Tuesday, 17 May 2016

ایک تاریخی مگر ادھورا عدالتی فیصلہ ۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

ایک تاریخی مگر ادھورا عدالتی فیصلہ   ۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سنتے ہی  تینوں ملزمان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ  گئیں  ملزمان کو  سپریم کورٹ آف پاکستان  کے ڈبل بینچ   نے کیس کی سماعت کے بعد باعزت طور پر بری کردیا۔  ملزمان  پر الزام  تھا کہ  دوران ڈکیتی  تین ملزمان  نے ایک پولیس والے کی بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کیا تھا  جس  پر  تفتیش کے بعد میڈیکل رپورٹ  کے   بغیر   پولیس  نے مقدمہ  کورٹ  میں چلانے کیلئے  پراسیکیوٹر کی اجازت  سے کورٹ  میں چالان  پیش کیا تھا  مجسٹریٹ صاحب نے معمول  کی کاروائی  کے تحت  پولیس رپورٹ  کو کیس  کی سماعت  کیلئے منظور کیا تھا جس کے بعد   ایڈیشنل سیشن جج  نے ٹرائل کے بعد ملزمان  کو عمر قید کی سزا سنائی  تھی  ۔ جبکہ لاہور    ہایئکورٹ   نے سزا کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ۔  لیکن  جب یہ کیس سپریم کورٹ  میں  پیش کیا تو سپریم کورٹ  کے جسٹس  میاں ثاقب نثار  پہلی  سماعت  میں ہی معاملے کی تہہ  تک پہنچ  گئے ۔۔۔ جسٹس صاحب نے ملزمان  کو باعزت   بری  کیا  اب حسب معمول جسٹس ثاقب نثار  اور  سپریم کورٹ کے جسٹس  منظور احمد ملک پر مشتمل ڈبل بینچ اچھی اچھی باتیں کررہا تھا
جسٹس ثاقب نثار صاحب فرمارہے تھے کہ ملزمان کے خلاف کیس نہایت  ہی کمزور تھا ۔۔ ریپ کے کیس میں  ایک مہینے کی تاخیر تھی ۔ جس کی وجہ  بھی کوئی نہیں تھی ۔۔مدعی مقدمہ   ایک پولیس والے کی اہلیہ تھی  اس لیئے ان کے پاس ایسی کوئی وجہ موجود نہیں تھی جس کی بنیاد پر وہ ایک مہینہ تاخیر کا دفاع کرپاتے
جسٹس ثاقب نثار صاحب  حسب معمول اچھی اچھی  باتیں کرنے میں مصروف تھے اور ان کی اچھی باتوں سے دانشوری کی جھلک  نظر آتی تھی
جسٹس صاحب نے مزید فرمایا کہ کیس مکمل طور پر کمزور ہے اس حد تک کمزور ہے کہ  زناباالجبر کے کیس میں  میڈیکل شہادت موجود ہی نہیں ہے   ۔  جب  میڈیکولیگل رپورٹ موجود ہی نہیں تو ملزمان کے خلاف جرم کیسے ثابت کیا جائے گا
جسٹس ثاقب نثار کی آواز سپریم کورٹ کی سفید رنگ کی  سنگ مرمر کی بلڈنگ میں گونجتی ہوئی محسوس ہورہی تھی
تمام کے تمام گواہان جانبدار ہیں  ان کی شہادت قابل اعتبار  نہیں ہے   مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر کی رجسٹریشن کیلئے  ایک مہینے کی تاخیر کی ہے اس کے باوجود ڈکیتی  میں چوری ہونے والے سامان کا ذکر نہیں کیا  اس سے بدنیتی ظاہر ہوتی ہے  ۔مزیدیہ کہ گواہان کی گواہی میں تضاد ہے
جسٹس صاحبان کی اچھی اچھی باتیں سن کر عدالت میں موجود سامعین کے دل خوش ہوئے۔ جسٹس صاحبان نے بے گناہوں کو رہا کیا ان کا شکریہ ۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔ کہ آپ کے فیصلے سے چار بے گناہوں کو انصاف مل گیا
