Thursday, 14 May 2015

اردو بلاگنگ کا مستقبل روشن ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




ایک دفعہ کا ذکر ہے  کہ ہم نے ایک ادارے کے ساتھ مل کر ایک ریسرچ  کی جس کا مقصد لوگوں میں کتب بینی  کے کم

 ہوتے ہوئے رجحان کی وجوہات تلاش کرنا تھا۔ ہمیں آنہ لائیبریری کا بھی پتہ چلا
کراچی میں کسی زمانے میں ایسی لائیبریریاں ہر گلی میں موجود ہوا کرتی تھیں جہاں کتابیں  معمولی کرایہ پر پڑھنے کیلئے مل جاتی تھیں پھر رفتہ رفتہ وہ لائیبریریاں ختم ہوگئیں اور لوگوں میں بظاہر کتب  بینی کا رجحان کم ہوگیا
اس ریسرچ کے دوران ایک ایسی ہی لائیبریری کا بوڑھا مالک ملا جس نے میری ساری الجھنیں دور کردیں
میں نے اس بوڑھے سے یہ سوال کیا کہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا رجحان کیوں کم ہوگیا  بوڑھا مسکرایا اور کہا کہ کس نے یہ کہا ہے کہ عوام میں کتب بینی  کارجحان کم ہوگیا ہے  پہلے کسی ابن صفی کو تو تلاش کرکے لاؤ
میں نے کہا اس سے کیا لوگوں میں کتب بینی کے رجحان میں اضافہ ہوجائے گا تو لائیبریری کے بوڑھے مالک نے جواب  دیا کہ لوگوں میں کتب بینی کا رجحان کبھی کم ہوہی نہیں سکتا ہوا کچھ یوں تھا کہ جس زمانے میں گلی گلی آنہ لائیبریریاں موجود تھیں اس زمانے میں ابن صفی کا سکہ چلتا تھا لوگ صبح سویرے ہماری لائیبریری کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہوتے تھے  عوام الناس منتظر رہتے تھے کہ کب ابن صفی کی نئی جاسوسی کتاب منظر عام پر آئے اور کب وہ  حاصل کرکے اس کو پڑھنا شروع کریں
ابن صفی نے عمران سیریز تخلیق کی تو لوگوں میں دھوم مچ گئی جس کی وجہ سے ہر گلی محلے میں  ابن صفی کی دھوم مچ گئی اس کے علاوہ بھی بہت سے اچھے لکھنے والے موجود تھے جن کی کتابیں پڑھنے کیلئے لوگوں میں  ایک تڑپ تھی پھر ہوا کچھ یوں کہ وہ ابن صفی صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ عوام کا مصنف تھا عوام کیلئے لکھتا تھا اور عوام میں اس کی پذیرائی بھی تھی ان کے رخصت ہوتے ہی وہ بات بھی ختم ہوگئی کافی عرصے تک لوگ کسی نئے ابن صفی کے منتظر رہے نئی نسل عمران سیریز کی پرانی کتابیں پڑھتی رہی اور اس کے بعد معاملہ یکسانیت کا شکار ہوگیا کوئی نیا لکھنے والا ابن صفی کی جگہ نہ لے سکا اس طرح پہلے رش کم ہواپھر رش مکمل طور پر ختم ہوگیا پھر اکا دکا لوگ آتے تھے  جو ماہانہ میگزین وغیرہ لیکر جاتے تھے آہستہ آہستہ   ہم خسارے کا شکار ہوگئے اور پھر ایک دن میری لائیبریری بند ہوگئی
کچھ دیگر مصنفین کے نام بھی اس بزرگ نے لیئے تھے جو اب مجھے یاد نہیں رہے
اسی طرح کچھ دن پہلےمیں وارث ڈرامہ کتابی شکل میں پڑھ رہا تھا  جو کہ امجد اسلام امجد کی تحریر ہے تو مجھے اندازہ ہوا کہ انہوں نے ڈرامے کا ایک ایک ڈائیلاگ  ناپ تول کرلکھا ہے یہی وجہ ہے کہ جب  پی ٹی وی ڈرامہ ٹیلی کاسٹ کرتا تھا تواس زمانے میں  گلیاں ویران ہوجاتی تھیں
یہ  تمہید صرف اس لیئے باندھی ہے کہ یار لوگ اردو بلاگنگ کے حوالے سے کافی فکر مند رہتے ہیں میرے خیال میں یہ سب بلاوجہ ہی کی باتیں ہیں  جب کوئ ابن صفی آئے گا  جب کوئی شوکت صدیقی آئے گا جب کوئی امجد اسلام امجد کے پائے کا اردو بلاگر آئے گا  تو اردو بلاگرز کا مستقبل خود ہی روشن ہوجائے گا
