Tuesday, 8 April 2014

9 -اپریل 2008 طاہر پلازہ کے خوفناک واقعات


9 اپریل کے بعد بھی کافی دن تک خوف کے سائے چھائے رہے تھے۔
9 اپریل 2008 خون اورخاک کا وہ کھیل جو ایک سیاسی جماعت نے مشرف کے کہنے  پر پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں کھیلا۔اس کھیل میں بہت سے لوگ ملوث تھے
وکلاء اپنے چیمبرز کی طرف نہیں جاتے تھے۔طاہر پلازہ میں انسانی اعضاء کے جلنے کی بو کافی عرصے تک رہی۔واقعے کے  دوسرے دن جب جنرل باڈی منعقد ہوئی تھی تو وکلاء صرف سسکیوں کے علاوہ کچھ نہ بیان کرسکے۔وہ آنسو وہ خوف وہ سسکیاں وہ وحشت ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ شاید کسی نے تقریر کی ہو کہنے اور سننے کیلئے بچا ہی کیا تھا
بے بسی ہے اداسی ہے اور درد ہے
بلوائیوں نے نہ صرف طاہر پلازہ میں وکلاء تحریک سے منسلک وکلاء کے چیمبرز کو ٹارگٹ کیا بلکہ ان کو نظر آتش بھی کیا۔بنیادی طور پر بلوایئوں کا اصل ٹارگٹ کراچی بار ایسوسی ایشن کے خزانچی  نصیر عباسی صاحب تھے ۔جب وہ نہیں ملے تو الطاف عباسی کے آفس کو ٹارگٹ کیا گیا
جب بلوائی طاہر پلازہ میں  داخل ہوئے تو وکلاء نے حفاظتی اقدام کے طور پر اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر اپنے آفسز میں ہی محصور کرلیا تھا۔بہت بڑی تعداد میں  آفسز کو نظر آتش کیا گیا تو وہ خالی تھے ۔الطاف عباسی  نے بھی اپنے آپ کو باہر سے تالے لگا کر محصور کیا ہوا تھا اندر چند کلایئنٹ بھی موجود تھے جو کہ دم سادھے بیٹھے تھے ۔بلوائی مایوس ہوکر جارہے تھے  ان کو محسوس ہوا کہ اندر لوگ موجود ہیں جس کے بعد ایک مخصوص کیمیکل  کی شیشی جو اس روز پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فسادات کے دوران استعمال ہوئی تھی کو آفس کی کھڑکی  سے اندر پھینک دیا گیا۔منٹوں سیکنڈوں میں انسانی چیخیں بلند ہوئیں دروازے پر حفاظتی اقدام کے طور پر تالے لگے ہوئے تھے۔جس کی وجہ سے آفس میں محصور افراد باہر نہیں نکل سکے۔چند لمحوں میں ہی چھ جیتے جاگتے انسان جل کر کوئلہ ہوگئے۔ انسان تو انسان آفس کے پنکھے تک پگھل گئے
پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں بلوائی اسلحہ اور کیمیکل لیکر گھوم رہے تھے  پولیس اور رینجرز ان سے نظریں چرا رہی تھیں
سینکڑوں لڑکوں نے طاہر پلازہ کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔اس کے بعد وہ سکون سے نیچے اترے ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر وکلاء کی گاڑیاں کھڑی تھیں  وکلاء کے مخصوص اسٹیکرز کے زریعے ان کی گاڑیوں کو شناخت کرکے ان کو بے دردی سے آگ لگادی گئی۔بلوائی وکلاء کو تلاش  کررہے تھے۔اس کے بعد انہوں نے سٹی کورٹ کو گھیرے میں لیا اور وکلاء کی تلاش شروع کردی۔لیکن جب طاہر پلازہ کو آگ لگائی جارہی تھی  اور اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا تو اسی دوران پورا سٹی کورٹ خالی ہوچکا تھا بار رومز ویران تھے۔بلوائی کراچی بار ایسوسی ایشن میں  شہریار  شیری ایڈوکیٹ کو تلاش کرتے ہوئے اور دندناتے ہوئے  داخل ہوئے۔کلوز سرکٹ کیمرے نکالے توڑ پھوڑ  کی فائرنگ  کا سلسلہ جاری رہا اور لیڈیز بار روم کو نظر آتش کرنے کے بعد   ڈسٹرکٹ ویسٹ کے راستے سے واپس ہوئے اور وکلاء کی گاڑیوں کو نظر آتش کرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ تک چلے گئے۔ اسی دوران   وکلاء تحریک کے ایک رہنماء سیدشہریار عرف شیری  جو ایک بہت ہی  معصوم اور سادہ قسم کا انسان تھا کو تلاش کرکے شہید کیا گیا۔
اسی قسم کی ٹولیاں وکلاء کے مختلف آفسز میں گئیں اور وکلاء کے آفسز کو نظر آتش کیا۔9 اپریل کو ایک تو جانی نقصان ہوا دوسرا بہت بڑی تعداد میں وکلاء کے چیمبرز اور گاڑیاں بھی نذر آتش کی گئیں اس کے ساتھ ہی  ملیر میں ۔ملیر بار ایسوسی ایشن کو آگ لگادی گئی تھی
طاہر پلازہ کی اس آگ کو کس نے بجھایا اور کوئلہ بنی لاشوں کو کس نے نکالا کوئی نہیں جانتا
9 اپریل کے بعد کافی عرصے تک سٹی کورٹ میں خوف اور دہشت کا عالم رہا۔اس خوف کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا ڈسٹرکٹ کورٹس میں عجیب قسم کا سناٹا ہوتا تھا۔
جن وکلاء نے ان مناظر کو براہ راست دیکھا وہ کافی عرصے تک صدمے کی وجہ سے خوف کا شکار رہے اور شاید آج تک ہیں۔
شہید وکلاء کے لواحقین آج کس حال میں ہیں؟ جن وکلاء نے ایک عظیم مقصد کیلئے جان دی آج ان کے بچوں کے پاس اسکول کی فیسیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے

صرف عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کا صدر منتخب ہونے کے بعد جب وہ کراچی آئیں تو شہدا وکلاء تحریک کے ورثاء کی خبر گیری کی اور وہ یہ بتاتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں کہ جب وہ اچانک ایک شہید وکیل کے گھر پہنچیں تو ان کا بیٹا اپنے گھر میں چند بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہا تھا اور یہی اس شہید وکیل کے ورثاء کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔اسکول کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Post a Comment