ساب راستہ بدل کر نہ جائیں:: تحریر صفی الدین اعوان
2009 ٹنڈو محمد خان سندھ
وہ ایک روشن صبح تھی حسب معمول عدالت سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع اپنے گھر سے
ایک مجسٹریٹ صاحب عدالت میں صبح سویرے پیدل
چلتے ہوئے آرہے تھے سرکاری گن مین ساتھ تھا ۔راستے میں ایک لڑکا کھڑا تھا
اس نے مجسٹریٹ کا راستہ روکا اور فریاد پیش کی کہ رات مقامی تھانے کا ایس
ایچ او اور پولیس والے اس کے گھر میں داخل ہوئے لوٹ مار کی اس کے والد ،چچا اور
دوبھایئوں کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے مجسٹریٹ صاحب نے درخواست وصول نہیں کی اور
سائل کو قطعی طور پر نظر انداز کردیا کورٹ پہنچے کورٹ چلائی
کچھ دیر بعد کورٹ سے نکلے ایک کورٹ سٹاف اور گن مین ساتھ تھا، تھانے پہنچ
گئے لاک اپ چیک کیا چار افراد لاک میں موجود تھے ایف آئی آر رجسٹر طلب کیا
روزنامچہ طلب کیا دونوں میں کوئی اندراج نہ تھا ڈیوٹی آفیسر کو طلب کیا وہ لاعلم
تھا اس سے تحریری بیان لیا کہ وہ گرفتاری سے لاعلم ہے ہیڈ محرر کو طلب کیا وہ بھی
لاعلم اس نے بھی تحریر لکھ کر دے دی
ایس ایچ او کو طلب کیا کچھ دیر میں وہ بھی حاظر
ہوگیا وہ بھی گرفتاری سے لاعلم تھا ایس آئی او انویسٹی گیشن کو طلب کیا وہ
بھی لاعلم پورا تھانہ لاعلم مجسٹریٹ کے حکم پر لاک اپ میں بند افراد کو رہا کیا
دوسرے دن ایس ایچ او سمیت ذمہ داران کو طلب کیا سب ہی لاعلم تھے ان غریب لوگوں نے
بیان دیا کہ ایس ایچ او نے گرفتار کیا ہے بعد ازاں ایس ایچ او نے معافی مانگی اور
اقرار کیا کہ اس نے گرفتار کیا تھا ایس ایچ او کا بیان ہوا لیکن مجسٹریٹ نے معافی نہیں دی اس کے
خلاف ایف آئی آر رجسٹر کیا افسران بالا کو خط لکھا جس پر ایس ایچ او سمیت 5 افسران
معطل کردیئے گئے سلام ہے پولیس کے افسران کو جنہوں نے عدلیہ کی عزت کی لاج رکھی
یہ تو عدلیہ کا ایک اجلا چہرہ تھا صاف ستھرا ہم
ایسا ہی چہرہ چاہتے ہیں
ہمارے بہت سے ججز جو ہمارے دوست بھی ہیں عدلیہ
کا اسی حد تک اجلا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں
لیکن اگلی بات تلخ ہے اور بدقسمتی سے
بہت سے دوست چاہتے ہیں کہ ہم اس سسٹم کے خلاف بات نہ کریں جو فرسودہ ہوچکا
ہے ہم عدالتی اصلاحات کی بات نہ کریں جو وقت کا تقاضا ہیں
پھر ہوا کچھ یوں کہ اس ایس ایچ او نے ضمانت قبل
از گرفتاری کروالی جس کو ڈسٹرکٹ جج نے کنفرم ہی نہیں کیا اسی طرح دوماہ
گزرگئے سیشن جج بھی ایسا کہ "دامن کو نچوڑیں تو فرشتے وضو کرنے بیٹھ
جایئں" نام اسی لیئے نہیں لکھ رہا کہ فرسودہ نظام کے تحفظ کے لیئے سرگرم
افراد کی دل شکنی نہ ہو مختصر یہ کہ سیشن جج نے اس کی ضمانت مسترد بھی نہیں کی اور
منظور بھی نہیں کی بلکہ فارمولہ نمبر 420 کے تحت معاملے کو لٹکا دیا اور
