھ کے ہایئکورٹ کے تمام  جسٹس حضرات کے مقابلے میں ان سے زیادہ کام کرتا ہے   موجودہ دور میں یہ  بات کسی المیہ سے کم بالکل بھی نہیں ہے 
جس طریقے سے ماتحت عدلیہ میں ججز کو ڈیل کیا جارہا ہے  بالکل اسی طریقے سے ایک جسٹس کو بھی ڈیل کرنے کی  سخت ضرورت ہے  جو کمپیوٹرائزڈ  سوفٹ ویئر ماتحت عدلیہ میں استعمال کیا جارہا ہے وہی  سوفٹ ویئر  اب ہایئکورٹ میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے  باکل اسی طریقے سے  ای میل کی  ضرورت ہے کہ  آج اس کیس میں ججمنٹ ہونا تھا کیوں نہیں ہوا مقصد یہ ہے کہ ایک جسٹس کو بھی اب اسی طریقے سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو ہایئکورٹ ڈیل کرتی ہے  سسٹم کے اندر کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہوتا  کاز لسٹ میں ہرروز کیسز کی  تعداد شاید اس وجہ سے بھی  بڑھ رہی ہے کیونکہ جب مقدمات کو حل نہیں کیا جائے گا ان کو لٹکا کر رکھا جائے گا تو کاز لسٹ میں کیسز کی تعداد میں  دن دوگنی رات چوگنی  ترقی اور اضافہ جاری رہے گا  
جبکہ  سندھ ہایئکورٹ کراچی  میں ڈیڈھ کروڑ  روپے سے زیادہ مالیت کے کیسز  ایک عام کیس کی طرح ٹرائل بھی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ  کراچی  سمندر کے کنارے آباد ہے اس لیئے انگریز سرکار یہ اختیار   ہایئکورٹ کو دے گیا تھا کہ  مخصوص  مالیت کے  دیوانی تنازعات   ہایئکورٹ میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی طرح ٹرائل ہونگے  اسی قسم کے کیسز نے پورے سسٹم کو جام  نہیں  بلکہ  فیل  کررکھا ہے اس لیئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی کو  اس حوالے سے لامحدود نوعیت کے اختیارات دے کر فوری طور پر وہ  تمام دیوانی  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں  ٹرانسفر جو سندھ ہایئکورٹ میں ٹرائل کے  لیئے  کئی سال سے  ٹرائل کے منتظر ہیں اور اس وجہ سے پورا سسٹم ہی جام ہوکر رہ گیا ہے  
اگر آج  پورے صوبہ سندھ کی عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت  زیادہ تیزی آئی ہے تو اس کے پیچھے اس کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کاکمال  ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ بہت زیادہ کمزوریوں کے باوجود ہزاروں خامیوں کے باوجود ہزاروں   مسائل  کے باوجود آج صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس تیزی سے بحران سے نکل چکی ہیں  اور تیزی سے نکل رہی ہیں  اور آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں بیٹھا ہوا ایک عام جج ماہانہ جتنا کام کرتا ہے جتنا ایک عام شہری کو ریلیف فراہم کرتا ہے ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرتا ہے  وہ پورے صوبے کے  تمام جسٹس بھی  ایک ڈسٹرکٹ کورٹ  کے  جج کے مقابلے میں کام نہیں کرپارہے   یہ صورتحال کیوں پیدا ہورہی ہے اور ہوچکی ہے اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیئے
کراچی بار کو چاہیئے ملیر بار کو چاہیئے کہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس حوالے سے خصوصی طور پر جاکر خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے  سیشن  ججز  کو ایوارڈ دینا  چاہیئے  ڈسٹرکٹ عدلیہ کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت زیادہ زیادتی ہوگی  یاد رہے کہ یہاں بات صرف عدالتی  کام کی رفتار پر ہورہی  ہے   یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار میں بہت کمی ہے لیکن  جیسے ہی فضول  اور فالتو قسم کے کیسز ختم ہوجائیں گے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ ملزمان کو کیفرکردار تک بھی پہنچایا جائے گا  موجودہ صورتحال میں تو  عدلیہ صرف ایک  بے مقصد  قسم  کے ٹرائل  کے زریعے پولیس  کی سہولت کار  کا کردار ادا کررہی ہے سارے کے سارے ملزمان باعزت طور پر  ہی بری ہورہے ہیں  جب ملزمان پر  بامقصد عدالتی ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہوگا ان پر سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگا  تو اس کے بعد پاکستان  کی عدلیہ میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جس کے بارے میں نہ تو ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی تصور کرسکتے ہیں