لیکن جسٹس ثاقب نثار صاحب کیا آپ ان  تینوں  ملزمان کے جیل میں گزارے گئے  وہ آٹھ قیمتی سال واپس لاسکتے ہیں ۔۔۔جس طرح ذلت آمیز طریقے سے   ان بے گناہ ملزمان کو  منڈی بہاؤالدین کی عدالتوں میں  ہتھکڑیاں  لگا کر  اور گھسیٹ کرپیش کیا جاتا تھا ان ذلت آمیز لمحات کا ازالہ آپ کی عدالت کسی بھی طرح کرسکتی ہے۔۔۔۔۔جسٹس صاحب جس طریقے سے عدلیہ کے زریعے ان ملزمان پر ظلم ہوا کیا اگر یہ ملزم کسی یورپی ملک کے باعزت شہری ہوتے تو  کیا یہ سب ممکن ہوتا
جسٹس  میاں ثاقب نثار صاحب آپ بہت اچھی باتیں کرتے ہیں لیکن کیا آپ  جانتے ہیں کہ  اس ریپ کے کیس میں اصل ملزمان کون تھے۔ اصل ملزمان وہ تھے جن کو آپ کبھی سزا  نہیں دے سکتے۔ اگر ایک بار ان ملزمان کے خلاف ایکشن لے لیا جائے تو اگلی بار کسی بے گناہ کو ہتھکڑی لگانے کی  جرات کسی کو نہیں ہوگی۔ اور آپ کی نااہل عدلیہ میں آدھے سے زیادہ مقدمہ ختم ہوجاتے
جسٹس میاں ثاقب صاحب کیا آپ جانتے ہیں کہ  سپریم کورٹ  میں جس عہدے پر آپ آج بیٹھے ہیں وہاں قیام پاکستان سے پہلے   برٹش دور میں گورے   جج بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔ گورے جج اچھی باتیں کبھی بھی نہیں کرتے تھے  گورے جج کی سیٹ  پر بیٹھ کر اچھی  اچھی  باتیں کرنے سے نفرت  کرتے تھے لیکن ان کی اچھی باتوں کی جھلک  ان کے عدالتی فیصلوں میں نظر آتی تھی  وہ ساری اچھی باتیں اپنے عدالتی فیصلے میں لکھ دیا کرتے تھے
اصل ملزم وہ  پولیس  کا تفتیشی افسر تھا جس نے اس کیس کا چالان پیش کیا ۔۔۔۔ اصل ملزم اس عدالت کا پراسیکیوٹر تھا  جس نے اس کیس کو کمزور شواہد کے باوجود عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی ۔۔ اس کیس کا مرکزی ملزم   پاکستان کی نااہل  عدلیہ سے منسلک وہ نااہل مجسٹریٹ تھا جس نے  میڈیکل رپورٹ کے بغیر کیس کو سماعت کیلئے منظور کیا ۔۔۔۔ کیونکہ  منڈی بہاؤالدین کے جس مجسٹریٹ نے یہ کیس سماعت  کیلئے منظور کیا اللہ کے فضل وکرم سے اس کی انگلش  بہت اچھی تھی ساری گرامر جانتا تھا ۔۔۔ ہاں صرف ایک چیز کے بارے میں نہیں جانتا تھا وہ تھا قانون   کے بارے میں علم  یہی  وجہ ہے کہ اس نااہل انسان نے میڈیکل رپورٹ کے بغیر  پولیس چالان کو سماعت کیلئے منظور کرکے اس پر انتظامی حکم نامہ جاری کرکے  ایک جرم کیا اور آپ کے نااہل مجسٹریٹ کے جرم کی سزا  ان  تین   بے گناہ ملزمان  کو اس طرح   ملی کہ ان کو آٹھ سال تک عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹا گیا  اس کیس کا ایک مرکزی  ملزم وہ نااہل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  بھی تھا جس کے سامنے  ریپ کے کیس میں میڈیکل رپورٹ  پیش نہیں کی جاسکی  جس کے سامنے آپ کے ذکر کردہ سارے  کے سارے  شواہد موجود تھے کہ    ایک مہینے کی تاخیر سے  زنا بالجبر کی  ایف  آئی  آر رجسٹر کروا  کر بنایا گیا مقدمہ جھوٹا ہے  میڈیکل رپورٹ موجود ہی نہیں تھی۔  اور گواہان کے بیان میں شدید تضاد تھا۔
اس کے باوجود  تین بے گناہ انسان آپ کے عدالتی نظام کی سولی پر لٹکے رہے  جس کی ذمہ داری صرف اور صرف وہ  نااہلوں کی فوج  مظفر ہے جس کا کام ہی بے گناہ افراد کو ان کے ناکردہ گناہوں کی سزا دینا ہے  
