Friday, 3 October 2014

جسٹس ٹانگری تحریر صفی الدین




یہ قیام پاکستان سے پہلے کا واقعہ ہے جب اعلٰی عدلیہ میں صرف انگریز جسٹس ہوا کرتے تھے ابھی کالے پیلے لوگوں کو جسٹس بنانے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا  اندرون سندھ کے دور دراز علاقے میں ایک غریب کوہلی نوجوان کو  بکری چوری کا جرم ثابت ہونے پر ایک مجسٹریٹ نے دوسال قید کی سزا سنائی
مجسٹریٹ نے ججمنٹ اناؤنس کردی اور اپنے چیمبر میں چلاگیا اس نوجوان کی ماں روتی پیٹتی چیمبر میں گئی اور فریاد پیش کی کہ یہ نوجوان میرا اکلوتا بیٹا ہے اس پر رحم کرو  یہ اگر جیل چلا گیا تو ہم بھوکے مرجائیں گے ہمارا کوئی کمانے والا نہیں ہے جج نے فائل منگوائی بوڑھی عورت باہر چلی گئی اور اس نے  اپنی ججمنٹ کے نیچے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد سزا میں ایک سال کی تخفیف کردی پیشکار نے بوڑھی عورت کو کہا کہ جج صاحب نے سزا ایک سال کردی ہے
بوڑھی عورت دوبارہ اجازت لیکر چیمبر میں گئی اور دوبارہ فریاد کی  اور کہا کہ یہ سزا بھی بہت زیادہ ہے میرا ایک ہی بیٹا ہے یہ کماتا ہے تو ہمارا گھر چلتا ہے آپ رحم کریں ہم بہت غریب ہیں
مجسٹریٹ نے دوبارہ  اس بات کو شیئر کیا اورایک حکم نامہ لکھا اور سزا کم کرکے تین ماہ کردی جس کے بعد  اس پیشکار نے دوبارہ اس بوڑھی عورت کو جاکر یہ بات بتائی جس کے بعد وہ بوڑھی عورت اس کے بچوں کو لیکر اندر گئی اور جج سے دوبارہ فریاد کی کہ یہ اس کے بچے ہیں اور ایک ہی کمانے والا ہے آپ ہمارے حال پر رحم کریں  ہم لوگ جیتے جی مرجائیں گے جس کے اس بوڑھی کے حالات کو سامنے رکھنے کے بعد اس کے چھوٹے بچوں کی حالت کو سامنے رکھنے کے بعد اس نوجوان کی سزا میں مزید کمی کرنے کے بعد اس کو صرف ایک دن کیلئے جیل بھیج دیا اور ایک بار پھر اپنے اناؤنس شدہ حکم نامے میں ترمیم کی
کورٹ اسٹاف  تو ازل سے ہی چغل خور رہا ہے ذراسی دیر میں یہ بات سیشن جج تک پہنچ گئی سیشن جج نے طلب کیا مجسٹریٹ نے کہا  میں نے جو مناسب سمجھا کیا ہے
سیشن جج نے فوری طور پر کیس کا ریکارڈ طلب کیا اور کراچی میں موجود سندھ ہایئکورٹ کے پاس بھیج دیا چند روز بعد سندھ ہایئکورٹ نے اس مجسٹریٹ کو طلب کیا
جب مجسٹریٹ  انگریز جسٹس کے چیمبر میں داخل ہوا تو اس نے اسے مخاطب کیا  اور کہا کہ جسٹس ٹانگری آپ تشریف رکھیں
یہ سن کر مجسٹریٹ پریشان ہوگیا وہ سمجھا کہ شاید جسٹس صاحب طنزیہ طور پر اس کو جسٹس ٹانگری کہہ رہے ہیں اب خیر نہیں
انگریز جسٹس نے کہا کہ  آپ نے بالکل ٹھیک کیا اچھا آرڈر کیا آپ نے ہم یہاں بیٹھے ہیں ہمیں دور دراز کے لوگوں کے حالات مسائل نہیں پتہ آپ وہاں موجود ہیں آپ نے اس علاقے کے حالات و واقعات کو سامنے رکھنے کے بعد بالکل ٹھیک حکم جاری کیا ہے
اس بات پر اس انگریز جسٹس نے مجسٹریٹ کی بہت حوصلہ افزائی کی

ہم کبھی کسی فرد کو نشانہ نہیں بناتے اور سسٹم میں بہتر تبدیلی کیلئے کوشاں ہیں  
  ایک مجسٹریٹ کا عہدہ اور اختیار چیف جسٹس سے بھی زیادہ ہے  اگر اس کو اپنے آدھے اختیارات کا بھی علم ہوجائےاگر ایک مجسٹریٹ مکمل لیڈرشپ کے ساتھ اپنے اختیارات کو استعمال کرے تو سارا معاملہ ہی ختم ہوجائے گا اور تھانہ کلچر کیوں ختم نہیں ہوگا؟
سوشل میڈیا پر اگر ہم کسی پر تنقید کرتے ہیں کسی عدالتی حکم نامے کو شرمناک قرار دیتے ہیں تو یہ ایک جرم ہے اور سائیبر کرائم ہے تو متاثرہ شخص کو چاہیئے کہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے اور ہمارے خلاف سایئبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کروائے ہم ہمیشہ اس کے احسان مند رہیں گے اس معاملے پر اگر کوئی ہمارے ساتھ رعایت کرتا ہے تو وہ بھی مجرم ہے
صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر جب مجسٹریٹ کے سامنے یہ شہادت پیش کی جاچکی ہو کہ ملزم بے گناہ ہے اور ملزم کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو اور مجسٹریٹ ملزم کی بے گناہی کا خود گواہ بن گیا ہو تو ایسی صورت میں ایک مجسٹریٹ کو چاہیئے کہ وہ "جسٹس ٹانگری" بن جائے اور وہ ایک بااختیار انسان ہونے کا مظاہرہ کرے

چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم اس معاملے کی تہہ تک ضرور جائیں گے وہ کیس لاء کس کے پاس موجود ہے جس کے تحت ایک بے گناہ انسان کو جیل بھیجنے کا قانونی جواز ہے 
Post a Comment