اس سے یہ بھی مراد ہر گز نہیں کہ عدلیہ دھڑا دھڑ سب کو سزا لگانا شروع کردے بلکہ اکثر ملزم  بے گناہ ہی ہوتے ہیں پولیس ان کو مقدمات  میں پھنساتی ہے اور پولیس  کی غلط  تفتیش  کو کو کنٹرول کرنے کیلئے جو مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے  وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے    عدلیہ بھی مجبور ہے  لیکن جب یہ صلاحیت آجائے گی  تو پھر  جو صورتحال جنم لے گی وہ تصور سے ہی باہر ہے 


کسی زمانے میں   بلوچستان کی  مچھ جیل کی وجہ   شہرت یہ تھی کہ وہاں اگر کسی  سیاسی  قیدی کو پھینک دیا جاتا تو پہلے تین سال تک تو اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا کہ  جیل آئے ہی کیوں ہو بعد ازاں  تین سال بعد اس سے خیر خیریت پوچھی جاتی کہ بھائی جان معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے اور تین سال بعد اس کو عدالت روانہ کیا جاتا ہے  ہوسکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو لیکن عوام الناس میں مچھ جیل ایک محاورہ تھا کہ جو زیادہ تنگ کرے اس کو مچھ جیل بھیج دو جہاں وہ بغیر عدالتی ٹرائل کے پڑا رہے گا
غریب آدمی اور عوام الناس کیلئے اعلٰی عدلیہ مچھ جیل ہی بن  چکی ہے  پہلے تین سال تک تو کوئی پوچھتا ہی نہیں  تین سال  بعد کبھی وکیل نہیں تو کبھی  جج نہیں اور زیادہ تر تو نمبر نہیں آتا  اور اگر خوش قسمتی سے نمبر آبھی جائے تو کیس چلتا ہی نہیں ہے  جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت بہت تیزی سے کام جاری ہے
عملی طور پر اعلٰی سطح یعنی سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس کی سطح پر عدالتی نظام کم ازکم غریب آدمی کیلئے مفلوج ہوچکا ہے
اعلٰی عدلیہ میں جاکر غریب صرف دربدر ہی ہوتا ہے  اسی لیئے ساب لوگ آپس میں بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا ساب لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو   عدالت کیوں آیا کیونکہ اربوں کھربوں روپے کے تنازعات کے حل کے دوران غریب آدمی کا تو نمبر ہی نہیں آتا
ہایئکورٹ میں کیسز کیوں نہیں  چلتے یہ ایک الگ بحث ہے 
اگر ہم صرف کراچی میں  بیٹھ کر گزشتہ دس سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو   ڈسٹرکٹ  کورٹس  کی سطح  پر عدالتی نظام میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں
عدالتی نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے ۔ کیسز  کے نمٹائے جانے میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے    جوڈیشل مجسٹریٹ  سینئر  سول ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  ججز کو اب پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ کر بھی رہے ہیں   اور وہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ  ویئر کی وجہ سے اب کام  کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں  ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ بہت اچھا ہوچکا ہے لیکن  ماضی کی ابتر صورتحال کے مقابلے میں   صورتحال بہت ہی زیادہ بہتر ہوئی
