Wednesday, 30 November 2016

ڈھائی کلو گرم پکوڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان






پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت بھی پانچ سو چھ بی کے  لاکھوں جعلی اور جھوٹے   مقدمات زیر سماعت ہیں  


پاکستان کے تمام ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک وقوعہ ناقابل یقین حد تک عام ہے یہ ایک جعلی وقوعہ ہوتا ہے جس میں باقاعدہ ڈھونگ رچاکر ایک مصنوعی حملہ کروایا جاتا ہے۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے ہی گھر پر یا اپنے آپ پر یا اپنی گاڑی پر خود  ہی  فائرنگ کروادی جاتی ہے وقوعہ کے گواہ قریبی عزیز واقارب ہوتے ہیں جو پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ فلاں ابن فلاں آیا تھا اور فائرنگ کرکے چلا گیا کوئی بندہ زخمی نہیں ہوا بعض اوقات دروازے یا دیوار پر گولیوں کےنشانات دکھانے کیلئے  چند گولیاں بھی ماردی جاتی ہیں  اقدام قتل کے ایسے تمام مقدمات جن میں کوئی زخمی نہیں ہوتا ایسے تمام مقدمات ہی جعلی اور پلانٹڈ ہوتے  ہیں زیادہ تریہ زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ چار ملزمان دن دیہاڑے گھر میں داخل ہوئے پستول لہرا کر جان سے مارنے کی دھمکی اور دھمکیاں دیتا ہوا چلا گیا
عدالتوں کی آدھی سے زیادہ رونق اس قسم کے جھوٹے مقدمات  کی وجہ سے ہے ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے 22
 اے کے زریعے بھی ایف آئی آر رجسٹر کروائی جاتی ہے  ہماری وکلاء برادری نے بھی بائیس اے کے ساتھ اتنا لاڈ پیار کیا ہے کہ اب اگر بائیس اے کی درخواست لیکر جاؤ تو ججز کو بالکل درست غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ یہ جعلی وقوعہ بنایا گیا ہے  اور وہ درخواست  خارج کردیتے ہیں
گزشتہ دنوں  کراچی  کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ایک سندھی وڈیرے کا مقدمہ آیا جس میں اس وڈیرے نے اپنے ہی گاؤں   کےایک پولیس انسپکٹر کے ساتھ مل کر ایک مشکوک نوعیت کا مقدمہ قائم کیا جس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ چار افراد نے مل کر اس  وڈیرے کو جان سے مارنے کی نیت سے کراچی کی ایک سڑک پر فائرنگ کی لیکن وہ خوش نصیب شخص محفوظ رہا جس کے بعد پولیس نے  فوری طور پر مقدمہ قائم کرکے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو ٹندو آدم سے جاکر گرفتار کیا  اور ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا مجسٹریٹ صاحب نے مکمل روداد سنی اور سننے کے بعد متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کو عدالت کے  اس  جعلی اور مشکوک  واقعہ سے متعلق  تحفظات اور کسی اور تفتیشی افسر سے تفتیش کروانے کا کہا ایس ایس پی نے فوری طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر کیا
اصل حقیقت اس وقت سامنے آئی جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ کہا کہ مدعی مقدمہ کے موبائل فون کا سی ڈی آر ڈیٹا  نکلوا کر لاؤ تو پتہ یہ چلا کہ  مدعی مقدمہ تو کبھی کراچی آیا ہی نہیں تھا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گاؤں  اور قبیلے سے تعلق رکھنے والے تفتیشی افسر نے نمک حلال کیا تھا  اور خودہی ایک خود ساختہ وقوعہ بنا کر  ایف آئی آر رجسٹر کرکے ملزمان کو گرفتار کیا تھا
جج صاحب نے اچھا کردار ادا کیا ان کی وجہ سے ملزمان کی جان بچ گئی لیکن ایک اہم بات یہ سامنے آئی کہ ان تمام حقائق کے باوجود پولیس افسر کے خلاف نہ تو کوئی کاروائی ہوئی نہ کوئی ایکشن ہوا بلکہ اس کو چھوڑ دیا گیا   اس کی وجہ کیا ہے وہ ہم اور آپ جانتے ہی ہیں کہ عدلیہ بحیثیت ادارہ پولیس کی ذہنی ماتحت  اور ذہنی غلام ہے  اس لیئے ایک خاص مقام پر آکر ججز کی حدود بھی ختم ہوجاتی ہیں   جس ملک کا چیف جسٹس پولیس کی ذہنی غلامی اور ذہنی  ماتحتی پر فخر کرتا ہو وہاں ماتحت عدلیہ سے ہم کیا توقع کریں
