Sunday, 13 April 2014

"بشیرے"



گزشتہ دنوں ایک سٹی کورٹ کے ایک "بشیرے"کا واقعہ بیان کیا تھا جس کے سامنے ایک ملزم کو ہتھکڑی سمیت پیش کیا گیا تھا ۔چیک باؤنس کا کیس تھا ۔زیردفعہ 489-ایف کے  تحت مقدمہ رجسٹر تھا۔ملزم کے بھائی نے پیسے اداکردیئے تھے۔جب ملزم عدالت میں "بشیرے" کے سامنے پیش ہوا تو مدعی نے کورٹ میں بیٹھے "بشیرے" کو بتا یا کہ ہمارا کمپرومائز ہوگیا اب میں کیس نہیں چلاناچاہتا۔میں نے کورٹ سے کہا کہ لین دین کا مسئلہ تو حل ہوگیا اب شعبہ تفتیش والے نہیں مان رہے اس لیئے جب کورٹ کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ معاملہ حل ہوچکا ہے مدعی مقدمہ خود پیش ہوچکا ہے تو اس لیئے ملزم کو رہا کیا جائے ۔ملزم کی فوری ہتھکڑی کھول کر انصاف کیا جائے  "بشیرے"نے انکار کیا تو میں نے کہا کہ ضمانت ہی دے دیں تو بشیرے نے ضمانت کی درخواست پر نوٹس کرتے ہوئے کہا کہ وکیل ساب کونسی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں آپ جانتے نہیں کہ  پہلے پراسیکیوشن کو نوٹس ہوتا ہے اس کے بعد ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوگی اس کے بعد آرڈر ہوگا کورٹ میرٹ دیکھے گی کہ ضمانت بنتی بھی ہے یا نہیں اس دوران ملزم جیل  میں رہے گا۔بہت سمجھایا کہ کامن سینس استعمال کریں کریمینل جسٹس سسٹم ایک سوشل سائینس ہے۔لیکن بشیرے کے سامنے قانون جھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ یہی کہتا تھا کہ سندھ ہایئکورٹ  کا ایک کیس لاء ہے کہ  "بشیرے" انویسٹی گیشن میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ "بشیرے" نے ملزم کوجیل کسٹڈی کیا۔میں نے کہا کہ ایک دن کا ریمانڈ ہی دے دیں تاکہ تھانے سے رہا کروالیں  "بشیرے" نے کہا ڈائریکشن مت دیں میں ایک دن نہیں دودن کا ریمانڈ دوں گا
دودن کا ریمانڈ ہوا تھا ملزم  نے اسی وقت   تفتیشی افسر سے مک مکا کیا آٹھ جماعت تفتیشی افسر نے پیسے لیے ملزم کو اسی وقت رہا کیا اور ملزم کی ہتھکڑی کھول دی میں نے ملزم کا بازو پکڑا تھا اور سیدھا "بشیرے" کے پاس لے گیا تھا کہ یہ دیکھ یہ کام اگر آپ  کرلیتے تو انصاف کا بول بالا ہوتا۔
بدقسمتی دیکھیں کہ اس واقعے کو جب بلاگ پر لکھا تھا تو بہت سے  "بشیروں " نے تبصرے کیئے تھے کہ "بشیرے" نے قانون کے مطابق ٹھیک ہی کیا تھا قواعد وضوابط یہی کہتے ہیں
گزشتہ دنوں لاہور کی  ایک عدالت میں بیٹھے ہوئے بشیرے جنہیں اب آل پاکستان بشیرا ۔ایسوسی ایشن کا چیئرپرسن منتخب کرلیا گیا  جس نے نو مہینے کے بچے کو ضمانت قبل از گرفتاری دی تھی اور خدشہ تھا کہ ملزم فرار نہ ہوجائے اس لیئے 50000 پچاس ہزار روپے کی ضمانت بھی عدالت میں جمع کروائی گئی تھی نو مہینے کا دودھ پیتا بچہ ایک ماہ تک مختلف تاریخوں میں پیش بھی ہوتا رہا تھا کیونکہ پولیس فائل نہ ہونے کی وجہ  سےقواعد و ضوابط یہ کہتے ہیں کہ  ضمانت کی درخواست کی سماعت نہیں ہوسکتی اس لیئے قواعد وضوابط پورے کرکے ہمارے معزز "بشیرے" نے بالآخر ضمانت کی درخواست منظور کرلی اس سارے ڈرامے پر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ۔بی بی سی۔ نے اس حوالے سے ایک  رپورٹ  شائع کی ہے جس کا لنک مندرجہ ذیل ہے رپورٹ بھی من وعن شائع کررہا ہوں۔لیکن بشیروں سے سخت معذرت جو آج بھی یہی کہیں گے کہ  بشیرے نے قواعد وضوابط کے مطابق ٹھیک ہی کیا ہے
لیکن اس پہلے معروف قانون دان نے بشیرے کے بارے میں جو تبصرہ کیا وہ ملاحظہ فرمائیں
"پاکستان کے معروف قانون دان طارق محمود نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ذمہ داری تو اس کے لیے انتہائی چھوٹا لفظ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جج صاحب میں ’کامن سینس‘ ہی نہیں تھی۔ ’جب جج کے پاس اتنی کامن سینس نہیں ہے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ فیصلے کس قسم کے ہوتے ہیں۔
طارق محمود نے کہا کہ اگر جج صاحب کو قانون کا کچھ پتا نہیں تھا تو وہ عقل سے کام لے سکتے تھے"

Post a Comment