اب صرف اہم معاملہ رہ گیا  وہ نااہلی کا ہے کیونکہ سفارشی لوگ جو کسی نہ کسی طرح سسٹم میں  گھس گئے  تھے ان کی نااہلی کی وجہ سے   قانونی مسائل جنم لے رہے ہیں دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نااہلی دونوں اطراف سے ہے  ججز کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی نااہلی کا شکار ہیں   جتنی محنت درکار ہوتی وہ محنت وکیل اب کم ہی کرتے ہیں  جبکہ
دوسری طرف   عدلیہ  میں بھی سفارشی لوگوں کو پروموشن بھی بہت جلد مل جاتی ہے   
     پولیس اسی طرح غلط تفتیش کرکے غریب آدمی کو مقدمات میں پھنسانے  میں مصروف ہے تو  پہلے جعلی کیس ختم ہونے میں تین سال کا وقفہ ہوتا تھا تو اب یہ دورانیہ  پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگیا ہے  اس حوالے سے عدلیہ بدستور پولیس کی سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہے گی کیونکہ  پولیس کی بددیانتی اور غلط تفتیش کو کنٹرول کرنے کیلئے جو صلاحیتیں درکار ہیں اس سطح کے عدالتی افسر  پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ہی نہیں ہیں   صرف ایک فیصد ایسے عدالتی افسران موجود ہیں  جو پولیس کی بددیانتی کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ عدلیہ شاید پولیس کی جعلی تفتیش کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر شاید کیسز ختم کرنے کی پابند ہے  اس کو پولیس کی ذہنی ماتحتی بھی  کہا جاسکتا ہے
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  اگر جائزہ لیا جائے تو  ماضی کے مقابلے میں  کام کی رفتار میں ایک ہزار فیصد تیزی آئی ہے   جبکہ اعلٰی عدالتیں اس حوالے سے بہت  ہی زیادہ پیچھے رہ گئی ہیں  بلکہ عدالتی کام کے حوالے سے اب ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہایئکورٹ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے  
ہایئکورٹ  میں  ججز کی تعداد میں  اضافے کے باوجود کام کی رفتار میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے  اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہورہا ہے    جس کا کوئی حل کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہا
ماتحت عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت ہی زیادہ تیزی آئی ہے  اتنی زیادہ تیزی آئی ہے کہ پورے صوبہ سندھ میں موجود سندھ ہایئکورٹ  کے جتنے جسٹس موجود ہیں  وہ  سب مل کر جتنا کام ایک مہینے میں  کرتے ہیں  ان کے مقابلے میں   صرف کراچی  کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں   بیٹھا  ہوا  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ ایک سینئر سول جج ،ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج     پورے سندھ کے ہایئکورٹ کے تمام  جسٹس حضرات کے مقابلے میں ان سے زیادہ کام کرتا ہے   موجودہ دور میں یہ  بات کسی المیہ سے کم بالکل بھی نہیں ہے 
جس طریقے سے ماتحت عدلیہ میں ججز کو ڈیل کیا جارہا ہے  بالکل اسی طریقے سے ایک جسٹس کو بھی ڈیل کرنے کی  سخت ضرورت ہے  جو کمپیوٹرائزڈ  سوفٹ ویئر ماتحت عدلیہ میں استعمال کیا جارہا ہے وہی  سوفٹ ویئر  اب ہایئکورٹ میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے  باکل اسی طریقے سے  ای میل کی  ضرورت ہے کہ  آج اس کیس میں ججمنٹ ہونا تھا کیوں نہیں ہوا مقصد یہ ہے کہ ایک جسٹس کو بھی اب اسی طریقے سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو ہایئکورٹ ڈیل کرتی ہے  سسٹم کے اندر کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہوتا  کاز لسٹ میں ہرروز کیسز کی  تعداد شاید اس وجہ سے بھی  بڑھ رہی ہے کیونکہ جب مقدمات کو حل نہیں کیا جائے گا ان کو لٹکا کر رکھا جائے گا تو کاز لسٹ میں کیسز کی تعداد میں  دن دوگنی رات چوگنی  ترقی اور اضافہ جاری رہے گا  
