Friday, 27 June 2014

اچھا اخلاق جو زمانے بھر کو آپ کا مرید بنادیتا ہے

گزشتہ دنوں سندھ ہایئکورٹ بارکے ڈنر کے دوران کراچی کا ایک انتہائی بداخلاق اور بدتمیز سیشن جج پروگرام میں شرکت کیلئے آیا تو اس کے پاس دعوت نامہ نہیں تھا گاڑی میں ہی بھول آیا تھا شاید وہ اپنی ججی کی دھونس میں تھا سیکورٹی اہلکاروں نے اس کو روک لیا اس نے بتایا کہ وہ سیشن جج ہے لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے ایک نہ مانی دعوت نامہ گاڑی میں رہ گیا تھا وہ وکلاء کے سامنے ہی بحث کررہا تھا کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ اس کو جانے دو یہ سیشن جج ہے بہرحال ایک عہدیدار نے مداخلت کی اور پنڈال میں جانے کی اجازت دلوائی
اسی دوران ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ احمد صباء صاحب تشریف لائے ان کو سیکورٹی گیٹ تک پہنچنے کا فاصلہ جو چند گز ہی تھا طے کرنے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا کیونکہ وکلاء میں وہ ہردلعزیز ہیں اور احمد صباء صاحب ہر ایک سے بہت پیار سے ملتے ہیں اور نوجوان وکلاء پر شفقت فرماتے ہیں جس کی وجہ سے سیکورٹی گیٹ کے باہر ہی ان کو ملنے والوں کا مجمع لگ گیا جب وہ وکلاء کے ساتھ پنڈال میں داخل ہوئے تو سیکورٹی اہلکار سمجھ گئے کہ یہ کوئی اہم شخصیت ہے اس لیئے ان کا کارڈ چیک نہیں کیا
سیشن جج تو وہ بدتمیز بھی تھا اور ایک سیشن جج وہ بھی تھا جو ہر ایک سے اخلاق سے پیش آتا تھا دونوں کا اسٹیٹس برابر تھا لیکن ایک نے محبت سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جبکہ دوسرا وکلاء کے سامنے کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ذلیل ہوا
اخلاق ایسا "پیر" ہے جو زمانے کو آپ کا مرید بنادیتا ہے
ججز کو چاہیئے کہ ایسا اخلاق رکھیں کہ جب کرسی پر نہ بیٹھے ہوں اس وقت بھی لوگ ان کی عزت کریں
Post a Comment