مجھے یاد پڑتا ہے کہ جناب وسعت اللہ خان صاحب کی تحاریر کے سحر میں کافی عرصے تک مبتلا رہا  یہاں تک کہ پھر وسعت اللہ خان صاحب سچ لکھتے لکھتے  کسی اور طرف نکل گئے جب کسی اور طرف نکلے تو وہ مزا  اب نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا میں خود ذاتی طور پر گزشتہ دوماہ سے جناب وسعت اللہ خان کو تلاش کررہا ہوں ان کی نئی تحاریر کو تلاش کرتا ہوں نئی آن لائن تحریر سامنے بھی آتی ہے لیکن گزشتہ دوماہ سے  ہربارکسی کی فرمائیشی تحریر پڑھ کر مایوسی ہوتی ہےمجھے لگتا ہے کہ شاید وسعت اللہ خان صاحب کو بھی ہم نے کھودیا ہے
اسی طرح جاوید چودھری کا دور شاندار دور تھا لیکن اب وہ بات باقی نہیں ہے  کیونکہ جاوید چودھری صاحب کی تحاریر میں بھی ایک یکسانیت محسوس ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اردو  اخبارات کے ادارتی صفحات  اب کسی نئے ارشاد احمد حقانی کے منتظر ہیں جو تجزیہ کرسکے اور سامنے لاسکے جو پاکستانی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کرسکے
لیکن اس وقت بلاگنگ کے حوالے سے جن مسائل کی بات کی جارہی ہے ان میں ایک مسئلے پر بات نہیں کی جارہی وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت کوئی اعلٰی پائے کا اردو بلاگر موجود ہے  ؟اور کیا وہ عوام الناس میں مقبولیت حاصل کررہا ہے یا کرچکا ہے یہ دو بنیادی سوالات ہیں
حال  ہی میں منعقدہ اردو سوشل میڈیا سمٹ سے یہ بات سامنے آئی کے اس وقت انٹر نیٹ پر اردو پڑھنے کیلئے بے شمار قارئین موجود ہیں بس نہیں ہے تو صرف کوئی ابن صفی نہیں ہے میں محسوس کررہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ  وہ کونسا اردو بلاگر ہے جو پروگرام کی کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے
یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے  جس سے اختلاف کا بنیادی حق سب کو حاصل ہے اگر کوئی ایسا بے باک بلاگر موجود ہوتا جس کی تحاریر ایک تسلسل سے سامنے آرہی ہوتیں جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کررہا ہوتا اور اس کے خیالات ایک آبشار کی طرح گررہے ہوتے تو  تو یقینناً نہ صرف اردو سوشل میڈیا سمٹ میں اس کو نمائیندگی دینا مجبوری بن جاتی بلکہ  ایسے اردو بلاگر کو ہرفورم پر نمائیندگی بھی ملتی بلکہ ایسے ہی کسی اردو بلاگر کی آمد پروگرام کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی تھی
صرف ایک ابن صفی ایک شوکت صدیقی ایک امجد اسلام امجد کی ضرورت ہے اس کے بعد تو ایک لائن لگ جائے گی  اور اس کے بعد ہی کوئی معاشی سلسلہ شروع ہونا ممکن ہے کیونکہ جب تک  کوئی پبلک ڈیمانڈ سامنے نہیں آجاتی اس وقت تک کوئی نیشنل یا انٹرنیشنل اسپانسر کسی بلاگر کے  بلاگ پر اپنا اشتہار کیوں دے گا یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب اردو کی آن لائن افادیت کو تسلیم کرلیا جائے گا
اردو بلاگنگ کے حوالے سے جتنی بھی باتیں کرلی جائیں  جب تک  ایک ابن صفی  کے پائے کا اردو بلاگر سامنے نہیں آجاتا  اس وقت تک بات نہیں بن سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔صرف باتیں بن سکتی ہیں  جو ہم بنا رہے ہیں 
Post a Comment