Friday, 4 April 2014

میرا اور آپ کا "جاننے کا حق"


جاننے کا حق ۔۔۔ ایک شہری کو حاصل آزادیوں کے حوالے سے جب حقوق کی بات جاتی ہے تو سب سے اہم ترین آزادیوں میں سے ایک جاننے کا حق بھی ہے
میں جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ میرے ادا کیئے گئے ٹیکس کے پیسے کا کیا استعمال ہوا ہے
میں جاننے کا پورا پورا حق رکھتا ہوں کہ میرے ادا کیئے گئے ٹیکس کے پیسے سے میرے پڑوس میں جو  سرکاری اسکول چل رہا ہے اس  میں پڑھائی کا معیار کیوں ناقص ہے ۔میں جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ میرے بچوں کی تعلیم پر حکومت میرے ادا شدہ ٹیکس سے  جو پیسے خرچ کرتی ہے وہ ضائع کیوں ہوجاتے ہیں۔میں جاننے کا حق رکھتا ہوں کہ سرکاری اسکولوں کی موجودگی میں تعلیم کیوں کاروبار بن گئ ہے
مجھے آئین پاکستان پورا پورا حق دیتا ہے کہ میں کسی بھی سرکاری اسکول، ڈسپنسری،اسپتال،شہری حکومت ،یونیورسٹی اور کسی بھی سرکاری محکمے میں سے معلومات حاصل کروں کیوں کہ مجھے "جاننے کا حق ہے"
میں ایک عام شہری جو ہرروز پاکستان کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرتا ہوں ۔میں ایک عام شہری جو ٹوٹے پھوٹے چپل پہنتا ہوں اور میری "شیو" بھی اکثر بڑھی ہوتی ہے میں وہ عام شہری جو بہت حقیر بھی ہوں اور بے توقیر بھی اس لیئے کہ شاید میں جانتا ہی نہیں کہ مجھے جاننے کا حق ہے کہ میرے ادا شدہ ٹیکس سے میرے ادارے جن کا میں مالک ہوں  وہاں کیا ہورہا ہے۔میرے پیسے کا غلط استعمال کیوں ہورہا ہے میں یہ بات نہیں جانتا کہ میں ایک عام شہری تو ہوں لیکن کمزور ہر گز نہیں ہوں حقیر ہرگز نہیں بے توقیر ہر گز نہیں ہوں میری کم علمی میری لاعلمی اور میری خاموشی مجھے کمزور بناتی ہے میری خاموشی ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت ہرماہ میرے ایک بچے پر تین  ہزار روپیہ خرچ کرتی ہے ۔لیکن وہ کسی بدعنوان  سرکاری افسر کی جیب میں چلے جاتے ہیں  اور مجھے مجبور ہوکر تعلیم کو کاروبار بنانے والوں  کو ہزاروں روپے بطور فیس ادا کرنےپڑتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ  میں جب بیمار ہوتا ہوں تو مجھے علاج کیلئے پرایئویٹ ڈاکٹروں کی لوٹ مار کا نشانہ بننا پڑتا ہے
کل تک میرے پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہی حال تھا وہاں جاننے کا حق موجود تھا لیکن کسی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی پھر وہاں ایک  ویڈیو گانا مشہور ہوا جس کے بول تھے " مجھے جاننے کا حق ہے" چند دن کے اندر جاننے کا حق ہر ایک کی زبان پر تھا اور اگلے چند دن میں لوگوں نے غور کیا تو وہ گانا ایک تعلیم دے رہا تھا  ایک پیغام تھا ایک عام آدمی کے نام ایک ٹیکس ادا کرنے والے کے نام ایک حقیر اور بے توقیر شہری کے نام جو احتساب کا روز مطالبہ کرتا تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ ہم سب محتسب ہیں مجھے اور آپ کو احتساب کا پورا پورا حق حاصل ہے
پھر کیا تھا ہر ایک شہری جج بن گیا ہر ایک شہری محتسب بن گیا اور ہر شہری نے ایک عدالت لگالی کہ تم ایسا کیوں کررہے ہو
سادہ سے کاغذ پر  بے توقیر شہریوں نے جب درخواستیں  جمع کروائیں تو ان کی تعداد کروڑوں میں  تھی کہ کیوں تم میرا ٹیکس کا پیسہ لوٹ رہے ہو ۔کیوں تم مجھے وہ سہولت نہیں دیتے جو میرا حق ہے
جب کروڑوں حقیر اور بے توقیر شہری جمع ہوگئے تو پھر وہ حقیر نہ رہے پھر وہ بے توقیر نہ رہے اداروں کو جواب دہ ہونا پڑا
جب تک ہمارے ادیب،فن کار،گلوکار ،موسیقاراور ہماری سول سوسائٹی کے کرتا دھرتا ۔اس عوامی حق کے استعمال کی تعلیم عوام کو نہیں دیتے اس وقت  تک  ہمارا استحصال جاری رہے گا
ہم سب کو کوشش کرنی ہوگی اپنے لیئے اپنی آنے والی نسل کیلئے
Post a Comment