Saturday, 7 May 2016

کراچی بار ایسوسی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

حالیہ دنوں میں کراچی بارایسوسی ایشن کو ایک کامیابی ملی ہے اور وہ کامیابی عدلیہ کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانا ہے  مدت ہوئی عدلیہ اور  بار ایک ڈھیلے ڈھالے انداز میں چل رہے ہیں اسی دوران  عدلیہ   ججز کی تعیناتی کا سلسلہ شروع کیا جس کے بعد سندھ ہایئکورٹ کے نااہل جسٹس صاحبان پر مشتمل سیلیکشن بورڈ نے اپنے ہی جیسے  اسی فیصد سے زائد   امیدواروں کو سول جج کے عہدے پر فائز کردیا
بدقسمتی سے  سندھ ہایئکورٹ کے جسٹس صاحبان  پر مشتمل  سلیکشن  بورڈنے  ان لوگوں کو سول جج لگادیا جن کی صرف ایک دن کی بھی پریکٹس نہیں تھی    کیونکہ سیلیکشن بورڈ  میں موجود  جسٹس صاحبان یہ سمجھ رہے تھے کہ  جس شخص نے کبھی پریکٹس نہیں کی وہ بہت اچھا جج بن سکتا ہے    حالانکہ  صرف یہ صوبہ  سندھ کی بدقسمتی  ہے کہ  یہاں  ایک دن کا وکیل جج بن سکتا ہے باقی  تین صوبوں میں تجربہ کار وکلاء کو جج  لگایا  جاتا ہے میرٹ کے   نام پر عدلیہ کو  ہرقسم کے نااہل افراد سے بھردیا گیا ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان نااہلوں کی جتنی بھی تربیت کرلی جائے ان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا   جب حالات قابو سے بالکل ہی باہر ہوگئے تو وکلاء اور سول ججز کے درمیان لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے جس کے بعد مسئلہ توہین عدالت کا شروع ہوا۔ نوآموز سول ججز پولیس کی غلامی  پر مجبور ہوگئے  اور بے گناہ  افراد کو بے شمار مقدمات میں نامزد کیا گیا
تو وکلاء میں بے چینی پھیل گئی اسی دوران سندھ ہایئکورٹ میں معاملات اسقدر خراب ہوگئے کہ جسٹس صاحبان کو یہ خوش فہمی ہوگئی کہ عدلیہ کا نظام عوام کے ٹیکس سے نہیں بلکہ ان کے باپ دادا کے گلاب کے باغوں کی آمدنی سے عدلیہ کا نظام چلتا ہے پھر تو  من مانیوں کا سلسلہ تیز سے تیز تر ہوتا چلاگیا
ایک طرف نااہل سول ججز کی بھرتی دوسری طرف ذہین اور تجربہ کار وکلاء کا راستہ ہر طریقے سے روک دیا گیا
عدلیہ میں تجربہ کار وکلاء کی تعیناتی کا ایک سلسلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی براہ راست تعیناتی کا بھی ہے جس کیلئے  چھ سال کا تجربہ ضرورت ہوتا ہے لیکن جب دل میں دھوکہ اور وکلاء سے  شدید نفرت موجود ہوتو من مانی کون مائی کا لال روک سکتا ہے
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کی نشستوں پر امتحانات کے بعد وکلاء کی بجائے ججز کو منتخب کیا  گیا یہ کہہ کر وکلاء نالائق ہیں ۔ لیکن وہ لوگ قابل ٹہرے جو ساراسارادن عدالت میں بیٹھ کر  اپنی نااہلی کی وجہ سے پولیس کی ذہنی غلامی پر مجبور ہیں  
عدلیہ کی نااہلی کا کیا معیار ہے ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج معین بانو سوڈھر جس کی عدلیہ میں بحیثیت جج سروس کو   چوبیس سال ہوچکے ہیں  گزشتہ دنوں ان کے سامنے پیش ہوئے تو حبس بے جا کی درخواست پر آرڈر کرنے نہیں آتا تھا اس کو  چوبیس سال کی سروس کے بعد بھی یہ پتا نہیں تھا کہ یہ حبس بے جا کیا ہوتا ہے بہت ہی مزے سے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ یہ درخواست متعلقہ جج کے سامنے پیش کی جائے ۔ کیونکہ وہ لنک جج  تھی  سوال یہ ہے کہ لنک جج بنائے ہی کیوں جاتے ہیں ۔  لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ  اس خاتون  نے بحیثیت  جج  کتنے لوگوں کا مستقبل تباہ کیا ہوگا   اپنی  نااہلی  سے کتنے لوگوں کو دربدر کیا ہوگا اور آج بھی لگی ہوئی ہے اتنی نااہلی یہ نااہلی نہیں عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ کس  بات  کی تنخواہ  اور مراعات  سے  اس قسم کے نااہل لوگوں کو نوازا جارہا ہے   کراچی  بار  کو اس قسم کے لوگوں کے خلاف  مہم شروع کرنی چاہیئے  اسی قسم کے نااہل ججز کی وجہ سے وکالت ختم ہوچکی ہے اور دلالت   باقی رہ گئی ہے  اور یہ نااہل