 اور جسٹس ثاقب نثار صاحب  آپ اچھی اچھی باتیں کرتے کرتے آپ کیوں یہ بھول گئے کہ اس کمزور سے کمزور ترین مقدمے کی اپیل  لاہور ہایئکورٹ کے ایک جسٹس کے سامنے  کی گئی ۔۔۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ دنیا کے عدالتی نظام میں لاہور  ہایئکورٹ کا کیا مقام تھا ۔۔۔ برصغیر پاک  وہند میں  لاہور ہایئکورٹ کا کیا مقام تھا  ۔ جسٹس ثاقب نثار صاحب   کیا لاہور ہایئکورٹ کا آج یہ مقام ہے  کہ  اس کے ایک نااہل جسٹس نے  تینوں ملزمان کی سزا کو برقرار رکھ کر نااہلی کے اس جرم میں  اپنا حصہ بھی شامل کرلیا
قابل احترام جسٹس ثاقب نثار صاحب  گستاخی معاف میں عرض کرنا یہ چاہتا ہوں کہ  آپ نے ادھورا انصاف کیا ہے  صرف ملزمان کو باعزت طور پر بری کردینا کافی نہیں تھا ۔ آپ  ملزمان کو باعزت  طور پر بری کرنے کے بعد  تفتیشی افسر اور  پراسیکیوٹر کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی  شروع کرنے کا حکم دیتے  
اپنے محکمے کے مجسٹریٹ ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اور لاہور ہایئکورٹ کے اس   نااہل جسٹس کو جس نے ملزمان کے خلاف سزا کا حکم برقرار رکھا تھا کو کٹہرے میں کھڑا کرکے  اپنی اس   نااہل بریگیڈ کو حکم دیتے کہ نااہلو اور نالائقو   یہ تمہارے سامنے  تین پاکستانی شہری موجود ہیں تم ان سے معافی مانگو  کیونکہ اگر تم لوگ نااہل نہ ہوتے تو  میڈیکل رپورٹ کے بغیر کبھی  بھی ان کے خلاف  ریپ  کے کیس کی سماعت ممکن ہی نہ ہوتی ۔  کیس رجسٹر ہی نہ ہوتا  ۔۔۔ظلم کی حد یہ ہے کہ میڈیکولیگل رپورٹ کے بغیر   ریپ کا جو کیس رجسٹر ہی نہیں ہونا چاہیئے تھا  نہ صرف وہ  کیس  مجسٹریٹ کی  نااہلی کی وجہ سے رجسٹر ہوا بلکہ   آپ کی  نااہل  اور نالائق  عدلیہ  نے سزا بھی لگادی  ۔۔۔۔نااہلی کا یہ سلسلہ سیشن جج سے ہوتا ہوا  ہایئکورٹ تک جا پہنچا  جس کے بعد آٹھ سال بعد سپریم کورٹ  سے  ملزمان کو صرف اس حد تک انصاف ملا کہ  عدالت نے ان کو رہا کرکے کیس کے اصل   پانچ  مرکزی  ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی کیئے بغیر  ملزمان کو ادھورا انصاف دیا  جسٹس ثاقب نثار صاحب آپ  کے اس ادھورے فیصلے کی وجہ سے پاکستان کا سارا عدالتی نظام داؤ پر لگ گیا ہے آج   جس طرح نااہل افراد ہایئکورٹ کے جسٹس کے عہدے تک پہنچ کر اس عہدے کو مذاق بناچکے ہیں  کل یہی نااہل سپریم کورٹ میں   بھی جا دھمکیں گے  پاکستان کے شہری انصاف کیلئے کسی جسٹس ثاقب نثار کو کہاں تلاش کرتے پھریں گے  آپ کے عدالتی فیصلوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نااہلوں کی فوج  سپریم کورٹ  کے قریب پہنچ چکی ہے اور بہت جلد پاکستانی قوم کا اللہ ہی حافظ ہوگا ۔۔۔۔۔ میں یہاں سپریم کورٹ کے  جسٹس صاحبان کی خدمت میں عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ سپریم کورٹ  کی جانب سے   پولیس پراسیکیوٹر اور نااہل ججز  بشمول  لاہور ہایئکورٹ  کے جسٹس کے خلاف کاروائی  نہ کرنا  ڈبل  بینچ  میں موجود دونوں قابل احترام جسٹس صاحبان کی اہلیت پر ایک مستقل سوالیہ نشان   ہے
اگر آپ نے اس تاریخی فیصلے میں  مجسٹریٹ ، ایڈیشنل سیشن جج اور جسٹس صاحب کے خلاف ایکشن لیا ہوتا تو  دوبارہ کسی نااہل کو  اتنی دیدہ دلیری سے نااہلی کی نمائیش کرنے کی ہمت نہ ہوتی

