Thursday, 12 May 2016

عدلیہ اور آئینی حقوق تحریر صفی الدین اعوان


گزشتہ دنوں   ایم ایل ڈی  مارچ کے شمارے میں   لاہور ہایئکورٹ  نے ایک اہم ترین فیصلہ  شائع   کیا  ہے جس میں   بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سرگودھا کے سخت ترین اصولوں کو  خلاف قانون قرار دیا ہے   فریال نورین نامی لڑکی نے  میٹرک  کا امتحان  اے ون گریڈ کے ساتھ پاس کیا جب کہ انٹر میں اس کا اے گریڈ تھا جس کی وجہ سے اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں نہ ہوسکا اسی دوران  انٹر کے نمبروں میں اضافے کیلئے اس نے  چند مضامین کا دوبارہ امتحان دیا
فریال نے  منتخب مضامین  کا دوبارہ امتحان دیا اور اس کے  شاندار نمبر بھی ان پیپرز میں آئے  لیکن بدقسمتی سے بایئولوجی کے پیپر والے دن امتحان  کیلئے موٹرسائیکل پر اپنے بھائی کے ساتھ  جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا اور وہ اسپتال پہنچ گئی
بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن نے فریال کو غیر حاضر قرار دیکر اس کی مارک شیٹ روک لی جس کے بعد اس نے  لاہور ہایئکورٹ میں پٹیشن  داخل کی  جس پر سرگودھا بورڈ نے اپنے سخت ترین  اصولوں  کا حوالہ دیا
پٹیشن کی سماعت کے بعد اپنے تفصیلی فیصلے میں  لاہور ہایئکورٹ  کے جسٹس  شاہد جمیل خان نے بورڈ کے ان  قواعد کو جو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہے  کو نہ صرف خلاف قانون قرار دیا بلکہ ایسے اصولوں کیلئے    سخت  اور کٹر  کا لفظ استعمال کیا ہے اور  آئین کے آرٹیکل  پچیس  یعنی تعلیم کے حق  کی  آئینی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے   فریال کو  اضافی   نمبر  والی نئی مارک شیٹ جاری کا حکم  دیا ہے

یہ ایک اہم فیصلہ ہے کیونکہ  بورڈ کے غلط سخت اور خلاف قانون فیصلوں کی وجہ سے   ماضی میں ہزاروں  طلباء کا مستقبل تاریک ہوا  ۔۔۔ عدلیہ کا بنیادی کام یہی ہے کہ وہ بے لگام سرکاری اداروں کو من مانی کرنے سے روکے  
 پاکستانی شہریوں کے بنیادی قوانین آئین کے تحت محفوظ ہیں اگر  ہمارے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو  شہری بذریعہ آئینی پٹیشن  اپنے گمشدہ غصب شدہ  حقوق کو واپس  حاصل  کرسکتے ہیں  
MLD 2016  PAGE Number 438

 
صفی الدین اعوان 
03343093302
Post a Comment