Sunday, 14 June 2015

کورٹس کے اصل قواعد و ضوابط کتابوں میں لکھے ہوئے نہیں ہیں تحریر صفی الدین اعوان

دوہزار سات کا واقعہ ہے 
عید میں دودن باقی تھے عدالت بند ہورہی تھی عدالتی وقت  ختم ہونے سے پہلے ایک باؤنس شدہ چیک کے مقدمے میں میرے  کلائینٹ کی ضمانت مجسٹریٹ نے خارج کردی اور مجسٹریٹ صاحب گھر چلے گئے
ملزم   کے بھائی سے میں نے کہا کہ اب عید کے بعد ہوگا ۔ عید کے بعد اپیل کریں گے  لیکن ملزم کا بھائی تھا کہ جان چھوڑنے پر رضامند ہی نہیں ہورہا تھا اس کی ایک ہی رٹ تھی کہ کسی بھی طرح میرے بھائی کو جیل سے باہر نکالنا ہے میں نے کہا بھائی مجھے افسوس ہے کہ اب میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا  کیونکہ جج چلا گیا  دودن بعد عید ہے اور آج سے عید کی تعطیلات اسٹارٹ ہورہی ہیں  اب عید کی بعد ہی سیشن کی عدالت میں اپیل دائر کی جائے گی میں معذرت چاہتا ہوں آپ کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی کوئی مدد نہیں کرسکتا
میں جانے لگا تو اس کے بھائی  نفسیاتی  ہونے لگا گڑگڑانے لگا  منتیں کرنے لگا  اور  میرا راستہ روک لیا  وکیل صاحب آپ اس طرح ہمیں چھوڑ کر نہیں جاسکتے میرے دل میں ان کیلئے ہمدردی تھی لیکن کوئی راستہ تھا ہی نہیں  تو اس کی کیا مدد کرتا
وکیل صاحب میرے پاس پیسہ ہے منہ مانگا پیسہ مجھے میرا بھائی چاہیئے  عید سے پہلے اور میرا دل یہ کہتا ہے کہ آپ میرے بھائی کو باہر نکال سکتے ہو
اس دوران کورٹ سنسان ہوچکی تھی اس کے بھائی کے پاس  نقد کیش موجود تھا
میں نے گھر جانے سے پہلے ایک بار پھر کورٹ کا چکر لگایا ایک تجربہ کار  پیش کار وہاں موجود تھا میں نے کہا کہ آج جس ملزم کی ضمانت خارج ہوئی ہے اس کو کسی طرح باہر نکالا جاسکتا ہے اس کے اہل خانہ پریشان ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا  ان کے ساتھ گھر پر ہی عید کرے
تجربہ کار پیش کار نے کہا وکیل صاحب پیسہ ہے میں نے کہا پیسہ بہت کتنا چاہیئے
پیش کار نے کہا اگر پیسہ ہے تو وہ لڑکا عید گھر پر ہی کرے گا
اسی دوران پیش کار نے ایک موٹی سی گالی اپنے عملے کو دی جو گھر جاچکے تھے
اس کے پاس فائل کا بنڈل تھا جس میں تیس  چالیس فائلیں تھیں اس نے ایک اور فائل میرے ملزم کی  بھی شامل کردی
کہا گاڑی ہے آپ لوگوں کے پاس میں نے کہا ہاں ہے ایسا ہے کہ مجھے  لانڈھی جیل چھوڑ دو اور آپ بھی ساتھ چلو آج آپ کو ایک قانون بھی سکھاؤں گا اور یہ بھی دکھاؤں گا کہ پیسہ ہوتی کیا چیز ہے اور پیسے کی پاور کیا ہوتی ہے
خیر ملزم کے بھائی نے اپنے ملازم کو اشارہ کیا اس نے فائل کا بنڈل اٹھایا اور لانڈھی جیل کی طرف رواں دواں ہوگئے ہمارا ملزم سینٹرل جیل کراچی میں بند تھا