جبکہ  سندھ ہایئکورٹ کراچی  میں ڈیڈھ کروڑ  روپے سے زیادہ مالیت کے کیسز  ایک عام کیس کی طرح ٹرائل بھی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ  کراچی  سمندر کے کنارے آباد ہے اس لیئے انگریز سرکار یہ اختیار   ہایئکورٹ کو دے گیا تھا کہ  مخصوص  مالیت کے  دیوانی تنازعات   ہایئکورٹ میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی طرح ٹرائل ہونگے  اسی قسم کے کیسز نے پورے سسٹم کو جام  نہیں  بلکہ  فیل  کررکھا ہے اس لیئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی کو  اس حوالے سے لامحدود نوعیت کے اختیارات دے کر فوری طور پر وہ  تمام دیوانی  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں  ٹرانسفر جو سندھ ہایئکورٹ میں ٹرائل کے  لیئے  کئی سال سے  ٹرائل کے منتظر ہیں اور اس وجہ سے پورا سسٹم ہی جام ہوکر رہ گیا ہے  
اگر آج  پورے صوبہ سندھ کی عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت  زیادہ تیزی آئی ہے تو اس کے پیچھے اس کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کاکمال  ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ بہت زیادہ کمزوریوں کے باوجود ہزاروں خامیوں کے باوجود ہزاروں   مسائل  کے باوجود آج صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس تیزی سے بحران سے نکل چکی ہیں  اور تیزی سے نکل رہی ہیں  اور آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں بیٹھا ہوا ایک عام جج ماہانہ جتنا کام کرتا ہے جتنا ایک عام شہری کو ریلیف فراہم کرتا ہے ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرتا ہے  وہ پورے صوبے کے  تمام جسٹس بھی  ایک ڈسٹرکٹ کورٹ  کے  جج کے مقابلے میں کام نہیں کرپارہے   یہ صورتحال کیوں پیدا ہورہی ہے اور ہوچکی ہے اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیئے
کراچی بار کو چاہیئے ملیر بار کو چاہیئے کہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس حوالے سے خصوصی طور پر جاکر خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے  سیشن  ججز  کو ایوارڈ دینا  چاہیئے  ڈسٹرکٹ عدلیہ کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت زیادہ زیادتی ہوگی  یاد رہے کہ یہاں بات صرف عدالتی  کام کی رفتار پر ہورہی  ہے   یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار میں بہت کمی ہے لیکن  جیسے ہی فضول  اور فالتو قسم کے کیسز ختم ہوجائیں گے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ ملزمان کو کیفرکردار تک بھی پہنچایا جائے گا  موجودہ صورتحال میں تو  عدلیہ صرف ایک  بے مقصد  قسم  کے ٹرائل  کے زریعے پولیس  کی سہولت کار  کا کردار ادا کررہی ہے سارے کے سارے ملزمان باعزت طور پر  ہی بری ہورہے ہیں  جب ملزمان پر  بامقصد عدالتی ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہوگا ان پر سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگا  تو اس کے بعد پاکستان  کی عدلیہ میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جس کے بارے میں نہ تو ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی تصور کرسکتے ہیں
اس سے یہ بھی مراد ہر گز نہیں کہ عدلیہ دھڑا دھڑ سب کو سزا لگانا شروع کردے بلکہ اکثر ملزم  بے گناہ ہی ہوتے ہیں پولیس ان کو مقدمات  میں پھنساتی ہے اور پولیس  کی غلط  تفتیش  کو کو کنٹرول کرنے کیلئے جو مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے  وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے    عدلیہ بھی مجبور ہے  لیکن جب یہ صلاحیت آجائے گی  تو پھر  جو صورتحال جنم لے گی وہ تصور سے ہی باہر ہے 
Post a Comment