یہی تو  واضح فرق ہے پاکستانی عدلیہ اور قیام پاکستان  سے پہلے کی عدلیہ میں  کیا آپ  تصور کرسکتے ہیں کہ اگر برٹش دور ہوتا تو سپریم کورٹ کا ڈبل بینچ  اس کیس میں کیا فیصلہ سناتا۔۔۔ وہ ملزمان کو باعزت  بری کرنے سے پہلے  نااہل ججز ، عدالت کے پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی  افسر کے خلاف  ایکشن لیتا اس کےبعد ملزمان کو باعزت  بری  کرتا۔۔ یہ فرق ہے کل کی برٹش دور کی اہل عدلیہ اور آج کی نااہل عدلیہ ۔۔۔ ایک اور بڑا فرق یہ بھی ہے کہ گورے جج اچھی اچھی باتیں  نہیں کرتے تھے لیکن ساری اچھی اچھی باتیں  عدالتی فیصلوں میں تحریر کردیا کرتے تھے    جبکہ ہمارے جسٹس صاحبان کو اچھی اچھی باتوں سے فرصت ہی نہیں ملتی  ۔۔۔ جو نااہلی پاکستانی عدلیہ کی شان بن چکی ہے وہ برٹش دور میں ایک ناقابل معافی جرم تھی 
سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ نے  اپنے فیصلے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے  وہ عام فہم ہیں بالکل ہی سادہ ہیں   جوکہ آپ کی عدالت کے باہر بیٹھے  ان پڑھ  چوکیدار کی سمجھ   میں بھی آسکتے  ہیں  یہ کوئی پیچیدہ قانونی  نکات  نہیں ہیں یہ  سادہ  نکات مجسٹریٹ کی نظر سے کیوں نہیں گزرے ہیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج کی نظر سے کیوں نہیں گزرے اور سب سے  بڑھ کر ہایئکورٹ کے جسٹس کی نظر سے کیوں اوجھل رہے   ان سب باتوں نے پورے پاکستان کے عدالتی نظام کو مشکوک بنادیا ہے  سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ کیس رپورٹ بھی ہوگیا 
یہی وجہ ہے کہ  پاکستان کی عدالتوں  میں وکالت کا شعبہ ختم ہوتا جارہا ہے وکالت کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ کم از کم وکالت نہیں کچھ اور ہے  ۔۔۔۔عدالت اب عدالت نہ رہی  وکیل ۔۔۔وکیل نہ رہے اور آپ کے جج اب جج نہ رہے

ذاتی طور پر میرے پاس اس وقت بے شمار کیسز کے  ریفرنسز موجود ہیں جس میں  کافی بےگناہ لوگ صرف اس وجہ سے  کراچی  کی ڈسٹرکٹ کورٹس  کی  عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ مجسٹریٹس کی نااہلی کی وجہ سے ان کے خلاف کیس رجسٹر ہوگئے  اور عدلیہ کی جانب سے  پولیس کی ذہنی ماتحتی اور پولیس کی ذہنی غلامی کا  یہ سلسلہ پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے


اے دنیا پیتل دی ۔۔۔۔۔
                                         اس تحریر میں جس  ریپ کیس کا حوالہ دیا گیا ہے  وہ کیس لاء  ( ایس سی ایم آر 2016 فروری کے شمارے میں صفحہ نمبر 267  پر رپورٹ کیا گیا ہے یہ فیصلہ  سپریم  کورٹ  آف پاکستان  کے ڈبل بینچ نے دیا جس میں جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس منظور احمد  ملک شامل تھے  اس کیس کی ججمنٹ کو جسٹس  منظور احمد ملک نے تحریر کیا ہے
2016 SCMR  PAGE 267
لاء سوسائٹی پاکستان عدالتی اصلاحات پر یقین رکھتی ہے اور لاء سوسائٹی پاکستان کا اردو بلاگ    قانون کے شعبے سے منسلک اردو پڑھنے والے حلقوں میں مقبول ترین بلاگ ہے   اور پاکستان میں جاری عدالتی اصلاحات کے عمل میں  پاکستانی عدلیہ کے ساتھ  ہم سفر ہیں
صفی الدین اعوان کراچی

03343093302
Post a Comment