لٹکائے ہی رکھا جیسا کہ اس قسم کے معاملات میں ہوتا ہے
چونکہ مجسٹریٹ صاحب نظام کو بدلنے نکلے تھے اس
لیئے پہلے ان کی اپنی بدلی کروائی گئی اس کے بعد سیشن جج نے بڑی خوبصورتی کے
ساتھ نئے مجسٹریٹ کے ساتھ مل کر ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر خارج کروادی (یہ
ایک سچا واقعہ ہے اس کا مصدقہ ریکارڈ موجود ہے)
دوستو ہمارا وقت اتنا ہی قیمتی ہے جتنا
کہ کسی بھی انسان کا ہوسکتا ہے ہمیں کہانیاں سنانے کا بھی شوق نہیں لیکن ایسی
تحاریر کا مقصد بنیادی اصلاحات ہیں ہم ہمیشہ سے ہی یہ کہتے ہیں کہ مجسٹریٹ، سیشن
جج اور ہایئکورٹ مل جل کر ایک ٹیم ورک کے زریعے ہی پاکستان کے معصوم شہریوں کو نہ
صرف غیرقانونی حراست بلکہ پولیس کے مظالم سے نجات دلا سکتے ہیں اس واقعے کو پڑھیں
اور سوچیئے کہ کہاں اصلاحات کی ضرورت ہے
یہ باتیں ہم سب کے سوچنے کی ہیں ہمارے ان
دوستوں کی جو کل تک ہمارے ساتھ ہی قانون
کی تعلیم حاصل کررہے تھے نظام کو بدلنے کی بات کررہے تھے دوستو ہم صرف یہی کہتے ہیں کہ کیا وہ جذبہ آج
بھی زندہ ہے اسی جذبے کو انہی باتوں کو
یاددلانے کی کوشش کرتے ہیں
سندھ ہایئکورٹ کراچی 2011
جس جوڈیشل مجسٹریٹ نے تھانے پر چھاپہ مارا تھا اور افسران بالا کے
زریعے افسران کو معطل کروایا تھا اور ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر داخل کروائی تھی
وہ سندھ ہایئکورٹ کراچی میں
تاریخ پر آیا ہوا تھا کسی اہم کیس کی تاریخ تھی
پولیس افسران کو معطل کرنے والا پولیس افسر اس
مجسٹریٹ کو ہایئکورٹ میں ہی مل گیا
مجسٹریٹ صاحب نے راستہ چرا کر تیزی اور خاموشی
سے نکلنے کی کوشش کی تو پولیس افسر نے کہا صاب راستہ چرا کر نہ نکلیں ہم نے
تو اپنے پولیس والے آپ کی عدلیہ کے صرف ایک اشارے پر معطل کردیئے تھے بدنام
بھی ہم پولیس والے ہی ہیں سب سے زیادہ
ہم برے ہیں
لیکن صاب دیکھو اگر آپ کی عدالت آپ کے ٹرانسفر
کے بعد ان پولیس افسران کو باعزت بری نہ کرتی تو ہم اپنے افسران کو کبھی بحال نہ کرتے صاب کب تک ہم پولیس والے
ہی بدنام رہیں گے کیا آپ کی اجازت
اور مفاہمت کے بغیر پولیس کسی کو تنگ لرسکتی ہے یہ طعنہ دے کر پولیس افسر نے ایک
زوردار سیلوٹ کیا اور چلا گیا
جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس اس پولیس افسر کے سوالات
کا کوئی جواب نہیں تھا مکالمے کی صلاحیت سے محروم معاشرے سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا معاشرہ جہاں مکالمے کو گالی سمجھا جاتا ہے اس بے حس
معاشرے کا فرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورجوڈیشل مجسٹریٹ خاموشی سے سرجھکائے اپنے گھر واپس روانہ ہوگیا
No comments:
Post a Comment