یہ  ڈسٹرکٹ کورٹس ظلم اور بربریت کی جگہ ہے یہاں آتے ہی انسانیت دم توڑدیتی ہے کیونکہ یہاں آج بھی اقدام قتل  اور جان سے ماردینے کی جھوٹی دھمکیاں  دینے کے ایسے ہی مقدمات پیش ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ایف آئی آر چالان کاپی سپلائی فرد جرم گواہی ہڑتال تاریخیں اچھا چار سال گزرنے کا پتہ ہی کہاں چلتا ہے
کل ایک عجیب واقعہ ہوا ایک    انتہائی  بااثر آدمی نے تھانے سے رابطہ کیا اور اپنے ڈیرے پر بلوا  کر  کہا کہ صبح سویرے مجھے چار افراد نے  لائٹ  ہاؤس کے قریب  پستول دیکھا کر مجھے لوٹ لیا ہے ملزمان کافی دیر سے میرا پیچھا کررہے تھے
ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو کسی منسٹر کے زریعے دباؤ ڈالا تو ڈی ایس پی خود  ڈیرے پر حاضر ہوگیا ڈی ایس پی بہت ہی سمجھدار آدمی اور نفسیاتی مار مارنے والا انسان تھا ڈی ایس  پی پوچھا یہ صبح کتنے بجے کا واقعہ ہے بااثر آدمی نے کہا صبح آٹھ بجے  تو ڈی ایس پی نے  کہا آج صبح آٹھ بجے تو میں اسی چوک پر ڈیوٹی پر تھا اوگشت بھی کررہا تھا  ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو کہا اچھا ایسا کرو وہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں ان کا ریکارڈ دس منٹ کے اندر نکلوا کر لاؤ  ویسے بھی ڈاکو ایک گھنٹے سے پیچھا کررہے تھے راستے میں کتنے سگنل آئے ٹریفک جام ہوا ملزمان کو میرے تھانے کی حدود ہی ملی تھی تمہیں لوٹنے کیلئے
یہ سن کر تو بااثر بندے کی ہوا نکل گئی اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگ گیا  اس سے پہلے کہ ایس ایچ او سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ لینے جاتا وہ بندہ  ڈیرے سے پشی کرنے کے بہانے وہاں سے ایسا  بھاگا کہ مڑ کر دیکھا ہی  نہیں مزے کی بات یہ کہ  بعد میں مجھے ڈی ایس  پی  نے بتایا کہ اس مقام پر سی سی ٹی وی کیمرہ تھا ہی نہیں   مزید  کہا کہ دولاکھ کا کام منسٹر کے فون پر مفت کیوں کریں
گزشتہ دنوں چیف جسٹس سندھ  اور صوبہ سندھ کی  عدلیہ  کے مرد آہن جناب سجاد علی شاہ صاحب نے ایک عجیب بتائی اور ٖ فخر بھی کیا کہ  سندھ کی عدالتوں سے چار لاکھ کریمینل  مقدمات ختم ہوگئے ہیں اور مزید سوا لاکھ مقدمات  ابھی بھی زیر سماعت ہیں  چیف صاحب اگر گستاخی معاف تو ایک ننھی منی سی عرض ہے کہ  جس ملک میں تقریباً سو فیصد   شرح ملزمان کی رہائی کی ہوتو اس ملک میں کیس چلا کر مقدمہ ختم کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے  کیوں اتنا قیمتی وقت  برباد کیا جاتا ہے اگر باقی ماندہ کیسز کی فائلیں کسی کباڑی کو بلا کر  تول کر فروخت کردی جائیں اور ملزمان کو چھوڑ دیا جائے تو  قیمتی وقت بھی بچ جائے گا اور باقی ماندہ مقدمات بھی نمٹ جائیں گے  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جعلی جھوٹے مقدمات پر مبنی کیسز کی فائلیں کسی کباڑی کو ردی کے بھاؤ بیچنے پر یہ بھی ممکن ہے کہ دو ڈھائی کلو پکوڑے ہی مل جائیں گے چیف صاحب ادب سے درخواست ہے کہ جب جعلی جھوٹے اور فریب پر مبنی مقدمات کی فائلیں  ردی کے بھاؤ تول کر بیچ دینے کے بعد اگر ڈھائی کلو  گرم گرم پکوڑے مل جائیں تو پکوڑوں کی  شاندار دعوت اڑاتے ہوئے مجھے  اس دعوت میں شریک کرلینے کی التجا ہے کیونکہ  آج کل کے دور میں   اتنا قیمتی مشورہ کون دیتا ہے وہ بھی بالکل مفت   یقین کریں یہ بہت ہی اچھا مشورہ ہے
بلاوجہ وارنٹ نکلتے ہیں بلاوجہ ہی کورٹ محرر جعلی رپورٹس لگاتے ہیں  بلاوجہ ہی   جعلی گواہی ریکارڈ کی جاتی ہے گواہی ریکارڈ کرتے ہوئے کتنا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے   وکلاء  اوٹ پٹانگ سوال کرکرکے  بلاوجہ کا وقت  برباد کرتے ہیں  اور ججز کے قلم بھی  جھوٹی  گواہیاں لکھ لکھ کر ان کی نوک گھس جاتی ہے بلاوجہ ملزمان کو ڈانٹ ڈپٹ  اور غیر حاضری پر اسکول ماسٹر کی طرح ڈانٹ ڈپٹ  اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات میرا کہنا یہ کہ یہ سب جھوٹ ہے  
Post a Comment