Friday, 27 June 2014

میں ایک ایم این اے ہوں کوئی عام شہری نہیں

فیصل صدیقی صاحب کا شمار پاکستان کے نامور ترین وکلاء میں ہوتا ہے کل  کراچی میں  خواتین  معذور افراد اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق  اور قانونی امداد کے حوالے سے ہونے والے ایک سیمینار کے دوران وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے جاری کیئے جانے والے تاریخی فیصلے  پر تقریر کررہے تھے ۔سیمینار کے شرکاء توجہ سے ان کی گفتگو سن رہے تھے ہال میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی اسی دوران محسوس ہوا کہ کوئی شخص فون پر گفتگو کررہا ہے ۔فیصل صدیقی صاحب نے گفتگو روک کر اس شخص کو مخاطب کیا اور فون بند کرنے کو کہا
وہ شخص بجائے شرمندہ ہونے کے ڈھٹائی اور حیرت سے   ان کو گھورنے لگا جس کے بعد فیصل صاحب نے سختی سے ان کو فون بند کرنے کا کہا
اس کے بعد وہ کچھ ہوا جس کی ہم توقع نہیں کررہے تھے اس شخص نے  ہاتھ میں پکڑا قلم زمین پر دے مارا اور میزبان کو غصے سے یہ کہہ کر بائیکاٹ کرکے چلاگیا کہ میں ایک ایم این اے ہوں کوئی عام شہری نہیں
میں اس واقعہ  پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا لیکن ایک ایم این اے کو اخلاق کے اصولوں کی پابندی کرنی چاہیئے

سیمینار کے دوران ایک 100 افراد کی موجودگی میں خاموشی کو توڑتے ہوئے اس طرح ڈھٹائی سے فون پر بات چیت کرکے ماحول خراب کرنا اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہے
Post a Comment