جب ریٹائر ہوکر آتے ہیں تو غیرقانونی  طور ایک بار پھر یہ سمجھ کر ان کو جج لگا دیا جاتا ہے کہ عدلیہ  کو ملنے والا پیسہ  ان کے باپ دادا کے گلاب کے باغوں کی  آمدن سے حاصل ہوتا ہے یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے جو ٹیکس دیکر عدالتی نظام سے انصاف حاصل نہیں کرپاتے  اسی طرح بے شمار  نااہل لوگ عدلیہ نے سول جج سے پرموٹ کرکے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لگائے یہ گھناؤنا کاروبار بھی ختم ہونا چاہیئے اور اس کیلئے بھی این ٹی ایس  کا سلسلہ شروع کرنا چاہیئے
ایک طرف نااہلوں کی فوج کو گھما پھر کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لگا یا گیا   جس  سے عدلیہ مکلم طور پر تباہ و برباد ہوچکی ہے دوسری طرف جب وکلاء کی باری آئی تو اس دوران بھی وکلاء کو عدلیہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد عدلیہ نے یہ مائینڈ سیٹ بنالیا  کہ وکلاء کو عدلیہ میں شامل ہی نہیں کرنا پولیس کے  ذہنی غلاموں کو دھڑا دھڑ پروموشن  دیکر وکلاء کے حقوق کو خاموشی سے غصب کرلیا گیا  اور بار خاموش رہی  کیونکہ وکلاء کے نمائیندے   جو کروڑوں روپے خرچ کرکے  منتخب  ہوتے ہیں  ان کو اپنا پیسہ وصول کرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی  تھی     اب حال یہ ہے کہ  عدلیہ  میں موجود سارے کے سارے سفارشی لوگوں کو پروموشن دیکر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لگا دیا گیا ہے
آخر کار کراچی بار کی منتخب کابینہ حرکت میں آئی  ایک احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس سے پہلے کہ تشدد کا کوئی بہت بڑا واقعہ ہوتا عدلیہ اور بار کے مذاکرات ہوئے لیکن وہ تحریری نہ تھے جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی کہ شاید کوئی خفیہ ڈیل ہوگئی ہے
اللہ کا شکر ہے سندھ ہایئکورٹ نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے بعد ان مذاکرات کو قانونی  حیثیت حاصل ہوئی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے
کراچی بار ایسوسی ایشن سندھ ہایئکورٹ سے یہ  تحریری یقین دہانی لے کہ  مستقبل میں  صرف تجربہ کار پریکٹسنگ وکلاء جن کی پریکٹس تین سال ہوگی کو سول جج بنایا جائے گا
کوئی بھی جج وکلاء کے ساتھ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے امتحان میں شریک نہیں ہوگا
ججز  کے پروموشن کیلئے  ان کو تحریری امتحان سے گزرنا لازمی ہوگا
ریٹائرڈ ججز کو کسی صورت اور قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا صرف اسی  صورت میں ان  کو برداشت کیا جائے گا  جب چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ ان کو تنخواہ اور دیگر مراعات اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے اداکریں گے
جو جج فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے یا ایسے ججز جن  کو چوبیس سال کی سروس کے بعد بھی  حبس بے جا  سمیت بنیادی قوانین کا نہیں  پتہ کراچی بارایسوسی ایشن ان کی ہرصورت میں نشاندہی کرے گی اس کا بھی ایک طریقہ کار طے کیا جائے گا ۔ کیونکہ نااہل ججز ہی کی وجہ سے وکالت کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے
کراچی بارایسوسی ایشن  سندھ ہایئکورٹ سے یہ تحریری ضمانت لے کہ عدلیہ میں وکلاء کی شرح کیا ہوگی کیونکہ زبانی طور پر بتایا جاتا ہے کہ  سیشن کی سطح پر وکلاء کی شرح چالیس فیصد ہوگی اور ساٹھ فیصد ججز کو پروموشن دے کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنایاجائے گا لیکن موجودہ شرح میں صرف دوفیصد وکلاء کو  ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ  اینڈ  سیشن جج  کی سطح  پر نمائیندگی دی گئی ہے  یہ غنڈہ  گردی  اور بدمعاشی ہے اس لیئے فوری طور پر غیر قانونی غیر آئینی اور غیر اخلاقی پرموشن کا سلسلہ بندکروانا چاہیئے  عدلیہ کو ہرصورت میں وکلاء کے حقوق غصب کرنے سے روکنا  کراچی بار  کی ذمہ داری ہے

