Tuesday, 10 May 2016

اے دنیا پیتل دی تحریر صفی الدین اعوان

پیر صاحب سے ملنے گئے تو کافی خفا تھے ۔
خاموش بیٹھے رہے پھر کہا کہ کیا دریا کا مقابلہ کروگے جو دریا کے مخالف سمت تیرتا ہے تو کنارے پر کھڑے تماشبین تالیاں بجاتے ہیں اور دریا کے ساتھ تیرنے والے  دل ہی دل مذاق اڑاتے ہیں
تم دریا کا مقابلہ کیسے کروگے دریا بھی تو بادشاہ ہوتا ہے وہ کیسے تم کو جیتنے دے گا ایک وقت آئے گا دریا کے مخالف تیرتے تیرتے تھک جاؤگے  اور جب تم ڈوبنے لگوگے تو کوئی بھی بچانے نہیں آئے گا
تم نے دریا کو پار کرنا تھا  جو دریا کے ساتھ ساتھ سفر کررہے ہیں وہ ٹیڑھے  سیدھے  تیر کر جیسے تیسے دریا کی طاقت کو چیلنج کیئے بغیر دریا پار کرلیں گے   ۔ دریا پار ہونا چاہیئے جیسے بھی ہو
تالیاں بجانے والے تماشبینوں کو خوش کرنا بندکرو ڈوب جاؤگے اور بے بسی کی موت مرجاؤگے

یہ کہہ کر باباجی خاموش ہوگئے ان کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں
میں نے کافی سوالات پوچھے بابا جی نے کسی سوال کا جواب نہیں  دیا

پھر ایک بات کی کہ دنیا پیتل دی
اس کا مطلب یہ تھا اب تم جاسکتے ہو

تحریر صفی الدین  اعوان

03343093302
Post a Comment