وہاں عید کے سلسلے میں آن ڈیوٹی مجسٹریٹ موجود تھے پیش کار نے فائلیں ان کے سامنے پیش کردیں جس پر مجسٹریٹ صاحبان نے آرڈر کیئے اور چند ملزم رہا کردیئے
مجھے لگا کہ پیش کار ہمیں الو بنا رہا ہے مفت کی گاڑی مل گئی اور آخر میں اس نے معذرت ہی کرنی ہے خیر سینٹرل جیل کیلئے روانہ ہوئے اسی دوران پیش کار صاحب کو ایک موٹی رقم پیش کی جو اس نے یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ کام ہونے کے بعد
مجھے عجیب سا لگ رہا تھا کہ  یار آج یہ پیش کار ہاتھ کرگیا اس نے جیل جانا تھا سرکاری حکم تھا اس نے ہمیں استعمال کیا  اور خوب بے وقوف بنایا ہے  ایسا کہاں ہوتا ہے
سینٹرل جیل کراچی  پہنچے
پیش کار مجھے بھی ساتھ لے گیا  اور کہا کہ یاد رکھنا کہ پیسہ ایک ایسی چیز ہے جس سے سب کچھ خریدا جاسکتا ہے  سب کچھ
وہاں مجسٹریٹ موجود تھے پیش کار نے چند فائلیں سامنے رکھیں جن پر مجسٹریٹ صاحبان نے چند ملزم رہا کردیئے اسی دوران میرے ملزم کی فائل پیشکار صاحب نے چالاکی سے پیش کی
مجسٹریٹ نے کہا یہ کیا آج ہی تو ضمانت خارج ہوئی ہے اس ملزم کی اب میں کیسے رہا کردوں
پیش کار صاحب نے سندھ ہایئکورٹ کا ایک حکم نامہ پیش کیا جس کے تحت   ان تمام ملزمان کو عید کے موقع پر ضمانت پر رہا کردیا جائے جن   پر  ایسے مقدمات ہیں جن کی سزا تین سال سے زیادہ نہیں ہے
پیش کار نے مجسٹریٹ صاحب کو کہا اس نوٹیفیکیشن کے مطابق  آپ ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کے پابند ہیں  مجسٹریٹ ذرا جھجھک گیا کیونکہ اسی دن ہی تو میرٹ پر ضمانت ریجیکٹ ہوئی تھی
اسی دوران سینٹرل جیل کراچی میں ہایئکورٹ کا ایک جسٹس ٹہلتا  ٹہلتا ہوا  نکل آیا پیش کار اس کے پاس گیا بات چیت کی وہ بھی آگیا اس نے  مجسٹریٹ صاحب کو سمجھایا کہ بیٹا ضمانت ہر ملزم کا بنیادی حق ہے
مجسٹریٹ نے ضمانت منظور کی ملزم کا بھائی باہر انتظار کررہا تھا پیش کار گیا اس کو ساتھ لایا  اس کی گاڑی کے کاغذات بطور ضمانت جمع کروائے  جن کی ویریفیکیشن بھی نہیں ہوئی اور ملزم جیل سے باہر تھا
پیش کار صاحب  نے اپنی فیس لی اور چلا گیا
واقعی ضمانت ہر ملزم کا بنیادی حق ہے
بنیادی حق
حق
پیسہ حق دلاتا ہے  بنیادی حق دلاتاہے
واقعی اس دن پتہ چلا کہ اصل قوانین اور اصل ضابطے انگریز کتابوں میں لکھنا ہی بھول  گیا تھا
 میں نے آج تک کسی پیسے والے کاکام کورٹ میں رکتا ہوا نہیں دیکھا  اس کے علاوہ جس نے پیسہ خرچ نہیں کیا اس منحوس کا کام ہوتے ہوئے بھی نہیں دیکھا بلکہ صرف دھکے کھاتے ہوئے دیکھا ہے

تحریر صفی الدین اعوان 
03343093302



Post a Comment