نااہل جج ختم ہونگے تو نااہل وکلاء بھی ختم ہونگے اور جب یہ دونوں نہیں ہونگے تو جھوٹے مقدمات  بھی ختم ہونگے ۔ کراچی بارایسوسی ایشن کو ایسے ججز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے جو بلاوجہ کے مقدمات کو ختم کرتے ہیں  وکلاء کا ایک مافیا سرگرم ہے جو جھوٹی درخواستیں لگاکر تاریخ لینے کاکاروبار کرتے ہیں اس قسم کے لوگوں کی کسی صورت  حمایت نہیں کرنا چاہیئے  جو ججز وکلاء کے پیش نہ ہونے پر جرمانے عائد کرتے ہیں  ان کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے

سندھ ہایئکورٹ کی جانب سے اہلیان  سندھ پر مسلط کی گئی نااہلوں کی فوج نے جو ظلم توڑے ہیں جس طریقے سے بے گناہوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے  اور گناہگار کو رہا کرنے کا ٹھیکہ اس نااہل مافیا نے لیا ہے اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی  ہم اتنے دھڑلے سے یہ باتیں اس لیئے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مصدقہ ریکارڈ موجود ہے
لیکن اصل قصور  وار ہمارے وکلاء ہیں جو  بار کا ووٹ  جرائم  پیشہ افراد کو دیتے ہیں  جو صرف بریف کیس کی  وکالت کے زریعے  مال کمانے کیلئے بار میں آتے ہیں  ہمیں ہرصورت میں  ان جرائم پیشہ افراد کا راستہ روکنا ہوگا  ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جو شخص بار کے اعزازی عہدے کیلئے کروڑوں  روپے خرچ کرتا ہے  کیا وہ اتنا بے وقوف  ہے کہ  کل وہ وصولی نہیں کرے  گا  وہ سب سے پہلے اپنا لگایا گیا پیسہ وصول کرے گا وہ عدالتی نظام کو مزید تباہ کرکے یہیں سے پیسہ   کمائے گا  اور عدالتی نظام کی تباہی سے مراد  پیشہ وکالت کی بربادی ہے
ہمارے ڈسٹرکٹ کورٹس کے بے شمار وکلاء بیرون ملک  خصؤصاً   لندن میں کامیابی سے لاء فرمز چلارہے ہیں اور   بے شمار زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں  وہ    پاکستان میں کامیاب وکالت اس لیئے نہیں کرسکتے تھے کیونکہ  وکالت  تو ہے ہی نہیں   ظلم یہ ہے یہاں ڈسٹرکٹ کورٹس میں  بہت سے لوگ بھڑوت اور دلالت کو بھی  وکالت سمجھتے ہیں  (معذرت کے یہ دونوں نامناسب الفاظ ہیں لیکن اس کے علاوہ  چارہ بھی کوئی نہیں  اور یہ لفظ اب عام استعمال ہونے لگا ہے  )

کراچی بار ایک مہذب بار ہے کراچی بار ایسوسی ایشن کو نااہلی کے خلاف مہم کا آغاز کرنا چاہیئے  جس کے تحت نااہل ججز کے عدالتی فیصلوں کی مصدقہ کاپی لیکر رجسٹرار کے پاس جاکر  ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کردینا چاہیئے اور یہ کاروائی بلاتفریق ہونی چاہیئے  

سندھ ہایئکورٹ کو بھی نااہلی کے خلاف ایک خصوصی سیل  قائم کرکے ایسے ججز کے خلاف ایکشن لینا چاہیئے جو کسی بھی وجہ سے پولیس کی  ذہنی غلامی پر مجبور ہیں  

کراچی بار ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے درست  جرات مند فیصلے اس صوبے کے کروڑوں عوام کی تقدیر بدل سکتے ہیں    کراچی بار کی موجودہ کابینہ کے پاس  اس بات کو ثابت کرنے کا موقع ہے کہ  ان کے منتخب کردہ اچھے نمائیندے  ایک  اچھے وکیل کی حیثیت سے کراچی بار کے وکلاء اور سندھ کی عوام کا  مقدمہ اچھے طریقے سے لڑسکتے ہیں
  Safidin Awan
03343093302

Post a Comment